Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

میر ہادی اندر روم میں داخل ہوا تو وہ آنکھیں موندے سکون سے لیٹی تھی۔
لویزا،،،بہت قریب آ کر اس نے پکارا۔ تو لویزا نے آنکھیں کھول کر اس کی جانب دیکھا۔ سامنے والے کی نگاہوں میں کیا کچھ نہیں تھا۔ وحشت، تڑپ، درد، خوف، کہ وہ بھی بے چین سی ہوئی۔
ہادی، پلیز گھر چلیں،، میں بہت تھک گئی ہوں،،
چلو،، میر ہادی نے اسے بازوؤں میں بھرا۔
ہادی پلیز میں ٹھیک ہوں،، چل سکتی ہوں ناں،، اس نے احتجاج کیا۔ اور اس کی بانہوں میں مچلی۔
لیزا اسٹاپ اٹ،، میرا دماغ گھوما ہوا ہے، یہ نا ہو تمھیں یہیں بےبس کر دوں، خاموش رہو اور مجھے فیل کرنے دو کے تم سہی سلامت میرے بازوؤں میں ہو،،
اس نے سنجیدگی سے کہا تو لویزا نے اس کی آنکھوں میں مزاق کی رمق کو تلاشنا چاہا جس کا شائبہ تک نا تھا خوبصورت چہرہ پر،، تبھی وہ بلکل خاموش ہوئی تھی۔
وہ اسے لئے باہر آیا۔ عالی اور اجالا جنھیں اکتا کر میر ہادی نے ہی فون کیا تھا اب اسے سہی سلامت دیکھ سکون کا سانس لیا تھا۔
وہ آ کر گاڑی میں بیٹھے۔
عالی اور اجالا آگے بیٹھے جبکہ وہ اسے لیے پیچھے بیٹھا تاکہ وہ آرام دہ حالت میں بیٹھے۔ گاڑی میں میکس کو دیکھ کر لویزا کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
او مائی کیوٹی پائی میکس،، وہ اس کی گود میں لوٹنے لگا۔
لویزا کیسے ہوا وہ سب، اور گھر وہ حشر کیسے ہوا، تم نے کسی کو کونٹیکٹ کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی،، بتاؤ مجھے سب،، اجالا نے پوچھا تو لویزا نے گہری سانس بھری جبکہ وہ قریب بیٹھا اپنی بے چین نگاہوں سے اس کے چہرے کا طواف کیے جا رہا تھا۔

میں نیند سے اٹھی اور باہر آئی اور اس ڈاکو کو دیکھ کر ڈر گئی تو گھبراہٹ میں دوسرے روم میں چلی گئی اور موبائل ادھر ہی رہ گیا،،
پھر لویزا سکون سے اپنے اوپر گزری آج کی کار گزاری سنانے لگی۔ کہ ایک مرتبہ تو اجالا اور عالی بھی اس کی ہمت، جرأت اور بہادری پر پراؤڈ فیل کر رہے تھے۔ جبکہ وہ پاس بیٹھا سب خاموشی سے سنے گیا۔

گاڑی میر لاج کے مخالف سمت جاتا دیکھ وہ حیران ہوئی۔
ہم کہاں جا رہے ہیں ہادی،،؟
ہمارے گھر،، جب تک میر لاج سے سب کلئیر نہیں ہو جاتا تب تک تم لوگ ہمارے ساتھ رہو گے،، اب کی بار بھی جواب اجالا نے ہی دیا تو اکسائٹڈ ہو گئی۔
گھر پہنچے تو رات کے ڈھائی بج چکے تھے۔ ہادی اور اجالا نے زبردستی اسے تھوڑا بہت کھلا کر اور جوس پلا کر میڈیسنز دیں۔
تب تک عالی ان کے لئے روم سیٹ کر چکا تھا۔

پھر وہ لوگ اپنے اپنے روم میں چلے گئے۔ کیونکہ رات کافی ہو چکی تھی۔
وہ اسے لئے روم میں آیا۔ اور اس کا بازو تھام کر اسے بیڈ پر لٹایا۔ جب سے وہ گاڑی میں تھا تب سے فون بج رہا تھا۔ کوٹ کی پاکٹ سے فون نکالا تو بابا سائیں اور دادا سائیں کی ڈھیروں مس کالز تھیں۔ اس نے نفرت سے موبائل کو گھورا۔ دل تو کیا فون دیوار میں دے مارے مگر اس سے لیزا پریشان ہو سکتی تھی جو اس کے چہرے کا ایک ایک تاثر اب بغور دیکھ رہی تھی۔ فون آف کر کے سائیڈ پر پھینکنے کے انداز میں رکھا۔

لویزا تو پہلے ہی پنک ٹاپ اور شاکنگ ڈھیلے ڈھالے ٹراؤزر میں تھی۔ میر ہادی بھی فریش ہو کر عالی کا دیا گیا نیو ٹراؤزر پہن آیا تھا ۔ اب وہ بلیک ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں بیڈ پر اس کے پہلو میں لیٹ چکا تھا۔
کیا ہوا آپ کو ہادی،؟ لویزا نے اس کے کندھے کا سہارا لیتے قریب آ کر اس کی وحشت سے بھر پور، لال انگارا اور بھیگی آنکھوں میں جھانکا۔
ابھی بھی پوچھ رہی ہو لیزا کہ کیا ہوا،، جانتی ہو میں تمھیں کھونے کا سوچ کر ہی کتنا ڈر گیا تھا،، حویلی سے یہاں تک کا سفر میں نے کس اذیت و تکلیف سے کاٹا،،
میر ہادی کی زبان پھسلی۔
کون سی حویلی ہادی،، آپ کہاں گئے تھے،، لویزا کے سوال پر وہ چونکا۔ اور پتہ چلا جزبات میں آ کر کیا بول گیا ہے۔ مگر اب وقت آن پہنچا تھا اسے کچھ کچھ حقیقت سے آگاہ کرنے کا ۔ کیونکہ اس کے لاکھ نا چاہتے ہوئے بھی جلد یا بدیر بچے کی وجہ سے وہ لوگ اس تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ وہ جانتا تھا۔

میرے گھر والے لیزا،، میں ان سے ملنے گیا تھا، انھیں نے تم پر اٹیک کروایا، وہ کرب سے آنکھیں میچ کر بولا تو لویزا ششدر رہ گئی۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ہادی،، اس نے حیرت سے کہا تو میر ہادی نے بختاور کو حزف کر کے حویلی والوں کے بارے میں مختصر الفاظ میں اسے بتا دیا۔ “ان کا اکلوتا بیٹا ہوں میں،،کروڑوں کی جائیداد کا ملک، تبھی اب میرے بچے کا سن کر تڑپ گئے تھے وہ،، مگر تم پر اٹیک انھوں نے ہی کروایا جس کے لئے میں انھیں کبھی معاف نہیں کروں گا نا دوبارہ مڑ کر ان کی شکلیں دیکھوں گا،، اس کی لہجے میں ان دیکھی آگ تھی جس میں وہ کب سے جل رہا تھا۔
ادھر دیکھیں میری طرف،، اس نے اس کا چہرہ ، چھوٹے چھوٹے گداز ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا “میں بلکل ٹھیک ہوں، آپ کا بےبی بھی ٹھیک ہے تو موڈ ٹھیک کریں اپنا، ویسے آپس کی بات ہے آپ کی یہ روندو شکل دیکھ کر مجھے بڑی ہنسی آ رہی ہے،، ہاہاہاہاہاہا،، یہ شوشا چھوڑ کر وہ اس کا دھیان بٹانے کو کھکھلا کر ہنسی تھی۔
میر ہادی نے اس کی جانب زخمی نگاہوں سے دیکھا۔
یو نو واٹ،، اچھی طرح جانتی ہے میری جان،، کہ رانا میر ہادی کا موڈ صرف میری جان ٹھیک کر سکتی ہے اور کیسے یہ بھی جانتی ہے،، رائٹ،
ہممممم رائٹ،، آپ یہ روندو شکلیں دراصل بنا ہی اسی لئے رہے ہیں ،جانتے جو ہوں گے، کافی کیوٹ لگتے ہیں، اسی لئے مجھے اپنے کڑوے کریلے پر بہت پیار آ رہا ہے،، وہ کہہ اسی کے کندھے پر دونوں ہاتھ کا سہارا لے کر اس کے ماتھے پر جھکی تھی۔
اسکی کشادہ پیشانی پر اپنے گداز لب رکھے تو میر ہادی نے سکون سے آنکھیں موندیں۔ اور اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے۔
اپنی جلتی آنکھوں پر میٹھی ٹھنڈی پھوار محسوس کر کے وہ سرشار ہوا تھا۔ پھر دونوں گالوں پر وہ میٹھے لبوں کی نرماہٹ محسوس کر کے ہمیشہ کی طرح اس کی رگ و پہ میں ایک سکون اور سرور سا دوڑا تھا۔
اب خوش،، وہ پوچھ بیٹھی۔
ابھی تو مزہ آنے لگا تھا میری جان ،، ہادی نے برا منایا۔

ہادی آپ مجھ سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں،، وہ پوچھ بیٹھی۔
پتا نہیں،، اس نے سرد سی آہ بھری جیسے اس معاملے میں بلکل بے بس ہو۔۔ “نا کروں تم سے محبت ،،؟ آئبرو اچکا کر پوچھا۔
نا بولوں گی تو نہیں کریں گے،، وہ بھی سیدھی ہو گئی۔۔
نہیں بھی بولو گی پھر بھی صرف اور صرف تم سے محبت کروں گا میں،،
کروٹ بدل کر اس پر حاوی ہوا۔ اور چہرے کا ایک ایک نقش چوما۔۔ بالوں میں ہاتھ پھنسا کر گردن اونچی کرتے شہہ رگ پر اپنے لب رکھے تھے۔
ہادی میں تھک گئی،، مجھے سونا ہے،، وہ اٹکتی سانس کے ساتھ اتنا ہی بول پائی۔
مگر وہ جھک کر اب اپنے بےبی کو پیار کرنے لگا تھا۔ لویزا خود میں سمٹی۔ اور ایسا ہی تو ہوتا تھا وہ اس کی شدتوں کے آگے بے بس سی،،، شیرنی سے بھیگی بلی بن جاتی تھی۔
ہا،،، دی،،، پپ،، پلیز،،، وہ بول بھی نہیں پا رہی تھی۔ وہ پیار کرتے پھر اس کی گردن تک آیا تھا۔
غلط سوال پوچھا ہادی کی جان،، ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنساتے بوجھل سی سرگوشی کی تھی۔ ” اتنی محبت کیوں نہیں، اتنی محبت کیسے کرتا ہوں یہ پوچھتی تو بتاتا کہ ایسے کرتا ہوں، کہتے اس کہ ہونٹوں کی نرماہٹوں میں مکمل مدہوش اور بے خود سا ہوتے خود کو گم کر لیا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

رات بہت بوجھل تھی کوئی بھی نہیں سو پایا تھا۔۔ رانا میر ہاشم کی ٹانگیں شل ہو چکیں تھیں بے چینی سے ادھر ادھر چکر کاٹتے آخر دو بجے کے قریب کمشنر کا فون آیا تو میر دراب نے بے چینی سے فون اٹھایا ۔
سامنے سے جو تفصیلات سننے کو ملیں میر دراب کے چہرے پر انوکھی سی چمک ہی آئی تھی۔ انھوںنے نے فون رکھ دیا۔
اب بتاؤ گے بھی کہ کیا ہوا،؟ رانا میر ہاشم غرائے۔

ادھ مری حالت میں ہسپتال میں ہے،، میر دراب نے اطمینان سے کہا تو میر ہاشم شکست خوردہ سے صوفے پر ڈھے سے گئے۔
آپ کا بھیجا ہوا غنڈہ، ادھ مری حالت میں ہسپتال میں ہے، میر خاندان کی بہو نے اپنی عزت کی حفاظت کرتے ہوئے اسے مار مار کر ادھ مرا کر دیا،،
میر دراب نے اطمینان سے کہا تو سب پہلے تو حیرت سے ان کا منہ دیکھے گئے پھر سب کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے تھے۔
بختاور سکون سے کھڑی یہ سب کاروائی دیکھ اور سن رہے تھے۔
میر ہادی کا کال ملاؤ، میری بات کرواؤ اس سے، بچے کا پوچھو، ٹھیک تو ہے ناں،، رانا میر ہاشم اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑے ہوئے اور میر دراب کے پاس آئے۔

وہ کافی دیر دونوں ہادی کو کال ملاتے رہے مگر اس نے فون نہیں اٹھانا تھا نا اٹھایا۔ پھر آخر کار اس نے فون سوئچڈ آف ہی کر دیا تو میر ہاشم اس کی بدتمیزی اور اکڑ پر بھنا کر ہی رہ گئے۔ مگر جانتے تھے اب اسے منانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا آخر اپنے ضدی، سر پھرے اور اکھڑ پوتے کو جانتے جو تھے۔
وہ اس کا دوست ہے عالیان اس کو کال ملاؤ یار،، وہ سخت تلملا کر جھنجھلائے سے بولے۔
میر دراب نے اسے کال کی جو کہ تیسری بیل پر رسیو کر لی گئی تھی۔
اسلام و علیکم بابا سائیں،
وعلیکم السلام، میر ہادی اور بہو کہاں ہیں، بہو اور بچے کے بارے میں پوچھنا تھا،، وہ فون نہیں اٹھا رہا بلکہ بند کر دیا فون،
بھابھی بلکل ٹھیک ہیں اور بےبی بھی بلکل ٹھیک ہے، بلکہ وہ ادھر ہمارے پاس ہی ہیں، ڈاکٹر نے بھابھی کو آرام کرنے کا بولا تھا تو وہ سو گئے ہوں گے، عالی نے انھیں تفصیل بتائی۔
کسی اچھے سے ڈاکٹر کو چیک کروایا تھا نا بہو کو، مطلب کوئی بھی کسی بھی قسم کی پریشانی کہ بات تو نہیں ہے ناں،
نہیں، نہیں کوئی پریشانی کی بات نہیں بابا سائیں وہ بلکل ٹھیک ہیں،، عالی کو سمجھ نا آئی انھیں کیسے تسلی دے۔
ٹھیک ہے ہم صبح آئیں گے بہو سے ملنے اور اسے دیکھنے ، ہادی کو مت بتانا اور اسے کہیں جانے بھی نا دینا، اسے میرا حکم سمجھنا، وہ کہتے اسے تنبیہہ کرتے فون رکھ گئے۔ عالی نے ایک سرد سی آہ بھری۔۔

کیا کہا اس نے،، میر ہاشم نے پوچھا۔
ٹھیک ہے وہ اور بچہ بھی بلکل ٹھیک ہے،، میر دراب نے سکون سے کہا تو میر ہاشم کو اب کہیں جا کر سکون آیا تھا۔
بابا سائیں اتنی رات ہو گئی ہے اب آپ کو آرام کرنا چاہیے،، آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی،، میر دراب نے کہا تو اتنی ٹینشن کے دوران وہ پہلی مرتبہ مسکرائے تھے۔
اب تو اس الو کے پٹھے کو دیکھ کر ہی سکون آئے گا، چلو سب آرام کرو، صبح گاڑیاں تیار کروا دینا جانا ہے مجھے،،
وہ کہتے اٹھ کر سینہ تانے اپنے روم کی جانب گئے۔

❤️❤️❤️❤❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤❤️❤️❤️❤️❤️

صبح لویزا کی آنکھ دس بجے کھلی میر ہادی گہری نیند میں تھا۔ وہ کافی دیر سے جگا رہی تھی مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ الٹا اسے بھی کھینچ کر اپنی آغوش میں لے لیا۔ جو اب اجالا کے دئیے گئے ایک خوبصورت سرخ فراک میں تھی۔
سو جاؤ ایلو،، بڑی سکون کی نیند آ رہی ہے قسم سے،، بوجھل سی آواز میں وہ بولا تو وہ جھنجھلائی۔
میر ہادی کیا ہے آپ کو، اٹھیں ناں یا آپ کو اٹھانے کے لئے لاؤں اپنا بیلن،،
لیزا کی دھمکی پر اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں۔
آں ہاں رانا میر ہادی کو دھمکی،، اس نے اپنے سر کے نیچے بازو فولڈ کر کے رکھا لویزا بمشکل خود کو چھڑاتی اٹھ کر بیٹھی۔
جی بلکل،، دھمکی ہی سمجھ لیں،، وہ انگلی اٹھا کر وارننگ دینے والے انداز میں بولی۔
ویسے اس غنڈے کو تو روز، رات کو خواب میں بھی تم ڈرایا کرو گی ایلو،، وہ گہرا مسکرایا۔
جی بلکل،، وہ تو اپنے بیٹوں کو بھی یہی بولا کرے گا،، بندے دے پتر بن جاؤ اور ہمیشہ عورت کی عزت کرنا نہیں تو لیزا آ کر چٹنی بنا دے گی،، وہ کھلکھلا کر ہنسی۔
ویسے میری جان بہت بریو ہے،، وہ اس ساتھ لگا کر فخر سے بولا۔
ہممم بابا بھی یہی کہتے تھے،، وہ کھوئی کھوئی سی بولی۔
واٹ،، لیزا تمھیں کیسے پتہ، میر ہادی کی سانس اٹکی۔

وہ چونکی،، پتہ نہیں ہادی،، خودبخود ہی زبان سے ادا ہو گیا، اسکی آنکھیں نم ہوئیں۔
ہیے ڈونٹ یو ڈئیر،، سب ٹھیک ہو جائے گا، وہ پھر سے اس ٹاپک کو چھیڑنا بھی نہیں چاہتا تھا۔
ویسے آپ بھی اب بچ کے رہنا مجھ سے،، وہ آئبرو اچکا کر بولی تو میر ہادی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
جی جی بلکل میری لیڈی موگیمبو،، وہ انسلٹ کہاں بھولی ہے جو میر لاج میں ہوئی تھی میری،، وہیں تو دل کو لگی تھی ٹھاہ کر کے، اسی نے تو نیندیں حرام کیں تھیں اس نا چیز کی،، وہ بھی اب کھویا سا بولا تو لیزا دلچسپی سے سننے لگی۔
ہادی ایسا ہوا تھا کیا،، آپ پچھلی پاسٹ کی کوئی بات سناتے ہی نہیں، اگر سنائیں تو کیا پتہ مجھے سب یاد بھی آ جائے،، اور میں پاپا سے مل پاؤں، وہ اداسی سے بولی تو میر ہادی کے اندر کچھ چھن سے ٹوٹا اور دل یک دم سکڑ کر پھیلا۔ اپنی بے وقوفی پر خود کو جی بھر کر کوسا کہ آخر یہ ٹاپک چھیڑا ہی کیوں۔
ابھی اسے کچھ کہتا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
لویزا بوکھلا گئی۔ اور بیڈ سے نیچے اتری۔
میر ہادی نے اٹھ کر اپنی شرٹ پہنی۔

اٹھ کر ڈور کھولا تو سامنے عالی کو تذبذب کا شکار جھجھکتے کھڑا دیکھ کر حیرت ہوئی ۔
خیریت عالی،،
نو ہادی خیرت نہیں یار،، حویلی سے مہمان آئے ہیں، مطلب دادا اور بابا سائیں،، حتیٰ کے اماں سائیں ، آنٹی اور بختاور بھابھی بھی ساتھ ہیں،، وہ دھیمے لہجے میں بولا تو میر ہادی غصے سے پاگل ہوا تھا۔
واٹ،، ہاؤ ڈئیر دیم، ہمت کیسے ہوئی ان کی یہاں آنے کی، قاتلانہ حملہ کروا کر اب تماشہ دیکھنے آئے ہیں کہ بچ گئی کہ نہیں، اور انھیں یہ کس نے بتایا کہ ہم ادھر ہیں،، وہ دھواں دھواں چہرہ لیے غرایا۔
مجھے فون کیا تھا پوچھ رہے تھے تو میں نے بتا دیا، یار مجھے کیا پتہ تھا وہ واقعی آ ہی جائیں گے،، اب
تم چلو میں آتا ہوں،، عالی گیا تو وہ واپس مڑا۔
لیزا، وہ پریشان سا اس کی جانب آیا، اندر سے ڈور لاک کر لو ، کچھ دیر تک آ جاؤ گا، مگر تم باہر نہیں آؤ گی،
مگر ہوا کیا ہادی، آپ ایسے کیوں،
کچھ نہیں ہوا ہے، آ کر بتاتا ہوں، مگر تم باہر نہیں آؤ گی ، رائٹ، جانے کیوں وہ انگارے چبا رہا تھا۔ لیزا نے اثبات میں سر ہلایا وہ باہر گیا تو لویزا نے اٹھ کر ڈور لاک کر لیا۔

Continue,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️