Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 37
No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
لویزا نے کمرے میں آ کر اپنی کنپٹیاں سہلائیں۔ محبت نے سینے میں جلن کی صورت سانس سی اٹکائی ہوئی تھی۔
جب وہ پاگلوں کی طرح پیچھے پیچھے پھرتا تب دم گھٹتا تھا ۔اب جب اس نے اسے اس کے حال پر چھوڑ رکھا تھا یا اس کی من مرضی کو اہمیت دے رہا تھا مگر لویزا کی دانست وہ اسے اگنور کر رہا تھا تو اب بھی وہ بری طرح چڑ رہی تھی۔ تڑپ رہی تھی۔ بیزار ہو رہی تھی۔
ادھر ادھر چکر لگاتے وہ مسلسل دانت کچکچا رہی تھی۔
اونہہہہہ،،، کڑویلے کریلے کہیں کے،جان بوجھ کر کر رہے ہیں ناں ایسے، آخر سمجھتے کیا ہیں اپنے آپ کو، میں بھی دیکھتی ہوں کب تک اگنور کرتے ہیں مجھے،،
وہ دندناتی ڈریسنگ کی جانب گئی۔ وڈیرہ جی اتنا دماغ گھما چکے تھے کے اپنا آرام دہ سوٹ نکالنے کی بجائے بلو کلر کا ڈریس نکالا۔
فیروزی کرتی، بلوں والی نیلی شلوار اور بلو اور فیروی کلر کمبنیشن کا دوپٹہ لیے واش روم گھس گئی۔
اچھی خاصی خنکی تھی۔ مگر ٹھنڈے شاور کے نیچے کھڑے ہو کر ، کھولتا دماغ ٹھنڈا کرنا چاہا۔
وہ شاور لے کر باہر آئی تھی۔
اور گیلے کمر سے نیچے تک جھولتے بال ڈرائیر سے سکھانے کی بجائے یونہی برش پھیر کر کھلے رہنے دئیے۔ دوپٹہ بیڈ پر پڑا تھا جسے اوڑھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔
میر ہادی زارون کو گود میں اٹھائے روم میں داخل ہوا تو بے تحاشا چونکا۔ بلکہ اپنے بلکل سامنے اس اپسرا کے دو آتشہ حسن کو دیکھ چاروں شانے چت ہوا۔ ایک مرتبہ نگاہ اٹھی تو پلٹنا بھول گئی تھی۔ وہ یونہی اسے دیکھتا بیڈ تک آیا تھا۔
جبکہ لویزا ایک پرحدت نگاہ خود پر سر تا پا محسوس کی تو روح تک سرشار ہوئی۔
اونہہہ آئے بڑے اگنور کرنے والے،،، دل ہی دل میں اپنی کامیابی پر خود کو داد پیش کی۔
مما آپ ریڈی ہو رہی ہیں ہم کہیں جا رہے ہیں کیا،؟ زارون نے مما کی اٹینشن سیک کرنے کی ہانڈی بیچ چوراہے پھوڑی تو وہ بری طرح گڑبڑائی ۔
زارون دودھ پیا آپ نے اور ابھی میڈیسن بھی لینی ہے،، وہ دوپٹہ اٹھا کر کچن میں ہی بھاگ گئی۔
میر ہادی اس کی حرکتوں پر گہرا مسکرایا۔ ایلو جان کا یوں اس کی توجہ حاصل کرنے کے جتن اسے روح تک سکون پہنچا رہے تھے۔
مگر جب تک اب وہ خود اس کی جانب قدم نہیں بڑھائے گی وہ بھی اس کے قریب نہیں جانے والا تھا۔
لویزا کچن سے واپس آئی۔ زارون کو میڈیسن دی اور دودھ پلایا۔
چلو سو جاؤ چیمب،، میر ہادی نے کہتے زارون کو لٹا کر اس پر کمفرٹر درست کرتے بیڈ سے اٹھنا چاہا جب زارون جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔
بابا آپ ہمارے شاتھ نہیں شوئیں گے،، وہ ناراضگی سے بولا تھا۔
میر ہادی نے ایک نگاہ لویزا کی جانب دیکھا جو زارون کے ساتھ بیٹھی بری طرح انگلیاں چٹخا رہی تھی۔
اوکے میں یہیں سوؤں گا،، چلو اب جلدی سے اچھے بچوں کی طرف آنکھیں بند کرو،، میر ہادی کہتے زارون کے قریب نیم دراز ہوا۔
اب وہ تینوں ہی بیڈ پر لیٹ گئے تھے۔
بابا ایک کوشچن پوچھنا ہے آپ شے،، زارون نےکہا۔
زارون سو جاؤ پلیز،،، لویزا کو یہ ڈر تھا وہ کوئی اور ہی پول پٹی نا کھول دے۔
مما مجھے نینی نہیں آ آرہی ناں،، اس نے منہ بنایا۔
اوکے پوچھو،، میر ہادی نے مداخلت کی اور صلح جو انداز اپنایا۔
بڑی دادو بول رہی تھیں ناں زارون کا برادر یا ششٹر آئے گی تو کب آئیں گے وہ،؟ معصومیت سے پوچھا گیا۔
لویزا نے گڑبڑا کر ان کی جانب سے مخالف سمت کروٹ بدل لی جبکہ میر ہادی گہرا مسکرایا۔
جب الله تعالیٰ نے چاہا،، ( کاش وہ بول سکتا جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ تمھاری ممی نے بھی چاہا) میر ہادی نے زارون کو بہلایا۔
الله تعالیٰ کب چاہیں دے،؟ پھر سوال آیا۔ لویزا کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ ہاں مگر میر ہادی کے جواب بڑی توجہ سے سن رہی تھی۔
کیوں میر زارون کیوں پوچھ رہا ہے؟ جب میر ہادی کو کوئی جواب نا سوجھا تو پوچھ بیٹھا۔
شب کے بردرز اور ششٹرز ہیں، میلے فرینڈز کے، ایک زارون کے نہیں ہیں، مجھے بھی چاہیے ناں،، زارون نے سر پر ہاتھ مار کر اپنا مسئلہ بتایا۔
اوووو،، اس لئے،،، تو الله تعالیٰ سے دعا کر کے مانگو ناں کے تمھیں جلدی جلدی بردر یا سسٹر دے،، میر ہادی نے مسکراتے لویزا کی پیٹھ کی جانب دیکھ کر کہا۔
او ہاں، میں دعا مانگوں گا یا الله تعالیٰ کے پاس خود جا کر لے آؤں گا،،
زارون،، لویزا نے تڑپ کر کروٹ بدلی۔ میر ہادی بھی زارون کی بات پر اسے ٹوکنے والا تھا مگر اس سے پہلے ہی لویزا چیخ اٹھی۔
چپ کر کے سو جاؤ زارون، نہیں تو پنش کروں گی،، سمجھے،، لویزا نے اسے ڈانٹا۔
اس نے ناراض ہو کر میر ہادی کے سینے میں منہ دے لیا۔
نگاہوں سے نگاہیں ملیں۔ دونوں نگاہوں میں ہی گلے شکوے تھے۔ لویزا نے نگاہیں چرائیں اور پھر سیدھی ہو کر لیٹ گئی۔
میر ہادی نے زارون کی پیٹھ تھپتھپائیں تو وہ جلد ہی گہری نیند سو گیا۔ مگر دو وجود تھے جن کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔
وہ زارون کو نرمی سے تکیے پر شفٹ کرتا اٹھ بیٹھا۔
وہ بھی کونسا سوئی تھی۔ سانس روکے اس کا ہر عمل نوٹ کر رہی تھی۔ میر ہادی نے مڑ کر پھر اس کی جانب دیکھا۔ ایک سرد سی آہ بھری تھی۔ پھر بے اختیار و بے لگام ہونے سے بہتر تھا یہاں سے فارم ہاؤس یا ڈیرے پر ہی چلا جاتا۔
بختاور سے کچھ پیپر سے متعلق بھی تو ڈسکس کرنا تھا۔ تبھی آہستگی سے اٹھا اپنی الماری میں رکھے گئے پیپر نکالے اور کمرے سے باہر نکل آیا۔
لویزا جھنجھلا کر اٹھی تھی۔
اور اسے جاتے دیکھا۔ دو آنسو ٹوٹ کر گالوں پر گرتے بے مول ہوئے تھے۔ اس نے تکیے میں منہ دے لیا۔ دل اس بے مہر کی کج ادائیوں پر پسلیوں سے سرٹکرانے لگا۔
اونہہہ اب میری کیا ضرورت، شاید ہر ضرورت اب وہ پوری کر رہی ہو،،
یہ سوچ آتے ہی بے آواز پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ سب کچھ برداشت تھا یہ کہاں برداشت تھا کہ وہ اس کے علاوہ کسی کو دیکھے بھی۔ قریب جانا تو دور کی بات۔ ماہی بے آب کی طرح تڑپتی رہی۔
کچھ دیر ہی گزری تھی کہ زارون اٹھ بیٹھا۔
مما بابا کدھر ہیں،،
آ جائیں گے زارون سو جاؤ پلیز،، لویزا نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کر کے اسے تسلی دی۔
نو ،،نو،، مما مجھے تو بابا چاہیں، وہ ضد کرنے لگا۔
زارون پلیز، آ جائیں گے سو جاؤ، لویزا جھنجھلائی اب اگر وہ بے وفا بیوفائی پر اتر ہی آیا تھا تو وہ کیوں اپنا آپ اس پر ظاہر کر کے اپنے آپ کو بےمول کرتی۔
زارون رونے لگا تھا۔ لویزا نے بے بسی سے زارون کو دیکھا پھر تنگ آ کر گود میں اٹھا کر کمرے سے باہر نکل کر آخر بخت کے دروازے تک آئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
میر ہادی بخت کے روم میں آیا تو وہ جاگ رہی تھی۔
جاگ رہی ہو، میر ہادی نے کہا۔
ہاں، بخت صوفے کی جانب آئی۔
خوشی کے مارے، میر ہادی نے چھیڑا۔
جی نہیں، آپ نے ہی کہا تھا میرا انتظار کرنا تبھی جاگ رہی ہوں، وہ تڑخ کر بولی۔
ہاں تو تمھیں حویلی سے امریکہ دفعان کرنے کی فل پروف پلاننگ جو کرنی ہے،اسی لیے ان پیپر پر سائن لینے تھے، ویسے بھی میری بیوی خواہ مخواہ جل جل کر اپنے جسم کا آدھا خون جلا چکی ہے، اس سے پہلے زیادہ دبلی ہو تم حویلی سے نو دو گیارہ ہو جاؤ، میر ہادی نے ایک سرد سی سانس بھرتے بتایا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔
ابھی وہ پیپر ٹیبل پر بکھیر کر کچھ ضروری ڈسکس کر رہے تھے کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
دوسری دستک پر میر ہادی نے دروازہ کھولا تھا۔ اور اپنے سامنے اسے پا کر اور اس کی لال سرخ سوجی آنکھیں دیکھ حیرت ہوئی۔
بابا،، زارون نے میر ہادی کی جانب اپنی بانہیں پھیلائیں۔ میر ہادی نے زارون کو اپنی گود میں بھر لیا۔
سوری میں نے آپ لوگوں کو ڈسٹرب کیا، مگر یہ کس طور مان کر نہیں دیا، آپ لوگوں کا اسپیشل ٹائم برباد ہو گیا،،
کافی چبھتا ہوا سا لہجہ تھا لویزا کا۔ میر ہادی کو سوئیاں سی چبھی۔ وہ جھٹکے سے جانے لگی تھی تبھی لیزا کی کلائی میر ہادی کی وحشی سی گرفت میں آئی تھی۔
کیا مطلب ہے ڈسٹرب، اسپیشل وقت،، اس بکواس کا مطلب رانا لویزا میر ہادی،،، وہ آہستگی سے پھنکارا۔
ناچاہتے ہوئے بھی لویزا نے ایک تیکھی نگاہ کمرے کے اندر دوڑائی۔
ٹیبل پر کچھ پیپر بکھرے ہوئے تھے اور ان کے سامنے بخت بیٹھی حیرت سے انھیں دیکھ رہی تھی۔
ہادی چھوڑیں میرا بازو،،، وہ بوکھی شیرنی بنی غرائی۔ مگر کاش، سامنے والا اس کا خراب ہوا مزاج درست کر سکتا۔
پہلے اپنی بات کی وضاحت دو، کیا مطلب تھا تمھاری بات کا،اور ایسا کچھ نہیں ہے جو تم سوچ رہی ہو، وہ سنجیدگی سے بولا اور وضاحت دینا چاہی۔
آپ کو کیا،؟ میں ہوتی کون ہوں جسے وضاحتیں دے رہے ہیں، لیو می، وہ اپنا بازو چھڑاتی اپنے روم میں آ کر بند ہوئی تھی۔ اور پھر بے تحاشا روئی تھی۔
میر ہادی نے پیچھے مڑ کر بخت کی جانب دیکھا۔
پیپر سمیٹ دو بخت باقی کا کل دیکھیں گے،،
میر ہادی نے کہا اور جانے لگا۔
اور اب آپ اسوقت کہاں جائیں گے بےبی کو لے کر،، وہ حیران ہوئی۔ رات کے دو بج چکے تھے۔
امی سائیں کے کمرے میں جائیں گے ہم، وہ تہجد کے لئے اٹھ چکی ہوں گی،
میر ہادی کہتا وہاں سے نکل آیا۔ واقعی ممتاز بیگم کے روم میں آیا تو وہ جاگ رہی تھیں۔ جبکہ میر دراب کچھ ضروری مسائل میں گھرے مردان خانے ہی سو گئے تھے۔
ارے کیا ہوا اتنی رات کو کہاں بھٹک رہے ہیں باپ بیٹا،،
آپ کی ظالم بہو ہے ناں باپ بیٹے پر ظلم ڈھانے والی،، میر ہادی نے کہتے سوتے زارون کو بیڈ پر لٹا دیا۔ ممتاز بیگم بھی بیڈ پر بیٹھ گئیں میر ہادی نے ان کی گود میں سر رکھا۔
کیا ہوا، ایک بیوی نہیں منائی جا رہی تم سے میرا ہادی شرم کرو،، ممتاز بیگم نے اسے چھیڑا۔
پھر وہ سب بتاتا چلا گیا۔
بختاور کی بات پر ممتاز بیگم نے فخر سے بیٹے کو دیکھا اور اس کی پیشانی چومی۔
اور اب آپ کی پاگل بہو کو شاید یہ لگ رہا ہے کہ میں اس سے بیوفائی کر رہا ہوں،، میر ہادی نے اطمینان سے کہا۔
تو سمجھاؤ، اسے بتاؤ کہ ایسا کچھ نہیں ہے،، ممتاز بیگم نے کہا۔ اور اسکے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
ایک مرتبہ بختاور کے پیپر کمپلیٹ ہو جائیں، ویزہ ٹکٹ سب کچھ، اس کے بعد تو سب کو حقیقت پتا چل ہی جائے گی، اس وقت تک تڑپے یونہی،جیسے مجھے اتنے سال سولی پر لٹکائے رکھا، اب زرا اس کی باری،، مجھے اس کی جیلسی اچھی لگ رہی ہے دراصل، میر ہادی نے شرارت سے کہا تو ممتاز بیگم نے اس کے سر پر چپت رسید کی۔ بہت جلد وہ بھی گہری نیند سو گیا۔
ممتاز بیگم مسکراتی وضو کرنے اٹھیں۔
تہجد میں دعائیں مانگنے کے لئے کہ ان کے بیچ سب ٹھیک ہو جائے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
میر ہادی روم سے گیا تو اس نے ڈور لاک کیا۔ واقعی وہ سہی چھیڑ رہا تھا۔ خوشی کے مارے نیند کس کمبخت کو آنی تھی۔ کب سے کوشش کر رہی تھی سونے کی مگر سو نا پائی۔ آخر جھنجھلا کر اٹھی۔
اور مسکراتی واش روم گئی۔ شاور کے نیچے کھڑے ہو کر اچھے سے فریش ہوئی۔ دماغ کچھ زیادہ ہی گھوم گیا تھا تبھی کپڑے تو لائی ہی نہیں تھی اسی لئے باتھ ٹاول لپیٹے گنگناتے ہوئے باہر نکلی۔
آج لگتا ہے میں ہواؤں میں ہوں
آج اتنی خوشی ملی ہے،،
آج بس میں نہیں ہے من میرا
آج اتنی خوشی ملی ہے،،
ڈریسنگ کے سامنے گنگناتے آچانک اس کا خیال آیا تو اپنے آپ سے ہی شرماتے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا۔
ویری بیڈ، تم تو اپنے آپ سے ہی شرما رہی ہو تو میرے سامنے کیا کرو گی،،
اپنے پیچھے بے حد قریب سے سنائی دی گئی اس سرگوشی نے بخت کے پیروں نیچے سے زمین کھینچی تھی۔ تبھی جھٹکے سے آنکھیں کھولیں اور آئینے میں سے اپنے پیچھے کھڑے اس وجود کو دیکھا۔
ہائے،، اس نے آئینے میں سے ہی ہاتھ ہلا کر وش کیا۔
بخت اس سے پہلے حلق پھاڑ کر پوری حویلی کو جگاتی سیاب نے بجلی کی سی تیزی سے ہاتھ رکھ اس کا منہ بند کیا اور کمر کو اپنی گرفت میں لیا۔
وہ لہو چھلکاتے چہرے سمیت بری طرح جھٹپٹائی۔
سیاب نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔
بخت نے اپنا آپ چھڑوا کر اس کے سینے پہ مکے برسائے۔
حد ہے ویسے،، بےشرمی کی، بے شرم،، ایسے کوئی کسی کو دیکھتا ہے،، سیاب شرم کریں،، وہ آہستگی سے غرائی اور رات کے اس پہر اپنے اس حلیے پر شدید جھنجھلائی۔
سیاب نے اس کی کلائیاں تھام کر اپنے سینے پر رکھیں تھیں۔ اور اس کہ کمر پر ہاتھ رکھے۔
وہ کیا کہتے ہیں اس رات کو گولڈن نائٹ،، لوگ بےشرم ہو ہی جاتے ہیں، اور بےشرمی پر اتر ہی آتے ہیں،
کیا لینے آئے آپ یہاں ،، سوال پوچھ کر احساس ہوا کس قدر بےتکا سوال پوچھ بیٹھی ہے وہ، پوچھ کر خود ہی شرمندہ بھی ہوئی۔
تھوڑے سے پیار کو سودا کرنے آیا تھا تم سے،، کچھ ضروری پوائنٹس ڈسکس کر لیں،، وہ بے حد شرارت سے بولا۔ ویسے کچھ لوگ دن میں بہت شوخے ہو رہے تھے انھیں کے کسے بل نکالنے آیا ہوں،،،
رنگ ڈھنگ ہی بدل گئے تھے۔ انداز بدل گیا تھا نگاہیں بدل گئیں تھیں۔ رشتہ بھی تو بدل گیا تھا۔
بخت کی روح فنا ہوئی۔
سیاب،، پلیز،، وہ روہانسی ہوئی نگاہیں جھکا کر التجا کی۔
کیا سیاب،، تمھارے انتظار نے بتیس سال کا بڈھا بنا دیا ہے، اور خود تم ستائیس سال کی بڈھی بن گئی ہو، اب تو زرا سا رومینس بھگارنے دو،، وہ اطمینان سے بولا۔
کیا میں آپ کو بڈھی نظر آ رہی ہوں،، بخت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
نہیں، فی الحال بلکہ کم از کم آج کی رات نہیں لگ رہیں، لہجے کی گھمبیرتا نے بخت کے ہوش اڑائے۔ سامنے والے کی نگاہیں بھٹک کر ان جھکی پلکوں کی معصوم سی لرزش میں الجھی تھیں۔ تبھی زرا سا جھک کر ان پلکوں کی لرزش کو چوم کر محسوس کیا۔
سس سیاب،، وہ کسمسائی۔
اشششششش،، لبوں پر انگلی رکھی۔ اور گداز لبوں کی نرماہٹوں کو انگلیوں کی پوروں سے محسوس کیا۔
افراسیاب نے اس کے چہرے کو تھام کر ایک ایک نقش کو عقیدت و احترام سے چوما تھا۔
آج بخت کو معلوم ہوا چاہے جانے کا احساس کتنا خوبصورت، مسہور کن اور دلفریب تھا۔ چاہے دیر سے ہی سہی اپنی غلطیوں کا ازالہ جب کیا تو اب قسمت بھی مہربان ہوئی تھی۔ اس کے لمس میں شدت سی تھی محبت و عقیدت ۔
بخت کو اپنی قسمت پر رشک آیا۔ پتہ ہی نہیں چلا کب خوشی و شکر کے آنسو آنکھوں سے جاری ہوئے۔
سیاب کو جب اس کے چہرے پہ نمی سی محسوس ہوئی تب وہ تڑپ کر اس سے دور ہٹا تھا۔
بخت کیا ہوا میری جان،، سیاب پوچھ بیٹھا۔ آئم سوری، اگر میرے کسی عمل سے تمھیں تکلیف پہنچی، بخت میں بلکل تمھیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا،،
وہ شرمندہ سا ہوا اسے لگا شاید اس کی بے اختیاری سے وہ ہرٹ ہوئی۔
وہ جانے لگا جب بخت اس کی پشت سے لپٹی۔ اور پھر آنسو بہانے لگی۔ وہ اسے سمجھ کر مسکرایا۔۔
او تو یہ بات ہے، ڈئیر وائفی، پیچھے مڑ کر اسے بانہوں میں بھرا اور بیڈ پر لٹا کر اس کا سر اپنے سینے پر رکھا۔
دھیمے سے بہت نرمی اور محبت سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
سو جاؤ بخت،، وہ دھیمے سے بولا۔
گہری رات، نیند سے بوجھل آنکھیں اور روح تک میں اترتا سکون، من چاہے ہمسفر کی پناہوں کے حصار میں مقید، وہ، نیند کیوں نا مہربان ہوتی۔ وہ جلد ہی گہری نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔
افراسیاب مسکرایا۔
نرمی سے اس کا سر تکیہ پہ رکھ کر ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی۔ اور وہاں سے چلا آیا۔
Continue,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
