Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

ناول۔۔۔۔ دل سکون
رائٹر۔۔۔۔۔ زرناب چاند
قسط۔۔۔۔۔پانچویں

اس وقت بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی تھی
پڑوس کی راحیلہ خالہ آتی ہوئی نظر آئ

جو بچپن سے ہی محلے میں ان کے ساتھ والے گھر میں رہتی تھی
اسے دیکھ کر اس کی طرف آئی
ارے آنا تمہاری امی کہاں ہے انہوں نے رائمہ بیگم کے بارے میں پوچھا
جی خالہ آپ بیٹھے وہ کمرے میں ہیں
میں ان کو بلاتی ہوں اس نے چار پائی کی طرف اشارہ کر کے کہا

ارے تم بچوں کو پڑھاؤ بلانے کی ضرورت نہیں میں خود ہی چلی جاتی ہوں
وہ اس کو کہتے ہوئے ان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی
وہ بھی ان کےلئے چائے بنانے کچن میں چلی آئی

دیکھو رائمہ میں گھما پھرا کے بات نہیں کرونگی نہ مجھے آتا ہے میں اپنے عرفان کے لئے آنا کو دلہن بنانے چاہتی ہوں اور میرے عرفان میں کس چیز کی کمی ہے تمہارا دیکھا بھالا بچہ ہے
رائمہ بیگم تو ان کی بات سن کر ہی۔سکتے میں چلی گئی
عرفان راحیلہ کابیٹا تھا
جس کی بیوی دو ہفتے پہلے ہی ایک بچی کو جنم دیتے ہی اس دنیا سے چلی گئی اس کے قبر کی مٹی بھی نہیں سوکھی ہوگی
اور یہ لوگ عرفان کی شادی کا سوچ رہے تھے رائمہ بیگم کو ان کی سوچ پر بہت افسوس ہوا

ارے راحیلہ کیسی باتیں کر رہی ہو تم ابھی تو اس کا غم ہی کم نا ہو ہوگا تم ابھی سے دلہن لانے کا سوچ رہی ہو

اور معزرت چاہتی ہو آنا بچپن سے ہی میرے بھتیجے کے ساتھ منسوب ہے تو میں اس کی شادی کہیں اور نہیں کروا سکتی
انہوں نے بہت مناسب لفظوں میں معزرت کرلی۔۔۔

ارے رائمہ کس بھتیجے کی تم بات کررہی ہو جن لوگوں نے کبھی مڑ کر بھی نہیں دیکھا وہ بھلا تمہاری بیٹی کو بیاہنے کیوں آئے گا
دیکھوں اس رشتے میں ہم دونوں کی بھی بھلائی ہے میں اس عمر میں بچی نہیں سنبھال سکتی
آنا بن ماں کی بچی کو پیار دے گی تو ہم بھی آنا کی تمام محرومیوں کو بھر دینگے۔۔۔
عرفان کی شکل میں تمہیں بیٹا مل جائے گا وہ تمہارا خیال رکھے گا اور تم جب چاہو آنا سے مل سکتی ہو
تمہیں اسے دور نہیں بھیجنا پڑے گا تمہاری اکلوتی بیٹی ہمیشہ تمہارے پاس ہی رہے گی
اچھے سے سوچ لو مجھے دو دن تک جواب دینا۔۔
وہ مزید بھی کچھ کہتی کہ آنا چائے لیکر اندر آگئی تو وہ دونوں بھی چپ ہوگئ

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

اگلے دن صبح معمول کے مطابق سب ڈائننگ ہال میں بیٹھے ناشتہ کررہے تھے آج ناشتے پر ہالے تو نہیں تھی البتہ روحان سنجیدگی سے ناشتہ کر رہا تھا
رات تمہیں بلوایا تھا میں نے روحان تم آئے نہیں کیا مجھ بوڑھی کی باتوں کی تمہاری نظر میں کوئی اہمیت نہیں رہی؟
بی جان نے روحان سے استفسار کیا
کب بی جان مجھے تو آپ کا کوئی پیغام نہیں آیا
اس نے فوراً اپنی صفائی دینا چاہی
ہالے ہمارے سامنے گئی تھی تمہیں بلانے وہ انکی بات پہ چونکا اسے رات کا منظر ایک ایک کر کے یاد آنے لگا تو یہ وجہ تھی کہ وہ میرے روم میں آئی تھی ایک لمحے کو اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی اگلے ہی لمحے خود کی سوچ پر لعنت بھیجی وہ کیا فضول سوچ رہا تھا
نہیں بی جان میں آتے ہی سو گیا تھا شاید وہ بھی اس وجہ سے مجھے بلائے بغیر چلی گئ ہونگی۔۔اس نے فوراً وضاحت دی
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا
اوکے بی جان اللّٰہ حافظ میں شام کو دادا جان کو ائیرپورٹ پورٹ سے پک کر لونگا
وہ کہتے ہی پورچ پہ کھڑی اپنی گاڑی تک پہنچا اور بیٹھ کے زن سے گاڑی بھگا لے گیا

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

تم اب اٹھی ہو کیا گھوڑے گدھے بیچ کر سوئے تھی

جیسے ہی وہ بی جان کے کمرے میں آئ بی جان اسے ڈانٹنے لگی لیکن ان کی ڈانٹ میں بھی ان سب کے لیے پیار نظر آتا تھا
وہ مسکرائی اور بنا کچھ کہے دادی کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں موند لی
دادا جان آنے والے تھے اس لیے فائزہ بیگم کچن میں ملازموں کے ساتھ کھانے کی تیاری کررہی تھی

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

اس وقت وہ دونوں ہی اپنی اپنی سوچوں میں میں مصروف تھیں ایک کو بیٹی کے بہتر مستقبل کی فکر تھی

تو دوسری طرف وہ اپنی ماں کی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی
وہ راحیلہ بیگم کی بات لفظ بہ لفظ سن چکی تھی اور اپنی ماں کا انکار بھی۔۔۔۔۔
وہ جانتی تھی وہ جتنی بھی محنت کر لے وہ اپنی ماں کا بہتر علاج نہیں کروا سکتی تھی
اس کی تعلیم بھی کم تھی تو اسے کسی اچھی کمپنی میں نوکری بھی نہیں ملتی اور اپنی ماں کی بیماری کی وجہ سے وہ زیادہ دیر گھر سے باہر رہ بھی نہیں سکتی تھی ہر وقت دل میں ڈر بیٹھا رہتا تھا
اس لیے اسے عرفان اپنے لیے بہتر لگا تھا اس کی دو دکانیں تھی جس سے اچھی آمدنی ہو جاتی تھا
ہاں وہ شراب پیتا تھا اور اسے آتے جاتے تنگ بھی کرتا تھا وہ تو اسے بہت پہلے ہی آفر کر چکا تھا جب اس کی بیوی زندہ کہ اس سے شادی کر لے تو وہ اس کی ماں کی علاج کا سارہ خرچہ اٹھائے گا
لیکن وہ ہمیشہ راستہ بدل لیتی تھی لیکن آج وہ اس کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گئی تھی

اگر وہ عرفان سے شادی کرے گی تو وہ ہمیشہ اپنی ماں کے آس پاس رہ سکتی تھی اس کا علاج کروا سکتی تھی اسے اپنی ماں کی زندگی کے لیے یہ سب کر نا تھا اور جو اس کی ماں چاہتی تھی مر کر بھی ان لوگوں سے رابط نہیں رکھنا چاہتی تھی ان لوگوں نے اس کی ماں کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا تھا ۔۔

جاری ہے