Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
اک “ع” تھی ، پھر “شین” تھا
کچھ آگ تھی ، کچھ راکھ تھی
اک دشت تھا ، اک بحر تھا🖤
صحرا بھی تھا اور پیاس تھی
پھر اک خلا بے انت سا
اک بند گلی سا راستہ
ویرانیاں ، تنہائیاں
پھر “ق” تھا ،
پھر سارا منظر راکھ تھا ،
سب خاک تھا ،
بس “عشق” تھا ، بس “عشق” تھا
وہ کب سے زمینوں پر چہل قدمی کرتا گہری سوچ میں تھا۔ جب سے آیا تھا ایک پل، ایک لمحے تو کیا ایک ساعت کے لئے بھی وہ اس کے دل و دماغ پر سوار ،،اترنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ لاکھ زہن جھٹکا سو طرح کے حیلے بہانے کر چکا تھا۔ مگر اپنی ہر کوشش میں بری طرح فیل ہوا تھا۔ کھیتوں میں کام کرتے کسان مرد و عورتوں نے چھوٹے سائیں کو اپنے آس پاس چکر لگاتے دیکھا۔
وہ جو دنیا کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا کرتا تھا حیرت انگیز طور پر آج ان کے پاس آ کر ان سے ان کے مسلئے مسائل پوچھ رہا تھا۔
تبھی حویلی سے اس کے لئے پیغام آیا ۔ دادا سائیں نے یاد کیا تھا۔
تبھی وہ حویلی کی طرف روانہ ہوا تھا۔
مردان خانے میں سب موجود تھے۔۔ زمینوں کے مطلق کچھ ضروری ڈسکشن چل رہی تھی۔ میر ہادی نے اپنی پوری دلچسپی سے اس بیٹھک میں شرکت کی تھی۔
دادا سائیں اور بابا سائیں دو دن سے اس میں آئی تبدیلی اور غیر معمولی سنجیدگی نوٹ کر رہے تھے۔
بیٹھک برخواست ہوئی تو وہ تینوں اندر آئے۔۔ اور اب تینوں آپس میں ہلکی گفتگو میں مصروف تھے جب بابا سائیں کو کوئی بات یاد آئی۔
میر ہادی تم نے اپنے اکاؤنٹ سے ایک بڑی رقم نکالی، کیا میں جان سکتا ہوں، کیا ضرورت پڑ گئی تمھیں اتنی خطیر رقم کی،؟ بابا سائیں نے پوچھا تو میر ہادی کے اطمینان میں زرا برابر بھی فرق نہیں آیا تھا جبکہ دادا سائیں نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا تھا جیسے کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہو۔
ملکوں کو دئیے ہیں خون بہا کے طور پر، سرداروں کی بچی کو آزادی دلوائی ہے، اس نے سکون سے کہا۔۔
مگر یہ رقم تو سردار بھی با آسانی ادا کر سکتے تھے، دادا سائیں نے بے تاثر لہجے میں کہا۔
ہممم کر سکتے تھے، مگر تب کرتے جب پنچائیت میں ، میں یہ حکم دیتا مگر یہ میرا غلط فیصلہ تھا تو مجھے ہی سدھارنا تھا اسی لئے اپنے پرسنل اکاؤنٹ میں سے دیئے پیسے، اینی اوبجیکشن،، اس نے سکون سے کہا۔
اماں سائیں اور ممتاز بیگم تو ورطہ حیرت میں ہی ڈوبی ہوئیں تھیں کہ یہ الفاظ انھوںنے میر ہادی کہ ہی منہ سے سنے تھے۔
نہیں، ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے، گاؤں کا ہونے والے سرپرست ہو جو مرضی کرو،، بابا سائیں نے لاپروائی سے کہا۔
تبھی لاؤنج میں بختاور داخل ہوئی تھی اس کے ساتھ ہی میڈ لوازمات اور چائے سے بھری ٹرالی کھسکائے چلی آئی۔
تم جاؤ، میں سرو کر دوں گی، اس نے پیچھے مڑ کر میڈ سے کہا اور سب کو چائے دینے لگی۔
چھوٹے سائیں، بختاور کو کب اپنے ساتھ شہر لے کر جا رہے ہو پھر سارا سارا دن حویلی میں بور ہوتی رہتی ہے یہ ، دادا سائیں نے بلکل اچانک کہا تھا میر ہادی کے جبڑے بھنچ چکے تھے یہ سمجھ کر کہ انھوںنے نے یہ شوشا کیوں اور کس لیے چھوڑا ہے۔۔
جبکہ بختاور اس کا سنجیدگی میں ڈوبا چہرہ دیکھ پہلو بدل کر رہ گئی تھی۔
میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں دادا سائیں، بہت جلد میرا اینول ایگزیم ہونے والا ہے تو میں یہیں حویلی ہی شفٹ ہو جاؤں گا، پھر میرا شہر رہنے کا کوئی ارادہ نہیں، میر ہادی نے سہولت سے بات سنبھالی تھی دادا سائیں خفیف سا مسکرائے تھے۔
میر ہادی چائے پیے بغیر ہی جھٹکے سے اٹھا تھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ کافی دیر سے راکنگ چئیر پر بیٹھا اپنی جان سگریٹ میں جھونک رہا تھا۔ جان بس حلق میں ہی اٹکی چاہتی تھی۔ تبھی دروازہ کھول کر بختاور روم میں داخل ہوئی تھی۔ ہاتھوں میں بھانپ اڑاتی کافی کا مگ تھا۔
یہ لے لیں، آپ نے چائے بھی نہیں پی، بختاور نے کپ میر ہادی کی جانب بڑھایا جو کہ اس نے بغیر کچھ بھی کہے شرافت سے تھام لیا۔ بختاور اسے غور سے دیکھے گئی جس کے رنگ ڈھنگ ہی مکمل طور پر بدل چکے تھے۔ جو پورا کا پورا بدل چکا تھا۔ اب بھی بلیک شلوار قمیض میں وہ مغرور شہزادہ سوگوار سا لگ رہا تھا۔
میر ہادی نے بس ایک نگاہ غلط اس کے مکمل سجے سنورے روپ پر ڈالی تھی جو اپنے بھائی کے نکاح میں شمولیت کے لئے بلکل تیار کامدار میرون جوڑے میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔
آپ کے کپڑے نکال دئیے ہیں میں نے، میر ہادی کے دیکھنے پر اس نے گڑبڑا کر کہا تو اس نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔ اور سیدھا ہو کر گھونٹ گھونٹ کافی کی تلخی اپنے اندر اتارنے لگا۔
آپ کافی سے زیادہ ڈسٹربڈ ہیں میں نے اتنا پریشان آپ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا، بختاور نے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتے جھجھکتے دل میں آئی بات بول ہی دی۔
بختاور میرے پاس تمھیں دینے کو کچھ بھی نہیں ہے، تم اچھی طرح جانتی ہو، شروع دن سے میں نے حتی کے اس شادی سے پہلے بھی پورے خاندان کے سامنے بولا تھا کہ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتا، مگر تم نے ضد کر کے مجھ سے شادی کی، میں ہزار دفعہ کی پوچھی بات پھر سے تم سے پوچھوں گا، تمھیں اس بے نام کے کھوکھلے رشتے سے آزادی چاہیے، اب بھی وقت ہے، میرے پیچھے اپنی زندگی برباد مت کرو، یہ وٹہ سٹہ کی بےہودہ رسم، میری بہن ثمرہ جب اپنے گھر میں بہت خوش ہے تو تمھارا بھی پورا حق خوشیوں بھری زندگی پر،،
آج میر ہادی کے لہجے میں بیزاریت کی بجائے عاجزی اور صدیوں کی تھکن سی تھی۔ بختاور کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں بھینچا تھا۔
اور میں بھی ہزار دفع کی دہرائی بات پھر سے دہراؤں گی کہ مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے ، آزادی بھی نہیں،میرے لئے وصل کے کچھ پل ، کچھ راتیں ہی بہت ہیں جو آپ نے مجھے بھیک سمجھ کر ہی سہی اپنی قربت بخشی، مگر آج ایک سوال کا جواب ضرور جاننا چاہوں گی، بختاور نے کہا تو میر ہادی نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔
نام کیا ہے اس کا؟ بختاور نے اطمینان سے کہا۔
واٹ،، میر ہادی شاکڈ سا اسے دیکھے گیا۔
میں نے پوچھا کون ہے وہ جس نے آپ کی زندگی میں آ کر آپ کا چین سکون، نیند سب کچھ غارت اور برباد کر کے رکھ دیا ہے،
وہ جو دو دن سے اپنے آپ سے بھی چھپتا پھر رہا تھا بری طرح پکڑا گیا تھا۔
تیری قسم ،،،،ہم پکڑے گئے ہیں
ہتھکڑیوں میں جکڑے گئے ہیں
ہم کو محبت ڈھونڈ رہی تھی نام پتہ سب پوچھ رہی تھی۔
بختاور تم امی سائیں لوگوں کے ساتھ چلو میں تیار ہو کر آ جاؤں گا،تم لیٹ ہو رہی ہو، جاو جا کر پھپھو سائیں کے ساتھ کاموں میں ہاتھ بٹاؤ، وہ دوسری جانب دیکھتا سرد و سپاٹ بے تاثر چہرہ لیے بولا۔
بختاور نے سرد سی آہ بھری اور کمرے سے نکلتی چلی گئی۔
ادھر وہ اچانک ہی بری طرح بے چین ہوا تھا جیسے دل کسی نے پاؤں تلے کچلا فون پر میسج ٹون رنگ ہوئی تو فورا نکال کر دیکھا۔
جس میں راجہ نہیں ہے رانی کا
اس کہانی کا دکھ سمجھتے ہے
رانا میر ہادی کی دھڑکنیں بری طرح منتشر ہوئیں تھیں۔ کافی مبہم سا پیغام تھا جو وہ اچھی طرح سمجھ چکا تھا۔
فورا فون پر وہی نمبر ڈائل کیا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ دو دن سے میر لاج میں بولائی بولائی سی پھر رہی تھی۔ روزی اس کا بے تحاشا خیال رکھتی تھی مگر رات آٹھ بجے تو اسے بھی واپس جانا ہوتا تھا۔ وہ پھر تنہا ہو جاتی تھی۔ دن میں اجالا چلی آتی۔ اس کے ساتھ کافی وقت گزارتی مگر پھر اسے بھی جانا ہوتا تھا۔ چار دن بعد اس کا بھی نکاح تھا۔ بے تحاشا مصروفیت میں سے وہ اپنا وقت نکال کر اس کے پاس آتی اور اس کی دیکھ بھال کرتی۔ ابھی لویزا مکمل صحت یاب نہیں ہوئی تھی سو اجالا کے ساتھ شاپنگ پہ نہیں جا سکتی تھی۔ بلکہ لویزا کی شاپنگ بھی اجالا نے ہی کی تھی۔
اس بے مہر ، ستمگر نے جا کر ایک مرتبہ بھی اس کا اتا پتہ نہیں لیا تھا نا بات کی، حال تک نا پوچھا جو اس کے لئے زیادہ تشویشناک بات تھی۔ اب اس کے دل میں ہزار طرح کے وسوسے اور وہم آنے لگے تھے کہ وہ کیوں اسے اگنور کر رہا ہے۔۔ اب بھی رات کے نو بج چکے تھے وہ اپنے روم میں کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
میر ہادی، سر خوشی سے زبان سے پھسلا کہ وہ لوٹ آیا مگر دروازہ کھولا تو سامنے افضل نگاہیں جھکائے کھڑا تھا۔
جی بابا، خیریت، کوئی کام تھا آپ کو، وہ بری طرح مایوس ہوئی تھی مگر لہجہ حتی الامکان نرم کیا۔
جی بٹیا، یہ دینا تھا آپ کو، افضل نے ایک باکس اس کے سامنے کیا۔
یہ کیا ہے بابا، اس نے حیرت و تجسس سے اس باکس کو دیکھا۔
موبائل ہے آپ کا بیٹا چھوٹے،،، میرا مطلب ہے سر نے آپ کے لئے بھیجا ہے،،
شکر ہے ان کو خیال تو آیا،، لویزا نے منہ بنایا اور باکس تھام لیا۔
افضل واپس گیا لویزا نے ڈور لاک کیا اور بیڈپر آ کر وہ باکس کھولا۔ مہنگا ترین آئی فون تھا۔ نمبر بھی ایکٹو کر کے دیا گیا تھا۔ کانٹیکٹ لسٹ میں ایک ہی نمبر سیو تھا۔
Rana Meer Hadi
اسنے جلدی سے نام ایڈیٹ کیا۔
کڑوا کریلا،
اور اپنی حرکت پر خود ہی قہقہہ لگا کر ہنس دی۔ وہ ہنسے چلی جا رہی تھی ۔ ہنستے ہنستے کب آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اسے بھی پتہ نہیں چلا تھا۔
تبھی ایک میسج لکھ کر فارورڈ کیا تھا۔
اب وہ گھٹنوں میں منہ دئیے روئے چلی گئی۔ کئی منفی سوچیں جو دو دن سے روح کو کچوکے لگا رہیں تھیں اب پوری آب و تاب کے ساتھ دل و دماغ پر حاوی ہوئیں تھیں۔
مجھے یہ مہنگے کھلونے نہیں چاہیں، مجھے تو وہ قیمتی وقت چاہیے تھا جو شاید اب آپ کے پاس میرے لئے نہیں ہے۔ ہوگا بھی کیوں، بھلا ایک بیمار بیوی جو آپ کو کوئی سکھ کوئی سکون نہیں دے سکتی اس سے کیا دلچسپی رہی ہو گی آپ کو۔۔
یہ وہ سوچیں تھیں جو اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہیں تھیں۔
تبھی فون رنگ ہوا اور جگمگاتی سکرین پر کڑوے کریلے کا نمبر بلنک ہوا تو اسے حیرت ہوئی۔
اس نے جلدی سے آنسوؤں سے تر چہرہ صاف کر کے فون یس کر کے کان کو لگایا
السلام وعلیکم،، لویزا نے اپنا لہجہ بشاش کرنا چاہا۔
تم رو رہیں تھیں،، رانا میر ہادی کے سرسراتے لہجے نے اس کے رونگٹے کھڑے کیے تھے۔
وہ نا ہاں کر سکی نا ناں، باغی سے آنسوؤں نے پھر گال بھگو ڈالے۔
رونا بند کرو، لویزا میر ہادی، اور یہ جو فضول کی سوچیں اور خرافات دماغ میں پال رہی ہو انھیں اپنے چھوٹے سے دماغ سے نکال باہر کرو، نہیں تو واپس آ کر حشر بگاڑ دوں گا،، میر ہادی کے پھنکارتے لہجے سے وہ رونا دھونا بھول گئی تھی۔
کک، کیا، میں کیا سوچ رہی تھی، وہ بری طرح بوکھلائی تھی (وہ کیا جادوگر تھا جو اتنی دور بیٹھا بھی اس کے دل کے بھید جان گیا تھا)
جو بھی سوچ ہے دل و دماغ سے نکال باہر کرو، کام تو کافی سارا تھا مگر میں کل واپس آ رہا ہوں، میرے آنے سے پہلے اپنا مزاج درست کر لو نہیں تو میں کر دوں گا، اب بھی وہ ڈانٹنے کے انداز میں بولا تو لویزا بھی بھنائی۔
کیا غلط سوچ ہے ہادی میری، ان دو دنوں میں آپ نے ایک مرتبہ بھی مجھ سے بات نہیں کی ایک مرتبہ بھی میرا حال احوال تک نہیں پوچھا، سچ بات تو یہ ہے کہ اپ کو میری کوئی فکر ہی نہیں، مجھ سے محبت ہی نہیں اور نا میری کوئی پرواہ ہے آپ کو،، وہ پھٹ پڑی۔
“تمھیں مجھ سے یہ شکایت ہے رانا لویزا میر ہادی کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا، تمھاری پرواہ نہیں کرتا،جبکہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھے تم سے عشق ہو گیا تو تمھاری زندگی جہنم بن جائے گی، یہ محبت اور انسیت اگر عشق میں بدل گئی تو جیسے میرا جینا حرام ہوا ہے تمھارا بھی بلکل ویسے ہی کردوں گا ، چین، سکون نیندیں سب کچھ چھین لوں گا میں، جبکہ ابھی تمھاری نازک جان یہ سب جھیلنے کے بلکل بھی قابل نہیں ہے،
فون سے ابھرتی آواز میں اس قدر جنون اور شدت تھی کہ لویزا کو جھرجھری سی محسوس ہوئی تھی۔
چند پلوں کے لئے دونوں جانب خاموشی چھائی تھی۔
میں ٹھیک ہوں اب، آپ فکر مت کریں، کہہ کر لویزا، نے فون رکھ دیا تھا۔
ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ چکیں تھیں۔
اونہہہہہہ کڑوے کریلے،،
بڑی شرافت سے بڑبڑاتے کمفرٹر میں منہ دے کہ دبک گئی تھی۔
ادھر وہ جو سلگ سلگ کر اب راکھ بن چلا تھا دل کی بھڑاس نکال کر کچھ تو سکون ملا تھا جھٹکے سے اٹھا اور کپڑے لے کر واش روم گیا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
