Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20 (Part 1)

ناول ۔۔۔۔۔دل سکون

رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند

قسط بیس (پارٹ ون)

دادا جان کو بھی آنا بہت پسند آئی تھی انہوں نے اسے بہت پیار سے ٹریٹ کیا تھا وہ شرمندہ بھی تھے زریان کی زبردستی والی حرکت پر لیکن گزرا وقت واپس نہیں لا سکتے تھے۔۔
یہ سب دیکھ کر آنا کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھی وہ ان سے صرف نفرت کرنا چاہتی تھی لیکن بیک وقت نفرت اور محبت دونوں محسوس کر ہی تھی
ہم اگلے جمعے کو آپ کی شادی کی دعوت رکھنا چاہتے ہیں بیٹا آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں دادا جان نے اس سے پوچھنا ضروری سمجھا
اسنے چونک کر ان کی طرف دیکھا جو اسی کو غور سے دیکھ رہے تھے۔۔۔اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا
تو دادا جان نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا خوش رہو انہوں نے دعا دی۔۔۔
جاؤ بیٹا جو جو سامان چاہیے لسٹ بنا لو کل تک سب کچھ آ جائے گا عزہ اور ہالے سے بھی کہہ دیجئے گا ایک ہی بار میں سب لسٹ بنا لیں بار بار کوئی نہیں جائے گا
بی جان نے آنا سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
تو وہ بھی خاموشی سے اٹھ کر عزہ کے کمرے میں چلی گئ

………………………………………………………………………….

زریان نےآنا سے عاشر کے رشتے کا پوچھا تو اس نے مسکراتے ہوئے رضا مندی دے دی تھی زریان نے بہت پیار سے سمجھایا تھا کوئی زبردستی نہیں عزہ بیٹا آپ کا بھائی ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں آپ کو کوئی فورس نہیں کرے گا جس پر اس نے کہا تھا بھیا میں دل سے راضی ہوں آپ پریشان نا ہو میں خوش رہونگی ۔۔۔
اس نے بھی اپنی بہن کو ڈھیروں دعائیں دی تھی

عزہ کی طرف سے رضا مندی ملنے پر حویلی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی سارہ بیگم کے شوہر بھی آگئے تھے نیہا بھی سب سے نارمل تھی لیکن آنا سے اس نے کسی قسم کی بات نہیں کی

عاشر چاہتا تھا کہ جمعہ کو سب کے ساتھ اس کی بھی شادی ہو جائے کیونکہ عاشر کی جوب تھی اس نے چلے جانا تھا زریان اتنی جلدی کے لیے راضی تو نا تھا پھر سب کو خوش دیکھ کر وہ بھی راضی ہو گیا

وہ صبح سے روحان کو کال کر رہا تھا لیکن اس کا نمبر بند تھا اس نے دلشیر سے پوچھا تو پتہ کہ وہ ایک میٹنگ اٹینڈ کرنے گیا ہے تو اس نے بعد میں کال کرنے کا کہہ کر کال بند کر دی تھی دو دن ہو گئے تھے اسے یہاں آئے ہوئے اس کی بیوی سے اس کا سامنا نا ہونے کے برابر تھا کیونکہ وہ ہر وقت ہی عزہ اور ہالے کے ساتھ کمرے میں بند رہتی
شاید جان بوجھ کر اس سے چپ رہی تھی

بابا جان کی ناراضگی جوں کی توں تھی لیکن اس نے سوچا بیوی تو ہاتھ آ نہیں رہی پہلے باپ کو ہی منایا جائے اس لئے وہ مردان خانے کی طرف بڑھ گیا جہاں عالم صاحب کچھ لوگوں کے مسئلے سن رہے تھے وہ بھی سلام کرتا بابا کے پاس رکھے صوفے پر بیٹھ گیا لیکن عالم صاحب نے ایک غلط نگاہ بھی اس پر نہیں ڈالی اور اٹھ کر ان کے ساتھ حویلی سے ہی نکل گئے

……………………………………………………………….

جب سے ہالے کو پتہ چلا تھا سب کے ساتھ اس کی بھی رخصتی ہے تو وہ شرمائے جا رہی تھی لیکن اس کے چہرے سے خوشی بھی ظاہر ہو رہی تھی

ویسے عزہ ہالے کا دلہا کون ہے۔۔۔آنا نے ہالے کے شرمائے شرمائے روپ کو دیکھ کر عزہ سے پوچھا ۔۔۔

یہ چھوٹی سی لڑکی اسے بہت پیاری لگی تھی جو ہر وقت ہنستی مسکراتی رہتی تھی بے ساختہ اس نے دل میں نظر اتاری ان دونوں کے ساتھ وہ بہت خوش تھی

ویسے بھی اسے مسئلہ ان سے نہیں اپنے باپ اور دادا سے تھا

آپ کو نہیں پتہ بھابھی ہماری عزہ کس کی دلہن بننے والی ہے۔۔۔۔۔ عزہ نے حیرانگی سے دیکھا

نہیں نا اب بتاؤ بھی یار کیوں سسپینس ڈال رہی ہو
آنا نے اسے گھور کر دیکھا
بھابھی میں بھیا سے شکایت کر دوں گی نہیں کریں نا
ہالے کے منمنانے کی آواز پر دونوں نے اسے دیکھا جو اتنی سی بات پر لال گلابی ہو رہی تھی

ایک دم دونوں کا قہقہہ پورے کمرے میں گونجنے لگا دونوں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی
ہالے نے جب ان کو ہنستے دیکھا جھنجھلا کر کمرے سے ہی بھاگ گئی ایک بار پھر دونوں کی کلکلاہٹ کمرے میں گونجی
وہاں سے گزرتے دو لوگوں نے ان کی ہنسی سنی تھی
ایک کے دل میں سکون اترتا چلا گیا جبکہ دوسرے نے نفرت سے سر جھٹکا تھا

بھابھی ہالے کی شادی روحان بھیا سے ہو رہی ہے ۔۔۔۔آنا نے حیران ہو کر اسے دیکھا
لیکن روحان تو تمہارا سگا بھائی ہے نا جس سے میں ملی بھی تھی اس نے پوچھا۔۔۔۔
جی وہ میرے بھائی ہیں زریان بھیا سے دو سال چھوٹے ہیں ابھی وہ دبئی میں کسی کام سے گئے ہیں ۔
تو کیا ہالے تمہاری بہن نہیں ہےاس نے جلدی سے پوچھا

وہ تو اسے زریان کی بہن سمجھ رہی تھی اور سب لوگ اس چھوٹی سی لڑکی سے کتنا پیار بھی کرتے تھے تو اسے محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہ ان کی بیٹی نہیں ہے

نہیں ہالے ہمارے سکندر چاچو کی بیٹی ہے ۔۔۔۔۔۔
ہالے کی پیدائش پر چاچی کی ڈیتھ ہو گئی تھی پھر چاچو ہالے کو دیکھے بنا ملک سے باہر چلے گئے تب سے اسے ماما نے پالا ہے۔۔۔
وہ ایک بار ہی آئے تھے جب میں دس سال کی تھی تب بھی صرف اپنا حصہ مانگنے داداجان نے انکا حصہ ان کے حوالے کر کے انہیں گھر سے نکال دیا تھا لیکن انہوں نے تب بھی ایک بار بھی ہالے کی طرف نہیں دیکھا تھا

ایک دم ساتوں آسمان اس کے سر پر آکر گرے تھے ۔۔۔اس نے کچھ نہیں سنا بس یہی سنائی دے رہا تھا

نہیں ہالے ہمارے سکندر چاچو کی بیٹی ہے ۔۔۔۔اس جملے کی باز گشت اس کے کانوں میں گونج رہی تھی اس کے لیے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا مشکل تھا لیکن وہ اٹھی اور بھاگ کر واش روم میں بند ہو گئی

عزہ نے کچھ پریشانی سے واش روم کے دروازے کو دیکھا
اور کمرے سے نکل گئی اس کا ارادہ زریان کو بتانے کا تھا لیکن راستے میں ہی اسے عاشر مل گیا ۔۔۔
تو بے ساختہ اس کے قدم تھم گئے اور نظریں جھکا لیں اپنی
عاشر قدم قدم چلتا اس کے پاس آیا اور اس کے کان کے پاس
جھکا ایسے کہ عاشر کے ہونٹ اسے اپنے کان سے ٹچ ہوتے محسوس ہوئے
تمہارے لیے شادی کا جوڑا میں لاؤں گا اس میں اپنے آپ کو پور پور میرے لیے سجانا تا کہ شادی کی رات میں تمہاری دل کھول کر تعریف کر سکوں اس نے بہت بے باکی سے اس کے کان کی لو کر چھوتے اپنا مکمل کیا تھا
لیکن عزہ کے لیے اس کا لمس اور اس کی اس قدر بے باکی وہ بھی نکاح سے پہلے ناقابل برداشت تھا
عزہ نے اسے دھکا دیا اور بھاگ کر کمرے میں بند ہو گئی ۔۔۔۔

پیچھے اس نے نا گواری سے اس بند دروازے کو دیکھاتھا

……………………………………………………………..

وہ واشروم میں بند ہو کر خوب روئی تھی اس کی طرح اس کے باپ نے ہالے کو بھی قبول نہیں کیا تھا کوئی شخص اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے
اس کے دل میں اپنے باپ کے لیے نفرت مزید بڑھ گئی تھی

تھوڑی دیر بعد منہ ہاتھ دھو کر وہ واش روم سے باہر آئی تو عزہ سینے پر ہاتھ رکھے آنکھیں میچے دروازے سے لگی ہوئی تھی

وہ پریشانی سے اس کی طرف بڑھی۔۔۔
کیا ہوا عزہ ٹھیک ہو تم آ نا کی آواز سن کر اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔اور خود کو کمپوز کیا
جی بھابھی میں ٹھیک ہوں آپ ٹھیک ہیں نا۔
ہاں مجھے کیا ہو نا ہے میں ٹھیک ہوں کچھ دیر سونا چاہتی ہوں

…………………………………………………

زریان نے روحان سے بات کی تھی روحان ابھی رخصتی کے لیے راضی نہیں تھا

اس نے صاف منع کر دیا تھا اس کا کہنا تھا کہ ہ ابھی وہ بچی ہے اس پر زمہ داری نہیں ڈالنا چاہتا

اس لیے اس کی شادی کی پلیننگ ابھی نا کریں

جس پر بابا جان بھی مان گئے تھے وہ خود بھی ہالے پر کوئی زمہ داری نہیں ڈالنا چاہتے تھے
اور وہ بچہ تو نہیں تھا کہ اس کے ساتھ زبردستی کرتے ویسے بھی اس نے صرف ٹائم مانگا تھا اس رشتے سے انکاری نہیں تھا تو اسے ٹائم دینے میں کوئی قباحت نہیں تھی

اس لیے صرف عزہ اور آنا کی تیاری ہونے لگی

صرف ایک ہی فنکشن کرنا تھا شادی کا کیونکہ ولیمہ روحان کے آنے کے بعد ہونا تھا
جب سے ہالے کو روحان کے انکار کا پتہ چلا تھا اس کا دل کئ ٹکڑوں میں تقسیم ہوا تھا وہ پہلی بار روحان کی وجہ سے روئی بھی تھی اس کا ننھا سا دل کب اس کی محبت میں گرفتار ہوا اسے پتہ ہی نہیں چلا
ہمیشہ چہکنے والی لڑکی ایک دم چپ ہو گئ تھی شاید وہ سمجھنے لگی تھی ہر بات کو

مہندی والی آکر عزہ اور آنا کو مہندی لگا رہی تھی

ہالے چپ چاپ اپنی شاپنگ دیکھ رہی تھی جو زریان لے کر آیا تھا

بلیک اور گرے کنٹراس میں بہت اسٹائلش سا شرارہ تھا اس کے ساتھ میچنگ جیولری اور سینڈل تھی اور ایک چاکلیٹ کا بوکس تھا اسے وہ بہت پسند آیا تھا
آنا بہت غور سے اسے دیکھ رہی تھی
شاپنگ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی تھی صبح سے جو اداسی اس کے چہرے پر تھی وہ اب غائب تھی
آنا کی مہندی ہو گئی تو اس نے ہالے کو بھی زبردستی بھر بھر کر مہندی لگوائی تھی ۔۔۔۔۔۔

…………………………………………………………….

آج صبح سے ہی معمول سے زیادہ گہما گہمی تھی
ہر کوئی گن چکر بنا ہوا تھا پارلر والی آکر دونوں کو تیار کر رہی تھی ہالے تو سب سے پہلے تیار ہو کر کسی تتلی کی طرح ادھر سے ادھر اڑتی پھر رہی تھی
بلیک اور گرے شرارے میں میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔

بی جان اور فائزہ بیگم نے تو اس کی بہت بار نظر اتاری تھی

جس پر وہ بار بار شرما جاتی اور سب کو مسکرانے پر مجبور کر دیتی۔۔
سارا انتظام حویلی کے لان میں ہی کیا گیا تھا سب لوگ تیار تھے مہمان آنا شروع ہو گئے تھے
گولڈن شیروانی میں عاشر بہت ہینڈسم لگ رہا تھا
سب سے پہلے عاشر اور عزہ کا نکاح ہوا تھا
عزہ بابا کے گلے لگ کر بہت روئی تھی آج اس کا حق دار بدل گیا

زریان نے بلیک شلوار قمیض کے ساتھ بلیک کھیڑی پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیا تھا کندھوں پر اجرک ڈالے وہ کسی کا بھی دل ڈھڑکا سکتا تھا
اور نیہا کی نظریں اس پر سے ہٹنے سے انکاری تھی

دونوں دلہنوں کو لا کر ان کے ساتھ بٹھا دیا گیا تھا
گولڈن شرارے میں لال نیٹ کا گھونگھٹ ڈالے میک اپ نے اس کے نین نقش کو مزید نکھار دیا تھا عاشر کے ساتھ بیٹھی وہ بہت حسین لگ رہی تھی
لال شرارے میں ریڈ ہی نیٹ کا گھونگھٹ ڈالے وہ کسی شہزادے کی شہزادی لگ رہی تھی ریڈ بلڈ لپ اسٹک سے سجے ہونٹ زریان کو اپنے گلے میں کانٹے سے اگتے محسوس ہوئے تو اس نے آنا پر سے نظریں ہٹا لی
آنا تو شرمائے جا رہی تھی تھوڑی دیر بعد دونوں کپلز کا فوٹو شوٹ ہوا
دور سے اسے روحان اور دلشیر آتے دکھائی دیئے ۔۔

جاری ۔۔۔۔۔۔۔