No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
وہ غائب دماغی سے لیکچر اٹینڈ کر رہی تھی کچھ پلے نہیں پڑ رہا تھا۔۔ دماغ ایک بس خود کے عجیب حالات و واقعات میں ہی اٹکا ہوا تھا۔ اس کی یہ غائب دماغی اجالا نے بھی نوٹ کی تھی اسی لئے ہی اسے متوجہ کرنے کو ٹہوکا رسید کیا تھا۔ تب اسے کہیں جا کر ہوش آیا۔
بمشکل لیکچر مکمل ہوا اور پروفیسر ناہید کلاس سے باہر گئیں تو اجالا اس کی جانب مڑی۔
واٹس پرابلم ود یو لویزا، کونسا مراقبے میں تھی جو دھیان بلکل بھی لیکچر کی جانب نہیں تھا تمھارا،
نو، نو، تمھیں غلط فہمی ہوئی ہے میں تو لیکچر ہی توجہ سے سن رہی تھی، لویزا نے کتاب نوٹس کھول کر خلیل جبران بننے کی کوشش کی۔
آں،، ہاں،، اچھا بتاؤ مجھے وہ ضروری پوائنٹس جو ابھی میم سمجھا کر گئیں ہیں، اجالا نے کہا تو لویزا نے اسے مصنوعی پن سے گھورا۔
یہ کیا بات ہوئی اچھا چھوڑو، چلو کینٹین چلتے ہیں،، بہت بھوک لگی ہے، لویزا نے اس چڑیل کو ٹالا اور دونوں کینٹین کی جانب آئیں۔
وہ دونوں کینٹین میں داخل ہوئیں تو بلکل سامنے ہی ٹیبل پر وہ شہزادوں کی سی آن بان شان لیے براجمان تھا۔ سفید کلف لگے شلوار قمیض کے اوپر براؤن ویسکوٹ پہنے سرخ و سفید رنگت کے اوپر بلیک سن گلاسز لگائے سیما سے خوش گپیوں میں مصروف تھا۔
رانا میر ہادی سن گلاسز میں سے کینٹین داخل ہوتے ہوئے اسے دیکھ چکا تھا۔
لویزا بھی اسے دیکھ چکی تھی مگر اگنور کرتی اجالا کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھ گئی۔۔ (کہ یونی اور کینٹین اس بگڑے وڈیرا جی کہ باپ کی جاگیر نہیں تھی)
اجالا سینڈوچ اور جوس کا بول کر آئی تھی۔ اور اب وہ دونوں اس کی شادی کی باتیں کر رہی تھی۔
سنو اجالا میں نے بھی تمھیں ایک ضروری بات بتانی ہے،، لویزا نے نگاہیں جھکا کر کہا۔
وہ کیا،، اجالا نے آنکھیں گھمائیں۔
وہ بابا نے میرا رشتہ بھی طے کر دیا ہے،، اس نے بول کر شہادت کی انگلی دانتوں تلے دبائی۔
(اور یہ منظر کسی نے گہری نگاہ سے دیکھا تھا۔ )
واٹ،، رئیلی اور تم مجھے اب بتا رہی ہو کمینی کون ہیں وہ،، اجالا نے آئبرو اچکائی۔
وہ،، پھپھو کے بیٹے ہیں ناں جو،، جو آج مجھے یونی چھوڑنے آئے تھے وہ ظفر بھائی،، وہ بول کر پھر سرخ ہوئی۔ پلکوں کی گھنی جھالریں گالوں پر سایہ فگن سی تھیں۔ ان پلکوں کے اٹھنے گرنے کا رقص کوئی نا چاہتے ہوئے بھی دیکھ رہا تھا۔
اففففففف،، اجالا نے ماتھا پیٹا۔ تو اب تو اس معصوم کو بھائی مت بولو، بدتمیز لڑکی،، اجالا نے کچھ اس طرح دہائی ڈالتے کہا کہ لویزا کی ہنسی چھوٹ گئی۔
تو کیا بولوں،،
میر ہادی تم میری بات نہیں سن رہے، دھیان کہاں ہے تمھارا یار، سیما نے بے تکلفی سے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا تو وہ چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوا۔
سیما اس کی گلاسز کے ریفلیکشن میں اس لڑکی کو دیکھ چکی تھی جس نے رانا میر ہادی کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی تھی۔ سیما کو وہ لڑکی زہر لگی تھی۔
ادھر میر ہادی اتنا کچھ کرنے کے باجود کسی کا سکون اور یہ ہنسی دیکھ اسے آگ ہی تو لگی تھی۔۔
کہیں نہیں،، ادھر ہی ہے میرا دھیان،، اس نے خواہ مخواہ انگارے چبائے اور پھر سامنے دیکھا۔
جہاں اب کوئی نہیں تھا وہ پھر چونکا۔ سامنے سے پلیٹس خالی تھیں۔۔سیٹس بھی خالی تھیں۔ وہ دونوں وہاں سے جا چکی تھی۔ وہ بدمزہ ہوا۔ اور خود بھی اٹھ کر کینٹین سے باہر نکل گیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ کچن میں کھانا بنانے آئی تھی۔ دوپہر کے تین بج چکے تھے۔ بابا بھی آنے والے تھے اور ابھی تک اس نے کچھ نہیں بنایا تھا۔
اس نے چولہا جلایا مگر خالی چولہا منہ چڑھا رہا تھا اس نے اپنا سر پکڑ لیا۔۔
تبھی اقبال صاحب کچن میں داخل ہوئے تھے۔۔ آفس بیگ ٹیبل پر رکھا۔
ارے کیا ہوا بابا کی گڑیا اتنی پریشان کیوں ہے،، اقبال صاحب نے اس کے کندھوں کے گرد بازو حمائل کیا۔
بابا گیس نہیں آ رہی،، پتہ نہیں کیا مصیبت ہے، وہ جھنجھلائی اور برا سا منہ بنایا۔
تو کیا ہوا پرنسز،، کچن میں تو روز ہی کھانا بنتا ہے ، کیوں نا آج باہر سے لایا جائے،، اقبال صاحب مسکرا کر بولے تو ان کے کہنے کے انداز پر لویزا مسکرا دی۔
اور ڈنر؟ بابا،، اسے پھر فکر ہوئی۔
آج ڈنر بابا اور ان کی پرنسز باہر کریں گے،، اور پھر بابا اپنی پرنسز کو آئسکریم بھی کھلائیں گے،،
انھوںنے چٹکیوں میں مسئلے کا حل نکالا تو لویزا فی الحال کے لئے ہر فکر و پریشانی بھول گئی۔
پھر اقبال باہر سے کھانا لے کر آئے۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رات کے نو بج چکے تھے۔ وہ جلدی سے تیار ہوئی۔ بلیک گھیرے دار شلوار قمیض میں دوپٹہ حجاب سٹائل اوڑھا اور بلیک شال کندھوں پر جمائے وہ باہر نکلی تھی۔
جہاں اقبال صاحب بائیک نکالے اس کا ویٹ کر رہے تھے۔ لویزا اکسائیٹڈ سی بائیک پر بیٹھی۔
دونوں نے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں کھانا کھایا۔ لویزا بہت خوش نظر آ رہی تھی۔
پھر اقبال صاحب اسے لئے شہر کے ایک بڑے آئسکریم پارلر لے کر آئے ۔۔
بابا،، ادھر آنے کی کیا ضرورت تھی،، یہ تو بہت مہنگے والا ہو گا،، لویزا نے معصومیت سے کہا تو اقبال صاحب قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
خیر ہے پرنسز،، کبھی کبھی ایسی عیاشیاں کر لینی چاہیں،، امیروں والی فیلنگ آتی ہے،،
بابا کی بات پر وہ بھی ہنس دی۔ وہ فیملی ہال میں ایک سائیڈ پرسکون سی جگہ پر بیٹھ گئے۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رانا میر ہادی سیما کے دماغ کے دہی کرنے پر آئسکریم پالر آیا تھا مگر سب سے پہلے یہاں آ کر جو منظر اس کو دیکھنے کو ملا اس کے لبوں و تمسخرانہ سی مسکان نے چھوا تھا۔ اور حلق کڑوا ہوا۔ لویزا کا اس کی جانب چہرہ تھا جبکہ وہ جس کے ساتھ آئی تھی اس شخص کی اس کی جانب پیٹھ تھی۔۔
(ہونہہہہہہہ،، یونی میں تو بی بی حاجن بنتی ہیں اور ادھر عیاشیاں ہو رہی ہیں) وہ دل میں بڑبڑایا۔
سیما اسے لئے ایسے ٹیبل پر بیٹھ گئی جو بلکل لویزا کے سامنے والا تھا۔ سیما نے آئسکریم آرڈر کی۔
جانے کیوں مگر اس کے ہوتے ہوئے ہال کا ہر منظر پھیکا پڑا ہوا تھا۔ سب کی نگاہیں اس سادہ مگر حسین چہرے کا تعاقب کر رہیں تھیں میک اپ سے پاک جو بلیک دوپٹے میں یوں لپٹا ہوا تھا جیسے رات کی گہری آغوش میں چودھویں کا چاند دمک رہا ہو۔
سیما نے جو بلو جینز کے اوپر ریڈ شارٹ ٹاپ پہنا ہوا تھا وہ بھی اپنے حسین ترین ہلکے میک اپ زدہ چہرے کے ساتھ جیسے پسِ منظر میں چلی گئی تھی۔
رانا میر ہادی بے دلی سے وہاں بیٹھا تھا جب پاس کے ٹیبل سے کچھ معنی خیز سرگوشیاں سی سنائیں دیں۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ کافی دیر سے، بابا جب ادھر ادھر دیکھتے تو ان کے کپ میں سے آئسکریم کھائے جا رہی تھی۔
وہ اس کی شرارت سمجھ چکے تھے اسی لئے اسے گھورا۔
کیا،، بابا کے کپ والی زیادہ مزے کی لگ رہی ہے،، اس نے شرارت سے کہا۔۔
تو ٹھیک ہے میں اپنی پرنسز کو اپنے ہاتھوں سے اپنے کپ میں سے کھلاؤں گا۔۔
یہ بول کر اقبال صاحب نے اپنے کپ میں سے اس کو کھلانا شروع کی۔۔
پاس ہی ٹیبل پر کچھ منچلے نوجوان بیٹھے تھے۔ جو امیر لوگوں کی بگڑی ہوئی اولادیں لگ رہیں تھیں۔۔ جن کی نظر اب لویزا اور اقبال صاحب پر تھی اور وہ معنی خیز نگاہوں سے انھیں ہی دیکھ رہے تھے۔
ارے انکل جی دیکھو کتنے رنگین مزاق ہیں بھئی،، ہاہاہاہاہاہا،،،
مکروہ قہقہے حال میں گونجے۔
میرا تو دل کر رہا ہے ڈوب مروں،، ہم کیا مر گئے تھے جو اس حور کو یہ بڈھا ہی ملا،، ہاہاہاہاہاہا
حور کے پہلو میں لنگور تو سنا تھا آج بڈھا پہلی مرتبہ دیکھا،،
اور دیکھ کے صدمے سے برا حال ہے،
وہ چاروں بنا حقیقت جانے اول فول بکے جا رہے تھے۔ ان کا ٹیبل میر ہادی کے ٹیبل کے بلکل قریب تھا سو ان کی بکواس وہ بخوبی سن پا رہا تھا۔ اور اس کی تیوری پر جانے کیوں بَلوں کے جال میں اضافہ ہوا جا رہا تھا۔
لویزا آپ چلو میں بل دے کر آتا ہوں،، اقبال صاحب بول کر کاؤنٹر کی جانب چلے گئے۔ وہ سر ہلاتی اٹھی۔ اور باہر کی جانب بڑھی۔
وہ چاروں بھی اس کے پیچھے لپکے تھے۔
رانا میر ہادی کا میٹر شارٹ ہوا۔
سیما تم رکو، میں آتا ہوں،،
Whare are you going?
ضروری فون کال کرنی ہے ابھی آیا،، بول کر وہ باہر آیا۔
ہیے بےبی، یہ میرا نمبر ہے اس بڈھے میں کیا رکھا، جو اس کے ساتھ ہو، تمھیں تو میرے ساتھ ہونا چاہیے،
ایک لڑکا نے لویزا کے سامنے آ کر بکواس کی۔ لویزا کا دماغ گھوما۔
وہ بڈھا باپ ہے میرا، تم باپ ہو میرے، لویزا نے پھنکار کر کہا تو ان چاروں پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔۔
اب اگر نہیں چاہتے کہ میں اپنی سینڈل اتار کر تم لوگوں کے سر پر بجا دوں تو دفع ہو جاؤ میرے سامنے سے،، وہ پھر چلائی۔۔
ارد گرد کے لوگ متوجہ ہوئے۔ وہ چاروں گڑبڑائے۔
پاس ہی پلر کی اوٹ وہ کھڑا سگریٹ کے گہرے کش لیتا یہ تماشہ دیکھ اور سن رہا تھا۔۔
ارے آپ تو غصہ کر گئیں میڈم، میں تو فرینڈشپ کرنا چاہتا ہوں بس، ان میں سے جس کو اس بے اختیار حسن اور حسین ترین سرخ وسفید لڑکی میں زیادہ دلچسپی ہو رہی تھی اب وہ پھر ڈھیٹوں کی طرح اس سے مخاطب ہوا تھا مگر سامنے سے اب بھی نہیں ہٹا۔
جس سے میری فرینڈشپ ہے وہ میرے ساتھ ہیں مجھے کسی بھی اور ایرے غیرے فرینڈ کی ضرورت نہیں ،اب ہٹو گے سامنے سے کہ سکیورٹی گارڈ کو بلاؤں، وہ دانت پیس کر بولی تو اب کی بار وہ شرافت کا مظاہرہ کرتے سامنے سے ہٹ گیا۔
اقبال صاحب اندر سے باہر آئے۔ لویزا مسکرائی یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، اقبال صاحب اپنی بائیک تک آئے۔
اقبال صاحب بائیک پر بیٹھے۔
کچھ اور کھانا ہے میری پرنسز نے،،
نہیں بابا،، آپ کی آئسکریم سے ہی پیٹ فل ہو گیا،، وہ پیچھے بیٹھی۔
اقبال صاحب نے بائیک سٹارٹ کی اور وہاں سے نکلتے چلے گئے۔
دو نگاہوں نے دور تک بائیک کا تعاقب کیا۔
جھانسی کی رانی،،پاگل لڑکی، بٹ اپنے ڈیڈ کے ساتھ تھی، اور میں بھی،،، وہ بڑبڑایا اور اندر کی جانب آیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
لویزا لائبریری میں بیٹھی گہری سوچ میں تھی۔ سامنے بکس اور اسائنمنٹ کے پیپر پڑے تھے مگر وہ تو کسی اور ہی دنیا کی سیر کو نکلی تھی۔
جو ان کے ساتھ ہو رہا تھا وہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ اور آج تیسرا دن تھا اسی تماشے کو۔ کیا یہ وہی کروا رہا تھا۔ اگر ہاں تو اس سے زیادہ گھمنڈی اور اناپرست کوئی نہیں تھا اور اگر نہیں تو ایسا کیوں ہو رہا تھا۔
آج اجالا بھی نہیں آئی تھی اور وہ سخت قسم کی بور ہو رہی تھی۔ اس کی گہری سوچ کے ارتکاز کو کسی کے قدموں کی قریب آتی چاپ نے توڑا تھا۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی بددماغ شخص اس کو اپنی جانب آتا دکھائی دیا۔ جتنی شاندار پرسنیلٹی اتنا ہی گھمنڈی۔ اب بھی وہ بلیک پینٹ اور کیمل کلر شرٹ میں مغرور سی چال چلتا بکس ریک میں سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
وہ بدمزہ ہوئی پہلے ہی موڈ سخت قسم کا آف تھا اوپر سے یہ،، وہ جلدی سے اپنی چیزیں سمیٹنے لگی تاکہ فورا گھر چلی جائے۔
وہ جو کوئی بک ایشو کروانے آیا تھا۔ اس پر نگاہ پڑی۔ پر یہ دیکھ کر فورا رگیں تنیں کہ وہ اس کو دیکھ کر بھاگنے کے چکر میں ہے۔
وہ ناچاہتے ہوئے بھی پھر اس کے قریب آ کر اس کے سر پر سوار ہوا۔
کیا ہوا مس ایلوویرا،، گیس بتی گُل ہو گئی، افسوس تمھارے بابا کو تمھاری اس سو کالڈ اکڑ کی وجہ سے اس عمر میں اتنی خواری بھگتنی پڑ رہی ہے، ہادی کا لہجہ مزاق اڑاتا سا تھا۔
لویزا شاکڈ سی اپنی بکس کو دیکھے گئی۔
(تو واقعی یہ سب یہی کروا رہا تھا۔ اس کا دل تو کیا سامنے کھڑے شخص کو کہے چلو بھر پانی میں ڈوب مرو۔ وجوہات کئی ساری بنتی تھیں مگر دوبارہ اس بدتمیز کے منہ کون لگتا)
آخر چاہتے کیا ہیں آپ؟ وہ تلملا کر بولی۔
بتا چکا ہوں کیا چاہتا ہوں،، پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اس کا اطمینان قابل دید تھا۔
آپ کو میری سوری میں اتنی دلچسپی کیوں ہے آخر مسٹر ہادی ، وہ پوچھ بیٹھی۔
اور تم میں اتنی اکڑ کیوں ہے آخر ایلوویرا،، وہ بھی اسی کے انداز میں بولا۔
جب میری کوئی غلطی ہے ہی نہیں تو میں معافی کس بات کی مانگوں، لویزا اب اپنی چیزیں سمیٹ کر اس کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔
مجھ سے الجھنے کی، رانا میر ہادی نے تنفر سے کہا۔
کیوں آپ خدا ہیں، جو کسی بھی عیب سے پاک ہیں، آپ سے مسٹیک نہیں ہو سکتی،
ہو سکتی ہے، مگر میری کوئی بھی غلطی مجھ سے سوری نہیں بلوا سکتی، تم سے بلوا سکتی ہے،، (وہ نہیں جانتا تھا آگے جا کر ان کہے گئے الفاظ کے ہرجانہ کی ادائیگی کرتے وہ خون کے آنسو رونے والا ہے)
اس دن آپ کی بھی اتنی ہی غلطی تھی جتنی کہ میری ، تو آپ کو اپنی غلطی کیوں نظر نہیں آتی، چلو وہ بھی میں ہی بتا دیتی ہوں کیونکہ آپ ایک انتہائی اناپرست، گھمنڈی اور بدماغ شخص ہیں،، لویزا نے پتھر سے سر پھوڑا۔
ہیے یو ایلوویرا، منہ سنبھال کر بات کرو، وہ دانت پیس کر بولا۔
خبردار جو آپ نے بھی مجھے اس بیہودہ لفظ سے پکارا، لویزا اقبال نام ہے میرا،، وہ بھی چڑ کر بولتی جھٹکے سے پیر پٹختی وہاں سے چلی آئی تھی۔
رانا میر ہادی دانت پیس کر رہ گیا۔۔ اففففففف یہ لڑکی مرے گی میرے ہاتھوں ،،،
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آج اجالا کی طبیعت بہت ہی زیادہ خراب تھی۔ رات سے تیز بخار تھا تبھی وہ یونی نہیں گئی تھی۔ اب بخار تو میڈیسن لینے کی وجہ سے اتر گیا تھا مگر وہ کسلمندی سے اپنے بیڈ پر لیٹی کمفرٹر میں گھسی ہوئی تھی۔
فوزیہ بیگم بار بار اسے آ کر دیکھ لیتیں۔۔
اب بھی وہ نیم غنودگی میں تھی جب پھر روم کا دروازہ ہلکا سا ناک کر کے کوئی اندر داخل ہوا تھا۔۔
(نہیں جانتی تھی کوئی دن بھر کی اپنی بے چینیوں کا حساب کتاب لینے اس کے سر پر پہنچ چکا ہے)
مما پلیز، بچوں کی طرح تو مت ٹریٹ کریں یار، آئم فائن ناؤ،، وہ غنودگی میں ہی کمفرٹر سے ہی بولی۔
نو میری جان بچوں کی طرح نہیں میں تو بیوی کی طرح ٹریٹ کرنے آیا ہوں، اس نے کہتے کمفرٹر سے باہر نکلے اس کے گداز بازو پر اپنے لب رکھے تھے۔
اور عالی کے اس عمل اور بات پر اجالا بیگم کی غنودگی بھک سے اڑی تھی اور تڑپ کر اٹھی۔
وہ جو اس کے اوپر جھکا ہوا تھا اس کے کشادہ سینے سے ٹکرا کر پھر تکیے پر گر گئی۔ ۔عالی کی ہنسی چھوٹ گئی۔
افففففففف کیا مصیبت ہے عالی،، پتھر باندھ رکھے ہیں کیا؟ اس نے اپنی چھوٹی سی ناک سہلائی۔
نو میری جان،، تمھارے لیے تو میں موم سے بھی زیادہ نرم ہوں، یہ بول کر اس نے اپنے لبوں سے اس کی ناک کو چھوا تو اجالا کے ہوش اڑے کیونکہ وہ مکمل اس پر جھکا ہوا تھا۔
عالی پیچھے ہٹیں،، بہت بدتمیز ہیں آپ،، وہ جھلائی۔
ابھی میں نے بدتمیزی کی کہاں ڈئیر فیانس،، اس کی نگاہوں کے فوکس اجالا کے گلابی لب تھے۔
عالی میں بہت برا پیش آؤں گی،، اس نے وارننگ دی تو عالی نے سرد سی آہ بھری۔
مگر پھر بھی ایک حدت بھرا نرم لمس اس کے ماتھے پر چھوڑا تو وہ پھر گڑبڑائی۔
عالی،، وہ چلائی۔
عالی مسکرایا اور پیچھے ہٹا۔ “کیا میں نے کیا کیا؟ وہ انجان بنا۔ کوئی نہیں جان، ایک مرتبہ اس صیاد کے دام میں پھنسی تو رہائی ممکن نہیں ہوگی،، پاگل کر دوں گا تمھیں، اس نے دانتوں تکے لب دباتے اس کا لہو چھلکاتا چہرہ دلچسپی سے دیکھا۔
سنیں عالی میں اچانک ہی یونی نہیں گئی ، آپ نے لویزا کو دیکھا تھا یونی میں ،،وہ ایک دو دن سے کافی اپ سیٹ لگ رہی ہے،، اپ کو پتہ ہے کیا ہوا اسے،، اجالا نے اچانک کہا تو عالی نے نگاہیں چرائیں تھیں۔
نو اجالا مجھے نہیں معلوم،
اور مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں،، وہ مشکوک سی ہوئی۔
مگر تبھی روم میں فوزیہ بیگم انھیں چائے کے لئے بلانے چلیں آئیں تھیں تو عالی کی گلو خلاصی ہوئی تھی وہ سرد سی آہ بھرتا اجالا کے پیچھے ہو لیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
Ye special epi Aroba Malik k lie. 😷😷
مگر یہ دیکھیں 🙏🙏🙏میرے جڑے ہاتھ😂😅😷ایپی لینے کے چکر میں اتنے بھی کمنٹ نا کیجئے گا کہ لائک کرتے کرتے میرے کمنٹ ری ایکٹ ہی بلاک ہو جائیں ۔پلجج😅😂
