Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے
تو تسلی،،،، ہے دلاسہ ہے،، دعا ہے کیا ہے

وہ گھوم پھر کر اپنا نیا گھر دیکھ رہی تھی۔ اور عالی اسے دیکھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ باہر طوفانی بارش تھی۔ اور مسز اجالا عالیان کو دنیا میں اگر کوئی چیز ڈرا سکتی تھی تو یہی طوفانی کڑکتی گرجتی بجلی کی آواز، ہی تھی۔
یہ کیا،؟ یہ طوفان بھی آج ہی آنا تھا،، وہ دلہن بنی پور پور اس کے لئے سجی لاؤنج کے صوفے پر گرنے والے انداز میں اس کے سامنے بیٹھی۔
ہاں کیونکہ یہ طوفان جو آج آنا تھا میری لائف میں،، عالی بےحد شرارت سے کہتا اس کی جانب اشارہ کر گیا۔
واٹ عالی،، بہت بدتمیز ہیں آپ،، میں بلکل بات نہیں کروں گی آپ سے،، وہ کشن اس کی جانب پھینکتی چلائی۔
ایز یو وش،، کیونکہ آج میرا زیادہ بات کرنے کا موڈ ہے بھی نہیں، وہ بہکے سے لہجے میں کہتا اٹھ کر اس کے قریب آکر بیٹھا تو اجالا اس کا اٹیٹیوڈ دیکھ کر گھبرائی۔
عالی باز آئیں،، وہ جھلائی۔
مجھے سنائی دیا، عالی پاس آئیں،، اس کی کمر کے گرد بازو حائل کیا۔
آپ مجھے ڈرا رہے ہیں،، وہ گھبرائی۔
اور تم مجھے بہکا رہی ہو،، خمار آلود لہجہ تھا۔ گال پر محبت کی مہر ثبت کی۔ تو اجالا کے ہوش اڑ گئے۔۔
مجھے چینج کرنا ہے، وہ اٹھی۔ عالی گہرا مسکرایا۔ کیونکہ اگلے پل میں جانتا تھا کیا ہونے والا ہے۔ تبھی بجلی زور دار طریقہ سے کڑکی تھی۔ کہ اس نے انھیں پیروں واپس آ کر اس کے سینے میں پناہ لی تھی۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تو اجالا نے اس کے سینے پر مکے برسائے۔
مزاق اڑا رہے ہیں میرا،، وہ رونی شکل بنا کر بولی۔
نو، پلان بنا رہا ہوں کہ تمہیں اپنی محبت کے شکنجے میں کس طرح پھانسوں،، وہ اس کی پتلی ہوئی حالت سے مظوظ ہو کر بولا ۔۔
اجالا ہنوز اس کی گود میں براجمان تھی۔
“اب اٹھو بھی میری گود گھس جائے گی پھر اپنے بچے کیسے پالوں گا،، عالی کے شوشے پر وہ خجل سی ہوتی اٹھنے لگی جب ایک مرتبہ پھر وہ بجلی کی زور دار کڑک کی آواز پر اس کے سینے میں منہ دے گئی۔۔

گلے لپٹے ہیں وہ بجلی کے ڈر سے
الہی یہ گھٹا دو دن،،،،،،،،، تو برسا

وہ اس کے گرد بانہوں کا مضبوط گھیرا تنگ کرتا گھمبیر سرگوشی میں اس کے بالوں میں منہ دئیے بولا تو اجالا کی روح فنا ہوئی۔۔
عالی پلیز،، میرے ساتھ روم میں چلیں،، وہ روہانسی ہوئی۔
دیکھ لو خود پھولوں کی سیج پر بلا رہی ہو اس معصوم سے بچے کو،، وہ کھڑا ہوتا آنکھیں پٹپٹاتا اسے بازوؤں میں بھرتے بولا۔
جی جی بلکل،، آپ کی معصومیت تو لاہور کی سڑکوں پر بہہ رہی ہے،، وہ خفیف سا طنز گر گئی۔
مگر جونہی عالی نے روم میں قدم رکھا وہ روم کا اتنا فسوں خیز ماحول دیکھ بری طرح گھبرائی تھی۔ چلتی زبان کو بریک لگی۔۔
عالی آج اپنے پٹاخے کا یہ گھبراہٹ بھرا روپ دیکھ بار بار محظوظ ہو رہا تھا۔

اندر لا کر اسے بیڈ پر اتارا۔۔ وہ خود میں سمٹی،، عالی کی جانب سے رونمائی میں اسے ایک پینڈنٹ گفٹ دیا گیا۔ جسے دیکھ وہ بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی جب عالی نے اسے خود میں سمیٹا۔
وہ بوکھلائی مگر آج اس کی آہنی گرفت سے نکل پانا ناممکن تھا۔

💓💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜💜

وہ جو فجر کی نماز ادا کر کے سویا تھا فون کی مسلسل چنگھاڑتی بیل سے میر ہادی اپنی نیند سے دن کے گیارہ بجے جھنجھلا کر بیدار ہوا تھا۔۔
کچھ اپنے پہلو میں دیکھا تو خالی بیڈ منہ چڑھا رہا تھا۔ اس کی اپنے پاس غیر موجودگی محسوس کر کے وہ ہمیشہ کی طرح بری طرح کوفت میں مبتلا ہوا تھا۔
ایلو،میری جان ،،،با آواز بلند اسے جھنجھلا کر پکارا۔۔تبھی فون پھر چنگھاڑ اٹھا۔
اففف کیا مصیبت ہے،، نمبر دیکھا تو چونکا دادا سائیں کا تھا، اس نے فون یس کر کے ائیر پوٹس کان میں لگایا۔۔
جی دادا سائیں،، اپنی شرٹ اٹھا کر پہنتے مصروف سا انداز تھا۔
“پنچائیت میں ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے اور زمینوں کو لے ایک بہت بڑا مسئلہ ہو گیا فورا حویلی پہنچو،، لہجہ تحکم بھرا تھا۔ آج اس دن کی بات کے بعد بلکہ اتنے دنوں کی ناراضگی کے بعد انہوں نے خود سے فون کیا تھا لہجہ میں پہلے کی طرح مان بھری دھونس تھی ۔ انکار کی کوئی گنجائش تھی ہی نہیں۔۔
“جی دادا سائیں پہنچ جاؤں گا تین بجے تک،، دل پر پتھر رکھ کر کہا۔ جبکہ اس سے دور جانے کا تصور بھی سوہانِ روح ہی تھا۔۔
ہممم ٹھیک پہنچ جانا میں شام پانچ بجے کا وقت دے رہا ہوں پنجو کو،،
ٹھیک ہے دے دیں،، پہنچ جاؤں گا،، وہ سنجیدگی سے بولا۔۔ فون بند ہو گیا۔۔ اب اس کی متلاشی نگاہیں اس دشمن جاں کو ڈھونڈ رہی تھیں۔۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اٹھا۔ روم، لاؤنج کچن وہ کہیں نہیں تھی۔۔ البتہ باہر سے میکس کے بھونکنے کی غیر معمولی آواز سے وہ سمجھ گیا کہ میڈم لان میں ہے۔۔

لیزا کی آنکھ ہادی سے کافی دیر پہلے کھلی تھی۔ وہ مغرور سا شہزاد گہری نیند میں تھا۔۔ وہ اس کے تیکھے اور مغرور سے نقش کو بے اختیاری میں دیکھے گئی۔ اپنی قسمت پر رشک آتا تھا جو اس قدر محبت کرنے والا خوبرو مرد اس کی قسمت میں لکھ دیا گیا۔ رات کی اس کی کار گزارکاں یاد آئیں تو کانوں تک پھر سرخ ہو گئی ۔
کیوں نا ناشتہ بنایا جائے۔ بالوں کا جوڑا بناتی وہ بستر سے اٹھی۔ بڑے دنوں سے طبیعت بوجھل سی تھی۔ اب بھی اٹھی تو بہت بری طرح سر چکرایا مگر وہ ہمیشہ کی طرح اگنور کرتی باہر نکلی اور کچن میں جانے سے پہلے لان میں گئی ۔۔ میکس اسی کی انتظار میں تھا۔ اسے دیکھ انتہائی محبت سے دم ہلانے لگا۔ لویزا نے اسے ڈوگ فوڈ دیا۔
وہ کچن میں آئی ۔ ناشتے کے لئے سامان نکالا تو دیکھا کچن میں چائے کی پتی نہیں ہے چونکہ تمام راشن اوپر سٹور روم میں رکھا جاتا تھا سو وہ خود ہی لاج کے اوپر ڈبل سٹوری پر بنے سٹور روم آئی تھی۔ میکس بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔ ابھی اس نے سٹور روم میں قدم ہی رکھا تھا جب آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا اور وہ چکرا کر نیچے گرتی چلی گئی۔ چند پل لگے تھے اسے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو کر بے سدھ ہوتے۔ میکس اس کے پاؤں میں لوٹنے لگا۔ پھر بری طرح بھونکنے لگا جیسے اسے اٹھانا چاہتا ہو۔ پھر اس کا سکارف کھینچا۔ جب وہ نہیں اٹھی تو نیچے بھاگا تھا۔

میر ہادی لان میں آیا تو سامنے ہی میکس اوپر کی جانب دیکھ کر بری طرح بول رہا تھا۔ لان میں بھی وہ کہیں نہیں دکھائی دی تو ہادی اب سچ میں پریشان ہوا تھا۔ پھر میکس کے قریب آیا۔
میکس اس کا ٹراؤزر اپنے منہ میں دبوچ کر کھینچنے لگا۔ میر ہادی کو کچھ غیر معمولی لگا تو میکس کے پیچھے کھنچتا چلا آیا۔ اب وہ پچھلی جانب بنی اوپر کی سیڑھیوں کی طرف اشارہ کر کہ بری طرح بھونک رہا تھا۔
ہیے واٹ ہیپنڈ ٹو یو میکس پریشان مت کرو، تمھاری مالکن ہی بہت ہے یہ کام سرانجام دینے کے لئے،، ہادی جھلایا ۔ لیزا شاید سٹڈی میں اسے تنگ کرنے چھپی ہو اور میکس اسے جانے کیوں تنگ کر رہا تھا۔ وہ واپس جانے لگا۔ جب میکس کے بھونکنے میں شدت آئی۔ اور وہ اوپر بھاگ گیا۔
ابھی ہادی چند قدم ہی آگے گیا تھا جب میکس اس کے پھر پاؤں میں آیا مگر اب کی بار اس کے منہ میں لیزا کا سکارف تھا۔

پھر چند پل لگے تھے اسے میکس کا اشارہ سمجھتے۔وہ واپس مڑ کر دو دو تین تین سیڑھیاں اکھٹی پھلانگتا اوپر کی جانب بھاگا۔
لیزا،،، وہ دھاڑا اب میکس سٹور روم کی جانب گیا تو وہ تیزی سے اس کے پیچھے آیا تھا۔ اگلا منظر دیکھ میر ہادی کی جان لبوں پر آئی تھی۔
لیزا،، میری جان،، وہ پاگل بنا اس کے پاس گھٹنوں کے پل بیٹھا تھا جو زمین پر بے سدھ پڑی تھی۔
لیزا،، اس کا سر اپنی گود میں رکھ چہرہ آہستگی سے تھپتھپایا۔
جان لبوں پر آنا کسے بولتے ہیں میر ہادی کو آج پتا چلا۔ ہادی نے اسے بازوؤں میں بھرا اور نیچے آیا۔
افضل،،،،،، اس کی دھاڑ پورے لان میں گونجی تھی۔
جب افضل گھبرایا ہوا سا سامنے آیا “جی چھوٹے سائیں،،
“کسی ڈاکٹر کو لاؤ فوراً،، ہادی نے بے چینی سے کہا تو افضل انھیں قدموں واپس چلا گیا۔

روم میں لاکر اسے نرمی سے بیڈ پر لٹایا۔ میکس بھی اس کے پیچھے ہی روم میں آیا تھا۔ ہادی نے لویزا کی نبض چیک کی جو کہ بلکل نارمل تھی۔۔ میر ہادی نے پاس پڑے جگ میں سے پانی لے کر اسے کے چہرے پر چھینٹے مارے وہ کسمسائی اور ہوش میں تو آ گئی تھی مگر ابھی بھی سر بری طرح چکرایا کہ اس نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔۔
کیونکہ معاملہ رانا میر ہادی کا تھا تو اگلے دس منٹ میں ڈاکٹر ثمینہ اس کے روم میں کھڑی تھیں۔۔
آپ پلیز، باہر تشریف لے جائیں، میں تفصیلی چیک اپ کر لون،، ڈاکٹر نے اس کی اڑی رنگت دیکھتے کہا تو میر ہادی میکس کو لئے باہر آ گیا۔۔
دس منٹ بعد ڈاکٹر مسکراتی باہر آئیں تھیں۔ میر ہادی کو حیرت ہوئی۔
کیا ہوا اسے ڈاکٹر،، سب ٹھیک تو ہے ناں؟ اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
یس،، ایکچوئلی شی از پریگننٹ،، مسکراتے ہوئے ڈاکٹر کہتیں اسے زندگی کی سب سے بڑی خوشخبری سنا گئیں تھیں۔ ” میں نے ڈیٹیلز پوچھیں ہیں آئی تھنک ٹو منتھ پریگننٹ ہیں آپ کی مسز، بٹ بہت ہی ویک ہیں اور مجھے خون کی بھی بہت کمی لگ رہی ہے آپ پہلی فرصت میں کلینک لائیے گا انھیں،،
شیور ڈاکٹر،، میر ہادی سے تو بولا بھی نہیں جا رہا تھا اس کے پیچھے کھڑے افضل کا چہرہ بھی خوشی سے تمتمایا تھا۔ بات ہی ایسی تھی کہ ان کا خوش ہونا بنتا تھا۔
میر ہادی کے اشارہ کرنے پر افضل ڈاکٹر کو چھوڑنے گیا تھا۔

وہ لبوں پر بہت گہری مسکان لیے اندر آیا تو وہ آنکھوں پر بازو رکھے لال ٹماٹر چہرہ لیے لیٹی آئی تھی۔ ہادی اس کے شرمانے کے اس انداز، پر پھر نہال ہوا۔
میر ہادی اس کے قریب آ کر نیم دراز ہوا تھا۔ وہ خود میں سمٹی۔
مبارک ہو مما ٹو بی،، ہادی کی سرگوشی نے اس کے چہرے پر لہو چھلکایا تھا۔ وہ اس سے چھپنے کو کروٹ بدلنے لگی مگر ہادی نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سینے پر گرایا۔
تھینکس میری جان،، نہیں جانتی تم نے مجھے کس قدر بڑی خوشخبری سے نوازا ہے،، ایک بہت بڑا بوجھ میرے سر سے اتار دیا،،
میر ہادی کا دماغ الگ سے تانے بانے بننے لگا تھا۔ کہ اب قدرت نے اس پر مہربان ہو کر اس کے ہاتھ حویلی والوں کی سب سے بڑی کمزوری لگا دی تھی۔ اب وہ یقینا لویزا کو اس سے الگ کرنے کے لئے ایک نہیں ہزار بار سوچیں گے۔
“کیسا بوجھ ہادی،، لویزا پوچھ بیٹھی۔
“کچھ نہیں ، سٹور روم میں کیا کرنے گئیں تھیں،، اس کا دھیان بھٹکانے کو کافی دیر سے دماغ میں مچلتا سوال پوچھا۔
“ناشتہ بنانے لگی تھی تو چائے کی پتی ختم ہو گئی تھی وہ لینے گئی تھی،، اس نے معصومیت سے کہا تو ہادی مسکرایا۔
“فریدہ کدھر مر گئی تھی،،
“ایسے مت بولیں اس کے بےبی کی طبیعت خراب تھی تو میں نے خود اسے چھٹی دی تھی،،
ڈرا دیا مجھے مسز،، وہ اس کی کمر پر گرفت مضبوط کرتا بولا “جانتی ہو کتنا پریشان ہو گیا تھا،، ڈاکٹر نے کہا تم بہت ویک ہو، اپنا خیال نہیں رکھتی ناں،، بہت پریشان کرتی ہو،،
آپ بھی تو مجھے اتنا پریشان کرتے ہیں،، وہ منہ بنا کر بولی اس الزام پر وہ پھر مسکرایا۔
کب،، میں نے کب پریشان کیا تمھیں،، ہادی نے اس کا اشارہ سمجھتے ہوئے بھی ناسمجھی کا مظاہرہ کیا اور انجان بن گیا۔

ہووووو،، لویزا کو صدمہ لگا۔ ابھی جو کل بارش میں بھیگنے کے بعد اتنا پریشان کیا وہ،،؟ وہ پھر معصومیت سے بولی تو ہادی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ اب اس کی شرارت سمجھتے لویزا نے خجالت اور ناراضگی سے اس کے سینے میں منہ دے لیا۔۔
تو بندہ بھیگ کر گستاخیاں کرتے ہوئے خود ہی دعوتِ نظارا اور دعوتِ عشق دے تو بندہ بشر ہوں کیوں نا سیر ہو کر دعوت اڑاؤں،، ہادی نے کہتے دانتوں تلے لب دبایا،،
لویزا نے اس کے سینے پر مکے برسائے۔ مگر وہ نرمی سے اس کی کلائیاں تھام کر اس کی کمر سے لگا چکا تھا۔ آہستگی سے کروٹ بدل کر اس پر حاوی ہوا۔ اپنے تشنہ لب اس کی آنکھوں پر رکھے۔
پھر چہرے کے ایک ایک نقش کو عقیدت سے چوما۔ لویزا اتھل پتھل ہوتی سانسوں کے دوران کسمسائی
چھوڑیں مجھے ناشتہ بنانے دیں،، وہ بمشکل ہی بول پائی۔ میر ہادی کی شدتیں ہمیشہ ہی اس شیرنی کو بھیگی بلی بنا دیتی تھیں۔
خبردار پاؤں زمین پر رکھا لیزا،، مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا،، اس نے وارن کیا۔ تبھی میکس اندر آیا تھا۔ اور لیزا کو سہی سلامت دیکھ کر دم ہلانے لگا۔
ہادی نرمی سے اس پر سے ہٹا اور اسے بھی اٹھا کر بٹھایا۔
ہادی نے تشکر اور محبت بھرے احساس سے اس بے زبان کو دیکھا جو زبان نا ہوتے ہوئے بھی آج اسے ناصرف سب سمجھا گیا تھا بلکہ بروقت اپنی مالکن کو بچا لیا تھا۔۔
جانتی ہو لیزا مجھے کیسے پتا چلا کہ تم سٹور روم میں بیہوش پڑی ہو،، ہادی کی بات پر لویزا چونکی واقعی وہ تو ادھر روم میں سو رہا تھا تو،،
ہادی نے اسے مکمل بات بتائی تو لویزا نے حیرت سے میکس کو دیکھا۔ پھر اشارہ کر کے اسے اپنے پاس بلایا تو وہ قریب آ کر اسے کے پیروں میں لوٹنے لگا۔
او میرا کیوٹ بےبی،، لویزا کو اس پر بے تحاشا پیار آیا۔
ہادی نے بھی اس کو سہلایا وہ اتنے میں ہی خوش ہو کر باہر بھاگ گیا۔
ہادی پھر اس کی جانب متوجہ ہوا تو لاشعوری طور پر بیڈ پر پیچھے کی جانب کھسک گئی۔۔ اس کے اس معصوم حفاظتی اقدام پر میر ہادی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔

بریک فاسٹ کے بعد اس نے لویزا کو بتایا کہ وہ ضروری کام سے کہیں جا رہا ہے اور لیٹ نائٹ تک لوٹ آئے گا۔ نکاح کے بعد یہ فرسٹ ٹائم تھا جب وہ کہیں جا رہا تھا۔ لویزا نے اسے لاکھ تسلی دی کہ وہ چلا جائے وہ اپنا خیال خود رکھ سکتی ہے۔۔
مگر میر ہادی تو اب اسے اس حالت میں چھوڑ کر بلکل بھی کہیں نہیں جانا چاہتا تھا مگر ناچاہتے بھی اسے جانا پڑ رہا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

ایک انتہائی خفیہ فلیٹ میں بیٹھے رانا میر ہاشم نے اپنے سامنے بیٹھے ایک دیو ہیکل اور انتہائی بھیانک اور بھدی شکل والے آدمی کے سامنے بڑے نوٹوں کی کچھ گڈیاں اچھالیں۔
کام آج ہو جانا چاہئے،، میر ہاشم کا سرسراتا لہجہ۔
اور آپ کا پوتا،، ؟
میں نے اپنے پوتے کو بہانے سے حویلی بلایا ہے اور کچھ بھی کر کہ آج رات اسے وہیں روک لوں گا،،
تاثر کیا ہونا چاہیے،،
یہی کہ ڈاکہ ڈالنے آئے تھے مزاحمت میں ماری گئی،، بچنی نہیں چاہیے وہ ،، میر ہاشم نے اطمینان سے کہا۔
مارنا ضروری ہے کیا ،، وہ خباثت سے رال ٹپکاتا بولا۔
کیا مطلب ؟ کیا بکواس ہے،، تم جیسے کتے کے آگے ٹکڑے کیوں پھینکے ہیں تاکہ کام ہو جائے اور وہ ماری جائے،، میر ہاشم غصے سے پھنکارے۔
اگر اٹھا کر لے جاؤں اور اپنے پاس رکھ لوں، جب جی بھر جائے گا تو مار کر پھینک دوں گا،، وہ اطمینان سے اپنا غلاظت بھرا پلان بتانے لگا۔

اگر ایسا کیا تو تمھارے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل کوؤں کو کھلا دوں گا،، میں بیشک اس کی جان لینا چاہتا ہوں، مگر میرے پوتے کی عزت ہے وہ، گندی نظر بھی ڈالی تو آنکھیں نکال لوں گا،، جاؤ اور مار دو اسے، ہاتھ لگانے کی گستاخی مت کرنا ، نہیں تو پوری نسل اجاڑ دوں گا تمھاری،، سمجھے،، میر ہاشم دھاڑے تو وہ گھگھیا گیا۔
معاف کر دیں، میں تو ویسے ہی،، اور اگر آپ کے پوتے کو پتا چل گیا تو،،؟
پکڑے گئے تو سب سے پہلے تو تم مارے جاؤ گے،، وہ دانت پیس کر بولے۔
اچھا اچھا سمجھ گیا،، کام ہو مکمل کر کے مجھے اس ملک سے فرار ہونا ہے،، اس نے پہلی مرتبہ اپنے دماغ کا استعمال کیا تھا۔

میرے پوتے کے وفادار گارڈز اور ایک وفادار نوکر افضل ہوگا وہاں انھیں بس زخمی یا بے ہوش کرنا ہوگا،، ایک کتا بھی ہوگا، اسے بھی بے ہوش کر دینا،، میں اپنے آدمی ساتھ بھیجوں گا وہ تمھاری مدد کر دیں گے ان سب کو قابو کرنے میں، وہ انھے قابو کرنے کے بعد واپس چلے جائیں گے، مگر اندر بس تم ہی جاؤ گے،، سمجھے،،
جی جی سمجھ گیا،، وہ کہتا نوٹوں کی گڈیاں اٹھاتا یہ جا وہ جا۔

اونہہہہہہ بڈھا کہیں کا،، اگر اتنے امیر زادے نے رکھی ہوئی ہے تو جانے کتنی خوبصورت ہوگی،،لو بھئی رجب،، آج تو سہاگ رات منانے کی رات ہے،، وہ آنکھوں میں خباثت بھری چمک لیے اپنے مکروہ پلان بناتا وہاں سے نکلا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

میر ہادی واقعی تین بجے کے قریب حویلی پہنچ چکا تھا۔گاڑی سے باہر نکلا تو ادھر بخت کو چھوڑنے زمرد آیا تھا وہ بھی گاڑی سے نکلا تھا اور انتہائی طیش اشتعال اور نفرت سے رانا میر ہادی کو گھورا۔
وہ شروع دن سے اس سے خاص قسم کی پرخاش کھاتے ہوئے حسد و جلن کا شکار تھا۔ حالانکہ مہر ہادی سے چار سال چھوٹا تھا۔۔ہر وہ چیز جو اسے چاہیے تھی میر ہادی کا مقدر بن جاتی تھی۔
دولت
شہرت
عزت
کامیابی
زندگی کے ہر قدم پر ایسا ہوا تھا کہ ہر وہ چیز جو اسے چاہیے ہوتی تھی خود بخود میر ہادی کی قسمت کی لکیر بن جاتی تھی تو وہ کیوں نا پرخاش کھاتا اور اب تو اس کی وجہ سے اس کی بہن کی زندگی بھی برباد ہو چکی تھی تو اب تو کچھ خاص قسم کی نفرت محسوس ہوتی تھی اسے میر ہادی سے۔
اب بھی وہ طیش میں اس کے سامنے آیا تھا۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرا ہادی میری بہن کی زندگی کے ساتھ کھیلنے کی ،، وہ پھنکارا۔
یہ میرا اور تمھاری بہن کا آپس کا معاملہ ہے،، تمھیں وضاحت دینا ضروری نہیں سمجھتا،، رانا میر ہادی کے اطمینان نے ہمیشہ کی طرح اسے آگ دکھائی۔
میں چھوڑوں گا نہیں،، جان سے مار ڈالونگا اس حرافہ،،،،
زمرد کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے جب رانا میر ہادی کے کچھ کرنے سے پہلے ہی اسے بختاور کی جانب سے ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا۔ وہ ششدر سا اپنی بہن کو دیکھے گیا۔
تمھیں کس نے حق دیا زمرد کہ کسی بہن بیٹی کے لئے یہ گندے لفظ استعمال کرو،، یہ میرا اور ان کا معاملہ ہے، تم دور رہو اس سب سے، اور چھوٹے ہو چھوٹے بن کر رہو،،
میر ہادی اسے خونخوار نگاہوں سے گھورتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر جا چکا تھا۔
آپی آپ،،، زمرد جھنجھلایا۔
زمرد جاؤ حویلی واپس جاؤ،، بختاور نے اسے جھڑکا تو وہ پیر پٹختا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔

میر ہادی بگڑے ہوئے تیور لیے اندر آیا تھا۔ اپنی کنپٹیاں سہلا کر اس نے خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی۔ پھر بختاور ہی اندر آئی تھی اور اسے باتوں میں الجھاتے کافی دی۔ تب تک وہ مکمل طور پر اپنا غصہ بھول چکا تھا۔
ادھر ادھر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔
اماں اور امی سائیں کدھر ہیں،، اس نے پوچھا تو بختاور مسکرائی۔
آپ کے آنے کا سن کر دونوں اماں سائیں کے کمرے میں بند ہو گئی ہیں،،
کیوں،، اسے حیرت ہوئی۔
ناراض جو ہیں آپ سے،، بختاور نے کہا تو اس نے سرد سی آہ بھری اور اٹھا “میں مل کر آتا ہوں،، وہ کہتا اماں سائیں کے کمرے کی جانب آیا۔ ہلکی فستک دے کر اندر داخل ہوا تو ساس بہو منہ پھلائے مسہری پر براجمان تھیں۔ وہ مسکرایا۔ اور آگے بڑھ کر زبردستی دونوں کے منہ چومے۔۔
آ گئی تین ماہ کے بعد ماں اور بوڑھی دادی کی یاد،، بیوی کے پلو سے نکلنے کو دل کر گیا چھوٹے سائیں کا،، اماں سائیں نے خفیف ساطنز کیا تو وہ واقعی شرمندہ ہوا۔ کیونکہ اس عرصے میں وہ واقعی ان سے ملنے نہیں آیا تھا۔
معاف کیجیے گا اماں سائیں کچھ مصروف تھا،، وہ ان کے سامنے کاٹ پر بیٹھا۔
تم نے اچھا نہیں کیا میر ہادی،،، بختاور کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے،، ممتاز بیگم نے پہلو بدلتے کہا۔
میں نے اس سے اجازت لی تھی امی سائیں،، وہ سکون سے بولا۔
چھوڑ دو اسے میر ہادی،، ہم اسے کبھی اپنی بہو تسلیم نہیں کریں گے،، اماں سائیں نے کہا تو اس نے کھڑکی کے پار دیکھا۔
وہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے،، (میر ہادی نے کہا تو دونوں ساس بہو کو سانپ سونگھ گیا تھا مگر چہرے ضرور خوشی سے تمتماتے دہک اٹھے تھے۔) لیکن اگر آپ لوگ کہتے ہیں تو میں اسے چھوڑ دیتا ہوں،، وہ سنجیدگی سے بولا جانتا جو تھا یہ خبر سن کر کون کمبخت اسے ایسے مشورے دے گا بلکہ وہ تو اسے حویلی لانے کو تڑپ جائیں گی۔ ہوا بھی یہی، ممتاز بیگم کچھ کہنے لگیں جب اماں سائیں نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ بھی پوتے کا داؤ سمجھ گئیں تھیں اسی لیے بولیں۔

ابھی تو طلاق ہوگی نہیں تو جب بچہ پیدا ہو جائے گا بچے کو ہم بختاور کی گود میں ڈال دیں گے،، پھر چھوڑ دینا اسے،، وہ سکون سے بولیں مگر میر ہادی کا دھواں دھواں ہو کر سفید پڑتا چہرہ دیکھ کر ضرور مسکرائیں تھیں۔
کیوں میں کسی مظلوم کی آہیں بددعائیں اپنے سر کیوں لوں،، ایک تو میں اسے چھوڑوں اوپر سے اس کے جینے کا آخری سہارا بھی چھین لوں، کبھی نہیں اسے چھوڑا تو بچہ بھی اسی کو ملے گا،، سمجھے آپ لوگ،، وہ بھی رانا میر ہادی تھا دانت پیس کر بولا مگر ان کو اب مسکراتے دیکھ انھیں نروٹھے پن سے گھورا۔
وہ جھٹکے سے اٹھ کر جانے لگا جب اماں سائیں کی بات نے اس کے قدم وہیں منجمد کیے تھے۔
اپنے دادا اور بابا کو خود بتانا جیسے ہمیں بتایا،، ہم نہیں بتائیں گے،،
(وہ جانتی تھی ان میں سخت قسم کی ناراضگی چل رہی ہے اسی مدعے کو لے کر ، اور اگر میر ہادی انھیں خود سے یہ بتائے گا تو یہ ناراضگی دور ہو سکتی تھی)
سہی،، بس ایک لفظی جواب تھا نا ہاں تھی نا ناں۔
کب لا رہے ہو اسے حویلی،، ان کی بات پر میر ہادی کو سکون ملا تھا جانتا تھا ایسا ہی کچھ ہونے والا ہے۔
ابھی کچھ وقت لگے گا،، وہ کہتا رکا نہیں تھا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
اور پھر پنچائیت اور زمینوں کے بکھیڑوں میں ایسا الجھا کہ گئے رات تک بھی اس کی جان نہیں چھوٹی تھی۔ میر ہاشم نے اسے کسی نا کسی کام میں الجھا کر ہی رکھا۔ پھر اماں اور امی سائیں کے اصرار پر وہ حویلی رک گیا

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ اس کا انتظار کرتی رہی تھی مگر اس کے میسج کرنے پر کہ وہ آج رات نہیں آ پائے گا پریشان تو ہوئی مگر پھر خود کو تسلی دے کر لیٹ گئی۔
ادھی رات کا وقت تھا، حیرت انگیز طور پر میر لاج اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا جب غیر معمولی سے شور پر لویزا کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھی۔ اور آہستگی سے دبے قدموں باہر آئی۔

وہ شیطان صفت سانڈ پچھلی جانب سے کچن میں گھس چکا تھا۔ ہاتھ میں ایک بوتل تھی۔ جو کہ شاید شراب کی تھی۔ اور دوسرے ہاتھ میں ایک بڑا تیز دھار خنجر
واہ واہ واہ آج تو شراب اور شباب دونوں سے لطف اٹھانا ہے مزا ہی آ جائے گا،، وہ بوتل منہ سے لگاتا بڑبڑایا۔
باہر وہ جو لاؤنج تک آئی تھی کچن میں اس شیطان کی موجودگی دیکھ اور اس کی مکروہ عزائم جان کر خوف سے لٹھے کی طرح سفید پڑ چکی تھی بے اختیار ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھا تھا۔۔۔
ادھر وہ شیطان ملگجے اندھیرے میں اسے شاید دیکھ چکا تھا تبھی اس کی جانب لپکا اور وہ جو خوف سے سفید پڑ چکی تھی قدم جیسے وہیں منجمد ہو چکے تھے۔۔۔

Continue,,,,,,,