Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 38
No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
بجھ گئی آگ مگر اب بھی جلن باقی ہے
میری آنکھوں میں شبِ غم کی چبھن باقی ہے
دن بوجھل سا ہی تھا۔ میر ہادی اس کا سارا دن اکھڑا اکھڑا رویہ اور سوجی سرخ آنکھیں نوٹ کرتا رہا۔
وہ سارا دن میر ہادی سے جان بوجھ کر ناراض ہو کر چپھتی رہی۔۔
میر ہادی کا بھی سارا دن بےحد مصروف گزرا۔ زمرد نے جانے کس جنم کے بدلے نکالتے ان کی سیاسی ساکھ بہت خراب کر چھوڑی تھی۔ جو اب رانا میر ہادی بچانے کی سر توڑ کوشش کر رہا تھا۔ کچھ بچا کچا وقت پنچائیت کی نذر ہو گیا۔
رات کو وہ تھکا ہارا حویلی لوٹا تھا۔ ہر جگہ اس دشمنِ جاں اور قلبِ سکوں کو ڈھونڈا۔
آخر کچن میں وہ زارون کا دودھ بناتی نظر آئی۔
اشارے سے خادمہ کو وہاں سے جانے کو کہا تو وہ سر جھکائے وہاں سے چلی گئی۔
ایک کپ کافی کا ملے گا ایلو ، شدید سر درد ہے، وہ دھیمے قدموں سے چلتا اس کے قریب آیا۔
(اونہہہہہہہہہ،، شکر ہے نک نیم تو یاد ہے محترم کو، کافی بھی اپنی بخت کے ہاتھ کی پیے) وہ دل ہی دل میں انگارے چباتی رہی۔
چپ چاپ دودھ چولہے پر رکھ کر کافی پھینٹنا شروع کر دی۔ وہ اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ میں گم ہوا۔
وہ اپنی پیٹھ اور وجود پر اس کی نگاہوں کی تپش شدت سے محسوس کر رہی تھی۔ وہ تھک چکی تھی دل و دماغ کی یہ جنگ لڑتے لڑتے۔ نڈھال سی، بے جان سی ہونے لگی تھی۔
اب تو جیسے یوں چاہتی تھی کہ خود محبت کی آغوش کے سپرد کر دے۔ کہ وہ اس کا ہر درد ہر جلن اور غم اپنی پوروں سے چن لے۔ اس کے ہر درد کا مداوا کر دے۔
لویزا نے کافی اس کی جانب بڑھائی ۔ سرخ خمار آلود نگاہوں میں جیسے برسوں کی تھکن تھی۔ میر ہادی نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔ وہ فورا سے پہلے نگاہیں چرا گئی۔ مگر ہاتھ بری طرح کانپے۔
میر ہادی نے جلدی سے ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھاما اور دوسرے سے کپ تھام کر ٹیبل پر رکھا۔
کیا ہوا ہے لیزا، پلیز بتاؤ مجھے، کیا چیز ڈسٹرب کر رہی ہے تمھیں،، شئیر کرو مجھ سے،،
کوئی بات نہیں ہے،، اس سے پہلے کے ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا بھرائی آواز میں بولتی وہ ہاتھ چھڑاتی زارون کا دودھ کا گلاس اٹھا کر روم میں چلی گئی۔
میر ہادی نے ایک سرد سی آہ بھری۔ اور اس کے پیچھے ہی روم میں چلا آیا۔ آج زارون کی طبیعت کچھ خراب سی تھی وہ سارا دن روم میں ہی میڈیسنز کی زیر اثر سویا رہا تھا۔ اب میر ہادی کو دیکھ کر اچھل کر اٹھا تھا۔
بابا جانی،،
کیسی طبیعت ہے چیمب،، میر ہادی اس سے لپٹا۔
فائن بابا،، لویزا نے اسے دودھ کے ساتھ میڈیسن دی۔
اور تینوں لیٹ گئے۔ زارون آج نڈھال سا جلد ہی نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی جب میر ہادی ان دونوں کے پہلو سے اٹھا۔۔ لویزا بھی بے تحاشا جھنجھلا کر ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔
واٹس رونگ ود یو، آپ کا یہ لاڈلا ابھی کچھ دیر میں اٹھ کر بیٹھ جائے گا اور آپ کا پوچھے گا، مجھے پھر اسے لے کر ادھر آنا پڑے گا، اور خواہ مخواہ شرمندگی اٹھانی پڑے گی، یا اسے ساتھ لے جائیں یا لیٹ جائیں ادھر ہی، مجھے کسی کو ڈسٹرب کرنا اچھا نہیں لگتا،،
وہ جزبز سی ہوتی اپنا سارا غبار نکال گئی۔
تم نے کل بھی یہی ڈسٹرب ڈسٹرب لگا رکھا تھا ایلو جان ، خیریت تو ہے ناں،،؟ جانتی ہو ناں کیا بات بول رہی ہو یا کس سے الجھ رہی ہو، وہ آئبرو اچکا کر کہتا اس وارن کر گیا اور دو تین قدموں میں ہی اس کے سر پر پہنچا تھا۔ لویزا زرا سا خوف کھا کر خود میں سمٹی مگر
“سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے،، باز نہیں آئی تھی ٹونٹ کرنے سے۔ اچانک ہی میر ہادی نے اس کی پچھلی گردن کے گرد ہاتھ لپیٹا تھا۔ اسی پوزیشن میں اسے جھٹکے سے تکیے پر گرایا ایک گھٹنا بیڈ پر ٹکایا اور خود اس کے گداز لبوں کو اپنی شدت بھری دسترس میں لیا تھا۔
برسوں کی تشنگی تھی خود کو سیراب کرتے وہ بھول گیا کہ خود سے کیا کیا وعدے کئے بیٹھا ہے۔اور وہ جو اس اچانک افتاد پر سنبھل بھی نہیں پائی تھی۔ اس کی شدت سہتے آنکھیں بند کر چکی تھی۔
لویزا نے اپنی مٹھیوں میں اس ستمگر کی شرٹ دبوچی تھی۔ وہ نرمی سے پیچھے ہٹا۔ لویزا بند آنکھوں سمیت اپنی اتھل پتھل ہوئی سانسیں بحال کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ وہ دلچسپی سے گہری نگاہوں سے اس کے بھیگے لب اور لہو چھلکاتا چہرہ دیکھتا رہا۔
سچ سے زیادہ تو تم کڑوی ہو، ایلو جان، اسی لئے مجھے کڑوی چیزیں اپیل کرتی ہیں وہ بھی ابھی تک،،، بھاری گھمبیر لہجہ تھا۔ لویزا کی سانس اٹک گئی۔ ہادی نے اپنے لبوں سے اس کی بیوٹی بون کو چھوا۔
“اففف یہ خوشبو ایلو جان، جس کا ایڈیکٹ ہوں میں، یہ لہو منہ لگا ہوا ہے اس دیوانے کے، تمھارے معاملے میں کتنا بےاختیار ہے یہ دل، بھول گئی کہ یاد کرواؤں،، اسی لئے ڈرتا ہوں کہ کہیں پھر کوئی گستاخی نا کر بیٹھوں،،
کہتے کان کی لو کو دانتوں سے ہلکا کاٹا تھا۔ لیزا اپنی جگہ سے ہلکا سا اچھلی وہ روح تک ہل چکی تھی۔ میر ہادی کہتے پیچھے ہٹا۔ اسے اپنے ہر عمل سے یہ باور کروا کر اچھی طرح بتا دیا کہ وہ اس کمرے سے ہر رات کیوں چلا جاتا ہے۔ لویزا نے آنکھیں کھولیں وہ اپنا احساس اس کے وجود پر چھوڑ کر جا چکا تھا۔ جس احساس کو جھٹکنا اور اس سے پیچھا چھڑانا اس کہ بس کی بات نا رہی تھی۔
کڑوے کریلے کہیں کے،، لویزا نے پھر پسلیوں سے سر پٹختے دل سے تنگ آ کر تکیے میں منہ دے لیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ حویلی میں سب میر ہادی اور لویزا کا ایک دوسرے سے سرد اور بے تاثر سا رویہ نوٹ کر رہے تھے۔ خاص کر اماں سائیں۔ انھوںنے نے تو میر ہادی سے بارہا پوچھنے کی کوشش کی مگر وہ ٹال گیا۔ لیکن اماں سائیں بھی اس کی دادی تھی۔ زمانہ شناس اور گھاگھ عورت تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ دونوں بس ان سب کے سامنے ہی ایک دوسرے سے ہمکلام ہوتے ہیں نہیں تو شاید نہیں یقیناََ ایک دوسرے سے ناراض ہیں ۔
اور اس دن تو ان کا شک یقین میں بدل گیا۔ جب لویزا اپنی ہی فکروں میں گھل گھل کر چکرا کر بےہوش ہو گئی۔ اماں سائیں کو لگا کہ کوئی خوشخبری ہے۔ پوری حویلی میں ہلچل سی مچ گئی۔
مگر میر ہادی لویزا کو اس سب سے صاف بچا لے گیا یہ بول کر کہ کچھ زارون کی ٹینشن اور کچھ پہلے سے ہی ہوئے بخار نے اس کی طبیعت بگاڑ دی ہے۔
اماں سائیں کا اندازہ یقین میں بدل گیا کہ وہ دونوں ہی ابھی تک ناراض ہیں اور ان کے بیچ اب بھی پہلے دن سی دوریاں یونہی برقرار ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لئے بھی وہ کچھ بہت خاص کرنے کا سوچنے لگیں۔ بلکہ اپنی اس سوچ میں رانا میر ہاشم کو بھی شامل کر لیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آج کا دن بیشمار ہنگاموں بھرا تھا۔ لاؤنج میں میر ہادی نے سب کو اکھٹا کیا تھا۔ اور بخت کے سارے گھر والے بھی موجود تھے۔ فرحین بھی بے چین تھی کہ پتہ نہیں کیا بات ہے جو میر ہادی نے یوں انھیں یہاں بلایا تھا۔ زمرد بھی پہلو پر پہلو بدل رہا تھا چور کی داڑھی میں تنکے کے مترادف کے کہیں میر ہادی نے اس کی کوئی پول پٹی کھولنے کے لئے نا سب کو یہاں بلایا ہو۔
لویزا بھی لاؤنج میں آئی۔ کچھ دیر بعد ہی ہادی بخت کا ہاتھ تھامے لاؤنج میں داخل ہوا جیسے اسے زبردستی لاؤنج میں لایا ہو۔ یہ منظر دیکھ فرحین لویزا کو دیکھ کر طنزیہ سا مسکرائی تھی۔(جیسے کہنا چاہتی ہو دیکھا بی بی خاندانی بیوی خاندانی ہی ہوتی ہے) جبکہ لویزا نے بری طرح لب کاٹتے پہلو بدلہ۔
سب نے نوٹ کیا تھا کہ بخت کے چہرے پر ہوائیاں اڑیں ہوئیں تھیں۔
میں نے کچھ خاص باتیں بتانے کے لئے سب کو یہاں اکھٹا کیا تھا،، میر ہادی نے گلا کھنکار کر بات کا آغاز کیا۔
کیونکہ یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ میں صرف اور صرف رانا لویزا میر ہادی سے محبت کرتا ہوں،،
(میر ہادی کے الفاظ تھے یا کوئی آبِ حیات کا پیالہ جو وہاں بیٹھی ایک لڑکی کو پھر سے معتبر کر کے زندگی بخش گئے تھے وہ روح تک سرشار ہوئی اور فرحین کی جانب دیکھا بھی نہیں مبادا انھیں یہ نا لگتا کہ اب وہ ان کا مزاق اڑا رہی ہے)
تو بخت میرے ساتھ بلکل بھی خوش نہیں تھی اور مجھ سے خلع چاہتی تھی تو ایک سال پہلے ہی میں اسے اس بے نام رشتے سے آزادی دے چکا تھا۔ مطلب میں نے بخت کو طلاق دے دی تھی،، یہ رہے اس طلاق کے پیپر،،
الفاظ تھے کے بم جو میر ہادی نے سب کے سروں پر پھوڑے تھے۔ اوپر سے لاونج کے بیچ و بیچ رکھے گئے ٹیبل پر اس نے اطمینان سے ایک فائل اچھالی۔
طویل لاؤنج میں پن ڈراب سائلنس چھا گئی تھی۔ ایسے جیسے طوفان سے آنے کے پہلے کی خاموشی ہو۔
تو پھر یہ بیغیرت ایک سال سے اس حویلی میں کیا کر رہی ہے اور اب جبکہ تم بھی واپس آ گئے ہو تو ڈوب مرنے کا مقام ہے، چلو یہ نیک کام میں ہی کر دیتا ہوں اس بیغیرت بے حیا کو اس دنیا سے رخصت کر کے،،
زمرد ہی زیادہ آپے سے باہر ہوتا طیش میں بخت کی جانب لپکا تھا جو میر ہادی کے پیچھے قریباً چھپی کھڑی تھی۔
میر ہادی نے درمیان میں ہی اسے گریبان سے پکڑ کر اسے وہیں پٹخا تھا جہاں سے اٹھ کر وہ آیا تھا۔
خبردار زمرد،، کوشش بھی نا کرنا اسے ہاتھ لگانے کی،
کیوں اب یہ تمھاری کیا لگتی ہے،، زمرد پھنکارا۔
میری حویلی میں اس علاقے کے سرپنج کی پناہ میں ہے یہ، ہاتھ تو لگا کر دکھاؤ، میرے گارڈز ایک اشارے پر تمھارا یہ بھیجا اڑا دیں گے،،
میر ہادی نے اتنے سرد لہجے میں کہا تھا کہ پھوٹ پھوٹ کر روتی فرحین نے بھی حیرت سے رانا میر ہادی کی جانب دیکھا تھا۔
اور ویسے بھی یہ کسی کی امانت ہے ہمارے پاس، کچھ دن پہلے نکاح کیا ہے میں نے اس کا،، میر ہادی نے سکون سے کہا۔
رانا میر دراب اور میر ہاشم تو سکون سے بیٹھے تھے کہ جب میر ہادی نے خود کے اس علاقے کا سرپنج ہونے کا اعلان کر ہی دیا تھا تو ان کے بولنے کو کچھ بچا ہی نا تھا۔
کس سے پوچھ کر کس حثیت سے کیا اس کا نکاح، اور کون ہے وہ،، زمرد پھر اس کہ جانب لپکا، بڑی بیغیرت اور بے حیا ہے، اور اتنی چلتر، کہ ایک سے طلاق لے کر دوسرا پھانس بھی لیا، میں زندہ نہیں چھوڑوں گا اس حرافہ کو،،، زمرد نے اپنے منہ سے مغلظات بکے اور چھوٹ چھوٹ کے بخت کی جانب لپکا۔
کنٹرول کرو زمرد کنٹرول، اپنی سو کالڈ غیرت کو قابو میں رکھو، میر ہادی دھاڑتا اسے بیچ راستے میں روک اس کے گریبان کو آیا تھا۔ ویسے تعجب کی بات ہے غیرت و حیا کی باتیں کر کون رہا ہے، جو خود اپنے بھائی کی بیوی پر ہی غلیظ نگاہ ڈالتا ہو غلیظ انسان،، میرے پاس آج بھی وہ فوٹیج محفوظ ہے جس میں لویزا نے گملا مار کر تمھارا سر پھوڑا تھا، خود چاہے گٹر میں منہ مارو، ریشم بائی کی بات کر رہا ہوں میں، دن رات اس کے پلو میں مدہوش پڑے رہتے ہو، کروڑوں کی کرپشن کر چکے ہو، اب جب بہن نے ہر طرح سے جائز طریقے سے اپنا گھر بسایا تو نام نہاد غیرت جاگ گئی ہے تمہاری،، چچ چچچ چچچ زمرد افروز ڈوب مرو چلو بھر پانی میں،، اور ان سب باتوں سے انکار کرنے کی تو کوشش بھی مت کرنا کہ میرے پاس تمھارے کالے کرتوتوں کا ایک ایک ثبوت موجود ہے، جو میں ابھی تمھارے منہ پر مار سکتا ہوں ،، سمجھے،،
میر ہادی نے اسے زمین پر پٹخا۔
زمین پر کیا پٹخا وہ تو پورے خاندان کے سامنے جیسے پاتال کی گہرائیوں میں گرا تھا۔ تمام افراد اسے حیرت و ناگواری سے دیکھ رہے تھے۔
(جبکہ لویزا بھی دم بخود سی بیٹھی تھی یہ سب جان کر کے ایک پہاڑ جتنا بوجھ کندھوں سے سرک سا گیا تھا اور یہ بھی بات حیرت انگیز تھی کہ وہ سب جانتا تھا۔ تو اتنے دنوں سے وہ خواہ مخواہ ہی جلتی کڑھتی رہی اور وہ مزے سے تماشا دیکھتا رہا، اس نے نروٹھے پن سے میر ہادی کو گھورا)
تبھی لاؤنج میں افراسیاب داخل ہوا تھا اور آ کر بڑے حق سے بخت کا بازو تھاما۔
یہ میری بیوی ہے چچی امی، میں نے نکاح کیا ہے بختاور سے اور آج رات کی فلائیٹ سے ہم امریکہ جا رہے ہیں، سیاب بخت کا ہاتھ تھامے فرحین کی جانب آیا تو انھوںنے نے نفرت سے منہ پھیر لیا۔ بخت جو کب سے رو رہی تھی ماں کی یہ بے رخی دیکھ اشکوں میں روانی آئی۔
میر ہادی نے سیاب کو اشارہ کیا وہ بخت کو زبردستی تھامے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ ممتاز بیگم، لویزا اور اماں سائیں اسے ضرور ملیں تھیں۔ اسے ڈھیر ساری نیک تمنائیں اور دعائیں دے کر رخصت کر دیا۔ وہ روتی رہی۔
مگر سیاب اور میر ہادی جانتے تھے وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوجانا ہے یہ طوفان لازمی اٹھنا تھا۔ مگر پھر طوفان کے آنے کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ تمام مسائل حل ہو جانے تھے تمام زخم مندمل ہو جانے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
بخت کو گئے دوسرا دن تھا۔
ساتھ والے گاؤں کے چوہدری کی بیٹی کی شادی تھی اور خاص الخاص اس علاقے کے نئے سربراہ اور نئے سرپنج کو دعوت دی گئی تھی۔
حویلی کے بڑوں کی ملی بھگت تھی۔ کہ میر ہادی اور لویزا کو ایمشنلی بلیک میل کر کے شادی میں شرکت کرنے کے لئے راضی کر لیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ اماں سائیں کی جانب سے میر ہادی کو خاص حکم ملا تھا کہ وہ گاؤں سے کچھ فاصلے پر بنی درگاہ پر لویزا کے ساتھ جا کر چادر چڑھا آئے اور نذر ونیاز تقسیم کر آئے۔
لویزا مان کر نہیں دے رہی تھی۔ مگر ممتاز بیگم نے یہ بول کر منا ہی لیا کہ فنکشن رات کا ہے وہ زارون کو میڈیسن دے کر سلا دیں گی۔ اماں سائیں اور ممتاز بیگم نے اس قدر اصرار کیا کہ اسے مانتے ہی بنی۔
شدید گرمی کی وجہ سے رات نو بجے کا فنکشن تھا ۔ لویزا کو تیار کرنے خاص پارلر والی بلائی گئی تھی۔ جوڑا بھی اماں سائیں نے نکالا تھا۔ شاکنگ پنک ییلو اور گرین امتزاج کی کامدار فراک جسے دیکھ لویزا کی آنکھیں پھیل گئیں
اماں سائیں میری شادی نہیں ہے،،
ارے ہٹ، اتنا بھی کوئی دلہن والا نہیں ہے اب سرپنج کی بیوی ہو، سر جھاڑ منہ پھاڑ تھوڑی جاؤ گی شادی میں،،
اور پھر اس کے نا نا کرتے کرتے اماں سائیں نے اپنے خوب ہی ارمان نکالے پوتے کی دلہن سجانے کے۔
زارون بہل گیا تھا۔ وہ جھنجھلائی سی بیٹھی تھی سات بج چکے تھے۔ وہ عجلت میں فل تیار ہو کر کمرے میں داخل ہوا۔ نگاہ سامنے اٹھی تو پلٹنا بھول ہی گئی۔
آج وہ یوں سج دھج کر بلکل تیار پہلے دن سی کھلتا شفاف، مہکتا، نرم و نازک گلاب ہی تو لگ رہی تھی۔
وہ خود بھی تو بلیک شلوار قمیض میں بلیک واسکٹ پہنے بلیک مردانہ چادر کندھوں پر گرائے کسی سلطنت کا شہزادہ لگ رہا تھا۔
اے لو بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ، چھوٹے سائیں تمھاری شادی نہیں ہے آج،، اماں سائیں کی کراری سی چھیڑتی آواز سنائی دی تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا۔ اور خجل سا ہوا۔ جبکہ لویزا کانوں تک سرخ ہوئی۔
ٹائم ہو گیا ہے،، چلیں،، وہ اس سے مخاطب ہوا۔
اس نے اٹھ کر چادر اوڑھی۔ اماں سائیں اور ممتاز بیگم نے ان کی ڈھیروں بلائیں لیں اور نظر اتاری۔
تب انھیں دعاؤں تلے رخصت کیا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
میر ہادی خود ڈرائیو کر رہا تھا۔ پہلو میں بیٹھی اپنی رگِ جاں کو دیکھا جو لاتعلق سی بنی بیٹھی اس بات پر ناراض تھی کہ بخت والی بات اسے پہلے کیوں نہیں بتائی گئی تھی۔ میر ہادی نے سرد سی آہ بھری۔
موسم اچانک ہی بدل کر بے حد خوشگوار ہو گیا تھا۔ گہرے بادل چھا گئے۔ سب سے پہلے وہ درگاہ آئے تھے۔ فاتحہ خوانی کر کے چادر چڑھائی گئی۔ نذر و نیاز بانٹ کر وہ شادی کے لئے نکلے۔
شادی میں چوہدری کی حویلی میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ لویزا خواتین کی جانب چلی گئی۔ گھر کی خواتین بہت ملنسار اور خوش اخلاق تھیں کہ اسے زرا بھی اجنبیت کا احساس نا ہونے دیا۔
لویزا نے بے تحاشا انجوائے کیا کچھ موسم بہت خوشگوار تھا۔
رخصتی کے وقت سب کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔ فنگشن اختتام پزیر ہوا تو میر ہادی نے واپسی کی اجازت چاہی کہ رات کے گیارہ بج چکے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ناراض ہو ،،؟ واپسی پر گاڑی میں گہرے سکوت کو میر ہادی کی بھاری آواز نے توڑا۔ باہر ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔
آپ نے مجھے بخت کی بات پہلے کیوں نہیں بتائی،،
تمھیں تنگ کرنے کے لئے،، سکون سے مسکراتے کہا گیا۔ حسب معمول وہ بھنائی۔
آپ جانتے ہیں آپ کتنے برے ہیں،، منہ بنایا۔
اتنا بھی نہیں ہوں جتنا تم سمجھتی ہو،، ناچاہتے ہوئے بھی شکوہ لبوں سے پھسلا۔
لویزا کے دل کو کچھ ہوا۔جیسے لب سل گئے۔
صلح نہیں ہو سکتی،، میر ہادی نے پہل کی۔
سوچوں گی،، احسان کیا گیا۔
ابھی وہ کچھ اور بولتی کہ ایک خاص مقام پر سوچی سمجھی پلاننگ کے مطابق گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کی گئی تھی۔ فضا گولیوں کی تڑاتڑاہٹ سے گونجی تو لویزا ہلکی سی چیخ مار کر ہادی کے بازو سے لپٹی۔ گاڑی نے ہچکولے کھائے۔
فائرنگ کرنے والے میر ہادی کی گاڑی ناکارہ کر کے فرار ہو چکے تھے۔
لویزا اسے گاڑی نکلنے نہیں دے رہی تھی۔ مگر حوصلہ نہیں ہارنا چاہتی تھی۔
لیزا کالم ڈاؤن یار کچھ نہیں ہوا ہے،،
وہ نرمی سے اسے لئے گاڑی سے نکلا۔ گاڑی ناکارہ ہو چکی تھی۔ اس نے حویلی فون کرنے کی کوشش کی۔ مگر ایسا ہوا کہ کسی سے بھی رابطہ نا ہو سکا۔
وہ اچھی طرح سمجھ چکا تھا حویلی والوں کی کار گزاریاں۔ کوئی بچہ تو نہیں تھا ایسے کیسے ہو سکتا تھا کہ ایک وقت میں کسی سے بھی رابطہ نا ہو سکے۔
آثار طوفانی رات کے تھے۔ اسے جلد کچھ سوچنا تھا۔ اندھیری طوفانی رات، اور ہر طرف کھیت سناٹا اور ہو کا عالم، لویزا خوفزدہ ہو رہی تھی۔ دور کھیتوں کے پار ایک چھوٹا سا اکلوتا گھر نظر آ رہا تھا۔
چلو لیزا،، میر ہادی اسے تیزی سے لیے اس گھر کی جانب گیا۔ رات کے بارہ بج چکے تھے۔
دروازہ کھٹکھٹانے پر تیسری چوتھی دستک پر لکڑی کا دروازہ کھول دیا گیا۔
میر ہادی نے اپنا تعارف کروایا۔ تو وہ تو اپنے سرپنج جی کو اپنے دروازے پر دیکھ نہال ہی ہو گئے۔
انھیں اندر لے جایا گیا۔
کیا خدمت کی جائے آپ کی چھوٹے سائیں،،؟ وہ ان کے سامنے بچھ بچھ گئے۔
شادی سے کھانا وانا سب کھا کہ آئے ہیں بس اب تو آرام کرنا ہے، صبح کو دیں گے خدمت کا موقع، فی الحال آرام کریں گے،، میر ہادی نے احترام سے کہا۔
معاف کیجیے گا چھوٹے سائیں،، ہم غریب لوگ، اپنے استعمال کے لیے بس دو کمرے ہیں ایک میں ماں باپ آرام کر رہے ہیں دوسرے میں ہم اور بچے، آپ کے شایان شان تو نہیں ہوگا پر گودام میں جگہ بنا دیں گے ہم،، کسان نے ہاتھ جوڑے۔
وہ دونوں شرمندہ ہوئے اور میر ہادی نے ان کے ہاتھ تھامے۔
پلیز، شرمندہ مت کریں، ہم مینج کر لیں گے،، آپ بس ادھر ہی بندوبست کر دیں۔ میر ہادی نے کہا تو کسان نے جلدی سے جیسے تیسے ان کے آرام کا انتظام کیا۔ وہ بہت ملنسار تھے۔ کافی دیر باتیں کرتے رہے۔
ہلکی بارش موسلادھار بارش میں بدل چکی تھی۔ آخر سب آرام کرنے کے لئے اپنے اپنے ٹھکانے لگے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
سب سے پہلے لویزا اس گودام میں داخل ہوئی تھی۔ اندر داخل ہو کر لویزا نے چاروں جانب نگاہ گھمائی تو خوف سے چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔
کچی مٹی سے لیپا گیا کمرہ جس میں گندم اور چاولوں کی بوریاں رکھیں ہوئیں تھیں۔ ملگجا اندھیرا۔ مٹی کی دیوار میں بنے ایک طاق میں ایک دیا کمرے کے اندھیرے کو کم کرنے کی ناکام سی کوشش کر رہا تھا۔
چھوٹے سے کمرے کے بیچوں بیچ رکھی ایک درمیانے سائز کی چارپائی جس پر چھوٹے سائیں کے اعزاز میں نیا گدا، نیا تکیہ اور نئی چادر ضرور بچھائی گئی تھی۔
لکڑی کا دروازہ، اور ایک چھوٹی سی لکڑی کی کھڑکی جو باہر کے سخت طوفان، آندھی اور موسلا دھار بارش کے اثرات کو اندر موجود لوگوں تک روکنے کے لئے ناکافی تھی۔
آج رات ہی اتنی آندھی اور طوفان تھا اور آج ہی یہ حادثہ ہونا تھا۔
میر ہادی اندر داخل ہو کر دروازے کی کنڈی لگا چکا تھا۔ تیز ہوا سے لکڑی کا دروازہ اور کھڑکی دھڑدھڑا رہے تھے۔ ایک چارپائی دیکھ لویزا تذبذب کا شکار ادھر دروازے کے پاس ہی جمی کھڑی تھی۔
لیٹ جاؤ ایلو،،، میر ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔
اور آپ،، لویزا رخ پھیر کر جھجھکتے پوچھ بیٹھی۔
میں مینج کر لوں گا،، اتنے ہی سکون سے کہتے اپنی گیلی ہوئی واسکٹ اتار کر ایک سائیڈ رکھی اور ایک بوری پر نیم دراز ہو کر کچی دیوار سے ٹیک لگا کر آنکھیں سکون سے موند لیں۔ تاکہ وہ سکون سے چارپائی پر لیٹ جائے۔
لویزا آہستگی سے چارپائی پر لیٹی اور چادر اوڑھ لی۔ آنکھیں بند کیں، کروٹ پر کروٹ بدلی۔ باہر زور سے بادل گرجا اور بارش کے برسنے میں مزید شدت آئی۔ دو سینوں میں بھی محبت کے ٹھاٹھے مارتے سمندر میں طغیانی آ رہی تھی۔
چین کسے تھا۔ جھنجھلا کر اٹھی۔
آپ ادھر چارپائی پر آ جائیں وہاں کیسے لیٹیں گے،، مصنوعی بیزاری طاری کرتے کہا۔
ہادی نے آنکھیں کھول کر سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ اور چپ چاپ اٹھ کر چارپائی پر چلا آیا۔ وہ ایک کونے میں سمٹ گئی۔ میر ہادی بھی آرام سے لیٹ گیا۔ نیند کس کمبخت کو آنی تھی۔ پہلو میں موجود اس نرم و گداز وجود نے رگ و پے میں شعلے سے بھڑکائے۔ میر ہادی نے اپنا بازو اپنی آنکھوں پر رکھا۔
اپنے پہلو کے قریب سے اٹھتی مہک نے پھر لیزا کو ان کمفرٹیبل سا کیا۔ لویزا اس سے دور ہونے کے چکر میں اس کی جانب پشت کر کے بلکل چارپائی کے کنارے سے لگ گئی۔
ریلیکس ہو کر لیٹو، ایلو جان کچھ نہیں کہوں گا،، اتنے پرفسوں ماحول نے اس گھمبیر بھاری آواز نے لیزا کے سینے میں اس کی سانس اٹکائی۔
کیسے یقین کروں آپ کی بات کا،؟ تب کیا ہوا تھا؟ خفیف سے طنز کے ساتھ وہ شکوہ کرنے سے باز نہیں آئی۔
تب محبت نے بےچین ہو کر رسوا کیا تھا مجھے، اگر وہ خطا معاف کر سکتی ہو تو احسان ہوگا ناچیز پر،، اس نے اپنا جرم قبول کرتے معافی بھی مانگی۔
اب کیسے صبر آئے گا،،، وہ پوچھ بیٹھی۔
تین سال کیا ہے، صبر کی بھٹی میں تپ کر عشق کندن بن چکا ہے،عشق کی راہوں میں اب ثابت قدم پاؤ گی رانا میر ہادی کو،، وہ سکون سے بولا۔
اس کی باتوں نے دل و جاں میں ایک ہچل سی مچائی تھی۔ لیزا نے جھلا کر آنکھیں بند کیں۔ مگر زیادہ دیر آنکھیں بند کر نہیں پائی۔
چیں چیں کی آواز پر آنکھیں کھولیں، یہ بڑے بڑے چوہوں نے اپنے درشن کروائے تو لویزا کی روح فنا ہوئی۔ ہلکی سی چیخ مار کر جھٹکے سے کروٹ بدل کر اس کے سینے میں منہ دیا تھا۔
کیا ہوا ایلو جان،، میر ہادی کی جان لبوں پر آئی۔ نرمی سے اس کے لمبے گھنے سیاہ بالوں میں انگلیاں پھنسا کر پوچھا۔
ہادی،، وہ،، چچ،، چوہے،،
کدھر،،؟ وہ حیران ہوا اور زرا سا اٹھ کر لویزا کی جانب سے بوریوں کے پاس دیکھا۔ واقعی ایک دو چوہے تھے۔ جو رات کے اندھیرے میں اپنی بلوں سے باہر نکل کر اب دندناتے پھر رہے تھے جیسے یہ ان کے روز کا معمول ہو۔
کچھ نہیں کہتے، میں ہوں ناں، میر ہادی نے دونوں ہاتھ اس کی کمر کے گرد حمائل کیے۔
ہادی مم،، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے،، وہ اٹکتے سانس کے ساتھ بولی۔
مجھے بھی اپنے آپ سے بہت زیادہ ڈر لگ رہا ہے ایلو جان ،، میر ہادی نے بے بسی کی انتہا سے اپنے لب کاٹتے کہا۔ وہ گداز سی گڑیا اس کے سینے سے چپکی اس کے لئے اس گہری طوفانی پرفسوں معنی خیز رات میں ایک امتحان بن چکی تھی۔لویزا خوف کے مارے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ جبکہ میر ہادی سانس بھی نہیں لے پا رہا تھا تبھی ہادی نے کروٹ بدلی۔ لویزا تکیے سے لگی۔ میر ہادی کچھ دیر کے لئے اس پر حاوی ہوا تھا۔
سو جاؤ، ایلو جان، اب اتنا بھی نا آزماؤ کہ اس دیوانے کی جان ہی نکل جائے، وہ بےبسی سے کہتا پیچھے ہٹ کر چارپائی سے ہی اٹھنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
جب لیزا نے بےحد بےچین ہو کر اس کی کمر کے گرد سختی سے بازو حمائل کر کے اس کے کشادہ سینے میں منہ چھپا لیا۔
میر ہادی لویزا کے اس عمل پر بے تحاشا حیران ہوا تھا۔ نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔
ہیے لیزا، پلیز یار مت ڈرو ،، جان لو گی کیا،،،،، میر ہادی کے الفاظ نے منہ میں ہی دم توڑا تھا جب اپنی چن پر ایک ملائم و گداز سا لمس محسوس ہوا۔ شدید خوشگوار سی حیرت تھی۔ کیونکہ لویزا نے اس کی چن پر اپنے لب رکھے تھے۔۔
پھر میر ہادی نے خود کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اب تو وہ خود اپنے آپ کو بھی نہیں روک سکتا تھا۔ جب بے تحاشا بےچین ہو کر وہ گداز سانسیں اپنی دسترس میں لیں۔
لویزا کو لگا اس نے سوئے شیر کو جگا دیا یا صحراؤں میں بھٹکتے کسی پیاسے کو دریا کا پتا بتا دیا۔
ان لمحوں کے دامن میں
پاکیزہ سے رشتے ہیں
کوئی کلمہ محبت کا
دہراتے فرشتے ہیں
خاموش سی ہے زمین ہے حیران سا فلک ہے
ایک نور ہی نور سا آسمان تلک ہے،
نغمے ہی نغمے ہیں جاگتی سوتی فضاؤں میں
حسن ہے سارے اداؤں میں عشق ہے جیسے ہواؤں میں
سمے نے یہ کیا کیا
بدل دی ہے کایا
تمہیں میں نے پا لیا
مجھے تم نے پا لیا
ملے دیکھو ایسے ہے ہم
کے دو سُر ہو جیسے مدھم
کوئی زیادہ نا کوئی کم
کیوں ہے یہ آرزو کیوں ہے یہ جستجو
کیوں دل بے چین ہے کیوں دل بےتاب ہے
دن بدلے راتیں بدلیں باتیں بدلیں جینے کے انداز ہی بدلے
چند لمحوں میں ہی وہ اس کے سینے میں اس کی سانس الجھا چکا تھا۔ کمر پر لگنے والے قمیض پر جھٹکے سے میر ہادی نے اس کی سانسیں آزاد کی تھیں۔ مگر پھر گردن پر شدت سے محبت کے پھول بکھیرے۔
میر ہادی کا ہاتھ اس کی کمر کے گرد لپٹا تھا۔ اسے اپنے سینے میں بھینچتے کندھے سے شرٹ کھسکائی تھی۔ اور خود کو اس میں گم کر دیا۔
پرفسوں لمحوں میں پرفسوں سی خاموشی تھی۔ محبت بےچین ہوئی تھی تو روٹھنے والے خود ہی مان گئے تھے۔
ساری رات وقفے وقفے سے بارش برسی تھی۔ یہ برسات یہ طوفانی رات بھی ان کے ملن کی گواہ بن گئی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
Extra sy bhi extra long or romentic epi😷😷😷
