Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
ہیے میرا بےبی،،، کیسا ہے،، لویزا نے زارون کا ماتھا چوم کر بیڈ پر بیٹھ کر اس کے ننھے گداز ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے۔
آج اسے ایڈمٹ ہوئے تیسرا دن تھا۔ وہ کافی کمزور بھی تھا تبھی اس کی ٹریٹمنٹ جاری تھی۔
ائم فائن مما،، وائی آ ر یو ترائنگ ،،؟ زارون کو لویزا کے مسلسل آنسو بہانے سے حیرت ہوئی۔
نو،، آئم ناٹ کرائنگ مائی بےبی،، میں نہیں رو رہی،، لویزا نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے۔
مما مجھے کا ہوا ہے،، ہم گھر کوں نہیں جارہے،، زارون نے معصومیت سے پوچھا۔
میرے بریو بےبی کو ہلکا سا ٹمپریچر ہوا ہے، بس جب ٹھیک ہو جائے گا تو ہم گھر چلے جائیں گے اینڈ یو نو واٹ زارون بےبی کے لئے مما کے پاس ایک بگ سرپرائز ہے،،
لویزا مسکرائی تو زارون کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
واٹ مما،،،
نو بتا دیا تو سرپرائز کیسا،، لویزا نے زارون کی چھوٹی سی ناک دبائی تو اس نے برا سا کیوٹ سا منہ بنایا۔
پھر لویزا نے زارون کو گود میں بھرا اور سٹوری سناتی رہی وہ جلد ہی پھر سے گہری نیند سو گیا۔
لویزا اپنی آنکھیں صاف کرتی روم سے باہر آئی تھی۔ ممتاز بیگم کی بھی صدمے سے طبیعت خراب ہو گئی تھی تبھی میر دراب انھیں گھر لے جا چکے تھے۔ اب لویزا عالی، اجالا، میر دراب اور بخت تھے ہاسپٹل میں۔
وہ باہر آئی تو ایک خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔ کافی سالوں بعد ظفر اور ممتاز بیگم(لویزا کی پھپھو) اس کے سامنے کھڑی تھیں۔ ایک اور لڑکی بھی ساتھ تھی ۔ جس کی گود میں تقریبا ڈیڑھ سال کا بچہ تھا جو یقینا نوین ظفر کی بیوی تھی۔
وہ کافی دیر پھپھو کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روتی اپنا غم غلط کرتی رہی۔ پھر نوین اور اس چھوٹے سے کیوٹو سے بھی ملی جو اپنی گول گول آنکھوں سے لویزا کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ نوین بھی اسے دیکھ مسکرائی۔
ویسے تو ہمیں تمھیں ملنے سے بہت سختی سے منع کیا گیا تھا اسی لئے اتنے سال تم سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی کہ ہم غریب اتنے بڑے لوگوں سے الجھنے کے قابل نہیں تھے مگر ایک ضعوری بات تھی جو میں اور ظفر تمھیں بتانا چاہتے تھے جس سن کر شاید تمھاری زندگی کے اتنے قیمتی سال اتنی اذیت میں نا گزرتے،، ممتاز بیگم نے کہا تو لویزا نے اذیت سے اپنے لب کاٹے جبکہ عالی نے بری طرح نگاہیں چرائیں۔
مگر اب تمھارے بچے کی طبیعت کا سنا تو خود کو روک نہیں پائے، کیسی طبیعت ہے اب ہمارے بچے کی، ممتاز بیگم نے نم آنکھوں سے اس سے پوچھا۔
وہ ٹھیک نہیں ہے پھپھو،، میں کیا کروں کے وہ بلکل ٹھیک ہو جائے،، لویزا نے اپنی کنپٹیاں سہلاتے رندھی آواز میں کہا۔
زارون کے بابا کہاں ہیں لویزا وہ دکھائی نہیں دے رہا،، ممتاز بیگم نے پوچھا تو لویزا نے نگاہیں چرائیں۔
وہ امریکہ میں ہیں پھپھو، ہمارے ساتھ نہیں رہتے،، لویزا بمشکل ہی بول پائی۔ اس کے مبہم الفاظ کچھ ڈھکی کچھ چھپی بات ممتاز بیگم کو بہت کچھ باور کروا گئی تھی۔
لویزا، افسوس کے ساتھ تمھیں بتاتی چلوں کہ تم نے اتنے سال اپنے شوہر کو اس گناہ کی سزا دی جو اس نے کیا ہی نہیں، لویزا تمھارے بابا نے خود کشی نہیں کی تھی بلکہ ان کی تو میجر ہارٹ اٹیک سے موت ہوئی تھی،،
لویزا پھٹی پھٹی نگاہوں سے ممتاز بیگم کو دیکھتی رہیں اور وہ ان سب کو اس تلخ حقیقت سے آگاہ کرتیں رہیں جس نے ان کی زندگی بکھیر کر رکھ دی تھی۔
مجھے افسوس تو اس بات کا ہے لویزا کہ کیا تم اپنے بابا کو جانتی نہیں تھی؟ کیا وہ اتنے کمزور تھے، کہ خود کشی جیسا قبیح عمل کر گزرتے یا تمھیں ایسا لگا کہ انھیں تم پر بھروسہ نہیں تھا، کیا سوچ کر تم اتنے سال اس غلط فہمی میں جیتی رہیں کہ تمھارے بابا نے خود کشی ہے،، ممتاز بیگم کے لہجے میں افسوس بھی تھا اور دکھ بھی۔
اور لویزا تو سر جھکائے خالی الزہنی کے ساتھ یوں اپنی ہتھیلیوں کو گھور رہی تھی جیسے پاگل ہو جائے گی۔ لویزا کو تو اس وقت دل سورج کی طرح سینے میں ڈوبتا محسوس ہو رہا تھا۔
اس کا دل کیا دیواروں سے سر پھوڑے اور مر ہی جائے ۔ وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی۔
تبھی بے تحاشا سہتے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر ممتاز بیگم کی گود میں ہی گر گئی تھی۔
شدید قسم کا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا۔
لویزا ،، لیزا،، اجالا، ممتاز بیگم اور بخت اس کے اوپر جھکی ہوئی تھیں۔ نوین اس کے ہاتھ سہلا رہی تھی۔
تبھی کوریڈور سے آتی بھاری بوٹوں کی دھمک سے سب آنے والے کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔
ہمیشہ کی طرح بلیک پینٹ کورٹ میں بکھرے سے بالوں اور ہلکی بئیرڈ کے ساتھ بے حد خوبرو اور ہینڈسم رانا میر ہادی تیزی سے اندر داخل ہو کر سب کے دل دھڑکا گیا تھا۔
آتے ساتھ ہی جو سب سے پہلا منظر نگاہوں نے دیکھا تھا اس سے دل کو بری طرح دھچکا سا لگا تھا۔ فورا آگے بڑھ کر اسے بڑے حق سے اپنے بازوؤں میں اٹھایا۔
جلدی سے اسے ایمرجنسی لے کر جایا گیا تھا۔
بیڈ پر لٹاتے میر ہادی نے وہ صبیح چہرہ بغور دیکھا جو اب گلاب کی طرح مرجھایا اور پژمردہ سا لگ رہا تھا۔
نمٹ لوں گا ایلو جان تم سے،، زرا سا جھک کر اس کے کان میں بولا اور روم سے باہر نکل گیا۔
ڈاکٹرز نے ٹریٹمنٹ جاری کی گئی تھی۔
ڈاکٹرز نے جب بتایا کہ اس کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے تو رانا میر ہادی کے دل نے پسلیوں سے سر پٹخا تھا۔ وہ پھر زارون کے عوام میں گیا جہاں وہ میٹھی نیند سو رہا تھا۔ جھک کر ماتھے پر نرمی سے بوسہ دیا۔ اور ابھی وہ ڈسٹرب نا ہو تبھی باہر چلا آیا۔
وہ باہر ان سب سے سلام دعا کر کہ ادھر ہی بینچ پر بیٹھ گیا تھا۔
کیسے ہو بیٹا،، ممتاز بیگم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
ٹھیک،، آپ سنائیں آنٹی، ایک تیکھی نظر پاس کھڑے شخص پر ڈالی مگر اس کے پیروں میں کھڑے بچے نے اسے مخاطب کیا۔
پاپا،،
حیدر، کیا بات ہے بیٹا،نوین دیکھو اسے شاید بھوک لگی ہے،، ظفر اپنے بیٹے کو گود میں اٹھا کر رانا میر ہادی کے قریب ہی بینچ پر بیٹھ گیا اور نوین کے ہاتھ سے فیڈر تھام کر جو کہ اس نے اپنے بیگ میں سے نکال کر اسے تھمایا تھا حیدر کے منہ میں ڈال دیا۔
یہ میرا بیٹا ہے،،
میر ہادی جو کہ حیرت سے ظفر کو دیکھ رہا تھا ظفر نے سادگی سے ہادی کو بتایا۔
میں اپنے سابقہ رویے کی معافی مانگنا چاہتا تھا آپ سے، میں نے بہت کوشش کی کہ لویزا میر ہادی کو سچائی بتا کر اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر لوں، اس دن شاپنگ مال میں، میں اسے یہی سچائی بتانے والا تھا مگر،،
وہ میر ہادی کا شرمندہ سا چہرہ دیکھ بات ادھوری چھوڑ گیا۔
ائم سوری،، میر ہادی نے کہنا چاہا۔
نہیں،، بلکہ ائم سوری، کہ ایک شوہر اور بیوی میں جدائی ڈالنے کا کام شیطان کا ہوتا ہے اور میں نے وہی کیا، شروع دن سے اگر اسے سچائی بتا دیتا تو شاید نوبت یہاں تک نا پہنچتی،،
وہ دونوں آج دل کھول کر بولے گئے۔ جبکہ باقی سب حیرت سے ان کی باتیں سنتے رہے۔
رانا میر ہادی جو ڈائریکٹ ہاسپٹل چلا آیا تھا۔ اب تمام حویلی والے اس کے آنے کا سن کر ہاسپٹل چلے آئے تھے۔ ممتاز بیگم اور اماں سائیں کافی دیر اس کے سینے سے لگے آنسو بہاتے رہے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
زارون نیند سے جاگا تھا اور اپنے سامنے میر ہادی کو مسکراتے بیٹھے دیکھ وہ اچھل کر اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔
بابا ،،، زارون سر خوشی میں میر ہادی سے لپٹا تھا۔ میر ہادی کی آنکھیں نم ہو گئیں تھیں۔
ہیے چیمب،،، کیسے ہو یار،، میر ہادی نے بھی اسے سینے میں بھینچا۔
ییےےےےے،،،، تبھی مما بول رہی تھیں زارون میر ہادی کے لئے شلپلاائز ہے،،، زارون نے میر ہادی کا منہ چوما ۔ وہ گہرا مسکرایا۔
رائٹ، تو کیسا لگا، رانا زارون میر ہادی کو مما کا یہ سرپرائز،، میر ہادی نے اس کے گھنے سیاہ بال بگاڑتے پوچھا۔
بہہہہہہہہہتتتتتتت اچھا،،،،زارون اس کی گردن میں جھول گیا۔
بٹ بابا، یو نو واٹ، مما مجھے گھر واپش نہیں لے جا رہیں، یہاں بہت ڈرٹی ہے، مجھے گھر جانا ہے،، زارون نے برا سا منہ بنایا۔
ڈن،، بابا آج ہی زارون کو گھر واپس لے جائیں گے،
شچی ،، زارون نے زور زور سے کلیپنگ کرنی شروع کر دی۔ میر ہادی نے ہنس پڑا۔۔ اور اسے گود میں اٹھا کر باہر لایا۔
یہ لو چیمب دادا جان کے ساتھ گھر چلو میں مما کو لے کر آتا ہوں،، میر ہادی نے زارون کو میر ہاشم کی گود میں تھمایا۔ آج اتنے دنوں کے بعد سب کے چہرے خوشی سے کھلے ہوئے تھے۔۔
ممتاز بیگم، ظفر اور نوین سب سے مل کر جا چکے تھے۔
جب ہادی نے زارون اورلویزا کے ڈسچارج کی خبر سنائی تھی سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے تھے۔
اجالا کی گڑیا نور رونے لگی تو وہ اور عالی بھی دوبارہ حویلی آنے کا بول کر گھر لوٹ گئے۔
وہ سب زارون کو لے کر حویلی کے لئے نکلے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
میر ہادی ڈاکٹر سے بات کرتا روم میں داخل ہوا جہاں لویزا دواؤں کے زیرِ اثر گہری نیند میں تھی۔
کافی ویک ہیں آپ کی مسز اور لگتا ہے کچھ دن سے ڈائیٹ کا بھی سہی طرح سے خیال نہیں رکھ رہیں تھیں، شدید ڈیپریشن اور سٹریس لیا ہے انھوں نے بےبی کا ، آپ ان کا خیال رکھیے گا، اگر لے کر جانا چاہتے ہیں تو لے جائیے، مگرکل بھی ایک ڈرپ لگوا لیجئے گا، ابھی ہم کینولہ لگا رہنے دیجئے، کل اتار دیں گے،،
ڈاکٹر ڈیٹلز بتا کر باہر جا چکا تھا۔
وہ آہستگی سے چلتا اس دشمنِ جاں کے قریب آیا۔
وہ اچھی طرح جانتا تھا اسے کس چیز کا ڈپریشن ہوا تھا۔ اسی لئے تو سچائی سے بے خبر رکھا تھا اسے، چاہتا تو بہت پہلے اسے کسی بھی زریعے سے بتا کر حقیقت سے روشناس کروا سکتا تھا۔ مگر ایسا نہیں کیا جانتا جو تھا کہ اس کی چھوٹی سی جان یہ سچائی برداشت نہیں کر پائے گی۔ خود دن رات پل پل تکلیف جھیلی، محبت کے ھصے میں آیا ہر غم بڑی شان سے برداشت کیا تھا تاکہ اسے کوئی احساس ندامت نا ہو ۔ مگر اب تو اسے سچائی معلوم ہو چکی تھی۔ کچھ زارون کی وجہ سے وہ بری طرح ٹوٹ کر بکھری تھی۔
میر ہادی نے قریب آ کر اسے بانہوں میں بھرا۔ اتنے عرصے بعد وہ دل آویز، دلفریب مہکتا پر لطف لمس روح تک میں اتارنے کو ملا تھا۔ میر ہادی کی رگ و پہ میں ایک سکون و سرور سا دوڑ چلا تھا۔ لا کر گاڑی میں نرمی سے لٹایا۔
کود ڈرائیونگ کر کے حویلی تک لایا۔
حویلی کے پچھلے لان میں گاڑی لا کر کھڑی کی۔ اور پھر اسے بازوؤں میں بھر کر اندر کی جانب بڑھا۔ ابھی جب اس کے قریب تھا۔ اسے اپنے سامنے اپنے قریب محسوس کرنا چاہتا تھا تو کسی کی مداخلت ہر گز نہیں برداشت کر سکتا تھا۔ تبھی پچھلی جانب سے اسے روم میں لا کر نرمی سے بیڈ پر لٹایا تھا۔ اور خود اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھ اسے بغور دیکھا۔
بس اب رانا میر ہادی تھا اور اس دیوانے کی ایلوویرا جان،،
بہت ہی کڑوی ہو یار، تمھارے عشق کی اس کڑواہٹ نے میری رگ رگ میں زہر بھر کر مجھے کسی قابل نہیں چھوڑا ہے،، دیکھو کیسا تڑپتا پھر رہا ہے یہ دیوانہ،
میر ہادی نے بکھرے سے بال چہرے سے ہٹائے۔
وہ کافی دیر اپنی دید کی پیاس بجھاتا رہا تھا۔
جب بے حد برداشت کرتے ہمیشہ کی طرح اپنی محبت اپنی دیوانگی کو اپنے سامنے پا کر خود پر سے ضبط کھوتا بہت بے اختیار ہو کر اس کے ملیح چہرے پر جھکا تھا۔
ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی ۔ پھر ھداز گالوں پر تشنہ لب رکھے۔
حلق میں انگارے اور کانٹے سے اگ آئے تھے۔ تبھی اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر نرمی سے جھک کر اس کے نوم لبوں کو اپنی پاگل گرفت میں لیا تھا۔
اتنے عرصے بعد اس قرب نے اس کی آنکھیں نم کر دی تھیں جب خود کو سیراب کرتے دو آنسو ٹوٹ کر لویزا کے چہرے پر گرے تھے۔
اتنی گہری نیند میں بھی اس نے یہ لمس اپنی روح میں اترتا محسوس کیا تھا شاید
یا شاید ان آنسوؤں نے اسے بے چین کیا تھا تبھی وہ ہلکا سا کسمسائی تھی۔
میر ہادی اپنے جزباتوں کے طوفان پر بند باندھتا نرمی مگر تیزی سے پیچھے ہٹھا تھا۔ اس پر کمفرٹر درست کیا۔ اپنے بیگ میں سے (جو کہ افضل نے اس کے روم میں پہنچا دیا تھا ) اپنا آرام دہ سوٹ نکال کر فریش ہونے یا خود کو ریلیکس کرنے واشروم گیا تھا۔
لویزا کسمسا کر اٹھی تھی۔ بے اختیار ہی سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے سے اپنے لب سہلائے۔ زرا ہوش ٹھکانے آئے تو خود کو اپنے ہی روم میں پا کر اور سب سے بڑھ کر اپنے لبوں پر اس پاگل لمس اس دیوانگی سے بھرپور چھووّن کو پا کر وہ بے یقین سی تھی۔ آنکھیں حیرت سے پھیل چکیں تھیں۔
نہیں میرا وہم ہوگا، ای،،،، ایسے کیسے ہو سکتا ہے،، دماغ نے دہائی دی۔
اچھا اور جو سانسوں سے اس کی سانسوں کی خوشبو آ رہی ہے اور اس لمس کہ حدت جو ابھی تک ان لبوں پر موجود ہے وہ کیا ہے،،؟ دل نے پوچھا۔ وہ جھنجھلا کر تکیے پر نیم دراز ہوئی۔ کہ تبھی واش روم کا دروازہ کھول کر وہ ٹاول سے بال رگڑتا باہر نکلا تھا۔
لویزا بے یقینی سے اسے دیکھے گئی جیسے یہ اس کا تصور اور خیال ہو۔ وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا اس کی یہ بے یقینی والی کیفیت اچھی طرح سمجھ چکا تھا۔ مگر اپنے کام میں مصروف رہا۔ تبھی حویلی کی اندرونی جانب والا ڈور کھول کر زارون اندر داخل ہوا تھا۔
بابا جانی،، وہ بھاگ کر آ کر میر ہادی سے لپٹا تھا۔میر ہادی نے برش رکھ کر اسے گود میں بھر کر خود میں بھینچا ۔
لویزا کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔ اور اب جب میر ہادی نے مسلسل اسے خود کو تکتے پا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا تو لویزا نے گڑبڑا کر نگاہ پھیری تھی۔
Continue,,,,,,,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
