Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
دو سال بعد۔۔۔۔۔
زارون لیٹ ہو رہے ہو اب میں تپھڑ لگا دوں گی تمھیں،، لویزا جھنجھلائی۔ وہ پینٹ پہن کر اب لویزا کی دوڑیں لگوا رہا تھا مگر کسی صورت ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔
“میں دادا جان تے نمرے میں بھاد جاؤں دا،، زارون نے توتلی زبان میں اطمینان سے کہا۔
ہاں دادا جان اور بڑے دادا جان نے ہی تو سر پر چڑھا رکھا ہے تمھیں، نہیں تو ایک سیکنڈ میں مزاج درست کر دوں،، وہ دانت پیس کر جل کر بولی۔
مگر وہ شرارتی سیکنڈوں میں دادی کے کمرے میں بھاگ چکا تھا۔
لویزا کا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔
زارون تین سال اور دو ماہ کا ہو چکا تھا ابھی کچھ دن ہی ہوئے تھے اسے مونٹیسوری بھیجا جانے لگا تھا۔ زارون بے حد زہین بچہ تھا۔ شاید زہانت میں بلکل اپنے پاپا پر گیا تھا۔
لویزا بڑی شان سے بلکل نڈر ہو کر حویلی میں رہی تھی اور اب تک حویلی کی کئی فرسودہ روایات کو مکمل ختم کر چکی تھی۔ بلکہ پرائیویٹ طور پر ہی سہی اپنا گریجویشن بھی مکمل کیا تھا۔
زارون بہت شرارتی ہو گیا تھا۔ اب جب سے مونٹیسوری جانے لگا تھا اکثر سر درد کی شکایت کرتا تھا۔ لویزا کو لگتا کہ وہ نا جانے کے بہانے بنا رہا ہے۔ مگر دو راتوں کو وہ ساری ساری رات روتا رہا تھا۔ پھر جب روتے ہوئے یہ کہا کہ مما میرے سر میں درد ہے سویا نہیں جا رہا تو لویزا کا دل بیٹھ گیا۔ فورا اٹھ کر اسے میڈیسن دی۔
جاتی سردیوں کے بعد موسم کافی مرطوب ہو چکا تھا۔ لویزا ممتاز بیگم کے کمرے میں آئی تو وہ ممتاز بیگم کی گود میں لوٹ رہا تھا۔
دیکھیں نا امی یہ بہت تنگ کرنے لگ گیا ہے، لویزا اسے زبردستی شرٹ پہناتی روہانسی ہوئی۔
اپنے بابا پر گیا ہے وہ بھی شرٹ پہنتے ہوئے یونہی تنگ کرتا تھا،، ممتاز بیگم کے لہجے میں ممتا کی مٹھاس سی تھی اور ترسی آنکھوں میں دنیا جہان کا درد سمٹ آیا کہ لویزا کو اپنی نگاہیں چرانی پڑیں۔
چلو زارون افضل کاکا ہارن پر ہارن دے رہے ہیں، ہری اپ،، لویزا نے جلدی سے اسے شرٹ پہنائی۔
لیزا جانے دو اسے خود ہی چلا جائے گا میرا بچہ تو شیر ہے، ہے ناں، ممتاز بیگم زارون کے صدقے واری گئیں۔
کدھر امی جان،، باہر جا کر میکس سے کھیلنے لگے گا مجھے پتا ہے، وہ کہتے ہیں ناں اپنے برتن کا پتہ ہوتا ہے تو،، لویزا نے کہا تو زارون دانت نکالنے لگ پڑا جیسے اس کی تعریف کی گئی ہو۔
لویزا اسے لئے پاہر آئی اور افضل کاکا کے ساتھ روانہ کر دیا۔
رانا میر ہاشم اور میر دراب بے تو کافی احتجاج کیا تھا کہ اسے ابھی سے اتنے چھوٹے بچے کو سکول بھیجنے کی کیا تک ہے مگر لویزا نے ہی انھیں یہ بول کر ایگری کر لیا کہ یہ سکول سسٹم نہیں ہوتا۔ جہاں بچوں کو بھارک برکم سلیبس پڑھنا اور لکھنا پڑتا ہے۔ مونٹیسوری سسٹم میں بس بچے کو مختلف ایکٹیوٹیز سکھائی جاتی ہیں اور مینرز، اور ایٹیکیٹس سکھائے جاتے ہیں۔
وہ ضروری کام نمٹا کر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اجالا کی تین ماہ کی گڑیا کی طبیعت خراب تھی۔ فون کر کے اس کی خیریت دریافت کرنی تھی۔ اس نے فون ملایا اور اجالا سے بات کرتی رہی۔
ابھی زارون کو گئے ابھی دو گھنٹے گزرے تھے جب بخت بے تحاشا گبھرائی سی اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔
کیا ہوا بخت آپی،،
لویزا، وہ زارون سکول میں بےہوش ہو گیا ہے، پرنسپل نے فون کیا ہے،، بخت کے الفاظ تھے کہ بم جو لویزا کے سر پر پھوٹے تھے۔
فون وہیں پھینک کر وہ باہر کی جانب بھاگی تھی ۔ اتنا بھی ہوش نہیں رہا کہ سر پر شال اوڑھنی ہے یا پاؤں میں جوتا پہننا ہے،، یہ بھی ممتاز بیگم نے بھاگتے دوڑتے اسے پہنائے۔
لویزا ، ممتاز بیگم بختاور مونٹیسوری پہنچے تو زارون پرنسپل کے آفس میں ہی تھا۔ اور اب نڈھال سا ہوش میں تھا۔ پرنسپل نے ڈاکٹر کو جلد ہی بلا لیا تھا۔
کیا ہوا ڈاکٹر میرے بچے کو،، لویزا نے زارون کو گود میں بھرا۔
بچہ کمزور ہے، اس کی صحت کا خیال رکھیں، گھبرانے کی کوئی بات نہیں،،
ڈاکٹر نے کہا تو ان کی جان میں جان آئی۔ اور وہ زارون کو لیے حویلی واپس آ گئے۔
اس کے بعد سے سب زارون کا بے تحاشا خیال رکھنے لگے تھے۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ﺿﺪﯼ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮑﺎﺭﻭ ﺗﻮ..🌟🍂
ﺟﺎﻥ ﺣﺎﺿِﺮ ﺍﻧﺎ ﺑُﮭﻮﻝ ﺟﺎٶﮞ ﻏﺮﻭﺭ ﻭﺍﺭ ﺩﻭﮞ ❤🥰
وہ بالکونی میں کھڑا گرم کافی کی تلخیاں اپنے اندر انڈیلتا زارون کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
تین سال ہو چکے تھے اسے یہ بن واس کاٹتے۔ مگر اس ظالم لڑکی کو اس پر ترس نا آیا تھا۔
امریکہ میں مسلم کمیونٹی میں رہتے آس پاس کے سبھی لوگوں سے اچھی خاصی جان پہچان ہو گئی تھی۔
یہاں بیٹھ کر وہ وہاں کے تمام حالات سے باخبر تھا۔ یہ بھی جانتا تھا کہ زمرد اس کا سب کچھ ہتھیانے کے چکروں میں سیاست میں اس کے باپ دادا کی ساکھ بری طرح خراب کر رہا تھا۔
ان دو سالوں میں بھی وہ دو بار زارون کی برتھ ڈے پر اس سے ملنے گیا تھا۔ اب تو وہ بھی اپنے بابا کے پاس آنے کا تقاضا کرنے لگا تھا۔ اور اب تو بہت ہی زیادہ ضد بھی کرنے لگا تھا۔ مگر میر ہادی بڑی خوبصورتی سے اسے اور اب تک ان سب کو ٹالتا آیا تھا۔ مگر ممتاز بیگم سب کچھ جانتی تھیں کہ وہ کیون ان سب سے دور اپنی اولاد سے دور سمندروں پار بیٹھا ہے۔
ابھی فی الحال اسے جس چیز نے پریشان کر رکھا تھا وہ زارون کی مسلسل بگڑتی طبیعت ہی تھی۔ بس نہیں چلتا تھا اڑ کر اپنے بیٹے کے پاس پہنچ جائے مگر،
جانے کیوں دل بے چین سا تھا ان دنوں ۔ بے تحاشا بے چین اور بے سکون۔
ایک دھڑکہ سا لگا ہوا تھا
ایک خدشہ
جیسے کوئی بچھڑنے والا ہے جیسے کوئی بہت اپنا تکلیف میں ہو۔
پھر یوں ہوا کہ اس کے تمام دھڑکے تمام خدشے سچ ثابت ہو گئے۔
ایک ایسی خبر سننے کو ملی تھی کہ کلیجہ منہ کو آ گیا تھا۔
وفا کی لاج میں اس کو منا لیتے تو اچھا تھا
انا کی جنگ میں اکثر جدائی جیت جاتی ہے۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
لویزا کچن میں زارون کے لئے اس کی فرمائش پر ڈونٹس بنا رہی تھی۔ ممتاز بیگم اور اماں سائیں لاؤنج میں بیٹھیں تھیں۔ بخت امں سائیں کے سر میں سرسوں کے تیل کی مالش کر رہی تھی۔
میر ہاشم اور میر دراب اپنی پارٹی کے سلسلے میں لاہور گئے ہوئے تھے۔
زارون پچھلے لان میں افضل اور میکس کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
جب کھیلتے کھیلتے ایک دلدوز سی چیخ کے ساتھ وہ بے ہوش ہو کر نیچے گر گیا۔ افضل بری طرح گھبرایا۔
اور جا کر اندر اطلاع دی۔ ممتاز بیگم، اماں سائیں اور بخت بھی گھبرا گئیں تھیں۔ لویزا سب کچھ چھوڑ چھاڑ باہر کی جانب بھاگی۔ اور زارون کے قریب بیٹھ کر اس گود میں اٹھایا۔
زارون،،، زارون،، پلیز ٹاک ٹو می، زارون،، گاڑی نکالئیے افضل کاکا، زارون کو ہاسپٹل لے کر جانا ہے،،
زارون جب ہوش میں نہیں آیا تو لویزا نے چلا کر افضل کو کہا۔ افضل سر ہلاتا بیرونی جانب گیا۔ لویزا نے زارون کو گود میں اٹھایا۔ بخت نے میر دارب لوگوں کو اطلاع دی۔
ممتاز بیگم، بخت اور لویزا اسے لئے ہاسپٹل آئیں تھیں۔
لویزا نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔ کافی دیر سے زارون ایمرجنسی روم میں تھا اور اس کے کافی سارے ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔ اس کی پچھلے دنوں کی سچویشن کے مطابق اس کا سٹی سکین بھی کیا گیا تھا۔
وہ تینوں زیر لب دعائیں مانگ رہیں تھیں۔
کافی گھنٹے بیت چکے تھے۔
میر ہادی مسلسل ممتاز بیگم سے ٹچ میں تھا۔ اور ادھر ہی ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہا تھا۔
ڈاکٹرز بھی تو کچھ بھی ڈھنگ سے نہیں بتا رہے تھے۔ ہاں مگر ان کے چہروں پر ہوائیاں ضرور اڑیں تھیں۔
رات تک رانا میر ہاشم اور رانا میر دراب بھی ہاسپٹل پہنچ چکے تھے۔ اور ان کے آنے سے ہاسپٹل میں غیر معمولی سی افراتفری پھیل چکی تھی۔
ڈاکٹر ایمرجنسی روم سے باہر نکلے تھے۔
اور ان کے قریب آئے۔
ڈاکٹر اب آپ لوگ کچھ بتائیں گے بھی کہ نہیں کہ میرے پوتے کو آخر ہوا کیا ہے،، میرا دراب نے رعب دار آواز میں جھنجھلا کر پوچھا۔
رانا صاحب،، بچے کی باقی رپورٹس تو بلکل نارمل ہیں اور وہ میڈیسنز کے زیرِ اثر پرسکون نیند سو رہا ہے مگر،، ڈاکٹر فاروق جھجھکے۔
مگر،؟ مگر کیا ڈاکٹر صاحب بتائیے مجھے،،؟ لویزا بے چین سی ہو کر سامنے آئی۔
ڈاکٹر فاروق جھجھکتے ہوئے کئی لمحے تو بول بھی نہیں پایا تھا۔
وہ رانا صاحب، بچے کو برین ٹیومر ہے،، جو کہ ہے تو ابتدائی اسٹیج پر مگر،،
خبر تھی یا پگھلا ہوا سیسہ جو کہ لویزا کے کانوں میں انڈیلا گیا تھا اس سے پہلے ڈاکٹر اپنی بات پوری کر پاتا لویزا ہوش وخرد سے بیگانہ ہو کر فرش پر جھٹکے سے گری تھی۔
ارے بہو،، ممتاز بیگم لویزا کی جانب لپکی۔ ڈاکٹر بھی گھبرا گیا۔ ممتاز بیگم اور بخت بلند آواز میں رونے لگیں تھیں۔
اتنی اچانک یہ سب کیا ہو گیا تھا۔ لویزا کو جنرل روم میں لے جا کر ٹریٹمنٹ دی گئی تھی۔ بی پی بری طرح لو ہوا تھا اس کا۔ شاید مزید صدمے برداشت کرنے کی سکت نہیں تھی اس کی چھوٹی سی جان میں تبھی غم سے یوں نڈھال ہوئی تھی۔
ڈاکٹرز نے اسے بھی سکون آور انجیکشن دے دیا تھا۔
رانا میر ہادی پر یہ خبر بجلی بن کر گری تھی۔ تبھی یوں تڑپ تڑپ کر رویا تھا۔
مگر بدقسمتی سے اب بھی
اب بھی اپنے وعدے، اپنی قسم کا پابند تھا۔ اور اس انتظار میں ہی تھا کہ شاید اس بے رحم، ظالم لڑکی کو ایک شوہر پر نا سہی ایک باپ پر ہی ترس آ جائے۔
تمھیں نہیں ہے میری شدتوں کا اندازہ
کسی بھی سمت سے مجھ کو زرا پکار کے دیکھ
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
رات گہری ہو چکی تھی۔ آج رات کو زارون کو انڈر آبزرویشن ہی رکھا جانے والا تھا۔
بخت ، رانا میر ہاشم بمشکل ہی گھر واپس گئے تھے۔ جبکہ رانا میر دراب ، ممتاز بیگم اور افضل ہاسپٹل ہی رکے ہوئے تھے۔
ممتاز بیگم لویزا کے سرہانے بیٹھیں تھیں جب ان کا فون رنگ ہوا۔ نمبر دیکھا تو میر ہادی کا تھا بوجھل دل سے فون یس کر کے کان کو لگایا۔
میر ہادی خدا کے لئے لوٹ آؤ واپس، تمھارے بچے کو تمھاری بیوی کو تمھاری ضرورت ہے،
ممتاز بیگم نے چھوٹتے ہی اس کے زخم ہرے کیے۔
امی سائیں، اپنی بہو کو کہیں بس ایک مرتبہ، ایک مرتبہ مجھے اس وعدہ اس قسم سے ازنِ رہائی دے دے، خدا کے لئے اب تو مجھے ترس کھا ئے،
میر ہادی آنسو پیتا بوجھل لہجے میں بولا تو ممتاز بیگم پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔
وہ خود کہاں ہوش میں ہے میر ہادی، بچے کی تکلیف کے صدمے نے ایک ماں کو بھی توڑ دیا ہے،، ممتاز بیگم نے کہا تو میر ہادی کے رہے سہے حوصلے بھی جواب دینے لگے تبھی بے طرح بےچین ہو کر فون جان بوجھ کر بند کیا تھا۔
ممتاز بیگم بے آواز آنسو بہانے لگیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
لویزا حویلی کے کچن میں زارون کے لئے دودھ بنا رہی تھی جب کشادہ کھڑکی میں سے دودھ بناتے اس نے باہر حویلی کے لان میں دیکھا۔ بہت ہی خوبصورت ہرا بھرا منظر تھا۔ مگر لان کے بیچوں بیچ ایک چارپائی رکھی تھی اور اس پر ایک نومولود بچہ سفید بچھائی میں لپٹا رو رہا تھا۔ اس کے رونے کی آواز نے لویزا کو بے چین کیا۔
وہ باہر آ کر اس بچے کو اٹھانا ہی چاہتی تھی کہ تبھی ایک چیل آئی اور بچے کو اٹھا کر دور آسمانوں میں اڑ گئی۔
نہیں،،، واپس لاؤ اسے،، میر ہادی کوئی ہے، بچے کو واپس لاؤ، وہ لے گئے بچے کو،، لویزا کی دلدوز چیخوں سے پوری حویلی گونج اٹھی تھی۔ وہ دیوانوں کی طرح حویلی میں بھاگ رہے تھی، چیخ چیخ کر رو رو کر گلا بھی بیٹھ چکا تھا۔
ممتاز بیگم بے تحاشا چونکیں تھیں۔ تہجد کا وقت تھا رات کے تین بجے تھے۔ اور لویزا کی دبی دبی چیخیں اور بڑبڑاہٹ ہاسپٹل کے کمرے میں گونج رہی تھی۔
واپس لاؤ اسے،، میر ہادی، میرا بچہ واپس لاؤ،،،،
وہ شاید کسی بہت ہی بھیانک اور ڈراؤنے خواب کے زیرِ اثر تھی تبھی پسینے میں سر تا پا نہائی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
لویزا،، لیزا،، ممتاز بیگم نے اسے کندھوں سے تھام کر جھنجھوڑا تو وہ نیند سے بیدار ہوئی۔ کافی دیر بعد کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوئی تو ممتاز بیگم کے سینے سے لگ کر پھر بری طرح رو دی تھی۔
امی میرا بچہ، مجھ سے دور تو نہیں جائے گا ناں،، امی میرا زارون،، وہ روئے گئی۔
اس ماں سے کیا پوچھتی ہو بیٹی جس کا بچہ خود اس سے دور ہو،، ممتاز بیگم نے اس پر نا طنز کیا تھا نا کوئی طعنہ دیا تھا اپنی تکلیف ضرور بیان کی تھی۔
لویزا کو اتنا اشارہ ہی کافی تھا۔ ممتاز بیگم اس سے الگ ہو کر اپنے آنسو چھپاتی باہر گئیں تھیں۔
لویزا نے کانپتے ہاتھوں سے تین سال بعد اس کا نمبر ملایا تھا۔ جو کہ آدھی بیل پر ہی رسیو کر لیا گیا۔ مگر سامنے شکوہ بھری خاموشی تھی۔
مم،، میر ہادی،، واپس آ جائیں،، لویزا نے کہا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ ادھر وہ جو سالوں سے ہی اپنا بیگ پیک کیے بیٹھا تھا اس تین سیکنڈ کی فون کال کے انتظار میں جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔
وہ شاید ہچکیوں پرقابو نا پا سکی تھی تبھی فون کٹ چکا تھا۔
مگر میر ہادی کو اب جلد از جلد پاکستان پہنچنا تھا۔
بہت زیادہ جلد،
Continue,,,,,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
