Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

کھڑکی سے چھن کر کے آتی سورج کی کرنوں نے اس کے چہرے پر نرم سا بوسہ دیا تو میر ہادی کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ بڑی مشکل سے سو پایا تھا رات کو۔
وہ جلدی سے اٹھا تھا کپڑے لے کر واش روم گیا اور فریش ہو کر باہر آیا۔
سسٹر آ چکی ہوگی۔ سوچتا ہوا جلدی سے باہر نکل کر ڈائننگ ٹیبل تک آیا۔ کچن میں میڈ کے پاس سسٹر روزی موجود تھی۔
سسٹر روزی ، لویزا نہیں اٹھی، اس نے اس کے روم کی جانب دیکھتے پوچھا۔
نو سر، میں دیکھ کر آئی ، میم سو رہیں تھیں تو میں نے سوچا جتنا وہ آرام کریں اتنا ہی ان کی صحت کے لئے اچھا ہے، میں نے اسی لئے نہیں جگایا انھیں،
گڈ،، اب جا کر دیکھ کر آئیں، جاگ گئی ہو گی، میر ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔ سسٹر روزی، لویزا کے روم کی جانب گئی۔

وہ جتنے دن ہوسپٹل میں رہی، اور اب بھی جب سے گھر آئی تھی اس کے سر پر سکارف تھا۔
اب جب وہ نہا کر ڈریسنگ کے آئینے کے سامنے آئی تھی۔ اور سر سے ٹاول ہٹایا تو صدمے سے گنگ ہوئی تھی۔ کافی دیر پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے بالوں کو دیکھے گئی جو کہ پچھلی گردن سے اوپر تین چار انچ تک بلکل صاف کر دئیے گئے تھے۔ اور اب اوپری سطح پر بھی جو بال تھے وہ بھی کندھوں سے نیچے تک تھے اور کاٹے گئے تھے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تھے۔ انسان یادیں اور واقعات بھول سکتا ہے مگر اپنی ذات سے متعلق چیزیں یاد رہتی ہیں، وہ جانتی تھی،،، ہاں ٹاول کھولتے ہوئے اسے پتہ تھا بالوں کی آبشار سلجھانے میں اسے کافی وقت لگے گا اور اس کے بال کمر کے نیچے تک لمبے تھے۔ مگر یہ کیا؟
وہ روتی چلی گئی۔ بہت روئی۔
روزی روم میں داخل ہوئی تو وہ فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھی بری طرح رو رہی تھی۔ روزی گھبرا کر واپس پلٹی۔
سر،، وہ لویزا میم بہت بری طرح رو رہی ہیں، روزی بھاگ کر ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی اور میر ہادی کو اطلاع دی۔
واٹ، مگر کیوں،؟ کیا ہوا ہے، ؟ میر ہادی کے دل کی دھڑکن بری طرح بے ترتیب ہوئی تھی۔ تیزی سے اٹھ کر اس کے روم کی جانب گیا۔
روم میں داخل ہوا تو واقعی وہ ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی رو رہی تھی وہ تیزی سے اس کے سامنے آ کر گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔
پیرٹ فراک کے اوپر سبز سکارف لیے وہ زمین پر سرخ وسفید معصوم پری بنی بیٹھی تھی میر ہادی غور سے اسے دیکھے گیا۔

اتنی ملتی ہے میرے شعروں سے صورت تیری
لوگ تجھ کو میرا محبوب سمجھتے ہوں گے

ہیے لیزا، کیا ہوا؟ بتاو مجھے، ہادی کا نرم لہجہ، اسے اور رونا آیا۔
ہادی،، مم،، میرے بال،، وہ ہچکیوں کے بیچ آہستگی سے بولی ۔ اور ہادی کا دل کیا پوری دنیا کو آگ لگا دے۔
ہیے اٹس اوکے ڈئیر، میر ہادی نے اس کا دوپٹہ ہاتھ پہ لپیٹ کر وہ آنسو صاف کرتے قیمتی موتی دوپٹے سے چنے۔ “تم ان کے بغیر بھی دنیا میں سب سے زیادہ حسین ہو، اور مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے ہونے نا ہونے سے یو گیٹ دیٹ، تمھیں بھی نہیں پڑنا چاہیے، اتنے بڑے حادثے کے بعد بھی تمھارے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں یہ الله تعالیٰ کی بہت بڑی بلیسنگز ہیں ہم پر، جو چیز سلامت ہے، اس کا شکر ادا کرنا چاہئے ناکہ جو چیز چلی گئی اس کا افسوس کر کے ناشکری کی جائے جبکہ وہ واپس بھی مل سکتی ہے، ایم ائی رائٹ،؟
وہ جو جب سے اس کے سامنے آیا تھا اس سے نگاہیں چرا کر یا ادھر ادھر دیکھ کر بات کرتا تھا مگر اب ایک ایک لفظ اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا تھا جیسے ہر جملہ صدقِ دل سے بولا ہو۔
لویزا نے بھیگی پلکیں لیے اثبات میں سر ہلایا اور مسکرا دی (یہ بھی نظارا دنیا کا انوکھا نظارا تھا) وہ نظر نہیں ہٹا پا رہا تھا۔
رانا میر ہادی بہت بڑی مشکل میں پھنس چکا تھا اور اب اس سب سے فرار حاصل کرنا چاہتا تھا
چلو بریک فاسٹ کرتے ہیں،، ہادی نے اسے بازو سے تھام کر اٹھایا تھا۔

بہت نزدیک ہے،،،، وہ دائرے میں
مگر ایک فاصلہ چاروں طرف ہے

ڈائننگ ٹیبل تک آ کر اس کے لئے چئیر پیچھے کھسکائی۔ میڈ نے حیرت سے اپنے صاحب کو دیکھا تھا۔ جو اب لویزا کے ساتھ والی چئیر پر براجمان ہوا تھا مگر بھنچے جبڑوں کے ساتھ جیسے جانے کتنی تکلیف میں ہو یا کتنا برداشت کر رہا ہو۔
وہ بریک فاسٹ کر رہے تھے جب افضل اندر آیا۔ اسے پتہ تھا لویزا میڈم کے سامنے اسے بھول کر بھی رانا میر ہادی کو چھوٹے سائیں نہیں بولنا تھا۔
سر،، اس نے آ کر میر ہادی کو مخاطب کیا۔
اونہہہہ، بولو افضل؟ وہ جوس کا گلاس لبوں سے لگاتا بولا۔
سر آپ نے فون آف کر رکھا ہے، باس کا فون تھا آپ کو فون آن کرنے کو بولا، اور کہا کہ فوراً ان سے بات کریں،
(مطلب حویلی سے دادا سائیں کا فون تھا اور اسے فورا ان سے بات کرنے کا حکم سنایا گیا تھا)
رائٹ، بریک فاسٹ کر کے کر لیتا ہوں بات، وہ لاپروائی سے بولا۔

وہ جو صرف اس کا ساتھ دینے کو بظاہر لقمے زہر مار کر رہا تھا جوس پی کر جلد ہی بریک فاسٹ سے ہاتھ کھینچ لیا۔
میں فون کر کے آتا ہوں، اس نے لویزا کی جانب دیکھ کر کہا اور فون لے کر باہر نکل آیا۔
دادا سائیں کا نمبر ڈائل کر کے فون کان کو لگایا تو اگلی دوسری بیل پر فون اٹھا لیا گیا۔
“اسلام وعلیکم دادا سائیں،
“وعلیکم السلام ،برخوردار کیسے ہو، ہمارے پوتے نے بھی اپنے خاندان کے مطابق شوق پال ہی لیے پھر،، دادا سائیں کا انتہائی معنی خیز لہجہ، جس کا مطلب تھا انھیں میر لاج میں اس کی موجودگی کا علم ہے جو جتا بھی دیا گیا تھا۔ حسب معمول اس کی تیوری پر بل آئے تھے۔
کام کی بات کریں دادا سائیں،، وہ دانت پیس کر بولا تھا۔
زمرد (ہادی کی پھپھو جانی کا بیٹا) کا نکاح ہے پرسوں، اپنی مصروفیات ایک سائیڈ پر رکھ کر فوراََ حویلی پہنچو، دادا سائیں کا لہجہ بھی تحکم بھرا تھا۔
اوکے، پہنچ جاؤں گا، آپ فکر مت کریں، کہہ کر فون رکھ دیا گیا تھا۔

عجیب بہت ہی عجیب دہری کیفیت کا شکار ہو رہا تھا یہاں سے فرار چاہتا تھا۔ سبب بھی بن گیا تو سو فوراَ اندر ڈائننگ ٹیبل تک آیا جہاں وہ اب ہلکے ہلکے سپ لیتی جوس پی رہی تھی۔ وہ اس پر ایک گہری نگاہ ڈالتا اپنے روم میں چلا آیا تھا اور اب چھوٹے سے بیگ میں اپنے کپڑے اور سامان رکھ رہا تھا۔ جب دروازے پر ہلکی دستک دے کر وہ اس کے سر پر پہنچ چکی تھی۔
آپ کہیں جا رہے ہیں،، لویزا کا لہجہ حیرت میں ڈوبا ہوا تھا۔
یس، ایک لفظی جواب آیا۔
پر کدھر، وہ پریشان ہوئی۔
کمپنی کے کام سے دوسرے شہر، باس بھیج رہے ہیں،، وہ مصروف سا تھا۔
آپ مت جائیں ناں،، وہ روہانسی ہوئی اور بہت قریب چلی آئی اتنا کہ میر ہادی زرا سا بائیں جانب گھومتا تو اس کے پھول سے وجود سے ٹکرا جاتا۔ میر ہادی کے ہاتھ ٹھٹھک کر رکے تھے مگر اس کی جانب دیکھنے سے گریز ہی کیا تھا اس نے۔
” میں ہاسپٹل میں رہنے کی وجہ سے پہلے ہی پندرہ لیو لے چکا ہوں، اب میرے کھڑوس باس رعایت برتنے کے موڈ میں ہر گز نہیں ہیں ،سو جانا تو پڑے گا مجھے، اسے رسان سے سمجھانا چاہا۔
ایک نظر بھی اس کی جانب نہیں دیکھا تھا۔ جیسے دیکھ لیا تو پتھر کا ہو جائے گا۔
اوکے چلتا ہوں، اپنا بہت سارا خیال رکھنا، تین چار دن کی بات ہے لوٹ آؤں گا، کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں، تمھارا ہر طرح سے خیال رکھا جائے گا، وہ روانی سے کہتا باہر کی جانب بڑھا۔
لویزا کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی۔ مگر وہ سن کب رہا تھا سنا کہ جا چکا تھا۔ لویزا بری طرح جھنجھلائی تھی اس کے اس رویے سے۔ مگر صبر کے گھونٹ پینے کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔ اسی لئے بھاگ کر آ کر اپنے کمرے میں بند ہو چکی تھی۔

میر ہادی اپنی گاڑی تک آیا تھا جب افضل اس کے پیچھے لپکا۔
نو افضل، اب کی بار تم میرے ساتھ نہیں آؤ گے، مجھے تم پر بھروسہ ہے، سو میڈم کو تمھارے سپرد کر کہ جا رہا ہوں، خیال رکھنا اس کا،، میر ہادی کہتا ہوا گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔
چھوٹے سائیں، ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ میں آپ کہ ساتھ نہیں جا رہا، افضل نے جھجھکتے کہا۔ جس سے صاف ظاہر تھا اسے اپنے چھوٹے سائیں کا یہ حکم کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا۔
اٹس اوکے، تم یہی سمجھنا کہ یہاں بھی میرے ہی وجود کے حصے کی دیکھ بھال اور رکھوالی کر رہے ہو، رانا میر ہادی کہہ کر خود ہی گڑبڑایا تھا
چلو ڈرائیور،، فوراََ سن گلاسز لگاتے ڈرائیور کو کہا۔ رانا میر ہادی کی زبان پھسلی تھی مگر کون جانتا تھا کہ اس کی زبان پھسل رہی تھی یا کم بخت دل ہی پھسل کر ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا۔

افضل نے گہری نگاہ دھول اڑاتی جاتی گاڑی کو دیکھا اور ایک سرد سی آہ بھری۔
دعا ہے چھوٹے سائیں آپ کو یہ کم بخت مرضِ عشق نا لاحق ہو جائے، آپ کو تڑپتے، برباد ہوتے نہیں دیکھ پائے گا یہ آپ کا وفادار غلام،
افضل دل میں اس سے مخاطب تھا۔ کیا ہی اچھا تھا جب وہ پتھروں اور چٹانوں کی طرح بے حس تھا ۔ اب تو جیسے اس کی تمام احساس اپنی پوری جزئیات سمیت جاگ اٹھے تھے۔

ایسا بےحس کے پگھلتا ہی ناں تھا باتوں سے
آدمی تھا کہ ،،،،،،،،،،،،،،،،،تراشا ہوا پتھر دیکھا
دکھ ہی ایسا تھا کہ ،،،،،رویا تیرا محسن ورنہ
غم چھپا کر اسے،،،،،،،،،، ہنستا ہوا اکثر دیکھا

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ظفر آنکھوں پر ہاتھ رکھے کافی دیر سے اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا۔ کسی پل کسی کروٹ سکون نہیں تھا۔ تبھی باہر سے دبی دبی سسکیوں کی آواز آئی تو وہ بے چین سا ہو کر اٹھ تھا۔
اٹھ کر باہر آیا ۔ آواز کچن کی جانب سے آرہی تھی۔ وہ کچن کی جانب آیا۔ تو دیکھا اس کی ماں ممتاز بیگم ڈائننگ ٹیبل کے پاس بیٹھی رو رہی تھیں۔
امی،، کیا ہوا آپ کو،، وہ بے چین سا ہو کر آ کر ان کے گلے لگا تھا۔
ارے یہ دنیا والے زرا بھی جو خوفِ خدا ہے ان کے اندر، عجیب بے حس اور ظالم لوگ ہیں، ہماری اس پھول جیسی معصوم بچی پر کیسی کیسی تہمتیں اور الزام لگا رہیں، یہ بے حس لوگ مرے ہوؤں کو بھی نہیں بخشتے، ارے میں نے اتنی بار کہا کہ ہماری بچی حادثے کا شکار ہوئی ہے مگر جو ان بے حس لوگوں کی سوراخ زدہ زبانوں پر قفل لگا ہو،، وہ روتی ہوئی جی بھر کر لوگوں کو کوستی اپنے دل کی بھڑاس نکالے گئیں۔
جانے دیں ناں امی کیوں اپنا بی پی ہائی کر رہیں، ان کا تو کچھ نہیں بگڑے گا آپ اپنی طبیعت خراب کر بیٹھیں گیں ، جانے دیں ناں،
ظفر نے انھیں تسلی دینی چاہی۔
ارے کیسے جانے دوں، اس بچی کا تو دور کی بات، میرے اتنے نیک ، تحمل مزاج بھائی کو نا بخشا ان دنیا والوں نے، ان کی طبعی موت کو بھی خودکشی بنا دیا، ارے ہر حد پار کر دی ان لوگوں نے بھی،
یہ کیا کہہ رہی ہیں امی آپ، ؟ ظفر صدمے سے گنگ ہی تو ہوا تھا۔
ہاں، اسی لئے تو آج دل پر لگی ہے میرے بچے، ارے یہ دنیا والے کیا جانے کتنا بھروسہ اور اعتماد تھا ہمیں ہماری بچی پر، اور اقبال، اقبال تو آنکھیں بند کر کے اعتبار کرتا تھا اپنی گڑیا پر، مگر یہ لوگ اور ان کی باتیں،، ممتاز بیگم پھر رونے لگیں ۔
ظفر بھی بے حد دکھی ہوا تھا اٹھا اور کولر سے پانی بھرتا اس ددرناک دن کے بارے میں سوچنے لگا۔۔
اقبال صاحب کو تو کافی عرصے سے دل کے عارضہ لاحق تھا ۔ مگر یہ بات انھوںنے لویزا سے چھپا کر رکھی تھی۔ ظفر نے بارہا کہا کہ وہ لویزا کو حقیقت سے آگاہ کر دیں مگر انھوںنے ایسا کرنے نہیں دیا۔ اس دن انھیں صبح سے ہی سینے میں ہلکے درد کی شکایت تھی اور وہ آفس سے گھر آ گئے تھے۔ ظفر کو فون کر کے ڈاکٹر کو گھر لانے کو بولا تھا۔
ظفر بھاگم بھاگ ڈاکٹر کو لے کر گھر پہنچا تھا۔ مگر طبیعت زیادہ خراب ہو جانے کی وجہ سے ایمبولینس کو فون کر دیا گیا تھا انھیں ہاسپٹل لے جانے کے لئے ۔
اس وقت وہ لویزا کو بار بار فون کرتا رہا تھا مگر شاید سمینار اور آڈیٹوریم میں شور شرابے کی وجہ سے وہ فون پر دھیان نہیں دے پائی تھی۔ (یہ وہی وقت تھا جب آڈیٹوریم میں وہ تماشہ ہو رہا تھا۔ )
ایمبولینس آئی مگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔ اقبال صاحب جانبرد نا ہو سکے اور میجر ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ وہ لویزا سے بار بار کونٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر کچھ دیر بعد اس کا فون بند ہو چکا تھا۔
رات گئے تک بھی جب لویزا اپنے بابا کی میت پر نا پہنچ سکی تو لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں (اور یہ بھی بکواس لوگوں سے ہی میر ہادی کے آدمیوں نے سنی تھی کہ اقبال صاحب نے خود کشی کی ہے)
اگلے دن تک انتظار کے بعد انھیں اپنی آخری منزل تک پہنچا دیا گیا۔

پانی گلاس سے باہر گرنا شروع ہوا تو ظفر چونک کر اپن خیالات سے باہر آیا تھا۔۔ پانی کا گلاس اپنی ماں کے لبوں سے لگایا اور ان کو تسلی دی۔
مگر وہ بے بس تھا جو کچھ بھی ہو چکا تھا جو کچھ بگڑ چکا تھا اسے وہ کسی صورت ٹھیک نہیں کر سکتا ۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

کوئی جو پوچھے کہ ہیں آج کیوں ہیں سرخ آنکھیں
تو آنکھیں مَل کے یہ کہتا ہوں،،،،،،،،، رات سو نا سکا
ہزار چاہوں گا ،،،،،،،،،،،،،مگر یہ نا کہہ سکون گا کبھی
کہ رات رونے کی خواہش تھی ،،،،،،،،،مگر رو نا سکا

آج دو دن ہو چکے تھے اسے حویلی آئے۔ ایک ضروری کام کا بول کر حویلی سے نکلا تھا۔ ساتھ اس کے گارڈ بھی تھے۔
اس کے ہاتھ میں کچھ پیپر تھے۔ گاڑی سردار کمال کی حویلی کے پورچ میں رکی تھی۔ وہ پوری شان و شوکت لیے گاڑی سے باہر نکلا تھا۔ پورے مردان خانے میں ایک ہلچل سی مچ چکی تھی ۔ پورے مردان خانے میں ہلچل سی مچ گئی تھی۔ رانا میر ہادی آیا تھا کوئی معمولی بات تو نہیں تھی۔
اسے بڑی عزت کے ساتھ مردان خانے میں بٹھایا گیا تھا اس نے سردار کمال سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
یہ پیغام اندر سردار کمال تک بھی پہنچا دیا گیا تھا۔ کچھ ہی دیر میں سردار کمال مردان خانے میں تشریف لائے تھے۔
نگاہ سامنے اٹھی تو وہ بلیک شلوار قمیض پر مردانہ شال کندھوں پر ڈالے سن گلاسز لگائے ٹانگ پر ٹانگ جمائے انھیں آج بھی وہی سرپھرا گھمنڈی وڈیرا لگا جس کے بغیر سوچے سمجھے جلد بازی میں لیے گئے فیصلہ نے ان کی معصوم بچی کی زندگی برباد کر دی تھی۔
سردار کمال اس کے سامنے آ کر بیٹھے اور نفرت سے اسے گھورا۔
کیا بات ہے رانا صاحب، ابھی کچھ اور برباد کرنا باقی ہے جو تشریف لائے، اور سرداروں کی حویلی کو رونق بخشی، سردار کمال کے لہجے میں نفرت بھری چبھن سی تھی ۔مگر حسب معمول سامنے والے کے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا۔ سن گلاسز اتارتے ہوئے گویا ہوا۔
“جانتا ہوں سردار صاحب خود سے نفرت کرنے کے لئے میں نے کئی لوگوں کو کئی وجوہات دے رکھی ہیں، مگر چلیں کوئی بات نہیں، شاید اس سے کچھ افاقہ ہو جائے، میر ہادی نے وہ فائل سردار کمال کی جانب بڑھائی۔
کیا ہے یہ رانا میر ہادی،، سردار کمال نے اچنبھے سے فائل کی جانب دیکھا۔
آپ کی بچی کی رخصتی میرے حکم پر ہی رکی ہوئی تھی، کیونکہ ملکوں کے بیٹے کو بھی اس نکاح میں زرا برابر دلچسپی نہیں تھی تو میں نے خون بہا کی رقم ادا کر کے بچی کو طلاق دلوا دی ہے یہ وہی آزادی کا پروانہ ہے، اب آپ کی بچی آزاد ہے، یہی پیپر آپ کو دینے آیا تھا،، یہ کہہ کر رانا میر ہادی نے دوبارہ سن گلاسز اٹھا کر پہنی تھیں اور اٹھ کر کھڑا ہوا۔
سردار کمال نے سر خوشی اور تشکر کے احساس سے رانا میر ہادی کو دیکھا تھا۔ جس نے واپسی کے لئے باہر کی جانب اپنے قدم بڑھائے تھے۔۔
رانا میر ہادی یہ سب کرنے کی کوئی خاص وجہ، سردار کمال پوچھ بیٹھے۔
اس کے جاتے قدم وہیں تھم سے گئے تھے۔ آنکھوں کے پردے پر ایک معصوم سا چہرہ لہرایا مگر جھنجھلا کر فورا ہی سر جھٹک دیا۔

بلکل، ملکوں کو سمجھا کر آیا ہوں کہ معاف کر دو، سکون جیسی دولت حاصل کر لو گے، جو ہر کسی کے نصیب نہیں ہوتی ،،رانا میر ہادی نے کہا
اس کے باوجود سردار کمال کو اس کے انگ انگ سے ایک بےچینی سی ظاہر ہوتی محسوس ہوئی تھی۔
جیتے رہو، خوش، رہو میر ہادی، سردار کمال نے کہا تو اس نے سر کو خفیف سی جنبش دی اور وہاں سے نکلتا چلا گیا اور اب واپس آ کر کافی دیر سے اپنی زمینوں پر چہل قدمی کر رہا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ہم تو صرف دعا گو لوگ
خاک و مہر کا کیا سنجوگ
پاس رہیں یا دور رہیں
وحشت سے رنجور رہیں
محفل تو آباد ہے ناں
آج تمھاری سالگرہ ہے دیکھو ہم کو یاد ہے ناں