Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097

Last updated: 22 July 2025

Atish Ishq

By Wahiba Fatima

ہائے میر، ہاؤ آر یو، وہ فرینک ہوئی۔
فائن، تم سناؤ، وہ بولتے ہوئے آگے۔۔
I’m fine too,, Can we go for dinner tonight?
وہ ڈائریکٹ اپنے مطلب کی بات پر آئی۔
نو، ہوسکتا ہے مجھے آج رات گاؤں جانا پڑے، بزی ہوں، میر ہادی کا پختہ لہجہ سیما کا منہ لٹک گیا مگر اس کے پیچھے اور ساتھ ساتھ چلنے سے پھر بھی باز نہیں آئی تھی۔
وہ یونی کے طویل ترین کوریڈور میں سے گزر رہا تھا جب سامنے سے وہ سی گرین فراک پاجامے میں وائٹ حجاب سٹائل دوپٹہ شفاف و معصوم چہرہ لیے اس کی جانب ہی آتی دکھائی دی۔
اس کی چال میں واضح دھیما پن آیا تھا۔ جو کہ ساتھ چلتی سیما بھی محسوس کر کے اپنی جگہ ٹھٹھکی تھی۔

لویزا جو کوریڈور سے اپنی کلاس کی جانب جا رہی تھی۔ اپنی فائل سے نگاہ سامنے اٹھی تو یوں لگا جیسے حلق میں کڑواے بادام گھل گئے ہوں۔ سامنے سے وہ گھمنڈی ، انتہائی بددماغ اور بد تمیز شخص آتا دکھائی دیا ۔ تبھی بلکل اچانک لویزا نے اپنا راستہ بدلا تھا۔ اور سامنے آتی آتی، گراؤنڈ کی جانب ہی مڑ گئی تھی۔
میر ہادی بری طرح چونکا تھا۔ ماتھے پر بے شمار بل آئے تھے۔
اونہہہہہہہ توجہ حاصل کرنا کا سستا اور گھٹیا ترین حربہ، وہ دل میں سخت تلملاتے بھنایا تھا۔
آج تک کسی لڑکی نے اسے اگنور نہیں کیا تھا کجا کہ اسے دیکھ کر اپنا راستہ ہی بدل لے۔ تبھی وہ دل میں سخت قسم کا جھنجھلایا تھا۔ اور پیر پٹختا اپنی کلاس کی جانب گیا۔ سیما نے غور سے اس لڑکی کی پیٹھ کی جانب دیکھا تھا۔

مگر یہ رانا میر ہادی کی خام خیالی ہی رہی کہ وہ توجہ حاصل کرنے کو یہ حربہ آزما رہی ہے۔ اسے اگنور کر رہی ہے۔

آج پورا ایک ماہ ہو چکا تھا اس تماشے کو، حتی کے یہ بات عالی اور اس کے قریبی جاننے والے بھی نوٹ کر چکے تھے۔ کہ
وہ جہاں بھی اس سے ٹکراتی اسے دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔ اور میر ہادی جیسے گھمنڈی، مغرور اور انا پرست شخص کو اپنی وہ ہتک اور بے عزتی محسوس ہوتی کہ اب اس کا برداشت ، طیش و اشتعال کا پیمانہ عنقریب چھلکنے ہی والا تھا۔

وہ دونوں لائبریری میں بیٹھی ضروری نوٹس ریڈ کر رہی تھیں۔ جب اجالا کو جانے کیا دورا پڑا تھا جو اس کا پین اچانک چھین لیا۔
بسسسس،، لویزا میں اور تم سے نہیں چھپا سکتی،، ایکچوئلی میں تمھیں کسی سے ملوانا چاہتی ہوں،
Because I’m in love,,,,,
اور عنقریب ہماری ڈائریکٹ شادی ہونے والی ہے،،
اجالا نے ایک ہی سانس میں بول ڈالا تو لویزا نے پہلے اچنبھے سے اسے دیکھا، پھر سمجھ آنے پر اپنی بک سے اس کی پہلے جی بھر کر درگت بنائی۔
یو چیٹر کاک، بدتمیز، کمینی،، تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اتنی بڑی بات چھپانے کی،، ہاؤ ڈئیر یو بیغیرت دوست،، لویزا نے جزبات میں آ کر اردو انگلش مکس کی۔ تو اجالا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئی۔
مگر عالیان مرزا کو اپنی جانب آتا دیکھ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
زرا تمیز سے وہ آ گئے،، اجالا نے کہا تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک سوبر سا شخص اپنی جانب آتا دکھائی دیا۔ جو اجالا کو نگاہوں میں فوکس کیے جزبے لٹاتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

آئیے عالی،، ان سے ملئیے یہ ہے میری بچپن کی بہترین دوست لویزا اقبال، اور لویزا یہ ہیں عالیان مرزا، میرے ہونے والے ہزبینڈ، اجالا نے تعارف کروایا۔
السلام وعلیکم،، لویزا نے پیاری سی مسکان لیے دھیمے لہجے میں کہا تو عالی نے بے طرح چونک کر اس لڑکی کو دیکھا جو اس کے دوست کے سر پر دشمن بن کر دن رات سوار تھی۔
و علیکم اسلام ،، کیسی ہیں آپ،، وہ مسکرا بھی نا سکا۔
میں ٹھیک ، آپ سنائیں، لویزا نے کہا اور اجالا کو گھورا۔
بیٹھیں ناں عالی،، اجالا نے گڑبڑا کر کہا تو وہ پھیکا سا مسکرایا۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Categories: Personal Growth Romance Romantic Urdu Novel Rude Hero Social Issues BAsed urdu novels Women Empowerment
Tags: Family drama Innocent Heroine love story based Revenge Based Novels Romantic Urdu Novels Rude hero Urdu Novels