Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔۔اکیس
ویسے جتنی تم خوبصورت ہو اتنے عاشق ہونا تو بنتا ہے وہ اس کے چہرے پر انگلی ٹریس کرتے ہوئے بولا
وہ جو پہلے ہی ڈر خوف سے رو رہی تھی ایک دم رک گئی
نہ نہیں عا عاشر میرا ایسا کچھ نہیں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اس نے یقین دلانے کی کوشش کی
جس کے بدلے میں اسے اپنے پیٹ پر اس ظالم انسان کے دانتوں کا لمس محسوس ہوا تو وہ تڑپ اٹھی
پلیز چھ چھوڑ دیں مجھے وہ ہاتھ جوڑے منتیں کرنے لگی
ویسے وہ خرم ملک ایسے نہیں دیوانہ تمہارا اس نے بھی تو یہ مزا چھکا ہوگا ۔۔۔
عاشر نے شدت سے اسے بیڈ پر لٹا دیا اور شدت بھرا لمس چھوڑنے لگا یہ سب عزہ کے برداشت کے قابل نہیں تھا وہ چیختی رہی چلاتی رہی لیکن اس نے عزہ پر رحم نہیں کیا
وہ اس کی نسوانیت کو اڈھیڑتا چلاگیا
جب اپنا دل بھر گیا تو اسے چھوڑا اور کروٹ بدل۔کر سو گیا
دن بھر کی تھکن زہنی و جسمانی ازیت برداشت نا کرتے ہوئے وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر ایک طرف گر گئی
………………………………………………………………………
ماضی ۔۔۔۔۔۔
سکندر نے رائمہ بیگم کو چھوڑنے کے بعد دوسری شادی پاس کے گاؤں کے زمیندار حسن ملک کی بیٹی صالحہ سے کی تھی جو کہ اس کی پسند تھی اور وہ لڑکی اپنا گھر بار سب چھوڑ کر اس کے پاس آگئی تھی۔۔۔
جلال صاحب کے پاس ان کو اپنانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا وہ ایک بار پھر اپنے بیٹے کو کھونا نہیں چاہتے تھے
کیونکہ سکندر نے بتایا تھا کہ اس کی پہلی بیوی سے اس کی نہیں بنی اس لیے وہ اسے چھوڑ چکا ہے
حسن ملک اور اس کے چہرے بختیار ملک کو یہ بات پسند نہیں آئی وہ ہر حال میں اس رشتے کو ختم کرنا چاہتے تھے آئے دن ان پر حملے ہونے لگے۔۔۔
اس دوران صالحہ پریگننٹ ہو گئی سب بہت خوش تھے ۔۔
جلال مرزا اور عالم صاحب نے ہر ممکن ان کو پروٹیکٹ کیا
اس بار بھی سکندر کو بیٹے کی چاہ تھی وہ بات بات پر صالحہ کو یہ جتانے لگے مجھے بیٹا چاہیئے ورنہ تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آؤنگا
اگر بیٹا دیا تو ہمیشہ راج کروگی ۔۔۔
اپنے خاندان والوں کا ڈر سکندر کے بیٹے کی چاہ سب نے مل کر اسے اتنا ڈپریس کردیا تھا کہ ہالے کو جنم دیتے ہی وہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں موندے گئی ۔۔
سکندر کو بیوی کے مرنے سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ اس بار بھی بیٹی ہوئی ہے اس لیے وہ تیسرے دن ہی بیٹی کی ایک جھلک دیکھے بغیر ملک چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔
اور جاتے جاتے یہ بھی کہہ گیا کہ اس لڑکی سے اس کا کوئی تعلق نہیں اسے کسی یتیم خانے میں ڈال دیں
بی جان تو اپنے بیٹے کی سفاکیت پر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی پھر اس معصوم کو فائزہ بیگم نے ہمیشہ کے لیے اپنی آگوش میں لے لیا۔۔۔۔۔
اس دوران حسن ملک سے جلال مرزا نے بہت معافی مانگی تھی اور انہوں نے معاف بھی کردیا تھا
انہی دنوں بختیار ملک نے لوگوں کی باتوں سے تنگ آکر خودکشی کر لی تھی۔۔۔۔
حسن ملک بھی اکثر بیمار رہنے لگے تھے وہ اپنی نواسی سے ملنے بھی آتے تھے لیکن یہ بات انکی بہو اور پوتے کو پسند نہیں تھی
اس لیے انہوں نے آنا بند کر دیا تھا لیکن دو سال پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا
دادا جان اور بی جان ہالے کو لے کر گئے تھے اپنے نانا کا آخری دیدار کرنے کے لیے عزہ بھی ان کے ساتھ تھی
تب خرم ملک ان سے بہت اچھے سے پیش آیا تھا
اس کے بعد وہ کبھی کبھی ہالے سے ملنے آنے لگا تھا
وہ عزہ کو اپنی باتوں اور آنکھوں سے تنگ کرنے لگا لیکن وہ بہت ڈرپوک تھی کسی سے بھی یہ بات اس نے ڈسکس نہیں کی وہ ہالے کو بھی اپنی باتوں میں پھنسانے کی کوشش کرتا تھا لیکن اسے یہ ساری باتیں سمجھ نہیں آتی تھی اس لیے اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا
یہ سب کچھ عزہ دیکھتی تھی وہ بہت ڈر گئی تھی
لیکن خرم ملک سب کے سامنے بہت اچھے سے پیش آتا تھا
گھر والے بھی اس سے مطمئن تھے اس لیے وہ جب چاہے حویلی آ سکتا تھا کوئی پابندی نہیں تھی
ایک دن اس نے عزہ سے کہا کہ وہ حویلی کے پیچھے اس سے ملنے آئے اسے بس کچھ بات کرنی ہے اگر نہیں آئی تو وہ ہالے کو ہمیشہ کے لیے یہاں سے لے جائے گا اگر اس نے کسی کو بتانے کی کوشش کی تو اس کے آدمی عالم صاحب کو اس کے ایک اشارے پر مار دینگے
اس دن عالم صاحب شہر گئے ہوئے تھے اس لیے وہ ڈر گئی تھی اور اس کی بات ماننے پر مجبور ہو گئی تھی
وہ بہت ڈر گئی تھی اس میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ کسی کو بتا سکے
اس لیے رات بارہ بجے وہ کمرے سے دبے پاؤں نکلی چادر سے خود کو اچھے ڈھکا ہوا تھا اس کے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے وہ بس ہالے اور بابا کو کچھ نہیں ہونے دینا چاہتی تھی اس لیے ہمت کر کے آگے بڑھی وہ حویلی کے پیچھے باغ میں اندھیرے میں کھڑا تھا اس کا دل کیا بھاگ جائے لیکن وہ آگے بڑھی
جب خرم ملک نے اس کی طرف مڑ کر دیکھا تو عزہ تو اس کی حالت دیکھ کر ہی پریشان ہو گئی تھی اس کے چہرے اور گردن پر جگہ جگہ لپ اسٹک کے نشان تھے
وہ بہت حیرت سے اسے دیکھ رہی وہ جلدی سے اس کے بہت پاس آیا اور اپنی انگلی اس کے ہونٹوں پر مسل دی اور چادر چھین کھینچ کر اتار دی
اس سے پہلے کے وہ سمجھ پاتی پیچھے سے دھاڑ کی آواز آئی۔۔۔۔۔عزہ وہی تھم گئی
کیا ہے یہ سب۔۔۔۔۔۔عالم صاحب غم و غصّے سے چیخے کیونکہ دور سے یہی نظر آرہا تھا کہ دو وجود بہت پاس کھڑے ہیں
ایک دم خرم ملک عزہ سے دور ہوا
خرم ملک کو عزہ کے ساتھ اس حالت میں دیکھ کر
عالم صاحب کو پوری چھت سر پر گرتی ہوئی محسوس ہوئی
وہ غصے سے عزہ کی طرف بڑھے اور ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے گال پر رسید کر دیا اور اسے کھینچتے ہوئے حویلی کے اندر لے گئے
خرم ملک کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ بکھر گئی
وہ بھی انکے پیچھے اندر چلا گیا
ان کی چیخ پر سب اپنے کمروں سے نکل آئے زریان اور روحان شہر میں ہی تھے
کوئی بھی ان دونوں کی حالت دیکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ان کے بیچ کیا ہوا ہوگا
خرم ملک کے گال اور گردن پر لپ اسٹک کا نشان اس بات کی طرف صاف اشارہ کررہی تھی
کہ عزہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ تھی
بی جان کے تو دل پر ہاتھ پڑا تھا وہی بیٹھتی چلی گئی
دادا جان کا دل ماننے کو تیار ہی نہیں تھا ان کی معصوم اور ڈرپوک پوتی ایسی حرکت کرسکتی ہے
میں اس نافرمان اور بے شرم اولاد کو اس گھر میں ہرگز نہیں رکھ سکتا ابھی مولوی بلاؤ اور اسے نکاح پڑھا کر یہاں سے دونوں دفع ہو جاؤ اور کبھی تم دونوں اپنی شکل مت دکھانا
عالم صاحب پھنکارے
دیکھیں عالم صاحب ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں آپ سے رشتہ مانگنے والے تھے لیکن عزہ ڈر رہی تھی آج بھی اس نے مجھے بلایا تھا ورنہ مجھے اس طرح ملنا بلکل پسند نہیں اب جب آپ نکاح پڑھانا ہی چاہتے ہیں تو آدھی رات کے بجائے صبح دن کے اجالے میں عزہ کو اپنے نکاح میں لینا چاہتا ہوں تا کہ کسی کو کچھ بھی کہنے کا موقع نا ملے میں صبح دس بجے آؤنگا اپنی امانت لینے آپ سے
خرم کہہ کر چلا گیا۔۔۔کسی نے بھی اسے نہیں روکا
عالم کو بھی اس کی بات صحیح لگی آخر جیسی بھی تھی اولاد تھی پورے گاؤں کے سامنے اسے شرمندہ ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔۔۔۔
اس نے ایک بار پھر پورے خاندان کے سامنے سارا قصور اس کی جھولی میں ڈال دیا لیکن وہ
ایک طرف زمیں پر گری بس کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی جیسے وہ یہاں موجود ہی نا ہو
عالم صاحب اور دادا جان اپنے کمرے کی طرف چلے گئے تھے
بی جان اور فائزہ بیگم اس کی طرف بڑھی اور اسے تھام کر اٹھایا جو کسی روبوٹ کی طرح چل کر اپنے کمرے میں آگئی
یہ سب کیا ہے عزہ تم ایسا کیسے کرسکتی ہو ہم نے تو کبھی ایسی پرورش نہیں کی مجھے بتاؤ سچ کیا ہے بولو بیٹا بی جان اس سے پوچھ رہی تھی
فائزہ بیگم اس کے ساتھ بیٹھ کر روئے جا رہی تھی
اچانک وہ لہرا کر انکی گود میں گر گئی
ہالے نے جلدی سے ٹیبل پر رکھا فائزہ بیگم کا فون اٹھایا اور زریان کو روتے ہوئے سب بتاتی چلی گئی
زریان اور روحان اسی وقت شہر سے نکلے تھے وہ کبھی مان ہی نہیں سکتے تھے ان کی بہن اس طرح کی گھٹیا حرکت کرسکتی ہے
وہ رات سب نے آنکھوں پر کاٹی تھی
صبح دس بجے خرم ملک اپنی ماں اور کچھ رشتے داروں کے ساتھ آیا تھا
فائزہ بیگم نے عالم صاحب کو منانے کی پوری کوشش کی لیکن وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے اور جس طرح کا انہوں نے حال دیکھا تھا دادا جان کو بھی یہی فیصلہ بہتر لگا ۔۔۔۔
وہ بہت روئی چیخی اپنی بے گناہی کا یقین دلانے کی کوشش کی لیکن عالم صاحب نے ایک لفظ نہیں سنا
اسے لاکر صوفے پر بٹھا دیا گیا وہ ڈر سے کانپ رہی تھی
سب کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھی جیسے سب روئے ہوں
خرم ملک اور اس کی ماں کے دل میں ٹھنڈک پڑی تھی
نکاح شروع کریں عالم صاحب نے اشارہ کیا۔۔۔
عزہ عالم ولد عالم مرزا آپ کا نکاح سکہ رائج الوقت حق مہر پانچ لاکھ میں خرم ملک ولد بختیار ملک سے طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟؟
مولوی نے عزہ سے پوچھا اس نے رحم طلب نظروں سے عالم صاحب کو دیکھا۔۔۔۔۔
انہوں نے سختی سے منہ پھیر لیا ۔۔
یہ نکاح نہیں ہو سکتا ۔۔۔زریان کی دھاڑ پورے لاؤنج میں گونجی تھی۔۔۔
سب نے مڑ کر دروزے کی طرف دیکھا تھا عزہ اٹھی اور بھاگتے ہوئے اپنے بھائی کے سینے سے لگ گئی
بھیا مجھے بچا لیجئے میں یہ نکاح ن نہیں کرنا چاہتی وہ اس کے سینے سے لگی التجاء کرنے لگی
زریان تم کچھ نہیں کہوگے اسے بٹھاؤ یہاں اور نکاح ہونے دو
لیکن بابا آپ ایک بار اس کی سن لیجئے روحان نے باپ سے کہا
مجھے کچھ نہیں سننا نا کوئی بات ہوگی ابھی اور اس وقت بس نکاح ہو گا انہوں نے حتمی بات کی
یہ نکاح کسی صورت نہیں ہوگا اور اس آدمی کو میں بہت جلد دیکھ لوں گا
زریان نے بھی سب کے سامنے بنا کسی لحاظ کے اپنا فیصلہ سنا دیا
خرم ملک تو منزل کے اتنے قریب پہنچ کر یہ سب دیکھ کر پاگل ہو گیا تھا
تمہاری بہن رات کو میرے ساتھ تھی ۔۔۔ اس کا جملہِ ابھی مکمل ہی ہوا تھا کہ گال پر پڑنے والے تھپڑ نے اس کی بولتی بند کر دی۔۔۔روحان نے کھینچ کر تھپڑ اس کے منہ پر مارا تھا
وہ غصے سے روحان کو دیکھنے لگا ۔۔
اگر یہ نکاح نہیں ہو گا تو میرے گھر سے نکلو تم اور اس کو بھی لے کر جاؤ تم دونوں میرے لیے مر گئے ۔۔۔
عالم صاحب نے زریان سے کہا ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے اگر آپ یہی چاہتے ہیں تو یہی ہوگا میں عزہ کو اپنےساتھ لے کرنا رہا ہوں اور جب تک آپ کو اپنی غلطی کا احساس نہیں ہو جاتا ہم اس گھر میں نہیں آئیں گے۔۔۔
وہ عزہ کو لیے اس گھر سے نکل گیا اور روحان کو وہاں رکنے کا اشارہ کیا۔۔۔
اس کے بعد خرم ملک بھی سب کو لے کر غصے میں وہاں سے نکل گیا ۔۔
عزہ نے زریان کو ہر بات بتا دی تھی اور روحان نے سارے ثبوت دئے تھے عالم صاحب کو کہ کیسے اس نے عزہ کو مجبور کیا اور ایک گارڈ سے کہلوا کے آپ کو حویلی کے بیک سائیڈ پر بھیجا تھا۔۔۔
اصل میں اس کا مقصد ان کو بدنام کرنے کے ساتھ انکو عزہ کے زریعے تکلیف دینا بھی تھا جو عین موقع پر زریان نے ناکام بنا دی
پھر ایک دن وہ ہالے کو اسکول سے لے کر آرہے تھے کہ عالم صاحب کی گاڑی پر کچھ لوگوں نے حملہ کیا اور ہالے کو اغوا کرنے کی کوشش کی اس کو بچاتے ہوئے عالم صاحب کو گولی بھی لگی تھی لیکن روحان نے ان کو بچا لیا تھا پھر مصلحت کے طور پر انہوں نے ہسپتال میں ہی ان دونوں کا نکاح کروا دیا تھا ۔۔۔۔۔
………………………………………………………………………
وہ وہاں سے گاڑی میں بیٹھتا بہت دور چلا آیا تھا آنکھیں بار بار دھندلا رہی تھی سب کچھ گڈمڈ ہو رہا تھا ایک سنان سڑک پر اس نے گاڑی روک دی اور گاڑی سے نکل آیا
اور گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا
اللّٰہ کیوں کیوں کیوں۔۔۔۔۔دلشیر کی چیخیں سڑک پر گونجی
تھی
ابھی تو اسے چاہنا شروع کیا تھا اللّٰہ تو نے اسے مجھ سے چھین کر کسی اور کو دے دیا کیوں
اگر وہ میرے نصیب میں نہیں تھی تو میرے دل میں اس کی محبت ڈالی کیوں
مجھے لگ رہا میں اس کے بغیر سانس نہیں لے پا رہا ۔۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا وہ مجھے اس قدر عزیز ہو جائے گی
میں نے اس سے جان کر محبت نہیں کی تھی میں لیکن تو نے اس کی محبت میرے دل میں ڈال دی اب میرا ہر سانس اسے پکار رہا ہے میں مر جاؤں گا ۔۔۔۔
وہ جوان جہاں مرد روڈ کے بیچوں بیچ گھٹنوں کے بل بیٹھے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا
بہت دیر تک رونے کے بعد وہ اٹھا اور کر کھڑاتے قدموں سے گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا
اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور تیز ڈرائیو کرنے لگا
وہ یہاں سے بہت دور جانا چاہتا تھا
اچانک سامنے سے ایک بوڑھا آدمی سائیکل میں آتا ہوا نظر آیا تو ان کو بچانے کے چکر میں اس نے گاڑی کو سائیڈ کرنے کی کوشش کی تو گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھ کے الٹ گئی
اور اس کے بعد اسےکچھ یاد نہیں رہا آخری بار بھی بند ہوتی آنکھوں سے اس نے اسی پری پیکر کا چہرہ دیکھا تھا
اور پھر آنکھیں موندے لیں۔۔۔
………………………………………………………………………
وہ کافی دیر تک اس کا انتظار کرتی رہی لیکن وہ نہیں آیا تھوڑی دیر بعد ہالے نے آکر اسے آرام کرنے کو کہا کیونکہ زریان کا دوست دلشیر لا پتہ تھا اور وہ یہاں نیا تھا اس لیے روحان اور زریان بھیا انہیں ڈھونڈنے گئے ہیں
پھر وہ اٹھی اور ایک آرام دہ سوٹ نکال کر چینج کیا اور سونے کے لیے لیٹ گئی
………………………………………………………………………
روحان اور زریان الگ الگ اسے ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔۔۔
اس کا نمبر بھی بند تھا اچانک زریان کے نمبر پرایک کال آئی
کیا لیکن کہاں ہم آرہے ہیں ۔۔۔بس اتنا کہہ کر کال بند کی اور روحان کو کال ملائی۔۔۔جو دوسری ہی بیل پر اٹھالی گئی تھی اسے ایڈریس سمجھا کر جلدی پہنچنے کا کہا اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی
دونوں گاڑیاں ایک ساتھ ہی ہسپٹل کے حدود میں داخل ہوئی تھی
جلدی سے وہ اندر داخل ہوئے تو سامنے ہی ایک بوڑھا آدمی اور ان کا گارڈ کھڑا تھا ۔۔۔ کیا ہوا ہے دلشیر کو ٹھیک ہے نا زریان بے تابی سے پوچھنے لگا سر ابھی ان کا آپریٹ ہو رہا ہے دلشیر سر کی حالت بہت خراب ہے
جب ہم ان کو ڈھونڈ رہے تھے تو شہر جانے والے راستے میں یہ شخص دلشیر سر کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔گارڈ نے بوڑھے شخص کی طرف اشارہ کیا
بوڑھا بچارا خود ہی ہاتھ جوڑ کے کھڑا ہو گیا اور سب بتاتا چلا گیا ۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی ڈاکٹر او ٹی سے باہر آیا
ڈاکٹر دلشیر کیسا ہے وہ ٹھیک ہے نا روحان نے بے چینی سے پوچھا
دیکھیں پیشنٹ کا کافی خون بہہ گیا اور ایک ٹانگ اور بازو میں بھی بہت گہری چوٹیں آئی ہیں
یہ سب تو پھر بھی ریکور ہو جائے گا لیکن پیشنٹ بلکل ریسپونس نہیں کر رہا جیسے وہ جینا ہی نہیں چاہتے ہو
ہم نے انکا آپریٹ کر دیا ہے لیکن اگلے چوبیس گھنٹوں میں ان کا ہوش میں آنا ضروری ہے ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔
ڈاکٹر کہہ کر چلا گیا تو وہ دونوں بھائی ہی پریشان ہو گئے
ایسا کیا ہوا ہے کہ وہ جینا نہیں چاہتا وہ تو اتنا ہنس مکھ ہے کیا دبئی میں ایسا کچھ ہوا تھا جس سے وہ پریشان ہو
زریان نے پریشانی سے پوچھا
نہیں بھائی جب ہم گاؤں پہنچے تھے تب تک بھی وہ ٹھیک تھا بلکہ خوش تھا اسے گاؤں دیکھنے کا بہت شوق تھا
لیکن اچانک پتہ نہیں کیا ہو گیا۔۔۔ہاں لیکن وہ ملائکہ سے رشتہ ختم کرنا چاہتا تھا کیونکہ اسے کسی سے محبت ہو گئی تھی اور اس بات کو لے کر بھی وہ بہت خوش تھا اس کا کہنا تھا کہ واپس جانے سے پہلے وہ اپنے فادر سے بات کرے گا اور اس لڑکی کے گھر رشتہ لے کر جائے گا ۔۔
اس نے ساری تفصیل زریان کے گوش گزار دی۔۔۔
زریان اس کا عزہ کی طرف دیکھنا ٹھٹھکنا اور ازیت اور ظبط سے لال ہونا سب دیکھ چکا تھا لیکن وہ اپنی غلط فہمی سمجھ رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن اب اسے ایک سیکنڈ لگا تھا سب سمجھنے میں
تو کیا وہ اس کی بہن کو چاہنے لگا تھا
وہ تو کھلی کتاب کی طرح صاف تھا ان کے سامنے اگر ایک بار یہ رشتہ آتا تو وہ سوچنے میں بھی ٹائم ضائع نہیں کرتے اتنا یقین تھا ان کو زریان میں
کاش دلشیر تم نے ایک بار تو مجھے بتایا ہوتا تم سے بڑھ کر نہیں تھا عاشر مجھے یار۔۔۔
تکلیف سے اس نے آنکھیں میچ لیں ۔۔
روحان کال کر کے اس کی فیملی کو انفارم کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
