Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5


💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ کینٹین میں بیٹھی اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو بار بار پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرنے میں ہلکان ہوئے جا رہی تھی۔ آج پھر عجیب ہو رہا تھا ہر تین میں سے دو لیکچرز میں اسے کسی نا کسی بہانے سے کلاس سے باہر کیا جا رہا تھا اور اب لویزا کی برداشت بھی جواب دینے لگی تھی۔
بیگ میں سے ٹشو نکالا اور اپنی آنکھوں کے کونے صاف کیے۔
رانا میر ہادی ایک ٹیبل پر بیٹھا کافی کے گھونٹ بھرتا گہری نگاہ سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اجالا اسے ڈھونڈتی کینٹین میں آئی تھی وہ جلدی سے اپنی چیزیں سمیٹتی اٹھی اور اجالا کے ساتھ چلی گئی تھی۔

اجالا کا صدمے کے مارے برا حال تھا۔ لویزا خود پر بیتی تمام کار گزاری اسے سنا چکی تھی۔ اور اب وہ دونوں خاموش بیٹھی اس مسئلہ کا حل سوچ رہی تھی۔
جب عالی ان کے پاس آیا۔ کلاس میں اس وقت کوئی نہیں تھا۔
ان دونوں کو اتنا خاموش دیکھ کر وہ لویزا کی جانب گھوما تھا۔
لویزا آ،، آپ اس سے ایک مرتبہ سوری بول لیں، تو یہ معاملہ یہیں ختم ہو جائے گا،، عالی نے نگاہیں چراتے اسے کہا تو لویزا نے شکوہ کناں نگاہوں سے پہلے اسے اور پھر اجالا کو دیکھا۔
آپ جانتے ہیں کہ ساری غلطی اس گھمنڈی، بددماغ، بدلحاظ، بدزبان اور جاہل شخص کی ہے، جو مجھے جھکا کر اپنی جھوٹی انا کی تسکین کی خاطر اب جانے کون کون سے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے تو میں سوری کیوں بولوں، سوری تو اسے بولنا چاہیے اپنے اتنے گرے ہوئے ہونے پر، اپنی جہالت پر، جسے دولت کے غرور نے اندھا اور ظالم بنا دیا ہے، کہ زمین پر اکڑ کر چلتا غریب بندوں کا ناخدا بنا پھر رہا ہے، جانتے نہیں آپ زمانوں سے ایسے ناخداؤں کی اکڑ و غرور کو کیسے تار تار کیا جاتا رہا ہے،
وہ پھٹ پڑی۔
اور رانا میر ہادی جو عالی کو ڈھونڈتا وہاں آیا تھا یہ سن کر تن فن کرتا ان کی کلاس میں آیا تھا۔
آہٹ پر وہ تینوں چونکے تھے۔ وہ سامنے کھڑا خونخوار نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا جس کے اطمینان میں رتی بھر بھی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔

وہ شدید طیش و اشتعال میں اس کی جانب بڑھا تھا۔ کیا بکواس کی، زرا دوبارہ بولنا، اس کے بڑھتے قدموں کو عالی نے بیچ میں آ کر روکا تھا۔ جب اس نے ڈائس کو بری طرح کک رسید کر کے اپنا غصہ اس پر نکالا تھا اور ڈائس ایک دھماکے سے دور لویزا کے قدموں میں جا کر گرا تھا۔ کہ وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں زور سے میچ کر اپنی جگہ سے اچھل پڑی تھی۔
عالی اسے گھسیٹتا وہاں سے لے جا چکا تھا۔ ایک مرتبہ پھر وہ پوری یونی میں تماشہ اور چٹ پٹی گوسپ کا زریعہ بن چکی تھی۔
پوری یونی کو ان کے ہر جھگڑے کا پتہ چل چکا تھا مرچ مسالے کے ساتھ ہر جگہ اس بات کا زکر کیا جانے لگا۔ دشمنی میں ہی سہی لویزا اقبال کا نام رانا میر ہادی کے ساتھ لیا جانے لگا ۔
اور یہ بات سیما کو انتہائی ناگوار گزری تھی کہ چاہے دشمنی اور نفرت میں ہی سہی لویزا کا نام میر ہادی کے نام کے ساتھ جڑ چکا تھا۔ کیوں آخر کیوں؟
آخر وہ نفرت میں ہی سہی کیوں اس کو اتنی اہمیت دیتا تھا کہ اس کا نام ہادی کے نام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ کیوں اس کو سر پر سوار کیے پھر رہا ہے۔

وہ گھر آئی۔ چھپ کر بے تحاشا روتی اس وقت کو کوس رہی تھی جب اپنی بدقسمتی سے جا ٹکرائی تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ایک ہفتے سے وہ گھر پر تھی۔۔انھیں پریشان کرنے کا سلسلہ ہنوز جاری تھا۔ اس نے یہ معاملہ الله تعالیٰ کے سپرد کر دیا تھا۔ بابا نے اس کی چھٹیوں کا پوچھا تو وہ طبیعت کا بہانہ کر کے سہولت سے انھیں ٹال گئی تھی۔
اجالا روز آ کر اسے لیکچرز کے نوٹس دے دیا کرتی تھی۔۔ وہ ابھی تک چٹانوں جیسا حوصلہ رکھے بیٹھی تھی۔ اس کے بابا اس کے ساتھ تھے تو کوئی اسے توڑ کیسے سکتا تھا۔
مگر پھر کچھ ایسا ہوا کہ وہ بری طرح ٹوٹ کے بکھری بھی اور روئی بھی، جب ایک دن اقبال جھکے سے کندھوں سمیت جاب سے آدھے دن میں ہی واپس آ گئے۔
پہلے تو کچھ نہیں بتایا مگر ان کی پریشانی دیکھ لویزا بے چین ہو چکی تھی۔ بے حد اصرار کر کے پوچھنے کے بعد انھوںنے بتایا کہ انھیں جاب سے بنا کوئی نوٹس دئیے بغیر کوئی وجہ بتائے نکال دیا گیا ہے۔ اور یہیں آ کر وہ ٹوٹی تھی کہ اقبال صاحب پہلے تو دوسرے ( گیس و بجلی کے) معاملات کو لے کر بے تحاشا پریشان تھے اور اب جاب کے چھوٹنے نے ان کی کمر جیسے توڑ کر رکھ دی تھی۔

لویزا کو وہ ایک ہفتے میں برسوں کے ضیعف اور بوڑھے دکھنے لگے تھے۔
انسان کے حوصلے بلند ہوں تو وہ اپنے لیے نہیں جھکتا نا ٹوٹتا ہے خود سے جڑے رشتوں کو ٹوٹتے بکھرتے دیکھ ضرور ٹوٹ سکتا ہے اور یہی ہوا تھا لویزا کے ساتھ،
وہ اپنے بابا کو اس قدر پریشان دیکھ ضرور ہار گئی تھی تبھی ایک فیصلہ کر کے اٹھی تھی۔
بابا آپ اپنے کمرے میں آرام کریں میں اجالا کی طرف ہو کر آتی ہوں، نوٹس سے متعلق ایک ضروری کام ہے، اسے نے نگاہیں چراتے کہا۔
ٹھیک ہے جاؤ گڑیا مگر اپنا خیال رکھنا، وہ کہتے اپنے بستر پر لیٹ چکے تھے۔
لویزا اپنے روم میں آئی۔ بلو فراک کے نیچے بلیک جینز پہن رکھی تھی۔ بلو دوپٹہ حجاب سٹائل میں اوڑھا اور کندھوں پر مخصوص انداز میں شال اوڑھی ۔ اپنا بیگ اٹھایا اور گھر سے نکلی۔
گھر سے نکل کر عالی کو کال کر کہ ایک ایڈریس ضرور مانگا تھا۔
رکشے میں بیٹھی تو آنسو لڑی اور موتیوں کی شکل میں گود میں بکھرنے لگے تھے۔
ہوش تو تب آیا جب مطلوبہ ایڈریس پر پہنچ کر رکشہ جھٹکے سے رکا تھا۔
سامنے ہی میر لاج کی پر شکوہ عمارت اس کے سامنے تھی وہ یہاں تک کس طرح آئی تھی وہی جانتی تھی۔
رکشے سے اتری۔
بھائی مجھے بس دس پندرہ منٹ کا کام ہے یہیں رکنا میں آتی ہوں،، پیسے ادا کر کے اس نے بولا تو رکشہ والے نے اثبات میں سر ہلایا۔
اس نے لرزتے کانپتے اندر کی جانب قدم بڑھائے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رانا میر ہادی کال پر زمینوں کے حساب کتاب کی ڈیٹیلز لے رہا تھا۔ بابا سائیں حویلی بلا رہے تھے۔ مگر وہ کچھ دن سے ٹال رہا تھا۔ کال جاری تھی جب افضل دستک دے کر اندر آیا۔ اسے مصروف دیکھ کر وہیں رک گیا۔
تقریباً دس منٹ کے بعد اس نے فون رکھ کر سوالیہ نگاہوں سے افضل کی جانب دیکھا۔۔
چھوٹے سائیں،، لویزا میڈم آئیں ہیں، ڈرائنگ روم میں بٹھایا ہے، آپ سے ملنے کا کہہ رہی ہیں، افضل نے کہا تو میر ہادی کے لبوں کو ایک فاتحانہ اور جاندار سی مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
ہممم،، اس نے ہنکارا بھرا، تم جاؤ چائے پانی کا بندوبست کرو، میں دیکھتا ہوں، وہ اطمینان سے بولا اور چائے پانی کا بندوبست کرنے کا تو یوں بولا جیسے ان میں جانے کتنے خوشگوار تعلقات تھے یا دونوں جانے کتنے گہرے دوست تھے۔

وہ جانے کیوں مگر بلا ارادہ ہی ڈریسنگ کے سامنے آیا تھا اور اپنا حلیہ ملاحظہ فرمایا۔ وائٹ ٹی شرٹ کے نیچے بلیک ٹراؤزر، گھنے سیاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ اپنے بیڈ روم سے ڈرائینگ روم کی جانب آیا تھا۔
مگر ڈرائینگ روم میں آ کر ایک مرتبہ تو ٹھٹھک کر رکا تھا۔
سامنے بیٹھی لڑکی یونی والی طنطنے اور رعب دار لویزا اقبال تو نہیں لگ رہی تھی۔ وہ جو سامنے بیٹھی تھی۔ سوجی متورم سرخ ہلکے زدہ آنکھیں، (کہ جانے کتنا روئی ہو ) اترا چہرہ، ملگجے حلیہ، یہ تو کوئی اور ہی لویزا اقبال تھی۔
وہ قدم قدم چلتا اس کے سامنے آیا تو لویزا نے بیگ کو مضبوطی سے مٹھیوں میں جکڑا کہ جانے کتنا برداشت کر رہی ہو۔
وہ بغور اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا وہ سامنے آیا تو لویزا جھٹکے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔
میر ہادی خاموشی سے کھڑا اس کی جانب دیکھے گیا جو کچھ کہنے کا حوصلہ جمع کرتی بری طرح اپنے لب کچل رہی تھی۔

ائم سوری،،،، رانا میر ہادی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا اور جھٹکے سے واپسی کے لئے مڑی۔ وہ جی بھر کر بد مزا ہوا تھا۔ اس کی سوجی آنکھیں، اترا ہوا متورم چہرہ دیکھ کر،
ہار گئیں،؟ جانے کیوں مگر جان بوجھ کر اسے روکنے کو پوچھا۔ وہ کچھ بھی بول کر اسے روکنا چاہتا تھا اسی لئے یہی سہی۔
مگر جب وہ حسب معمول اگنور کر کے جانے لگی تو میر ہادی بری طرح چڑا تھا۔ اور جھٹکے سے اس کے سامنے آیا ۔
تمھاری پرابلم ہی یہی ہے، کم سنتا ہے کیا،،؟ میں نے کچھ پوچھا،،ایلو ویرا، وہ سخت جھنجھلایا۔

لویزا خاموشی سے سامنے کھڑے پاگل اور سنکی شخص کو دیکھے گئی۔ جب پھر رانا میر ہادی نے شوشا چھوڑا۔
شکست تسلیم کرتی ہو،؟
میرا جواب شاید تمھیں پسند نا آئے،کہیں تمھاری انا کو پھر نا ٹھیس پہنچ جائے اسی لئے جانے دو،، لویزا کا سرسراتا لہجہ میر ہادی اس کی جانب دیکھے گیا جب وہ پھر اس کے پہلو سے نکل کر جانے کو پر تولنے لگی۔
میں سننا چاہوں گا،، ہار گئیں،،؟ ایک ہی سوال تیسری مرتبہ پوچھا تو لویزا کے تلوؤں پر لگی اور سر پر بجھی تھی۔

اگر ایک کمزور اور اپنے سے کئی گنا کم حثیت لڑکی کو اپنی دولت اور رتبہ کے بل بوتے پر جھکا کر اسے تم اپنی جیت مانتے ہو تو مجھے تو تمھاری مردانگی پر ہی شک ہو رہا ہے میر ہادی، کیونکہ اگر مرد، ہوتے تو کسی ٹکر اور حثیت کے اپنے جیسے مرد سے مقابلہ کرتے، مگر تم تو مجھے جھکانے کے چکر میں اتنا نیچے گر گئے کہ ایک بوڑھے ضعیف العمر آدمی کو بھی نا بخشا اور اسے اس کی جاب سے نکلوا دیا ، تف ہے رانا میر ہادی تمھارے مرد ہونے پر، ایک بزدل اور کم ظرف ہو تم جو ایک کمزور لڑکی کو جھکا کر اسے اپنی فتح سمجھ رہے ہو،
وہ رانا میر ہادی کا دھواں دھواں چہرے پر ایک آخری نگاہ ڈالتے اس کے پہلو سے ہو کر نکلی مگر کچھ یاد آنے پر پھر رکی۔

جیت مبارک ہو رانا میر ہادی، اور میرا ایمان ہے، اور تمھیں بدعا کہ آج کے بعد یہ جیت تمھیں کبھی سکون نہیں لینے دے گی، اور ہاں ابھی ابھی یہ سب بول کر میں نے جو تمھاری انا کو ایک مرتبہ پھر ٹھیس پہنچائی ہے اس کے لئے،،
اگین سوری،،
وہ کہہ کر وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی۔
اور سیما جو میر ہادی سے ملنے وہاں اپنی گاڑی میں آئی تھی لویزا کو میر لاج سے نکلتے دیکھ جل کر خاک ہوئی تھی۔
وہ تن فن کرتی اندر آ کر میر ہادی کے سر پر سوار ہوئی تھی۔
یہ آخر لگتی کیا ہے تمھاری؟ کیوں آئی تھی یہاں؟ میر ہادی کیوں دے رہے ہو اسے اس قدر امپورٹنس کو وہ میر لاج تک پہنچ گئی، بات کیا ہے آخر؟ مجھے بتاؤ، میں سننا چاہوں گی،،
وہ جو پہلے ہی دل وجاں سے جلا بھنا بیٹھا تھا۔۔ سیما کی باتوں سے مزید اس کا خون کھول اٹھا تھا۔
گارڈز،، وہ دھاڑا،، افضل بھاگ کر اندر آیا سیما بھی اپنی جگہ سے اچھل پڑی تھی۔
اس کو اندر آنے کی پرمیشن کس نے دی اٹھا کر باہر پھینکو،، وہ ہزیانی سا ہو کر چلایا تو افضل نے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا۔
زلت و اہانت سے جس کا چہرہ لال بھبھوکا ہو چکا تھا۔
وہ تیز قدموں سے چلتی باہر نکلتی چلی گئی۔
پیچھے میر ہادی نے ڈرائینگ روم کی ہر چیز تہس نہس کی تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ لویزا کو سکون آیا تھا۔ سب ٹھیک ہو چکا تھا۔ بجلی گیس کا مسئلہ بھی حل ہو گیا تھا اور کمپنی نے معزرت کے ساتھ اقبال صاحب کو ناصرف واپس جاب پر لیا تھا بلکہ ان کی پروموشن بھی کی تھی۔
وہ ایک ہفتے سے دوبارہ یونی جا رہی تھی۔۔ اور اس دوران صد شکر کہ ایک منحوس چہرہ دوبارہ دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔
یعنی راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔
گہری خاموشی تھی۔
مگر کیا یہ سکوت اور گہری خاموشی کسی بڑے طوفان کی آمد اور پیش خیمہ ہونے کا اشارا تو نہیں تھا،،؟

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

کیا بات ہے میرا بچہ کچھ الجھا الجھا سا لگ رہا ہے،؟ وہ جو ایک ہفتے سے حویلی میں تھا۔ آج کسلمندی سے ممتاز بیگم کی گود میں منہ دئیے لیٹا تھا۔
کچھ نہیں امی سائیں،، کوئی خاص بات نہیں،، اس نے آنکھیں موندے موندے کہا۔
یونیورسٹی نہیں جانا کیا؟ ممتاز بیگم کو فکر ستا رہی تھی۔ وہ تو یوں حویلی سے بھاگ بھاگ کر لاہور جاتا تھا جسیے قید سے چھوٹا قیدی بھاگتا ہے مگر اب کی بار تو ہفتہ ہو چکا تھا اس نے جانے کا نام نہیں لیا تھا ابھی تک۔
کل جاؤں گا ،، اماں سائیں نظر نہیں آ رہیں،، طبیعت تو ٹھیک ہے ناں ان کی،میر ہادی اٹھ کتمر بیٹھا گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اس نے بات گھمائی اور ماں کی خود سے توجہ ہٹا کر دوسری جانب مبزول کرنا چاہی۔ مگر وہ ماں تھیں اس کی۔
اچھا ٹھیک ہے آرام کرو، میں اماں سائیں کو دیکھتی ہوں، وہ اٹھ کر گئیں تو وہ دوبارہ اپنے بیڈ پر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے لیٹ گیا۔ اور آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔

جب دروازے سے اندر آتی آہٹ محسوس ہوئی۔ آہٹ بیڈ کے قریب آئی تو اس نے بازو آنکھوں پر سے ہٹایا۔ سب سے پہلے نگاہ پاؤں پر پڑی جینز کی بلیک پینٹ کے اوپر بلو فراک،
وہ جانے کیا تصور کر کے جھٹکے سے اٹھا تھا۔۔ مگر سامنے کھڑی جس ہستی پر نگاہ پڑی موڈ پھر بری طرح آف ہوا تھا۔
کتنی مرتبہ کہا ہے کہ جب یہاں آیا کروں تو اپنی منحوس شکل مت دکھایا کرو مجھے، اور یہ کیا بے ہودہ لباس پہن رکھا ہے،، وہ بگڑے تیور لیے خواہ مخواہ دھاڑا تو بختاور سہم سی گئی۔
وہ جج،، جی،، امی سائیں نے لا کر دیا تھا یہ لباس اور اماں سائیں نے مجھے یہاں بھیجا کہ آپ سے پپ پوچھ لوں کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں آپ کو،،؟ وہ ڈری سہمی سی بولی۔
فی الحال تو اپنی یہ روندو شکل لے کر گم ہو جاؤ یہاں سے، اور کیا چاہیے مجھے،، سکون چاہیے،، سو گیٹ لاسٹ،، وہ خواہ مخواہ ہی انگارے چبا رہا تھا۔
( زہر لگتی تھیں اسے روندو ڈری سہمی لڑکیاں ،،
اسے تو ،، بسسسسس جانے ہی دو)

بختاور آنسو بہاتی ایک مرتبہ پھر زلیل ہو کر کمرے سے جا چکی تھی۔۔
اسنے جھنجھلا کر کروٹ بدلی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ سکون کیوں نہیں آ رہا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

آج بہت بڑا دن تھا۔ یونیورسٹی کے ایک بڑے سمینار میں رانا میر ہادی کے دادا رانا میر ہاشم نے شرکت کرنی تھی۔ اسی لئے وہ خاص تیاری کے ساتھ انھیں کے ساتھ لاہور آیا تھا اور انھیں کے ساتھ سمینار میں بھی شرکت کی تھی۔
سو وقت پر دونوں تیار تھے۔ دن گیارہ بجے کے قریب ان کی گاڑیاں یونی کی پارکنگ میں رکیں تھیں۔ پورے پاکستان کا میڈیا انھیں کوریج دے رہا تھا۔

آج سمینار تھا سو وہ اور اجالا خاص تیاری کے ساتھ آئیں تھیں۔ دونوں نے ایک جیسی فراکس پہنی تھیں۔ لویزا کی وائٹ پیروں تک فراک تھی اور اجالا کی گرے، وہ دونوں ہاتھ تھامے آڈیٹوریم میں داخل ہوئیں تھیں۔
سٹیج پر رانا میر ہادی سنجیدگی سے اپنے دادا کی چئیر کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھا تھا۔ ایک اچٹتی سی نگاہ سامنے کرسیوں کی قطار کے بیج ایک سفید لباس والی لڑکی پر ڈالی تھی۔

سیمینار کامیابی کے ساتھ اختتام پزیر ہوا تھا۔
رانا میر ہاشم جا چکے تھے۔ ان کے جانے کے بعد میڈیا والوں نے میر ہادج پر فوکس کیا تھا۔
چند سوالات کا جواب دے کر وہ عالی کے پاس چلا آیا تھا۔

صد شکر کے میڈیا والے بھی جا چکے تھے جب یونی میں غیر معمولی ہلچل سی ہوئی۔ تبھی ان کا کلاس فیلو سمیر ہانپتا ان کے پاس آیا تھا۔
میر ہادی، عالیان چلو میرے ساتھ،، اس نے عجیب سے لہجے میں کہا تو وہ دونوں اس کے ساتھ ہو لیے،،
آڈیٹوریم میں حد نگاہ اسٹوڈنٹس کی بھیڑ تھی۔ رانا میر ہادی سامنے کا نظارا دیکھ غصے سے پاگل ہوا تھا جبکہ اسی بھیڑ میں سیما کھڑی تمسخرانہ سی ہنسی ہنستے اپنے حسد و بدلے میں کیے گئے کانامے پر خود کوداد دے رہی تھی جیسے۔۔

اور سٹیج کی دیوار پر میر ہادی اور لویزا کی تصویر کے ساتھ جلی حروف میں لکھا گیا تھا۔
Tom and Jerry
Fight but always live together,,,, Amazing,,,

سٹیج کے قریب اسی بھیڑ میں لویزا اجالا کے گلے لگ کر روئے جا رہی تھی جب اس کے کانوں میں سرگوشیاں سنائی دیں۔۔
لو آ گیا ٹام بھی،،
لویزا ایک جھٹکے سے اجالا سے الگ ہو کر شعلہ جوالا بنی رانا میر ہادی کے سامنے آئی تھی۔
ی،،، یہ،،، تت،، تم نے کیا ناں،، اپنا بدلہ لینے کو،،
رانا میر ہادی نے خالی خالی نگاہوں سے سرخ اور بھیگا چہرہ لیے سامنے کھڑی اس معصوم لڑکی کو دیکھا جو اس کے پاگل پن اور فضول کی ضد اور گھمنڈ کی وجہ سے محض ایک مزاق بن کر رہ گئی تھی۔۔
نو،،،،، بلکل نہیں،، میں نے،،
چٹاخ،،،،،،،،،،، زناٹے دار تھپڑ کی آواز پورے آڈیٹوریم میں گونجی تھی جیسے۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓