Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

ناول…….. دل سکون

رائٹر…..زرناب چاند

قسط_……پچیس

ہالے۔۔۔۔روحان نے سرگوشی میں پکارا
ایک دم اس نے موبائل سینے سے لگا کر اپنی دھڑکنوں کو سنبھالنے کی کوشش کی۔۔
دوسری طرف اتنی ٹینشن میں بھی اس کی دھڑکنوں کے دھن پر روحان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی

ہالے نے خود کو سنبھال کے فون کان سے لگایا ۔۔۔
آپ آپ ٹھیک ہیں ۔۔ ۔۔۔۔۔آخر کار اپنی بے چینی کی وجہ پوچھ ہی لی ۔۔
میں ٹھیک نہیں ہوں ۔۔۔۔۔روحان کی پریشان سی آواز آئی ہالے کو گھبراہٹ ہوئی
مجھے پتہ تھا آپ ٹھیک نہیں ہو ۔۔۔۔ہالے کی سرگوشی سنائی دی
تمہیں کیسے پتہ چلا میں ٹھیک نہیں ہوں ۔۔۔۔دونوں ایک دوسرے سے سرگوشی میں بات کر رہے تھے
می میرا دل بہت گھبرا رہا تھا شام سے۔۔۔۔۔ ہالے دھیرے سے منمنائی
روحان کو لگا وہ مزید اس لڑکی کو نہیں سن پائے گا جو سکون اس سے بات کر کے مل رہا تھا ایک دم اب ہوا ہو گیا
اسے لگا وہ اس معصوم کے قابل نہیں رہا
یہاں اس نے مجبوری میں اس کا حق کسی اور دے دیا تھا
اور وہاں اس پری کو سب محسوس ہوا تھا
وہ کیسے اس کا سامنا کر پائے گا اس نے زور سے آنکھیں میچی وہ کبھی خود کو معاف نہیں کرے گا

آپ سن رہے نا میری بات۔۔۔۔۔دوسری طرف سے خاموشی کا احساس ہوا تو اسنے دھیرے سے پوچھا
روحان جیسے ہوش میں آیا ہاں میں سن رہا ہوں اور میں بلکل ٹھیک ہوں پریشان مت ہو میں بعد میں بات کرونگا اللّٰہ خافظ ۔۔۔اس نے بنا کچھ سنے فون بند کردیا

ہالے نے کتنی ہی دیر فون کو سینے سے لگائے رکھا اس کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ ٹھیک ہے
آئی مس یو بیڈلی مائی لو ۔۔۔۔۔۔۔
یہ جملہِ یاد آتے ہی وہ پیروں کے ناخن تک سرخ ہوئی پھر جلدی سے باہر بھاگ گئی کیونکہ زریان اس کے لیے چاکلیٹ لانے والا تھا اور اب تک تو آگیا ہوگا۔۔۔۔
………………………………………………………………………………………………………….

سب ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے نیہا زریان کے بلکل سامنے والی کرسی پر بیٹھی تھی تاکہ زریان کی نظر اس پر جائے

لیکن وہ تو اپنے پہلو میں بیٹھی لڑکی کی خوبصورتی میں مدہوش تھا جو اس پاس کسی کو دیکھنے کی زحمت نہیں کی اس بار اس کا ارادہ آنا کو بھی لے کر جانے کا تھا اب آنا کے بغیر اس کا دل نہیں لگتا تھا

نیہا کو یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا
بھیاااا
ہالے دھڑام سے اکر اس کے پاس بیٹھی
ہالے بچے آرام سے ابھی لگ جاتی تو
زریان نے مصنوعی افسوس سے بولا
ارے کچھ نہیں ہوتا آپ پہلے یہ بتائیں میری چاکلیٹ اور سامان کی لسٹ آپ کو دی تھی اب چیزیں لائے ہیں نا
اس نے جلدی سے پوچھا

ارے ہاں ہاں سب لے کر آیا ہوں تم اب چپ کر کے آرام سے کھانا کھاؤ
بی جان اور دادا جان اس کو خوش دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ ان کی پوتی کا جو دل دھک دھک کر رہا تھا ضرور اسکی دوا مل گئی ہوگی اسے

کھانے کے بعد اسنے ملازمہ سے کہہ کر سارا سامان گاڑی سے نکلوایا اور ہالے کی ساری چیزیں اس کے حوالے کی ہالے تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی

اس نے ایک شاپنگ بیگ نیہا کے حوالے کیا یہ میں تمہارے لیے کایا تھا امید ہے تمہیں پسند آئے گی

یہ شاید پہلی بات تھی اب تک جو اس نے براہِ راست اس سے کی تھی نیہا کا تو چہرہ ہی کھل گیا
جبکہ آنا انتظار کرتی رہی کہ اسے بھی کچھ دے گا لیکن زریان نے اسے کچھ نہیں دیا تو وہ خاموشی سے اٹھ کر کمرے میں چلی گئی

وہ جب کمرے میں آیا تو وہ سر تک چادر اوڑھے آنکھیں بند کئے لیٹی تھی
زریان نے پہلے چینج کیا پھر اس کے پاس آکر لیٹ گیا
آنا کو اپنے گلے میں زریان کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا تو جھٹ سے آنکھیں کھولیں ایک نظر جھک کر گلے میں دیکھا تھا ایک بہت خوبصورت ڈائمنڈ کا پینڈنٹ اسکے گلے میں تھا

اس کے ہونٹوں پر بہت خوبصورت مسکراہٹ بکھر گئی لیکن اس نے کوئی ریسپونس نہیں دیا

اتنے دنوں بعد شوہر گھر آیا ہے شکریہ تو بنتا ہے زریان نے اس کے کان کی لو کو چھوتے گھمبیر سرگوشی کی

آنا کے جسم میں کپکپاہٹ شروع ہوگئی
کان کو چھوڑ کے گردن پر اپنے ہونٹ رگڑنے لگا
زریان اس نے تڑپ کر اسکی طرف ہوتے پکارا
زریان تو اس کے ریڈ کلر کے سوٹ میں چمکتی گردن کو دیکھ کر بے قابو ہوا اور جھک کر اپنے لمس سے اسے پاگل کرنے لگا
آنا سے برداشت نہیں ہوا تو زریان کے بالوں کو مٹھی میں بھینچ لیا
وہ اپنی مرضی سے پیچھے ہوا اور خمار آلود نظروں سے اسے دیکھنے لگا
آنا اسکی نظروں کی تاب نہ لا سکی اور اسی کے سینے میں چپ گئی

میری طرف دیکھو
زریان نے اس کا سر سینے سے نکال کر کہا ۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔وہ دھیرے سے منمنائی
میں نے کہا میری آنکھوں میں دیکھو جاناں آپکی بار بولتے ہوئے اس کے لفظوں میں کچھ تھا کہ آنا نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تو ان گرین آنکھوں میں اسے اپنا آپ ڈوبتا ہوا محسوس ہوا بے خیالی میں اس نے زریان کے ماتھے پر بوسہ دیا
زریان نے اس کے ہونٹوں کو اپنے قبضے میں لیا اور اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں انڈھیلنے لگا ۔۔۔

ایک ہاتھ سے لائٹ آف کی اور اسے خود میں گم کرتا چلا گیا۔۔۔۔۔

……………………………………………………………………………….

اٹھو تیار ہو جاؤ ہمیں ایک پارٹی میں جانا ہے وہ ایک بلو کلر کی ساڑھی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا جس میں بلاؤز کے نام پر سلیو لیس ایک چھوٹی سی شرٹ تھی جو
پہن کر اسکی پوری کمر برہنہ نظر آتی
عزہ نے وہ ساڑھی اٹھائی اور حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا
یہ یہ میں کیسے پہن سکتی ہوں اس نے ڈر کر پوچھا صبح سے اسے اپنی طبیعت بہت خراب لگ رہی تھی لیکن اس نے عاشر کے ڈر سے نہیں بتایا

کیوں اس میں کیا برائی ہے اتنی خوبصورت تو ہے اس میں تو تمہارا حسن اور نکھر آئے گا عاشر نے اپنی انگلی اسکے گال پر ٹریس کرتے کہا

لیکن میں باہر یہ پہن کر نہیں جاسکتی پلیز عاشر عزہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا کہ شاید وہ اس کی بات سمجھ جائے

کیوں باہر کیوں نہیں جا سکتی اتنی تم پاک دامن تو ہو نہیں آخر دو دو عاشق تو میرے سامنے کے ہیں پتہ نہیں پیچھے کتنے ہونگے اور آدھی رات کو خرم ملک کے ساتھ گارڈن میں تم اپنی خوبصورتی کی نمائش کر کے داد ہی وصول رہی تھی پھر یہ سب ناٹک کیوں

اس نے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھ ایک ایک لفظ چبا کر کہا
عزہ نے اپنی آنکھیں بند کرلی وہ اتنے دنوں سے یہی سب تو کر رہا تھا
کاش اس نے شادی سے انکار کیا ہوتا کاش یہ سب نا ہوتا
اب طلاق کا دھبہ لے کر اپنے باپ کی عزت اپنی وجہ سے خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے یہ سب برداشت کر رہی تھی وہ انتہائی ڈرپوک لڑکی تھی جو ہمیشہ دوسروں سے ڈر کر اپنا نقصان کرواتی تھی اور اب بھی یہی سب ہر رہی تھی۔۔۔۔

میں بدکردار نہیں ہوں یہ بات آپ بھی جانتے ہیں پلیز مجھے زہنی ازیت دینا بند کریں ۔۔۔۔۔اس نے ہمت کر کے اپنے لیے بولنا چاہا کہ عاشر کے ہاتھ کا تھپڑ اسکی بولتی بند کروا گیا
آئندہ میرے سامنے زبان چلانے کی ضرورت نہیں جاؤ اور تیار ہو کر آؤ وہ اسے دھکا دے کر چلا گیا وہ بچاری بیڈ پر گری

………………………………………………………..

فجر کو زریان کی آنکھ کسی آواز سے کھلی جب اس نے دیکھا تو واش روم سے آواز آرہی تھی دروازہ کھلا ہوا تھا وہ بھاگ کر گیا تو آنا واش بیسن میں جھک کر کھڑی تھی الٹی کرنے کی وجہ سے اس کی حالت کھڑے ہونے لائق نہیں تھی اس نے جلدی سے اسے سنبھالا اور باہر لاکر بیڈ پر بٹھایا اور ٹاول سے اس کا چہرہ صاف کیا اس کی رنگت بلکل پہلی ہوگئی تھی زریان کو پریشانی ہونے لگی ۔۔۔۔

آنا کیا ہوا ہے طبیعت خراب تھی تو مجھے جگایا کیوں نہیں اس نے فکر سے اسے ساتھ لگا کر پوچھا

پتہ نہیں مجھے بہت چکر آرہے ہیں نڈھال سی وہ بیڈ پر ڈھے گئی۔۔۔

اٹھو آنا چلو ہم ہسپتال چلتے ہیں ہمت کرو اٹھو
زریان نے جلدی سے شرٹ پہن کر اسے گاڑی کی چابی اٹھائی اور اسے اٹھانے کی کوشش کی

زریان میں۔۔۔۔ چل نہیں۔۔۔۔۔ پاؤں گی وہ رک رک کر دھیرے سے بولی۔۔۔ اچھا رکو میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں
اسنے آنا کو سیدھا کر کے لٹایا اور اس پر چادر درست کر کے کمرے سے باہر چلا گیا

وہ پریشان سا فون کان سے لگائے باہر آیا ڈاکٹر کو فون کر کے وہ عالم صاحب کے کمرے میں آیا اور دستک دی
دروازہ عالم صاحب نے کھولا
بابا۔۔۔۔۔
زریان نے ان سے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن وہ منہ پھیر کے واش روم چلے گئے
فائزہ بیگم نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی زریان کو اتنی صبح دیکھ کر پریشان ہوگئی وہ جلدی سے اٹھی خیریت ہے زریان کیا ہوا ہے

جی ماما آپ چلیں آنا کی طبیعت بہت خراب ہے میں نے ڈاکٹر کو کال کردی ہے وہ آتی ہونگی آپ ایک بار دیکھ لیں اس نے ایک نظر واشروم کے دروازے کو دیکھتے ہوئے فائزہ بیگم سے کہا
پہلے کیوں نہیں بتایا تم نے ۔مجھے چلو دیکھتی ہوں میں اسے
وہ پریشان سی چپل پہنتے ہوئے زریان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔

زریان بھی ان کے پیچھے ہو لیا
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ نڈھال سی بیڈ پر لیٹی تھی
وہ آنا کی حالت دیکھ کر کچھ کچھ سمجھ گئی تھی لیکن قبل از وقت کچھ بھی کہنا مناسب نا تھا

اسی وقت ڈاکٹر آئی تو زریان اور فائزہ بیگم کو باہر بھیج دیا زریان پریشان سا ادھر سے ادھر چکر لگانے لگا

تب تک عالم صاحب بھی وہاں آگئے تھے لیکن زریان سے بات کرنا ضروری نہیں سمجھا

ڈاکٹر باہر آئی تو ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی
عالم صاحب ان کی طرف بڑھے زریان پیچھے ہی رک گیا
پریشانی کی کوئی بات نہیں مرزا صاحب مٹھائی منگوائیں
آپ کے گھر ننھا مہمان آنے والا ہے ۔۔۔۔اپ کی بہو امید سے ہیں انکو تھوڑی ویکنیس ہے میں نے ڈرپ لگا دی ہے ان کی ڈائٹ کا خیال رکھیں وہ بہتر محسوس کریں گی۔۔۔

فائزہ بیگم اور عالم صاحب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
زریان ابھی تک بے یقینی کے عالم میں تھا وہ اپنی جگہ سے ایک قدم نہیں ہلا
فائزہ بیگم نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور اور مسکرا کر اسے گلے لگایا مبارک ہو میری جان اللّٰہ نے تمہیں اس خوشی سے نوازہ
فائزہ بیگم نے اسے مبارک باد دی وہ ہوش میں آیا اور ان کو زور سے گلے لگایا ماما میں بہت خوش ہوں بہت زیادہ ۔۔۔۔

عالم صاحب ان کو خوش دیکھ کر جانے لگے کے زریان نے انکا ہاتھ پکڑ لیا
بابا یار اب تو معاف کر دیں وہ انکے سینے سے لگ گیا کسی بچے کی طرح بابا نے بہت مشکل سے مسکراہٹ روکی
اگر میں شادی نہیں کرتا تو آج آپ کو داد کا رتبہ کہاں سے ملتا وہ انکے سینے سے لگے بولا

بابا نے اس کے گرد بازو باندھے ویسے میرا ارادہ تم سے کبھی بھی ماننے کا نا تھا لیکن خیر اپنے پوتے پوتیوں کے لیے اتنا تو کرسکتا ہوں ۔۔۔انہوں نے جیسے اس پر احسان کیا

فائزہ بیگم باپ بیٹے کے ملاپ پر بہت خوش ہوئیں آنے والے بچے اور ماں کے لیے ڈھیروں دعائیں ان کے دل سے نکلی۔۔۔

………………………………………………………..

عاشر جب باہر سے آیا تو وہ تب بھی تیار نہیں ہوئی تھی
اور عزہ نے صاف منع کردیا وہ ساڑھی پہننے سے
عاشر کو بے انتہا غصہ آیا اور اسے جانوروں کی طرح روند کر چلا گیا
پیچھے اس کی سسکیاں پورے کمرے میں گونجتی رہی۔۔

جاری ہے