Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
وہ بے چینی سے کوریڈور کے چکر لگا رہا تھا۔ ڈاکٹرز سہی طرح سے کچھ بتا بھی نہیں رہے تھے۔
اس وقت میر ہادی کی روح فنا ہوئی تھی جب لویزا کو خون میں لت پت واش روم کے فرش پر پڑے دیکھا تھا۔ اس وقت سہی معنوں میں میر ہادی کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی۔
تب وہ اسے اٹھائے ہاسپٹل بھاگا تھا۔
مگر اسے اس حال میں پہنچانے والا بھی تو وہی تھا۔ اس کی روح تک کو چھلنی کرنے والا بھی تو وہی تھا۔
پھر جب ڈاکٹر نے اسے باہر آ کر یہ بولا تھا۔
کہ شی از آ ریپ وکٹم،، پولیس کیس ہے، پولیس کو انفارم کریں،،
کیا بکواس کر رہیں ڈاکٹر،، رانا میر ہادی ہوں میں اور وہ میری وائف ہے، میرے بچے کی ماں، سیو ہر رائٹ ناؤ،، وہ شیر کی طرح دھاڑا تھا۔
مگر دل بیٹھتا چلا گیا۔ یا ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ اس کا محافظ ہی اس کا ہرجائی اور اس کا لٹیرا بن چکا تھا۔
کل ہی اجالا اور عالی پاکستان پہنچے تھے۔ اور لویزا کو سرپرائز دینے کے چکر میں خود ہی سرپرائزڈ ہو گئے۔ وہ دونوں حویلی آنا چاہتے تھے۔ مگر جب میر ہادی کا اس اطلاع کے لئے فون آیا تو عالی اجالا کو لئے بغیر اس گھر چھوڑ کر خود اس کے پاس چلا آیا تھا۔
اور اب وہ اسے بے چینی سے کوریڈور میں ٹہلتا سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا۔ میر ہادی اس وقت سے زیادہ تڑپ رہا تھا جب سے ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ آپ کی مسز، کی باڈی جیسے خود ہی سروائیوو نہیں کرنا چاہتی، جیسے وہ خود ہی زندہ رہنا نہیں چاہتیں،،
اس سب کا زمہ دار وہ خود تھا۔ اس کی خود غرضی، خود پرستی لے ڈوبی تھی اسے۔ اتنا ہی دھچکا کافی تھا اپنی کی گئی ہر غلطی کا احساس ہونے کا۔ وہ بول رہی تھی وہ دور جانا چاہتی ہے۔ کیا پتہ وہ اسے تھوڑی سی سپیس دیتا تو وہ کچھ سوچ پاتی۔۔ میر ہادی نے تو خود کو اس پر مسلط ہی کیے رکھا۔ اس کا سانس لینا مشکل کر دیا۔ پے در پے ملنے والی تکلیفوں اور دھچکوں نے شیرنی جیسی لڑکی کو توڑ کر رکھ دیا اس کی روح تک کو زخموں سے چور کر دیا اسے اتنا ٹارچر کیا کہ وہ یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہو گئی۔
اس پر اتنی زندگی تنگ کر دی کی وہ جینا ہی نہیں چاہتی۔
کیسے ہوگا ازالہ اس سب کا۔
ہاں،
ایک نتیجہ پر پہنچ کر رانا میر ہادی نے ازالہ کا ایک حل نکالتے ہوئے خود کے لئے ایک سزا ضرور تجویز کی تھی۔
کیونکہ وہ جو اس کی سانسوں میں بسی تھی۔ اس کی زندگی، اس کی محبت اس کا پہلا اور آخری عشق، اب اسے تکلیف دی تھی تو خود بھی تو سزا بگھتنی تھی ناں۔
چار پانچ گھنٹوں کی کڑی آزمائش کے بعد ڈاکٹر نے آ کر زندگی کی نوید سنائی تھی اسے۔
ڈونٹ وری، مسٹر ہادی، شی از آؤٹ آف ڈینجر ناؤ،، بہت جلد ہوش میں بھی آ جائیں گی،، بول کر ڈاکٹر پھر آئی سی یو میں چلی گئیں تھیں۔
رانا میر ہادی تیزی سے عالی کی طرف آیا۔
سنو عالی، میں جا رہا ہوں،
عالی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جیسے اس کی زہنی توازن پر شک ہوا ہو۔
کدھر؟ عالی نے پھر بھی پوچھا۔
امریکہ جا رہا ہوں،، سنو عالی غور سے سنو، یہ سزا میں نے خود ، خود کے لئے تجویز کی ہے، غور سے دیکھو مجھے، محبت کو رسوا کیا ہے میں نے،، تو ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ محبت اپنا خراج نا مانگے مجھ سے،، یہاں رہا تو اس سے کبھی بھی دور نہیں رہ پاؤں گا، اور روز اسے ایسے ہی کوئی نا کوئی تکلیف دیتا رہوں گا، تو بہتر یہی ہے کہ میں اس سے دور چلا جاؤں،،
میر ہادی پاگل ہو کیا، عالی جھنجھلایا۔
نہیں اپنی ہی لو سٹوری کا ولن ہوں،، وہ تلخی سے زخمی سا مسکرایا۔ کبھی کوئی محبت کرنے والا ریپیسٹ کہلایا ہے،، مجھے دیکھو، یہ بدنصیبی میرے حصے میں آئی ہے، تو خود کو سزا دینا تو بنتا ہے ناں عالی، رات اس بے اختیاری اور اس بہکنے کے لئے شاید ہی میں کبھی اپنے آپ کو معاف کر پاؤں، مگر بخدا ہوش میں نہیں تھا میں یار، میں جانتا ہوں مجھے پلائی گئی تھی اور یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ کام زمرد نے کیا تھا، خیر اس کا حساب کتاب تو میں بعد میں کروں گا، مگر ابھی مجھے صرف اور صرف لیزا کی فکر ہے، ایک بیوی ، ایک عورت کو، کیا چاہیے ہوتا ہے اپنے شوہر سے، بس عزت، اور وہی میں اسے نہیں دے سکا یار میں اس کا گناہ گار ہوں،، مجرم ہوں میں اس کا،، اس سے نگاہیں نہیں ملا پاؤں گا عالی،،
وہ کہتا تیز قدم اٹھاتا ہاسپٹل سے باہر نکلتا چلا گیا۔ عالی اس کے پیچھے لپکا۔
میر ہادی حویلی والوں کو کیا کہو گے،، عالی ہانپتا ہوا اس کے پیچھے جیسے بھاگ رہا تھا۔
وہ میرا سر درد ہے عالی، اسے کوئی کچھ نہیں کہے گا تم بس اسے باحفاظت حویلی پہنچا دینا،، مہر ہادی کے لہجہ بھیگا ہوا تھا۔ مگر خود پر کڑے ضبط کے پہرے بٹھائے رکھے۔
یہ کیا پاگل پن ہے رانا میر ہادی،، بےبی کو اپنے ڈیڈ کی بھی ضرورت ہے،، تم اسے ایسے چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہو،،
یہ بھی میری سزا کا حصہ ہے عالی، کہ میں نے اسے اس کے بابا سے دور کیا تو سزا کے طور پر میری اولاد کو اپنے بابا سے دور ہونا پڑے گا،، اور نہیں کرو عالی، مت روکو مجھے، اب میں نہیں رکوں گا،، وہ گاڑی تک آیا تھا۔ عالی اس کے پیچھے آیا۔ گاڑی کا ڈور کھول کر وہ ٹھٹھک کر رکا تھا جیسے کچھ یاد آیا۔
سنو عالی اسے بول دینا، رانا میر ہادی نے خود کو سزا ضرور دی ہے مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ مجھ سے یا مجھ سے بندھے اس رشتے سے کبھی آزاد ہو پائے گی، نا میں اتنا اچھا ہوں کہ اسے کہیں جانے دوں گا، میرا بن کر میرے نام سے، میری جگہ حویلی میں رہنا ہے اسے، اسے کہنا حویلی سے باہر قدم نکالنے کی جرات بھی نا کرے،، وہیں شوٹ کر دوں گا اسے بھی اور خود کو بھی،، زارون کا بھی نہیں سوچوں گا، بول دینا عالی اسے، وہ رانا میر ہادی کی رہے گی ہمیشہ، مرتے دم تک مجھ سے میری محبت سے نا دامن بچا سکتی ہے نا مجھ سے چھٹکارا پا سکتی ہے، میں دور رہ کر بھی اس کی سانسوں جتنا قریب رہوں گا اس سے، سمجھا دینا اچھی طرح اس سے، وہ ہر وقت ہر پل رانا میر ہادی کی نگاہوں کے حصار میں رہے گی، اور سنو ایک آخری بات اسے کہنا اب میر ہادی تب ہی لوٹ کر آئے گا جب وہ خود اپنے منہ سے مجھے واپس لوٹ آنے کے لئے بولے گی،،
یہ بول کر رانا میر ہادی نے جھٹکے سے گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی تھی۔ فضا میں دھول اڑاتی گاڑی بہت جلد عالی کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔
عالی نے سخت ٹینشن سے اپنا ماتھا مسلا۔
کیا بنے گا ان کا،، وہ بری طرح جھنجھلایا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ظفر اپنے کمرے میں لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔
ابھی رات ہی فجر کے وقت اقبال صاحب اس کے خواب میں آئے تھے۔ اور اس سے سخت ناراض نظر آئے تھے اسے۔ وہ کافی دیر انھیں آوازیں دیتا رہا ماموں جان، ماموں جان پکارتا رہا کافی دیر ان کے پیچھے چلتا رہا مگر وہ رکے نا اس سے بات کی۔ ان کی آنکھیں بھی نم تھیں۔
کسی کو کیا معلوم کہ ان کی بیٹی کتنی تکلیف میں تھی تو وہ کیسے خوش رہ سکتے تھے۔
ایک لفظ جو ان کے منہ سے ادا ہوا تھا وہ لویزا تھا۔
ظفر ان کی ناراضگی کا سوچ خواب میں با آواز بلند رو دیا تھا۔
اور جب آنکھ کھلی تھی تو وہ سچ مچ رو رہا تھا اور اب صبح سے ضمیر بار بار اسے لعن طعن کر رہا تھا۔ جس کا بوجھ اس کے ناتواں کندھے اٹھا نہیں پا رہے تھے۔ اب اسے اچھی طرح جیسے یہ باور ہو چکا تھا کہ وہ شخص بلکل ٹھیک کہہ رہا تھا لویزا کی خوشی صرف اور صرف وہی شخص ہے۔
کچھ چار پانچ دن گزر چکے تھے۔ ممتاز بیگم نے اس سے کلام نہیں کیا تھا۔ اس نے بتہیری کوشش کی تھی کہ وہ اس سے بات کریں
اور سب سے زیادہ تکلیف تو اس بات کی تھی کہ نا انھوںنے خود فون کر کے لویزا کو سچائی بتائی تھی اور نا ظفر سے بات کر رہیں تھیں۔۔
طبیعت بوجھل سی تھی تو وہ دوکان پر بھی نہیں تھا۔
تبھی ممتاز بیگم دوپہر کے کھانے کی ٹرے لیے اندر داخل ہوئیں تھیں۔ خاموشی سے کھانا ٹیبل پر رکھا اور واپس مڑنے لگیں تھیں۔
بہت خوب،، دونوں بہن بھائی اپنی ہٹ کے پکے ہیں ناں، نا خواب میں انھوں نے بات کی اور نا آپ کریں، اب آپ تو بات کر نہیں رہیں، تو میں خالہ کوثر کی پاس خود ہی اپنا رشتہ لے کر چلا جاتا ہوں، اور نوین کو سادگی سے نکاح کر کے گھر لے آتا ہوں،،
وہ جو دو دن سے کھانا نہیں کھا رہا تھا جلدی سے ٹرے اپنے سامنے کھسکا کر رغبت سے کھانا کھاتا انھیں اپنی پلینیگ یوں بتا رہا تھا جیسے پتا نہیں کب سے سر پر سہرا باندھنے کو تیار تھا۔
وہ جو حیرت سے اس کی گوہر افشانیاں سن رہی تھیں سر خوشی سے اس کی جانب مڑیں۔
مگر بولیں پھر بھی نہیں۔
اب کر بھی دیں معاف،، بتا دوں گا لویزا کو ساری حقیقت، اب خوش، اب بات کریں مجھ سے،، وہ جھنجھلایا۔
میں آج ہی کوثر سے بات کرنے جا رہی ہون،، ممتاز بیگم نے کنفرم کرنا چاہا۔
اب لکھ کر دوں آپ کو، کہ جب چاہے جائیں، وہ آئبرو اچکا کر بولا۔
وہ مصنوعی غصے سے انھیں گھرکتی مسکراہٹ چھپانے کے لئے باہر نکلتی چلیں گئیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
دل امید توڑا ہے کسی نے
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
آج اسے حویلی واپس لوٹے دوسرا دن تھا۔ لویزا کو حادثے کے اگلے دن ہی ڈسچارج دے دیا گیا تھا۔ اور عالی اور اجالا اسے لئے حویلی واپس لوٹے تھے۔
حیرت انگیز طور پر حویلی میں اسے کسی نے نا کچھ پوچھا نا کچھ کہا۔
ہاں البتہ اس کے آگے پیچھے اس کی تیمارداری کرتے ضرور گھوم رہے تھے ۔ پہلے سے بھی بڑھ کر اس کا خیال رکھا جا رہا تھا۔ حتی کہ بخت بھی اس کا بہت خیال رکھ رہی تھی۔ ۔ زارون مکمل اس کی دسترس میں تھا۔ وہ جب سے آئی تھی ایک پل کے لئے بھی خود سے اسے الگ نہیں کیا تھا۔
وہ شخص نظر نہیں آیا تھا سو سکون ہی رہا۔
قفس کی تِیلیاں رنگین کیوں ہے
یہاں پہ سر کو پھوڑا ہے کسی نے
اب بھی وہ چت لیٹی خالی الزہنی کی حالت میں چھت کو گھور رہی تھی۔ جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
بھابھی،، عالی کی آواز پر وہ اٹھ کر بیٹھی اور چادر اچھے سے اوڑھی۔
آ جائیں عالی بھائی،، اس نے آہستگی سے کہا تو عالی اندر چلا آیا۔
کیسی ہیں آپ؟ اس نے اندر آتے پوچھا اور سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔
زندہ ہوں،،کوشش تو کی تھی کہ،، وہ پس مردگی سے بولی اور بات دانستہ ادھوری چھوڑ دی۔
بھابھی وہ میر ہادی،،
مجھے ان کے متعلق کوئی بات نہیں کرنی عالی بھائی،، اس نے نفرت سے رخ دوسری جانب موڑا۔۔
وہ تو اب کوئی کرے گا بھی نہیں، بھابھی وہ ملک چھوڑ کر جا چکا ہے،، عالی نے لویزا کے سر پر بم پھوڑا۔ اس نے بے یقینی سے عالی کی جانب دیکھا۔
خوب،، بہت خوب تو گویا مجرم سزا سنے بغیر عدالت میں پیش ہوئے بغیر، اس کا سامنا کیے بغیر سب کچھ چھوڑ چھاڑ راہ فرار اختیار کر چکا تھا۔
وہ جو جو بول کر گیا تھا عالی اسے لفظ با لفظ بتاتا چلا گیا۔
وہ بے یقینی سے سب سنتی رہی۔
Continue,,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
Something is better then nothing……😉🙃😷
لو جی 2k ورڈز کی نکی جئی ایپی پیش خدمت ہے قبول کریں۔
اور ایک بات اور مجھے آپ لوگوں کو غلط ثابت کر کے بہت مزا اتا ہے۔ مطلب کوئی بول رہا تھا۔ لیزا کومے میں جائے گی۔ کوئی بول رہا تھا ہاسپٹل سے فرار ہو جائے گی تو کیسا لگا یہ الگ سا جھٹکا😁🙃🙃🙃😷😷😷😷😷
