Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

ناول :دل سکون.

رائٹر: زرناب چاند

قسط:تینتیس


جب زریان فارغ ہوکر کمرے میں آیا۔۔۔۔ تو آنا چینج کر کے سو چکی تھی ۔۔۔۔وہ بھی وارڈروب سےاپنا سادہ سا ٹراؤزر شرٹ لئے فریش ہونے چلا گیا
آدھے گھنٹے بعد فریش سا باہر آیا اور بیڈ پر اس کے ساتھ لیٹ کر اسے اپنی جانب کھینچا
آنا نیند میں بھی سر شار سی اس کے سینے میں چپ گئی
زریان نے بھی اپنی متاعِ جاں کو سینے سے لگا کر آنکھیں موندے لیں ۔۔۔۔۔

……………………………………………..

شادی کے ہنگاموں سے فارغ ہو کر وہ اب کمرے میں آیا تھا یہی تو وہ وقت ہوتا تھا
جب وہ اس سے گھنٹوں اپنی خیالی دنیا میں باتیں کرتا تھا
اس سے شکایتیں کرتا تھا۔۔۔۔۔
وہ نا چاہتے ہوئے بھی اسے سوچنے سے خود کو روک نہیں پاتا تھا۔۔۔۔ اپنی کم مائیگی پر اکثر اس کی آنکھیں نم ہو جاتیں تھیں ۔
ماما اسے بار بار شادی کا کہہ رہی تھی وہ ایک ماں ہو کر اپنے بیٹے کی اجڑی حالت برداشت نہ کر پا رہی تھی۔۔۔۔
لیکن اس کا دل عزہ کے علاوہ کسی اور کا سوچ کر ہی رکنے لگتا تھا۔۔۔۔۔
آج کی رات بھی اس نے آنکھوں پر گزاری تھی اسے ایک پل بھی سکون نہیں تھا پوری رات سگریٹ پھونکتے گزری اس نے فجر کے وقت وہ حویلی سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
اس وقت سب سو رہے تھے وہ بس کچھ وقت کے لیے وہاں سے دور جانا چاہتا تھا یہاں آکر اس کی تکلیف مزید بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔۔

اگر بات دوستی کی نہیں ہوتی تو وہ کبھی نہیں آتا لیکن بھائی سے بڑھ کر دوست کے لیے اس نے اپنی تکلیف پس پشت ڈال دی تھی۔۔۔
وہ اس وقت کھیت میں بیٹھا ایک چھوٹے سے بھینچ پر بیٹھا تھا
اس نے موبائل نکالا اور ایک سیکریٹ فولڈر سے ایک تصویر نکالی
یہ تصویر اس وقت کی تھی جب وہ اسے زریان کے ساتھ نظر آئی تھی
وہ ایسی غیر اخلاقی حرکت کرنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن یہ ایک بے خیالی میں سرزد ہوا عمل تھا بعد میں اسے اپنی اس حرکت پر بہت افسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔

لیکن آج درد نا قابل برداشت تھا بس دل کے سکون کے لیے وہ تصویر نکال کر دیکھنے لگا۔۔۔۔
کتنے ہی آنسو نکل کر موبائل کی اسکرین پر گر کے اسے بھگا گئے لیکن۔ اس کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا نا جانے وہ کہاں نکل گیا تھا۔۔۔
جانے کتنا وقت گزر گیا دور کہیں مسجدوں سے آزان کی آواز آنے لگی لیکن اس کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا ۔۔۔۔

اپنے کندھے پر کسی کا لمس محسوس کر وہ ہوش میں آیا
آس پاس دیکھا تو ہلکی ہلکی روشنی ہو رہی تھی
اس نے ایک نظر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا جو اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہے تھے
سفید شلوار قمیض میں سر پر ٹو پی پہنے سفید داڑھی میں وہ ایک ضعیف شخص تھے جن کے چہرے پر الگ ہی نور تھا

لگتا ہے تھک گئے ہو بیٹا ۔۔۔۔۔۔انہوں نے ہونٹوں پر شفقت بھری مسکراہٹ لئے دلشیر کو دیکھا۔۔۔۔۔
بہت زیادہ۔۔۔۔۔اس نے ٹرانس کی کیفیت میں جواب دیا
کیا بہت زیادہ محبت ہے اس سے ۔۔۔۔چہرے ہر اب بھی مسکراہٹ تھی۔۔۔
شاید محبت سے بہت زیادہ ۔۔۔۔۔
تو کیا اللّٰہ سے اسے نہیں مانگا ۔۔
مجھے لگا تھا وہ مجھے مل جائے گی میں نے مانگنے میں دیر کردی اللّٰہ نے اسے کسی اور کے دسترس میں دے دیا۔۔۔۔
اس کے لفظوں میں برسوں کی تھکاوٹ تھی۔۔۔
تو کیا تم چاہتے ہو وہ تمہیں مل جائے۔۔۔۔

نہیں میں بس اسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں مجھے اس کے آنسو تکلیف دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جب اس کو پریشان دیکھتا ہوں میرا دل بند ہونے لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔میں اپنی اس بے چینی کو ختم کرنا چاہتا ہوں میں بس صبر چاہتا ہوں میرے اس تڑپتے دل کا سکون چاہتا ہوں۔۔۔۔۔وہ جیسے بے بسی سے گویا ہوا۔۔۔۔
اسے پکارو سکون تو صرف اس کی زات میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس شخص نے بہت عاجزی سے کہا۔۔۔۔
کہاں ۔۔۔۔دلشیر نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔
اس پاک زات کو گھڑ گھڑا کر چپکے چپکے پکارو ۔۔۔۔۔

اس سے کلام کرو اس کا زکر کرو وہ واحد ہستی ہے جو تمہیں خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا ۔۔۔۔۔۔۔
نا تمہارا مزاق اڑانے گا وہ سنے گا تمہاری ہر بات۔۔۔۔۔جو تمہیں تکلیف دیتی ہے وہ تمہارے دل کو سکون پہنچائے گا

وہ تمہارا دل غموں سے آزاد کر دے گا۔۔۔۔

بے شک اس کے زکر کے علاؤہ کہیں سکون نہیں ۔۔۔۔
اور صبر سے کام لو اللّٰہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔۔۔۔۔
وہ فرماتا ہے یہ سختی بس کچھ وقت کی بات ہے
صبر کر لو میں صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہوں۔۔۔۔۔

وہ شخص بہت ٹہر ٹہر کر اپنے الفاظ ادا کر رہے تھے ہونٹوں پر وہی پھر شفقت مسکراہٹ رقصاں تھی

دلشیر کسی ٹرانس کی کیفیت میں ان کی باتیں سنتا گیا
انکا ایک ایک لفظ اسے اپنے دل میں اترتا محسوس ہوا وہ اٹھا اور اسی ٹرانس میں مسجد کی طرف چلتا گیا

…………………………………………………

وہ اس وقت مسجد میں اللّٰہ کے خضور سجدے میں تھا
یہی ایک جگہ تو تھی جہاں اسے سکون ملتا جہاں وہ اپنا ہر غم کھل کر بیان کر سکتا تھا اللّٰہ تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے وہ اس کے ہر حال سے واقف تھا لیکن اس نے دیر نہیں کی تھی وہ لوٹ آیا تھا اپنے پاک زات کی طرف

اس نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔۔۔۔وہ بس خاموشی سے سجدے میں پڑا رہا آنسو آنکھوں سے جاری تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی روشنی پر وہ مسجد سے نکلا اور حویلی کے راستے
پر نکل گیا آج ایک عرصے بعد اسے اپنے دل ودماغ پر سکون محسوس ہوا۔۔۔۔
وہ جب حویلی پہنچا تو سب جاگ رہے تھے روحان اور ہالے کے علاو وہاں سب تھے عزہ اور عاشر بھی وہاں موجود تھے لیکن اس نے ایک غلط نگاہ بھی ان پر نہیں ڈالی ۔۔۔۔
بی جان نے اسے ناشتے کا کہا تو اس نے صرف کافی کا کپ اٹھایا اور روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔

عاشر نے نظروں سے اوجھل ہونے تک اسے پر سوچ نظروں سے دیکھا ۔۔۔

رات عاشر نے اسے کچھ نہیں کہا تھا بلکہ خاموشی سے کمرے میں آکر سو گیا تھا
اس کے اندر جو ڈر تھا وہ بھی چلا گیا صبح سے بھی وہ نارمل تھا ۔۔۔عزہ کے دل میں ڈھیروں سکون اتر گیا ۔۔۔
کیونکہ وہ اپنی فیملی کے سامنے کوئی بھی تماشہ نہیں چاہتی تھی وہ اپنی وجہ سے انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔

………………………………………………….

صبح جب روحان کی آنکھ کھلی وہ اپنے بکھرے حلیے میں اسی کے سینے میں سر چھپائے سو رہی تھی چہرہ اب بھی گلال تھا
روحان کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا وہ جھکا اور اس کی ناک پر لب رکھے۔۔۔۔۔
وہ نیند میں کسمسائی اور کروٹ بدل گئی۔۔۔۔۔۔روحان نے اسے کھینچ کر اپنے پاس کیا اور اس کے کندھے سے شرٹ ہٹا کر وہاں جا بجا اپنا لمس چھوڑنے لگا
ہالے جو گہری نیند میں تھی اس کے لمس پر جھٹ سے آنکھیں کھولیں اور اسے دیکھنے لگی اسے شرٹ لیس دیکھ جیسے جیسے اسے گزری رات کا لمحہ لمحہ یاد آتا گیا اس کا چہرہ خطرناک حد تک لال ہو گیا اس کا دل کیا خود کو وہاں سے غائب کر لے۔۔۔۔

روحان نے مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اسکے کندھے سے بال ہٹا کے اپنے لب رکھے
ہالے کے دل کی دھڑکنیں بڑھتی گئی۔۔۔۔۔
اس نے مضبوطی سے سہارے کے لیے روحان کو کندھے سے تھام لیا ۔۔۔۔۔روحان جھکا اور اس کے ماتھے پر لب رکھے۔۔۔
وہ شرم کے مارے اسی کے سینے میں منہ چھپا گئی۔۔۔۔

اسکی حرکت پر روحان نے اپنی مسکراہٹ چھپائی وہ واقع اس کے سامنے ایک چھوٹی بچی تھی جو اس سے بچنے کے لیے اسی کے سینے میں پناہ ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔۔
۔
اس نے ہالے کا چہرہ اپنے سینے سے نکالا اور ب باری باری اسکے دونوں گالوں پر لب رکھے اس کے اندر خمار سا بڑھتا جا رہا تھا
ہالے نے زور سے آنکھیں میچی وہ اپنی سانسیں تک روک گئی اس میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ اسے خود سے دور کر پاتی۔۔۔۔

اس کے گالوں کی سرخی نے روحان کو مزید بے خود کیا
وہ اسکے کان کی سرخ ہوتی لو کو اپنے دانتوں میں ہلکا سا دباتا اسکی روح تک کھینچ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ رات کی طرح اس کی جان ہلکان کرتا
دروازے کی آواز پر سخت بدمزہ ہوا
اور مڑ کر وال کلاک پر ٹائم دیکھا تو صبح کے نو بج رہے تھے
وہ اس سے زرا دور ہوا۔۔۔
اس پر کمبل درست کرتا اپنی شرٹ پہنی اور دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھولا تو سامنے آنا مسکراتے ہوئے کھڑی تھی ۔۔۔
وہ بلکل دروازے کے سامنے کھڑا ہو گیا تاکہ وہ پیچھے نا دیکھ سکے۔۔۔۔

جی فرمائیں سالی صاحبہ کیسے آنا ہوا آپ کا آنکھوں میں شرارت رقصاں تھی ۔۔۔۔۔
دیور جی زرا اپنی نئی نویلی دلہن کو لے کر نیچے آجائیں سب ناشتے میں آپ دونوں کا انتظار کر رہےہیں ۔۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے کہہ کر واپس چلی گئی ۔۔۔
روحان دروازہ بند کرتا اندر آیا تو وہ خود کو کمبل میں چھپائے سمٹی سی لیٹی تھی۔۔۔۔۔۔۔
روحان نے کبرڈ میں سے ایک گلابی شیفون کا ہلکے کام کا سوٹ نکالا اور واش روم میں جا کر ہینگ کر دیا اور اپنے لیے ایک براؤن کلر کا شلوار سوٹ نکالا اور واش روم میں گھس گیا ۔۔۔۔

وہ جب نہا کر واپس آیا تو ہالے ابھی تک ویسی ہی لیٹی تھی ۔۔۔۔ہالے آٹھ جاؤ جلدی نیچے جانا ہے واش روم میں تمہارا ڈریس پڑا ہے فریش ہو کر آجاؤ میں باہر جا رہا ہوں

اس نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ رد کیا اور باہر نکل گیا تاکہ وہ آرام سے تیار ہو جائے اس نے شاید ضرورت سے زیادہ تنگ کر دیا تھا اسے۔۔۔
وہ سب سے پہلے دلشیر کے کمرے میں گیا تو زریان اس کے بیڈ پر بیٹھا تھا اور دلشیر پیکنگ کر رہا تھا۔۔۔
اوہ بھائی کہاں کی تیاری ہے ۔۔۔۔۔۔وہ دلشیر کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
رات تمہارا ولیمہ اٹینڈ کر کے نکلنے کا ارادہ ہے میرا ۔۔۔۔۔دلشیر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔
کہیں نہیں جا رہے تم اگلے ایک ہفتے تک ۔۔۔۔۔روحان نے اکڑ لہجے میں کہا۔۔۔۔
روحان اسے جانے دو ویسے بھی گھر میں آنٹی انکل انتظار کر رہے ہیں وہاں ایک دو دن گزار کر وہ واپس دبئی چلا جائے گا۔۔۔۔۔زریان نے اسے سمجھایا
اس نے ہنکار بھرا اور سر ہلایا دیا۔۔۔۔
اور زبردستی اسے لے کر ناشتے کے ٹیبل پر اگیا ۔۔۔۔۔۔جہاں سب لوگ موجود تھے وہ بلکل عاشر کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
عزہ بلکل اس کے سامنے والی چئیر پر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
لیکن اب کی بار بھی دلشیر نے اسے نہیں دیکھا وہ کسی اور کی امانت تھی ۔۔۔۔اور اس کی غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی تھی کہ وہ بے باکی سے اسے گھورتا رہے ۔۔

زریان اور روحان بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد آنا کے ساتھ گلابی جوڑے میں شرمائی سی ہالے نیچے آئی اس کا چہرہ پوری طرح جھکا ہوا تھا اور چہرہ لال تھا
بی جان نے اٹھ کر اس کی بلائیں کی اور اس کا ماتھا چوم ڈالا تھا وہ اور شرما گئی۔۔۔سب کے دلوں میں ڈھیروں سکون اتر گیا ۔۔۔۔
آنا نے اسے روحان کے ساتھ والی چئیر پر بٹھا دیا۔۔۔۔۔۔
زریان کو آنا پر بے ساختہ پیار آیا وہ ایک بہو ہونے کے سارے فرائض بخوشی نبھا رہی تھی ۔۔۔اور فائزہ بیگم کا ہر کام میں ہاتھ بٹا رہی تھی ۔۔۔

فائزہ بیگم نے آنا کو اپنے ساتھ بٹھایا اور ناشتہ کرنے لگے۔۔۔۔
تمہاری بزنس کیسا چل رہا ہے عاشر نے ناشتے کے دوران زریان نے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔
اس کی بات پر عاشر گڑ بڑا گیا۔۔۔جی جی اچھا چل رہا ہے لیکن ابھی اسٹارٹ ہے تو اس میں کافی کام رہتا ہے ۔۔۔
اس کی گھڑ بڑاہٹ سب نے نوٹ کی تھی لیکن اگنور کر دیا۔۔۔
باقی کا ناشتہ سب نے خاموشی سے کیا

ہالے نے مشکل سے دو تین نوالے لئے شرم سے اس سے نظر اٹھانا بھی مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
ناشتے کے بعد زریان روحان اور دلشیر کے ساتھ زمینوں پر نکل گیا

بی جان نے ہالے کو آرام کرنے بھیج دیا تاکہ وہ ولیمہ میں فریش نظر آئے ۔۔۔۔۔
سب شام کی تیاری کرنے لگے ۔۔۔۔۔

………………………………………………………………….

بلیک کام دار پلازو سوٹ میں وہ فائزہ بیگم اور بی جان کے ساتھ مہمانوں کو ویکم کر رہی تھی ۔۔۔
ولیمہ کا انتظام فارم ہاؤس میں کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ہر طرف تازہ خوبصورت پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔

کاٹن کے لیمن کلر کے نفیس سوٹ میں فائزہ بیگم بہت گریس فل لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
سامنے سے زریان کے ساتھ رائمہ بیگم کو آتے دیکھ وہ بھاگتی ہوئی ان کے گلے لگی ۔۔۔۔ان پانچ مہینوں میں وہ بس بیچ میں ایک بار ان سے ملی تھی اور آج تین مہینے بعد وہ ان سے ملی تھی اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھی۔۔۔

آنا کو خوش دیکھ کر رائمہ بیگم کے دل میں سکون سا اتر گیا آج انہیں اپنے فیصلے پر فخر ہوا تھا انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے ایک شہزادے کو چنا تھا جو اپنے رشتوں کو محبت سے لے کر چلنا جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔

آج پہلی بار وہ بی جان سے ملی انہوں نے بھی رائمہ بیگم کو گلے لگایا پچھلی کوئی بات انہوں نے نہیں کی آنا کی ماں کی حیثیت سے وہ سب سے ملی سب نے ان کو بہت عزت دی ۔۔۔۔۔۔۔رائمہ بیگم کے ساتھ رشیدہ اور اس کی بیٹی بھی ساتھی تھی۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔