Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
میر ہادی بیڈ پر لیٹا بےچین سا تھا۔ رات گہری تھی تقریباً دس بجے کا وقت تھا اور اس دشمنِ جاں کے بغیر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ بختاور اچھی طرح اس کی جھنجھلاہٹ اور بے چینی دیکھ رہی تھی۔ اسے ماہی بے آب کی طرح تڑپتے دیکھ بختاور نے ایک سرد سی آہ بھری۔
فون کر لیں اسے،، بختاور نے اپنے موبائل سے نگاہ ہٹا کر اسے مشورہ دیا۔۔
واٹ،، میر ہادی ک جھٹکا لگا۔
میں نے کہا اسے فون کر لیں، جیسے آپ تڑپ رہے ہیں کیا پتہ وہ بھی آپ کے فون کا ویٹ کر رہی ہو،، وہ اب بھی سکون سے بولی تو میر ہادی ایک نظر اس کی جانب دیکھ کر اپنا فون اٹھایا۔
کافی دیر بیلز جاتی رہیں،، مگر ادھر سے فون رسیو نہیں کیا گیا۔ اس نے تنگ آ کر افضل کو کال ملائی۔
مگر جب افضل نے اور پھر باقی گارڈز میں سے کسی نے بھی فون نہیں اٹھایا تو وہ بے تحاشا چونکا تھا۔
لیزا نے فون رسیو نہیں کیا تو سمجھ آتا تھا کہ وہ سو گئی ہوگی مگر افضل اور گارڈز یہ گستاخی نہیں کر سکتے تھے۔ خاص طور پر تب جب وہ کہیں جائے اور لویزا کی زمہ داری اسے سونپ کر آئے تو میر ہادی جانتا تھا کہ اس صورت میں افضل رات کو ہمیشہ جاگتا تھا تاکہ لویزا کی حفاظت کر سکے اور دن میں سوتا تھا۔
کئی مرتبہ کے فون کرنے پر بھی جب کسی نے فون رسیو نہیں کیا تو وہ آندھی بنا اس روم سے نکلا تھا۔ بھاری قدموں کی دھمک حویلی کے طویل وعریض لاؤنج میں گونجی تھی۔
کدھر جا رہے ہو برخوردار، دادا سائیں کی دھاڑ گونجی تھی لاؤنج میں۔ اس نے بھنا کر پیچھے دیکھا تو دادا ، بابا ، اماں سائیں اور ممتاز بیگم لاؤنج میں بیٹھے تھے مگر وہ اس قدر بےچین تھا کہ دیکھ ہی نہیں پایا۔
میر لاج جا رہا ہوں،، سکون سے کمر پر ہاتھ باندھ کر کہا۔
میں پوچھتا ہوں آخر کیا جادو کیا ہے اس لڑکی نے تم پر کہ تمھیں اس کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا،، دادا سائیں نے دانت پیس کر اپنے خوبرو اور وجہہ پوتے کو ملاحظہ کیا۔
پتہ نہیں دادا سائیں،، یہ بات تو آج تک میں خود بھی نہیں سمجھ پایا،، اطمینان برقرار تھا۔ مگر سامنے والے کو ضرور آگ دکھائی تھی۔
اور ہم نے تو کہا تھا کہ آج تم حویلی رکو گے،، ہماری بات کی کوئی اہمیت نہیں تمھاری نگاہوں میں،، وہ دانت پیس کر بولے۔۔
فی الحال اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے میرے لئے،، وہ پھر سکون سے بولا تو ان کے سینے میں ایک ان دیکھی آگ سی بھڑکی تھی۔
اس دو ٹکے کی لڑکی کا ہم سے مقابلہ کر رہے ہو،، دادا سائیں نے انگارے چبائے۔
آپ کے اکلوتے خاندان کے چشم و چراغ اور اربوں کی جائیداد کے مالک یعنی میرے،،،، رانا میر ہادی کے جینے کی وجہ ہے وہ دو ٹکے کی لڑکی ، تعجب ہے اب بھی آپ اس کی قیمت اور اہمیت کا انداز نہیں لگا پائے،، اس کے الفاظ جانے کیوں سب کو لاجواب کرتے چبھتے ہوئے سے لگتے تھے۔
اب تو بختاور بھی پلر کی اوٹ میں سے اس کی باتیں سانس روک کر سن رہی تھی۔ سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔
“اب ہوا کیا ہے جو منہ اٹھا کر چل پڑے ہو،، دادا سائیں پھر پھنکارے
مجھے کچھ غیر معمولی لگ رہا ہے، عجیب سی بے چینی ہو رہی ہے، میری عزت کی حفاظت کا سوال ہے جانا ہوگا مجھے،،
میں نے اپنے آدمیوں کو بھیجا ہے اس کا کام تمام کرنے کے لئے،، دادا سائیں کی بات پر وہاں موجود سب لوگوں کے سروں پر حویلی کی چھت گری تھی جیسے ،،یا پیروں تلے سے زمین کھسکی تھی۔ میر ہادی کے تاثرات پل بھر میں بدلے تھے۔ لال انگارا آنکھیں اور لہو چھلکاتا چہرہ ، رگیں یوں تنی جیسے ابھی پھٹ پڑیں گی۔ مگر وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا تھا۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ بابا سائیں،، رانا میر دراب کو ہی ہوش آیا تھا بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر ان سے باز پرس کرنے کا۔
رانا میر ہاشم اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے روبرو آ کر کھڑے ہوئے تھے۔
جو بھی کہہ رہا ہوں بلکل سچ ہے،، اب تک تو اس کا کام تمام بھی کر دیا گیا ہوگا،، رانا میر ہادی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا انھوںنے۔
نہیں ابھی نہیں کیا ہوگا کام تمام،، رانا میر ہادی کی سرسراتی آواز حال میں گونجی تھی “نہیں بھی کیا ہوگا کام تمام تو اپنے آدمی کو فون کر کے کہیں کہ گولی یا خنجر کا سب سے پہلا وار اس کے پیٹ پر کرے،، میر ہادی نے کہا تو سب نے اسے ایسی نگاہوں سے دیکھا جیسے اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا ہو۔
جبکہ اس کی بات سمجھ کر اماں سائیں اور ممتاز بیگم باآواز بلند رونے لگیں تھیں۔
کیوں ایسا کیوں بولوں اپنے آدمی کو،، دادا سائیں نے پوتے کی فرمائش پر خوش ہوتے پوچھا تھا۔
کیونکہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے وہ، اس خاندان کے وارث کو جنم دینے والی تھی،،
الفاظ تھے کہ پگھلا ہوا سیسہ،
جملہ تھا کہ آندھی یا طوفان جو میر حویلی کی تمام اکڑ، رعب، طنطنہ اور غرور کا سر کچل کر اسے خاک میں ملا گئی تھی۔ دادا سائیں اپنی جگہ پہ کھڑے بری طرح لڑکھڑائے تھے کہ میر دراب کو انھیں سہارا دینا پڑا۔ میر ہادی نے ایک تمسخرانہ اور حقارت بھری نگاہ ان پر ڈالی جو اپنی انا اور ضد میں اندھے ہو چکے تھے۔
“دادا سائیں اگر میری بیوی کو ایک کھروچ بھی پہنچی، یا میرے بچے کو کوئی نقصان پہنچا تو خدا کی قسم اور اسی بچے کی قسم ،، رانا میر ہاشم کی نسل رانا میر ہادی پر ہی ختم ہو جائے گی،، اور اس کے زمہ دار رانا میر ہاشم خود ہی ہوں گے،، وہ کہہ کر رکا نہیں تھا تیزی سے باہر نکلا تھا۔
دادا سائیں کے جسم سے جیسے جان نکلی تھی۔ میر دراب نے انھیں سہارا دے کر صوفے پر بٹھایا۔
میر دراب میرا فون دو مجھے جلدی کرو،، وہ دھاڑے تھے۔
یہ کیا کر دیا آپ نے،، اگر اس کی بیوی یا بچے کو کچھ ہو گیا تو،، اماں سائیں کے رونے میں اضافہ ہوا تھا۔
کتنے سالوں سے انتظار کر رہے تھے اس دن کا اور آج جب وہ خبر ملی تھی تو جیسے عنقریب ہی چھننے والی بھی تھی۔
تم لوگوں کو پتہ تھا پہلے،، میر دراب ممتاز بیگم کی جانب دیکھ کر دھاڑے۔۔
نہیں آج ہی بتایا اس نے،، وہ گھبرا گئیں۔
میر ہاشم کافی دیر رجب کا فون ٹرائی کرتے رہے مگر اس خبیث نے فون نا اٹھایا۔ دو تین گھنٹے سخت ٹینشن میں گزرے ۔ آج کی رات بہت بھاری تھی۔۔حویلی کے تمام افراد جاگ رہے تھے۔ آخر تھک ہار کر جو وہ نہیں کرنا چاہتے تھے وہ کرنا پڑ گیا۔ وہ پولیس کو اطلاع نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ اس سے دنیا والوں اور میڈیا کو اس بات کی بھنک لگ سکتی تھی۔ مگر اس کے باوجود
میر ہاشم نے ایک نمبر ڈائل کر کے کان کو لگایا تھا۔ دوسری جانب کمشنر آف پنجاب تھے۔ رات کے ڈیڈھ بج چکے تھے۔
ایک ایڈریس بھیج رہا ہوں کمشنر،، میری بہو ہے وہاں پر اور اس کی جان خطرے میں ہے، فورا جا کر اس کی حفاظت کرو،، ایک کھروچ بھی نا آئے اسے،،،
وہ جانے اور کیا کیا بتا رہے تھے اور یہ وہی تھے جو کہتے تھے کہ کبھی اسے اپنے خاندان کی بہو تسلیم نہیں کریں گے اور اب ،،
گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی۔ آج وہ اس کنڈیشن میں بلکل نہیں تھا کہ گاڑی ڈرائیو کر سکے، رات کو لگائی سن گلاسز کے پیچھے بار بار آنکھیں نم ہو رہی تھی اور لبوں پر اس کی سلامتی کی دعائیں تھیں۔
اس کا دل کیا عالی اور اجالا کو اطلاع دے دے۔ مگر وہ ایک جان کے لئے ان کی جان بھی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ پتا نہیں کیا صورتحال ہوگی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
رات کے ڈیڑھ بجے باہر رانا میر ہاشم کے آدمیوں نے گارڈز اور افضل کو قابو کر کے بے ہوش کر کے کوارٹر میں بند کر دیا تھا۔ میکس کو اس کے گھر میں بند کر دیا گیا تھا۔
باقی آدمی واپس چلے گئے تھے جبکہ رجب کچن کی جانب سے اندر گھس آیا تھا۔
لویزا اس کے سامنے کھڑی تھی۔ وہ لویزا کی جانب لڑکھڑاتا بڑھا تو وہ واپس مڑ کر بجلی کی سی تیزی سے اپنے کمرے میں گھس کر اس نے لاک لگایا تھا۔ اور دروازے سے لگی نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی۔
وہ دیکھ چکی تھی وہ دیو ہیکل آدمی جلد ہی دروازہ بھی توڑ دے گا۔ لویزا نے گہرے گہرے سانس لیے اور خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی ۔ جانے کیسے اور کیوں مگر ایک بھاری مہربان سی آواز کانوں میں گونجی جیسے یہ سبق اسے بچپن سے لے کر اب تک ازبر کروائے گئے ہوں۔ جیسے یہ بار بار اسے سکھایا گیا ہو۔
یہ پانچ پوائنٹس ہمیشہ ہمیشہ اپنے زہن میں رکھنا میری بچی،، ہر کوئی جو بھی تمھارے آس پاس ہو ضروری نہیں کہ سب ہی اچھے ہوں ان میں سے کوئی گندا اور بیڈ مین بھی ہوسکتا ہے جو تمھیں ہارم پہنچانے کی کوشش کرے تو سب سے پہلے
پہلا پوائنٹ،، ڈرنا نہیں بلکل بھی،
Fear is the biggest enemy,,,
ڈر آپ کو مینٹلی اور فزیکلی کمزور کر دے گا،،
دوسرا،، سچویشن کو فیس کرنا،، سامنے والے کو آپ ہمت والی اور بہادر ہو یہ دکھانا،،
تیسرا،، ایٹ دی سیم ٹائم اس سچویشن سے باہر آنے کی کوشش کرنا اور مشکل سے بچ نکلنے کا راستہ ڈھونڈنا
فورتھ، کسی اپنے کو انفارم کرنے کی کوشش کرو،،
ففتھ،، اگر ان میں سے کوئی بھی پوائنٹ کام نا کرے تو اپنی پوری طاقت لگا کر سامنے والے پہ اٹیک کرو،،
اس کا دماغ بہت تیزی سے کام کرنے لگا۔۔اسے اپنی اور اپنے بچے کی حفاظت کرنی تھی، میکس کی حفاظت کرنی تھی، وہ بے زبان جس نے آج ہی اپنی اس قدر وفاداری کا ثبوت دیتے اس کی جان بچائی تھی،، اب اس کی باری تھی یہ قرض اتارنے کی، اسے میکس کی آواز سنائی دے رہی تھی وہ بھونک رہا تھا اور جلد ہی اسے بچانے اندر آ جاتا ، مگر اس سانڈ کے سامنے اس ننھی سی جان کی کیا اوقات تھی۔ یہ ایک ہی وار میں اسے نقصان پہنچا سکتا تھا ،،،
اسے اپنے اور اپنے بچے کو بچانا تھا، اس کے لئے،، جس کی وہ امانت تھی۔ جس کا بچہ اس کے پاس اس کے شوہر کی امانت تھی۔ وہ جانتی تھی کہ گارڈز اور افضل کاکا کو یہ لوگ نقصان پہنچا چکے ہوں گے تبھی وہ اس کی حفاظت کے لئے نہیں پہنچ پائے تھے۔
وہ عورت تو جنت کی حقدار ہوتی ہے جو شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی امانت یعنی اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کرے۔
کیوں آخر کیوں ایک لڑکی کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کوئی آئے گا تو اسے بچائے گا۔ آخر وہ اپنی حفاظت کیوں نہیں کر سکتی۔ اپنی ہیرو خود کیوں نہیں بن سکتی، کیوں اپنی حفاظت خود کرنے کی کوشش نہیں کرتی،
مردوں کے کندھوں پر پورے گھر کی کفالت کی زمہ داری کا بوجھ ہوتا ہے تو اپنی حفاظت کا بوجھ بھی کیوں ڈالا جائے ان کے کندھوں پر، اس کام کی زمہ داری خود کیوں نا اٹھائی جائے۔
ایک بچہ پیدا کرنے کا درد اور تکلیف ایک مرد برداشت نہیں کر سکتا۔ تو یہ درد بار بار برداشت کرنے والی ایک عورت خود کو اتنا مضبوط کیوں نہیں بنا سکتی کہ کسی درندے سے خود کو بچا سکے۔۔ اس کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دے۔
لویزا ایک عزم لیے اپنی جگہ سے شیرنی بنی اٹھی تھی۔ فون دوسرے روم میں تھا لہذا کسی کو فون نہیں کر سکتی تھی ۔ آگے بڑھ کر لینڈ لائن فون چیک کیا وہ شاید ڈسکنیکٹ کر دئیے گئے تھے۔۔ اب وہ کمرے کے پچھلے دروازے کو ان لاک کرتی باہر نکل کر گھوم کر کچن میں آئی تھی۔
کچن میں آ کر اپنے مطلب کے ہتھیار نکال کر ٹیبل پر رکھے۔ اور خود کو لیزاا بی بولڈ،، اور بی بریو بولتی لاؤنج میں آئی۔۔
باہر وہ سانڈ دروازے سے مڈ بھیڑ میں مصروف تھا۔
او سانڈ،، بے وقوف، گدھے کی اولاد،، ادھر کیا ڈھونڈ رہے ہو، ادھر ہوں میں،، آؤ مجھے پکڑ کر دکھاؤ،، لویزا چلائی تو وہ بھناتا حیرت زدہ سا ہو کر پلٹا اور خونخوار نگاہوں سے رال ٹپکاتا اس بالشت بھر کی نازک لڑکی کو دیکھا اور اس کی جانب لپکا۔ جب وہ دو قدم کے فاصلے پر آیا تو،
تبھی لویزا نے سرخ مرچوں کا پورا ڈبہ کھول کر اس کے منہ پر اچھالا تھا۔
سیکنڈوں میں اسے اپنی نانی یاد آئی تھی۔ سارا نشہ ہرن ہو گیا۔ وہ کٹے بکرے کی طرح چنگھاڑنے لگا۔ پھر لویزا نے نمک اور دیگر مرچ مصالحوں سے اس کی تواضع کی تھی۔
اب لویزا نے اپنا دوپٹہ اس کے منہ پر لپیٹ کر اس کا سر پوری طاقت لگا کر دیوار سے دے مارا تھا۔
وہ مسلسل چنگھاڑنے لگا اور بری طرح لویزا کو نقصان پہنچانے کے لئے ہاتھ پیرا چلا رہا تھا۔ لویزا نے کچن کے تمام انسٹرومنٹ طبلہ بنا کر اس سانڈ پر بجا دئیے تھے۔
لویزا نے بیلن گھما کر اس کے سر میں مارا تھا۔ مگر اس دوران لویزا کو اس سانڈ کا ایک ہاتھ ہی پڑا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے بری طرح لڑکھڑائی تھی سر دیوار پر لگا اور الماری کی نوک لگنے سے ماتھے پر سے ہلکا سا خون بہنے لگا اب وہ پچھلے دروازے میں بھاگ کر گم ہو گئی۔
وہ چیختا چنگھاڑتا گالیاں بکتا سنک تک آیا اور اپنا منہ ٹیپ کھول کر نیچے کر دیا۔ کچھ دیر بعد آنکھوں کی جلن کچھ کم ہوئی مگر سر پر بنے دو الو نما گھومڑ ضرور چل چل کر رہے تھے۔ وہ خنجر اٹھا کر دانت پیستا اندر کی جانب پھر لپکا۔
مگر لاؤنج میں قدم رکھتے ہی تارے زمین پر اترے تھے جب دھماکے کی آواز پر ایک واس اسے کے سر پر پھوٹا۔ اور وہ پھر لہولہان سر پکڑ کر چنگھاڑنے لگا۔ اس کے باوجود ہار ماننے کو تیار نا تھا ۔
لویزا دیوار کے پاس کھڑی اسے گھور رہی تھی۔ “خبیث، الو کے پٹھے، شراب اور شباب کے مزے لو گے،، گھر میں ماں بہن نہیں ہیں کیا،، تمھیں تو چکھاتی ہوں میں مزا،، لویزا نے جان بوجھ کر اسے اکسایا اور اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہوئی۔ وہ جو اس کی جانب لپکا تھا دیکھ نا پایا کہ لویزا نے اپنے سامنے بڑا سا گلدان رکھا ہوا ہے۔ وہ اس کے قریب آنے لگا جب گلدان میں الجھا۔ لویزا سامنے سے تیزی سے پیچھے ہٹی اور اس کا سر دھڑام سے دیوار پر بجا تھا۔
وہ بھاگ کر کچن سے پھر لوہے کا راڈ لائی تھی اور اسے روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیا۔ اتنے میں میکس بھی اندر گھس آیا تھا اور اس کے بیٹھنے کی جگہ کو اپنے دانتوں میں لے کر بھنبھوڑ کر رکھ دیا۔۔
وہ بری طرح چیختا چلاتا رہا مگر لویزا اس کی ہڈی پسلی سینک چکی تھی۔ اور میکس بھی اپنا حساب بے باک کر چکا تھا۔
ارے یہ لو میری ماں ،، میری بہن،، مرے جڑے ہاتھ دیکھو،، چھوڑ دو مجھے،،، وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا۔ مجھے جانے دو،، اس نے منت کی۔
میکس اسٹاپ،، بس کرو،، اس نے بولا تو میکس ایک سائیڈ ہو کر بیٹھ گیا۔
” اور تم بھیڑیے،، ہر گز نہیں ،، اگر نہیں چاہتے کہ میں اور تمھاری دھلائی کروں تو جو جو کہتی ہوں کرتے جاؤ،، تو اٹھو ابھی کہ ابھی،،
اب اس نے عافیت اسی میں جانی تھی کہ اس بالشت بھر کی پٹاخہ لڑکی کی باتوں پر عمل کرتا۔ سو وہ اٹھا۔
اس کرسی پر بیٹھو،، اور پاس پڑی رسی سے اپنے پاؤں باندھو،، اس نے کرسی پر بیٹھ کر اپنے پیر باندھے اور ایک ہاتھ بھی باندھ لیا۔
لویزا نے اس کے سر پر ایک ڈنڈا بجایا وہ جب تک درد کے اثر میں رہتا اس پر حملہ آور نہیں ہو سکتا تھا۔ لویزا نے فورا ہی اس کا دوسرا ہاتھ بھی مضبوطی سی جکڑ کر باندھ دیا۔ اور احتیاط کے طور پر رسی ہی رسی اس کے گرد لپیٹ کر اسے بری طرح رسیوں میں جکڑ دیا۔
اب لویزا نے اس کی پاکٹ سے فون نکالا تھا۔ اور نڈھال سی صوفے پر بیٹھی تھی۔
سب سے پہلے تو اسی کے فون سے پولیس کو اطلاع کی تھی۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی پولیس تو کب کی حرکت میں آ چکی۔
“بیغیرت آدمی مجھے برباد کرنے آئے تھے،، آباد تو تمھیں بھی نہیں رہنے دوں گی، بیوی کا نمبر کس نام سے سیو کیا ہے بتاؤ مجھے، وہ غرائی،، فون لسٹ میں سے اس کی بیوی کا نمبر ڈھونڈنا چاہا۔
وہ صدمے سے گنگ ہوا تھا “باجی پلیز خدا کا واسطہ ، میری جان بخش دو،، میری بیوی کو مت بتاؤ،، بیوی کے نام پہ وہ گھگھیا گیا اور منت سماجت پر اتر آیا۔
تم بخشتے میری جان زلیل انسان،، وہ دانت پیس کر بولی۔ اور اس کی بیوی کو فون ملا کر مرچ مسالے کے ساتھ اس کے شوہر کے کالے کرتوت بتائے۔ اور اس وقت کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔
پولیس آنے والی ہے صبح کو تھانے میں سے چھڑا لینا اپنے میاں کو،،،
یہ کہتے لویزا نے اس غنڈے کی جانب دیکھا جو اتنی مار کھانے اور سر سے مسلسل بہتے خون کی وجہ سے بے ہوش ہو چکا تھا۔
لویزا نے نفی میں سر ہلاتے اسے افسوس سے دیکھا۔
مجھے ہادی کو کال کرنی چاہیے،، وہ اپنے روم کی جانب گئی۔ میکس بھی اندر آ گیا۔ لویزا نے روم احتیاطاً لاک کر لیا۔ اتنی تگ و دو، ٹینشن اور اتنے سروائو کے بعد اس کا خود کا سر چکرا رہا تھا۔ کچھ سر پر چوٹ بھی لگی تھی۔ ابھی فون ہاتھوں میں لیا ہی تھا کہ باہر سے پولیس کی گاڑیوں کے سائرن کی آواز آئی۔ تو اس کی جان میں جان آئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
پولیس اور رانا میر ہادی کی گاڑیاں اکھٹی ہی گیٹ پر رکی تھیں۔
کمشنر رانا میر ہادی کو سامنے دیکھ الرٹ ہوئے تھے۔
پولیس نے میر لاج کو چاروں اطراف سے گھیر لیا تھا۔ گارڈز اور افضل کو بھی باہر نکالا گیا تھا۔ ۔ رانا میر ہادی نے بھی اپنی گاڑی کے ڈیش بورڈ سے اپنی گن نکالی تھی پھر وہ محتاط طریقے سے اندر داخل ہوتے چلے گئے۔
اندر غیر معمولی سناٹا اور خاموشی سن میر ہادی کہ رونگٹے کھڑے ہوئے تھے پورا وجود پسینے میں نہا گیا۔ وہ اس خاموشی کا مطلب کسی انہونی کے ہو جانے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔
تبھی جب وہ دھاڑ سے لاؤنج کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور اندر تک گھستے چلے گئے ۔
اب اندر کے مناظر دیکھ وہ سب حیرت میں ڈوبے تھے ۔ لاونج اور کچن میں جیسے بھونچال برپا ہوا تھا۔ اور سب سے حیرت کی بات وہ دیو ہیکل سانڈ نما آدمی لہولہان بری طرح کرسی پہ رسیوں سے جکڑا ہوا تھا۔ اور بے ہوش تھا۔ پولیس والے پورے گھر میں تیزی سے پھیل گئے تھے۔ یہ سب دیکھ کر وہ اچھی طرح سمجھ چکے تھے یہ سب کیسے ہوا ہوگا ۔ اس لڑکی کو سلامی پیش کرنے کو دل کیا جس نے اپنے سے کئی گناہ طاقت ور بندے سے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے یہ درگت بنائی تھی۔
لیزااااااا،،،،، میر ہادی دھاڑا۔ وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی مگر ان کے روم سے میکس کی آواز ضرور آ رہی تھی۔
لیزاااااااااااا،،،،، وئیر آر یو ڈیم اٹ،،،،،،،،،
وہ جو نڈھال سی بیٹھی پولیس کے اندر آنے کا انتظار کر رہی تھی میر ہادی کی آواز نے جیسے رگوں میں نئی زندگی اور طاقت دوڑا دی تھی۔ بھاگ کر دروازہ کھولا۔
ہادی،، اس نے آواز دی۔
میر ہادی اس کی جانب لپکا تھا۔ کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر اسے سختی سے سینے میں بھینچا وہ بھی اس کے سینے میں منہ دے کے اب سسک پڑی تھی۔
ہیے،،، تم ٹھیک تو ہو ناں بلکل،، میر ہادی نے اس اپنے سامنے کر کے اس کا اچھی طرح جائز لیا۔
میں بلکل ٹھیک ہوں ہادی،، میں،،،،، کہتے ہوئے لویزا میر ہادی کے بازوؤں میں جھول گئی تھی۔
لیزااااا،، وہ چلایا۔
تبھی اجالا اور عالی کمرے میں داخل ہوتے چلے گئے تھے۔ وہ تینوں اسے لئے ہاسپٹل کی جانب نکلے مگر جانے سے پہلے وہ کمشنر کی جانب دیکھ کر غرایا تھا۔
ایک گھنٹے کے اندر اندر یہاں سے سب کلئیر کریں،
ہو جائے گا رانا صاحب،، ویسے ایک بات کہنا چاہوں گا آپ کی وائف بہت بریو اور ہمت والی ہیں،، کمشنر صاحب نے دل سے تعریف کی میر ہادی جا چکا تو انھوںنے رانا میر ہاشم کو کال ملائی تھی۔
میر ہادی اسے لئے ہاسپٹل پہنچے تھے۔میکس بھی زبردستی گاڑی میں سوار ہو گیا تھا۔
اب ہاسپٹل پہنچ کر اجالا روئے جا رہی تھی۔ ابھی شام ہی تو لیزا نے اسے خوشخبری سنائی تھی۔ اور اب یہ سب،
میر ہادی تنی رگیں لیے دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا جب ڈاکٹر اندر سے باہر آئیں۔
میر ہادی تڑپ کر سیدھا ہوا۔
شی از ایبسلوٹلی آل رائٹ مسٹر ہادی،، وہ اور بےبی بلکل سیو ہیں فکر کی کوئی بات نہیں، بس سٹریس سے بےہوش ہو گئیں، چھوٹی سی چوٹ تھی، بینڈیج کر دی ہے،، آپ کچھ دیر میں ہی انھیں گھر لے جا سکتے ہیں،،
میر ہادی نے سکون کا ایک گہرا سانس بھرا تھا۔ ان چند گھنٹوں نے ہی اسے اس سے جدائی کے خیال نے ہی ادھ مرا کر دیا تھا۔
ہادی میر لاج کا تو حشر بگڑ چکا ہے، بھابھی کو لے کر ہمارے گھر چلو،، عالی نے کہا تو میر ہادی نے بغیر بحث کیے اثبات میں سر ہلا دیا تھا اسے جتنی وحشت نے گھیرا ہوا تھا وہ اب اسے اس دہشت زدہ ماحول میں لے کر جانا بھی نہیں چاہتا تھا۔
Continue ,,,,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
کل کی ایپی کے سینکڑوں رویوز اور کمنٹس آئے۔ جن میں تھا کہ لویزا کو،
ہادی بچا لے گا،
میکس بچا لے گا،
یا پھر افضل بچا لے،
حیرت انگیز طور پر کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ لویزا خود کو بچا لے گی۔ اور یہیں مجھے آپ لوگوں کی سوچ کی نفی کرنی تھی😷😷😷😷
ہے نا سوچنے کی بات، کیوں ہماری سوچ یہاں تک محدود ہے کہ ہمیں دوسرے بچائیں گے۔ کیوں ہم دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔ اپنی حفاظت خود کیوں نہیں کر سکتے ۔ امید ہے آج کی ایپی میں چھپے اس ایک گہرے میسج کو آپ سب سمجھیں گے اور اس پر عمل کرتے ہوئے خود کو بے تحاشا مضبوط بناتے ہوئے اپنی حفاظت کا زمہ خود اٹھائیں گے۔
کل ایک معلوماتی سرچ میں یہ جان کر واقعی شدید حیرت ہوئی کہ ایک بچہ پیدا کرنے کا درد اور تکلیف ایک مرد برداشت نہیں کر سکتا۔ پڑھ کر فورا یہی جملہ دماغ میں آیا جو لکھ ڈالا کہ یہ درد بار بار برداشت کرنے والی عورت آخر خود کو مضبوط کیوں نہیں بنا سکتی۔ 😷😷😷😷
منجانب،، متفکر سی جھٹکا رانی
