Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

ناول۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔دوسری

بابا آپ کو کچھ ہو جاتا تو میں مرجاتی مجھے تو روحان بھیا سے بہت ڈر لگتا ہے انہوں نے ڈاکٹر کو بھی بہت ڈانٹا جب آپ بیہوش تھے وہ مجھے بھی ڈانٹتے تومیں کیا کرتی
اس وقت وہ ان کے سینے سے لگی رونے میں مصروف تھی
اور کمال صاحب اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے پر سکون کرنے کی کوشش کررہے تھے

نہیں روتے میری ہالے تو بہت بہادر ہے اور روحان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں وہ تو میری ہالے سے بہت پیار کرتے ہیں

نہیں وہ مجھے بلکل اچھے نہیں لگتے ہر وقت گھورتے رہتے ہیں بس مجھے ان سے کوئی بات نہیں کرنی آپ جلدی ٹھیک ہو جاؤ نہ ہم گھر چلتے ہیں
وہ جو اندر جانے ہی لگا تھا اس کی آواز پر رک گیا
اس نے کب اس پر غصہ کیا تھا اسے یاد کرنے پر بھی یاد نہ آیا تو سر جھٹکتے ہوئے اندر بڑھ گیا
آپ کی شکایتیں اگر ختم ہو گئی ہو تو برائے مہربانی بابا پر سے اپنا بوجھ زرا کم کیجیے گولی لگی ہے انکو اگر یاد ہو تو……
وہ جو اور بھی شکایتیں کرنے کے موڈ میں تھی ایک دم سے ہڑبڑا کر کمال صاحب سے دور ہوئی
اور اس کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی
بھئ میری بیٹی کو ڈانٹنا بند کرو تم
ہاں نا بابا ہم نے تو ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا
اس سے پہلے کے وہ بابا کو کچھ کہتا وہ اپنی صفائی دینے لگی
وہ اسے دیکھ کر رہ گیا کتنی معصوم تھی وہ اس سے بارہ سال چھوٹی وہ اٹھائیس سال کا اور وہ محض سولہ سال کی گندمی رنگت بڑی بڑی سیاہ آنکھیں لمبی گھنی پلکیں کمر سے نیچے تک لمبی چوٹی پانچ فٹ کا قد ایک قد کے الاوہ ہر لحاظ سے خوبصورت اور معصوم تھی لیکن اسے بیوی کے طور پر قبول نہیں تھی اس نے سوچ لیا تھا بابا کے ٹھیک ہوتے ہی وہ ان سب کا کوئی حل نکالے گا
بابا تھوڑی دیر میں ہمیں نکلنا ہے ہمارا یہاں رکنا ٹھیک نہیں ہے میں نے ڈاکٹر سے بات کرلی اور ایک میل نرس کا بھی انتظام کرلیا ہے جو آپ کے ٹھیک ہونے تک حویلی میں ہی رہے گا
عالم صاحب اثبات میں سر ہلا گئے

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

آنا بیٹا بس کرو اب اور پڑھنا آنکھیں دیکھی ہے تم نے اپنی نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے حلقے پڑھ گئے ہیں
اتنی محنت مت کرو میری جان
امی کچھ نہیں ہوتا مجھے آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں اس کے پاس فیملی کے نام پر بس ایک ماں ہی تھی وہ ان کے لیے دن رات محنت کررہی تھی تاک ان کا علاج کروا سکے

آنا نے جب سے ہوش سنبھالا اپنی ماں کو محنت کرتے دیکھا تھا تھا انہوں نے اسے پڑھایا لکھایا اس کی ہر خواہش پوری کی یہ چھوٹا سا گھر بھی انکی محنت کا ثمر تھا وہ ماں بیٹی ایک دوسرے کی سنگت بہت سکون سے زندگی گزار رہے تھے
لیکن ان کی زندگی میں بھونچال تب آیا جب تین سال پہلے رائمہ بیگم کو دل کا دورہ پڑا ڈاکٹر نے انکو کام کرنے سے منع کردیا تب سترہ سال کی عمر میں پہلی بار وہ کام کے لیے گھر سے نکلی محلے کے ہی ایک چھوٹے سے پرائیویٹ اسکول میں اسے نوکری مل گئی صبح اسکول پھر شام میں محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی رات کو اپنی پڑھائی کرتی وہ پرائیویٹ بی اے کر رہی تھی
رائمہ بیگم نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی ان کا کہنا تھا وہ بلکل ٹھیک ہیں وہ کام کرسکتی ہے لیکن آنا کے آگے ان

کی ایک نا چلی

::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

جلال مرزا اور بی جان کے کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی بڑا بیٹا عالم مرزا دوسرا بیٹا سکندر مرزا بیٹی سارہ
عالم کی شادی انہوں نے اپنے دوست کی بیٹی فائزہ بیگم سے کروائی تھی جن کے تین بچے تھے بڑا بیٹا زریان دوسرا بیٹا روحان اور بیٹی عزہ تھی جو شہر میں اپنے بھائی زریان مرزا کے ساتھ رہتی تھی سکندر نے شہر میں پڑھتے ہوئے اپنے باپ کے خلاف جا کر اپنی یونی فیلو سے شادی کرلی تھی اور سب سے قطع تعلق کرلیا تھا سے اور سارہ کی شادی انہوں نے اپنے بھانجے سے کروائی تھی جو اپنی جوب کی وجہ سے کینیڈا میں رہائش پذیر تھے ان کے دو بچے تھے بیٹا عاشر اور بیٹی نیہا تھی۔۔۔۔