Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
میر ہادی کب سے چل رہا ہے یہ،، عالی نے اسے بری طرح گھورا۔ شاید تب سے،، جب وہ مجھ سے پہلی مرتبہ ٹکرائی تھی،، میر ہادی کے جواب نے اسے تپا ڈالا تھا۔
میر ہادی پاگل تو نہیں ہو گئے ہو،، عالی کا لہجہ تیز تھا۔
“آف کورس، یس، ایلویرا کے لئے پاگل ہو گیا ہوں،،
“یہ غلط ہے میر ہادی،،
“میں اسے بلکل ٹھیک اور سہی کر دوں گا عالی ،،
“وہ کیسے؟ عالی نے دانت پیس کر کہا۔ مگر اس سے پہلے بحث مزید طول پکڑتی اندر سے لویزا آتی دیکھائی دی تھی۔
“آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں،؟ سب کھانے پر ویٹ کر رہے ہیں آپ لوگوں کا،، لویزا نے کہا تو دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ اور اس کے پیچھے پیچھے دونوں اندر چلے آئے۔
ان چاروں نے سٹیج پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔ لویزا نے پھر ان تینوں کی غیر معمولی خاموشی اور ماحول میں ایک تناؤ سا محسوس کیا تھا۔ کیوں کہ کب سے وہی بولے جا رہی تھی۔
لویزا آج پلیز میرے ساتھ چلو،، بہت پھیلاوا ہے جو سمیٹنا ہے، میری تھوڑی ہیلپ بھی ہو جائے گی،، اجالا نے سب کو اگنور کر کے لویزا کو کہتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لے جانے کے لئے بہانہ گھڑا۔
(مگر مقابل بھی سرپھرے وڈیرا جی تھے)
اجالا کی اس بات پر لویزا نے میر ہادی کی جانب دیکھا۔
“آئی تھنک آپ اس پیشنٹ سے ہیلپ مانگ رہیں ہیں بھابھی، جسے خود ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ بتایا ہوا ہے، اگر ادھر بھی آپ کا خیال نا ہوتا تو میں کبھی بھی لیزا کو اتنے جھنجھٹ میں نہیں ڈالتا،، اس کے گھر پر ہی ریسٹ کرنے کو زیادہ ترجیح دیتا،،
میر ہادی کی بات پر اجالا نے اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا جو سرے سے اس کے بہانے کو ہی رد کر چکا تھا۔
“لیزا،، مجھے ایک امپورٹنٹ کام کے لئے جانا ہے، تمھیں گھر ڈراپ کردوں، جلدی آؤ،، وہ کہہ کر باہر جا چکا۔
لویزا نے مسکین سی شکل بنا کر اجالا کی جانب دیکھا۔ اجالا بمشکل ہی مسکرا پائی تھی۔
جاؤ وہ ویٹ کر رہا ہوگا،، اجالا بہت مشکل سے بول پائی۔ اور اٹھ کر اسے بھینچ کر گلے ملی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ شدید غصے میں اپنی جیولری نوچ نوچ کر ڈریسنگ پر پھینک رہی تھی۔۔اور عالی اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا۔
آخر سمجھتا کیا ہے وہ خود کو، چیپ، گھمنڈی انسان،، ہمت کیسے ہوئی اس کی،، کیوں کر رہا ہے وہ یہ سب،، آخر چاہتا کیا ہے اب اس معصوم جان سے،، برباد تو کر دیا ہے اسے پوری طرح ،، اب کیا چاہتا ہے وہ،، اجالا ہائپر ہوئی۔
وہ لویزا کو چاہتا ہے اجالا،، عالی نے نگاہیں چراتے اجالا کے سر پر بم پھوڑا۔۔
واٹ،، یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ،، ہوش میں تو ہے وہ بندہ،
ہاں سچ بول رہا ہوں اجالا ،،آج اس نے خود میرے سامنے کنفیس کیا کہ وہ لویزا سے عشق کرتا ہے، پاگل ہے اس کے لئے اور اب ساری زندگی اسے نہیں چھوڑے گا،، عالی نے سنجیدگی سے اجالا کو رانا میر ہادی کے نادر خیالات بتائے۔
خام خیالی ہے اس شخص کی،، وہ تو دنیا کا آخری مرد ہو، اور دوبارہ پیدا ہو کر بھی آ جائے تب بھی میں اسے لویزا نا دوں، وہ کس غلط فہمی کا شکار ہے عالی میں یہ سب صرف لویزا کی جان بچانے کو برداشت کر رہی ہوں، نہیں تو آئی سوئیر اس بندے کا منہ نوچ لیتی،،
اجالا نے طیش میں اپنا جوڑا نوچا۔
آؤچ،،،،،،،،،،، خود کو ہی درد دے بیٹھی،
واٹ دا ہیل اجالا خود کو کیوں تکلیف دے رہی ہو،، عالی غراتا اس تک پہنچا تھا اور اسے بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔
وہ اس کے سینے میں منہ دئیے رو رو کر آج کی ساری بھڑاس اور غم و غصہ نکالنے لگی ۔۔
ریلیکس یار،، عالی نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے۔”میں کس طرح تمھیں سمجھاؤں کہ یہ سب لویزا کا نصیب تھا، اس کی تقدیر میں یہی لکھا تھا،، اور میر ہادی کی وجہ سے تم ہمارے اتنے قیمتی پل کب سے ویسٹ کر رہی ہو تمھیں اندازا بھی ہے اس چیز کا،،
وہ اسے سمجھاتے نا چاہتے ہوئے بھی شکوہ کر بیٹھا تو اجالا کے رونے کی شدت میں کمی آئی وہ واقعی کب سے لویزا کی ٹینشن میں عالی کو اگنور کر کے ، آج ہی ان کے بیچ بندھے جانے والے اس انوکھے اور اچھوتے رشتے کے بہت ہی قیمتی پلوں کو محسوس کرنے کی بجائے رونے دھونے میں مصروف تھی۔
آئم سوری،، بلآخر اسے بیچارے مسکین شوہر پر ترس آ ہی گیا اور سوں سوں کرتے منہ سے قیمتی لفظ ادا ہوئے۔
اٹس اوکے،،، روندو کہیں کی،، عالی نے چھیڑا تو وہ اپنے اصلی روپ میں واپس آئی۔
واٹ،، ہاؤ ڈئیر یو،، یہ تو میں اس بات پر آنسو بہا رہی تھی کہ ممی پاپا نے کس ہمٹی ڈمٹی کے پلو سے باندھ دیا مجھے،، وہ بھی سنجیدگی سے آنسو صاف کرتی بولی۔
واٹ میں کارٹون،، اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے،، چمگادڑ،، عالی نے ہنسی ضبط کرتے کہا۔۔ اور وہ حسب معمول تپ گئی۔
واٹ عالی میں منہ توڑ دوں گی آپ کا،،
توڑ دو،، ویسے یہ رات تو منہ چومنے کی ہے،، عالی کے شوشے نے اس کے چودہ طبق روشن کیے تھے۔
عالی،، زیادہ فری ناں ہوں،، اس نے انگلی اٹھا کر وارن کرنا چاہا۔
وہ تو نکاح کے دو بول کے بعد آٹومیٹک ہو گیا ہوں،، عالی نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے۔۔
عالی باز آئیں،، اجالا اس کی پناہوں میں کسمسائی۔
کبھی یوں بھی بول دیا کرو ظالم لڑکی، عالی پاس آئیں،، اس کی گال کو لبوں سے چھوا۔ چلو میں تمھیں بتاؤں آج تم کتنی خوبصورت لگ رہی تھیں،،
اس کے ایک ایک نقش کو اپنے لبوں سے چھو کر محسوس کیا۔ اور محبت کا خراج پیش کیا۔
مم،، مجھے،، نہیں جاننا،، وہ اٹکتی سانس کے دوران اتنا ہی بول پائی۔۔
عالی نے اسے سینے میں بھینچ لیا۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ٹھہرا تھا اس کا دھیان اپنی جانب مبزول کر کے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
پورے دو ماہ گزر چکے تھے۔۔
میر ہادی اپنے ایگزیم میں بزی ہو گیا اور اپنی زیادہ تر راتیں فارم ہاؤس گزاریں۔ وہ تو چاہتا تھا لویزا بھی پڑھ پائے مگر ڈاکٹرز نے یہ بھی منع کر دیا تھا کہ اس سے اس کے برین اور آنکھوں پر وزن پڑتا جو کہ اس کے لئے ٹھیک نہیں تھا۔
اس دوران لویزا پورے پندرہ دن اجالا کے پاس بھی رہی تھی۔
اب جب ایگزیم سے فری ہوا تھا تو وہ حویلی جا چکا تھا اور وہاں جا کر زمینیوں کے بکھیڑوں میں ایسا الجھا کے پورے دو ہفتے اسے وہیں لگ گئے تھے۔
اس دوران وہ کتنا تڑپا تھا کس قدر درد محسوس کرتا تھا یہ تو وہی جانتا تھا۔ یہ دن رات اس نے کیسے گزارے تھے۔ مسئلہِ محبت کا کوئی حل نہیں تھا جو سجھائی دیتا تھا۔
نا اس کے قریب جا سکتا تھا نا اس سے دور رہ پا رہا تھا۔ کرتا بھی تو کیا۔
ادھر لویزا کی عجیب ہی حالت تھی۔ وہ اس کا گریز سمجھ سکتی تھی۔مگر اب تو جو ان کی بیچ دیوار بنی ہوئی تھی وہ بندش بھی کئی دنوں سے ہٹ چکی تھی تو وہ کیوں اس سے بے رخی برت رہا تھا اس کی سمجھ سے بالاتر تھا ۔۔۔اب تو اس کا عجیب ہی رویہ دیکھا اس نے۔ ان دو ماہ میں وہ آفس کے نائٹ شفٹنگ کام کا بول کر بس دن میں ہی آیا گھر،، اور بیچ میں پندرہ دن تو وہ بھی نہیں آیا تھا۔
دونوں کا صبر کا پیمانہ چھلکنے ہی والا تھا۔ بس وقت جانے کونسا طے کیا جانا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
یہ انھیں دنوں میں سے ایک دن تھا وہ حویلی سے لوٹ آیا تھا۔ مگر میر لاج کی بجائے فارم ہاؤس رکا رہا۔۔ دل کو کسی پل قرار نہیں تھا۔ بے خوابی روٹین بن چکی تھی۔
آج صبح سے موسم کافی ابر آلود تھا اور رات تک اسی موسم نے اندھی طوفان کا رخ اختیار کر لیا تھا۔ تبھی پورے شہر کی بجلی گئی تھی۔۔ اس نے افضل کو کال ملائی تھی۔ جوکہ تیسری بیل پر رسیو کر لی گئی۔ مگر جو سامنے سے سننے کو ملا تھا اس سنے اس کے ہوش اڑا دئیے تھے۔ وہ بجلی کی سی تیزی سے اپنا موبائل وائلٹ، اور گاڑی کی کیز اٹھاتا فارم ہاؤس سے نکلا تھا۔
ادھر وہ جو آج جاگ رہی تھی۔ ہر رات کی طرح آج رات بھی نیند اور وہ اس سے کوسوں دور تھے۔۔ رات طوفانی اور دل دہلا دینے والی تھی کہ تبھی لائٹ چلی گئی تھی۔۔ جنریٹر چلتے چلتے اچانک بند ہو گیا تھا۔ کافی دیر تو اس نے موبائل کا ٹارچ جلا کر رکھا مگر پھر چارجنگ ختم ہونے پر وہ بھی جواب دے گیا۔ تب وہ جی جان سے گھبرائی تھی۔۔
پورے رستے اسے اس بات نے پریشان کیا تھا کہ اب وہ اس اندھیرے اور طوفان سے بے تحاشا ڈرتی ہے۔۔ وہ جو اس کے زہن پر سوار تھی دل ہمیشہ اسی کے ساتھ اس کے قریب رہنے کا تمنائی ہونے لگا تھا۔۔
ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ وہاں پہنچا تھا ۔ رات کے ایک بج چکے تھے۔ گاڑی جھٹکے سے میر لاج کے پورچ میں رکی تھی۔۔
وہ تیزی سے گاڑی سے نکل کر اندر لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔ میر لاج اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ کیونکہ جنریٹرز خراب ہو چکا تھا اور کسی گارڈ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اندر ہی چلا جاتا اور صورتحال معلوم کر لیتا۔۔
ہادی اندر کی جانب بڑھا۔
لویزا،، اس نے باہر سے چلا کر اسے آواز دی۔۔ مگر جواب ندارد،، وہ بے تحاشا گھبرایا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا موبائل کا ٹارچ جلاتا بے دھڑک اس کے کمرے میں داخل ہوگیا تھا۔
لیزا،،، اس نے پھر پکارا کمرے سے دبی دبی سسکیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔ میر ہادی کا دل کسی نے پاؤں تلے کچلا۔
لویزا،، اس نے پھر نرمی سے پکارا۔۔
وہ جو بیڈ کے پیچھے چھپی بیٹھی تھی تڑپ کر باہر نکلی اور میر ہادی کے کشادہ سینے سے لپٹتی اس کے سینے میں منہ دے کر سسک پڑی۔ لویزا کے آنسو اس کی قمیض میں جزب ہوئے تھے۔۔
میر ہادی کے سینے میں طوفان سا اٹھا تھا۔ خوف و ہراس سے ٹھنڈے پڑتے وجود کے گرد نرمی سے اپنی مردانہ شال پھیلا کر کمر کے گرد بازو لپیٹ کر اسے مزید خود میں سمیٹا۔۔
کہاں چلے جاتے ہیں آپ مجھے چھوڑ کر؟ کیوں جاتے ہیں؟آخر قصور کیا ہے میرا؟ آپ کو پتہ ہے میں کتنا ڈر گئی تھی،، اتنے دنوں کا غبار نکالتی وہ سسک پڑی۔۔ میر ہادی بس آنکھیں موندے اسے محسوس کیے گیا جیسے اس کا احساس اپنی روح میں اتار لینا چاہتا تھا۔۔
گہری رات، معنی خیز خاموشی،، پرفسوں تنہائی اور بانہوں میں ایک نرم و گداز وجود،،
وہ تو اسے اپنا شوہر، اپنا محرم، اپنے جسم و جاں کا مالک سمجھ کر اس کی جانب بڑھی تھی۔۔
(مگر کیا میر ہادی بھول گیا تھا کہ ان دونوں کے بیچ ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے )
جو اب اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامے نرمی سے اس کے حسین و معصوم چہرے کے ایک ایک نقش کو چوم رہا تھا۔
وہ بہت گہری نگاہوں سے ملگجے اندھیرے میں اس کو دیکھے گیا اور اب میر ہادی کی نگاہوں کا فوکس اس کے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے گداز لب تھے جو لویزا بھی محسوس کرتی نگاہیں جھکا چکی تھی۔ میر ہادی کے حلق میں کانٹے سے اگ آئے رگ و جاں میں ایک تشنگی سی جاگی۔۔ میر ہادی نے نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اس کا ملیح چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔۔
اور اس سے پہلے وہ اس کے لبوں پر اپنے تشنہ لب رکھتا کانوں میں کچھ الفاظ کچھ جملے گڈمد ہوئے تھے۔
(مداوا کیسے کرو گے میر ہادی؟ کیسے کفارا ادا کرو گے اس رات کا؟ نہیں کر پاؤ گے؟)
میر ہادی نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے الگ کر کے دور پھینکا تھا۔ جیسے وہ کوئی اچھوت تھی۔۔ وہ بیڈ پر اوندھے منہ گری حیرت سے گنگ رہ گئی۔۔ وہ اس کا شوہر تھا تو اس کی نزدیکیوں سے اتنا خوف کیوں کھاتا تھا۔ ہر رات کیوں چلا جاتا تھا اس سے دور،، کیوں اس کے چھونے سے جھنجھلاتا تھا۔ وہ بچی تو نہیں تھی جو سمجھتی نہیں،، شاید اس سے اس شخص کا دل بھر چکا تھا یا وہ اپنی بیمار بیوی سے اکتا چکا تھا۔ مگر اب تو وہ مکمل صحت یاب ہو چکی تھی تبھی وہ یہ سوچ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
ائم سوری،، لویزا،،، پلیز،آئم سوری ،،، میر ہادی نے بےبسی سے کنپٹیاں سہلائیں اور بیڈ کے قریب آیا۔
نو ،،،ڈونٹ یو ڈئیر،،، دور رہیں مجھ سے،، اگر دل بھر گیا ہے تو بتا دیں،، اگر اکتا گئے ہیں تو بھی بتا دیں،، اگر کوئی اور مسئلہ ہے تو وہ بھی میں سننا چاہوں گی، مگر اس طرح آپ کو میری ذات کی نفی، اور بےعزتی کرنے کا کوئی حق نہیں،، کوئی حق نہیں آپ کو یوں مجھے دھتکارنے کا،، آپ کا ہتک آمیز رویہ میں برداشت نہیں کر پاؤں گی اب،، مر جاؤں گی، وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی، ہچکیوں کے دوران بولی تھی۔۔
میر ہادی نے بازو سے تھام کر اسے بیڈ سے اٹھایا۔ اور سیدھا کر کے تکیے پر لٹا کر اس پر کمفرٹر اوڑھایا۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو، اپنے دماغ سے یہ فضول باتیں اور سوچیں نکال دو لیزا، پلیز ٹارئی ٹو انڈرسٹینڈنگ می،، میں تمھاری صحت پر کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہتا تھا،،
میں ادھر ہی ہوں لویزا تمھارے بہت قریب،، سو جاؤ شاباش،، وہ سنجیدگی سے کہتا اسے بچوں کی طرح بہلاتا اب اس بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے مگر اس سے قدرے دور ہو کر بیٹھا تھا۔۔
لویزا کا دل کیا اسے گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالے جو نا سہی طرح اسے اپنا رہا تھا نا اسے اپنی نگاہوں سے اوجھل ہونے دیتا تھا۔۔ کیونکہ دن میں تو ہر قیمت پر ہر صورت وہ اسے نگاہوں کے سامنے چاہئے ہوتی تھی۔ مگر رات میں وہ اسے خود سے دور پھینک چکا تھا۔۔
لویزا نے مڑ کر دیکھا وہ مردانہ وجاہت کا شہکار بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے پاؤں بیڈ سے نیچے لٹکائے بیٹھا تھا۔ لویزا نے جھنجھلا کر تکیے میں منہ دیا۔
میر ہادی بند نگاہوں سے اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا تبھی مبہم زخمی سا مسکرایا۔
وہ اس کے پاس بیٹھا تھا تبھی وہ کچھ دیر بعد ہی گہری نیند میں ڈوب گئی۔۔
میر ہادی نے ضبط کے کڑے مرحلے سے گزرتے لال انگارا آنکھیں کھول کر اسے نرمی سے دیکھا۔ ایک سرد سی آہ خارج کی اور خاموشی سے کمرے سے باہر چلا آیا۔۔
باہر افضل ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
افضل اپنی انیکسی میں بوتلیں اٹھا کر لاؤ،، رانا میر ہادی کی ڈیمانڈ پر افضل نے حیرت سے اپنے چھوٹے سائیں کو دیکھا جو آج پورے تین ماہ بعد اس چیز کی فرمائش کر کے انیکسی کی جانب لہو چھلکاتے چہرے کے ساتھ جا چکا تھا۔
افضل بوتلیں تھامے اپنی انیکسی آیا تو وہ چھوٹے سے ٹیبل کے پاس رکھے گئے دو سیٹر صوفے پر بیٹھا تھا۔
پیگ بناؤ افضل،، اس نے سرسراتے لہجے میں کہا تو افضل نے خاموشی سے پیگ بنا دیا۔۔اب اس کے سامنے گلاس پڑا تھا۔ اور وہ اپنی کنپٹیاں سہلا رہا تھا۔ تبھی میر ہادی نے ایک جھٹکے سے ہاتھ مار کر ہر چیز تہس نہس کی تھی۔ بوتلیں فرش پر گر کر چکنا چور ہوئیں تھیں۔
جب عشق اور محبوب مجھ پر حرام ہے،، اسے منہ نہیں لگا رہا تو اس حرام کو کیوں منہ لگاؤں ،، افضل میں پاگل ہو جاؤں گا،، مر جاؤں گا میں اس کے بغیر،، اور دور نہیں رہ سکتا اس سے،، اسے خود سے دور نہیں جانے دے سکتا، افضل میں کیا کروں،،
سر ہاتھوں میں لے کر آج چھوٹا سائیں افضل کے سامنے رو دیا تھا۔
عشق کو حلال کر لیں خود پر چھوٹے سائیں، نکاح کر لیں ان سے،، افضل نے سکون سے کہا رانا میر ہاشم اور رانا دراب کی پرواہ کیے بغیر اسے یہ مشورہ دیا تو وہ چونکا۔۔
کیسے،، وہ تو خود کو میری بیوی سمجھتی ہے افضل، اس کو کیسے سمجھاؤں گا میں،، وہ بے چین سا ہوا۔ جیسے کب سے اس چیز پر عمل کرنا چاہتا ہو مگر کوئی وجہ نا ہو پاس۔۔
وہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں، چھوٹے سائیں،، وہ کل خود آپ سے کہیں گی کہ مجھ سے دوبارہ نکاح کریں،، افضل نے اطمینان سے کہا۔ یقینا اس کے پاس کوئی پلان ہوگا۔
تو ٹھیک ہے افضل،، میں ایک مرتبہ بختاور سے روبرو ہو کر بات کرنا چاہتا ہوں، اور مجھے کسی کا ڈر ہے نا پرواہ ، اسی لئے ابھی کہ ابھی حویلی جا رہا ہوں، اب اور مزید ایک پل بھی صبر نہیں کر پاؤں گا، کل جب میں لوٹوں تو وہ نکاح کے لئے بھی راضی ہو، اور نکاح کی مکمل تیاری کر کے رکھنا، وہ کہتا گاڑی کی چابی لیے باہر نکلا تھا۔ گارڈز کے ہمراہ حویلی کے لئے نکلا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
چند گھنٹوں بعد ہی وہ رات کے جانے کونسے پہر بختاور کے سامنے بیٹھا تھا۔ وہ گہری نیند میں تھی جب میر ہادی نے اسے پکارا تھا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی اور سامنے کھڑے شخص کو ملاحظہ کرنے لگی جو کبھی بے تحاشا گھمنڈی اور مغرور ہوا کرتا تھا مگر اب تو جیسے کسی اجڑی ریاست کا لٹا سلطان لگ رہا تھا۔
رانا میر ہادی اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ چکا تھا۔
اس کا نام لویزا ہے،، میر ہادی کے لہجے میں جیسے برسوں کی تھکاوٹ تھی۔
جیییییی،،،، بختاور نے حیرت سے کی کو لمبا کھینچا۔ ۔تم نے پوچھا تھا اس کا کیا نام ہے، وہی بتانے آیا ہوں بختاور، اس کا نام لویزا ہے، صبح نکاح کرنا چاہتا ہوں اس سے،، کیا تم اجازت دیتی ہو مجھے،، میر ہادی نے کہا تو اس نے پل بھر کو زخمی نگاہوں سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا۔ جس کا ہونا ہی اس کے ہونے کی علامت تھی۔
اگر انکار کردوں اور اجازت نا دوں تو کیا نہیں کریں گے یہ نکاح،، بختاور نے شاید اسے آزمانا چاہا۔۔
ہاں نہیں کروں گا ، کیونکہ میں کسی بھی قیمت پر تمھاری ساتھ نا انصافی نہیں کروں گا، مگر انکار کی صورت تمھیں بیوگی ضرور اوڑھنی پڑے گی خود پر،، کیونکہ اب ایک پل بھی میں اس کے بغیر رہا تو سانس لینا بھول جاؤں گا،، میر ہادی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ جملے ادا کیے تھے۔ بختاور کو اس کی بات پر ایمان لانا پڑا کہ وہ اب واقعی اس کے بغیر جی نہیں پائے گا۔
دی اجازت آپ کو،، آپ کر سکتے ہیں یہ نکاح،، وہ سکون سے بولی تو میر ھادی کو حیرت ہوئی۔
بختاور تم علیحدگی،،،،،
بلکل نہیں،، مجھے منظور نہیں ،، بختاور نے اس کی بات فورا سے پہلے کاٹی۔
تو پھر ٹھیک ہے میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ کسی بھی قسم کی نا انصافی نا ہو تمھارے ساتھ بختاور ، میں پورے دل سے تمھارے ساتھ ،،
نا انصافی تو ہو چکی ہے میر ہادی، کیونکہ آپ کا دل ، روح اور تمام جزبات تو اس کے پاس ہیں ، یہ خالی وجود لے کر آپ میرے پاس آئے ہیں، جو میرے تو کیا کسی بھی عورت کے کسی کام کا نہیں ہوتا، وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی ۔ “مگر مجھے کوئی شکوہ نہیں آپ سے ،، اب آپ سکون سے جائیں، واپس جا کر نکاح کے بھی انتظامات دیکھنے ہوں گے آپ نے،، بہت جلد اسے دیکھنے آؤں گی، اگر آپ کی اجازت ہوئی تو، جاتے ہوئے ڈور لاک کر جائیے گا۔ یہ کہہ کر بختاور نے کمفرٹر میں منہ دیا تھا۔
میر ہادی خاموشی سے وہاں سے نکل آیا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
صبح لویزا کی آنکھ کھلی تو اس کے آس پاس کوئی نہیں تھا۔ وہ بھنا کر اٹھی۔ دل کیا دیوار میں سر دے مارے۔ اس کا بری طرح موڈ آف ہوا تھا۔ وہ کچن میں آئی تو میڈ کے ساتھ ایک نیا چہرہ دکھا۔
فریدہ یہ کون ہے،، لویزا نے حیرت سے پوچھا۔
میری بہن ہے بیگم صاحبہ، آج میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو مدد کے لئے آئی ہے،،
اوکے،، وہ پھیکا سا مسکرائی۔ اس دشمن جاں نے زندگی بے رنگ کر دی تھی بلکل۔۔
دن بھی یونہی بور اور بوجھل ہی گزرا تھا جب وہ لنچ کے لئے لان میں سے کچن کی جانب آئی فریدہ اور اس کی بہن کی سرگوشیوں میں اپنا نام سن کر اس کے قدم خود بخود ٹھٹھک کر لاونج کے دروازے کے پاس رکے تھے۔۔
واقعی ایسا ہے کیا، فریدہ کی بہن کی حیرت میں ڈوبی آواز آئی ابھری۔
ارے ہاں تقریباً تین ماہ پہلے لائے تھے صاحب جی لویزا میڈم کو یہاں، جانے کدھر سے لائے کوئی خبر نہیں،، آ کر بولا کہ وہ ، موا کیا ہوتا ہے کارٹ میرج وہ کی ہے، یہ بیوی ہے میری، لو جی ہو گئی شادی، ایسا بھی کوئی ہوتا ہے، نا لڑکی دلہن کے لباس میں آئی، نا سامان اپنے ساتھ لائی ، نا نکاح نامہ، ایسے تو منہ زبانی کوئی بھی کسی کو بھی گھر لے آئے اور بول دے لو جی یہ میری بیوی ہے، ارے کوئی گواہ ہوتا ہے کوئی ثبوت ہوتا ہے، اور تین ماہ سے اپنے پاس رکھا ہوا ہے،، یہ بھی کوئی بات ہوئی بھلا،،
ارے بہن کہیں نکاح کے بغیر تو نہیں رکھا ہوا میڈم کو،،
سرگوشیاں رگیں کاٹنے والی تھیں۔ لویزا کے پیروں نیچے سے زمین سرکی تھی یا سر سے چادر کھینچی گئی تھی اسے پتہ نا چلا ۔ غم و غصے سے پاگل ہوتی وہ اندر آئی تھی۔۔
یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم لوگ، جرأت بھی کیسے ہوئی یہ بکواس کرنے کی، ایکسیڈنٹ ہوا تا میرا اور اس میں سب چیزیں سپوئل ہو گئیں،، میں تم لوگوں کی زبانیں کھینچ لوں گی، ہاؤ ڈئیر یو،، صدمے کے مارے وہ چلائی۔
وہ دونوں گڑبڑا کر اٹھ کر کھڑی ہوئیں تھیں۔ فریدہ نے تو سر جھکا لیا اور ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے گڑگڑانے لگی کے اسے معاف کر دیا جائے ۔
ارے چھوڑو فریدہ ایسا بھی کیا غلط بول دیا ہم نے، ایکسیڈنٹ ایک بہانہ بھی تو ہو سکتا ہے،، اور بیگم صاحبہ اگر آپ کو اتنی ہی بری لگ رہی ہیں ہماری باتیں تو لائیں اپنا نکاح نامہ اور لا کر ہمارے منہ پر مار کر ہمیں دکھا دیں،، ہم ابھی آپ کے سامنے سو سو جوتے اپنے سروں پر مار لیں گی، مگر آج جو سوال ہم نے کیا ہے کل وہ کسی اور نے کیا تو کیا جواب دیں گی آپ، ہے کوئی جواب آپ کے پاس، نہیں ہے،، ہم تو آپ کی بھلائی کے لئے ہی بول رہے تھے،، کہ جلد اس بارے میں اور اپنے بارے میں کچھ کریں آپ، تاکہ یہی بات جو آج ہم نے بولی کل کو پورا زمانہ نا بولے،، چلتی ہوں فریدہ ،، اللہ حافظ،،
یہ سب بول کر وہ جا چکی تھی۔
بیگم صاحبہ مجھے معاف کر دیں، خدا کے لئے صاحب جی کو مت بتانا وہ میری کھال ادھیڑ دیں گے،،
اقبال کاکا،، وہ چلائی۔۔ تبھی اقبال جو وہیں آس پاس موجود تھا بھاگ کر اندر آیا تھا ۔۔
ہادی کدھر ہیں اقبال کاکا،، مجھے ملنا ہے ان سے ابھی اور اسی وقت،، وہ دھواں دھواں چہرہ لیے بولی تھی۔
کچھ ضروری کام تھا بٹیا،، گھر ہی لوٹ رہے ہیں، راستے میں ہیں بس پہنچنے ہی والے ہیں،، مگر ہوا کیا بٹیا،،
جب وہ آئیں تو کہنا سب سے پہلے مجھ سے ملیں، نہیں تو لاش ملے گی انھیں میری، سمجھے آپ،، وہ کہتی پھوٹ پھوٹ کر روتی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ اقبال اپنے پلان کی کامیابی پر دھیمے سے مسکرایا اور فریدہ کو کچن میں جانے کا اشارہ کیا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
Extra long epi… 😷😷
مبارکاں مبارکاں🎉🎉، جس کا تھا انتظار 👀آ گیا وہ شہکار…. کل میر ہادی اور لویزا نکاح اسپیشل ایپی ہو گی.
