Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

ناول۔۔۔۔ دل سکون

رائٹر ۔۔۔۔زرناب

قسط۔۔۔دسویں

جب اسے لگا وہ سانس نہیں لے پارہی تو آرام سےخود سے الگ کیا
لیکن دور کرنے کی زحمت نہیں کی وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی
کیا چاہتی ہو اس نے پوچھا
مجھے میری امی کے پاس جانا ہے خدارا مزید ظلم مت کریں ہم پر اس نے التجاء کی
ٹھیک ہے چادر لے کر باہر آجاؤ پانچ منٹ میں وہ اسے چھوڑ کر باہر نکل گیا
رات کے دو بج رہے تھے گھر میں سب سو رہے تھے وہ اسے گاڑی میں بٹھائے گاڑی روڈ پہ ڈال دی
پورے راستے دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی
اس نے سوچ لیا تھا ایک بار وہ گھر پہنچ گئی تو ہر گز بھی واپس نہیں آئےگی سیدھے تھانے جا کر اسکے خلاف کڈنیپنگ کا کیس کرے گی
جب گاڑی جانے پہچانے راستوں پر چلنے لگی تو اس کا اپنے آنسوؤں پر بندھ باندھنا مشکل ہو گیا وہ آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہنے لگے زریان جو کب سے برداشت کر رہا تھا گاڑی جھٹکے سے روکی

اب اگر ایک آنسو بھی تمہاری آنکھوں سے نکلا تو میں تمہیں واپس لے جاؤنگا پھر تم کبھی چاہ کر بھی وہاں سے نہیں نکل سکتی۔۔ اس۔ نے دھمکی دی
آنا نے فوراً اپنے آنسو صاف کیے وہ منزل تک پہنچ کر خالی ہاتھ نہیں جا سکتی

تو اس نے بھی خاموشی سے گاڑی اسٹارٹ کی تین منٹ بعد وہ اپنی گلی تک پہنچ گئے تھے گلی بہت چھوٹی تھی اس لیے گاڑی کا اندر جانا ممکن نہیں تھا اس نے گاڑی وہی کھڑی کی اور اس کے سائیڈ کا دروازہ کھول کے اسے باہر نکالا گلی میں بلکل خاموشی تھی

اسے بہت گھبراہٹ ہونے لگی کہ نا جانے اس کے غائب ہونے پر اسکی ماں کو کیا کیا سہنا پڑا ہو گا اس نے بے خیالی میں سہارے کے اس کے ہاتھ کو سختی سے تھام لیا

زریان اس کی حالت سمجھ رہا تھا اس لے اسے لے کر ایک دروازے کے آگے کھڑے ہو کر ہلکے سے دستک دی
اگلے ہی لمحے اس کی ماں سامنے تھی جیسے اس کے انتظار میں بیٹھی ہو

اس نے جھٹکے سےاپنا ہاتھ چھڑایا اور اپنی ماں سے لپٹ گئی اور بے آواز رونے لگی
امی مجھے معاف کر دیں امی میری وجہ سے آپ کی بدنامی ہوئی امی میں نے کچھ بھی نہیں کیا امی مجھے معاف کر دیں امی

وہ روتے روتے بول رہی تھی
اور زریان سے اسکا رونا برداشت نہیں ہو رہا تھا اس لیے ادھر ادھر دیکھنے لگا
انہوں نے اسے تھام کر اپنے ساتھ چارپائی پر بٹھایا
اور زریان کو سامنے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا

وہ خاموشی سے بیٹھ گیا

امی اس آدمی کو ہمارے گھر سے باہر نکالیں اس نے مجھے اغوا کیا مجھے زبردستی اپنے گھر میں بند رکھا پورے محلے کے سامنے ہماری عزت خراب کی اسے نکالیں امی
وہ ہزیانی ہو کر چلائی
رائمہ بیگم نے بہت مشکل سے اسے قابو کیا تھا شش آنا شوہر سے ایسے بات نہیں کرتے انہوں نے دھیمے سے سمجھایا

اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا بے یقینی سے ان کو دیکھا تو کیا اس کی ماں جانتی تھی کہ وہ شخص اس سے نکاح کر چکا ہےوہ اتنی مطمئن کیوں تھی
اس نے ایک نظر سامنے بیٹھے زریان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا چہرے پر کوئی پریشانی نہیں تھی

امی۔۔۔۔اس نے بے یقینی سے پکارا
اور وہ اپنی بیٹی کی آنکھوں میں چھپے سوال کو بخوبی سمجھ گئی

ہاں میں سب جانتی ہوں اور یہ سب میری مرضی سے ہوا اور ہماری عزت پر کوئی حرف نہیں آیا کیونکہ میں پہلے ہی راحیلہ کو انکار کر چکی تھی کسی کو کچھ نہیں پتہ

لیکن کیوں اس کے لب دھیرے سے پھڑ پھڑا ئے

کیونکہ یہی تمہارے لیے بہتر تھا
اور زریان تمہارے لیے ایک بہتریں ہمسفر ثابت ہوگا

امی آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتی ہیں آپ نے اس گھٹیا انسان کا ساتھ دیا اس کے خون میں دھوکا ہے یہ شخص کبھی ۔۔۔اس سے پہلے کے وہ مزید بکواس کرتی

بس ایک لفظ نہیں اس کی دھاڑ گھر میں گونجھی
ایک پل کو رائمہ بیگم بھی سہم گئی
لیکن ان کی بیٹی اپنے شوہر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے نڈر کھڑی تھی
چاچی میں اسے لے کر جارہا ہوں یہ عزت کی زبان نہیں سمجھے گی اس نے ا س کا بازو دبوچا۔۔
میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤنگی گھٹیا انسان وہ بھی جوابا
غرائی ۔۔۔
اس وقت زریان کے لیے خود پر قابو پانا بہت مشکل ہو گیا تھا اس نے سختی سے اپنی مٹھیاں بینچھی
آنا اب زریان کا گھر ہی تمہارا گھر ہے جاؤ بچے بدتمیزی مت کرو اپنے شوہر سے

میں اس گھٹیا انسان کے ساتھ کہیں نہیں جاؤنگی اس کے جسم میں جو گندا خون۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اپنی بات مکمل کرتی چہرے پر پڑنے والے تھپڑ نے اس کی بولتی بند کر دی اس نے بے یقینی سے اپنی ماں کو دیکھا
انہوں نے کبھی اسے ڈانٹا تک نہیں تھا اور آج اس انسان کی وجہ سے اس کی ماں نے اسے تھپڑ مارا
تھپڑ سے زیادہ تکلیف اسے اپنی ماں کی آنکھوں میں موجود اپنے لیے غصہ اور کرب کا دکھ تھا
اگر اسے یہ تھپڑ رائمہ بیگم نہیں مارتی تو وہ اسے جان سے مار دیتا جس نے اس کے خاندان خون کو گالی دی

لیکن رائمہ بیگم کی وجہ سے وہ برداشت کر گیا کیونکہ وہ اس عورت کو ہر گز تکلیف نہیں دے سکتا تھا
جاؤ تم اب اس گھر میں تبھی آنا جب تم زریان کے ساتھ اپنا رویہ درست کرلو اس سے پہلے اس گھر میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں

وہ سختی سے کہہ کر اس سے منہ موڑ گئی
اس نے نفرت سے زریان کو دیکھا اس کی ماں نے اس کی زندگی کے بیس سالوں میں کبھی اس سے سختی سے بات نہیں کی مارنا تو دور کی بات لیکن آج اس گھٹیا انسان کی وجہ سے اس کی ماں چھین گئی اس سے
وہ بنا کسی کو کچھ کہے گھر سے نکل گئی اور گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی
زریان نے رائمہ بیگم کو خود سے لگا کر تسلی دی اور گھر سے نکل گیا
آج انہوں نے پہلی بار اپنی بیٹی پر ہاتھ اٹھایا تھا لیکن یہ اس کی بہتری کے لیے تھا انہوں نے گہری سانس لی اور کمرے کی طرف بڑھ گئی

……………………………………………………….

فائزہ بیگم کا مائکہ کراچی میں تھا اس لیے وہ جب بھی شہر آتی تھی تو اکثر زریان اور روحان کے ساتھ رائمہ سے ملنے آیا کرتی تھی
جس کا دادا جان کو علم نہیں تھا وہ ناراض تھا سکندر سے وہ چاہتے تھے کہ وہ آکر ان کو منائے تو وہ اپنی بہو کو عزت سے حویلی لے آئے لیکن شاید اسے ان کی ناراضگی سے فرق نہیں پڑتا تھا اس لیے اس نے کو شش ہی نہیں کی لیکن فائزہ بیگم نے چپ کے رائمہ سے رابطہ رکھا ہوا تھا
جس دن رائمہ بیگم کی ڈیلیوری تھی اس دن سکندر شہر سے باہر تھا اس لیے اس نے فائزہ بیگم کو فون کر کے رائمہ کے ساتھ ہاسپٹل جانے کا کہا
اور جب ا للّہ نے انہیں رحمت سے نوازا تو وہ اب بہت خوش ہوئے زریان تو اس چھوٹی گڑیا کے گال چومے جا رہا تھا
رائمہ آج سے یہ میرے زریان کی ہے
فائزہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
جی بھابھی آپ کی بیٹی ہے مجھے کیا اعتراض انہوں نے بھی خوش دلی سے کہا
اسی طرح دو دن بعد وہ اپنی بیٹی کے ساتھ جب گھر آئی کسی نے سکندر کو نہیں بتایا کہ بیٹا ہوا کہ بیٹی وہ اسے سرپرائز دینا چاہتے تھے
اور فائزہ بیگم اپنے بچوں کے ساتھ واپسی کے لیے نکلی کیونکہ تھوڑی دیر تک سکندر نے بھی پہنچ جانا تھا اس لیے اندھیرا ہونے سے پہلے وہ حویلی کے لیے نکلے
جب سکندر پہنچا اور اس نے سنا کہ بیٹی ہے تو وہ یہ بات برداشت نہیں کر پایا اور بنا سوچے اسے فارغ کر دیا
فائزہ بیگم اپنا موبائل بھول گئی تھی اس لیے جب وہ موبائل لینے واپس آئی تو یہ سب دیکھ لیا اور رائمہ کو اپنے ساتھ لے گئی اور ان کے رہنے کا انتظام کیا اور اس کاایک بہن کی طرح خیال رکھا وہ اس سے بہت کم ملتی تھی لیکن ہمیشہ فون پر ان کا رابطہ رہا لیکن جب آنا چار سال کی ہوئی ایک دن رائمہ بیگم نے خاموشی سے ان کا دیا ہوا گھر چھوڑ دیا
جب فائزہ بیگم کو پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہوئی لیکن رائمہ نے انہیں یہ کہ کر چپ کروا دیا کہ وہ اب اپنی بیٹی کی زمہ داری خود اٹھانا چاہتی ہے اور وہ ان کی امانت وقت آنے پر ان کے حوالے کر دے گی
فائزہ بیگم بھی چپ ہو گئ اور اس طرح ان کا رابطہ صرف فون تک رہ گیا
جس دن رائمہ بیگم کو راحیلہ کے ساتھ شاپنگ پر جانا تھا اسے دن ان کو زریان کی کال آئی تھی اور انہوں نے زریان کو سب کچھ بتا دیا اور اس کی ضد کے پیش نظر انہوں نے سب پلان کیا

…………………………………………………….

گھر پہنچ کہ بنا کچھ کہے اس کمرے میں آگئی جہاں اسے لایا گیا تھا اور خاموشی سے بستر پر لیٹ کر وہ آنکھیں موند گئی وہ خود کو پر سکون کرنا چاہتی تھی اور کچھ کمزوری اور مسلسل رونے کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی

………………………………………

صبح عزہ نماز کے لیے اٹھی اور چائے بنانے کی نیت سے کچن میں آگئی لیکن باہر لان میں روحان کو ایکسرسائز کرتے دیکھ وہ بہت خوش ہوئی اور اس سے لپٹ گئی وہ اکثر اس سے ملنے آتا تھا
بھیا آپ کب آئے
جب میری گڑیا شادی انجوائے کرنے گئ تھی اس نے بتایا
تو آپ رات کو کیوں نہیں ملے مجھ سے۔۔۔۔۔۔ اس نے ناراضگی کا اظہار کیا
یار عزو میں بستر۔ میں لیٹا تو پتہ ہی نہیں چلا کب نیند آگئ۔۔۔ اس نے وجہ بتائی اور دونوں باتیں کرنے لگے
تب تک زریان بھی آگیا تھا اور ان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا

پھر تینوں بھائی بہن کو باتوں میں ناشتہ کا وقت ہو گیا اور ملازمہ ان کو بلانے آئی
آپ چلے ہم آتے ہیں وہ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھ گئے
بھائی بھابھی کو تو بلائیں ۔۔روحان نے زریان سے کہا

جبکہ عزہ تو نا سمجھی سے دونوں کے چہرے دیکھنے لگی

کون بھابھی اس نے دونوں سے پوچھا
اس سے پہلے کہ وہ اسے جواب دیتے سیڑھیوں سے اسے زریان کے ٹراؤزر شرٹ میں ایک بہت خوبصورت سی لڑکی آتی ہوئی نظر آئی جس نے زریان کی بلیک ٹی شرٹ جو اسے گھٹنوں تک آرہی تھی اور گرے ٹراؤزر جسے اس نے نیچے سے فولڈ کر کے برابر کیا تھا دوپٹہ سے بے نیاز کھلے بالوں کے ساتھ تھی

عزہ تو اس لڑکی کو دیکھتے ہی کھڑی ہو گئی تھی جبکے روحان نے نظریں نہیں اٹھائی
البتہ زریان کا غصہ سے برا حال تھا اس کی دماغ کی نسیں ابھری ہوئی تھی

وہ سیدھے اس کے پاس آئی باقی کسی کو اس نے نہ دیکھا
مجھے کپڑے چاہیے وہ ڈائرکٹ اس سے مخاطب ہوئی
روم میں جاؤ اس نے سرد آواز سے کہا
کیوں روم میں جاؤں بھوک لگی کے مجھے ناشتہ کرنا ہے تمہارے ساتھ اور تم میرے کپڑوں کا انتظام کرو آخر بیوی ہوں آپ کی اس نے مسکراتے ہوئے کہا

عزہ تو بیوی لفظ پر ہی اٹک گئی تھی اور آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی
روحان کو اپنا وہاں بیٹھنا مناسب نہیں لگا اس لیے وہاں سے اٹھ کر جاتے ہوئے عزہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے روم میں لے گیا

…………………………………….

بھیا یہ سب کیا ہے اس نے کمرے میں آتے ہی اس سے پوچھا

یار بھائی انہیں پسند کرتے ہیں اس لیے کل انکا نکاح تھا ان کی امی نے کروائی تو اب وہ ہماری بھابھی ہیں اس مناسب لفظوں کا چناؤ کیا

لیکن مجھے کیوں نہیں بتایا انہوں نے میں کسی سے بات نہیں کرونگی اکلوتی بہن ہو کر بھی میں اپنے بھائی کی شادی میں شامل نہیں ہو سکی کسی دن آپ بھی ایسے نکاح کر لینا اور مجھے بعد میں بتانا وہ ناراضگی سے روتے ہوئے بولی

روحان تو گھبرا ہی گیا وہ بچارا پریشان ہو گیا اگر اسے ہالے اور روحان کے نکاح کا پتہ چلا تو کیا ریکشن ہوگا اس کا

لیکن پھر سر جھٹک دیا وہ کونسا اصلی نکاح تھا بس حالت کے پیش نظر کیا گیا تھا اور وہ جب سچ میں اپنی محبت سے شادی کرے گا تب اپنی بہن کے تمام ارمان پورے کرے گا

اچھا نا ناراض مت ہو کچھ وجوہات تھی کہ سب جلدی کرنا پڑا اب رونا تو بند کرو میری شادی میں اپنے سارے ارمان پورے کرنا اس نے اسے بہلانے کے لیے کہا اور تھوڑی دیر تک بہل بھی گئ
…………………………………………..

ان کے جاتے ہی زریان نے اسے کھینچ کر اپنی گود میں بٹھا لیا اور اس کا منہ دبوچ لیا اور اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب کیا
تم نیچے اس حالت میں کیوں آئی۔۔۔۔
جب اس نے پوچھا تو اس کے لہجے میں کوئی نرمی نہیں تھی چہرہ غصہ سے لال تھا
وہ تو اس کے کھینچنے پر ہی گھبرا گئی تھی اسے اس سے ایسی امید نہیں تھی سانسوں نے الگ تیزی مچائی ہو تھی

بہت مشکل سے اس نے خود پر قابو پایا اور اسے دیکھ کر مسکرائی اسکے چہرے پر سجا غصہ اسے بہت مزہ دے رہا تھا
کیوں ڈئیر ہسبینڈ میری حالت میں ایسا کیا ہے کپڑے تو پہن رکھے ہیں اس نے مزہ لیتے ہوئے پوچھا
وہ اس لڑکی کی ہٹ دھرمی پر اسے گھور کر رہ گیا اور بنا کچھ کہے اس کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنا تمام غصہ اس کے ہونٹوں پر نکالنے لگا اس کی سانسیں بند ہونے لگی تو وہ اس کے سینے پر مکہ مارنے لگی لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوا
جب اپنے ہونٹوں پر اس کے خون کا ذائقہ محسوس ہوا تو
اسے آزادی دی