Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

عالی دھواں دھواں چہرہ لیے اس کے سامنے بیٹھا تھا جیسے اس کا وجود بھانپ بن کر فضا میں تحلیل ہو جائے گا۔
یہ کیا بات ہوئی اجالا تم کسی اور کے کیے گئے گناہ کی سزا مجھے کیوں دینا چاہتی ہو،،
میں کچھ نہیں جانتی عالی آپ کو میری شرط ماننا پڑے گی جب تک میں لویزا کا چہرہ نہیں دیکھوں گی یہ نکاح نہیں ہو گا۔ وہ یونہی ضد پر اڑی ہوئی تھی۔۔ حالات کے پیشِ نظر عالی نے اصرار کیا تھا اور ایک دن بعد اجالا کے مما بابا نے ان کا سادگی سے نکاح ہونا طے کیا تھا۔ مگر یہ سنتے ہی اجالا نے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا اور یہ ضد لے کر بیٹھی تھی کہ جب تک کہ وہ لویزا کو نہیں دیکھے گی یہ نکاح نہیں ہوگا۔۔
اجالا یہ کیا ضد ہے،تم جانتی ہو وہ علاج کے لئے ،،

بس کر دیں عالی، جب نہیں بولا جاتا جھوٹ تو بولنا بند کریں، آپ کی آنکھوں میں صاف لکھا ہے کہ آپ مجھ سے کچھ چھپا رہیں ہیں، جہاں تک میرا اندازہ ہے وہ یہ کہ پندرہ دن بیت چکے ہیں وہ کونسا علاج ہے جو ابھی تک نہیں ہوا، سچ بتائیں مجھے نہیں تو یہ نکاح بھی نہیں ہوگا،، میں کسی صورت لویزا کے بغیر یہ نکاح نہیں کروں گی،، اب کی بار وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔عالی نے بے بسی سے لب کاٹتے اسے دیکھا اور جھٹکے سے اٹھ کر باہر گیا۔۔
اجالا نے بھی بری طرح اپنے لب کاٹے تھے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

میر ہادی آہستگی سے اس کے ساتھ چلتا اندر لاؤنج سے ہو کر ایک روم میں داخل ہوا تھا۔
یہ جدید طرز پر بنا ایک انتہائی خوبصورت اور فرنیشڈ بنگلو تھا جسے اب وہ بغور دیکھتی آگے بڑھی تھی۔ روم میں بھی داخل ہو کر وہ پرشوق نگاہوں سے اس کشادہ ،انتہائی خوبصورت ڈیکوریٹ کیے گئے شاندار روم کو دیکھ رہی تھی۔
کوئی نہیں جان سکتا تھا اس وقت رانا میر ہادی کے کیا احساسات تھے وہ سرد و سپاٹ چہرہ بے تاثر آنکھیں لیے بس آہستگی سے چلتا اس روم میں اس کے پیچھے آیا تھا۔
لویزا نے بہت آہستگی سے گول گھوم کر روم کو چاروں جانب سے دیکھا تھا۔
“ہادی یہ ہمارا روم تھا، لویزا نے پوچھا۔ رانا میر ہادی نے اپنے منہ سے ایک سرد سی لمبی سانس خارج کی کہ وہ جانتا تھا کہ سوالات کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو چکا ہے۔ اور اب اسے کمال تحمل سے پھر جھوٹ کا انبار لگانا تھا۔
ہمممم، مختصر جواب دیا۔
ہماری کوئی پک نہیں ہے ہادی یہاں پر ، کیوں؟ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی میرا ہادی گڑبڑایا مگر وقت رہتے سنبھل گیا۔
ایک دن پہلے ہوا تھا ہمارا نکاح میڈم، ہم ادھر ہی شفٹ ہونے والے تھے جب ایکسیڈنٹ ہوا،، اطمینان قابلِ دید تھا۔۔
آپ کے فون میں بھی نہیں ہے کوئی پک ہماری یا ہماری فیملی کی، لویزا نے جھنجھلا کر کہا۔
تمھارا موبائل ایکسیڈنٹ میں سپوئل ہو گیا، میرا ہاسپٹل میں گم ہو گیا،میں نے نیو لیا ہے،تمھارا بھی لے آؤں گا، اطمینان قابلِ دید تھا۔

ہادی میں کدھر جا رہی تھی جب ایکسیڈنٹ ہوا، وہ اب بیڈ پر بیٹھ چکی تھی۔۔
ہم کورٹ میں تھے، مجھے ضروری کال آئی تھی تو مجھے آفس جانا تھا، میں نے تمھیں ڈرائیور کے ساتھ اور اپنے سامان کے ساتھ گھر بھیجا خود آفس کے لئے نکلا، جنھوں نے ایکسیڈنٹ کیا ان کی دانست میں ہم دونوں گاڑی میں تھے،
تبھی ہادی کا فون رنگ ہوا تھا۔ اس نے فون نکال کے چیک کیا عالی کا تھا ۔
تم آرام کرو، سسٹر روزی آتی ہی ہوں گی، میں نے انھیں تمھارے لئے اپائنٹ کیا ہے، تمھاری دیکھ بھال کے لئے، میر ہادی کہتا فون کان سے لگا کر باہر چلا گیا۔
لویزا نے تھکن محسوس کی تو بیڈ پر لیٹ گئی۔
ادھر ہادی کو جو سننے کو ملا اس کے ماتھے پر بے شمار بل آئے تھے ۔۔
اوکے رائٹ میں آتا ہوں اور بھابھی جی کا مزاج درست کرتا ہوں، ہادی کا لہجہ اب بھی عجیب تھا۔ عالی بھنایا۔۔
کیا مطلب یار،،
کچھ نہیں ، میں آتا ہوں خود ہی ہینڈل کر لوں گا انھیں،، وہ فون رکھتا اٹھا۔
سامنے سے سسٹر روزی آتی دکھائیں دیں۔
آپ خیال رکھیے گا اس کا، اور بول دیجئے گا ضروری کام سے باہر گیا ہوں جلد لوٹ آؤں گا،،
ہادی نے کہا تو سسٹر نے اثبات میں گردن ہلائی۔
ہادی فون پاکٹ میں رکھتا باہر نکلا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

راستے بھر گاڑی میں وہ زہن میں الفاظ ترتیب دیتا آیا تھا اب آر یا پار، اپنے ایک آخری ڈر سے بھی سامنا ہو ہی جائے۔۔ دنیا میں عالی کے سگے رشتہ دار اجالا اور اس کے مان باپ ہی تھے۔ اپنے پیرینٹس کی تو کافی عرصے پہلے ڈیتھ ہو چکی تھی اور وہ اپنے
پیرینٹس کا اکلوتا بچا تھا ۔
فوزیہ بیگم عالی کی خالہ تھیں۔ عالی کے والدین کی ڈیتھ کے بعد فوزیہ بیگم نے ہی اسے سنبھالا تھا۔

میر ہادی اجالا لوگوں کے گھر پہنچا۔ اجالا کے مما بابا اور عالی لاؤنج میں بیٹھے تھے۔ وہ سب سے مل کر صوفے پر بیٹھ گیا۔
اس نے عالی کو فون پر کہا تھا کہ اجالا کے پیرینٹس کو بھی ساری حقیقت بتا دے۔ شاید وہ بتا کر بیٹھا تھا تبھی لاؤنج میں پن ڈراپ سائیلنس چھائی ہوئی تھی۔۔
عالی، بھابھی کو بلاؤ مجھے ان سے بات کرنی ہے،، ہادی کہتا صوفے پر بیٹھ گیا۔

کیا بات کرنی ہیں آپ نے مجھ سے ہاں،، اور آپ کی ہمت کی تو دادا دینی پڑے گی جو اتنا سب کچھ کر کے آپ یہاں تک آ گئے اور مجھ سے بات کرنے کی بھی ہمت ہے آپ میں ،، اجالا کا لہجہ چبھتا سا تھا۔مگر سامنے بیٹھے ڈھیٹ بندے پر کسی چیز کا اثر زرا کم ہی ہوتا تھا۔
اجالا بی ہیو،، آرام سے بیٹھ کر بات کرو،، فوزیہ بیگم نے ٹوکا مگر وہ اگنور کرتی اس کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی
لویزا کہاں ہے،؟ ہاتھ باندھ کر اس سے پوچھا۔
تب میر ہادی اسے سب بتاتا چلا گیا اور سچ سچ ۔ اجالا کا چہرہ لٹھے کی طرح سفید پڑ چکا تھا۔ دل کیا سامنے کھڑے بندے کو شوٹ ہی کر دے جو اس کی ہنستی بستی دوست کی زندگی اجاڑ چکا تھا۔۔
اب کہاں ہے وہ، اجالا ماہی بے آب کی طرح تڑپی۔
میر لاج، میرے گھر میں،
کیوں؟ (اجالا صدمے سے گنگ ہی تو ہوئی تھی اس کی ڈھٹائی اور دیدہ دلیری پر) اجالا نے آئبرو اچکائی۔
کیوں کہ اس کی یاداشت جا چکی ہے، اور بائی مسٹیک وہ مجھے،، میر ہادی کی زبان لڑکھڑائی “میں پہلے بتا چکا ہوں، کیوں،، وہ جھنجھلایا۔
سنیں مسٹر رانا میر ہادی، میں ایک لمحہ، ایک بھی پل اسے اس جہنم میں آپ کے ساتھ نہیں رہنے دوں گی آئی سمجھ، اجالا کا لہجہ تیز تر ہوا۔
اس کی مینٹلی کنڈیشن بہت کریٹکل ہے، وہ بائی مسٹیک مجھے اپنا ہزبینڈ سمجھ رہی ہے ڈاکٹرز نے،،
شٹ اپ مسٹر میر ہادی،، یہ جان بوجھ کر کیا آپ نے،، ہے ناں،، سڈیوس کرنا چاہتے ہیں اسے، مقصد کیا ہے آپ کا یہ کرنے کا، اجالا چلائی کیونکہ یہ سب سن کر پیشنس نہیں رکھ پا رہی تھی۔۔
مجھے کسی کو سڈیوس کرنے کی ضرورت نہیں میری ہر ضرورت پوری کرنے کو حویلی میں میری بیوی موجود ہے، رانا میر ہادی کا سرسراتا لہجہ، اجالا کے چہرے نے لہو چھلکایا ۔ باقی سب کو بھی اس کی اتنی بے خوفی اور بے باکی پر جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔
میں اسے کسی قیمت پر وہاں نہیں رہنے دوں گی، وہ دانت پیس کر بولی۔
اوکے رائٹ، اگر وہ اپنے ہزبینڈ کو چھوڑ کر آپ کے ساتھ آئے گی تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، رانا میر ہادی اور اس کا اطمینان اسے زہر لگ رہا تھا اجالا کو۔
آپ ہوتے بھی کون ہیں اعتراض کرنے والے، میں اسے سب بتا دوں گی، وہ پھر غرائی۔
شیور، اگر اسے مرتا دیکھ سکتی ہیں تو بصدِ شوق کریں جو آپ کا دل کرتا ہے، ڈاکٹر حفیظ نے کہا ہے کہ اس کی مینٹلی کنڈیشن اتنی حساس حالت میں ہے کہ زرا سا زہنی دباؤ اس کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے تو اسے مرتا دیکھنا چاہتی ہیں تو جو آپ کا جی چاہتا ہے آپ وہ کریں،، میر ہادی نے کہا تو اجالا نے بے دردی سے اپنے لب کاٹے۔
زرا مجھے بتائیں گے آپ کہ ایک سوری بلوانے کے لئے تو آپ اس حد تک چلے گئے تھے کہ خیر جانے دیں، مگر اب آپ کو کیوں ہمدردی کا بخار آیا ہے،، اجالا کسی بھی طور مطمئن نہیں ہو رہی تھی وہ بلکل نہیں چاہتی تھی کہ لویزا اس گھمنڈی اور بے حس انسان کے پاس رہے۔
جانتا ہوں یہ ممکن نہیں مگر میں اپنے کیے گئے اعمال کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں، کوئی بھی گارنٹی لے لیں، میں یقین دلاتا ہوں کہ اسے اب مجھ سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی، میں اسے حفاظت سے رکھوں گا، پرامس کرتا ہوں، وہ انتہائی بے تاثر لب و لہجے میں بولا تھا کہ اجالا دانت کچکچا کر رہ گئی۔

عالی انھیں بول دیں، آج کے بعد ان کا مجھ سے کوئی لینا دینا نہیں، مجھ سے کلام کرنے کی یہ جرأت بھی نا کریں تو بہتر ہوگا، اور مجھے لویزا کے پاس لے جائیں، ملنا ہے مجھے اس سے، ابھی اور اسی وقت، اجالا اب عالی کی جانب گھومی تھی۔
عالیان نے رانا میر ہادی کی جانب دیکھا جس نے سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلایا ۔
پھر وہ تینوں میر لاج کے لئے نکلے تھے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

میم پلیز آپ آرام کریں، سر مجھے ڈانٹیں گے،، روزی جو اسے کھانا کھلا کر میڈیسن دے کر ہٹی تھی اسے خراماں خراماں اب باہر کی جانب جاتا دیکھتی روہانسی ہو کر بولی۔
پلیز سسٹر ہاسپٹل میں پچھلے پندرہ دنوں سے ریسٹ ہی کر رہی تھی،، اب مجھے کرنے دو جو میں کرنا چاہتی ہوں،، لویزا کی بیچاری سی شکل دیکھ کر سسٹر نے اثبات میں سر ہلایا اور کچن میں چلی گئی۔
ابھی وہ لاؤنج میں داخل ہوئی تھی جب وہ تینوں اندر آتے دکھائی دئیے۔
اجالا اسے دیکھ اس کی جانب لپکی تھی اسے بھینچ کر گلے سے لگایا اور رو دی۔ لویزا کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے میر ہادی کی جانب دیکھا وہ بے اختیار نگاہیں چرا گیا تھا۔
کافی دیر بعد اجالا بھیگی پلکیں لیے پیچھے ہٹی تو لویزا اسے انجان نگاہوں سے غور سے دیکھ رہی تھی۔
اجالا کو اس کی ناشناس آنکھوں میں دیکھ صدمہ ہوا۔۔
ائم سوری، مگر ہادی نے بتایا ہوگا آپ کو میرے بارے میں، میں پہچان نہیں سکی،، وہ شرمندہ اور پریشان سی ہوئی۔
میں تمھاری بیسٹ فرینڈ اجالا ہوں،، اجالا نے اس کے ہاتھ تھام کر معصوم سی شکل دیکھی۔
او شکر ہے مجھے کوئی ملا تو سہی، میں تو پریشان تھی کہ میں نے سب کو کھو دیا، لویزا کے چہرے کو پیاری سی مسکان نے چھوا جو کوئی پاس کھڑا بغور دیکھنے میں مصروف تھا۔

وہ دونوں لویزا کے روم میں چلیں آئیں۔ اجالا بڑے محتاط انداز میں اس سے بات کر رہی تھی ناچاہتے ہوئے بھی جو کہانی میر ہادی نے سنائی تھی اس کے مطابق کہ اب اس کی صحت اور زندگی کا سوال تھا۔
میر ہادی اور عالی سٹڈی میں جا چکے تھے۔
پھر ڈنر کا وقت ہو گیا تو ان چاروں نے ہی ڈائننگ ہال میں ڈنر کیا۔ نجانے کیوں مگر ویزا کو ماحول ہر طاری غیر معمولی خاموشی ایک عجیب سا تناؤ محسوس ہوا تھا۔ وہ یہ بھی نوٹ کر چکی تھی کہ اجالا میر ہادی سے مخاطب تو دور کی بات دیکھ بھی نہیں رہی ہے۔
کھانا کھا چکے تو اجالا لویزا کے ساتھ باہر لان میں چلی آئی تھی۔
لویزا پلیز، میرے ساتھ میرے گھر چلو،، اجالا نے بے بسی کے احساس سے اپنے لب کاٹتے اس کے ہاتھ تھام کر کہا تھا۔
عالی اور میر ہادی جو کے باہر آ رہے تھے۔ہادی یہ بات سن کر ٹھٹھک کر رکھا تھا۔ ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے۔ غصیلی نگاہوں سے اس ضدی لڑکی کو دیکھا جو کہ اس یار کی زندگی نا ہوتی تو وہ کب کا ان گستاخیوں اور بدتمیزیوں پر اس کا مزاج درست کر دیتا۔
لویزا کو حیرت ہوئی تھی۔مگر
ہاں تم فکر مت کرو میں اب بلکل ٹھیک ہوں، ہادی میرا بہت خیال رکھتے ہیں، جلد ہی انھیں کے ساتھ لگاؤن گی چکر میں، اور اب تو شادی بھی ہونے والی ہے تو اس میں بھی شرکت کروں گی، لویزا نے سہولت سے منع کہا تو اجالا جزبز ہوئی۔
لویزا سمجھنے کی کوشش کرو، تمھیں میرے ساتھ رہنا چاہیے،، اجالا سمجھا نہیں پا رہی تھی اسے تبھی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔

میں سمجھ سکتی ہوں، انھوںنے مجھے تم لوگوں سے چرا لیا، یہ سب بہت جلد اور اچانک ہوا، قبول کرنا تھوڑا مشکل ہے، اور مجھے لگتا ہے اسی وجہ سے تم انھیں پسند نہیں کرتیں، مگر اب جو بھی ہے یہی میرا گھر ہے اور مجھے اپنے شوہر کے گھر رہنا چاہیے، لویزا نے اسے اپنی سمجھ کے مطابق رسان سے سمجھایا۔
اجالا نے ایک نفرت بھری گھوری سے میر ہادی کو نوازا جو اب لویزا کے منہ سے یہ سب سن کر جیسے مطمئن سا ہو کر لاپروائی سے وہاں کھڑا تھا۔
چلیں،
اجالا لویزا کے گلے ملی۔
عالی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور وہ دونوں چلے گئے۔ لویزا کافی دیر انھیں جاتا دیکھتی رہی۔
چلو اندر، کافی ٹھنڈ ہو گئی ہے، میر ہادی جو اس کے پیچھے کھڑا بغور اسے دیکھے جا رہا تھا آخر بول ہی دیا۔
وہ اس کے ہمراہی میں اندر کی جانب آئی۔
میری دوست آپ کو کچھ خاص پسند نہیں کرتی، لویزا نے چھیڑنے کے انداز میں کہا۔
اور تم،؟ بہت بے اختیار ہو کر پوچھا تھا رانا میر ہادی نے۔
میں،، لویزا نے دانتوں تلے لب دبایا اور ساتھ چلتے چور سی نگاہوں سے اس بے حد ڈیشنگ، ٹال اور ہینڈسم بندے کو ملاحظہ فرمایا۔”سوچ کر بتاؤں گی، اس نے اپنی دانست میں مزاق کیا مگر وہ مسکرا بھی نا سکا۔
اچھا بتائیں ناں وہ آپ کو کیوں پسند نہیں کرتی، آپ دونوں کا جھگڑا ہوا تھا کیا، ؟
ہمم، میں نے اس کی دوست کو جو اس سے چرا لیا شاید اس لیے، وہ روم میں پہنچ چکی تھی جب ہادی واپسی کے لئے مڑا۔

آپ پھر کدھر جا رہے ہیں، ؟ لویزا نے حیرت سے کہا۔
کیا مطلب،، ہادی نے نا سمجھی سے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا ۔
مم،، مطلب کے لیٹنا نہیں آپ نے اسی لئے پوچھا کدھر جا رہے ہیں،؟ وہ گڑبڑائی۔
لیٹنے ہی جا رہا ہوں اپنے روم میں ، ہادی نے اطمینان سے کہا تو لویزا کو حیرت ہوئی۔
تم نے ابھی تک اپنی رپورٹس تو نہیں دیکھی ہوں گی، ان پر موجود احتیاطی تدابیر کی ڈسکرپشن پڑھ کر سونا، سسٹر روزی تو جا چکی ہے کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو پاس ہی انٹر کام ہے مجھے بتا دینا، گڈ نائٹ، وہ اس کی حیرت زدہ آنکھوں میں دیکھ کر کہتا وہاں سے جا چکا تھا۔
لویزا حیران حیران سی ہی بیڈ تک آئی تھی۔ پھر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پڑی اپنی رپورٹس کے پلندے پر نگاہ پڑی تو بے اختیار ہی ہاتھ بڑھا کر رپورٹس اٹھا لیں۔
انھیں کھول کر تسلی سے احتیاط و پرہیز کی ڈسکرپشن کو دیکھا۔۔
پڑھ کر وہ کانوں تک سرخ ہوئی تھی۔
اففففففففففففف لویزا گدھی کہیں کی،، ڈوب مرو،، پہلے ہی پڑھ لیتیں، شرم سے دوہری ہو کر جلدی سے کمفرٹر میں گھس کر تکیے میں منہ دے لیا۔

ادھر وہ راکنگ چئیر پر بیٹھ کر جھولتا اپنی جان سگریٹ کے دھوئیں جھونک رہا تھا۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ کسی کروٹ کسی لحظه سکون میسر نہیں تھا۔

جو بات بات پر،،،،،،،،،، تکرار کرنے والا تھا
وہ شخص تم سے بہت پیار کرنے والا تھا

تمھی نے مان لیا ،،،،،،،،،میری بے گناہی کو
میں اپنے جرم کا،،،،،، اقرار کرنے والا تھا
Continue,,,,,,,

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓