Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 40(Last Part 1)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 40(Last Part 1)
ناول: دل سکون.
رائٹر: زرناب چاند
قسط: چالیس
شام چھ بجے کا وقت تھا وہ بی جان کے ساتھ باہر گارڈن میں چہل قدمی کر رہی تھی ۔۔۔
کچھ دنوں سے بی جان کا شوگر بڑھ گیا تھا جس کی وجہ سے ڈاکٹر نے انہیں زیادہ سے زیادہ چہل قدمی کا کہا تھا۔۔۔
تمنے میرے پوتے کو معاف کر کے بہت اچھا کیا۔۔۔۔بی جان نے اس کو محبت سے دیکھتے کہا ۔
میں نہیں جانتی بی جان جو کچھ یہاں ہوا تھا وہ سچ تھا یا جھوٹ لیکن میرا دل کہتا ہے وہ ہالے کے ساتھ بے وفائی نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔
آپ ہی تو کہتی ہیں نا ایک لڑکی کا شوہر ہی اس کا محافظ ہوتا ہے۔۔۔۔تو وہ کیسے میرے ساتھ کچھ غلط کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں ان کا یقین کروں وہ اب کبھی مجھے تکلیف نہیں دیں گے۔۔۔۔اس لئے میں اپنے گزرے ہوئے کل کی وجہ سے آج برباد نہیں کر سکتی۔۔۔۔
وہ جتنی سمجھداری سے بولی تھی ۔۔۔بی جان تو ورطہ حیرت میں مبتلا ہوگئی۔۔۔۔اور جب ہوش آیا بے ساختہ اس کو گلے لگا لیا یہ ان کی وہ پوتی تو لگ ہی نہیں رہی تھی جو ان کے لاڈلے پوتے کو سب کے سامنے شرمندہ کرتی رہتی تھی۔۔۔۔۔
ہائے میرا بچہ اتنی سمجھدار ہو گئی۔۔۔میں تو فائزہ کو یونہی ڈانٹا کرتی تھی ۔۔۔۔آج تم نے مجھے دس سال اور جوان کر دیا۔۔۔۔بی جان خوشی سے پر مسرت لہجے میں بولیں تھیں ۔۔۔۔۔اس کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔
ابھی وہ کچھ کہتی پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز پر مڑ کر دیکھا تو روحان تھا۔۔۔۔اس نے صبح سے اب دیکھا تھا اسے
گزری رات یاد آتے ہی پلکیں لرز گئی۔۔۔
ابھی اس نے اپنی پلکیں جھکائیں ہی تھی کہ دوبارہ حیرت سے اتنی جلدی نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا۔۔۔
روحان کے ساتھ وہی زائش ہی تھی اور اس کی گود میں ایک چھوٹا سا بچہ بھی تھا ۔۔۔۔
اس کی آنکھیں دیکھتے ہی دیکھتے آنسؤں سے بھر گئی۔۔۔۔اس لڑکی نے آکر بی جان کو سلام کیا جتنی بے باک وہ اس دن لگی تھی آج اتنی ہی شرمندہ نظر آرہی تھی شاید روحان نے اسے اپنے ساتھ سب سکھا دیا تھا۔۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے جو سمجھداری کی بات کر رہی تھی سب دھری کی دھری رہ گئی۔۔۔۔اور اس کا دل روحان سے بدگمان ہونے لگا ۔۔۔
اپنی محبت کے پہلو میں کسی اور کو دیکھنا کسی کے بھی بس کی بات نہیں ہوتی ۔۔۔وہ تو پھر اس کی کم عمری کی پکی محبت تھا۔۔۔
ابھی وہ واپس اندر چلی جاتی کہ زائش نے اسے پکار لیا۔۔۔
کیسی ہو ہالے ۔۔۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی وہ رک گئی آنکھیں بار بار دھندلی ہو رہی تھی۔۔۔
م میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔
ارے بیٹا چلو اندر چل کر بیٹھو۔۔۔بی جان زائش کو لئے اندر بڑھ گئی۔۔۔۔
لیکن ہالے وہی کھڑی اس کو اندر جاتے دیکھتی رہی۔۔۔۔۔یہاں کیوں کھڑی ہو۔۔۔۔روحان گاڑی پارک کر کے آیا تو وہ وہی کھڑی تھی ابھی تک۔۔۔۔
اس نے روحان کی طرف دیکھا۔۔۔۔ان آنکھوں میں ٹوٹے مان کی کر چیاں تھی۔۔۔۔۔وہ تو اسے طلاق دے چکا تھا اور اس نے کل رات ہی تو کہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں پھر کیوں لایا تھا وہ اسے حویلی۔۔۔۔
روحان نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔۔۔وہ اس کی آنکھوں میں موجود ہر سوال جان چکا تھا۔۔۔۔تمہیں اپنے روحان پر بھروسہ ہے نا میں سب ٹھیک کر دوں گا۔۔۔۔
ہالے نے کچھ نہیں کہا بس وہ چپ چاپ کھڑی رہی۔۔۔۔
روحان اسے اپنے ساتھ لگائے اندر بڑھ گیا۔۔۔۔
……………………………………………………………………………………
سب لاؤنج میں بیٹھے تھے زریان شام کو ہی شہر جا چکا تھا کیونکہ کل دلشیر اور عزہ کا ولیمہ تھا اور اور وہ اس کی مدد کرنا چاہتا تھا باقی حویلی والوں نے صبح نکلنا تھا۔۔۔لاؤنج میں بلکل خاموشی تھی سب زائش کے بولنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔
بولو بیٹا ہم سن رہے ہیں آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔دادا جان نے زائش سے کہا۔۔۔۔
جی اس کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی وہ شرمندگی سے نظریں تک نہیں اٹھا پا رہی تھی۔۔۔
میں میں یونیورسٹی میں روحان کے ساتھ پڑھتی تھی ۔۔۔
وہاں میری روحان سے دوستی ہو گئی۔۔۔۔۔
یہ بات میری مام کو پتہ تھی۔ اُنہوں نے مجھے روحان کو اپنے پیار میں پھنسانے کا کہا کیونکہ وہ ہم سے بہت زیادہ امیر تھا۔۔۔۔۔۔
یہ الفاظ ادا کرتے اس نے شرمندگی سے سب کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
لیکن میں اپنے ہی ایک کلاس فیلو سے محبت کرنے لگی تھی وہ بھی میرے ساتھ بہت سنسئیر تھا لیکن وہ بہت غریب تھا وہ اسکالرشپ بیس پر وہاں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔۔۔
جب مام کو یہ بات پتہ چلی تو اُنہوں نے بہت ٹارچر کیا مجھ پر وہ کسی سورت نہیں چاہتی تھی کہ میں فیضان سے شادی کروں ۔۔۔۔پھر میں ان کے کہے کہ مطابق روحان
کو پھنسانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
۔۔۔میں روحان کے سامنے بلکل روحان کی مطابق چلنے لگی۔۔۔اور ہر چیز اس کی مرضی سے کرنے لگی وہ بھی یہ سب نوٹ کرنے لگا۔۔۔۔ایک دن میں نے اسے مام کے کہنے پر پرپوز کر دیا۔۔۔۔
اور اس نے میرا پرپوزل ایکسپٹ بھی کر لیا۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس نے ایک نظر ہالے کو دیکھا جو روحان کے ساتھ نظریں نیچے کئے بیٹھی تھی ۔۔۔
کیونکہ اس وقت روحان کا نکاح ہالے سے نہیں ہوا تھا۔۔۔
اس دوران میرا فیضان سے ریلیشن ویسا ہی تھا۔۔۔۔میں نے فیضان کو تب بھی نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔۔
آہستہ آہستہ روحان مجھے اگنور کرنے لگا۔۔۔۔پہلے تو میں نے محسوس نہیں کیا لیکن ایک دن مجھے اپنی پریگننسی کا پتہ چلا میں فیضان کے بچے کی ماں بننے والی تھی یہ بات مام کو بھی پتہ چل گئی ۔۔۔۔۔۔لیکن مام تب بھی میری شادی فیضان سے کروانے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔۔۔
ان کا کہنا تھا اگر میں نے ان کی بات نہیں مانی تو وہ میرا ابارشن کروا دیں گی ۔۔۔۔فیضان سے بھی میرا رابطہ نہیں ہو پار رہا تھا اور میں اپنا بچہ نہیں کھونا چاہتی تھی۔۔۔
پھر انہوں نے روحان کو بلا کر جھوٹ موٹ کی کہانی سنائی اور میں نے خودکشی کی دھمکی دے کر اسے اتنا مجبور کر دیا کہ اسے سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا اور مجھ سے نکاح کرنا پڑا ۔۔۔۔۔
پھر میں نے مام کے کہنے پر اسے بے ہوشی کی دوائی دی کہ اسے صبح کچھ بھی یاد نا رہے اور میں اپنے بچے کو اس کا نام دے سکوں
لیکن صبح اٹھتے ہی روحان کو اس بات کا علم ہو گیا کہ میں نے اسے بے ہوشی کی دوائی دی تھی ۔۔۔۔اس نے مجھے طلاق دے دی ۔۔۔۔۔
مام مجھے وہاں سے لے کر چلی گئی۔۔۔لیکن جب ان کو پتہ چلا کہ روحان کی شادی ہے تو انہوں نے مجھے ایک نئے مقصد سے یہاں بھیجا تاکہ میں روحان کو برباد کر سکوں ۔۔۔۔
لیکن میں خود کٹ پتلی کی طرح استعمال ہوتے ہوتے تنگ آگئی تھی ۔۔۔۔جب روحان مجھے یہاں سے لے کر گیا تو سیدھا فیضان کے گھر لے کر گیا تھا جو برابر والے گاؤں میں ہی رہتا ہے ۔۔۔۔۔روحان میرے بارے میں سب پتہ کر چکا تھا اس لیے اسے فیضان کا بھی پتہ چل گیا تھا۔۔۔
پھر میں نے سارا سچ ان کے سامنے رکھ دیا میری اتنی غلطی اور گناہ کے بعد بھی فیضان نے مجھے دھتکارا نہیں اور مجھ سے نکاح کر لیا۔۔۔
پھر میں نے مام سے اپنا ہر رشتہ ختم کر دیا ۔۔۔۔اور آج میں اپنے شوہر کے ساتھ اپنے گھر میں بہت خوش ہوں صرف اور صرف روحان کی وجہ سے ۔۔۔۔۔
میں آپ سب سے معافی مانگتی ہوں جو کچھ بھی میں نے کیا ان سب کے لیے مجھے معاف کر دیں وہ روتے ہوئے سب سے معافی مانگنے لگی۔۔۔۔
فائزہ بیگم نے آگے بڑھتے دل بڑا کر کے اسے معاف کر دیا۔۔۔اب جب سب صحیح ہو رہا تھا تو وہ لوگ کیوں پرانی باتیں دل میں رکھتے۔۔۔
وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہالے کے پاس آئی۔۔۔میں سب سے زیادہ گنہگار تمہاری ہوں پلیز مجھے معاف کر دو کہ میرے اندر سے یہ پچھتاوا تھوڑا کم ہو جائے ۔۔۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ میری جوانی کے کئے گناہ میر بچے کے سامنے آئے پلیز مجھے معاف کر دو۔۔۔۔وہ ہاتھ جوڑے ہالے سے بولی تو ۔۔۔وہ نرم دل لڑکی کب تک اپنا دل سخت کر سکتی تھی ۔۔۔۔اسے سینے سے لگا کر معاف کردیا۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد فیضان آکر اسے لے گیا تھا ۔۔۔۔۔
آج سب کے دل صاف ہو گئے تھے ۔۔۔۔
دادا جان نے ایک گہری سانس لی اور اللّٰہ سے اپنے بچوں کی خوشیاں قائم رکھنے کے دعا کی۔۔۔
……………………………………………………………………..
آج ان کا ولیمہ تھا شہر کے سب سے بڑے بینکوئٹ میں سارا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔۔حویلی کا ہر فرد یہاں موجود تھا وہ آنکھوں میں شکوہ لئے سب سے ملی ۔۔۔۔لیکن زبانی شکوہ کرنے کی ہمت اس میں اب بھی نہیں تھی ۔۔
کل رات دلشیر اس کے سونے کے بعد آیا تھا اور اس کے سونے کے بعد اٹھ کر چلا گیا تھا شاید ولیمہ کی تیاری میں بزی تھا
سلور گرے میکسی میں بھاری زیورات پہنے وہ دلشیر کے ساتھ کھڑی بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
دلشیر اور بہرام نے بھی اسی کے ڈریس کے ساتھ میچنگ میں تھری پیس سوٹ پہنا تھا ۔۔۔۔
عائزہ بیگم اور مسٹر خان نے ان سب کو ہاتھوں ہاتھ لیا تھا
سب زریان کے اس فیصلے سے مطمئن تھے ۔۔۔۔
دلشیر کی آنکھوں میں موجود عزہ کے لیے محبت اور عزت دیکھ سب کا دل خوشیوں سے بھر گیا تھا۔۔۔۔
انہیں امید تھی محبت سے گوندھی ان کی عزہ بھی بہت جلد اس کو دل سے قبول کر لیں گی۔۔۔۔
بلیک ساڑھی میں بلیک ہی ہیل پہنے خوبصورتی سے کئیے میک اپ میں ایک ادا سے اس کی طرف اتی وہ ملائکہ ہی تھی ۔۔۔۔
وہ جو اطمینان سے دلشیر کے ساتھ بیٹھی تھی ملائکہ کو اپنی طرف آتے دیکھ وہ گھبرا گئی۔۔۔۔اس کے ہاتھ پیر کانپنے لگے۔۔۔۔۔چہرے پر خوف واضح تھا ۔۔۔۔۔وہ ایک طلاق سے ہی تو ڈرتی تھی اگر اس نے بھری محفل میں ملائکہ کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا تو۔۔۔۔اس سوچ سے آگے وہ سوچ ہی نہیں پارہی تھی۔۔۔
وہ آکر سیدھے دلشیر سے ملی۔۔۔کانگریجلیشنز۔۔۔۔دلشیر اس نے مسکراتے ہوئے دلشیر سے ہاتھ ملایا۔۔۔۔
تھینک یو ملائکہ میٹ مائی وائف عزہ دلشیر خان ۔۔۔۔۔اس نے عزہ کے گرد بازو پھیلا کر ملائکہ سے اس کا تعارف کروایا ۔۔۔۔۔۔
وہ جو گھبرا ہٹ کا شکار تھی اس کے اتنی اپنائیت پر اس شخص کو دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔کیا تھا وہ شخص۔۔۔
ملائکہ مسکرا کر عزہ سے بھی ملی اور بہرام کو بھی پیارا کیا ۔۔۔۔
آخر اللہ نے تمہیں اپنی محبت سے ملوا دیا۔۔۔۔تم تینوں ساتھ میں واقع مکمل لگ رہے ہو اس نے جاتے ہوئے ان کی تعریف کی۔۔۔عزہ اس کی بات پر حیران رہ گئی وہ کس محبت کی بات کر رہی تھی ۔۔۔۔۔پہلی بار اس رشتے کے حوالے سے لوگوں کے سامنے وہ گڑبڑائی تھی اور دلشیر سے اس کی یہ حالت برداشت نہیں ہو رہی تھی دل کر رہا تھا بس اس کے گال چوم لے۔۔۔۔لیکن ہائے رے۔ قسمت ۔۔۔صبر کا گھونٹ بھر کر رہ گیا۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد فوٹو سیشن کھانا سب سے فارغ ہو کر لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے تھے۔۔۔۔بس اب فیملی کے لوگ ہی رہ گئے تھے۔۔۔۔
بیٹا یہ تمہارے لیے ہے ہماری طرف سے ایک چھوٹا سا تحفہ۔
دادا جان نے ایک فائل دلشیر کی طرف بڑھاتے کہا۔۔۔تواس نےوہ فائل تھام لی۔۔۔۔
عزہ کا دل بہت پیچھے چلا گیا۔۔۔۔۔عاشر نے اس کے باپ کا دیا ہوا سب کھانے کے بعد بھی اسے عزت اور سکون کی نیند نصیب نہیں ہونے دی تھی۔۔۔
دلشیر نے وہ گائک کھول کر دیکھی۔۔۔۔۔اور مسکرا کر دادا جان کو واپس لوٹا دی۔۔۔۔معزرت کے ساتھ دادا جان لیکن میں آپ سے یہ نہیں لے سکتا آپ کی دعاؤں کے سوا م
ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں اور رہی بات تحفے کی ۔۔۔
دو دو قیمتی تحفے آپ لوگ پہلے ہی مجھے دے چکے ہیں اس کے علاوہ میرے نزدیک کسی تحفے کی کوئی اہمیت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
جس خوبصرت انداز میں اس نے دادا جان سے معزرت کی تھی سب کو زریان کے فیصلے فخر ہواتھا۔۔۔۔عزہ کے دل میں اس کے لیے عزت کئی گنا بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔
پہلی بار اس نے مسکراتے دلشیر کی طرف دیکھا تھا اور جب دلشیر کو خود کی طرف دیکھتے پایا تو گڑبڑا کر چہرہ پھیر لیا۔۔۔۔
لیکن دادا جان جاتے ہوئے زبردستی وہ فائل عزہ کو پکڑا گئے تھے۔۔۔۔وہ بیٹیوں کی حق تلفی کرنے کے حق میں بلکل نہیں تھے۔۔۔۔
سب لوگ واپس زریان کے بنگلے میں لوٹ گئے تھے لیکن آنا عزہ کے ساتھ دلشیر کے مینشن گئی تھی تاکہ اسے اپنے طور پر کچھ سمجھا سکے ۔۔۔۔۔۔ایک گھنٹے بعد ویسے بھی زریان نے اسے لے جانا تھا ۔۔۔۔
لیکن آج فائزہ بیگم بہرام کو لے گئی تھی کیونکہ وہ ان کی عادی ہو گئی تھی اس لیے آج وہ ان کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی کل تو ویسے بھی ان سب نے حویلی چلے جانا تھا۔۔۔۔
…………………………………………………………………
مجھ سے کیوں ناراض ہو عزو یار اس میں میرا کیا قصور ہے ۔۔۔۔ آنا نے اسے خاموش دیکھ کر پوچھا۔۔۔
میں بھلا کیسے ناراض ہو سکتی ہوں آپ سے ؟اس کا لہجہ ہر تاثر سے پاک تھا۔۔۔
تم مجھے بتاؤ دلشیر بھائی تمہارے ساتھ ٹھیک تو ہیں نا۔۔۔۔اس نے عزہ کے چہرے پر نظریں جمائے پوچھا۔۔۔۔
وہ میرے ساتھ اچھے ہیں لیکن میں ان کے قابل نہیں ہوں کاش آپ لوگ یہ بات سمجھ جاتے۔۔۔میں ایک طلاق یافتہ لڑکی ہوں معاشرے میں ایک طلاق یافتہ لڑکی کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے یہ بات آپ لوگ کیوں بھول گئے۔۔۔میرا ایک بیٹا بھی ہے کیا کسی اور کی اولاد کو اپنانا اتنا آسان ہوتا ہے۔۔۔۔۔
اور کہاں وہ نیک صورت کے ساتھ ساتھ نیک سیرت بھی تعلیم یافتہ اور سیٹل انسان ہیں کیا وہ مجھ جیسی استعمال شدہ لڑکی ڈیزرو کرتے ہیں کیا ان کو لڑکیوں کی کمی ہے نہیں بھابھی آپ نے میری زندگی بنانے کے چکر میں ان کی زندگی برباد کردیا اور اس بات کی ندامت مجھے کبھی ان کے سامنے سر نہیں اٹھانے دے گی۔۔۔۔۔
یقین کریں آگر ان کی جگہ آپ لوگ میری شادی کسی ڈرائیور کے بیٹے سے بھی کروا دیتے میں خوشی خوشی نبھا لیتی لیکن آپ سب نے مجھے اس انسان کے سامنے نظر اٹھا کر جینے کے قابل نہیں چھوڑا۔۔۔۔آپ جانتی ہیں ان تین دنوں میں ان کا رویہ بہرام کے ساتھ دیکھ میرا دل خون کے آنسوں رویا ہے ۔۔۔۔۔۔کیونکہ یہ سارے خواب تو میں نے عاشر کو لے کر دیکھے تھے کہ میرے بیٹے کو اپنے باپ کا پیار ایسے ہی ملے۔۔۔۔۔۔
لیکن جو پیار عاشر اسے نہیں دے سکا وہ سب دلشیر دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔
اور میں ان کی اور مقروض ہوتی جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ جب بولی تو اپنا دل کھول کر روتے ہوئے آنا کے سامنے رکھ دیا۔۔۔۔۔
اس کی ہر بات کافی لے کر آتی ہمنہ نے بخوبی سنی تھی ۔۔۔۔
تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے میرے بھائی نے تم پر احسان کیا ہے؟؟؟؟
وہ کمرے میں آتے ہوئے بولیں اس کی آواز پر آنا نے گھبرا کر دیکھا کہ کہیں ان کو عزہ کی باتیں بری نا لگی ہوں۔۔۔۔
وہ آنا کو کافی دیتے ہوئے ان دونوں کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔
بتاؤ عزہ اب کے وہ براہ راست عزہ سے مخاطب ہوئی تو وہ گھبرا گئی۔۔۔۔ہاں جب وہ دیار غیر میں تھی ایک ہمنہ اور اس کی ساس ہی تو تھی جن سے وہ اپنا دکھ بانٹ لیتی تھی اور وہ بھی اسکا بہت خیال رکھتے تھے لیکن یہاں معاملہ کچھ اور تھا ۔۔۔۔
جانتی ہو تم میرے بھائی کے دل تک رسائی کرنے والی پہلی لڑکی ہو۔۔۔۔۔یہ شادی ان کی منشاء پر ہوا ہے کوئی زبردستی نہیں اور ان کی محبت کو احسان کا نام مت دو۔۔۔۔ راتوں کو تہجد میں روتے دیکھا ہم نے انہیں تمہاری خوشی کے لیے۔۔۔
بہت عرصے بعد انہیں خوشیاں ملی ہیں تم یہ خوشیان ان کے ساتھ مل کر جیو۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی پچھلی محرومیوں کی سزا اس نئے رشتے کو مت دینا ورنہ تم دونوں بکھر جاؤگے۔۔۔۔۔
میں تمہیں ایک نند کی طرح نہیں بڑی بہن کی طرح یہی کہوں گی ۔۔۔کہ سمیٹ لو انہیں بہت لمبا سفر کر کے تم تک آئے ہیں ۔۔۔۔انہیں خود سے دور مت کرنا ۔۔۔۔۔۔
وہ کس محبت کی بات کر رہی تھی جو اسے نہیں پتہ۔۔۔۔
وہ خاموشی و حیرانگی سے ان کو دیکھتی رہی۔۔۔
عزو یار ہم سب تمہارے لیئے بہت خوش ہیں تو تم کیوں خود کیلئے گنجائش نہیں نکال رہی۔۔۔آنا نے بے بسی سے کہا۔۔۔
اپنے اندر سے ختم کردوں یہ احساس کمتری تم میں کس چیز کی کمی ہے بتاؤ خوبصورت ہو پڑھی لکھی ہو تم دلشیر بھائی کے ساتھ بلکل مکمل لگتی ہو یار۔۔۔۔ہمنہ نے بھی اسے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔۔
لیکن آپی۔۔۔۔میں طلاق یافتہ ہوں وہ مجھ جیسی لڑکی سے محبت کیسے کر سکتے ہیں ۔۔۔۔اس کی سوئی ابھی تک وہی اٹکے دیکھ ہمنہ اور آنا کو غصہ آگیا ۔۔۔۔۔گھور کر اسے دیکھا ۔۔
سب چھوڑو بس یہ بتاؤ ابھی تمہارا دلشیر بھائی سے کیا رشتہ ہے ۔۔۔۔۔سوال پوچھنے والی آنا تھی۔۔۔
و وہ میرے شوہر ہیں ۔۔۔۔اس نے جھجھک کر جواب دیا۔۔۔۔
تو قانونی و شرعی طور پر وہ تم پر پورا حق رکھتے ہیں تمہارا دل اس رشتے کو مانیں یا نا مانیں جو بھی ہو لیکن وہ تم سے کسی بھی وقت اپنا حق وصول سکتے ہیں اور تم انہیں اس بات کے لیے کبھی نہیں روک سکتی ورنہ تم شوہر کے ساتھ اللّٰہ کی نظروں میں بھی گر جاؤ گی ۔۔۔
باقی سب قسمت پر چھوڑ دو یہ بات تو تم بھی مانتی ہو کہ وہ عاشر کی طرح بلکل نہیں تو بس تم خود کو ایک بار پھر اللّٰہ کے سپرد کر دو سب اچھا ہوگا۔۔۔۔۔
آنا نے جس طرح کھلے لفظوں میں بات کی تھی وہ سٹپٹا کر نظریں جھکا گئی۔۔۔۔۔
آنا جانتی تھی ایک بار اس نے دلشیر کی خواہش کا احترام کیا تو وہ خود اسے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گا۔۔۔۔
ہمنہ کو بھی آنا کی بات صحیح لگی تھی۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی عزہ اور ہمنہ چلی گئی تھی۔۔۔۔وہ۔کمرے میں اکیلی رہ گئی ۔۔۔سوچ سوچ کر ہی اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا وہ بے چینی سے کمرے میں چکر لگاتی نظر آئی چہرے پر چہرے پر پریشانی واضح تھی۔۔۔۔
وہ اس کے پاس آیا ۔۔۔آپ ٹھیک ہیں کوئی پریشانی ہے کیا ۔۔۔اس نے تفکر سے پوچھا۔۔۔۔
اس کی آواز سن کر وہ مزید گھبرا گئی اور اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
وہ ابھی تک سلور گرے پینٹ اور شرٹ میں ہی تھا لیکن کوٹ شاید وہ باہر اتار کر آیا تھا۔۔۔۔وہ اس لمحے اسے بے انتہا ڈیشنگ اور پرکشش لگا۔۔۔۔۔اس کی نظریں خود پر محسوس کر کے دلشیر کے لب مسکرائے۔۔۔
اس کی مسکراہٹ پر عزہ ہوش میں آئی اور شرمندگی سے دل کو ڈپٹا جو بے قابو سا ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔
ایک عجیب سا احساس جاگا تھا دل میں جو اس نے کبھی عاشر کے لیے بھی محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔۔وہ وہاں سے مڑ کرجانے لگی۔۔۔کہ دلشیر نے اس بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا کہ وہ اس کے سینے سے ٹکرائی۔۔۔۔۔
اس اچانک افتاد پر عزہ نے سہارے کے لیے اس کی شرٹ دبوچ لی۔۔۔۔
اس نے ایک نظر اس کے نازک سراپے پر ڈالی جو اس کی اتنی سی قربت سے ہی گھبرا چکی تھی۔۔۔۔۔
آپ نے چینج کیوں نہیں کیا۔۔۔۔۔۔دلشیر نے اس کے چہرے کو انگلی سے چھوتے پوچھا۔۔۔۔
و وہ آپی آپی نے کہا چینج نہیں کرنا۔۔۔۔۔گھبراہٹ سے اس کی الفاظ نکلنے سے انکاری ہوئے ۔۔۔۔
ہمممم مطلب میری بہن بہت سمجھدار ہو گئی ہے ۔۔۔۔اس نے خمار آلود لہجے میں کہا اور جھک کر اس کے گال پر لب رکھے ۔۔۔۔
عزہ گھبرا کر اس سے دو قدم دور ہوئی اور سختی سے آنکھیں میچ لی۔۔۔۔
دلشیر نے درميانی فاصلہ عبور کرتے اسے دهكیل کر بیڈ پر گرایا وہ سٹپٹا گئی اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
اور گھبرا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔
اپنی لئے شرم و حیا کے رنگ دیکھ دلشیر سے مزید ظبط کرنا مشکل ہو گیا ۔۔۔۔وہ ایک گھٹنا فولڈ کئے اس پر جھکا
اور اس کے کانوں کی لو کو چوم لیا۔۔۔۔
عزہ نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا جہاں دل اتنی تیزی سے دھڑکنے لگا تھا جیسے کسی بھی وقت نکل کر باہر آجائے گا۔۔۔
آج کی رات کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ کو چینج کرواؤں۔۔۔۔۔
وہ اس کے کان کے قریب بھاری سرگوشی کرگیا۔۔۔۔۔عزہ نے گھبرا کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے دلشیر کو دیکھا ۔۔۔۔۔اسے اس قدر بے باکی کی امید نہیں تھی دلشیر سے اور اس کی بے یقینی دیکھ اس کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی۔۔۔۔
وہ جھک کر ان آنکھوں پر باری باری لب رکھ گیا۔۔۔۔۔
یہ سب عزہ کے لیے نیا تھا ۔۔۔۔!
بولو۔۔۔۔وہ خمار آلود لہجے میں اس سے استفسار کرنے لگا۔۔۔۔
ممجھے نہیں پتہ۔۔ آپ ۔۔کیا ۔۔کہہ رہے ہیں۔۔۔مجھ مجھے خود چینج کرنا ہے۔۔۔۔
وہ حلق تر کرتی جلدی سے بولی مبادی وہ واقع اسے چینج نا کروا دے ۔۔۔۔
جائیں چینج کر کے آئیں وہ اس پر سے اٹھا اور خود ڈریسنگ روم میں گھس گیا تاکہ وہ ایزی ہو جائے ۔۔۔۔
وہ کمرے میں لیٹ بھی اسی وجہ سے آیا تھا تاکہ وہ سوجائے اسے جاگتے دیکھ اسے خود پر ظبط کرنا مشکل ہو جاتا تھا بار بار دل کرتا تھا ایک بار اسے چھو کر دیکھ لے لیکن وہ اس کی مرضی کے بغیر ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈرتی ہوئی واشروم چلی آئی اسے لگ رہا تھا کہ دلشیر اس سے ناراض ہو کر گیا تھا ۔۔۔
اس نے آج دلشیر کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھی تھی اور اس کا دل خود سے باغی ہونے لگا تھا۔۔۔۔ایسے میں دلشیر کو کو ناراض کرنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
اس کی زندگی میں تین مرد آئے تھے۔۔۔۔۔
ایک وہ جس نے دشمنی کے لیے اسے بدنام کر دیا تھا۔۔۔۔
دوسرا وہ جو اس کا شوہر تو بنا تھا لیکن اس کی نسوانیت اور دل و دماغ پر درندگی کی ایسی چھاپ چھوڑ دی تھی جوآج تک وہ بھلا نہیں پائی تھی۔۔۔۔
تیسرا شخص دلشیر جس نے اس کی ادھورہ زات کو نا صرف اپنا بلکہ اس کی اولاد کو سگے باپ کی طرح معاشرے کے سامنے اپنایا تھا۔۔۔
اور کہا جاتا ہے ایک عورت کے دل کے بہت قریب ہوتا ہے وہ شخص جو اس کی اولاد سے محبت کرے ۔۔۔۔۔
اس لیے اس نے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے کا سوچ لیا تھا۔۔۔۔
وہ نا چاہتے ہوئے بھی دل کو بہت مظبوط کر کے ہمنہ کی دی ہوئی ریڈ کلر کی نائٹی پہن گئی ۔۔۔۔جو تھی تو سلک کی اندر والی بلکل شارٹ گھٹنوں تک تھی جسے ڈوری کندھوں سے باندھ رکھا تھا جس میں اس کا خوبصورت سراپا نمایا ہو رہا تھا۔۔۔۔شرم سے وہ لال ہوگئی۔۔۔۔۔
لیکن اس کے اوپر کے گاؤن سے پورا جسم چپ گیا تھا کوئی بے ہودگی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
وہ گھبراتی ہوئی باہر آگئی وہ سامنے ہی سیاہ ٹراؤزر اور بلیو ٹی شرٹ پہنے صوفے پر بیٹھا کسی سے کال پر بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔اسے واش روم سے نکلتے دیکھ وہ اپنی جگہ ساکت ہو گیا۔۔۔۔لال رنگ میں وہ گلاب بھی طرح کھل رہی تھی۔۔۔۔
وہ اس کی نظروں سے گھبرا کر جلدی سے بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔ابھی وہ خود پر کمفرٹر اوڑھتی کہ دلشیر کو اپنی طرف آتا دیکھ اس کے ہاتھ سے کمفرٹر چھوٹ کر گرا۔۔۔۔
وہ اگر سیدھا اسکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔۔۔عزہ نے اپنا حلق تر کیا لیکن پھر بھی اسے خود سے دور نہیں کیا ۔۔
یوں مت کریں جاناں میرا دل۔۔ بہک رہا ہے وہ اپنی شہادت کی انگلی اس کے گلے میں پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
عز کی پیشانی نم ہوئی اس نے گھبرائی نظروں سے اس کی خمار آلود آنکھوں میں دیکھتے اپنے سوکھے لبوں کو تر کیا اور یہی دلشیر کا ظبط جواب دے گیا
اور اسکے سر پر ہاتھ رکھ خود پر جھکائے اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لے گیا۔۔۔۔۔۔۔
عزہ۔کو لگا بس وہ کسی بھی وقت دنیا سے کوچ کر جائے گی ۔۔۔۔۔اگر اس کے لمس میں سختی نہیں تھی تو بے قراری بے انتہا تھی جو عزہ کے لیے برداشت کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
