Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

دل و نگاہ میں، بانہوں میں بھر لیا جائے
کسی طرح تجھے محفوظ کر لیا جائے

تمہارا ساتھ ملا ہے تو پھر ضروری ہے
کہیں ستاروں کے جھرمٹ میں گھر لیا جائے!

یہاں آئے آج ان کا دوسرا دن تھا۔ ایک دوسرے کی سنگت و قربت میں ہر دن عید اور ہر رات شب برات تھی جیسے۔ وہ آس پاس کی ساری جگہیں گھوم چکے تھے۔ مگر ڈھلتی دوپہر کے ساتھ لویزا کی طبیعت زرا بوجھل سی ہوئی تھی۔ اسی لئے میر ہادی اس کی طبیعت کو لے کر سخت حساس ہو گیا تھا۔
وہ جہاں گھومنے آئے تھے وہاں عالی، اجالا اور ہادی نے ہورس رائڈنگ کی تھی۔ لویزا کو بھی دیکھ کر شوق ہوا مگر میر ہادی نے اسے سختی سے منع کر دیا۔ پھر وہ بتہیرا اصرار کرتی رہی مگر میر ہادی یہ کہہ کر ٹس سے مس نا ہوا کہ پہلے سے اس کی طبیعت خراب ہے۔ وہ اس کو لے کر کوئی رسک نہیں لینے والا تھا۔ لویزا سخت قسم کی ناراض ہوئی تھی اس سے۔

ادھر عالی کو ایک لڑکی کے ساتھ جان بوجھ کر فری ہوتے دیکھ اجالا کا پارہ ہائی ہوا تھا۔
وہ دونوں پیر پٹختی ان کے ساتھ آئے بغیر فارم ہاؤس لوٹ آئیں تھیں۔۔ اور آ کر اپنے اپنے روم کی بجائے ایک تیسرے روم میں بند ہو چکی تھیں۔۔
وہ دونوں معنی خیز مسکان لیے ان کے پیچھے چلے آئے تھے۔

اپنے اپنے روم میں انھیں نا پاکر وہ ٹھنڈی آہیں بھرتے ان کے پیچھے چلے آئے تھے۔
ایک دوسرے کی جانب دیکھا میر ہادی نے کندھے اچکائے۔
لیزا،،، میر ہادی نے روم میں کے اندر آ کر پکارا۔
واٹ از دس یار، چلو اپنے روم میں آؤ، پہلے ہی طبیعت ٹھیک نہیں،،
اتنے میں ہی وہاں عالی چلا آیا۔ اجالا چلو اپنے روم میں،،
نو ہم نہیں آئیں گے، جائیں آپ لوگ، اج ہم اسی روم میں سوئیں گے،، اجالا نے لٹھ مار انداز، اپنایا۔
کیوں،، عالی نے آئبرو اچکائی۔
ہماری مرضی،، جواب لویزا کی جانب سے آیا۔ ۔ایلو،، روم میں چلو نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا،، ہادی نے وارننگ دی۔
نہیں تو کیا کریں گے آپ لوگ،، لویزا بھی کہاں دبنے والی تھی۔
پھر ہم جو کریں گے شاید تم لوگوں کو پسند نا آئے،، میر ہادی نے دانتوں تلے لب دبایا۔
رائٹ اگر تو یہ چیلنج ہے تو ہم ایکسیپٹ کرتے ہیں، جو مرضی کریں آپ لوگ، ہم اس روم سے باہر نہیں نکلنے والے،، اجالا نے کہا۔
ان دونوں نے ایک دوسرے کی جانب معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔ اور باہر نکل آئے۔۔
عالی تمھارے پاس وہ نمبر ہے،، ہادی نے دانستہ اونچی آواز میں کہا۔

لویزا اور اجالا کے کان کھڑے ہوئے تھے۔ وہ دونوں جا چکے کچھ دیر بعد ہی باہر سے پائلوں کی جھنکار کی آواز سنائی دی۔ وہ بے تحاشا متجسس ہوئیں۔ اس کے بعد تیز میوزک اور لاؤنج سے آتی آوازوں نے ان کے ہوش اڑائے تھے۔
لویزا یہ لوگ کیا لڑکیوں کے ساتھ ہیں،، اجالا کے پیٹ میں بل پڑے۔
پتہ نہیں شاید،، لویزا نے بھی ناخن چبائے۔
کافی دیر برداشت کرتی رہیں مگر آوازیں ہنوز آتی رہیں۔
لیزا جا کر دیکھیں آخر ہو کیا رہا ہے وہاں؟
یار نہیں جا سکتے باہر،، لویزا جھنجھلائی۔
مگر یہ آوازیں،، اجالا نے کھڑی سے باہر جھانکا۔۔
تجس کے مارے ان سے رہا نہیں جا رہا تھا۔ بے حد ناراضگی جتاتے ہوئے چیلنج کر تو لیا تھا ان سے کہ آج دونوں نے انھیں منہ نہیں لگانا اور اس روم سے باہر نہیں نکلنا کسی صورت ،، مگر رات کے گیارہ بجے لاؤنج سے آتی پائلوں کی جھنکار ، تیز میوزک اور میر ہادی اور عالی کے قہقہوں کی آوازوں سے وہ سخت جھلا رہیں تھیں۔

لیزا یار، اگر وہ واقعی لڑکیوں کے ساتھ ہوئے تو ،،، اجالا نے بے چینی سے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخائیں۔
تو پھر ہادی کو آج رانا لویزا میر ہادی سے تو اللہ ہی بچائے، وہ دانت کچکچاتی اجالا کا ہاتھ تھامے باہر نکلی۔ پہلے رخ کچن کا کیا ادھر سے بیلن اٹھا کر لائی پھر لاؤنج کی کھڑکی کی جانب گئی۔ چپکے سے جھانک کر دونوں نے اندر دیکھا تو دونوں کی آنکھیں حیرت و صدمے سے پھیل گئیں تھیں۔
اندر کا منظر ہی کچھ ایسا تھا۔
وہ دو لڑکیاں تھیں جو ملٹی کلر لہنگے پہنے گھونگھٹ نکالے پیروں میں پائلیں پہنے ناچنے میں مصروف تھیں۔ اور ان کے ساتھ ساتھ وہ دونوں ہلکے ہلکے ڈانس سٹیپ کر رہے تھے۔

چولی کے پیچھے کیا ہے،،،
چنری کے نیچے کیا ہے،،،،،،

لویزا اور اجالا کے تو تلوؤں پر لگی سر پر بجھی تھی۔ طیش کے عالم میں اندر داخل ہوئیں تھیں اور بیلن سے ان کی ہڈی پسلی سینکتے ہوئے اچھی طرح بتایا تھا کہ چولی اور چنری کے نیچے کیا ہے۔۔؟
وہ دونوں پہلے تو ہکا بکا کھڑے دیکھنے لگے مگر پھر لاؤنج میں چھت پھاڑ قہقہے گونجے تھے۔

جبکہ اجالا اور لویزا نے معصوم دوشیزاؤں کے گھونگھٹ پلٹے تو چولی کے پیچھے اور چنری کے نیچے ان کی یہ لمبی لمبی مونچھیں دیکھ کر دونوں کی چیخ ہی نکلی گئی۔ کیونکہ وہ بیچارے سکیورٹی گارڈ تھے جو میر ہادی کے عتاب کا نشانہ بنے تھے۔ اپنی کمر سہلاتے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ وہ دونوں پیٹ پکڑے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔
وہ خجالت کے مارے سرخ ہوتی وہاں سے واپس بھاگنے کی تیاریوں میں تھیں مگر ان کی یہ کوشش ان دونوں نے ہی ناکام بنائی تھی۔
کہاں بیگم، چیلنج ہار چکی ہیں،، عالی نے اس کی کلائی تھامی۔اور جھٹکے سے بازوؤں میں اٹھایا۔
عالی یہ کیا بدتمیزی ہے،، وہ چلائی ہی تھی جب اسے لویزا کی ہلکی سی چیخ سنائی دی۔ کیونکہ اسے بھی میر ہادی بازوؤں میں بھر چکا تھا۔ اجالا اور لویزا کا دل کیا ماتھا پیٹ لیں کہ کن بدتمیزوں اور ڈھیٹوں سے پالا پڑا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اپنے روم میں لا کر اسے بیڈ پر نرمی سے اتارا تھا۔
لویزا نے اسے ناراضگی سے گھورا۔
واٹ،، نگاہوں سے ہی قتل کرنے کا ارادہ ہے کیا جان،، ہادی نے شرارت بھرے لہجے میں کہا اور اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔
ہادی اس وقت وومٹ ہو رہی تھی، مجھ سے کھانا سہی طرح نہیں کھایا گیا اب مجھے بھوک لگ رہی ہے،، وہ روہانسی ہوئی۔
اوہہہہہ،،، کھانا گرم کر کے لاؤں؟
نو، مجھے کھانا نہیں کھانا،، اس نے پھر بری سی شکل بنائی۔
فاسٹ فوڈ آرڈر کروں؟ ہادی نے آپشن دیا۔
نہیں،،
آئسکریم؟
نو،،
جوس،؟
ہر گز نہیں،،
دودھ،؟
بلکل بھی نہیں،، گندی سی شکل بنائی میر ہادی کو ہنسی آئی۔ جب سے پریگننٹ ہوئی تھی ڈائٹ کے معاملے میں یونہی تنگ کر رہی تھی۔ ہر وقت بس کھٹی اور چٹ پٹی چیزیں۔ مگر میر ہادی بڑے تحمل سے اس کو ہینڈل کر رہا تھا۔
میرا بابو پھر کیا کھائے گا،، میر ہادی نے گہری مسکان لیے اس کو بازوؤں میں بھرتے پوچھا۔
آپ کا سر،، وہ جھلائی۔
سر ہی کیوں، پورے کے پورے کو کھا لو جان،، افففف بھی نہیں کروں گا،، لہجہ صاف شرارت بھرا تھا۔۔
ہادی پلیز تنگ مت کریں،، وہ جھنجلائی۔
اوکے میری جان شاید چاکلیٹ کھائے گی،، رائٹ وہ اپنے کوٹ کی پاکٹ سے بگ سائز چاکلیٹ نکالتا بولا۔ جسے دیکھ کر وہ کھل گئی۔
آپ کو کیسے پتہ مجھے چاکلیٹ چاہیے تھی،، اس نے چاکلیٹ پکڑ کر جلدی سے ریپر کھولا۔
میر دل تو تمھارے سینے میں دھڑکتا ہے میری جان،، وہ مسکرایا۔

وہ آدھی سے زیادہ چاکلیٹ کھا چکی تھی جب میر ہادی نے اسے یونہی تنگ کرنے کو کہا۔
ایلو ٹیچر نے کچھ شئرنگ وئرنگ کا نہیں سکھایا تھا یار،،
بلکل کڑوے کریلے،، سکھائی ہے شئیرنگ،، وہ اینان سے بولی۔
تو لاؤ دو، آئبرو اچکائی۔
اپنے بےبی کے ساتھ شئیر کر رہی ہوں،، وہ پھر سکون سے بولی۔میر ہادی نے اسے گھورا۔ اب لاسٹ بڑی سی بائٹ رہ گئی تھی۔
ایلو شرافت سے دے دو ورنہ چھین لوں گا،، میر ہادی نے کہتے فنگر اٹھا کر وارن کرنا چاہا۔ مگر
اوووووووووو،،، میں تو ڈر گئی، ہمت ہے تو چھین کے دکھائیں، یہ کہتے اس نے وہ بائٹ منہ میں ڈالی تھی۔
پر سامنے بھی بے شرم میر ہادی تھا اس سے پہلے کو وہ چاکلیٹ چبا کر نگلتی میر ہادی نے تیزی اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اس کے ہونٹوں کو اپنی دسترس میں لیا تھا۔ لویزا کی آنکھیں حیرت سے پھیل چکیں تھیں۔
بہت جلد میر ہادی کو چاکلیٹ کا ذائقہ اپنے منہ میں گھلتا محسوس ہوا۔
لویزا نے اسے کے سینے پر مکے برسائے تھے۔ وہ چھت پھاڑ قہقہہ لگاتا دور ہٹا۔ وہ نڈھال سی ہو کر تکیے پر گری۔
ہادی بہت بدتمیز اور گندے ہیں آپ،، لویزا نے تکیے اٹھا کر اس کے سر میں دے مارا تھا۔
اب پتہ چلا میری جان کو،، مخصوص ڈائلاگ بول کر ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اگلے دن وہ ایبٹ آباد کی قدیم ترین مسجد الیاسی مسجد گھومنے گئے تھے۔جس کے قریب پہاڑوں سے ایک میٹھے پانی کا چمشہ بہہ رہا تھا اور یہ منظر ایک خوبصورت تریں منظر اور قدرت کا ایک شہکار تھا۔

اجالا اور عالی اپنی ہی دنیا اور نوک جھونک میں مصروف تھے۔ میر ہادی اس کے لئے قریبی شاپ سے جوسے لینے گیا تھا۔ وہ کھڑی بہتے چشمے کو دیکھ رہی تھی۔
لویزا،،، شدید حیرت میں ڈوبی ایک مردانہ جانی پہچانی سی آواز سنائی دی تو وہ جھٹکے سے پیچھے مڑی تھی۔ پیچھے ایک اجنبی کو خود کو حیرت و صدمے سے دیکھتے پایا۔
لویزا تم زندہ ہو، یہ کوئی خواب ہے او میرے خدایا، میں ظفر،، پہچانا نہیں لویزا، تم کہاں چلیں گئیں تھیں ہمیں چھوڑ کر ،، مجھے چھوڑ کر،، ظفر حیرت سے گنگ اسے دیکھے گیا۔ بہت ناقابل فہم تھا ۔ یقین کرنا چاہتا تھا کہ وہ اس کے سامنے ہے تبھی لویزا کی کلائی نرمی سے تھامی تھی۔
وہ بھی تو حیرت سے اسے پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی کیونکہ شکل و صورت اور آواز کافی جانی پہچانی لگ رہی تھی۔
آپ،، اس سے پہلے وہ کچھ کہتی
ہیے یو،، ہاؤ ڈئیر ٹو ٹچ مائی وائف،، میر ہادی جو جوس لے کر واپس آیا تھا سامنے کے منظر نے اسے سر تا پا جھلسا ڈالا تھا اس لئے اس کی دھاڑ سے پورا ایریا گونج اٹھا تھا۔ جھٹکے سے آ کر سامنے والے کی گرفت سے لویزا کی کلائی چھڑائی تھی۔
آپ بات سنیں میری ،، اتنے ہائپر کیوں ہو رہے ہیں، یہ کزن ہے میری، میں جانتا ہوں اس کو یہ اقبا،،،
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ،، جانتا ہوں میں تم جیسوں کو فری ہونے کی کوشش کر رہے ہو، ٹچ بھی کیسے کیا اسے،، وہ چلا کر جان بوجھ کر اچھا خاصا تماشہ لگا چکا تھا۔ اجالا نے قریب آنا چاہا مگر عالی نے اسے بازو سے دبوچ کر روک لیا۔ ایک مرتبہ پھر اجالا ان دونوں دوستوں کی خود غرضی پر کلس کر رہ گئی۔
ہادی یہ مجھے جانتے ہیں شاید،، کوئی بدتمیزی نہیں کر رہے تھے، ان کی بات تو سنیں،، لویزا منمنائی۔
لیزا تم نہیں جانتی ان جیسوں کو،، وہ ظفر کو بھیڑ میں چھوڑ کر تیزی سے اسے لئے باہر نکلا تھا۔ لوگ ظفر کو لعن طعن کرنے میں مصروف تھے۔ اس نے بھیڑ سے نکل کر لویزا کے پیچھے نکلنا چاہا مگر نکل نا پایا۔
ہادی ایک دفعہ اس کی بات تو سن لیتے، اس نے خود سے میرا نام پکارا،،
ہمارے ہی منہ سے سن لیا ہوگا لیزا، تم بہت معصوم ہو ،،نہیں جانتی لوگوں کو،، وہ جبڑے بھینچ کر بولتا وہاں سے گاڑہ نکالتا چلا گیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

یہ حسین دن ،، قیمتی پل کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا۔ ایک ہفتے کے بعد وہ واپس آئے تھے۔
میر ہادی اسے لیے میر لاج ہی واپس آیا تھا۔
اب وہ اسے باہر لے جا کر کسی بھی قسم کا راک نہیں لینے والا تھا۔
کسی قیمت پر اسے کھو نہیں سکتا تھا کبھی اسے خود سے دور نہیں کر سکتا تھا ایسی سوچ ہی سوچتے اس کی سانس اٹکنے لگی تھی۔
آتے ساتھ ہی میکس لویزا کے پاؤں میں لوٹنے لگا تھا۔
او مائی کیوٹی پائی میں نے تمھیں بے حد مس کیا،، ڈو یو مس می ٹو،،،،، لویزا میکس کے لاڈ اٹھانے میں مصروف تھی۔
جب میر ہادی کا فون بجا۔
وہ فون لیے ایک سائڈ پر گیا تھا۔ رانا میر دراب کا فون تھا۔
وہی ایک ہی تکرار سن سن کر اب وہ اکتا چکا تھا۔ بس نا چلتا تھا خود کو اور لویزا کو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہی کر دے۔
اب بھی میر دراب لویزا کو حویلی لانے کی بات کر رہے تھے۔ جبکہ وہ گاڑیوں کے شورومز کی چین کی شروعات کر چکا تھا۔ سیاست میں رتی برابر بھی دلچسپی نہیں تھی اسے۔
بابا سائیں کتنی مرتبہ بولوں آپ سے کہ میں اسے حویلی ہر گز نہیں لاؤں گا تو کیوں ضد کرتے ہیں،،اور یہ یقیناََ دادا سائیں آپ کو فورس کرتے ہیں تب آپ مجھے فون کرتے ہیں،، ہیں ناں،، وہ کتاہٹ بھرے لہجے میں بولا۔
لویزا اس کی گوہر افشانی بخوبی سن رہی تھی۔

تو جب جانتے ہو میر ہادی تو مان کیوں نہیں لیتے ان کی بات، وہ چاہتے ہیں کہ بچے کی پیدائش،،
آپ لوگ اس کی پیدائش کی فکر چھوڑ کیوں نہیں دیتے آخر،، اس کی فکر کرنے کو اس کا باپ ہے،، آپ لوگ پلیز مجھے سکون سے رہنے دیں، اور جب دل چاہے آ کر مل لیا کریں، مگر میں حویلی نہیں آؤں گا،، جھنجھلا کر کہتے اس نے فون کٹ کیا تھا۔
آپ بابا کی بات مان کیوں نہیں لیتے، لویزا نے قریب آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔
میں تمھارے معاملے میں کسی پر بھی ٹرسٹ نہیں کرنا چاہتا، اپنے گھر والوں پر بھی نہیں ، نرمی سے کہتے اس کا بازو تھام کر اندر کی جانب بڑھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

وہ دکان کے کسی کام سے ایبٹ آباد گیا تھا۔ اور وہاں یہ سب ہو گیا ۔ ابھی تک اعتبار کرنا مشکل تھا کہ وہ لویزا اقبال ہی تھی۔ مگر اس کے نام پکارنے پر تو پلٹی تھی۔
ممتاز بیگم کو ساری بات من و عن بتاتے ہوئے وہ پھر اپنے نصیب کو رویا تھا۔
آپ کہتی تھی امی کے صبر کرو، مگر مجھے صبر نہیں آیا، آتا بھی کیسے؟ صبر تو مرے ہوؤں پر آتا ہے، زندہ لوگوں پر نہیں آتا، کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا امی، اور وہ مجھے پہچان کر بھی پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی، مجھے لگتا ہے امی اس ایکسڈینٹ میں اس کی یاداشت چلی گئی، اور اس امیر زادے نے اس چیز کا فائدہ اٹھایا ہو گا،میں چھوڑو گا نہیں اسے، وہ پتہ نہیں کس حال میں ہو گی، اب میں اپنی لویزا کو واپس لاؤں گا، ہر قیمت پر، اسے ڈھونڈ کر اسے سب یاد کرواؤں گا،
وہ جھٹکے سے اٹھ کر باہر نکل گیا اور ممتاز بیگم نے اپنا سر پکڑ لیا۔

مگر وہ نہیں جانتا تھا یہ اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ اب تو وہ ایک حسین خواب ہی تھی جس کی تعبیر اس کی دسترس سے کافی دور تھی۔

ہوا بھی یہی کتنے دن، مہینے گزر چکے تھے اسے نگر نگر کی خاک چھانتے مگر لویزا نے نہیں ملنا تھا نہیں ملی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️