Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 07
No Download Link
Rate this Novel
Episode 07
میر ہادی اور عالی پاکستان کے ٹاپ نیورو سرجن ڈاکٹر عبدالحفیظ کے کیبن میں بیٹھے تھے۔
چھ گھنٹے کا طویل وقت لے کر انھوں نے ہی لویزا کے سر کے پچھلے حصے کی سرجری کی تھی۔
اب وہ کافی دیر سے لویزا کے سٹی سکین اور کیے گئے ٹیسٹس کی رپورٹس کا معائنہ کر رہے تھے۔
رانا میر ہادی کی جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔ اس کی جان جس عذاب میں جھونک دی تھی لویزا اقبال نے وہ اسے چین نہیں لینے دے رہی تھی۔ کچھ اس لئے بھی وہ سخت جھنجھلایا ہوا تھا کہ ان لوگوں (ڈاکٹرز ) نے اب بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا تھا۔
ڈاکٹر کیا ہوا ہے؟ پلیز مجھے بتائیں؟ وہ بچ تو جائے گی؟ آؤٹ آف ڈینجر ہے ناں؟ پلیز ڈاکٹر بتائیں مجھے؟ میں اور پیشنس نہیں رکھ پاؤں گا،، میر ہادی نے اپنی سلگتی اور دکھتی کنپٹیاں سہلائیں۔
آپ کو پیشنس رکھنا پڑے گا رانا میر ہادی صاحب، کیونکہ آپ کی وائف کو کوئی معمولی زخم نہیں آیا، ان کے بیک آف ہیڈ کی سکَل بون ڈمیج ہوئی تھی، اور سکل بون کے ساتھ اِنر ہیڈ میں بھی انجریز آئی ہیں، سرجری کر دی گئی ہے، اور یہ میریکل ہے یا آپ کی دعاؤں کا نتیجہ کے شی از آؤٹ آف ڈینجر ناؤ، بٹ،
ڈاکٹر عبدالحفیظ نے متانت سے کہا مگر کچھ کہتے کہتے جھجھکے۔
میر ہادی کے چہرے پر سکون چھایا تھا میر ہادی نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں لیا اور ایک پر سکون لمبی سی سانس کھینچی، جب کہ عالی ڈاکٹر کی وائف والی بات پر ہی شدید شاک کی کیفیت میں میر ہادی کو دیکھے جا رہا تھا۔۔ جانتا جو تھا لویزا اقبال میر ہادی کی کم ازکم وائف نہیں ہے (ہو ہی نہیں سکتی) ڈاکٹر کے بٹ کہنے سے پھر دونوں نے بے تحاشا چونک کر ڈاکٹر کو دیکھا تھا۔
لیکن کیا ڈاکٹر بتائیں مجھے،،
دیکھئیے مسٹر ہادی وہ یا تو کومے میں جا سکتی ہیں یا پھر میموری لوس یعنی یاداشت جا سکتی ہے وہ بھی کچھ کہا نہیں جا سکتا کب آئے،، آئے بھی یا نہیں آئے،، آپ حوصلہ رکھئیے،، میں نے یہی بتانے کو آپ کو کیبن میں بلایا تھا، ان کی رپورٹس یہی کہتی ہیں کہ ان کی یاداشت چلی جائے گی مگر ہوش میں آنا شرط ہے، دعا کیجیے، اگلے پندرہ دن پیشنٹ کے لئے اہم اور حساس ہیں، اگر ہوش آ گیا تو ٹھیک، صرف یاداشت جائے گی مگر ایٹلیسٹ وہ ہوش میں تو ہوں گی، اور اگر ہوش نا آیا تو کومے میں چلی جائے گی، کتنے عرصے کے لئے کچھ نہیں کہا جا سکتا،،
ڈاکٹر کے ہر جملے ہر لفظ پر میر ہادی کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔
پیشنس رکھیں میر ہادی صاحب ابھی تو کافی مرحلے ہیں، جن میں آپ کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ڈاکٹر نے متانت سے کہتے اس کے کندھے تھپتھپا کر اسے حوصلہ دیا اور پھر آئی سی یو کی جانب چلے گئے۔
میر ہادی کی آنکھیں پھر نم ہوئیں تھیں۔ عالی اسے دیکھے گیا۔ کون کہہ سکتا تھا سامنے بیٹھا شخص وہی بے حس اور لاپرواہ میر ہادی ہے، جسے کسی چیز سے فرق ہی نہیں پڑتا تھا جس پر کسی چیز کا اثر ہی نہیں ہوتا تھا،،
اب ایسا کیا ہو گیا تھا کہ وہ یوں ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہا تھا۔
ہادی تم نے نکاح کیا اس سے،، عالی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
نو،، ادھر بھی سرد و سپاٹ چہرہ لیے جواب آیا۔
اس کے فادر کی ڈیتھ ہو گئی ہے،، عالی نے پھر اس کا زخم تازہ کیا۔
جانتا ہوں،، میر ہادی سامنے پڑی اس کی رپورٹس کو گھورے گیا۔
تو اب کیا میر ہادی،؟ مرنے دو اسے بھی یا چھوڑ دو اس کو اس کے حال پہ، اسے مکمل طور پر برباد کر کے اب یہ سب کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو، عالی تلخ ہوا۔
میری ایسی کوئی اٹینشن نہیں تھی،،
تم نے پریٹینڈ یہی کیا عمل یہی کیا میر ہادی،، عالی نے اس کی بات کاٹ کر جتایا۔
شٹ اپ عالی،، مانتا ہوں میں نے بدلہ لینے کو اسے کڈنیپ کیا، ہاں تھا میر غلط ارادہ مگر نہیں چھوا میں نے اسے، میں اسے واپس بھیجنے والا تھا باعزت،
جانتے ہو ہادی، میں نے اجالا کو کتنی مشکل سے سمجھایا، روڈ پر بے ہوش ملی وہ مجھے، تمھارے آدمیوں نے اس پر بھی تشدد کیا، عالی تنی رگوں سے بتائے گیا، مہر ہادی کا دل کیا ڈوب مرے اور شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا۔
ائم سوری،، ائم سوری فار ایوری تھنگ، میں کیا کروں کہ سب پہلے کی طرح ٹھیک ہو جائے،، رانا میر ہادی نے بے بسی کے احساس سے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔۔
جانتے ہو جس دن وہ میر لاج آئی تھی، اس دن کے بعد میں کسی ایک رات بھی سکون سے سو نہیں پایا۔ اور اب یہ سب،، میں پاگل ہو جاؤں گا عالی،
وہ جو دولت کے نشے میں چور تھا اور جسے یہ گھمنڈ تھا کہ دولت سے ساری دنیا خرید سکتا ہے آج اپنی ساری دولت دے کر بھی لویزا اقبال کو ٹھیک نہیں کر سکتا تھا۔
اور یہیں آ کر تو بندے کی بس ہو جاتی ہے اور شروع ہوتا ہے خدا کا جاہ وجلال اور عظمت، کہ کل مختیار تو وہی پاک ہستی ہے۔
انسان سمجھتا ہے کہ وہ دولت سے ہر چیز پر قدرت اختیار کر سکتا ہے مگر یہی اس کی سب سے بڑی بھول ہوتی ہے غلط فہمی جس میں وہ مبتلا ہوتا ہے۔ کہ ہر چیز پر قادر تو محض الله تعالیٰ کی ذات ہے۔ (بے شک)
جاؤ چلے جاؤ میر ہادی، بہت شکریہ کہ اس کے علاج کے لئے تم نے اپنی دولت اپنا پیسہ پانی کی طرح بہایا، اب اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، پڑا رہنے دو اسے ہاسپٹل کے بستر پر یا اگر ہوش آیا تو اسے اس کی پھپھو کے گھر پہنچا دوں گا، اگر انھوں نے بھی کئی راتیں باہر گزاری ہوئی لڑکی کو رکھنے سے انکار کر دیا تو دار الامان چھوڑ آؤں گا، عالی نے سنجیدگی سے کہا
میر ہادی کے ماتھے پر ان گنت بل آئے۔
شٹ اپ عالیان آج تو یہ بات کی ہے آئندہ مت کرنا، وہ میری وجہ سے اس حال میں پہنچی ہے اب میری زمہ داری ہے، جب تک مکمل صحتیاب نہیں ہو جاتی نا وہ کہیں جا سکتی ہے، نا اسے کہیں کوئی لے جا سکتا ہے، وہ میرے پاس رہے گی، وہ جب تک ٹھیک نہیں ہو جاتی، میں اپنے کیے کا مداوا کرتے ہوئے اسے کی دیکھ بھال کروں گا، جب ٹھیک ہو جائے مجھے میری سزا سنا کر جہاں مرضی جائے، ابھی اسے کوئی میرے پاس سے نہیں لے جا سکتا، کوئی بھی نہیں، اس کا صدا کا ضدی لہجہ عالی کا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔
کس حثیت سے میر ہادی، کس حثیت سے رہے گی وہ تمھارے پاس، زرا مجھے بھی تو پتہ چلے، جو ڈاکٹرز سمجھ،،،،
انسانیت کی حیثیت سے، میر ہادی کا سرسراتا لہجہ فورا اس کی بات کاٹی اور اب لاپرواہ سا تھا۔
میر ہادی کبھی میری بات نہیں مانتے، یار کبھی تو مان لیا کرو حویلی میں پتہ چلا تو،، عالی جھنجھلایا
مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں نا رانا میر ہادی کسی سے ڈرتا ہے، میر ہادی نے پھر اس کی بات سکون سے کاٹی جیسے سب کچھ پہلے ہی طے کر کہ بیٹھا ہو۔
رانا میر ہادی، ڈرتے تو ہو، عالی نے گہری نگاہ سے اس لاپرواہ، ڈھیٹ بنے شخص کو گہری نگاہ سے دیکھا۔ جو اپنی تمام تر اچھائیوں برائیوں سمیت اس کا بچپن کا دوست تھا۔ جس کی رگ رگ سے وہ واقف تھا یہ کہانی رانا میر ہادی کی جانب سے جو شدید نفرت سے شروع ہوئی تھی اس کی گہرائی اور گہری حقیقت جانتے ہوئے آنے والے وقت کا سوچ کر اسے جھرجھری سی آ رہی تھی۔ مگر سامنے والا مکمل لاپرواہ، انجان بننے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا تھا۔ ہاں مگر زندگی میں پہلی مرتبہ عالی سے بار بار نگاہیں بھی چرا رہا تھا۔
کیا مطلب عالی وضاحت دو، میر ہادی نے پھر دوسری جانب دیکھتے اس سے پوچھا۔
کچھ نہیں میر ہادی، آنے والے وقت سے تو کم از کم ڈرو، عالی نے اسے مبہم الفاظ میں سمجھانا چاہا۔
وہ آنے والے وقت میں ہی دیکھا جائے گا، فی الحال بھابھی پر توجہ دو، شادی قریب ہے، مجھے میرے حال پر چھوڑ دو عالی،
وہ کہتا وہاں سے اٹھا تھا۔
عالی بھی اس کے پیچھے اٹھ کر اس کیبن سے باہر نکلا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
عالی مجھے بتائیں لویزا کہاں، کیا کیا اس فرعون نے اس کے ساتھ ،،؟ بتائیں مجھے وہ زندہ بھی ہے کہ مار ڈالا اس وحشی درندے نے اسے ،، بتائیں مجھے،، نا بتایا تو ابھی کہ ابھی میں پولیس اسٹیشن چلی جاؤں گی، میں اسے جان سے مار ڈالوں گی،،
اجالا کو سکون آور انجیکشن دیا گیا تھا کئی گھنٹوں کے بعد اب جب وہ ہوش میں آئی تھی کب کہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی شدید پینک ہوتی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
مسٹر حمزہ اور ان کی بیگم فوزیہ (اجالا کے ممی پاپا) بے تحاشا پریشان تھے۔
اور اب جب عالیان اس سے ملنے آیا تھا تو اس نے حمزو اور فوزیہ کو تسلی دی تھی کہ وہ اسے سنبھال لے گا۔
مگر اس کے سامنے آتے ہی وہ پھر ہذیانی سی ہو کر چلائے جا رہی تھی۔
اجالا سنبھالو اپنے آپ کو میں بتاؤں گا کہ وہ کہاں اور کس حالت میں ہے پہلے خاموش ہو ،، بلکل چپ،، عالی نے اسے بازوؤں سے تھاما،
عالی اگر مجھے زرا سا بھی شک ہوا کہ اس سب میں آپ نے زرا سا بھی اس کا ساتھ دیا ہے، یا اس میں ملوث ہوئے تو میں جان لے لوں گی اپنی، یا آپ کی جان لے لوں گی، چھوڑ دوں گی آپ کو، مجھے کھونا پڑے گا آپ کو،
وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی چلائے گئی اور عالیان کےمرزا کے پیروں نیچے سے زمین کھینچی۔ وہ تڑپ ہی تو گیا تھا اس کی باتوں پر۔
ہیے اجالا مجھے کیوں دوش دے رہی ہو، یار خود کو اور مجھے کیوں اذیت دے رہی ہو، میرا کوئی تعلق نہیں اس سب سے،، سنا تم نے، میرا کوئی واسطہ تعلق نہیں، عالی نے اسے سینے میں بھینچا۔۔خبردار اجالا جو ایسی بات آئندہ منہ سے نکالی میں بہت برا پیش آؤں گا، سنا تم نے،، عالی مرزا نے اسے جھنجھوڑ کر ہوش دلانے کی کوشش کی۔
پھر عالیان اسے سب بتاتا چلا گیا، سب بتایا سوائے اس کے کہ لویزا اقبال ابھی بھی رانا میر ہادی کی دسترس میں ہے، بس اسے یہ بتایا کہ میر ہادی اور اس نے علاج کے لئے لویزا کو بیرون ملک بھیجا۔۔ عالی بہت ہی مشکل سے سنبھال پایا تھا اسے۔۔ابھی تو ان کو جانے کیا کیا جھوٹ بولنے تھے۔
اپنی زندگی میں کیا کیا جھیلنا تھا کیا کیا برداشت کرنا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
آج بارہ دن ہو چکے تھے۔ میر ہادی بظاہر اپنی روٹین میں واپس آ چکا تھا۔ اور یونی کو بھی ٹائم دے رہا تھا۔ جانتا تھا رانا میر ہاشم اور رانا میر دراب اس کی پل پل کی خبر رکھتے تھے۔
وہ اب بھی ڈاکٹرز کی زیرِ نگرانی تھی۔ اس دوران ایک فل ٹائم نرس ہادی نے اس کے لئے ہائر کی تھی۔ وہ خود بھی اپنا فری ٹائم ہاسپٹل میں ہی گزارتا تھا۔ اسے پتہ چلا تھا کہ لویزا کا کزن اسے ہر طرف ڈھونڈتا پھر رہا ہے اور یہ بات اسے شدید قسم کی ناگوار گزری تھی جانے کیوں؟
ظفر نے ہر جگہ اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی، تھانے میں رپورٹ بھی لکھوائی۔
تھانے میں رپورٹ درج ہونے کی بھی خبر رانا میر ہادی کو مل چکی تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
انہی دنوں میں سے ایک دن پولیس والوں نے ظفر کو تھانے بلایا تھا۔
وہ تھانے آیا تھا۔ انسپکٹر عارف سے ملاقات ہوئی۔
دیکھیئے ظفر صاحب ہم جو آپ کو خبر سنائیں گے وہ آپ کو صبر و تحمل سے سننا ہوگی۔ انسپکٹر نے جھجھکتے تمہید باندھی۔
کیا انسپکٹر صاحب،؟ ظفر شدید قسم کا چونکا۔
دیکھئے ہمیں ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں جلی ہوئی گاڑی میں سے ایک لڑکی کی لاش ملی ہے،، انسپکٹر کے ہر لفظ پر ظفر کے چہرے کا رنگ سفید پڑا تھا۔
آپ کہنا کیا چاہتے ہیں انسپکٹر صاحب، ظفر نے نم آنکھیں لیے پہلو بدلا۔
ہمیں ان کے پاس سے کچھ چیزیں ملی ہیں آپ ان کی پہچان کر لیں کہ وہ،
آپ کی ہمت کیسے ہوئی یہ بات کہنے کی انسپکٹر صاحب، ظفر کا چہرہ لال سرخ ہوا۔
حقیقت پسند اور بہادر بنیے ظفر صاحب ایک مرتبہ دیکھ لیں، چیک کر لیں، انسپکٹر عارف نے سنجیدگی سے کہا۔
دکھائیں، ظفر نے شدتِ ضبط کے کڑے مرحلے سے گزرتے کہا۔
تبھی انسپکٹر کے کہنے پر ایک کانسٹبل ایک پیکٹ پکڑا کر گیا جس میں ایک پرس موبائل اور کچھ جیولری تھی۔
ظفر کی نظر اس موبائل پر پڑی تو چہرہ لٹھے کی طرح سفید پڑا تھا۔
کپڑے اور باڈی تو بلکل جل چکی تھی اسی لئے ہمیں بغیر انتظار کیے آخری رسومات ادا کرنی پڑیں۔ انسپکٹر بغور اس کے ایک ایک تاثر کا جائزہ لے رہا تھا۔ (کسی کے کہنے پر)
پھر وہ ضبط کی طنابیں ہاتھوں سے چھوڑتا پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا۔ کیونکہ چیزیں اسی معصوم کانچ کی گڑیا کی تھیں جو سوکھی ریت کی طرح اس کی مٹھی سے پھسل کر جانے کس دیس جا چکی تھی۔
وہ پیکٹ سینے سے لپیٹے بچوں کی طرح روتا رہا۔ اور پھر اس تھکے ہارے مسافر کی طرح جھکے کندھوں کے ساتھ وہاں سے نکلا جیسے جسے رہزنوں نے لوٹ لیا ہو اور اس کے پاس کچھ بھی نا بچا ہو، جینے کی وجہ بھی نہیں۔
تسلی کر لینے کے بعد کہ وہ جا چکا ہے انسپکٹر عارف نے کال ملائی جو کہ دوسری بیل پر رسیو کر لی گئی۔
یس، دوسری جانب سے ٹو دی پوائنٹ گھبمیر آواز آئی۔
کام ہو گیا چھوٹے سائیں، یقین کر لیا اس نے آسانی سے، انسپکٹر نے اطمینان سے کہا۔
گڈ، کہہ کر خاموش ہوا۔
سر آپ نے کہا تھا کہ میں یہ بھی نوٹ کروں کہ اس کے کیا تاثرات تھے، تو وہ اتنا بڑا مرد بچوں کی طرح رو رہا تھا، لگتا بہت گہری چوٹ تھی، انسپکٹر نے دلچسپی سے کہا مگر سامنے والے کے ماتھے پر بے شمار بل آئے تھے۔
شٹ اپ انسپکٹر ٹو دی پوائنٹ بات کیا کرو، گو ٹو ہیل ود ہِم،، اب مجھے یہ چیپٹر کلوز چاہیے، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ،، رانا میر ہادی کا دل میں جانے کیوں جلن کی ایک انوکھی سی ٹیس اٹھی تھی تبھی پھنکارا تھا۔
اوکے سوری چھوٹے سائیں،، انسپکٹر گڑبڑا گیا۔ یہی اپڈیٹ دینی تھی ، اپ بے فکر رہیں یہ چیپٹر کلوز ہی سمجھیں، کیونکہ رپورٹ کلوز کر دی گئی ہے۔
گڈ، رقم اکاؤنٹ میں پہنچا دی جائے گی،، یہ کہہ کر فون رکھ دیا گیا تھا۔۔
ایک مرتبہ پھر ایک رئیس زادے نے قانون کو خریدتے انصاف کی دھجیاں بکھیری تھیں۔ مگر یہ زمینی ناخدا ایسا کرتے یہ بھول جاتے ہیں کہ جب خدا انصاف کرتا ہے تو بڑے بڑے ظالم جھک جاتے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
