Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔بارھویں
وہ دونوں بہن بھائی تقریباً شام کے چار بجے گھر پہنچے تھے عزہ نے تو بہت کہا کہ بھیا بھابھی کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں لیکن زریان نے منع کردیا کہ یہ وقت صرف اس کی بہن کا ہے بس اس میں کسی بھابھی وابھی کا کوئی کام نہیں
عزہ نے اپنے لیے اور ہالے کے لیے سیم شاپنگ کی تھی اور بھابھی کے لیے اپنی طرف سے بہت خوبصورت سا میک اپ کٹ بھی لیا تھا تحفے کے طور پر
زریان نے کہا تھا لنچ باہر سے کر کے چلتے ہیں لیکن اس نے کہا کہ وہ لنچ اپنی بھابھی کے ساتھ کر ے گی
بہت تھکا دیا تم نے مجھے اس نے بہن سے شکوہ کیا
اسے اتنا رکنا شاپنگ پہ بلکل پسند نہیں تھا وہ خود بھی آنلائن شاپنگ کیا کرتا تھا
بھیا آپ مجھے اکیلے کیوں بول رہے اس میں ہالے کی بھی شاپنگ ہے اور بھابھی کی بھی اس نے منہ بناتے جواب دیا
اچھا تم فریش ہو جاؤ میں تمہاری بھابھی صاحبہ کو دیکھتا ہوں زرا عزہ کو کہہ کر وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گیا
کمرے میں دیکھا تو کوئی نہیں تھا واش روم ڈریسنگ روم ہر جگہ دیکھ لیا وہ کہیں نہیں تھی
اسے پریشانی نے گھیر لیا کہاں جا سکتی ہے وہ کیونکہ وہ گارڈ کو منع کر کے گیا تھا کہ اسے باہر نا نکلنے دے
ڈھونڈتے ہوئے وہ باہر آیا تو وہ اسے بیک سائیڈ پر بنے جھولے پر بیٹھی نظر آئی سفید شیفون کے فراک میں لال دوپٹہ لیے بالوں کی چو ٹی بنائے وہ میک اپ سے پاک چہرہ لیے اس کے دل میں اتر رہی تھی اسے اس پر کسی پری کا گماں ہوا
وہ آہستہ آہستہ چل کے اسکے پاس آیا اور جھولے پر بیٹھ گیا
اور اس کے کمر میں بازو ڈال کر اسے کھینچ کر خود کے پاس کیا
وہ جو بہت گہری سوچ میں تھی اچانک افتاد پر بوکھلا گئی
جب خود کو دشمن کے گرفت میں دیکھا تو نفرت سے اسے دیکھ کر خود کو اس سے چھڑانے لگی
اب یہ ممکن نہیں تم خود کو مجھ سے کبھی الگ نہیں کرسکتی تمہیں ہمیشہ انہی بانہوں میں رہنا ہے اپنے لمس سے میرے دل کو سکون دینا ہے میری تنہائی کو دور کرنا ہے
میری سالوں کی تڑپ کا جواب دینا ہے
وہ اس کے کان کی لو کو چھوتے ہوئے آہستہ آہستہ سرگوشی کر رہا تھا
اپنے کان پر اس کی گرم سانسیں اوپر سے اس کی بے باک باتیں اسے پاگل کر رہی تھی
بے بسی سے اس کی آنکھوں سے آنسوں نکل آئے
اس کے آنسو ں دیکھ زریان کو بھی رحم آگیا اور اسے خود سے تھوڑا دور کیا لیکن اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا
تمہارا اور میرا جو بھی مسئلہ ہے میں چاہونگا ہم دونوں کے درمیان رہے تو اچھا ہے اس اگر تم سب کے سامنے اشتہار لگاؤ گی تو مجھے بلکل اچھا نہیں لگے گا کمرے کے اندر تم جیسا چاہو سلوک کرو لیکن میری بہن کے ساتھ تم ایک اچھی بھابھی کی طرح پیش آؤ گی اور اس کے سامنے ایک اچھی بیوی بن کر رہو گی میرے ساتھ ورنہ یہ جو شرافت سے میں تمہارے ساتھ پیش آرہا ہوں ۔۔۔نہیں آؤنگا ۔۔اس نے سنجیدگی سے کہا
اس کی بات سن کر آنا کو تو غصہ آگیا ایک کاٹ دار نظر سے اسے دیکھا ان کو ملے صرف اٹھائیس گھنٹے ہوئے تھے
لیکن وہ شخص صرف اس پر حکم چلائے جا رہا تھا اور اپنی من مانی کر رہا تھا اور اوپر سے دھمکی بھی دے رہا تھا
ایسی کونسی شرافت اس نے دکھائی تھی جو بعد میں نا دکھانے کی دھمکی دے رہا تھا ۔
اسے تو سب سے زیادہ دکھ اپنی ماں کا تھا جنہوں نے اس کے بجائے اپنے دشمنوں کا ساتھ دیا
اور ان سب کے بدلے مجھے کیا ملے گا میں کیوں مانوں تمہاری بات؟ اس نے بھی سوال کیا
تمہیں وہ سب ملے گا جو تم چاہتی ہو سوائے مجھ سے آزادی کے اس نے بھی جواب دیا
اوکے وعدہ کرو پھر جو میں کہوں گی تم مانو گے اس نے اپنا دوسرا ہاتھ آگے کیا
تمہیں آزاد کرنے کے علاو میں تمہاری ہر بات مانو گا بشرطیکہ تم عزت سے پیش آؤ گی ہمارے ساتھ اس نے آنا کا ہاتھ تھام لیا
1۔۔۔مجھے میرے حق مہر کی رقم چاہیے آج ہی ۔۔۔۔۔
اسے لگا تھا وہ اس سے کچھ بہت بڑی ڈیمانڈ رکھے گی جسے پوری کرنا اس کے لیے مشکل ہوگا لیکن حق مہر کی رقم پچیس لاکھ اس کے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی ۔
اور کچھ؟
2۔۔۔۔مجھے گھر سے نکلنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی ۔۔
اور کچھ؟
اس کا اتنا ٹھنڈا ریکشن اسے لگ رہا تھا اور کچھ اور کچھ بول کے وہ اس کا مزاق اڑا رہا ہو
ہاں ایک اور شرط ہے لیکن وہ وقت آنے پر بتاؤں گی اس نے سرد لہجے میں جواب دیا
زریان نے سمجھ کر سر ہلایا
پہلی بات تمہارے حق مہر کی رقم کیش کی صورت میں کبرڈ میں تمہارے سائیڈ والے لاکر میں ہیں اب وہ پیسے تمہارے ہیں تم جو چاہو کر سکتی ہو میرا اس سے کوئی تعلق نہیں
اور دوسری بات گھر میں تین ہی گاڑیاں ہیں ایک گارڈز کے استعمال میں ہے سیکیورٹی کے لیے ایک میرے استعمال میں ہے اور ایک گھر میں بمع ڈرائیور ہر وقت موجود ہوتی تم جب چاہو جا سکتی ہو باہر ڈرائیور کے ساتھ یا میرے ساتھ لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کی اجازت بلکل نہیں دونگا اور صرف اپنی امی کے پاس جا سکتی ہو کہیں اور نہیں اس نے بھی واضح لفظوں میں سمجھا دیا
رہی تمہاری تیسری شرط انتظار رہے گا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب چلو اندر ہوائیں چل رہی ہے وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اندر لے گیا اور لاؤنج میں بیٹھ گئے
وہ اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھا تھا شاید اپنی بہن کی وجہ سے اتنا لحاظ کیا تھا ورنہ تو وہ شخص بنا چپکے کوئی بات کرتا ہی نہیں تھا
اس نے کڑھ کے سوچا۔۔۔
اس کا دل اب پہلے سے پر سکون ہو گیا تھا کہ حق مہر سے وہ اپنی ماں کا علاج کروائے گی لیکن مرزا خاندان سے نفرت جوں کی توں تھی۔۔۔
تھوڑی دیر میں عزہ بھی روم سے نکل آئی شاپنگ بیگ کے ساتھ اور اسے دیکھ کر مسکرائی اور پیار سے ملی صبح کی بنسبت وہ اب بہت معصوم لگی سفید فراک میں اسے اپنی بھابھی بہت پسند آئی تھی
اس نے اسے اپنا لایا ہوا میک اپ کٹ اور ایک بہت خوبصورت سی نوز پن گفٹ کی۔۔
پہلے تو آنا نے منع کیا لیکن اس کے اسرار پر لینا پڑا اسے بھی وہ پیاری سی لڑکی بہت پسند آئی تھی
زریان تو ایسے بیٹھا تھا جیسے موجود ہی نا ہو پوری طرح موبائل میں مصروف تھا
……………………………………………………….
اپنے کمرے میں آکر اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اسے ہالے سے ایسی کسی چیز کی امید نہیں تھی وہ سمجھ گیا تھا یہ سب ماما اور بی جان کے کام تھے اگر وہ بہک جاتا تھا تو اس سے آگے سوچ کی اسے پسینے آرہے تھے
مرد تھا جائز حق تھا وہ اس کے نکاح میں تھی اگر وہ بہک جاتا تو وہ کیا کرتا وہ چھوٹی تھی بہت اس سے وہ اس کی معصومیت برقرار رکھنا چاہتا تھا
کیونکہ وہ بہت چھوٹی تھی وہ اسے بیوی بنا کر قبول نہیں کرسکتا تھا اس کی کمٹمنٹ تھی کسی اور سے وہ توڑ نہیں سکتا تھا
دو بار وہ اس کے بہت قریب آئی تھی تب سے اس کو ہالے کو لے کر عجیب و غریب قسم کے خیال آنے لگے تھے آج بھی وہ عجیب کیفیت کا شکار تھا
وہ واش روم میں گھس گیا اور شاور کے نیچے کھڑا ہو گیا آدھے گھنٹے بعد باتھ ٹاول باندھ کر وہ واشروم سے نکلا
…………………………………………….
پہلے اس نے سوچا کہ وہ جا کر سو جائے گی لیکن پھر بی جان کی بات یاد آگئی کہ شوہر کے کھانے پینے کا خیال رکھنا بیوی کا فرض ہوتا ہے
پتہ نہیں انہوں نے صفر میں کچھ کھایا بھی ہو گا یا نہیں
یہ سوچ آتے ہی وہ کچن میں گئی اور کھانا گرم کر کے ٹرے میں سجا کر اس کے کمرے کے باہر رکی اس نے ہلکے سے ناک کیا
لیکن جواب ندارد اس نے دوبارہ ناک کیا اب بھی کوئی آواز نہیں آئی تو اس نے ہلکے سے دروازہ پش کیا
تو دروازہ کھلتا چلا گیا اس نے دروازے سے ہی اندر روم میں چاروں طرف نظر دوڑائی تو وہ کہیں نہیں تھا واش روم کا دروازہ بند تھا شاید واش روم میں تھا
وہ اندر آئی اور ٹرے ٹیبل پر رکھی اور انتظار کرنے لگی تاکہ پوچھ سکے کہ کسی اور کی چیز کی ضرورت تو نہیں کیونکہ ماما بھی اکثر ایسا ہی کرتی تھی بابا کے ساتھ
یہ اتنی دیر آ کیوں نہیں رہے پتہ نہیں واش روم میں ہے بھی کہ نہیں جب مزید دس منٹ گزرے تو وہ سوچنے لگی
پھر آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی واشروم کے دروازے پر آئی کہ
اسے آواز دے سکے لیکن اسے کسی قسم کی کوئی ہلچل محسوس نہیں ہوئی اندر سے تو وہ گھبرا گئی
اس نے کسی ڈر کے تحت دروازے سے اپنے کان لگا دیئے کہ کہ اس کی موجودگی ہے بھی یا نہیں محسوس کر سکے
لیکن وہ جو باتھ ٹاول باندھ کر واش روم کا دروازہ کھول رہا تھا دھڑام سے کوئی نازک سا وجود آکر اس پر گرا وہ اس افتاد کے لیے تیار نہیں تھا اور مقابل وجود کو بچانے کے چکر میں اس کے گرد بازوں لپیٹ دیئے اور اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکا اور پیچھے سنگ مر مر کے فرش پر پیٹھ کے بل گر گیا۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
