No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
وہ تھپڑ کی گونج نہیں لویزا اقبال کی بربادی کی گونج تھی شاید۔
میر ہادی اس کی جرات اور ہمت پر بے یقینی سے لہو چھلکاتے چہرہ لیا اسے دیکھے گیا۔ جو اب خود اپنی اتنی ہمت پر صدمے سے گنگ دونوں ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روتی وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔ اجالا اس کے پیچھے بھاگی۔
All of you people get lost from here if you don’t want to die,,,
رانا میر ہادی کی دھاڑ پورے آڈیٹوریم میں گونجی تو ہال خالی ہوتا چلا گیا کیونکہ اسلحے سے لیس اس کے گارڈز آڈیٹوریم میں پہنچ چکے تھے۔ چند لمحوں میں ہال خالی ہو چکا تھا۔
افضل نے وہ تصویریں وہاں سے اتروائیں میر ہادی نے انھیں آگ لگائی تھی۔
تب وہ افضل کی جانب لپکا۔ اور اسے گریبان سے پکڑا تھا۔
افضل مجھے وہ لڑکی چاہیے،، آج ہی،، سمجھے ،اپنے فارم ہاؤس پہ، آج رات وہ اس تھپڑ کی قیمت چکائے گی،، جاؤ،
میر ہادی اس وقت ایک سنکی، جنونی اور پاگل سا لگ رہا تھا۔ اسی لیے جو بھی کر رہا تھا سوچے سمجھے اور انجام کی پرواہ کیے بغیر کر رہا تھا۔
افضل اپنے مالک کے حکم کی تکمیل کرنے وہاں سے جا چکا تھا جبکہ میر ہادی اپنے گارڈز کے ساتھ میر لاج چلا آیا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ رکشے میں اجالا کے ساتھ بیٹھی مسلسل ہچکیوں سے روئے جا رہی تھی۔ اور اجالا مسلسل اسے خاموش کرانے کی تگ ودو میں ہلکان ہو رہی تھی۔ ابھی رکشے نے آدھا راستہ ہی پار کیا تھا جب جھٹکے سے رکشہ رکا۔
لویزا اور اجالا نے چونک کر سامنے اور باہر دیکھا۔ جب چند مسلحہ دیو ہیکل افراد ان پر حملہ آور ہوئے تھے۔ اور لویزا کو کھینچ کر رکشے سے باہر نکالا تھا۔
اے چھوڑو اسے، کون ہو تم لوگ،، میں نے کہا چھوڑو اسے،، اجالا ان کے ساتھ دست گریباں ہوئی۔ اور فورا فون نکال کر پولیس کو کال ملانی چاہی مگر ان میں سے ایک نے اس کا فون چھین کر دور اچھالا تھا۔
وہ لویزا کو بے ہوش کر چکے تھے۔ تبھی اس کہ مزاحمت دم توڑ چکی تھی۔ اجالا کے لاکھ احتجاج اور تڑپنے کے باوجود دیکھتے ہی دیکھتے ان کی گاڑی آنکھوں سے اوجھل ہو چکی تھی۔
اجالا بے تحاشا روتی بے ہوش ہوئی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ میر لاج کے لاؤنج میں بیٹھا تھا۔۔ سینے میں ایک غم و غصے کا حشر اور طوفان سا برپا تھا ۔مانتا تھا اس نے ناچاہتے ہوئے بھی بہت غلط کیا تھا اس کے ساتھ، اپنے دل کی سنتے مداوا بھی کر چکا تھا۔ اور اس نے کیا کیا،؟ اس نے یہ بھی سننے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی کہ یہ چیپ حرکت اس نے نہیں کی تھی۔
جس نے کی تھی آدھے گھنٹے کے اندر اندر اس کا پتا کروا کر اس کا دماغ اچھی طرح درست کر کے آیا تھا۔
اسے پتہ لگنے کی دیر تھی کہ یہ سب سیما نے کیا۔۔وہ اپنے گھر جا رہی تھی جب میر ہادی نے اسے آدھے رستے میں جا لیا تھا۔
وہ اسے اور اس کے تیور دیکھ سہم گئی تھی۔۔ اور سچ مچ ہی میر ہادی نے اس کی گاڑی پر پیٹرول ڈالنا شروع کیا تھا وہ چیختی چلاتی رہی مگر گاڑی سے باہر نا نکل سکی۔ تب رانا میر ہادی کے سینے میں جو بھانبھڑ جل رہے تھے اسی طرح اس نے سیما کی گاڑی کو آگ دکھائی تھی۔
وہ چلاتی رہی ،
مہر ہادی نے اسے گاڑی سے گھسیٹ کر باہر پھینکا تھا جب گاڑی میں ایک زور دھماکہ ہوا۔
وہ اپنا انجام دیکھ وہیں چلاتی بے ہوش ہوئی تھی مگر ہادی اسے چھوڑ کر اپنی جانب سے بھاڑ میں جھونک کر میر لاج چلا آیا تھا۔
اور اب اپنی جان سگریٹ میں جھونک رکھی تھی جب افضل لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔
میڈم کو فارم ہاؤس پہنچا دیا ہے چھوٹے سائیں،، افضل نے کہا تو اس نے ایک مرتبہ پھر وہ سب یاد کرتے جبڑے بھینچے تھے۔
چلو میرے ساتھ وہ جھٹکے سے اٹھا طوفان بنا میر لاج سے نکلا تھا۔
چند گھنٹوں بعد اسے ہوش آیا تھا اور خود کو ایک انجان جگہ، انجان کمرے میں بیڈ پر پایا۔ اسے سمجھنے میں دیر نا لگی کہ اسے اس کا طیش میں بغیر سوچے سمجھے مارا گیا تھپڑ یہاں تک لے آیا ہے۔ دل کیا اپنا ہاتھ ہی کاٹ دے یا خود کشی حرام نا ہوتی تو وہ کب کی کھڑکی سے کود کر اپنی جان دے چکی ہوتی۔ مگر نہیں ،، اس نے حوصلہ نہیں ہارا۔ اپنے بابا کے پاس جو جانا تھا۔
چھوڑ دو مجھے،،مجھے بابا کے پاس جانا ہے،،معاف کر دو مجھے،،
خدا کے لئے میر ہادی چھوڑ دو مجھے،،فرعون مت بنو،، اس کی آہیں اور سسکیاں کئی گھنٹوں سے اس تین منزلہ ویران عمارت کی تیسری منزل پر گونج رہیں تھیں۔۔مگر یہاں اس کی پکار سننے والا کوئی نہیں تھا۔ بس رانا میر ہادی کے دیو ہیکل آدمی تھے جو دروازے کے باہر چوکس سے کھڑے تھے۔۔
اس سے نیچے والے پورشن میں رانا میر ہادی اپنے شاہانہ بیڈ روم میں بلیک شلوار قمیض پہنے مردانہ شال کندھوں پر ڈالے صوفے پر کروفر سے بیٹھا لال انگارا آنکھوں اور تنی رگوں سے گھونٹ گھونٹ اپنے اندر حرام مشروب انڈیل رہا تھا اور اوپر سے آنے والی آہوں،، سسکیوں کی آوازیں سن کر سکون حاصل کرنے کی ناکام سی کوشش کر رہا تھا۔ دل و دماغ کی ضمیر کے ساتھ ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ گھمنڈ اور سو کالڈ انا کی جیت ہونی تھی یا تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کرتے ضمیر کی۔ وہ جتنے سکون سے بیٹھا تھا ،،اتنا ہی اس کے اندر غم وغصے اور اشتعال کا طوفان اٹھ رہے تھے۔۔ جو کرنے جا رہا تھا اس کے لئے اس حرام مشروب کا سہارا لینا بہت ضروری تھا۔
تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا
دیکھ کر پرندوں کو باندھنا نشانوں کا
رِیت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
شہر کے یہ باشندے، نفرتوں کو بو کر بھی،،
انتظار کرتے ہیں،،،،،،،،،، فصل ہو محبت کی،،
بھول کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا
رِیت اس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے
آخر وہ مغرور ،گھمنڈی اناپرست شخص دھیمے مگر مغرور قدموں سے اٹھتا اوپر کی جانب چل دیا۔۔سیڑھیاں چڑھ کر وہ اس کمرے کی جانب بڑھا، کسی کو برباد کرنے،، ایک بے بس لاچار، اور کمزور سے وجود کو روندنے کے لئے،، ایک معصوم کلی کو مسلنے چلا تھا۔
دروازے کی ناب پر ہاتھ رکھا۔ روح کو کچوکا لگا ۔مگر انا اور غرور نے سینے سے سر پٹخا تو وہ سب بھلائے تنی رگیں لیے اندر داخل ہو گیا۔۔
سامنے ہی وہ بیڈ پر گھٹنوں میں سر دئیے اسی طرح آہ و زاری کرنے میں مصروف تھی۔آہٹ پر جھٹکے سے سر اٹھا کر اپنے سامنے تنے کھڑے اس فرعون شخص کو نفرت و بےبسی کی ملی جلی کیفیت سے دیکھا۔
“تم جانتی ہو کہ تم یہاں کیوں لائی گئی ہو لویزا اقبال،، تم کچھ بھی کرتیں،، کتنی بھی دشمنی نبھاتی مجھ،، کتنی بھی نفرت کرتیں ،، مگر پوری یونی کے سامنے تمہیں رانا میر ہادی کو تھپڑ مار کر زلیل نہیں کرنا چاہیے تھا،، اور اب آج کی رات یہی زلالت میں تمھارے مقدر میں لکھ دوں گا تاحیات کے لئے،، وہ ایک ایک لفظ چباتا اتنا نشہ کرنے کے باوجود اپنے پاؤں پر کھڑا سامنے بیٹھے کمزور اور نازک وجود کو خونخوار نگاہوں سے گھور رہا تھا۔
اس کے تیکھے اور کڑوے لہجے اور بڑھتے قدموں نے لویزا کی جان لبوں پر لائی تھی۔۔
میر ہادی نہیں،، تم ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتے میرے ساتھ،، وہ چلائی۔ مگر میر ہادی نے ہاتھ بڑھا کر اس کا دوپٹہ نوچ کر دور اچھال کر اسے اس بات کا ثبوت دیا تھا کہ آج وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔”میں تمھیں برباد کر دوں گا لویزا اقبال،، اور اپنی اس بربادی کی زمہ دار تم خود ہوگی،، سمجھیں،، وہ غرایا تھا
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر جھٹکے سے میر ہادی کے قدموں میں گری تھی۔۔
اور اس سے تمھیں کیا ملے گا میر ہادی،، صرف وقتی انا کی تسکین، یا اس وقت جو شیطان تم پر سوار ہے اس کی تسکین؟ اس کے بعد کیا؟ ساری زندگی خود سے نگاہیں ملا پاؤ گے؟ کفارہ ادا کر پاؤ گے ؟ اس رات میں کیے گئے گناہ کا کفارہ کبھی نہیں ادا کر پاؤ گے میر ہادی،، مجھے معاف کر دو ،،جانے دو مجھے،، میں وعدہ کرتی ہوں پوری یونی کے سامنے تم سے معافی مانگو گی،، کبھی تمھارے سامنے نہیں آؤں گی، وعدہ کرتی ہوں، جانے دو مجھے،،
لویزا کے گرم آنسو میر ہادی کے شفاف ٹھنڈے پاؤں پر گرے تھے۔ میر ہادی نے بے دردی سے اپنے لب کچلے۔
(ہاں،، اگر اس رات کو وہ ایک بے بس لاچار کی روح پر ظلم کی داستاں لکھے گا، کسی کی معصومیت روندے گا، کسی کی پاکیزگی کو داغدار کرے گا تو کہاں سے کرے گا کفارہ ادا۔ ساری زندگی ضمیر روح کو کچوکے لگائے گا۔ تاعمر کے لئے ایک گناہ کا بوجھ اپنے کندھے پر لادے گا)
نہیں وہ ایسا نہیں کرے گا تبھی جھٹکے سے بازوؤں سے تھام کر اسے اپنے قدموں میں سے اٹھا کر اپنے روبرو کھڑا کیا تھا۔
لویزا اقبال اس سے پہلے میں تمھیں برباد کر دوں،، دفعہ ہو جاؤ میری آنکھوں کے سامنے سے،،
وہ دانت پیس کر بولتا اس کے سر پر اپنے کندھے سے اتار کر اپنی مردانه شال اوڑھا چکا تھا۔ وہ بے یقینی کے عالم میں اس سے دور ہوتی کھلی کھڑکی کے پاس جا لگی۔۔
افضل،، وہ دھاڑا،، میڈم کو ان کے گھر چھوڑ کر آؤ،، ابھی اور اسی وقت باعزت،، احترام کے ساتھ،، وہ بول کر اس کی جانب سے رخ پھیر گیا۔۔اور ہاتھ کمر پر باندھ لیا۔۔لویزا ہنوز سسک رہی تھی۔۔
کیا چاہتی ہو میرا ارادہ بدل جائے،، وہ پھر دھاڑا مگر لویزا تو جیسے بے یقینی کے عالم میں پتھر کی ہو چکی تھی تبھی میر ہادی کا ایک آدمی بے تحاشہ گھبراہٹ کے عالم میں اس کمرے کے دروازے تک آیا تھا۔۔
چھوٹے سائیں،، بہت بری خبر ہے،، میڈم کے بابا نے بد نامی کے ڈر سے خود کشی کر لی ہے،، وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے،،
میر ہادی کے سر پر سات آسمان گرے تھے جیسے ۔۔کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔
لویزا پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس شخص کی پیٹھ کو دیکھ رہی تھی جس نے اسے برباد کرنے سے تو نجات دے دی تھی ۔ بچا لیا تھا اپنی درندگی اور وحشی پن سے ۔مگر اس سے اس کی جینے کی وجہ ضرور چھین لی تھی۔۔ تو اب وہ زندہ رہ کر کرے گی بھی تو کیا۔ کیا کوئی اعتبار کرے گا کہ وہ آدھا دن اور رات کے گیارہ بجے لوٹی اغوا شدہ لڑکی باعزت واپس لوٹی ہے،
میر ہادی وہیں جیسے پتھر کا بت بن چکا تھا۔
لویزا ایک قدم پیچھے ہٹی تھی ۔آنکھیں بند کیں اور کھڑکی میں اس کا نازک کمزور وجود غائب ہو گیا۔
دھماکے کی آواز پر میر ہادی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔۔ وہ پاگل بنا کھڑکی تک آیا تھا جہاں صرف اس کی شال تھی۔۔کھڑکی کے نیچے فرسٹ فلور پر کھڑی اس کی سفید گاڑی پر پڑا وہ نازک وجود اپنے ارزاں خون میں لت پت اس کی قیمتی گاڑی کو بھی خون آلود کر چکا تھا۔۔ ڈور اور ونڈوز کے شیشے چھناکے سے ٹوٹ کر ارد گرد بکھرے پڑے تھے۔۔
لویزا اقبال اب خاموش تھی۔ بہت خاموش،، اپنے تھپڑ کی قیمت اپنی جان دے کے چکا چکی تھی شاید۔
میر ہادی دیوانوں کی طرح دو دو تین تین سیڑھیاں پھلانگ کر نیچے آیا تھا۔
لویزا،، وہ دھاڑا،، اور دیوانہ وار خون میں لت پت لویزا کو نرمی سے گاڑی سے نیچے اتارا تھا۔ پیچھے سے سر بلکل جیسے پچک کیا گیا تھا۔
افضل گاڑی نکالو،،، وہ حلق کے بل چلایا۔
چھوٹے سائیں،، لگتا ہے میڈم نہیں،،
شٹ اپ یو،،، ایسا نہیں ہو سکتا،، کبھی نہیں ،،میں ایسا ہونے نہیں دون گا،، نہیں جانے دوں گا اسے، یہ مجھے ایک قاتل بنا کر کہیں نہیں جاسکتی سمجھے،، گاڑی نکالو،، وہ چیخ رہا تھا چلا رہا تھا، ہذیانی ہو رہا تھا ۔ افضل نے گاڑی نکالی۔ میر ہادی نے اسے بازوؤں میں بھر کر اپنی گاڑی میں لٹایا۔
گاڑی ہوا کی سی رفتار سے اس عمارت سے نکلی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رانا میر ہادی سٹی ہاسپٹل (جس کے ٹرسٹی رانا میر ہاشم تھے) میں اپنے خاص پیشنٹ کے ساتھ آیا تھا۔ پورے ہاسپٹل میں ایک ان دیکھی سی ہلچل مچ چکی تھی۔
رانا میر ہادی اپنے بازوؤں میں ایک زخمی لڑکی کو اٹھا کر اندر آیا تھا۔ لا کر اسے سٹریچر پر نرمی سے لٹایا۔ سٹریچر کے ساتھ ساتھ تیز قدموں سے چلتا وہ آئی سی یو کے باہر تک آیا تھا۔
تمام رستے بے چینی سے اس کی نبض ٹٹولتا رہا تھا جو بے حد دھیمی چلتی اب جیسے رکنے کو تھی۔
تمام ڈاکٹرز کی ٹیم حرکت میں آ چکی تھی۔ جب وہ ایک جاننے والے ڈاکٹر کے دست وگریباں ہوا تھا۔
ڈاکٹر عثمان، اگر اسے کچھ ہوا تو میں اس پورے ہاسپٹل کو آگ لگا دوں گا،، سب کو زندہ جلا دوں گا میں،،
وہ شاید اپنے حواسوں میں نہیں تھا۔ تبھی بھیگی پلکیں اور لال انگارا آنکھیں لیے ڈاکٹرز کے منہ کو آ رہا تھا۔
پیشنس رکھیں،، رانا صاحب،، دعا کریں، زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، انشاءاللہ آپ کی وائف کو کچھ نہیں ہوگا،،
ڈاکٹر اس کا کندھا تھپتھپاتا او پی ڈی میں غائب ہوا تھا۔ چوٹ سر پر لگی تھی تبھی ہاسپٹل کے بڑے نیروسرجن کو بھی بلا لیا گیا تھا۔
معاملا رانا میر ہادی کا تھا سو بلڈ کا انتظام بھی ہاسپٹل والوں نے پرسنلی کیا تھا۔
جب دوبارہ ڈاکٹر عثمان ایک پیپر ہاتھ میں تھامے اس کے پاس آئے تھے۔ اور اس کی جانب پین اور فائل بڑھائی۔
رانا میر ہادی نے بھسم کرنے والے انداز، میں ڈاکٹر کو دیکھا تھا۔
رانا صاحب سرجری سٹارٹ کر دی گئی ہے میم کی،،کنڈیشن تو بہت کریکٹل ہے پر ہم اپنی سر توڑ کوشش کریں گے انھیں بچانے کی، ابھی آپ یہ پیپر سائن کر کے فارمیلٹی پوری کر دیں، ڈاکٹر عثمان نے اسے نرمی سے سمجھاتے خود ہی پیپر اس کے سامنے کیا۔
سائن ہیئر مسٹر رانا،، ڈاکٹر نے ہزبینڈ کے باکس کی جانب اشارہ کرتے ادھر انگلی رکھی ۔ رانا میر ہادی نے غائب دماغی سے ادھر ہی سائن کر دئیے۔ ڈاکٹر عثمان آئی سی یو میں چلے گئے۔
آئی سی یو کے باہر وہ بینچ پر سر جھکائے بیٹھا فرش کو گھور رہا تھا جب عالی حواس باختہ سا اس کے پاس آیا تھا۔
میر ہادی ،،،عالی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ تب وہ تڑپ کر اس سے لپٹا تھا اور جوان ہونے کے بعد شاید پہلی مرتبہ رویا تھا۔
عالی میں ایسا کچھ بھی نہیں چاہتا تھا، میں قاتل نہیں ہوں، جانتے ہو ناں تم، ی،، یہ سب انجانے میں ہوا، غلط فہمی سے ہوا، تم جانتے ہو ناں،
کالم ڈاؤن ہادی، پلیز،، سنبھالو اپنے آپ کو سب ٹھیک ہو جائے گا،، عالی نے اس کے کندھے تھپتھپا کر اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی۔
اس کی زندگی میں آنے والا یہ دھچکا یہ حادثہ معمولی نہیں تھا رانا میر ہادی کی دنیا تہہ وبالا کر چکا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ممتاز بیگم کی آہیں اور سسکیاں پورے گھر میں گونج رہیں تھیں۔ ظفر یونی سے لے کر گھر تک لویزا کو ہر جگہ تلاش کر چکا تھا۔ مگر وہ کہیں نہیں ملی تھی۔
اپنے بابا کی میت پر وہ موجود نہیں تھی۔ اپنے بابا کا آخری دیدار بھی نہیں کر پائی تھی۔
جانے کدھر تھی۔۔
اقبال صاحب ہر فکر سے آزاد اپنے آخری سفر کو روانہ ہو چکے تھے۔
اب تو پورے محلہ میں چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں۔ مختلف آوازیں تھیں جھنیں سن کر ممتاز بیگم کا کلیجہ پھٹا جا رہا تھا۔ کہ جانتی تھی ان کی پھولوں سی باکردار بچی بلکل بے قصور ہوگی یقینا اس کے ساتھ کوئی انہونی ہوئی ہوگی۔
ارے ہوگا کسی یونی فیلو کے ساتھ معاشقہ،
منہ کالا کر کے بھاگ گئی،
اپنے باپ کی بھی پرواہ نہیں کی،
مر گیا بیچارا صدمے سے،
غرض ہر طرح کی بکواس کی جا رہی تھی۔
ممتاز بیگم خاموش تھیں کیا کہہ سکتی تھیں کہ زمانے کی تو یہی روایت تھی جیسے کہ حقیقت جانے بنا خود ہی واقعات اخذ کر لینا من گھڑت کہانیاں بنا کر کردارسازی کرنا خود ہی کسی کو کریکٹر سرٹیفیکٹ دیتے ہوئے اس کے ناپاک اور خراب ہونے کی ججمنٹ کر لینا۔۔ افسوس صد افسوس۔
یہ جانے بغیر کہ کوئی کس قدر تکلیف میں ہے کن حالات سے گزر رہا ہو سکتا ہے۔ کوئی کتنا پریشان ہو گا۔
باوقار لوگوں کو بے وجہ ستانے کا
انگلیاں اٹھانا تو کام ہے زمانے کا
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
