Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

ناول۔۔۔۔ دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔نویں
ریشماں ان کی پرانی ملازمہ تھی
اور آج اس کی بیٹی کی شادی تھی جو عزہ کی عمر کی تھی وہ اکثر اپنی ماں کے ساتھ آجاتی تھی عزہ سےاس کی بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی ریشماں نے بہت چاہ سے زریان اور عزہ کو شادی کی دعوت دی تھی
لیکن ضروری کام کی وجہ سے زریان نے معزرت کرلی لیکن عزہ کو بھیج دیا اور ایک بڑی رقم بھی تحفے کے طور پر بھجوا دی کہ شادی میں کوئی کمی نہ رہے

وہ گرے لونگ فراک کے ساتھ ہم رنگ دوپٹہ پہنے پیروں پر بلیک کوسہ پہنے جو اس کے دودھیا پاؤں پر خوب جچ رہی تھی بلیک ہی حجاب پہنے وہ بہت حسین لگ رہی تھی
ان لوگوں نے اسے خوب عزت دی پیار دیا لیکن اسے آج ہالے بہت یاد آرہی تھی جو بچپن سے لے کر جوانی تک ہمیشہ اس کے ساتھ رہی تھی وہ گاؤں کی ہر دعوت پر سیم ڈریسنگ کر کے جاتی تھی اور خوب انجوائے کرتی تھی لیکن آج وہ اکیلی تھی

وہ کب سے بیٹھی خود پر کسی کی نظریں محسوس کررہی تھی لیکن جب اس پاس دیکھتی ہر کوئی اپنے کام میں مگن نظر آتا اللّٰہ اللّٰہ کر کے شادی ختم ہوئی
تو وہ بھی زریان کو اپنے آنے کا انفارم کرتی ریشماں سے مل کر گھر کے لیے نکل آئی

باہر گارڈ اور ڈرائیور اس کے انتظار میں کھڑے تھے
وہ بھی خاموشی سے آکر گاڑی میں بیٹھ گئی
ابھی رات کے آٹھ بج رہے تھے شادی کا فنکشن دن کا تھا ۔۔۔

………………………………………………………………………

مبارک ہو بہت آج میرا یار بنا گھوڑی کے دلہا بن گیا
دلشیر نے اس سے گلے ملتے ہوئے کہا
فکر نہ کر مجھ سے زیادہ انوکھی شادی تیری نا ہوئی تو میرا نام بدل دینا اس نے بھی جوابی کارروائی کی
اب وہ اپنے بھائی سے ملنے لگا
بہت مبارک ہو بھائی میں بہت خوش ہوں آپ کے لیے جسے آپ نے چاہا اسے پا لیا اللّٰہ آپ کے رشتے میں ایک دوسرے کےلئے محبت اور عزت ڈال دیں
روحان نے دل سے اپنے بھائی کو دعا دی
اللّٰہ تمہارے دل میں بھی اپنے محرم کے لیے محبت ڈال دے
اس نے بھی اپنے بھائی کو دعا دی

اس کے گھر والوں نے اس سے یہ بات چھپائی تھی کیونکہ سب جانتے تھے ہالے اور عزہ سے وہ بہت پیار کرتا ہے تو وہ ہالے کی کم عمری کے اس نکاح کو بلکل پسند نہیں کر ے گا
اور اپنے باپ سے اور بد گمان ہو جائے گا

لیکن روحان نے کبھی اپنے بھائی سے کوئی بات نہیں چھپائی اس لیے سب کچھ اس کے گوش گزار دیا

پہلی بار وہ اپنے باپ کے کسی فیصلے سے متتفق ہوا تھا اور ان کو دل سے دعا دی تھی
اس کے نکاح میں صرف دلشیر اور روحان اور اس کے کچھ گارڈز شامل ہوئے تھے
دلشیر ان سے الوداعی کلمات ادا کر کے اپنے گھر کے لیے نکل گیا
لیکن روحان عزہ سے مل کر جانا چاہتا تھا اس لیے وہ اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا

         ................................................................

وہ کمرے میں آیا تو وہ آڑی ترچھی بیڈ پر پڑی ہوئی تھی
اسے کسی انہونی کا احساس ہوا
وہ فوراً بیڈ کے پاس پہنچا تو دیکھا وہ بے ہوش ہو گئی تھی وہ پریشان ہو گیا اور اس کا گال تھپتھپاتے لگا ہیے اٹھو آنا اٹھو کیا ہوا ہے تمہیں اس نے اس کی نبض چیک کی تو وہ نارمل چل رہی تھی اس کی پریشانی تھوڑی کم ہوئی ،شاید صبح سے پہ در پہ پڑنے والے صدمے کی وجہ سے بے ہوش ہوگئ تھی

اس نے اسے سیدھا کر کے بیڈ پر لٹایا اور اس کا دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھا ایک ایک کر کے اس کی ساری جیولری اتار کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی تاکہ وہ آرام محسوس کرے
اور کمفرٹر اس کے اوپر ڈال دیا اور اس کے گال پر آنسؤں کے نشان اس کا دل کیاوہ اسے اپنے ہونٹوں سے چھو لے لیکن اپنے دل کو ڈپٹ دیا اپنی انگلیوں سے اس کے گالوں کو چھونے لگا نرم ملائم گال اس کے اندر بے چینی سی ہونے لگی اس سے پہلے کے وہ اس کی نیند میں کوئی گستاخی
کرتا اٹھ کے لائٹ اوف کی اور کمرے سے نکل گیا

وہ آنکھیں موندے لاؤنج کے صوفے پر بیٹھا تھا اور اس پری پیکر کے بارے میں سوچ رہا تھا
اسے لاؤنج میں بیٹھے ایک گھنٹا ہی گزرا ہوگا کہ عزہ دھپ سے آکر اس کے ساتھ بیٹھی اور بازوؤں میں سما گئی

کیسی رہی شادی اس نے پوچھا
شادی بہت اچھی تھی بھیا ریشماں نے بہت خیال رکھا میرا
لیکن میں نے ہالے کو بہت مس کیا میں اکیلی ہو گئی ہوں بہت زیادہ وہاں ماما بی جان ہالے ہم سب سارا دن ساتھ انجوائے کرتے تھے لیکن یہاں میں اکیلی ہوں

وہ اداسی سے اپنی پریشانی بتانے لگی

تو میرے بیٹے کو ایک دوست چاہیے جو اس کے ساتھ رہے گھومے پھرے ؟؟
اس نے اسے سینے سے لگائے پوچھا
ان نے جھٹ سے اثبات پر سر ہلایا آپ ہالے کو بھی یہاں بلا لیں نا بھیا اس نے کہا

مجبوری ہے میری جان ہالے کو یہاں نہیں بلا سکتا لیکن آپ کے لیے ایک دوست کا انتظام کر سکتا ہوں جو ہمیشہ آپ کے ساتھ اسی گھر میں رہے گی کیا آپ کو چاہیے اس نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے پوچھا

عزہ نے خوشی سے اثبات پر سر ہلا یا

………………………………………………………………………………
وہ جو ابھی ہوش میں آئی تھی نئی جگہ دیکھ پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن جیسے جیسے صبح سے گزری ایک ایک بات زہن کے پردے پر لہراتی گئی تو غم وہ غصہ سے سر پکڑ لیا لیکن جب نظر اپنے دوپٹے سے بے نیاز حلیے پر پڑی شرم سے اس کا دل کیا ڈھوب مرے

اس نے صوفے سے اپنا دوپٹہ اٹھایا اور باہر نکل آئی زریان نے کہا تھا کہ نکاح کے بعد وہ اپنی ماں سے مل سکتی ہے اس لیے اسے جلد سے جلد اپنی ماں تک پہنچنا تھا

وہ جو جلدی جلدی سے نکل رہی تھی سامنے سے آتے کسی چٹان نما وجود سے ٹکرائی وہ جو صبح سے بوکھی پیاسی تھی ٹکرانے سے خود کو سنبھال نہیں پائی اس سے پہلے کے وہ گرتی کسی نے اس کے کمر کو مظبوطی سے تھام لیا

اپنی کمر پر کسی کی مظبوط انگلیوں کا لمس محسوس کر کے اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تو نظریں اس کی سبز گہری آنکھوں سے ٹکرائی جو بہت گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا خود کو اس کی گرفت میں محسوس کر کے وہ جھٹپٹائی لیکن سامنے والا اسے چھوڑنے کے بجائے اسے ایک جھٹکا دے کر سینے میں بھینچ لیا اسکی
پکڑ اتنی مظبوط تھی کہ اسے اپنی ہڈیاں ٹوٹتی محسوس ہوئی

چھوڑو مجھے وہ مسلسل مزاحمت کر رہی تھی
لیکن سامنے والا شاید بہرا تھا جو بس اسے محسوس کرنے میں مصروف تھا اس کی انگلیوں کا بے باک لمس اسے اپنی پیٹھ پر چلتی محسوس ہو رہی تھی

جب اس کی تمام مزاحمت بے کار گئی تو اس نے اس کے سینے پر سختی سے دانت گار دئے وہ جو اس کی قربت میں مد ہوش ہو رہا تھا جھٹکے سے اسے چھوڑا اور اپنا سینا مسلنے لگا

اف جنگلی لڑکی۔۔
آپ جنگلی آپ کا پورا خاندان جنگلی اس نے بھی حساب برابر کیا
شش ایک لفظ نہیں میں مزید تمہاری بد تمیزی برداشت نہیں کرونگا اس ے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کے اسے وارن کیا
اب اس کی آواز میں سرد پن تھا
وہ تو اسکے انگلیوں کو ہونٹوں پر محسوس کر ہونکوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی وہ جو پہلے ہی اس کی خوشبو سے مدہوش ہو رہا تھا مزید خود پر کنٹرول نہیں کر پایا
اور اس کے بالوں کو پیچھے سے مٹھی میں بھر کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا اور اپنی سانسوں کو شدت سے اس کی سانسوں میں انڈھیلنے لگا
اسے لگا وہ سانس نہیں لے پائے گی اس نے بھر پور مزاحمت کی خود کو اس دیو سے چھڑانے کی لیکن وہ شخص ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نا ہلا

جاری ہے۔۔۔۔