Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

وہ فریش ہو کر واش روم سے باہر نکلی تھی۔ آہستگی سے محتاط قدم اٹھاتی ڈرسنگ تک آئی۔ بلیک فراک ٹراؤزر میں ممتا سے بھرا بھرا پر نور وجود، دوپٹہ بیڈ پر پڑا تھا۔ نائن منتھ سٹارٹ ہو چکا تھا، ممتا کے نور نے ایک الگ ہی الوہی روپ بخشا تھا اسے، تبھی میر ہادی جو ابھی ابھی روم میں داخل ہوا تھا اسے دیکھ اپنی جگہ پر قدم جم چکے تھے۔
لویزا نے خود کو گہری نگاہوں کی تپش کے حصار میں پایا تو پیچھے مڑی۔
مگر اسے یوں خود کو دیکھتے پایا تو چہرہ نے لہو چھلکایا اور دل یکدم سکڑ کر پھیلا۔ اب تک وہ اس کی ان نگاہوں کی تاب لانے کی سکت خود میں نہیں پاتی تھی۔ تبھی آگے بڑھ کر شال اٹھائی اور اپنے وجود کے گرد لپیٹی۔
وہ اس کی اس شرمانے کی ادا پر سرشار سا ہوتا گہرا مسکرایا۔ اور اس کے قریب آیا۔
ہو گئی پیکنگ ایلو جان،،؟ اسے بازوؤں کے حصار میں بھر کر ماتھے پر لب رکھتے پوچھا۔
ہادی کیا ہے آپ کو،،اس نے اکتائی سی شکل بنائی، آپ جائیں نا جہاں جانا ہے، مجھے ساتھ لے جانا ضروری ہے کیا،،میں ادھر ہی رہ جاتی ہوں اجالا میرے پاس آ جائے گی، اس حالت میں میں ہر جگہ جاتی پھروں، شرم آتی ہے مجھے اور آپ،،
اششششش،،،، میر ہادی نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی۔
جانا بھی ضروری ہے، اور تمھیں ساتھ لے جانا تو اور بھی ضروری ہے، میں نہیں چاہتا جب وہ وقت ہو اور میں تمھارے پاس نہ ہوں، اسی لئے تمھارا میرے پاس میرے قریب ہونا بے تحاشا ضروری ہے،، وہ نرمی سے اسے بیڈ پر بٹھاتا اس کے بال برش کرنے لگا۔
پریگنینسی کے ان مہینوں میں کیا کچھ نہیں تھا جو میر ہادی نے اس کے لئے نا کیا تھا۔
اس کی ہر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھا۔ اس کے پل پل بدلتے موڈ سوئنگز کو تحمل سے برداشت کیا۔ نا صرف برداشت کیا بلکہ ہر تکلیف ہر درد میں اس کی دلجوئی کی۔

اور اب بابا اور دادا سائیں کی طرف سے اسے اس شرط پر سیاست سے جان چھڑانے کا موقع مل رہا تھا کہ فی الحال وہ آنے والے الیکشن کی چلنے والی کمپین میں ان کا ساتھ دے اور مختلف شہروں میں ہونے والے جلسے اور میٹنگ کو اٹینڈ کرے۔
اب بھی انھوںنے اسے فیصل آباد جانے کا کہا تھا۔ ان گزرتے مہینوں میں ایک دن ایک بھی رات میر ہادی نے لویزا کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا۔ تبھی اب بھی اسے ساتھ لے جانے کی ضد کر بیٹھا تھا۔
مگر نہیں جانتا تھا یہ ضد اس کی زندگی کا غلط ترین فیصلہ تھا کہ جس کی وجہ سے اس کا سکھ چین، نیند سکون سب برباد ہو جائے گا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

فیصل آباد گھنٹہ گھر کے قریب رائل ہوٹل کے باہر گاڑی رکی تو افضل نے جلدی سے اتر کر میر ہادی کی جانب کا دروازہ کھولا تھا۔
جبکہ میر ہادی نے دوسری طرف آ کر لویزا کی جانب کا دروازہ کھولا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ لویزا نے میر ہادی کا ہاتھ تھاما اور آہستگی سے گاڑی سے باہر آئی۔ وہ بڑی سی شال میں خود کو کور کیے ہوئے تھی۔
لویزا کی نگاہ ہوٹل کے مخالف سمت سڑک کے اس پار اٹھی تو پلٹنا بھول گئی تھی۔ وہ کھوئی کھوئی سی آس پاس کے مناظر دیکھ رہی تھی۔
ہادی آگے بڑھا مگر لویزا کا ہاتھ تھام رکھا تھا وہ آگء نہیں بڑھی تو اسے بھی رکنا پڑا۔
چلو لیزا،، ہادی نے اس کو متوجہ کرنا چاہا۔
نو ہادی،، مجھے وہ سامنے وہاں ایک مٹھائی کی شاپ ہے ادھر کا پتیسہ کھانا ہے،، وہ مچلی۔
لیزا، تمھیں کیسے پتہ،، میر ہادی کا سانس اٹکا۔
مجھے پتہ ہے چلیں تو سہی،، لویزا نے کہا تو مجبوراً اسے سڑک کے اس پار جانا پڑا۔
مگر لویزا کو سڑک کے اس پار جا کر سخت مایوس ہونا پڑا کیونکہ وہاں مٹھائی کی دکان کی بجائے ایک بڑا ریسٹورنٹ تھا۔
میر ہادی نے سکون کا سانس لیا۔
دیکھا نہیں ہے مٹھائی کی شاپ اب چلو،،
تبھی رانا میر ہادی کو اپنے ریسٹورنٹ کے باہر کھڑے دیکھ مینجر خود باہر آیا تھا۔
آئیے نا سر، پلیز تشریف لائے،، اس نے مسکرا کر کہا۔
نو،، تھینکس، میری وائف کو جس چیز کی تلاش تھی وہ تو ملی نہیں، اب کچھ نہیں چاہیے،، میر ہادی نے مسکراتے آسودگی سے کہا۔
کیا چاہیے تھا آپ کی وائف کو سر،، مینجر حیران ہوا۔
یہاں ایک مٹھائی کی شاپ ہوا کرتی تھی، اور اس کا پتیسہ بہت مشہور تھا شاید یا ہو سکتا ہے مجھے غلط فہمی ہوئی ہو،، لویزا نے مایوسی سے کہا
یس میم،، یہاں میرے بابا کی مٹھائی کی شاپ تھی، اور ان کا پتیسہ بہت فیمس تھا، مگر دو سال پہلے ان کی ڈیتھ کے بعد ہمیں وہ شاپ سیل کرنی پڑی،مگر اسی جگہ پر میں نے اپنے ریسٹورنٹ کا آغاز کیا ہے، آپ تو پہلی مرتبہ آئی ہیں ناں یہاں ؟ تو آپ کو کیسے معلوم،
مینجر کی بات پر لویزا کا چہرہ کھلا تھا جبکہ میر ہادی کے چہرے پر تاریکی چھائی تھی۔
رئیلی، ایسا ہے کیا، اور اس مٹھائی کی دکان کی بیک سائیڈ پر ، ایک بڑی مسجد ہے، ہے ناں،،
یس میم،، بلکل ایسا ہی ہے، مینجر کو حیرت ہوئی۔
ہادی مجھے لگتا ہے میں یہاں پہلے بھی آئی ہوں، سب جانا پہچانا لگ رہا ہے، سب کچھ، آپ مجھے یہاں گھمائیں ناں، ہو سکتا ہے مجھے سب یاد آ جائے،
لویزا،، ابھی چلو یہاں سے،
نہیں ہادی، مجھے مسجد دیکھنی ہے، وہ مچلی
نو لیزا، تم تھک گئی ہو گی، طبیعت خراب ہو جائے گی چلو یہاں سے،، میر ہادی کا بس نہیں چل رہا تھا اسے یہاں سے غائب ہی کر دے۔ لہجے میں پہلی مرتبہ اس کے لئے سختی در آئی تھی۔
نہیں مجھے وہ اس شاپ سے بیک سائیڈ والی گلی دیکھنی ہے،،
نو،، تم ابھی کہ ابھی ہوٹل چل رہی ہو،، وہ غرایا۔ اور اس سے پہلے میں تمھیں اٹھا کر لے جاؤں لیزا چلو یہاں سے،، وہ دانت پیس کر بولا۔
اور لویزا کا بازو پکڑ کر اسے تقریباً گھسیٹتا ہوٹل کی جانب لے گیا۔ میر ہادی کی گرفت میں اتنی شدت اور وحشت تھی کہ لویزا کی حیرت و صدمے والی کیفیت تھی۔
ہوٹل میں کمرے میں لا کر ہی اس کا بازو اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا۔
ہادی واٹس رونگ ود یو،،؟ لویزا روہانسی ہوئی۔
واٹ،، میں نے کیا کیا،، ٹائم نہیں تھا لویزا مجھے میٹنگ کے لئے نکلنا ہے،، میر ہادی نے نگاہیں چراتے کہا۔
اب تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے آپ چاہتے ہی نہیں کہ میری یادیں واپس آئیں، ہادی کیا ہوا تھا ہمارے پاسٹ میں بتائیں مجھے،، وہ اس کے سامنے آئی تھی۔
کچھ نہیں ہوا تھا، دماغ پر مت زور ڈالو،، طبیعت خراب ہو جائے گی، ریسٹ کرو، میں میٹنگ اٹینڈ کر کے آتا ہوں،، پھر جہاں چاہو گی وہاں گھما کر لاؤں گا،، اوکے، اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرتے ماتھے پر تشنہ لب رکھے۔ اسے تسلی دی۔ اور بیگ میں سے فائل نکال کر باہر نکلتا چلا گیا۔
کوریڈور سے نکلتا وہ باہر آیا تھا۔ گارڈز، اور افضل اس کے پیچھے تھے۔
چھوٹے سائیں مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے،، افضل نے کہا تو میر ہادی گہری سوچ میں ڈوبا۔
اونہہہہہ،، مجھے بھی، ایسا کرو، ڈیٹیلز نکلواؤ کہ اس کا اس شہر سے کیا تعلق کیا لینا دینا ہے، میٹنگ کے بعد مجھے تمام ڈیٹیلز اپنے ٹیبل پر چاہیں،، رائٹ،
جی چھوٹے سائیں،افضل نے اثبات میں سر ہلایا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

میٹنگ کے بعد جو ڈیٹیلز اس کے ٹیبل پر تھیں وہ ناقابلِ فہم تھیں اور میر ہادی کے ہوش ضرور اڑا گئیں تھیں۔
لویزا کی پیدائش تک اسی شہر کی تھی۔ یہیں پل بڑھ کر جوان ہوئی اور ابھی کچھ عرصے پہلے وہ لوگ لاہور شفٹ ہوئے تھے۔ لویزا کے یونی جانے کی وجہ سے، ان کا پرانا گھر اسی مسجد والی سٹریٹ پر تھا جہاں وہ جانے کی ضد کر رہی تھی۔
میر ہادی کا دل کیا اسے یہاں سے لے کر کہیں غائب ہی ہو جائے۔ وہ غلطی سے وہاں آن پہنچا تھا جہاں کہ چپے چپے سے اس کی یادیں وابستہ ہوں گیں۔
مگر اسے تین دن با امر مجبوری یہاں رکنا ہی تھا۔

تین دن ہو چکے تھے، وہ یا تو اتنا ہی مصروف تھا جتنا ظاہر کر رہا تھا۔ کیونکہ پہلے بھی لاکھ مصروفیات ہونے کے باوجود کبھی یوں نہیں ہوا تھا۔ کہ میر ہادی کے پاس اس کی بات سننے کا بھی وقت نہیں ہو اور وہ اس کی جانب سے بلکل ہی لاپرواہ ہوجائے۔ اب تو جیسے وہ وہاں ہو کر بھی وہاں نہیں تھا۔
کئی مرتبہ اسے اس نے کہنے کی کوشش کی کہ وہ باہر جانا چاہتی ہے، جانے کیوں دل ہمک ہمک کر اسی گلی میں جانے کو چاہ رہا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

آج یہاں ان کی پارٹی کا بہت بڑا پاور شو تھا۔ بڑے پیمانے پر جلسے کی تیاریاں کی جا رہیں تھیں۔ میر ہادی اسی سلسے میں گراؤنڈ میں تھا۔ جبکہ اس کے روم کے باہر کافی سارے گارڈز پہرہ دے رہے تھے۔
وہ مختلف سوچوں کی الجھن کا شکار تھی۔ اس پر متضاد یہ کہ میر ہادی نے کہا تھا وہ تیار رہے انھیں جلسے کے بعد فورا یہاں سے نکلنا ہے۔

وہ یہاں گھومے بغیر بلکل بھی واپس نہیں جانا چاہتی تھی۔۔
اسی لئے چپکے سے خود کو چادر سے مکمل طور پر ڈھانپے پچھلے کوریڈور کے دروازے سے باہر نکلی۔ مختلف کمروں کے پیچھے سے وہ ہوٹل کے گیٹ تک پہنچی اور بڑی آسانی سے گارڈز کو چکما دے کر وہاں سے نکل آئی۔
سڑک کراس کر کے وہ مسجد سے سامنے والی سٹریٹ میں داخل ہوئی تھی۔ اور قدم خود بخود اپنے گھر کے سامنے آ کر رکے۔
کھوئے کھوئے انداز میں اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ کچھ چہرے،زہن میں واضح ہونے لگے کچھ باتیں زہن میں گونجنے لگیں۔
لیزوووووووو،،،،،
بابا،،، وہ جھٹکے سے پیچھے مڑی۔ مگر کوئی نہیں تھا۔
(دیکھیں زرا، اپنی لاڈلی کو پھر لڑکوں کو پیٹ کر آ گئی، اور اپنا حشر بھی بگاڑ لیا، ارے میں پوچھتی ہوں، یہ کیوں ہے اتنی مرد مار،، لڑکیوں جیسی کوئی بات بھی ہے اس میں کہ نہیں،،
چھوڑو بھی نیک بخت، مجھے میری پرنسسز یونہی شیرنی کے روپ میں اچھی لگتی ہے، ابھی جو گیدڑوں کا حشر کیا دیکھا میں نے،، ہاہاہاہا،)
امی،، بابا،، لویزا بے چین ہوئی۔

تبھی ایک لڑکی باہر آئی تھی۔
لویزا تم،،، وہ اسے دیکھ اس کے گلے سے لپٹ ہی گئی۔۔
تم،، تم فوزی ،فوزیہ ہو ناں،،لویزا نے زہن پر زور ڈالا۔ کئی چہرے، باتیں، جگہیں، واقع آپس میں گڈ مڈ ہوئے۔ لویزا نے اپنی کنپٹیاں سہلائیں۔
ہاں میں فوزیہ، تمھاری بچپن کی سہیلی،، آؤ اندر آؤ ناں،، اس نے لویزا کا بازو تھاما اور اندر چلی گئی۔
تم ہمارے گھر میں کیسے،، لویزا نے کہا تو اس نے مڑ کر حیرت سے اسے دیکھا۔
لیزا بھول گئیں،، انکل اقبال سے یہ گھر ہم نے ہی تو خریدا تھا۔
وہ کھوئی کھوئی سی صحن میں لگے اس امرود کے درخت کے پاس آئی۔
(بابا،، مجھے وہ امرود کھانا ہے، مگر میرا ہاتھ نہیں پہنچ رہا اس تک،، وہ روہانسی ہوئی۔
میں اپنی پرنسز کو وہی لا کر دوں گا زرا صبر کرو، ابھی لایا، اب وہ سٹول رکھ کر اسے سب سے اوپر والا امرود توڑتے نظر آئے سٹول زرا سا ہلا۔
بابا،،،،،،،،،،)
بابا،، لویزا چیخی،
کیا ہوا لویزا،، فوزیہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
نن،، نہیں کچھ نہیں،، لویزا نے اپنا ماتھا سہلایا۔
یہ وہی درخت ہے جس کے نیچے ہم کھیلا کرتے تھے، تم ٹھہرو میں تمھارے لیے چائے بناتی ہوں۔
وہ گئی تو لویزا نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔
اسے واقعی تنہائی چاہیے تھی۔
اس درخت کے دوسری طرف لویزا کے بابا نے اس کا نام بھی لکھا تھا۔ وہ جلدی سے اس جانب گئی۔۔

کب سے جو دھندلے چہرے تھے دماغ میں وہ واضح ہونے لگے۔
باتیں وضاحت سے سنائی دینے لگیں۔ واقعات اور جگہیں بھی واضح ہونے لگی۔ اسے سب یاد آنے لگا۔ اس نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔
یہاں تک تو ٹھیک تھا۔
مگر اس سے آگے لاہور شفٹنگ
یونیورسٹی کی زندگی،
رانا میر ہادی، اور اس سے جھگڑا
تھپڑ،
اس کی کڈنیپنگ، اور وہ اندوہناک خبر،،
وہ حادثہ،،
پھر ایک شخص کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن جانا،
اس کا من پسند کھلونہ بن جانا،
جھوٹ ، جھوٹ اور صرف جھوٹ،
ہر بات جھوٹ، ہر عمل جھوٹ،
سراب،
پھر تو وہ محبت بھی محبت نہیں جھوٹ تھا۔
مکرو فریب کا جال،

لویزا کا دل بند ہونے لگا۔ ہوا میں آکسیجن کی سخت کمی محسوس ہوئی۔ دم گھٹنے لگا۔ وہ تیزی سے اس گھر سے باہر نکلی تھی۔
غائب دماغی سے ہی سڑک پر چلنے لگی۔

یادِ ماضی،،،،،،،،،،، عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

اے کاش، ایک مرتبہ پھر ایسا کچھ ہو جائے اور اس کا حافظہ چھین لیا جائے، یا وہ کبھی یہاں آئی ہی نا ہوتی۔ بے تحاشا روتے رستے بھی بار بار دھندلانے لگے۔ سانس لینے میں دقت محسوس ہو رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ نیم جان وہیں کہیں گر پڑتی موبائل نکال کر جلدی سے لاہور کے لئے کیب کروائی تھی۔
تمام رستے وہ ڈرائیور کی پرواہ کیے بغیر پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی تھی۔

کیسے لاہور پہنچی، کیسے اپنے لاہور والے گھر کے باہر گاڑی سے نکلی، ڈرائیور کو پیسے کیسے دئیے، اسے کچھ خبر نہیں تھی۔ بس آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔ اور وقتا فوقتا جسم و جاں میں درد کی ٹیسیں سی اٹھ رہی تھیں۔
وہ بے جان سی اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی تھی دروازے پر لگے تالے کو گھورے جا رہی تھی۔ جب محلہ والے اسے اتنے عرصے بعد ایسی حالت میں وہاں کھڑے روتے ہوئے دیکھ اپنے گھروں سے باہر نکلے تھے۔
“ارے دیکھو کتنی بے شرم ہے منہ کالا کر کے، باپ کو کھا کر پھر یہیں چلی آئی،،
“تو اور کیا خود کشی نا کرتا تو اور کیا کرتا،،
“دل بھر گیا ہو گا تو چھوڑ دیا اور یہ آ گئی واپس اس کا پاپ اپنی کوکھ میں لے کر،
“نکالو اس گند کے ڈھیر کو یہاں سے،،
وہ منافق جو کسی والی وارث کے نا ہونے پر ان کا مکان ہتھیانے کے چکروں میں تھے انھیں زیادہ آگ لگی تھی۔ وہی زیادہ بول رہے تھے۔

لویزا کی برداشت کی حد ہوئی تھی۔
بکواس بند کرو اپنی اپنی،، رانا میر ہاشم کو تو جانتے ہی ہو گے تم لوگ،، وہ استہزایہ سے لہجے میں دھاڑی تھی۔ ” انھیں کے پوتے کا پاپ ہے میری کوکھ میں، اب اگر نہیں چاہتے کہ میری ایک فون کال پہ تم لوگوں کو بوریا بستر اس محلے سے ہی گول ہو جائے تو دفع ہو جاؤ یہاں سے،،
وہ چلائی اور محلے والے دم دبا کر اپنے اپنے گھروں میں بند ہوئے تھے۔
آپ یہاں کیوں آئیں بہن،، جائیے یہاں سے،، ان کے گھر کے ساتھ والے گھر میں رہنے والے ایک بندے کو ہی اس کی حالت پر ترس آیا تھا۔
آپ ایک احسان کریں مجھ پر بھائی یہ تالہ توڑ دیں مجھے اندر جانا ہے،، وہ بمشکل بول پائی۔

اس بھلے آدمی نے اینٹ سے تالہ توڑا تھا۔
وہ اندر داخل ہوتی چلی گئی۔
اندر ہر طرح بابا کی یادیں بکھری پڑیں تھیں۔
جسم و روح جیسے روند دئیے گئے تھے۔ دل جیسے پاؤں کے نیچے کچل دیا گیا تھا۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے لاؤنج تک آئی تھی۔
درد کی لہریں تھیں جو اب برداشت سے باہر تھیں۔
مگر وہ ڈھیٹ بنی چھوٹے سے لاؤنج کے کارپٹ پر بیٹھتی چلی گئی۔

اس زندگی سے ،ایسی زندگی سے تو بہتر تھا وہ یہیں اسی جگہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتی جہاں اس کے بابا نے اپنی جان دی تھی۔
وہ بے حال لہولہان ہوتی وہیں گرتی چلی گئی، گہری غنودگی میں جاتے جیسے اقبال صاحب مسکراتے اس کے سامنے آئے تھے۔
بابا،،،،، اس نے ان کی جانب ہاتھ بڑھایا جیسے کہنا چاہتی ہو مجھے بھی ساتھ لے جائیں۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ ابھی ابھی اپنی سپیچ دے کر سٹیج سے نیچے اترا تھا بلیک شلوار قمیض میں براؤن مردانہ شال کندھوں پر ڈالے عجیب ہی رعب ودبدبہ تھا جب افضل اس کے کان کے قریب آیا۔
چھوٹے سائیں بہو بیگم ، ہوٹل کے روم میں نہیں ہیں اور آس پاس کہیں بھی نہیں ہیں،،
افضل نے رانا میر ہادی کے سر پر بم پھوڑا۔
واٹ،، وہ دھاڑا۔ اور گارڈز کدھر مر گئے تھے،،
وہ تیزی سے وہاں سے نکلا۔ باقی وزراء اسے آوازیں دیتے رہے مگر وہ گارڈز کی زیر نگرانی وہاں سے تیزی سے نکلا۔
ادھر ہی تھے چھوٹے سائیں، شاید بہو بیگم، بیک ڈور سے نکلی ہیں، ہوٹل کے سی سی ٹی وہ کیمرے سے اسی گلی میں جاتی دکھائی دی ہیں،، افضل نے ڈیٹیلز بتائیں۔
پھر ،، میر ہادی کے انگ انگ سے بے چینی چھلک رہی تھی۔
ہمارے آدمی ہر جگہ پھیل چکے ہیں،، چھوٹے سائیں وہ اس گھر میں گئیں تھیں جو پہلے ان کا تھا،، اور مجھے لگتا ہے کہ بہو بیگم کو سب یاد آ گیا ہوگا،، افضل نے کہا تو میر ہادی کے قدم وہیں ٹھٹھک کر رکے تھے۔
زخمی نگاہوں سے اسے دیکھا۔ افضل نے بے بسی سے نگاہیں جھکائیں۔
اس کا نمبر ٹریس کرواؤ افضل،، وہ گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔ داؤ پر جیسے زندگی لگی ہو۔
پہلے ہی کروا چکے ہیں، پوچھ تاچھ اور ان کے فون ریکارڈز سے پتہ چلا وہ ایک کیب کے زریعے لاہور کے لئے نکلی ہیں،،
جھٹکے سے وہاں سے گاڑیاں نکلی تھیں۔ اور ہوا سے باتیں کر رہیں تھیں۔۔۔ میر ہادی کافی ریش ڈرائونگ کر رہا تھا۔ کافی دفعہ ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا۔
کیسے پتہ چلا افضل اس کا،، میر ہادی کا چہرہ اسے کھونے کے خوف سے لٹھے کی طرح سفید پڑ چکا تھا۔ اوپر سے اس کی ایسی حالت کبھی بھی وہ تکلیف میں پڑ سکتی تھی۔ پھر اپنے بچے کے بارے میں سوچ سوچ کر وہ پاگل ہوا جا رہا تھا۔
روز کی طرح ڈاکٹر بہو بیگم کا بی پی چیک کرنے آئیں تھیں تو وہ کمرے میں موجود ہی نہیں تھیں، پھر گارڈ نے مجھے فون کیا اور میں نے فورا یہ سب معلومات اکٹھی کیں،، افضل نے بتایا وہ بھی پریشان تھا۔

ہم اس سے کتنی دور ہیں افضل،، میر ہادی نے اپنی رسٹ واچ میں ٹائم دیکھا۔
تقریبا چالیس کلو میڑ،، مگر یہ فاصلہ کم ہوا جا رہا ہے چھوٹے سائیں،، افضل نے کہا تو میر ہادی کے ایک سرد سی آہ بھری۔ سینے میں سانس الجھ چکی تھی۔ جس سے ڈرتا تھا وہ وقت آن پہنچا تھا وہ بھی اتنے نازک وقت پہ،
یہاں آنا اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا تھا۔
محبت، زندگی، اس کی جینے کی وجہ، سب ہاتھ کی مٹھی سے سوکھی ریت کی طرح پھسلتا محسوس ہو رہا تھا۔

وہ کیسے لاہور پہنچا تھا وہی جانتا تھا۔۔ فون کی لوکیشن اسی کے پرانے گھر کی تھی۔ بہت جلد وہ وہاں پہنچے تھے۔
محلے میں اتنی شاندار گاڑیوں کی لائن لگی تو محلے والے بھی تجسس کے مارے باہر نکل آئے تھے۔
وہ دیوانوں کی طرح گاڑی سے نکل کر اندر کی جانب بھاگا تھا۔ افضل اور گارڈز دروازے پر ہی رک چکے تھے۔
وہ اندر آیا تو پیروں تلے سے زمین کھسک چکی تھی۔ سامنے ہی وہ زمین پر دگرگوں حالت میں بے ہوش پڑی تھی۔
لیزا،، میری جان،، وہ اسے ایسے دیکھ ماہی بے آب کی طرح تڑپا تھا۔ پاگلوں کی طرح اس پر جھکا اور سر اٹھا کر بانہوں میں بھرا،،
لویزا،، لیزا، میری جان،، میری زندگی،، پلیز مجھ سے بات کرو، آنکھیں کھولو،
وہ اس کے چہرے پر جھکا تھا۔ میر ہادی کے آنسو اس کی گال پر گرے تھے۔
وہ بے ہوشی میں بھی اپنے وجود پر اس کا لمس محسوس کر کے بری طرح جھٹپٹائی تھی۔ اور اس کے ہاتھ پرے جھٹکنے کی کوشش کی۔ میر ہادی نے اذیت سے اپنے لب کچلے۔ اپنی چادر اس کے وجود پر لپیٹی اسے بانہوں میں بھرا اور باہر نکلا۔۔
گارڈز اسے باہر آتا دیکھ الرٹ ہوئے۔ میر ہادی نے نرمی سے اسے گاڑی میں لٹایا۔ خود پاس آ کر بیٹھا اور اس کا سر اپنے سینے پر رکھا۔
ائم سوری،، میری جان،،
گاڑیاں تیزی سے وہاں سے ہاسپٹل کی جانب روانہ ہوئیں تھیں۔ اس نے فون نکال کر اجالا کو میسج کیا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ہاسپٹل پہنچے تو کچھ ہی دیر میں عالی اور اجالا بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔
اس کی طبیعت نہیں سنبھل رہی تھی اور وہ بے ہوشی میں جو بول رہی تھی اس سے ان تینوں کی اچھی طرح اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کی یاداشت واپس آ چکی تھی، اور اس سے میر ہادی کو دل کا خون نچڑ چکا تھا۔ روح جسم سے نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔

اس کی آہیں، سسکیاں اور چیخیں پورے ہاسپٹل میں گونج رہیں تھیں،، وہ نیم جان سی نیم غنودگی میں چیخ رہی تھیں،
“ڈاکٹر مجھے،،،،،،،،، زہر کا،،،،،،،،،، انجیکشن،،،،،،،،، لگا دو ،،،،،،،خدا کے لئے، میں زندہ نہیں،،،،،،، رہنا چاہتی، مار ڈالو مجھے، اپنے بابا کے قاتل ،،،،،،،،کا بچہ نہیں ،،،،،،،پیدا کرنا ،،،،،،چاہتی میں ،، مار ڈالو ،،،،،مجھے، ،،،،،زہر کا انجیکشن،،،، لگا دو ،،،،،،مجھے،، کوئی سنتا ،،،،،کیوں نہیں،، وہ بار بار چیختی اٹکتی سانسوں کے بیچ ایک ہی بات کی تکرار کیے جا رہی تھی۔

باہر وہ سرخ انگارا روئی ہوئی نم آنکھیں لیے دیوار سے ٹیک لگائے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ پاس ہی عالی تھا اور اجالا اس کی چیخیں سن، میر ہادی کی دگرگوں حالت دیکھ بری طرح اپنے لب کچل رہی تھی جب ڈاکٹر روم سے بےحد پریشان سی باہر آئی۔
مسٹر ہادی، پیشنٹ کا بہت بلڈ لوس ہو چکا ہے، بےبی کی دھڑکن بھی بہت سلو ہے، نا ہونے کے برابر، فورا آپریٹ کرنا پڑے گا، مگر آپریٹ کے لئے بھی ان کا خاموش اور پرسکون ہونا بہت ضروری ہے جو وہ ہو نہیں رہیں اور اپنا بی پی خطرناک حد تک ہائی کرتی طبیعت خراب کر رہی ہوں،،
الفاظ تھے کہ پگھلا ہوا سیسہ جو ڈاکٹر،، اس پہلے سے ہی شکست خوردہ اور ہارے ہوئے نیم جان شخص کے کانوں میں انڈیل رہیں تھیں۔
ڈاکٹر میں ایک دفعہ بات کرنا چاہوں گی، اجالا نے کہا تو ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلایا۔
اجالا نے پیچھے مڑ کر میر ہادی کو دیکھا جو جھکے کندھوں کے ساتھ اب دونوں آنکھوں پر اپنا ہاتھ رکھ چکا تھا۔
وہ روم میں داخل ہوئی تھی۔
لیزا،، لیزا،، اس کا چہرہ تپھتپھاتے خون میں لت پت اسے پکارا۔
اس نے بمشکل آنکھیں کھول کر پکارنے والی کی جانب دیکھا۔
اجا،،،،، اجالا،، میں مر جانا چاہتی ہوں،، مم،،، مجھے اپنے بابا کے پاس،،، اجالا، مجھے زہر،،،،،،،،، انجیکشن،،

“شٹ اپ لیزا، ایک تپھڑ لگا دوں گی میں تمھارے منہ پر،، اجالا پھنکاری اور اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔ “میری بات غور سے سنو لویزا،، وہ چھوڑ دے گا تمھیں،، جیسے تم کہو گی دور چلا جائے گا تم سے،، مگر یہ بچہ اسے چاہیے، سمجھیں،، اسے سہی سلامت اس کے حوالے کرو گی تم،، رائٹ، اور اب تمھاری آواز نا آئے،، اجالا نے کہا تو اس کے رونے میں اضافہ ہوا تھا مگر فرق اب اتنا تھا کہ وہ اول فول بولنا بند کر چکی تھی۔

ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلایا اور اسے آپریشن تھیٹر لے جا گیا۔
اجالا باہر آئی تو سامنے کھڑے اس شخص کی لال انگارا وحشت سے بھر نگاہوں میں دیکھ خود اس کا دل ڈوب کر ابھرا۔
میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا بھابھی،ابھی جو آپ نے اسے کہا، وہ دھواں دھواں چہرے لیے اتنا ہی بول پایا ۔ حلق میں پھندا سا لگا تھا۔
اسے پرسکون کرنے کے لئے بولا میں نے،، اجالا نے اسے تسلی دینا چاہی۔
مگر اب تو یہ وقت طے کرنے والا تھا کہ میر ہادی ایسا کچھ کرے گا یا اس کی جان بچانے کو اسے ایسا کرنا پڑے گا ہر صورت،

Continue,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️