Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

آج میں اس شخض کے زندان میں ہوں
جو میرے نام پر چڑیوں کو رہا کرتا تھا

لویزا کو ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک حصار میں مقید پایا۔ کمر پر جانا پہچانا پرتپش سا لمس محسوس کر کے وہ فوراََ سیدھی ہوئی تھی۔ میر ہادی اس کے ہوش میں آنے پر چونکا اور لاتعلق سا ہو کر بازو پیچھے ہٹا لیا۔

امی ہم کہاں جا رہے ہیں،، خود کو گاڑی میں پا کر اور ساری صورتحال سمجھ کر اس کے اوسان خطا ہوئے تھے۔
جبکہ وہ موبائل میں یوں بزی ہو گیا جیسے کچھ دیکھ سن نہیں رہا تھا۔
امی بتائیں ہم کہاں جا رہے ہیں،، وہ گھبرائی۔
حویلی جا رہے ہیں بیٹا،، پرسکون ہو جاؤ،،
امی مجھے کہیں نہیں جانا،، وہ رو دی۔ مگر اس معاملے میں تو ممتاز بیگم بھی کچھ نہیں کر سکتی تھیں۔ سارے راستے گاڑی میں پھر اس کی دبی دبی سسکیاں گونجتی رہیں۔
زارون بھی گھبرا کر ماں کا ساتھ دینے لگا تھا۔ ممتاز بیگم نے اسے لویزا کی گود میں بھر دیا۔

گاڑی حویلی کے طویل ہو عریض ڈرائیو وے سے ہوتی اندر داخل ہوئی تو اتنی بڑی اور پرشکوہ عمارت دیکھ لویزا کی سانس اٹکی تھی۔ یعنی ایک اور بڑا سونے کا پنجرہ، گاڑی لان میں رکی تو لویزا جیسے اپنی جگہ پر جم سی گئی۔
امی سائیں آپ اندر جا کر استقبال کی تیاری کیجئے ہم آ رہے ہیں،، ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔
ممتاز بیگم خاموشی سے اتر کر اندر چلیں گئیں۔ حویلی میں ایک غیر محسوس سی ہلچل مچ چکی تھی۔
میر ہادی گاڑی سے نیچے اترا۔ لیزا نیچے اترو،، سنجیدگی سے کہا گیا۔
نو،، نہیں آنا میں نے باہر، یہاں نہیں رہنا، ہر گز نہیں،، وہ نفی میں سر ہلاتی پیچھے کو سرکی۔
لیزا، کیوں چاہتی ہو میں ہر بار زبردستی کروں تمھارے ساتھ، میر ہادی جزبز سا ہوا۔ “اب اگر نہیں چاہتی میں وہی تماشا حویلی والوں کو دکھاؤں تو گاڑی سے خود ہی اتر آؤ، نہیں تو میں سمجھوں گا تم پھر میری بانہوں میں آنے کو مچل رہی ہو،، میر ہادی کا لہجہ قابلِ دید تھا۔
لیزا نیچے اترو، حویلی والوں کے سامنے مجھے کوئی تماشہ نہیں چاہیے، مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا،، کم آؤٹ ناؤ،،
لویزا بری طرح اپنے لب کاٹتی گاڑی سے نیچے اتری تھی۔
سب گاڑی کے ارد گرد جمع ہونے لگے تھے۔ حالانکہ حویلی میں کام کرنے والیاں بھی، کافی رش لگ چکا تھا۔ سرخ لباس میں بلیک شال اوڑھے، پریوں جیسی خوبصورت سرخ و سفید سی معصوم مومی گڑیا چھوٹے سائیں کے پہلو میں اداس اداس سی مگر ہونق سی بنی کھڑی تھی۔ اور گود میں ننھا سا پنک کمبل میں لپٹا وجود اٹھا رکھا تھا۔
بختاور بھی اندر سے نکل کر باہر آئی تھی۔ مردان خانے میں موجود رانا میر ہاشم اور میر دراب بھی باہر چلے آئے تھے۔ انھیں اچانک ہی اطلاع ملی کے میر ہادی لویزا اور بےبی کے ساتھ حویلی ہی آ رہا ہے تو وہ باغ باغ ہو گئے تھے۔
اب خود چل کر ان کے استقبال کو وہاں پہنچے تھے۔
میر ہادی نے اس کے گرد بڑے حق سے بازو حمائل کیا، لویزا کنفیوز سی میر ہادی کے پہلو سے لگی ان سب کی سنگت میں آگے بڑھی۔
کام والیوں نے آگے بڑھ کر عقیدت سے لویزا کی چادر کا پلو ہی چومنا شروع کر دیا۔ تو لویزا بوکھلا ہی گئی۔
ارے یہ کیا کر رہیں ہیں آپ لوگ، اس کی ضرورت نہیں،، میں بھی آپ جیسی انسان ہی ہوں،، وہ ان کی جہالت اور خود کو اتنا حقیر اور کمتر سمجھنے پر کلس کر رہ گئی۔
میر ہادی اس کی جھنجھلاہٹ محسوس کر مبہم سا مسکرایا۔ وہ سمجھ سکتا تھا کہ یہ سب اس کے لئے نیا تھا جبکہ یہاں یہ عام سی بات اور روایت تھی۔
ارے بہو بیگم، کرنے دو بھئی ان کو اپنا شوق پورا، میر ہاشم نے اسے شاید باور کروایا تھا کہ اسے بھی حویلی کی روایات اور اقدار پر اسی طرح عمل کرنا ہے، جیسے کہ وہاں مقیم ہر فرد کرتا ہے۔
مگر میر ہادی ادے تھامے اندر لاؤنج میں چلا آیا تھا۔ وہ اماں سائیں سے ملی تھی۔ اور انھیں کے پاس بیٹھ گئی۔ سب نے باری باری زارون کو اٹھایا۔۔
مگر وہ روئے گیا۔
جاو بھئی بختاور بہو کو اس کے تیار کیے ہوئے کمرے میں لے جاؤ، تھک گئے ہوں گے دونوں ماں بیٹا آرام کریں گے،، اماں سائیں کے کہنے پر ان کی خلو خلاصی ہوئی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

بختاور اسے جس کمرے میں چھوڑ کر گئی تھی وہ حویلی کے قدرے پچھلی طرف بنا پرسکون، بہت ہی بڑا، شاندار، اور دنیا کی ہر آسائش سے مزین تھا۔ کمرے میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔
وہ نہیں جانتی تھی یہ کمرہ اسپیشل حویلی کی اس بہو کے نصیب میں آتا تھا جو حویلی کو اس کا وارث دیتی تھی۔
بےبی روئے جا رہا تھا۔ وہ جہازی سائز بیڈ پر بیٹھی اور اسے فیڈ کروانے لگی تھی۔
جب میر ہادی ہلکے سے کنکھار کر روم میں داخل ہوا۔ لویزا نے جلدی سے خود پر شال گرائی۔
آہستگی سے آ کر وہ بیڈ کی دوسری جانب بیٹھا تھا۔
لویزا نے پہلو بدلا۔

‏ہائے یہ بیگانگی! اپنی نہیں مجھ کو خبر
ہائے یہ عالم ، کہ تُو دِل سے جُدا ہوتا نہیں

کب تک ناراض رہنے کا پروگرام ہے ایلو جان،، سوال تھا کہ سوئی جو میر ہادی نے اس کی روح میں چبھوئی تھی۔
جو کچھ بھی ماضی میں ہو چکا ہے، کاش میں اسے بدل سکتا، مگر میرے بس میں نہیں، اس وقت حالات کچھ ایسے رہے اور تمھاری طبیعت کی وجہ سے میں تمھیں سچ نہیں بتا سکا،مگر،،

جھوٹ، سب کچھ جھوٹ، ہر بات جھوٹ، تب نہیں بتا سکے تھے تو اب ہر بات چھپانے میں کیا مجبوری مانع تھی آپ کی، بتانا پسند کریں گے،، کافی سرد لہجہ تھا۔ میر ہادی کے دل کو اس نے مٹھی میں جیسے کچلا تھا۔

یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ
تمھارا راز تمھیں سے چھپاتا رہا تھا میں

زرا سا قریب ہو کر بھاری گھمبیر لہجے میں کی گئی سرگوشی نے لویزا سانس اس کے گلے میں اٹکائی تھی۔ ناچاہتے ہوئے بھی وہ اسے کرارا سا جواب دے کر اس کا منہ نہیں جھاڑ سکی۔ زبان تالو سے جو چپک چکی تھی۔ پاس بیٹھا ظالم، ستمگر بے مہر شخص اس کی روح تک میں بس چکا تھا۔اس کی زندگی میں آنے والا پہلا اور آخری شخص تھا آخر ، تو محبت بھی کیوں نا الہام بن کر روح میں اترتی، کتنا مشکل ہوتا ہے ناں خود سے خودی کو نوچ کر پھینکنا اور دانستہ دور کرنا۔ اور یہی وہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس کی ہر کوشش کو وہ ناکام بنائے جا رہا تھا۔

مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا رانا میر ہادی، آج نہیں، کل نہیں ، کبھی بھی نہیں، اپنے کلیجے پر پتھر رکھ کر اس نے رخ موڑ کر بولا تھا۔
میر ہادی کے جبڑے بھنچے، کیوں ہر دفعہ وہ نئے لفظوں کے تیروں سے اسے گھائل کرتی تھی۔
اور مجھے تمھارے پاس تمھاری سانسوں جتنا قریب رہنا ہے، آج بھی، کل بھی، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے،، جزبوں سے چور لہجہ تھا۔ لویزا بےبی کو بیڈ پر لٹا چکی تھی۔ تبھی میر ہادی نے اس کا بازو تھاما تھا۔ لویزا نے بازو چھڑانے کے لئے سخت مزاحمت کی جس کا شاید الٹا اثر ہی ہوا تھا۔ کہ وہ اسے مزید قریب کھینچ چکا تھا۔
مجھے نہیں پتہ ایلو جان،، کب تم رگوں میں خون کی جگہ محبت بن کر دوڑنے لگی، میر ہادی نے اپنی رگِ جاں میں بسایا ہے تمھیں، اب تم دور جانے کی بات کرتی ہو تو لگتا ہے رگوں سے جان نکلالنے کی بات کرتی ہو،،
سلگتے لبوں نے کندھے کو چھوا تو لویزا کو لگا وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گی۔۔ اس کی گرم سانسوں کی تپش نے لیزا کی گردن کو جلایا تھا جیسے۔
میر ہادی دور ہٹیں،، وہ غرائی۔ مگر وہ مزید اس کے قریب ہوا۔ اور کان کی لو کو لب سے کاٹا۔

سنو ایلو جان، میں نے اپنے کیے ہر عمل کا مداوا کرنے کی کوشش کی، تمھاری محبت نے بدل دیا رانا میر ہادی کو، اس کے گھمنڈ اور غرور کو چکنا چور کر دیا، مگر ایک تمہاری محبت اور تمھارا عشق ہی تھا، تمھارا وجود ، جس پر میں کسی بھی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کر پایا، ہاں میں ایکسیپٹ کرتا ہوں کو تمھیں لے کر اور تمھاری محبت کو لے کر ہوں سیلفش، اسی لئے تمھیں خود سے دور کرنے کے تصور سے ہی جان نکلنے لکتی ہے میری، مرنے لگتا ہوں میں اور اب میں تمھارے پھر سے قریب آنا چاہتا ہوں، بہت قریب، اتنا قریب کہ تمھارے دامن سے ایسے لپٹ جاؤں کہ پھر سے خود کو تمھارے وجود میں گم کر دوں،،
جزبات سے بوجھل لہجے میں کہتے اس کے ہونٹوں نے کندھے سے گردن تک کا سفر کیا۔
اب برداشت کی حد ہوئی تھی، وہ دہری اذیت کا شکار تھی اور اس کی اس فرمائش پر لویزا کے تن بدن میں آگ بھی لگی تھی۔
تبھی ایک جھٹکے سے اس کی دسترس سے نکل کر بیڈ سے نیچے اتری تھی۔
چاہے محبت کا ہوتا یا نفرت کا، نہیں کر سکتی تھی وہ اس سے مقابلہ، جسے اتنے ماہ دل کی اونچی مسند پر محبت کا دیوتا بنا کر پوجتی رہی اسے یوں اب دھتکارنا ، اپنے ہاتھوں سے اپنے دل کا خون کرنا آسان کام تو نہیں تھا۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھتی پھوٹ پھوٹ کر روتی واش روم میں بند ہوئی تھی۔
اور وہ جو ایک مرتبہ پھر محبت میں بری طرح دھتکار دیا گیا تھا بےبسی سے اپنے لب کچلتا دھواں دھواں چہرہ لیے وہاں سے کیا بلکہ حویلی سے نکلتا چلا گیا۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ہاسپٹل کے روم میں ممتاز بیگم بیٹھی اس کے لئے سیب کاٹ رہی تھیں۔۔ چوٹیں تو کافی سے زیادہ ہی لگی تھیں مگر صد شکر کہ کوئی گہری نہیں تھیں اسی لئے بچت ہو گئی اور اب وہ پٹیوں میں جکڑا اپنے مکمل ہوش و حواس تھا۔ ہاں مگر ٹانگ پہ لگنے والے زخم گہرا تھا تبھی سات سے آٹھ سٹیچز آئے تھے۔ تبھی اسے دو دن ہاسپٹل میں ہی رہنا پڑا۔ آج تیسرا دن تھا اور اسے ڈسچارج کیے جانا تھا۔۔

وہ اب کافی بہتر تھا مگر تین دن سے ہی ممتاز بیگم نے اس سے کلام کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ وہ انھیں بلانے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ جیسے متوجہ ہی نہیں ہوتی تھیں۔ اتنا بے حس اور خود غرض بیٹا ان کا نہیں ہو سکتا تھا جو اپنی غرض کو پانے کی خاطر لویزا کی زندگی میں زہر گھول دے۔
یہ کسک دل میں لیے وہ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتی تھی کہ اس کے بابا کی موت کی وجہ اس کا شوہر بنا ۔ حالانکہ اس میں کوئی سچائی نہیں تھی۔

رات کا وقت تھا ممتاز بیگم فارمیسی تک گئیں تھیں۔ جب بھاری قدموں کی آواز پر ظفر کی آنکھ کھلی تو دیکھا وہ شاندار سا شخص اپنی سرخ آنکھوں سے نفرت سے اسے گھورتا کمرے میں داخل ہوا تھا۔ بڑی شان سے اس کے بیڈ کے قریب کرسی پر براجمان ہوا تھا۔
تم جانتے ہو ناں یہاں اس ہاسپٹل میں کیوں ہو،، میر ہادی کا سرسراتا لہجہ ظفر ڈھیٹوں کی طرح ہنس دیا۔
یہ عشق نہیں آسان بس،،،،
ظفر کے الفاظ میں منہ میں ہی رہ گئے تھے جب اس بھوکے شیر نے اٹھ کر اس کا گلا دبوچا۔

خبردار، ایک اور لفظ بھی اس منہ سے ادا ہوا، یا اس کا نام بھی آیا تمھاری زبان پر، میں سچ مچ اپنے ہاتھ،، تمھارے ڈھیٹ اور گندے خون سے رنگ لوں گا سمجھے،، میر ہادی دھاڑا تھا۔
“ارے یار چلّا کیوں رہے ہو کان پھاڑو گے کیا؟ مریض بندہ ہوں، ہاسپٹل ہے، کچھ تو خیال کرو،، وہ پھر مسکرایا اور کھانستے ہوئے میر ہادی کا ہاتھ پیچھے ہٹایا۔۔
تم تو بہت سڑیل ہو یار، شاید موڈ خراب ہے، چلو تمھیں ایک گڈ نیوز سناؤں، تمھارا بھی موڈ اچھا ہو جائے گا، جانتے ہو ماموں نے خود کشی نہیں کی تھی،ان کی تو لویزا کے یونی جانے کے دو تین گھنٹے بعد ہی میجر ہارٹ اٹیک سے ڈیتھ ہو گئی تھی، یو نو واٹ میرے ہاتھوں میں ہی دم توڑا تھا انھوں نے ، وہ اطمینان سے تکیے پر نیم دراز اب پاس پڑی فروٹ باسکٹ میں سے ایپل اٹھا کر کھانے لگا تھا۔
جبکہ وہ سامنے پتھر بنا اسے بے یقینی سے شاکڈ اسٹیٹ میں دیکھے گیا۔
رائٹ، گڈ ہو گیا، اب میں اسے حقیقت بتاؤں گا اور وہ آسانی سے مجھے معاف کر پائے گی اور میری محبت ایکسیپٹ کرے گی،، میر ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔
وہ تمھاری بات مانے گی، واقعی،؟ ظفر نے آئیبرو اچکا کہ تمسخرانہ انداز میں پوچھا۔ اور واقعی میر ہادی بول بھی نا سکا تھا۔ زبان جیسے تلو سے چپک گئی تھی۔
اور میں اسے یہ سچائی کبھی بھی نہیں بتاؤں گا کیونکہ جانتے ہو مرتے ہوئے ماموں نے مجھے کیا کہا تھا،جاننا چاہو گے،؟ ظفر کا اطمینان قابلِ دید تھا۔
میر ہادی نے اسے خونخوار نگاہوں سے گھورا۔
مجھے نہیں جاننا،، میر ہادی پھنکارا۔
نہیں تمھیں ضرور جاننا چاہیے، انھوںنے مجھ سے کہا تھا کہ میں ان کی بیٹی کا ہمیشہ خیال رکھوں اور اس کی زندگی میں کوئی بھی کسی بھی قسم کا دکھ نا آنے دوں، اس کہ خوشیوں کو خیال رکھوں، تو سوچو وہ تمھارے ساتھ اب تو بلکل بھی خوش نہیں ہے، تم سے الگ ہونا چاہتی ہے تو اگے تم خود سمجھدار ہو،،
ظفر نے کہا تھا اور اب ہادی کی برداشت کی ہر حد پار ہو چکی تھی۔
تبھی اٹھ کر اس ڈھیٹ کے منہ پر دو مکے جڑے تھے کہ اس کا ہونٹ پھٹ کر خون بہنے لگا اور گال نیلی پڑ گئی۔ گریبان جھنجھوڑ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

اندھے ہو تم مسٹر ظفر، جو اس کی آنکھوں میں بے انتہا محبت نہیں دیکھ سکے وہ بھی صرف میرے لیے، وہ کس قدر تکلیف میں ہے، دہری اذیت کا شکار ہے، اپنے بابا کی موت کی وجہ سمجھتی ہے مجھے، اسی لئے مجھے سہی طرح اپنا نہیں پا رہی، لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میری محبت اس کی سانسوں میں بسی ہے، مجھ سے الگ ہوئی تو وہ تباہ وبرباد ہو جائے گی، مر جائے گی، اور ایسے تو رانا میر ہادی ہونے نہیں دے گا ناں، یہ بات اپنے گندے زہن میں بٹھا لو، کہ وہ میری تھی، میری ہے اور میری ہی رہے گی، جھوٹ کے نقاب میں چھپی یہ سچائی ایک نا ایک دن تو اس کے سامنے آ ہی جائے گی، تب وہ پر سکون ہو جائے گی، کیونکہ سچائی کتنی بھی چھپا لو ایک نا ایک دن تو سامنے آ کر ہی رہتی ہے، اور آخری بات خیانت کر رہے ہو اس سے سچائی چھپا کر،، پچھتاؤ گے،، میر ہادی پھنکارا تھا اور آخری بات بول کر مڑا تو سامنے ہی ممتاز بیگم کھڑی تھیں۔

تمھیں اپنے راستے سے ہٹانا میرے لئے چیونٹی کو۔مسلنے کے برابر ہے، لیکن اگر کسی کا لحاظ ہے تو وہ صرف اور صرف اپنی بیوی کی پھپھو کو جنھیں وہ اپنی ماں جتنا پیار کرتی ہے، وہ بولتا ہوا ممتاز بیگم کے قریب گیا تھا۔
سمجھا لیجیئے گا اپنے بیٹے کو، اگر زندگی پیاری ہے تو میری بیوی سے بہت زیادہ دور رہے، نہیں تو اگلی مرتبہ میں خود کو بلکل نہیں روکوں گا، وہ لال بھبوکا چہرہ لیے بولتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
کیا نہیں تھا ان نگاہوں میں جنون، شدت، بےبسی، دیوانگی،
ممتاز بیگم کو جھر جھری آئی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

تین دن سے وہ حویلی نہیں لوٹا تھا۔ لویزا اس کی جانب سے پرسکون ہی رہی مگر اندر سے بے حد بے چین تھی، وہ تو کوشش کرتی کہ زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں ہی گزارے۔ اس عجیب حاکم و محکوم والے ماحول میں دم گھٹتا تھا اس کا۔
جبکہ حویلی والوں کو تو بس میر ہادی کا انتظار تھا۔ وہ کیا کرنے کا سچ رہے تھے ابھی لویزا اس سے انجان ہی تھی۔

آج تین دن کے بعد وہ حویلی لوٹا تھا۔ اسے دیکھ سب کھل گئے تھے۔ وہ اندر جانے کی بجائے رانا میر ہاشم اور رانا میر دراب کے کہنے پر مردان خانے سے ہی ان کے ساتھ ، ساتھ والے گاؤں میں پنچایت کے لئے گئے تھے۔

وہ بےبی کو سلا کر کاٹ میں لٹا کر واش روم گئی تھی۔ میر ہادی کی واپسی سے بلکل ہی بے خبر تھی ۔ باہر آئی تھی تو بیڈ پر چیزوں کا ڈھیر اور ایک بھاری کامدار، سرخ امتزاج اور ملٹی کلر جوڑا پھیلا دیکھ حیران ہوئی۔
ابھی وہ حیران کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوتی کہ بختاور مزید مخملی باکس اٹھائے اور ایک اور لڑکی کے ساتھ اس کے روم میں داخل ہوئی تھی۔ ساتھ آئی لڑکی نے لویزا کو سلام کیا۔
یہ سب کیا ہے بخت آپی،، وہ حیران ہو کر پوچھنے لگی۔ ابھی کل ہی بختارو نے اسے کہا تھا کہ وہ اسے آپی بولا کرے۔
تیار ہونا ہے تمھیں،، تمھاری منہ دکھائی کی رسم کرنا تھی میر ہادی کی موجودگی میں، اس کے آنے تک رکے ہوئے تھے۔ بہت بڑا جشن ہوگا آج، سارے گاؤں والوں کو کھانا کھلایا جائے گا، گاؤں کی عورتوں کو ان کی نئی مالکن اور چھوٹے سائیں دکھائے جائیں گے،
بختارو کی سب ہی باتیں ناقابلِ فہم تھیں مگر لویزا کی تو سوئی ایک ہی بات پر اٹک گئی تھی جیسے،

وہ آ گئے واپس،، لویزا نے پہلو بدلہ،
ہاں ، میر ہادی ، لوٹ آیا ہے اور ابھی پنچایت کے لئے گیا ہے تم تیار ہو جاؤ،،
تت تیار کیون ہونا، بخت آپی، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں،، وہ گھبرا ہی گئی۔ جانتی جو تھی سادگی میں بھی ایک شخص کی بے اختیاریاں، پاگل پن اور شدتیں، کجا کہ وہ اتنے کیل کانٹوں سے لیس ہو جاتی۔
بختاور اس کی گھبراہٹ دیکھ مسکرائی۔
اماں سائیں کا حکم ہے، جاؤ لباس پہن کر آؤ، زارون کو میں سنبھال لوں گی، تیار بھی کر دوں گی جب اٹھے گا، جاؤ ابھی،
ناچار لویزا مریل سے قدموں سے لباس اٹھا کر واش روم گئی اور ڈریس پہن کر باہر آئی۔ سرخ رنگ کی کرتی، ملٹی کلر میں لہنگا اور بڑا سا ملٹی کلر دوپٹہ،
بختاور اور پارلر والی اسے بے اختیار دیکھے گئیں۔ اب تو حسن و معصومیت کو ممتا کے نور نے اور جلا بخش دی تھی وہ بری طرح کنفیوز ہوئی۔

Continue,,,,,,,,,,,

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️