Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ناول۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔تیسری

عالم صاحب نے اسپتال سے گھر آکر سب کو روحان اور ہالے کے نکاح کے بارے میں بتا دیا تھا اس وقت یہ ضروری تھا جس طرح وہ لوگ ہالے کو اغوا کرنے کی کوشش کررہے تھے اگر عالم صاحب نہ ہوتے تو شاید وہ اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہو جاتے اس لیے اسے کسی مظبوط ہاتھوں میں سونپنا ضروری تھا اور ان کے لیے روحان سے بڑھ کر ہالے کے لیے کوئی بہتر ہو ہی نہیں سکتا تھا ان کو پتہ تھا ان کابیٹا اپنی جان تو دے دیگا مگر ہالے کی جان اور عزت پر کھروچ بھی نہیں لگنے دیگا

بی جان کی تو خوشی سے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے
یہ تو ان کی دیرینہ خواہش تھی جو بن مانگے پوری ہو گئی تھی
لیکن فائزہ بیگم پریشان ہو گئی تھی
کیونکہ وہ اپنے بیٹے کے دل کی حالت سے واقف تھی ہالے کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا تو ان کی بھی خواہش تھی انہوں نے روحان سے زکر بھی کیا تھا لیکن وہ تو سنتے ہی حتے سے اکڑ گیا تھا
اس کا کہنا تھا وہ کسی اور کو پسند کرتا ہے اور اگر نہیں بھی کرتا تب بھی ہالے سے کبھی نہیں کرتا وہ اسے چھوٹی بہن سمجھتا ہے ایسا سوچ بھی نہیں سکتا
یہ سن کر انہوں نے اپنی خواہش دل میں ہی دبا لی تھی آج جب یہ خواہش پوری ہوئی تو ڈر گئی تھی آنے والے وقت سے۔۔۔

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

اس وقت سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے عالم صاحب کی طبیعت پہلے سے بہتر تھی وہ بی جان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھے تھے
روحان صبح کا گیا ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا جب سے نکاح ہوا تب سے ہالے کا اس سے سامنا ہی نہیں ہوا تھا نہ اسے فرق پڑتا تھا کیونکہ وہ نکاح کے مطلب سے ہی اچھے سے وقف نہ تھی نہ وہ سوچنا چاہتی تھی
دادا جان بھی پندرہ دن پہلے ہی اپنی بیٹی سے ملنے کینیڈا گئے ہوئے تھے اس لیے عالم صاحب کے بارے میں ان کو کسی نے نہیں بتایا وہ سب ان کو پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے
اس گھر کے لڑکوں کو سکون کیوں نہیں ملتا گھر پہ
کہاں آوارہ گردی کرنے نکل گیا ہے روحان اب تو اسے زیادہ گھر میں ہونا چاہیے
بی جان غصہ میں بولی
اماں پریشان نہ ہو فون کیا تھا میں نے کہہ رہا تھا تھوڑی دیر تک آ جائے گا فائزہ بیگم نے اپنی ساس کو بتانا ضروری سمجھا ورنہ وہ پریشان رہتی
ٹھیک ہے بہو وہ آئے تو زرا کمرے میں بھیجنا مجھے اس سے کچھ ضروری بات کرنی ہے
جی اماں ٹھیک ہے۔۔

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

میرا بیٹا یہاں کیا کر رہا ہے؟
وہ جو ابھی آفس سے گھر لوٹا تھا اپنی چھوٹی بہن کو سیڑھیوں پر بیٹھے دیکھ کر وہی اس کے ساتھ بیٹھ گیا
کچھ نہیں بھیا بس یونہی بیٹھی ہوں نظریں اٹھا کر دیکھنے کی زحمت نہیں کی شاید اپنا غم چھپانے کی کوشش تھی۔
میری گڑیا اداس ہے؟
اس نے کوئی جواب نہیں دیا وہ اپنی بہن کی خاموشی کا مطلب خوب سمجھ رہا تھا
اس نے دو انگلیوں سے توڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا سوجھی آنکھیں لال ناک وہ سمجھ گیا تھا وہ بہت دیر تک روتی رہی ہے وہ مزید نہیں دیکھ پایا اور سینے میں بھینچ لیا
بھیا میں مر جاؤں گی میں نے بابا کا دل دکھایا ہے وہ مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے میں گنہگار ہوں میں ان کا سامنا نہیں کرسکتی مجھ سے غلطی ہوگئی مجھے معاف کردیں بھیا مجھے مار دیں آپ آزاد کر دیں مجھے اس تکلیف سے لیکن میں نے جان بو جب کر نہیں کیا مجھ سے غلطی ہو گئی اتنی بڑی سزا مت دیں سب کو ناراض کیا ہے میں نے وہ روتے روتے بول رہی تھی اس نے اسے رونے دیا وہ چاہتا تھا وہ گھٹ گھٹ کر نہ رہے ایک ہی بار رو لے تا کہ اس کا دل ہلکہ ہو اس نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی اسے سینے سے لگائے رکھا
جب وہ رو رو کر تھگ گئ تو ماتھے پر بوسہ دیا اور اسکا چہرہ سامنے کیا ۔
عزہ آپ سے بس ایک غلطی ہوئی گناہ نہیں اور مجھے خوشی ہے آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہے احساس ہونے پر تو اللّٰہ بھی معاف کر دیتا ہے سب ٹھیک ہو جائے گا کوئی آپ سے ناراض نہیں ہم بہت جلد حویلی جائے گے بس اب نہیں رونا سب ٹھیک ہے اب چلو شاباش بھوک لگی ہے مجھے مجھے اپنی گڑیا کے ساتھ کھانا کھانا ہے
وہ اسے ہلکا پھلکا کر کے اسے لئے کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

تمہارے ساتھ مسلہ کیا ہے کیوں بار بار فون کر کے دماغ خراب کررہی ہو جب نہیں اٹھا رہا فون تو مطلب بات نہیں کرنا چاہتا آئندہ فون مت کرنا
وہ اس وقت گھر پہنچا تھا گاڑی پارک کی اور چوکیدار کو چابی پکڑا کے اندر کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اس کا فون بجا
نام دیکھ کر اس کا غصہ مزید بڑھ گیا
اس لیے بنا سلام کئے اسے جھاڑ کے فون ہی بند کر دیا
وہ اس وقت بہت تھکا ہوا تھا بس سونا چاہتا تھا اس لیے اپنے روم میں چلا آیا شرٹ اتار کے سوفے پر پھینکی اور اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ گیا

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

ہالے اٹھو جاؤ روحان کو بلا کر لا ؤ بولو بی جان بلا رہی ہے
وہ جو زبردستی بی جان کے کہنے پر جاگ رہی تھی بی جان کے کہنے پر سخت بد مزہ ہوئی
بی جان مجھے سونے دیں میں نہیں جا رہی
اٹھو جاؤ میں تمہیں گول کپے بنوا کر کھلا ؤنگی
وہ جو سونے لگی تھی جھٹ سے اٹھ کر بیٹھ گئی فورا بی جان کے ہاتھ پکڑ لئے پکا بی جان مکر مت جائے گا
اچھا جھلی وعدہ نہیں مکرتی تو جا بلاکر لا ان کو پتہ تھا وہ گول کپے کے لیے کچھ بھی کرسکتی تھی لیکن گھر والے اسے زیادہ کھانے نہیں دیتے تھے کہ وہ بیمار نہ ہو جائے ۔۔۔

وہ بی جان کا وعدہ سنتے ہی رکی نہیں کمرے سے بھاگتی ہوئی نکلی روحان کے کمرے میں جا کے سانس لی ابھی ٹھیک سے سانس بھی نہین لے پائی تھی کہ اسے شرٹ لیس دیکھ کر زور سے چیخ ماری
وہ جو ابھی نیند میں جانے ہی لگا تھا اس کی چیخ سے نیند بھک سے اڑ ی اس سے پہلے کہ پورا گھر اس کی چیخ سن کر جمع ہو جاتا ہڑ بڑا کر اٹھا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا
وہ جو آنکھیں بند کرکے چیخ رہی تھی اپنے ہونٹوں اور کمر پر کسی کا لمس محسوس کر کے جی جان سے کانپ گئی