Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

غنودگی میں جاتے ہی کئی چہرے اس کی نگاہوں سے سامنے آئے تھے۔
بابا مجھے آپ کے پاس آنا ہے،، لویزا چلائی۔
نہیں،،لیزا واپس جاؤ، ابھی کہ ابھی،، سامنے والے نے اسے بری طرح جھڑکا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

قابل رحم ہے حالت میری
دیکھنے آؤ تو رلاؤں تمہیں

ادھر باہر وہ ہارے جواری کی طرح جیسے سب کچھ لٹا کر اور ہار کر آپریشن تھیٹر کے باہر بھیگی پلکیں لیے کھڑا تھا۔ لہو چھلکاتے چہرے اور آنکھوں سے پے پناہ وحشت ٹپک رہی تھی۔ دل اپنی جگہ بلکل خاموش تھا۔
پاس ہی عالی اور اجالا بیٹھے تھے۔
آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آئیں تھیں۔۔
Congratulations,,,
مسٹر رانا، بیٹا ہوا ہے آپ کا،، ڈاکٹر حنا نے قریب آ کر کہا۔۔
ڈاکٹر میری وائف،، (کاش اس وقت وہ بول سکتا ڈاکٹر میری لائف)
ان کی طبیعت اسٹیبل نہیں ہو رہی ہے، خون تو پہلے ہی بہت زیادہ بہہ چکا تھا مگر شکر ہے عین وقت پر بلڈ کا انتظام ہو گیا،مگر اب بھی وہ آپریشن کے بعد ہوش آنے پر پھر روئے جا رہی ہیں، بلیڈنگ بھی معمول سے زیادہ ہو رہی ہے، بی پی خطرناک حد تک لو ہو چکا ہے، اور ایسی کنڈیشن میں ڈاکٹر پیشنٹ کی جان بچانے کو یوٹرس ہی نکال دیتی ہیں، جو بلڈ نچڑ کر پیاز کی پرت سے بھی زیادہ باریک ہو چکی ہے، آپ سمجھ رہے ہیں ناں میری بات، جائیں بات کریں ان سے اور جو بھی پرابلم ہے اسے سورٹ آؤٹ کریں،، انھیں ریلیکس کریں، کسی بھی طرح، نہیں تو ان کی جان بچانے کو دوسرا طریقہ اختیار کیا تو پھر دوبارہ کبھی ماں نہیں بن پائیں گی آپ کی مسز،، ڈاکٹر نے سنجیدگی سے تمام صورت حال بتائی۔
شدتِ ضبط اور بھنچے ہوئے جبڑوں کے باجود ایک باغی سا آنسو تھا جو پلکوں کی باڑ توڑ کر گال پر پھسل آیا تھا۔

ڈاکٹر میں بات کرتی ہوں اس سے، ویسے تو وہ اپنے مرے ہوئے باپ کو اب رو رہی ہے ، خاموش نہیں ہوگی،مگر میں ایک کوشش کرتی ہوں،، اجالا ہی میر ہادی کی حالت سمجھتی اپنی جگہ سے اٹھی تھی کہ وہ تو اس قدر مجبور تھا کہ اسے تسلی بھی نہیں دے سکتا تھا۔ ہاں مگر ایک زخمی سی نگاہ میر ہادی پر ضرور ڈالی تھی جیسے کہنا چاہتی ہو دیکھا میں نے کہا تھا ناں بہت برا ہوگا اس سے سچائی چھپانے سے۔

اسے ابھی انڈر آبزرویشن رکھا گیا تھا۔ اجالا آئی سی یو میں آئی۔ وہ غنودگی میں روئے جا رہی تھی۔
سسٹر نے ریڈ کمبل میں لپٹی ایک گلابی سی گھٹڑی اسے تھمائی تو اجالا مبہوت ہی رہ گئی۔
ہیے بےبی،، خالہ از ہئیر،، وہ واری صدقے گئی۔
سب سے پہلے بابا کی باری،، وہ اکسائٹڈ سی باہر آئی۔
میر ہادی جو آنکھوں پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ سیدھا ہوا۔۔ اور حیرت سے اجالا کی گود میں موجود اس گلابی سے ننھے منے وجود کو دیکھا۔ جو اب باریک سی آواز نکالے کڑوی سی شکل بنا کر رونے کی تیاری میں تھا۔ جیسے ماں کی طرح اس کی بھی کوئی ناراضگی ہو اپنے بابا سے اور بابا کی یہ میٹنگ اسے کچھ خاص پسند نا آئی ہو۔
میر ہادی نے اپنی محبت کے وجود سے بنے اس وجود کو دیکھ دنیا بھلا دی۔
اجالا نے نرمی سے اسے میر ہادی کی گود میں تھمایا۔ میر ہادی نے اسے باؤوں میں بھرا۔ عالی بھی اسے پرشوق نگاہوں سے دیکھتا قریب آ گیا۔
باپ بننے کا سکھ اور خوشی کیا ہوتی ہے کیا احساس ہوتا ہے، یہ وہ کبھی بھی الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔ خاص کر اپنی ہی کاربن کاپی کو اپنی ہی گود میں دیکھ کیا محسوس ہوتا ہے۔
باریک سی آواز میں چوں چوں سنی تو وہ چونکا جونئیر وڈیرا جی منہ بنا بنا کر اب رونے کا شغل فرمانے لگے تھے۔۔ وہ گھبرا ہی گیا۔
تبھی سسٹر نے آ کر اسے میر ہادی سے اپنی گود میں تھام لیا اور روم میں لے گئی۔

میر ہادی شیشے کے اس پار حسرت سے اسے دیکھے گیا۔
اجالا اندر اس کے بیڈ تک آئی تھی۔
لیزا،، لویزا،، اس نے لویزا کے گال تھپتھپائے۔ اس نے زرا سی آنکھیں کھولیں۔
وہ پھر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ اجالا اس کے سرہانے بیٹھ گئی۔ اسکا سر اپنی گود میں رکھا۔
لویزا صبر کرو،، پلیز،، کیوں اپنی جان ہلکان کر رہی ہو خاموش ہو جاو،، اجالا نے پیار سے اس کا سر اور کمر سہلائی۔
وہ روتے روتے مگر اب کچھ پرسکون ہو کر دواؤں کے زیرِ اثر گہری نیند میں گئی تھی۔ میر ہادی چپکے سے اندر آیا۔
اجالا نے میر ہادی کا دھواں دھواں چہرہ دیکھا، نرمی سے اس کا سر تکیہ پر رکھا اور کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی۔۔
وہ دھیمے شکستہ قدموں سے اس کے قریب آ کر بیٹھا۔
پیلے زرد چہرے، خشک ہونٹوں اور روئی سرخ آنکھوں میں کرب و اذیت کی آمیزش لیے وہ برسوں کی مریضہ لگ رہی تھی۔
پیاسی نگاہوں نے چہرے کا ایک ایک نقش چوما۔
ایلو میری جان،، دھیمے سروں میں سرگوشی کی جھک کر نرمی سے ماتھے پر تشنہ لب رکھے۔
بہت چھوٹا لفظ ہے سوری، لیکن پھر بھی کہنا چاہوں گا ائم سوری فار ایوری تھنگ میری جان،
اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھاما۔
ایک جانا پہچانا لمس اپنے وجود پر محسوس کر کے اس نے نیند میں بھی برا منایا اور ماتھے پر ہلکے سے بل نمودار ہوئے تھے۔
وہ اس کی ناراضگی کی اس شدت پر زخمی سا مسکرایا۔ اور کافی دیر اس کے قریب بیٹھا اپنی دید کی پہاس بجھاتا رہا کہ ہوش میں تو جانے وہ اس کے محبت بھرے دل پر کیا کیا قہر ڈھانے والی تھی۔

میر ہادی نے بےبی کی اطلاع ابھی کسی کو نہیں دی تھی نا یہ خبر لیک ہونے دی تھی۔ کہ اتنے نازک وقت میں جب اس کی زندگی محبت اور متاعِ کل داؤ پر لگی تھی اور لویزا کی اتنی طبیعت خراب تھی وہ کوئی شو شا ، جشن یا ہنگامہ آرائی نہیں چاہتا تھا جو یہ خبر ملنے پر اس کے باپ دادا پورا ہاسپٹل سر پر اٹھا کر مچا دیتے۔ تبھی اس نے بس حویلک پیغام بھجوایا تھا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں، مگر انھیں یہاں آنے سے سختی سے منع کر دیا تھا۔

♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥

آج تیسرا دن تھا اسے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا آج ہی وہ مکمل ہوش میں آئی تھی اور اب آنکھوں پر ہاتھ رکھے خاموش سی لیٹی ہوئی تھی۔
اتنے دن سے بےبی کی کئیر نرسز اور اجالا کر رہیں تھیں۔ لویزا پہلے تو ہوش میں ہی نہیں تھی مگر جب سے وہ ہوش میں آئی تھی اجالا نوٹ کر چکی تھی اس نے ایک بار بھی بےبی کی جانب نہیں دیکھا تھا۔ وہ جو کھڑکی کے باہر سنجیدگی سے کھڑا تھا اسے گہری نگاہوں سے آبزرور کر رہا تھا۔
اجالا کو اندازہ تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہی تھی یہ بھی اجالا اچھی طرح جانتی تھی۔
بےبی اب بھی اجالا کی گود میں تھا جب اجالا نے اسے آواز دی۔
لیزا یہ دیکھو بےبی کو،، کتنا کیوٹ ہے، بلکل تم پر گیا ہے، لو گود میں اٹھاؤ اسے،، ڈاکٹر نے کہا آج سے تم اسے فیڈ کرواؤ گی، آج سے،،
“اجالا اس کو اس کے باپ کے سپرد کر دو اور بولو اپنی اولاد لے اور جائے یہاں سے،، لویزا کے سرد وسپاٹ لہجے نے اجالا کو حیرت و صدمے سے گنگ کیا تھا۔
لویزا،،، وہ حیرت و صدمے سے اتنے ہی بول پائی کہ لویزا نے پھر اسے ٹوکا۔
اجالا جو کہا ہے وہ کرو،،
لیزا اس میں اس معصوم جان کا کیا قصور ہے، دیکھو تو سہی اس کی طرف، اجالا نے بےبی کو اس کے چہرے کے آگے کرنا چاہا۔

اذیت سے تڑپتے لویزا نے کروٹ ہی بدل لی۔ اور ایسا کرتے اس کی روح کانپ اٹھی تھی۔ وہ جسے دیکھے بغیر ہی ممتا سے چور اس سے بے تحاشا محبت کی تھی اس کے وجود کو لے کر لاکھوں سپنے نگاہوں نے بنے تھے۔ اب اسی سے منہ موڑنا تھا تو کلیجہ تو منہ کو آنا ہی تھا ناں۔
اولاد کا موہ بڑا جان لیوا ہوتا ہے، وہ جانتی تھی اگر ایک مرتبہ بھی اس ننھی جان کو دیکھ لے گی تو کبھی بھی، مر کر بھی اس سے دور نہیں جا پائے گی جبکہ اسے تو اس سے دور ہونا ہی تھا کہ لویزا نہیں چاہتی تھی کہ اولاد کی بیڑی اس کے قدم روکے اس کے قدم زرا سا بھی ڈگمگائیں، کیونکہ اسے تو اس شخص سے دور جانا تھا بہت دور۔۔

اوکے ٹھیک ہے میں اسے تھوڑی دیر کے لئے تمھارے پیروں کے قریب لٹا کر جا رہی ہوں،، سسٹر کو بلا کر لاتی ہوں، یہاں سے اس کا سامان پیک کرے گی، اجالا نے لاپروائی سے کہتے بےبی کو اس کے قدموں کے قریب لٹا دیا۔
اجالا اسے بھی ساتھ لے جاؤ،، لویزا کا خون نچڑ کر چہرے پر آیا۔
او کم آن لویزا اقبال، اتنی سنگدل مت بنو، ماں ہونے کی حثیت سے نا سہی انسانیت کے ناطے ہی سہی کچھ دیر برداشت کر لو اسے،،
اجالا نے اسے بری طرح جھڑکا اور تن فن کرتی باہر چلی گئی۔ لویزا کا دل کیا اپنی بے بسی پر دھاڑیں مار مار کر روئے۔۔

اجالا باہر آئی تو وہ خون چھلکاتی نگاہوں سے کھڑکی کے پاس ہاتھ باندھے کھڑا تھا جس کا مطلب تھا اس کی تمام گوہر افشانیاں سن چکا ہے۔ مگر اجالا بجائے سسٹر کو بلانے کے وہیں بینچ پر اطمینان سے بیٹھ گئی۔
تبھی بےبی کے رونے کی آواز آئی ۔ میر ہادی اذیت سے تڑپا۔ اور اندر جانے لگا۔ جب اجالا نے اس کا بازو پکڑا تھا۔
بیٹھیں رہیں آرام سے اور بس تماشہ دیکھیں، میں بھی دیکھتی ہوں کیسے نہیں اٹھاتی بےبی کو،، اجالا نے سنجیدگی سے کہا۔ تو میر ہادی بھی شکستہ انداز میں بینچ پر بیٹھ گیا۔

لویزا کروٹ بدل کر لیٹی تھی جب پیروں میں کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں آیا۔۔
تبھی کانوں میں ایک ننھے معصوم وجود کے رونے کی آواز آئی۔
پہلے تو وہ جی کڑا کیے ڈھیٹ بنی لیٹی رہی۔ مگر جب اس کے رونے میں اضافہ ہوا تو اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے۔ اور بے تحاشا رو دی تھی۔
ننھے معصوم وجود نے ہاتھ پیر چلانے شروع کر دئیے تھے۔۔ یقیناََ بھوکا تھا۔ اور ممتا سے ہمک ہمک کر اپنی خوراک مانگ رہا تھا۔۔
اجالا،، سسٹر،،، وہ جھنجھلا کر چلائی۔ چلانے سے سٹیچز پر کھینچ پڑی۔ خود بھی تکلیف سے دوہری ہو گئی۔
اور اپنی جنت میں پڑے وجود نے رونے میں اضافہ کرتے ایڑھیاں رگڑیں۔

ادھر میر ہادی کی برداشت کی حد پار ہوئی تھی۔ بیٹے کے سسکنے پر جھٹکے سے اپنی جگہ پر سے اٹھا تھا جب اجالا نے پھر اس کا بازو تھام لیا۔
بھائی آپ کچھ دیر صبر نہیں کر سکتے،، پلیز،، وہ دانت پیس کر بولی۔
میر ہادی بری طرح لب کچلتا وہیں کھڑا رہا۔

اندر وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ دم گھٹنے لگا۔ آنسوؤں کا پھندا گلے میں اٹک گیا۔ بےبی کے رونے میں اس قدر شدت آ چکی تھی کہ اب تو وہ سانس بھی سہی طرح سے نہیں لے پا رہا تھا۔
لویزا تڑپی۔ سینے میں اکڑن بڑھی اور اینٹھن سے پڑنے لگے اور ممتا کے سوتے پھوٹ پڑے۔ یوں جیسے قدرت بھی اشارہ کر رہی ہو کہ اٹھو اور اپنے لختِ جگر کو سینے سے لگا لو۔۔

اب برداشت کی ہر حد پار ہوئی تھی۔ وہ بے تحاشا روتی بمشکل اپنی پوری طاقت لگا کر اٹھی۔
تڑپ کر اسے اٹھایا اور چٹا چٹ ننھا سا پورے کا پورا وجود چوم ڈالا۔
فوراََ سے پہلے اسے سینے میں بھینچ لیا۔
یہ خوش کن منظر اجالا اور عالی نے چھپ کر کھڑکی سے دیکھا تھا۔ میر ہادی کی پلکیں بھی نم ہوئی تھی۔

چھوٹی سی جان کی چڑیا کے دانے جتنی بھوک تھی دو گھونٹ پی کر ہی آسودگی سے بے سدھ ہو کر ممتا کی آغوش میں گہری نیند سو گیا۔
لویزا اسے غور سے دیکھے گئی۔
ایک مرتبہ پھر اسے چوما۔
تم صرف میرے بیٹے ہو،، سنا تم نے،، اس کے کان میں آہستگی سے سرگوشی کی۔ وہ بھی مسکرا دیا جیسے اپنی مما کی یہ بات پسند آئی ہو۔۔
تکیہ پر لیٹ کر اسے اپنے پہلو اپنی آغوش میں مضبوطی سے بھر کر دوبارہ لیٹ کر سکون سے آنکھیں موند لیں۔
وہ اس کا بیٹا تھا۔ اس کے وجود کا حصہ۔
کس کے باپ کی بھی جرات تھی لویزا اقبال کو اس کے بیٹے سے الگ کرنے کی۔ اس کے بیٹے کو اس سے چھیننے کی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️