Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

ناول ۔۔۔۔۔دل سکون

رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند

قسط۔سترہ


عزہ کو بے ہوش دیکھ سب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے بی
ہالے تو رونے لگ گئی تھی فائزہ بیگم پریشانی سے عالم صاحب کو بلانے جانے لگی

مامی کیا ہوا ہے سب خیریت تو ہے؟
عاشر جو اسی وقت نیہا اور سارہ بیگم کو لے کر آیا تھا
فائزہ بیگم کو پریشانی سے بھاگتے دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگا

بیٹا وہ عزہ بے ہوش ہو گئی ہے صبح ہی تو آئی ہے ناجانے میری بچی کو کیا ہوگیا ہے بے ہوش ہو گئی
وہ روتے ہوئے بتانے لگی

مامی چلیں پریشان مت ہو میں ڈاکٹر کو کال کر دیتا ہوں
اس نے ان کو تھاما اور ڈاکٹر کو کال کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا

تھوڑی ہی دیر میں ڈاکٹر آگیا تھا
دیکھیں یہ ڈر کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی تھی اور یہ بہت ویک بھی ہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں آپ کوشش کریں ایسا کچھ بھی نا ہو جس سے یہ ڈر جائیں
میں نے طاقت کی کچھ دوائیاں لکھ دی ہیں آپ پراپر ٹائم پہ کھانے کے بعد دیجئے
انشاء اللّٰہ بہتر ہو جائیگی
ڈاکٹر کہہ کر چلا گیا تو سب نے سکون کا سانس لیا
لیکن ہالے کی سو سو کی آواز اب بھی جاری تھی

……………………………………………………………………………….

کہیے کیسے آنا ہوا
دادا جان نے بیٹھتے ہوئے پوچھا
عالم صاحب بھی دادا جان کے ساتھ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے تھے
جی ہم اپنی امانت کے کر جانا چاہتے ہیں اس لیے تاریخ لینے آئے ہیں تھوڑی دیر پہلے ہی ہمیں پتہ چلا کہ آپ کی بیٹی گھر آ چکی ہے ۔۔۔۔فریدہ بیگم نے نخوت سے کہا
بہن جی آپ میرے گھر آئی مجھے خوشی ہوئی اور میری بیٹی صرف میری بیٹی ہے کسی کی امانت نہیں جو بات پہلے کبھی ہوئی تھی وہ ختم ہو چکی عالم صاحب نے بات ہی ختم کردی

عالم صاحب اگر یاد ہو تو آپ نے زبان دی تھی کہ آپ اپنی بیٹی عزہ کا نکاح آپ مجھ سے کروائیں گے اور یہ نکاح ہو بھی جاتا اگر آپ کا بیٹا زریان اسے یہاں سے غائب نا کروا دیتا اب جب آپ کی بیٹی آپ کے پاس لوٹ کر آ چکی ہے تو اپنی کہی بات پوری کریں ۔۔۔
آخر مرزا خاندان کا خون اتنا کمزور تو کبھی نہیں رہا کہ اپنی بات سے مکریں ۔۔۔۔
خرم ملک نے عالم صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تمسخر اڑاتی نظروں سے کہا
خرم ملک میں انکار کرتا ہوں میں اپنی بیٹی کا رشتہ تم سےکبھی نہیں کرونگا ۔۔۔۔جو کر سکتے ہو کرلو
عالم صاحب نے بھی اسی کے انداز میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا
انکے صاف انکار پر خرم ملک اور اس کی والدہ کو صاف اپنی بے عزتی محسوس ہوئی
غصہ سے انکا چہرہ لال ہو گیا
جب کے دادا جان مطمئن انداز میں خاموشی سے بیٹھے سب سن رہے تھے
آپ کی بیٹی اتنی پاکدامن تو نہیں جو اتنا غرور دکھا رہے ہیں آپ آخر کو آدھی رات کو میرے بیٹے کے ساتھ پکڑی گئی تھی ہم نے آپ کی عزت رکھنے کے لیے یہ بات کسی کو نہیں بتائی اور آپ ہمیں ہی بے عزت کررہے فریدہ بیگم( خرم کی والدہ) نے چیختے ہوئے کہا
ارے کون کرے گا اس بد کردار سے شاد۔۔۔۔۔

عزہ بیوی ہے میری۔ آئندہ اس کا نام اپنی زبان پر بھی مت لانا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ مزید بولتی
عاشر کی بات پر ڈرائنگ روم میں موت کا سناٹا چھا گیا تھا
خرم ملک کی غصے سے گردن کی رگیں ابھر آئی تھی

اس نے خونخوار نظروں سے پیچھے مڑ کر ڈرائنگ روم کے دروازے کی طرف دیکھا جہاں عاشر کھڑا تھا ۔۔۔۔

وہ چلتا ہوا ان کے پاس آیا اور ہاتھ کے اشارے سے باہر کا راستہ دکھایا
جب کے دادا جان اور بابا حیرانگی سے عاشر کو دیکھ رہے تھے
دیکھ لونگا میں تم سب کو میرے ساتھ دھوکا کرنے کا انجام بہت برا ہوگا اس کی سزا تو تم سب کو مل کر رہےگی۔۔
وہ چیختے ہوئے وہاں سے اپنی ماں کو لیے نکل گیا

یہ سب کیا تھا عاشر دادا جان نے سب سے پہلے پوچھا
جبکے عالم صاحب کو عاشر پہ بہت غصہ آرہا تھا جیسےوہ ان کی بیٹی کو اپنی بیوی کہ سکتا تھا

نانا جان ‘ماموں جان مجھے آپ دونوں سے بات کرنی ہے پلیز مجھے غلط مت سمجھیے گا
وہ انکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
دادا جان مجھے اس وقت جو صحیح لگا وہ کہہ دیا ورنہ وہ آئے روز یہاں آ جاتا اور آپ سب کو تنگ کرتا اور عزہ بھی کب تک ڈر ڈر کر رہے گی آخر ۔۔ اس نے پریشانی سے کہا

لیکن بیٹا گاؤں میں یہ بات پھیل جائے گی کہ عزہ کا نکاح ہو چکا ہے تو اس کے رشتے نہیں آئے گے

میں عزہ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں
اس نے نظریں جھکائے دونوں کے سروں پر بم پھوڑا
عالم صاحب نے بے یقینی سے اپنے بھانجے کو دیکھا

میں جانتا ہوں میرے پاس آ پ لوگوں جتنی دولت نہیں لیکن میں اسے خوش رکھونگا
اور اس کی شادی کہیں نا کہیں تو کروائیں گے نا آپ لوگ تو ایک بار میرے بارے میں سوچے کیونکہ اس کے لیے بھی یہی بہتر ہے ان سب سے دور جانا بہتر ہے ۔۔

آپ لوگ آرام سے سوچ لیجئے مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ کا ہر فیصلہ قبول ہے ۔۔۔۔۔

…………………………………………………………………………………

اگلے دس منٹ سے پہلے ہی اس کے پاس ڈیٹیلز کے ساتھ لوکیشن بھی تھا اس نے سیکنڈ بھی دیر کئے بغیر گاڑی اس طرف بجھائی تھی

یہ تو طے تھا جو بھی سامنے آیا وہ جان سے جائے گا یہ سوچ ہی اسے جلانے کے لئے کافی تھا کہ اس کی عزت کو ہاتھ لگانے کی ہمت کیسے کی دشمنوں نے اب وہ سب جلا کر راکھ کر دے گا

اس کے گارڈز بھی اس کو فالو کر رہے تھے
اگلے پندرہ منٹ تک وہ اس جگہ موجود تھے
یہ ایک کھنڈر نما گھر تھا جہاں تین آدمی بیٹھے تاش کھیل رہے تھے لیکن اچانک گاڑی رکنے پر ہڑ بڑا کر اٹھے
اس سے پہلے کہ وہ بھاگتے زریان نے اپنی گن نکال ایک ایک کر کے تینوں کی ٹانگوں پر فائر کیا تھا اور آؤ دیکھا نا تاؤ ان پر دھاوا بول دیا اس کے اندر جتنی وحشت تھی ان سب پر نکالنے لگا قریب تھا کہ ان کی سانسیں بند ہو جاتی
سر پلیز آپ میم کو دیکھئے
ہم ان کو ان کے ٹھکانے پر پہنچا دینگے آپ جائیں اندر
اس کے گارڈز نے بڑی مشکل سے اسے قابو کیا تھا
وہ ان کو خود سے چھڑا تا اندر بھاگا تھا

اس نے اندر قدم رکھا تو صرف ایک کمرے کے باہر ہی تالا لگا تھا باقی سب کھلے تھے ہو نا ہو آنا وہاں تھی
وہ بھاگتے ہوئے دروازے تک گیا اور اپنے سائلینسر لگے گن سے تالا توڑ دیا اور بے تابی سے دروازہ کھول کے اندر دیکھا بڑھا
کاٹ کباڑ کے درمیان وہ گھٹنوں میں سر دئے بیٹھی تھی
وہ دو قدم کا فاصلہ طے کرتا اسے بانہوں میں بھینچ لیا تھا

اپنے بہت پاس سےوہ جانی پہچانی خوشبو محسوس کر اس نے آنکھین کھولی تھی پھر آہستہ آہستہ نظریں اٹھائی تو ان گہری سبز آنکھوں سے زور دار تصادم ہوا وہ جو موت کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ رہی تھی
کسی اپنے کو بہت پاس پاکر دوبارہ اس کے سینے میں منہ چھپا لیا زریان کو پاس پا کرسی پھوٹ پھوٹ کر رو دی

زر زریان مم میں نے بہت بلایا آپ کو بب بہت یاد کیا آپ نہیں آئے اس نے مجھے یہاں یہاں چھوا اپنے منہ اور بازو کی طرف اشارہ کرتی وہ بتا رہی تھے
زریان نے اس کے بازوؤں پر جا بجا اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑ ا
اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر وہ اس کے چہرے کو پور پور چومنے لگا
م مج مجھے کبھی چھ چھوڑ کے مت جانا وہ ہچکیوں سے بولی
شش کچھ نہیں ہوا تم بلکل ٹھیک ہو کچھ نہیں ہوا تمہیں کوئی تمہیں کچھ نہیں کر سکتا میں کبھی تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا
وہ اسے سینے میں زور سے دوبارہ بھینچ چکا تھا اور اس کے بالوں میں بار بار لب رکھے جا رہا تھا
جب اس کا رونا بند ہوا تو اسے بازوؤں میں بھر لیا
آنا نے بھی اسکے گردن کے گرد دونوں بازوں باندھ دئیے اور اسکے سینے میں چہرہ چپا لیا
تو وہ بھی سکون سے اس گھر سے نکلتا چلاگیا

………………………………………………….

اسنے کل سے روحان کو نہیں دیکھا تھا روحان نے جو اس کے ساتھ حرکت کی تھی وہ بہت ڈر گئی تھی اچھا ہی تھا وہ اسے نظر نہیں آرہا تھا

لیکن صبح سے ہی لا شعوری طور پر وہ اسے ڈھونڈ رہی تھی نا جانے کیوں اس کی غیر موجودگی پر وہ پریشان ہو گئ تھی دل انجانے میں اس کی چاہ کرنے لگا تھا

…………………………………………………………………………………

دادا جان نے عاشر کا پرپوزل سب کے سامنے رکھا تھا کسی کو کوئی اعتراض نا لیکن بابا کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیٹی سے پوچھے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے وہ جو چاہے گی وہی ہوگا
کل تک زریان بھی آ جائے گا تو آرام سے دونوں سے بات کریں گے بات ابھی تک گھر کے بڑوں کے بیچ

زریان اسے لئے گھر آیا تھا بہت مشکل سے اس نے ڈرائیو کی تھی وہ اسے چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھی بہت ڈر گئی تھی وہ
گھر پہنچ کر دوسری طرف سے گھوم کر اس نے آنا کے سائیڈ کا دروازہ کھولا تھا اور اسے بازوؤں میں اٹھایا لیا اور اپنے کمرے میں پہنچ کے اس نے بیڈ پر لٹایا
وہ مڑ کرجانے لگا تو آنا نےاس کا ہاتھ پکڑ لیا
زریان نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں ڈر التجاء کیا کچھ نہ تھا
اس نے اسے بھی ساتھ اٹھا لیا
چلو پہلے فریش ہو جاؤ پھر کھانا کھا کے سوتے ہیں وہ اسے لئے الماری کی طرف بڑھا اور ایک آرام دہ سوٹ نکال کر اسے
پکڑا دیا

جب وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئی تو زریان نے غور سے اس کی طرف دیکھا وہ اس وقت ڈری سہمی خود میں پناہی ڈھونڈ تی اتنی پیاری لگی تھی کہ بے ساختہ اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا آنا کو لگا اس کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی

اگر میری بیوی چاہتی ہے کہ اس کو فریش کرنے کا کام بھی میں کروں تو بندہ حاضر ہے آخر کو اپنی بیوی کا دیوانہ ہوں اتنا تو کر سکتا ہوں
وہ اسکی کان میں سر گوشی کی صورت بول رہا تھا زریان کے ہونٹوں کا لمس اپنے کان اور گالوں پر محسوس کر کے جسم میں ایک سرد لہر سی دوڑ گئی

وہ شاید مدہوش ہو رہا تھا اس کی گرفت خود پر کمزور پڑے دیکھ اس نے زریان کو دھکا دیا اور واش روم میں جا کر بند ہو گئی اور دروازے سے لگے لمبے لمبے سانس لینے لگی

اس کے بھاگنے پر زریان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور کال کر کے ملازمہ کو کھانا بھیجنے کا کہا

جاری ہے ۔۔۔