Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
میر ہادی گہری مسکان لیے میر لاج کے لان میں داخل ہوا تھا۔ جہاں وہ بلکل سامنے میکس سے کھیلنے میں مصروف تھی۔ جو اب اچھا خاصا بڑا ہو چکا تھا۔ اور لویزا سے بے تحاشا اٹیچ تھا وہ جب تک دکھائی نا دیتی میکس کھانا نہیں کھاتا تھا۔
آج تین ماہ گزر چکے تھے۔میر ہادی کو اس پری پیکر کی سنگت و قربت میں یہ دن ،یہ پل، یہ لمحے کیسے گزر گئے پتہ ہی نا چلا۔ اس کی زندگی انتہائی حسین ہو گئی تھی۔ دونوں نے اپنی محبت و الفت کے زریعے اپنی زندگی کا ہر لمحہ یاد گار بنا دیا تھا۔۔
لویزا اس کی قربت میں بے تحاشا خوش تھی۔ مگر کبھی کبھی اپنے خوابوں کی وجہ سے اور اس کی یاداشت واپس کیوں نہیں آ پا رہے اس وجہ سے اداس بھی ہو جاتی مگر میر ہادی اسے بہلا ہی لیا کرتا تھا۔
آج بہت خاص دن تھا۔ اب جبکہ اجالا کے پیپر ہو چکے تھے اور عالی نے اپنا بزنس سیٹ کر لیا تھا۔ اپنا الگ گھر لے کر وی بھی سیٹنگ کر لی تھی تو اجالا کی رخصتی اور ریسیپشن ہونا تھا۔ موسم کافی بدل کر مرطوب ہو چکا تھا ۔ اور اچھی خاصی گرمی ہو چکی تھی سو فنکشن لیٹ ایوننگ کا تھا۔ اور اب کافی وقت ہو چلا تھا اور انھیں ابھی تیار بھی ہونا تھا۔
وہ لان میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائی۔ میکس اب ہادی کے پاؤں میں لوٹنے لگا تھا۔
ارے آپ آ گئے، ؟ اور یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے،؟
سرپرائز ہے ایلو میری جان، وہ مسکرا کر بولا۔ اب تو اس کی عادت بن چکی تھی اسے روز سرپرائز دینے کی اور لویزا کو روز کچھ نا کچھ گفٹ وصول کرنے کی۔
یقینا فنکشن کے لئے کچھ ہوگا،،
جان گئی ہو مجھے ایلو،، وہ سر دھنتا بولا۔
ابھی بھی نا جانتی،، لویزا نے گردن اکڑا کر کہا۔
ہممم، رائٹ تو چلو بتاؤ، اب میرے دماغ میں کیا چل رہا ہے، وہ اسے گہری نگاہوں کے حصار میں لیتے شرارت سے بولا۔
آپ کے دماغ میں عاشقی پارٹ تھری چل رہی ہے،، وہ برا سا منہ بنا کر بولی تو میر ہادی کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
دیٹس گریٹ ایلو،، پھر تو یہ بھی جان گئی ہو گی کہ آج رات کے لئے میں کیا سوچ رہا ہوں،، وہ پھر سے بے حد شرارت سے بولا تو لویزا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
چلیں،،،،،، تیار بھی ہونا ہے بے شرم کہیں کے،، وہ چلیں کو کھینچتی اس کا بازو پکڑ کر بولی تھی۔
وہ دونوں اندر آئے۔ میر ہادی فریش ہونے واش روم چلا گیا۔ لویزا نے پیکٹ کھول کر دیکھا تو اس میں پنک اور فیروزی کلر کمبینیشن کا ایک بے حد خوبصورت ڈریس تھا۔ گھٹنوں تک پنک فراک کے اوپر فیروزی اپر، نیچے جینز کی فیروزی ٹائٹس، اور پنک اور فیروزی سکارف،،
وہ مسکراتی الماری کی جانب میچنگ جیولری دیکھنے بڑھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ دونوں حال میں داخل ہوئے تو کئی نگاہیں ان کی جانب اٹھی تھیں۔ لویزا نے ہادی کا بازو تھام رکھا تھا۔ اور میر ہادی نے دوسرا ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈال رکھا تھا۔ وہ مسکراتے سٹیج تک آئے تھے جہاں سٹیج پر عالی میرون شیروانی میں بہت خوبرو لگ رہا تھا اور اجالا میرون اور اورنج کلر کمبینشن کے برائیڈل لہنگے میں بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔
اجالا نے اسے دیکھا جو پنک اور فیروزی پری بنی حلقے میک اپ کے ساتھ غضب ڈھا رہی تھی اور اب تو گھنے چمکدار براؤن بال کمر کے نیچے تک جھول رہے تھے۔
اجالا نے ہاتھ آگے بڑھایا تو وہ آ کر اس کے پہلو میں بیٹھ گئی
اور ہادی عالی کے پاس بیٹھ گیا۔
ہادی نے کن اکھیوں سے اجالا کی جانب دیکھا جس نے جانے کیوں پھر تین ماہ سے اس سے سیدھے منہ بات نہیں کی تھی۔ ایسا بھی کیا ہو گیا تھا۔ اس کی سمجھ سے تو بالا تر تھا ۔
فوزیہ بیگم نے لویزا کو کسی کام سے بلایا تھا تب ہادی نے اجالا کو مخاطب کیا تھا۔
اب آپ کی کیا ناراضگی ہے بھابھی مجھ سے جو پھر کافی عرصے سے آپ نے سیدھے منہ بات نہیں کی مجھ سے؟ زرا واضح کریں گی تاکہ میں اپنی غلطی کی معافی بھی مانگ سکوں،، ہادی نے اپنی الجھن دور کرنا چاہی۔
واقعی بجا فرمایا آپ نے رانا میر ہادی، معافی غلطی کی ہوتی ہے، جان بوجھ کر کیے گناہوں کی نہیں،، اور لویزا کو پانے کے لئے آپ کیا کیا گناہ کر چکے ہیں، وہ آپ خود بہتر اور اچھی طرح جانتے ہیں، مجھے بتانے کی ضرورت نہیں،، اجالا نے سنجیدگی سے کہا تو میر ہادی نے پہلو بدلا۔
میں نے کیا کیا؟ وہ بھی سنجیدگی سے بولا۔
کیا کیا،،؟ ویری گڈ،، شاید آپ بھول گئے، مگر چلیں اب پوچھ ہی رہے ہیں تو چند مثالیں دے ہی دیتی ہوں، آپ نے ظفر بھائی اور ان کی مدر کو پولیس کے زریعے یہ تاثر دیا کہ لویزا نہیں رہی،،
وہ دانت پیس کر بولی تو ہادی کے چہرے کا رنگ اڑا تھا جبکہ عالی شاکڈ سا ہادی کو دیکھے گیا۔
آپ نے اس کی میڈیسنز چینج کر دیں، تاکہ اس کی یاداشت کبھی واپس ہی نا آئے، اب وہ میڈیسنز کے نام پہ صرف وٹامنز پلز لے رہی ہے، ، دیکھا ہے میں نے، اور اس بات پر پریشان اور اداس ہو جاتی ہے کہ میڈیسنز لینے کے باوجود اس کی یاداشت واپس کیوں نہیں آ رہی، ایم آئی رائٹ، وڈیرا جی،،
اجالا کا آنکھیں نم ہو چکیں تھیں جبکہ میر ہادی کی رگیں تن چکی تھیں، اور عالی، عالی تو شاکڈ سٹیٹ سے باہر ہی نہیں آ پایا تھا۔
آپ اچھی طرح جانتی ہیں، یہ میں نے کیوں اور کس لئے لیا، اگر اس کے رشتے دار اس سے ملتے تو شاید اس کو پرانی باتیں یاد آتیں اور اس وقت وہ مزید صدمے برداشت کرنے کی کنڈیشن میں ہر گز نہیں تھی، اور رہی بات میڈیسنز کی تو ہاں ہوں میں سیلفش، کیونکہ وہ اور اس کی محبت میری لائف لائن ہے، میں ایک پل بھی اس کے بغیر نہیں جینا چاہتا، جانتا ہوں اس کی یادیں ہمیں برباد کر دیں گی، تو جو یادِ ماضی عذاب ہو وہ حافظہ چھن جانا ہی بہتر ہے،، آپ کو پتا ہے میں کس قدر اذیت محسوس کرتا ہوں کبھی کبھی، ہر پل ہر لمحہ یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں اسے سب یاد نا آ جائے، اور،،، اس سے آگے تو سوچ بھی نہیں پاتا،،
رانا میر ہادی کے لفظ لفظ میں ایک کرب درد اور اذیت تھی۔
آنکھیں تو اس کی بھی لال انگارا اور نم ہو چکیں تھیں۔
یہ موضوع چل نکلا تو دھڑکتے دل کے دھڑکے پھر سر اٹھانے لگے تھے۔ تبھی وہ پھر سٹیج پر آئی تھی۔ اور ان کو اتنا سنجیدہ دیکھ حیرت زدہ رہ گئی۔
کیا ہوا، یہ سب کے منہ پر بارہ کیوں بج گئے،، وہ ہادی کی جانب متوجہ ہوئی تو اس کی سرخ آنکھیں دیکھ حیران ہوئی تھی۔
ہادی کیا ہوا ہے آپ کو ؟
کچھ نہیں، بس تم ادھر میرے پاس آ کر بیٹھو،، میر ہادی نے اس کا ہاتھ تھام کر اجالا کی جانب دیکھتے اسے اپنے پہلو میں بٹھایا تھا۔۔
اجالا نے لویزا کو مسکرا کر دکھایا تھا کہ وہ بلکل ٹھیک ہے۔۔
تب دودھ پلائی کی رسم لویزا نے ادا کی تھی وہ خوب چہچہاتی رہی۔ میر ہادی دلہے کا دوست بنا اسے دوبدو جواب دے رہا تھا۔
“مجھے تو پچاس ہزار ہی چاہیئں تو مطلب چاہئیں، کنجوسو اب کر دوں پاکٹس ہلکی،، وہ تنگ آ کر بولی تو سب قہقہہ لگا کر ہنس پڑے تھے۔
پچاس ہزار کے بدلے پھر کچھ اور بھی اسپیشل چاہیے ہوگا مجھے آپ سے، دلہے کی سالی صاحبہ،، میر ہادی نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو وہ بوکھلا ہی گئی۔
مگر اس کی یہ گوہر افشانی وہاں موجود سب لوگ سن چکے تھے۔تبھی زور دار قسم کی ہوٹنگ ہوئی تھی وہ اٹھ کر شرم سے دہری ہوتی واک آؤٹ کرنے والی تھی جب میر ہادی نے شرافت سے اسے نوٹ نکال کر دئیے تھے۔
اسی ہلے گلے میں کھانا کھایا گیا۔
رخصتی کے وقت اجالا خوب سارا روئی تھی کیونکہ اب اسے اپنی نئی زندگی شروع کرنے اپنے نئے گھر جانا تھا۔
🧡🧡🧡🧡🧡🧡🧡🧡🧡🧡🧡🧡🧡🧡🧡🧡
میر ہادی ہی انھیں ان کے نیو گھر تک گاڑی ڈرائیو کر کے چھوڑنے آیا تھا۔ موسم کافی خراب ہو گیا تھا اچانک آندھی طوفان آنے کا اندیشہ تھا۔
لویزا کو افضل گھر واپس لے گیا تھا۔
گاڑی پورچ میں رکی تو ہادی نے اتر کر اجالا کی جانب کا دروازہ کھولا۔
اجالا نے اس کی جانب دیکھا “میں دعا کروں گی کہ اب اس کی یاداشت کبھی واپس نا آئے اور وہ آپ کے ساتھ یونہی بے تحاشا خوش رہے،،
بددعائیں بھی تو میرا پیچھا یونہی کرتی ہوں گی،، وہ پھیکی سی ہنسی ہنس کر بولا۔
نہیں آپ کی غلط فہمی ہے یہ،، آپ کی ذات اس سے ذات سے جڑی ہے جو مجھے بہت عزیز ہے،، اسی لئے میں نے کبھی آپ کو کوئی بددعا نہیں دی،الٹا دعائیں مانگتی ہوں کہ آپ لوگ ہمیشہ خوش رہیں، اجالا نے اسے نروٹھے پن سے گھورا تو اب کی بار وہ کھل کر مسکرایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
خوش رہو،،
وہ جانے لگا جب عالی نے اسے پکارا۔
کچھ دیر رک جاؤ،، موسم دیکھو کتنا خراب ہو رہا ہے، عالی کے شوشے پر میر ہادی نے آئیبرو اچکا کر اس کی جانب دیکھا جیسے کہنا چاہتا ہو”مطلب رئیلی،،
کیسے جاؤ گے یار،، عالی جھنجھلایا تبھی باہر کیب رکنے کی آواز آئی۔
میر ہای کندھے اچکاتا مسکراتا باہر جا چکا تھا۔ وہ بھی دونوں ہنستے اندر کی جانب بڑھے تھے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ گھر واپس آیا تو اچھی خاصی طوفانی بارش شروع ہو چکی تھی۔ کیب سے اتر کر اندر تک آتے آتے وہ اچھا خاصا بھیگ چکا تھا۔
Ssshhhhhiiiiiiitttttttt,,,,,
میر ہادی جھنجھلایا۔ لاؤنج سے گزر کر اپنے روم تک آیا۔ روم میں مسکراتا داخل ہوا تو مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔ کیونکہ روم خالی تھا۔
اففف بولا بھی تھا کہ میرے آنے تک چینج مت کرنا، اس نے ڈریسنگ کے دروازے کو ناراضگی سے گھورا۔ اور اپنا بھیگا کوٹ اور شرٹ اتاری۔
پانچ منٹ ، دس منٹ، وہ بھنا کر ڈریسنگ کی جانب بڑھا مگر وہ بھی خالی تھا دوڑ کر واش روم تک گیا مگر وہ بھی خالی۔ میر ہادی کا سر چکرایا تھا۔
لیزااااااااااااا،،،،،، اس نے زور سے پکارا۔ ایک طوفان گھر کے باہر تھا اور ایک اب میر ہادی کے دل میں اٹھ چکا تھا۔ بھاگ کر باہر لاؤنج میں آیا تھا۔ ہلکے ہلکے اس کی دی گئی پائل کے گھنگھرو کی آواز باہر پچچھلے لان سے آئی۔
وہ جو اتنے دن سے بارش کے لئے مچل رہی تھی آج میر ہادی کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موسلا دھار بارش میں بھیگنے کا شوق پورا کر رہی تھی۔ اوپر سے دوپہر سے شدید قسم کے حبس سے گھبراہٹ سی ہو رہی تھی سو جب بارش شروع ہوئی تو وہ چپکے سے پچھلے لان میں نکل آئی تھی۔۔
میر ہادی پچھلی جانب کا دروازہ کھول کر باہر برآمدے میں آیا تھا۔ میکس برآمدے کی ہی اوٹ میں کھڑا ہو کر بھونک کر اپنی خفگی ظاہر کر رہا تھا اور دم ہلا ہلا کر اسے اندر آنے کا بول رہا تھا مگر وہ تو کسی اور ہی دنیا کی سیر کو نکلی ہوئی تھی۔ ہاتھ پھیلا کر پرآمدے کی جانب پیٹھ کیے آنکھیں بند کر آسمان کی جانب چہرہ اٹھائے کھڑی تھی۔ سکارف سے بے نیاز، لباس گیلا ہو کر بدن سے چپکا ہوا تھا۔ گیلے بال کمر پر چپکے ہوئے ہوا سے لہرا رہے تھے اور اب وہ ٹھنڈ سے کپکپا بھی رہی تھی۔
میر ہادی کی ریڑھ کی ہڈی میں سنساہٹ ہوئی وہ دبے قدموں برآمدے سے اتر کر اس کی جانب بڑھا۔
نو میکس،، جتنا مرضی بولو، میں اندر نہیں آؤں گی ، تم نے باہر آنا ہے تو آجاؤ،، میکس پل بھر کو خاموش ہوا تھا۔
ہادی اب اس کی پشت کے قریب کھڑا تھا۔اب پیچھے جانی پہچانی آہٹ پا کر لویزا کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے اور جان تو تب نکلی جب اس کے دہکتے ہاتھ کمر کے گرد لپٹتے محسوس ہوئے۔
“اس گستاخی کا مطلب،، کان میں سرسراتی سرگوشی نے لویزا کی سانس اٹکائی تھی۔ ایک جھٹکے سے لویزا کی کمر اس کے دہکتے سینے سے ٹکرائی تھی۔
پچھلی گردن پر جب اس کے سفر کرتے اور بارش کی بوندے چنتے ہونٹ محسوس ہوئے تو لویزا نے زور سے آنکھیں بند کی تھیں۔
(اب تو میکس بھی ان دونوں کو دیکھ سکون سے ایک سائیڈ ہو کر بیٹھ گیا جیسے جانتا ہو کہ اب فکر کی کوئی بات نہیں )
میر ہادی نے جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب موڑا تھا۔ کمر پر گرفت مضبوط تھی۔ لویزا نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔ وہ ٹھنڈ سے لرزنے لگی تھی۔
میر ہادی کی نگاہیں بھٹک رہیں تھیں اور لویزا کے لئے زندگی کا سب سے مشکل کام اب اس کی لپکتی آنکھوں میں دیکھنا اور ان میں لکھے پیام کو سمجھنا تھا۔
کیوں بھیگ رہی ہو بیمار ہو گئی تو،،
وہ ہا،،، ہادی،، گگ،، گرمی لگ رہی تھی تو،، اس کا دل کیا کہیں چھپ جائے جا کر۔ کمر سہلاتے اس کے ہاتھ اسے تپش پہنچا رہے تھے۔
اور اب کانپ کیوں رہی ہو،، سنجیدگی سے سوال پوچھا گیا۔ سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی نے ماتھے سے گردن تک کا سفر طے کیا تو لویزا کی جان ہوا ہوئی۔
اب سس،، سردی لگ رہا ہے،، وہ روہانسی ہوئی۔
مگر مجھے تو بارش کے قطرے نہیں پیٹرول کے چھینٹے محسوس ہو رہے ہیں جنھیں آگ دکھائی گئی ہو،، بہکا سا لہجہ تھا میر ہادی کا اس کی گردن سے گیلے بال پیچھے کر پھر بارش کے قطرے اپنے لبوں سے چنے۔
ہادی مم،، مجھے اندر جانا ہے،، وہ رونے والی ہوئی۔
یو نو واٹ،، ایلو جان، ایک طوفان تو اپنے وجود پر جھیل چکی ہو مگر اب سامنے کھڑے اس طوفان کو جھیلنا ہے تمھیں،،
نو،، وہ جھلائی اور اسے پیچھے ہٹانا چاہا،
یس،، وہ مدہوش ہوا۔
اس طوفان کو کس نے دعوت دی کے باہر آئیں،، وہ جھنجھلائی۔
تم خود الجھی ہو،، اب جھیلنا تو پڑے گا میری جان،،اس عشق نے جو میرے سینے میں آگ بھڑکائی ہوئی ہے وہ میں آج تمھارے وجود میں منتقل کر دوں گا ،،دھیمے بھاری گھمبیر لہجے میں کہتے اس کے کندھوں سے اپر سرکائی۔
ہوا کا ایک یخ بستہ جھونکا جسم سے ٹکرایا تو لویزا مزید اس کے سینے میں سمائی۔
میر ہادی نے اس کے چہرے کہ ایک ایک نقش کو چوما۔
ہادی،، وہ، وہ دیکھ رہا ہے،، لویزا کی جان فنا ہوئی تھی۔
کون،، ہادی چونکا۔
مم،، میکس،، وہ بے حال ہوئی۔ میر ہادی اس کی اس بے تکی بات پر مسکرایا۔ جانتا جو تھا وہ اس کا دھیان بھٹکانے کو چھوٹی سی سٹوپڈ سی کوشش کر رہی ہے۔
کچھ بول تو نہیں رہا نا، اسے بھی معلوم ہے کہ پاکیزہ بندھن میں بندھے محبت کرنے والے دو پیاسے دل مل رہے ہیں،، یہاں تو نور برس رہا ہے، اسے کیا اعتراض ہوگا،،
ملاوٹ ہے تیرے عشق میں عطر و شراب سی
کبھی مہک جاتا ہوں،،،،،، کبھی بہک جاتا ہوں
اس کے کانپتے نیلے پڑتے ہونٹوں پر نگاہ اٹھی تو میر ہادی مچل ہی گیا ۔ نگاہیں تو بار بار بھٹک رہی تھی بہک رہی تھی ۔ اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔ محبت کا جام شدت سے پینے لگا۔ پہلے بھی اس کے پیار میں جنون اور دیوانگی ہوتی تھی مگر آج تو بارش نے جیسے بےچین دلوں میں آگ ہی بھڑکا دی تھی۔ تبھی لویزا کے نازک لب پر کٹ آیا تو وہ مچل ہی گئی۔
میر ہادی نرمی سے پیچھے ہٹا تھا۔
ہادی،، وہ گہری سانس بھرتی بس اتنا ہی بول پائی۔
آئی لو یو سو مچ لیزا،، لویزا کا مہکتا بھیگا وجود بانہوں میں بھرا۔ اس کے تیور دیکھ آج لویزا کی جان لبوں پر آئی تھی گھبرا کر اس کی گردن میں منہ دیا۔
وہ اسے لئے اندر کی جانب بڑھا تھا۔ اندر آ کر اس نیچے اتارا۔
ہادی،،
یس ،،ہادی کی جان،، میر ہادی نے اسے خود میں سمیٹا۔
آپ بب،،، بہت پاگل ہیں ،، اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر کے اس کے کسرتی چوڑے سینے میں منہ دیا۔
تم نے ہی کیا ہے، میری جان اب مجھ سے گلا کیسا،، وہ بھی گھمبیر لہجے میں بولتا اس کی قربت میں ڈوب گیا۔
بھیگی سی اس مہکتی برستی رات میں میر ہادی نے اس کے وجود پر آج پھر اپنے جنون کی داستان لکھی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ بس ارادہ ہی کرتی رہ گئی مگر وہ میر حویلی جو اسے کاٹنے کو دوڑتی تھی۔ چاہ کر بھی یہاں سے واپس میر حویلی نہیں جا پائی تھی۔
دل پر ایک وحشت سی طاری تھی۔
اب بھی رات کا گہرا سناٹا طاری تھا۔ بس آسمان گرج چمک کر آج برسا تھا۔ اور ایسا برسا تھا کہ اپنے ساتھ بختاور کو بھی پگھلا کر برسا ڈالا تھا۔
تمام۔جزبات، احساسات، انگڑائی لے کر بیدار ہوئے تو نارسائی کا دکھ، بے وفائی کا عذاب، خالی پن کا روح کو چھلنی کرتا کرب آج وہ شمار کرنے بیٹھی تو پتا چلا اس کے دامن کے حصے میں تو خساروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔
پہلے تو کھڑکی سے باہر دیکھتی رہے۔ مگر حلق میں پھندا سا لگ کر جب سانس لینا بھی دوبھر ہو گیا تو بالکونی کا دروازہ کھول کر باہر بالکونی میں چلی آئی۔ بارش کی تیز ایک ہی بوچھاڑ نے اسے بھگو دیا تھا۔ وہیں فرش پر بیٹھ کر گھٹنوں میں منہ دئیے اپنے قیمتی موتی اس بےمہر کے لئے رائیگاں کرتی رہی تھی۔
جب یوں محسوس ہوا کہ کسی کی گہری نگاہوں کے حصار میں ہے۔ چونک کر سر اٹھایا تو وہ سامنے ہی بالکونی کی ریلنگ پر ہاتھ باندھے کھڑا اسے ہی بغور دیکھ رہا تھا۔
وہ واپس گھٹنوں میں منہ دے گئی اور دوبارہ رونے کے شغل فرمانے لگی۔
وہ دھیمے سے چلتا اس کے قریب آ کر بیٹھا۔
میری بربادی کا تماشہ دیکھنے آئے ہو ،، وہ بھیگی آواز میں پھنکاری۔
فی الحال تو اپنی بربادی کا تماشہ دیکھ رہا ہوں،، افراسیاب سنجیدگی سے بولا۔
دفع ہو جاؤ، وہ غرائی۔
کاش ہو سکتا،، ٹھنڈی آہ بھری گئی۔
مجھے میرے حال پر چھوڑ دو،، جلے دل سے وہ کرلائی۔
ابھی تک تمھیں تمھارے حال پر ہی چھوڑ کر دیکھا تھا ۔ کیا ہوا؟ ہو گئی نا بے حال، اب نہیں چھوڑنے والا،، وہ مبہم سا اپنے ارداے بتانے لگا۔
مر جاؤ افراسیاب،، وہ پھنکاری
اسی دن مر گیا تھا جس دن تم نے مجھے چھوڑ کر اس کا انتخاب کیا،، وہ پھر شکوہ کر بیٹھا۔
مشورہ تو مانگا تھا کمینے انسان،، وہ دانت پیس کر غرائی۔
اونہہہہ،، اچھا ہوا نہیں دیا، دیکھو نتیجہ توقع کے برخلاف نکلا ہے،، تو اب تم سارا الزام میرے مشورے کے سر لگا دیتی،، وہ اطمینان سے بولا۔
مجھے منع کر دیتے،، بختاور نے شکوہ کیا۔
کیا تھا،، بھول گئیں،، جواب شکوہ آیا۔
تھپڑ لگا دیتے،، مشورہ دیا گیا۔
اب لگاؤں شاید ہوش آ جائے،، وہ دانتوں تلے لب دبا کر بولا۔
دونوں بھیگ رہے تھے مگر یہاں پرواہ کسے تھی۔ اس کی بات پر بختاور کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
تم تھپڑ مارو گے مجھے،، وہ پوچھ بیٹھی۔
موقع تو دیتی، کبھی گلاب کی پنکھڑی سے بھی تکلیف نا پہنچنے دیتا، کانٹے تو دور کی بات ہے،، وہ دھیمے گھمبیر لہجے میں بولا تو بختاور پھر موم بن کر پگھلی۔
اس کے کندھے پر سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
پھر تو ،،،،،تمھیں مجھ پر،،،، ترس آتا ہوگا،،،،،، کہ میں نے،،،، اپنا دامن،،،،، کانٹوں سے ،،،،بھر لیا،، وہ رونے کے دوران اٹک اٹک کر بولی۔
افراسیاب نے اس کے ٹھنڈے یخ بستہ ہاتھ پر اپنا پر تپش ہاتھ رکھا۔
نہیں ترس نہیں آتا اب بھی پیار ہی آتا ہے،، وہ سکون سے بولا مگر ادھر بختاور کے پیروں نیچے سے زمین ضرور کھینچی تھی اب اسے اپنی بے اختیاری کا بھی احساس ہو چلا تھا تبھی جھٹکے سے اٹھ کر خود کو کمرے میں بند کیا تھا۔ اور پھر بے تحاشا رو دی تھی۔ وہ ڈھیٹ بنا وہیں بیٹھا رہا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
