Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 36
No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
لویزا یونہی بےجان سی بیڈ پر نیم دراز تھی۔ ہلنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ رانا میر ہادی ان لوگوں کو ہاسپٹل سے کیوں واپس لایا۔ ڈاکٹرز نے زارون کے متعلق کیا کہا۔ اس کا آگے علاج کیسے ہوگا۔
ہاں مگر اس کے آنے سے یوں ہوا تھا جیسے سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔ ہر چیز اپنی جگہ پر واپس آ گئی تھی۔۔
ہر غم، فکر مصیبت پریشانی دور ہو گئی تھی۔
لویزا نے نروٹھے پن سے بیٹے کو گھوری سے نوازا جو اپنے بابا کی موجودگی میں اسے زرا کم ہی لفٹ کروا رہا تھا۔ وہ میر ہادی سے باتوں میں اس قدر مگن تھا کہ ایک مرتبہ بھی جیسے اپنی ماں کا خیال نہیں آیا تھا حالانکہ اس کے ہاتھ پہ کینولہ بھی لگا ہوا تھا۔
عام ، پہلے جیسے دن ہوتے تو زارون اس کا دماغ کھا جاتا یہ پوچھ پوچھ کر کے اسے کیا ہوا ہے وہ لیٹی کیوں ہے، ہاتھ پر کیا لگا ہے؟
مگر وہ اس کی جانب متوجہ ہوتا تب ناں۔
اور یہ بات لویزا کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
بابا آپ مجھے اور مما کو گھمانے لے جائیں گے ناں،، زارون کا فرمائشی پروگرام جاری ہوا۔
میر ہادی نے اسے گود میں اٹھایا ہوا تھا کن اکھیوں سے اس دشمنِ جاں کو دیکھا۔ جو بیٹھی بری طرح اپنے لب کاٹ رہی تھی۔
چلو چیمب، آپ دادو کے پاس جاؤ، میں آتا ہوں،، ویسے بھی مما کی طبیعت ٹھیک نہیں تو وہ ریسٹ کریں گی،، میر ہادی نے کہا تو زارون چونکا۔
مما آپ کو کیا ہوا ہے،؟ فائنلی اسے خیال آ ہی گیا۔
شکر ہے میرے بیٹے کو مما کا خیال آگیا،، لویزا نے جھنجھلا کر کہا ۔ زارون تو ہونق سا بنا کھڑا رہا جبکہ میر ہادی نے چہرہ جھکا کر اپنی مسکراہٹ لبوں تلے دبائی تھی۔
مما واقعی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں یو نیڈ ریشٹ،، زارون کہتا اس کے گال تھپتھپا کر اس کی بات سنے بغیر ہی باہر بھاگ گیا۔ وہ جھلائی۔
کیسی ہو،،؟ میر ہادی نے ہی بات کا آغاز کیا تین سالوں نے جیسے اجنبیت کی دیوار سی کھڑی کر تھی ان دونوں کے بیچ۔
ٹھیک ہوں،، مختصر سا جواب دیا۔ لویزا سمجھ نہیں پا رہی تھی کیسے ری ایکٹ کرے۔ ایک تو اسے اس بات کی سزا تھی جو گناہ اس نے کیانہی نہیں تھا مگر پھر بھی مجرم تو وہ تھا
اس کا آخری دنوں کا رویہ وہ اب تک ہر گز بھول نہیں پائی تھی اور نا ہی بھولنے کے موڈ میں تھی۔۔
جبکہ وہ سامنے کھڑا حسب عادت اپنی پشت پہ اپنے ہاتھ باندھے، بغور اس کے چہرے کے ایک ایک اتار چڑھاؤ کا جائزہ لے رہا تھا۔
آپ نے مجھے،،، لویزا کی کہتے کہتے زبان لڑکھڑائی۔ میر ہادی نے بمشکل اپنی مسکراہٹ روک رکھی تھی۔
کیا میں نے تمھیں،،، میر ہادی کا لہجہ معنی خیز تھا، اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ وہ کیا پوچھنا چاہتی ہے ابھی ابھی جو کچھ دیر پہلے اس نے کارگزاری کی تھی اس کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہے مگر میر ہادی بلکل انجان بن گیا۔
کچھ نہیں،، وہ جھلائی اور کمفرٹر میں منہ دے لیا۔
میر ہادی کھل کر مسکرایا۔ ایک گہری نگاہ اس پر ڈالی اور باہر نکل آیا۔
اب کی بار تہیہ کر کے لوٹا تھا کہ خود کو اس پر مسلط نہیں کرے گا، کوئی زور زبردستی نہیں کوئی کھینچا تانی نہیں ۔ اسے مکمل اس کی رضا سے حاصل کر گا۔ہر وہ کام کرے گا جس میں اس کی خوشی ہوگی۔ سکون ہوگا آسودگی ہوگی۔
جب وہ خود اپنے آپ کو اپنی مکمل رضا مندی سے اس کے سپرد کرے گی تب ہی اس کے قریب جائے گا ۔ نہیں تو نہیں ۔
بلکل بھی نہیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ اپنی ہی سوچوں میں ڈوبا اپنے دوسرے روم میں آیا تو وہاں بخت کو دیکھ کر حیران پریشان ہو رہ گیا۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو بختاور،، میر ہادی نے سنجیدگی سے پوچھا۔ سامنے وہ گنگ سی کھڑی کافی دیر کچھ بول ہی نا پائی تھی۔
او پلیز،،،، اب یہ مت کہنا کہ میرے ڈائیورس دینے کے باوجود تم اتنی ہمت نہیں کر پائی کہ سب کو یہ بتا دو کہ میں تمھیں ایک سال پہلے ہی ڈائیورس دے چکا ہوں اور ابھی تک تم جیسی بزدل اور کم ہمت نے اس بیچارے کو انتظار کی سولی پر لٹکایا ہوا ہے،، میر ہادی نے جھنجھلا کر کہا ۔
بختاور نے بےبسی سے اپنے لب کاٹے۔
آپ نے سچ کہا ، میں رانا لویزا میر ہادی جتنی بہادر نہیں ہوں، جو اپنی نسوانیت کی حفاظت کی خاطر زمرد جیسے بدتمیز بندے سے بھی بھڑ گئی تھی، میں بختاور ہوں، کم ہمت اور بزدل، اور ویسے بھی مجھے زمرد کے ہاتھوں غیرت کے نام پر قتل نہیں ہونا تھا، بلکہ خود جان دے بھی دیتی مگر ان کو میری خود غرضی کی وجہ سے زرا سی بھی آنچ آتی تو میں اپنے آپ کو کبھی معاف نا کر پاتی ،، بختاور نے بےبسی سے کہا۔
بڑا خیال ہے اس کا،، میر ہادی نے اسے دوستوں کی طرح چھیڑا بھی اور افسوس سے سر بھی ہلایا۔
“چادر لے کر باہر آؤ فٹا فٹ، میں گاڑی میں تمھارا ویٹ کر رہا ہوں،، میر ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔
ہم کدھر جا رہے ہیں میر ہادی،، آپ مجھے اس حویلی سے نکال رہیں ہیں،، میں اپنی حویلی ہر گز نہیں جاؤں گی،، بخت نے بے یقینی سے کہتے اپنی ہی ہانکے گئی اور ٹپ ٹپ آنسو بہانے لگی۔
او کم آن بخت،، یہ میلو ڈرامہ بند کرو اور تیار ہو کر باہر آؤ،، میر ہادی کہتا وہاں سے نکلا۔
باہر گاڑی تک آ کر اس نے فون نکال کر ایک نمبر ملایا تھا۔
ابھی نہیں تو کبھی نہیں،،
وہ جو ہر معاملہ سیدھے کر دینے کے پختہ ارادے لیے واپس لوٹا تھا اب ان کاموں میں ایک پل کی بھی تاخیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
آج سے تقریباً سال پہلے وہ شخص اس کے پاس امریکہ ہی چلا آیا تھا اور اس کے الفاظ نے کئی راتوں تک میر ہادی کو سونے نہیں دیا تھا۔
بہت خوب رانا میر ہادی، کئی جانوں کو انتظار کی سولی پر لٹکا کر یہاں کم ہمتوں کی طرح منہ چھپائے بیٹھے ہو، تمھاری محبت، تمھارا عشق، تمھاری ناراضگیاں، تمھارا روٹھنا منانا،، ہر چیز، تمھاری اور تمھاری محبت رانا لویزا میر ہادی کی،،، تو زرا مجھے یہ بتانا پسند کرو گے کہ اس سب میں بختاور کہاں ہے، تمھاری کہانی میں بختاور کا کیا کردار ہے یا تمھاری زندگی میں بختاور ایک ایسی ناکارہ اور فالتو چیز ہے جو بس ایک کونے سے لگی پڑی رہے گی، میں پوچھتا ہوں آخر اس کا قصور کیا ہے، یا تو اسے سہی طرح اپناؤ یا سہی طرح چھوڑ کر اس کی جان بخش دو، آزاد کر دو اسے رانا میر ہادی،،
اور مجھے یہ سب کہنے والے آپ کون ہوتے ہیں زرا مجھے بھی تو پتہ چلے،، رانا میر ہادی نے آئیبرو اچکا کر اس سے پوچھا تھا۔
کیوں، غیرت جاگ گئی رانا میر ہادی کی، افراسیاب نے اطمینان سے بے خوف ہو کر پوچھا تھا۔
نہیں، شاید انسانیت جاگ جائے،، میری ہادی نے بھی دوبدو جواب دیا تھا۔
تو پھر کسی غیر کے نام سے اپنی نام نہاد بیوی کا نام سن کر مرچی لگی ہے تو سن لو، وہ غیر نہیں ہے میرے لیے، میری رگوں میں خون بن کر بسی ہے، عشق ہے میرا، پانا چاہتا ہوں اسے، اس بے نام کے کھوکھلے رشتے سے آزاد کر دو اسے رانا میر ہادی، تاکہ میں اسے وہ خوشیاں دے سکوں جن کی وہ حقدار ہے،،
افراسیاب نے اب بھی بے خوف ہو کر اطمینان سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اظہارِ محبت کیا تھا۔
اور وہ کیا چاہتی ہے یہ مجھے کیسے پتا چلے گا،، میر ہادی نے بھی سکون سے پوچھا تھا۔
وہ مجھے ہی چاہتی ہے مگر زبان سے کبھی نہیں کہے گی، تم میری آنکھوں میں اس کی سچائی اور مرضی ڈھونڈ سکتے ہو،،
تبھی رانا میر ہادی نے بڑے اطمینان سے ڈائیورس پیپر بنوا کر ان پر سائین کر کے افراسیاب کے ہاتھ ہی بختاور کو اس کی آزادی کا پروانہ لکھ بھیجا تھا۔
مگر اس بزدل لڑکی نے ایک سال مزید ضائع کر دیا تھا۔
وہ اپنی ہی سوچ میں غلطاں تھا جب بخت کی آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
میر ہادی ہم کدھر جا رہے ہیں،، بخت نے بے چین سا ہو کر انگلیاں چٹخائیں۔
شٹ اپ بخت گاڑی میں بیٹھو،، رانا میر ہادی نے جھنجھلا کر کہا تبھی وہاں زارون چلا آیا تھا اور آ کر میر ہادی کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔
بابا جانی میں بھی شات جاؤں گا،،، زارون نے کہا تو وہ مسکرایا۔
ڈن،، چلو،، میر ہادی نے اس گود میں اٹھایا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے بخت کی گود میں تھمایا۔
(دور کوئی کھڑکی سے یہ منظر بڑے دکھی دل سے دیکھ رہا تھا۔ رانا لویزا میر ہادی کی نیند سکون چین برباد کرنے والا لوٹ آیا تھا تو یہاں نیند کس کم بخت کو آنی تھی تبھی وہ لاؤنج تک آئی تھی مگر کھڑکی سے یہ مناظر دیکھ جی جان سے جل کر راکھ کا ڈھیر ہوئی تھی۔ تبھی بے آواز آنسو بہاتی پھر اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی)
رانا میر ہادی گاڑی لے کر نکلا تھا۔
بابا جانی ہم کدھر جا رہے ہیں،، زارون نے کہا۔
یہ سیکرٹ ہے، میرا، زارون بےبی کا اور چھوٹی مما کا،، پرامس کرو کسی سے شئیر نہیں کرو گے،،
اوکے،، پرامش،، زارون نے بڑوں کی طرح سمجھداری سے اثبات میں سر ہلایا۔
بخت کا کلیجہ اس وقت منہ کو آیا جب آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد گاڑی کورٹ کے باہر کھڑی تھی۔۔ اس نے زارون کو دیکھا جو ہینڈ فری لگائے موبائل میں کارٹون دیکھنے میں مگن تھا۔
ی،،،ککک کیا میر ہادی،، ہم،، یہاں، کک،، کیوں ائے ہیں،، بختاور گھگھیا ہی گئی۔
گول گپے کھانے،، بندہ کورٹ کیوں آتا ہے، میرج کرنے، میر ہادی نے اطمینان سے کہا بخت کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
کک،،، کس کی میرج،، بخت کا ہاضمہ خراب ہونے لگا تھا۔
تمھاری،، میر ہادی کے اطمینان میں رتی برابر بھی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
کک،،، کس سے،،
اب ڈائیورس دے کر دوبارہ تو تم سے میرج کرنے سے رہا، اسی سے کروا رہا ہوں جو تم سے میرج کرنے کے لئے اتنا اوتاؤلا تھا کہ میرے پیچھے تمھاری ڈائیورس لینے کے لئے امریکہ تک جا پہنچا،،، میر ہادی نے بخت کے سر پر بم پھوڑا۔
بخت کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا۔
میر ہادی ماسک پہن کر گاڑی سے باہر نکلا اور ادھر ادھر دیکھا۔ تبھی افراسیاب کی گاڑی ان کی گاڑی کے پاس آ کر رکی تھی اور وہ خوبرو شخص ہونٹوں پر دلفریب مسکان سجائے گاڑی سے باہر نکلا تھا۔
بخت کا تو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والا حساب تھا۔
یہ تم پر کیوں سکتا طاری ہو گیا ہے اسے دیکھ کر یا خوشی میں،، میر ہادی نے صاف اسے چھیڑا تو وہ بخت کا سل کیا زمین پھٹے اور وہ شرم کے مارء اس میں سما جائے۔ میر ہادی کے پرزور اسرار اور دھمکی پر اسے گاڑی سے باہر آنا پڑا ۔
افضل بھی حیران سا گارڈز کے ساتھ ایک جانب ہو کر کھڑا تھا۔
تبھی افراسیاب مسکراتا ان کے قریب آیا اور یر ہادی کے سامنے ہی اسے بے شرموں کی طرح سر تا پا گہری نگاہوں سے دیکھا۔
کیسی ہو،،
یہ سب کیا ہے سیاب،، بخت نے دانت کچکچائے۔ جیسے دانتوں کے نیچے سیاب کی گردن ہو۔
بتایا تو ہے کئی مرتبہ بخت عشق ہے،، اس نے ڈھیٹوں کی طرح مسکراتے دل پھینک انداز میں کہا تو میر ہادی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا جب کے بخت نے ہاتھ میں پکڑا ہینڈ بیگ ہی سیاب کے سر پہ بجا کر اسے ہوش دلانے کی کوشش کی تھی۔۔
اب چلو اندر، کہ ادھر ہی سارا حساب کتاب بےباک کرنا ہے،، میر ہادی نے پھر تیلی دکھائی۔ سیاب کو تو کوئی فرق نا پڑا جبکہ بخت پر پھر گھڑوں پانی گرا تھا۔
جلدی سے قدم اندر بڑھائے۔
یہ آپ کی مسز ٹو بی کو کچھ زیادہ ہی جلدی نہیں افراسیاب،، میر ہادی کی زبان میں پھر کھجلی ہوئی۔
بخت کو اب صاف پتا چل چکا تھا کہ وہ دونوں جان بوجھ کر اس کی جان ہلکان کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آخر وہ تنگ آ کر رو ہی پڑی۔
وہ دونوں ہی بوکھلا گئے۔
“بخت دماغ خراب ہے جج صاحب کیا سوچیں گے کہ ہم تمھارے ساتھ شاید زبردستی کر رہے ہیں خاموش ہو جاؤ،، کافی چپ کرانے کے بعد بھی جب اس نے اپنا راگ بند نا کیا تو سیاب جھنجھلا کر بولا۔
الله الله کر کے کافی کھیل تماشوں کے بعد یہ نیک کام سرانجام پا ہی گیا۔ اور بخت محترمہ اتنے کٹھن انتظار، اتنی طویل فرقتوں، درد کٹھنائیوں کے بعد افراسیاب کا بخت ٹھہری۔
مسکراہٹ افراسیاب کے لبوں سے جدا نہیں ہو پا رہی تھی۔
بخت بھی شرمائی لجائی سی تھی۔ تبھی جلدی سے آ کر گاڑی میں زارون کے پاس، آ کر بیٹھ گئی۔
کہاں محترمہ جاؤ اپنے شوہر کے ساتھ اب تو ہماری جان چھوڑ دو،، میر ہادی نے مصنوعی اکتاہٹ سے کہا۔ سیاب نے دوسری جانب رخ پھیر کر مسکراہٹ دبائی۔ جس سے صاف ظاہر تھا وہ پھر اسے ہراساں کر کے حظ اٹھا رہے ہیں۔
مم،، مگر،، مم،،،،،میر ہادی،،، وہ حسب معمول پھر خوف کے مارے مرنے والی ہو گئی تو وہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
بخت کو دل کیا ان دونوں کے ہی سر پھوڑ دے اس وقت کو کوسا جب وہ ان دو فرعونوں کے ہتھے چڑھ گئی تھی۔
پھر انھوںنے نے لاکھ جتن کیے، مگر وہ جو روٹھ کر خاموش ہوئی بول کر نا دی۔ زارون کے بہانے آئسکریم بھی کھائی اور کافی گھومے پھرے بھی ۔
مگر افراسیاب بخت کے منہ پر نو لفٹ کا بورڈ دیکھ کر دل مسوس کر رہ گیا۔
اینڈ پر میر ہادی جب انھیں لیے حویلی کے لئے آنے لگا تو افراسیاب نے منہ پر ہاتھ پھیر کر اس سے ایک ایک بدلہ لینے کی دھمکی کا اشارہ بھی کیا۔
مگر وہ صاف اسے منہ چڑھا کر کالر جھاڑ کر شان سے گاڑی میں سوار ہو گئی جیسے کہہ رہی ہو،
(میری نکلی زبان چپ پڑتی نہیں 🤭🤭)
چاہے مار، چاہے کُوٹ میں بھی ڈرتی نہیں 😂)
وہ حویلی لوٹے تو بخت گاڑی سے باہر نکلی۔ زارون گاڑی سے نکل کر اندر بھاگ گیا۔ بخت میر ہادی کے سامنے آئی۔
شکریہ،، شرماتے کہا گیا۔
مگروں لتھو(جان چھوڑو)،، میر ہادی نے جان بوجھ کر چھیڑا اور ہاتھ جوڑے۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔
(اور وہ اندر جلے پیر کی بلی بنی جو پوری حویلی میں بھٹکی آتما بنی گھوم رہی تھی پھر ایک مرتبہ جیسے جل کر بھسم ہوئی تھی)
ہادی وہ دیکھ رہی ہے ہمیں اور کچھ اور سمجھ رہی ہے،،، بخت نے کہا جسے لاؤنج کی ونڈو میں سے اس کا آنچل نظر آیا تھا۔
شاید اسے فرق نا پڑے،، وہ گہری اذیت اور دکھ سے بولا شاید اپنی محبت کی جانب سے کچھ زیادہ ہی مایوس تھا۔
وہ جاتے وقت بھی ہمیں دیکھ رہی تھی،، بخت نے کہا۔ اور مجھے لگتا ہے وہ جیلس ہو رہی ہے،،
تب تو یہ خوشی کی بات ہے اور اچھا سائن ہے، میرے لئے، جیسے میں اس کے سائے پہ کسی کا سایہ بھی برداشت نا کروں، کاش وہ ایسی ہی محبت مجھ سے کرے،، میر ہادی کے لہجے میں حسرتوں کا قیام تھا۔
بخت کو افسوس ہوا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
پرتکلف ڈنر کا اہتمام تھا۔ سب ٹیبل پر موجود تھے۔ کافی رونق اور ہلا گلا تھا۔ آج تو بخت بھی چڑیا بنی چہچہا رہی تھی۔ بات بات پر قہقہے لگائے جا رہے تھے۔ مگر ان میں ایک وجود تھا جو بے چین سا تھا۔
محبت نے گھٹن سی بن کر جسم میں سوئیاں سی چبھو ڈالیں تھیں جیسے۔
تبھی لویزا نے جلد ہی کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ وہ اٹھنے لگی۔
ارے بیٹا سہی طرح کھانا تو کھاؤ، پہلے ہی اتنی کمزور ہو، ڈاکٹر نے بھی ڈائیٹ کا خیال رکھنے کو بولا، ممتاز بیگم نے اسے اٹھتے دیکھ ٹوکا۔
امی میرا پیٹ بھر گیا، لویزا نے آہستگی سے کہا۔
اے ہیے یہ آج کل کی بچیوں کا پیٹ ہوتا ہے یا ماچس کی ڈبیا جو دو نوالوں میں بھر گیا، اے بہو پہلے ہی اتنی کمزور ہو، زرا کھاؤ پیو، جان بناؤ، تبھی تو آگے بچے پیدا کر پاؤ گی،، اور مجھے تو جلد ہی خوشخبری سننی ہے،، ہمیں زارون کا بھائی یا بہن چاہیے کیوں زارون،،
امائیں سائیں سب کے سامنے چمک کر بولیں تھیں۔ لویزا کو کہیں چھپنے کی جگہ نا ملی۔ میر ہادی کو خوہ مخواہ پانی پیتے اچھو لگ گیا تھا۔
لویزا جلدی سے اپنے روم میں آئی اور اندر آ کر ہی سانس لیا تھا۔
اے لو،،، شرما گئی،، اماں سائیں نے پھر شوشا چھوڑا۔
بخت نے چھیڑنے کے انداز میں میر ہادی کو دیکھ کر آئیبرو اچکائی۔
میر ہادی نے اسے گھورا۔
ڈنر ہو چکا تو سب لاؤنج میں بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف رہے۔
بخت ہادی کو چھیڑتی رہی۔ اسے کیا معلوم تھا آج کی شام تو اس پر بھی بھاری ہے۔ کوئی اس کے کسے بل نکالنے کی فل پروف پلاننگ کیے بیٹھا ہے۔۔۔۔
Continue,,,,,,,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
