No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
رانا میر ہادی کی لینڈ کروزر یونی کی پارکنگ میں رکی تھی افضل نے بھاگ کر گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔
آج وہ رائل بلو ٹو پیس میں شاندار مردانہ وجاہت لیے ہوئے حسبِ معمول ہزاروں دلوں کی دھڑکن دھڑکاتا آگے بڑھا تھا جب سیما اس کے سامنے آئی۔۔
بلینئر بزنس مین باپ کی بگڑی اولاد جو شروع دن سے میر ہادی میں دلچسپی رکھتی ہے مگر میر ہادی یونی کی سب لڑکیوں کے لئے چکنا گھڑا ہی ثابت ہوا تھا جسے ان میں سے کسی سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
وہ یونی کی حسین ترین لڑکیوں میں شمار اورنج شارٹ ٹاپ اور بلیک جینز میں (بغیر کسی سکارف کا تکلف کیے) ہلکے میک اپ کے ساتھ اس کے سامنے تھی۔
ہائے میر، ہاؤ آر یو، وہ فرینک ہوئی۔
فائن، تم سناؤ، وہ بولتے ہوئے آگے۔۔
I’m fine too,, Can we go for dinner tonight?
وہ ڈائریکٹ اپنے مطلب کی بات پر آئی۔
نو، ہوسکتا ہے مجھے آج رات گاؤں جانا پڑے، بزی ہوں، میر ہادی کا پختہ لہجہ سیما کا منہ لٹک گیا مگر اس کے پیچھے اور ساتھ ساتھ چلنے سے پھر بھی باز نہیں آئی تھی۔
وہ یونی کے طویل ترین کوریڈور میں سے گزر رہا تھا جب سامنے سے وہ سی گرین فراک پاجامے میں وائٹ حجاب سٹائل دوپٹہ شفاف و معصوم چہرہ لیے اس کی جانب ہی آتی دکھائی دی۔
اس کی چال میں واضح دھیما پن آیا تھا۔ جو کہ ساتھ چلتی سیما بھی محسوس کر کے اپنی جگہ ٹھٹھکی تھی۔
لویزا جو کوریڈور سے اپنی کلاس کی جانب جا رہی تھی۔ اپنی فائل سے نگاہ سامنے اٹھی تو یوں لگا جیسے حلق میں کڑواے بادام گھل گئے ہوں۔ سامنے سے وہ گھمنڈی ، انتہائی بددماغ اور بد تمیز شخص آتا دکھائی دیا ۔ تبھی بلکل اچانک لویزا نے اپنا راستہ بدلا تھا۔ اور سامنے آتی آتی، گراؤنڈ کی جانب ہی مڑ گئی تھی۔
میر ہادی بری طرح چونکا تھا۔ ماتھے پر بے شمار بل آئے تھے۔
اونہہہہہہہ توجہ حاصل کرنا کا سستا اور گھٹیا ترین حربہ، وہ دل میں سخت تلملاتے بھنایا تھا۔
آج تک کسی لڑکی نے اسے اگنور نہیں کیا تھا کجا کہ اسے دیکھ کر اپنا راستہ ہی بدل لے۔ تبھی وہ دل میں سخت قسم کا جھنجھلایا تھا۔ اور پیر پٹختا اپنی کلاس کی جانب گیا۔ سیما نے غور سے اس لڑکی کی پیٹھ کی جانب دیکھا تھا۔
مگر یہ رانا میر ہادی کی خام خیالی ہی رہی کہ وہ توجہ حاصل کرنے کو یہ حربہ آزما رہی ہے۔ اسے اگنور کر رہی ہے۔
آج پورا ایک ماہ ہو چکا تھا اس تماشے کو، حتی کے یہ بات عالی اور اس کے قریبی جاننے والے بھی نوٹ کر چکے تھے۔ کہ
وہ جہاں بھی اس سے ٹکراتی اسے دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔ اور میر ہادی جیسے گھمنڈی، مغرور اور انا پرست شخص کو اپنی وہ ہتک اور بے عزتی محسوس ہوتی کہ اب اس کا برداشت ، طیش و اشتعال کا پیمانہ عنقریب چھلکنے ہی والا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ دونوں لائبریری میں بیٹھی ضروری نوٹس ریڈ کر رہی تھیں۔ جب اجالا کو جانے کیا دورا پڑا تھا جو اس کا پین اچانک چھین لیا۔
بسسسس،، لویزا میں اور تم سے نہیں چھپا سکتی،، ایکچوئلی میں تمھیں کسی سے ملوانا چاہتی ہوں،
Because I’m in love,,,,,
اور عنقریب ہماری ڈائریکٹ شادی ہونے والی ہے،،
اجالا نے ایک ہی سانس میں بول ڈالا تو لویزا نے پہلے اچنبھے سے اسے دیکھا، پھر سمجھ آنے پر اپنی بک سے اس کی پہلے جی بھر کر درگت بنائی۔
یو چیٹر کاک، بدتمیز، کمینی،، تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اتنی بڑی بات چھپانے کی،، ہاؤ ڈئیر یو بیغیرت دوست،، لویزا نے جزبات میں آ کر اردو انگلش مکس کی۔ تو اجالا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئی۔
مگر عالیان مرزا کو اپنی جانب آتا دیکھ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
زرا تمیز سے وہ آ گئے،، اجالا نے کہا تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک سوبر سا شخص اپنی جانب آتا دکھائی دیا۔ جو اجالا کو نگاہوں میں فوکس کیے جزبے لٹاتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
آئیے عالی،، ان سے ملئیے یہ ہے میری بچپن کی بہترین دوست لویزا اقبال، اور لویزا یہ ہیں عالیان مرزا، میرے ہونے والے ہزبینڈ، اجالا نے تعارف کروایا۔
السلام وعلیکم،، لویزا نے پیاری سی مسکان لیے دھیمے لہجے میں کہا تو عالی نے بے طرح چونک کر اس لڑکی کو دیکھا جو اس کے دوست کے سر پر دشمن بن کر دن رات سوار تھی۔
و علیکم اسلام ،، کیسی ہیں آپ،، وہ مسکرا بھی نا سکا۔
میں ٹھیک ، آپ سنائیں، لویزا نے کہا اور اجالا کو گھورا۔
بیٹھیں ناں عالی،، اجالا نے گڑبڑا کر کہا تو وہ پھیکا سا مسکرایا۔
چلتا ہوں جانِ عالی،، ضروری کام ہے ، پھر ملیں گے، ابھی تو تم نے کہا تھا اپنی دوست سے ملوانا ہے تو چلا آیا، مگر ابھی تھوڑا بزی ہوں میں،، اس نے نرمی سے کہا تو اجالا نے اثبات میں سر ہلا کر اسے اجازت دی۔
اوکے اپنا خیال رکھنا اور آپ بھی اچھی لڑکی، وہ مسکرا کر کہتا وہان سے نکلتا چلا گیا۔
افففف،، اور میر ہادی کو پتہ چلے کہ اجالا کی بیسٹ فرینڈ اس کی سب سے بڑی دشمن ہے تو میرا بھی پتہ کاٹ دے۔
لا حولا ولا قوة،، اس نے دل میں لاحول پڑھا اور پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نوک جھونک میں مصروف تھیں اور دعا مانگی کہ رانا میر ہادی کو کبھی پتہ نا چلے۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ یونی کے آف کے ٹائم باہر گراؤنڈ سے چل کر گیٹ کی جانب جا رہی تھی۔ ریڈ کرتی وائٹ گھیرے دار شلوار پہنے وائٹ دوپٹے کو سر پر لیے بلیک شال کندھوں پر اوڑھ رکھی تھی۔ جس میں سرخ وسفید رنگت دمک رہی تھی۔
میر ہادی بلیک پینٹ شرٹ پہنے سن گلاسز لگائے اپنی لینڈ کروزر کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا عالی کا ویٹ کر رہا تھا جب وہ سامنے سے آتی دکھائی دی اور آج اتفاقا اسے اس کے پاس سے ہی گزر کر جانا پڑنا تھا۔
تبھی لویزا نے جان بوجھ کر اپنی فائل میں کوئی نادیده چیز تلاشنی چاہی تھی۔
وہ اس کے پاس ہو کر گزر گئی۔ میر ہادی کو آگ ہی تو لگی تھی۔
ہیے یو،، ایلوویرا،، کیا سٹوپڈ سا نام تھا، لسن ٹو می، میر ہادی نے دانت پیس کر اسے روکا۔
وہ ٹھٹھک کر رکی تھی۔ مگر قدم آگے بڑھائے ۔
“ہیے بہری ہو کیا ؟ پھر چبا کر بولا گیا۔
لویزا نے پھر اگنور کر کے جانا چاہا ۔ مگر اب کی بار وہ دھڑلے سے اس کے سامنے آیا تھا ۔ لویزا نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔
یو، سنائی نہیں دیتا کیا، تم سے مخاطب ہوں میں،، رانا میر ہادی نے گلاسز اتار کر اس کی آنکھوں میں گھورا تھا۔
میرا نام ایلویرا نہیں لویزا اقبال ہے، اس نے بھی سنجیدگی سے بنا ڈرے کہا۔
یو نو واٹ، جس دن تم نے مجھ سے جھگڑا کر کے دشمنی مول لی، اس دن تم مجھے جانتی نہیں تھی، پوچھنا یہ تھا کیا اب تم مجھے جانتی ہو؟ رانا میر ہادی نے خطرناک حد تک سنجیدگی سے کہا تو لویزا نے ناسمجھی والے انداز میں اسے دیکھا مگر
ہاں اب میں آپ کو جانتی ہوں، اس نے سچ بولا۔
گڈ،، تو تمھیں اپنی بدتمیزی پر مجھ سے سوری بولنا چاہیے میں وہ دشمنی بھول جاؤں گا،، رانا میر ہادی نے اطمینان سے کہا تو لویزا نے اپنے سامنے تن کر کھڑے اس گھمنڈی اور بددماغ شخص کو افسوس و نفرت سے ملی جلی کیفیت کے ساتھ شرر بار نگاہوں سے دیکھا۔
شاید آپ بھول رہے ہیں مسٹر ،کہ بدتمیزی آپ نے شروع کی تھی تو مجھ سے معافی کی کیوں امید لگا رہے ہیں،، لویزا نے بھی فائل کے گرد ہاتھ باندھ کر اطمینان سے کہا۔
میننگ کے تم سوری نہیں بولو گی،، میر ہادی کا لہجہ میں شعلے لپک رہے تھے۔
بلکل نہیں،، وہ نڈر انداز میں بولی۔۔ اور اس کے پہلو سے تھوڑا دور ہو کر جانے لگی۔۔
انجام جانتی ہو اپنی اس ضد کا،، وہ دانت پیستے بھنا کر اس کی جانب مڑا۔
مسئلہ کیا ہے مسٹر جاہل آپ کے ساتھ، جب نہیں بات کرنا چاہتی تو کیوں گلے پڑ رہے ہیں، اور جب میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے آپ سے تو میرے راستے میں آنے کا مقصد،،
اب کی بار اس کی بھی برداشت نے جواب دیا تو وہ بھی بھنا کر بولی تھی ۔ آس پاس کے گزرتے سٹوڈنٹس پھر متوجہ ہوئے تھے اور اب کی بار تو ان میں سیما بھی تھی جو لویزا کے منہ سے نکلنے والی پھل جھڑیاں اچھی طرح سن چکی تھی۔ وہ پلٹ کر جا چکی تھی۔
رانا میر ہادی کا چہرہ ہتک و زلت کے احساس سے لال انگارہ ہوا تھا ۔ آنکھوں میں خون اتر آیا اور جبڑے بھنچ گئے تھے۔
سیما بھاگ کر اس کے پاس آئی تھی۔
کیا ہوا میر، یہ مڈل کلاس سو کالڈ بہن جی ٹائپ لڑکیاں آئے روز توجہ حاصل کرنے کو نت نئے ڈرامے کرتی رہتی ہیں تم کیوں منہ لگ رہے اس کے،، چلو میرے ساتھ، سیما نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا جسے وہ بری طرح جھٹک کر گاڑی میں بیٹھا تھا اور دھاڑ سے دروازہ یوں بند کیا کہ ایک مرتبہ تو سیما بھی اپنی جگہ پہ اچھل پڑی تھی۔
میر ہادی نے جہاز کی سی رفتار سے وہاں سے گاڑی نکالی تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
شام کی چائے پینے کے بعد وہ اب اپنے روم میں سٹڈی ٹیبل کے پاس بیٹھی سٹڈی میں مصروف تھی۔ جب اچانک لائٹ گئی۔
افففف لویزا نے بری سی شکل بنائی۔
جب سے یونی سے آئی تھی تب سے یہ تماشہ ہو رہا تھا۔ کبھی لائٹ. آ رہی تھی کبھی جا رہی تھی۔ اور تو اور کچن میں جانے کیوں گیس بھی بند تھی۔ وہ بہت الجھی ہوئی تھی کہ یہ ہو کیا رہا تھا۔ بابا باہر پتہ کر کے آئے تھے۔ مگر سب محلہ کی گیس اور بجلی ٹھیک تھی بس انھی کی خراب یو رہی تھی۔
اس دن تو کسی طرح گزارا کیا۔اگلا دن سنڈے کا تھا۔ سارا دن یہی تماشہ لگا رہا۔
بابا الیکٹریشن کو بھی لے آئے، چیک کرایا تو سب کچھ ٹھیک تھا۔ اسی نے ہی کہا کہ اب جب ادھر سے سب ٹھیک ہے تو بجلی گیس کے دفتر ہو آئیں تو بابا بجلی گیس کے دفتر چلے گئے۔۔
شام کو بابا تھکے ہارے لوٹے تو وہ بھاگ کر ان کے لئے پانی لے کر آئی تھی۔ انھوں نے پانی پیا۔
بابا کیا بنا،، وہ جو پریشان سی تھی فورا پوچھا۔
نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے گڑیا،، وہ مبہم سا ہنسے۔
کیا مطلب بابا، وہ ناسمجھ سی بولی۔
مطلب کے جانے کیا ہے مگر کوئی بات ہی نہیں سن رہا ،، کوئی کمپلین پر غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کر رہا، ہماری تو کسی سے دشمنی بھی نہیں ہے تو جانے کیوں ہمارے ساتھ ایسا کر رہے ہیں وہ لوگ،، وہ افسوس سے بولے تو لویزا کا بھی منہ اتر گیا۔
بابا باہر سے کھانا لے کر آئے وہ کھانا کھا کر اپنے روم میں آ گئی۔
سوچ بہت گہری تھی کہ سب کیا اور کیوں ہو رہا تو،
زہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔
تت،، تو کیا ی،، یہ وہ کروا رہا ہے،، نہیں نہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے، اسے ایک غریب لڑکی کی سوری میں اتنی کیا دلچسپی ہو سکتی ہے مگر اس کی دھمکیاں بھی قابل غور تھیں۔
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
اگلی صبح پھر وہی مسئلہ درپیش تھا مگر اقبال صاحب خندہ پیشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بھی حوصلہ دیتے رہے۔ تب ظفر ناشتا لیے آیا تھا۔
امی نے بتایا تھا کوئی مسئلہ ہو رہا ہے تو یہ ناشتہ بھیجا تھا انھوںنے، ظفر نے شاپر لویزا کو تھمایا تو لویزا نے تشکر کے احساس سے اسے دیکھا۔
اور شاپر تھامے کچن میں چلی گئی۔
لویزا نے ناشتہ لگایا۔
ظفر بیٹا ناشتے کے بعد لویزا کو یونی لے جانا، میری بائیک خراب ہے بس سے آفس جاؤں گا ،لیزا کہاں دھکے کھاتی پھرے گی، لے بھی آنا ، میں آفس سے آ کر بائیک ٹھیک کروا لوں گا۔
جی ماموں،، یہ تو میرا فرض ہے، اسنے مسکرا کر کہا تو اقبال بھی بات کی گہرائی سمجھ کر مسکرانے لگے۔
لویزا بھی کچن میں ان کی باتیں سن چکی تھی۔
انہوں نے ناشتہ کیا ۔
لویزا ظفر کے ساتھ بائیک پر زرا سا فاصلہ رکھ کر بیٹھی۔ مگر ہاتھ کندھے پر رکھا تھا۔ وہ دونوں یونی کے لئے نکلے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
میر ہادی کیا ہے یہ سب،، آخر تمہیں اس غریب اور نازک بے ضرر لڑکی کی سوری میں اتنی دلچسپی کیوں ہے،، ۔وہ جو صبح یونی آیا تھا۔ میر ہادی نے اسے گاڑی میں بیٹھ کر اپنی تازہ لڑائی اور اپنی ہی کار گزاریوں کا احوال بڑے فخر سے سنایا تو کچھ پل کے لئے تو عالی اسے دیکھتا رہ گیا. اور پھر دل میں آیا سوال پوچھ ہی بیٹھا۔
مزا آ نے لگا ہے اب تو یار،، دشمن دلیر ہے،، اسے جھکانے میں مزا آئے گا،، وہ شعر نہیں سنا تم نے،،
دشمن دلیر ہوتا تو آتا مزا مجھے، مجھے اب اس کھیل میں مزا آ رہا ہے اس دشمنی سے دلچسپی ہونے لگی ہے،، اس نے اطمینان سے گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگایا مگر بیک ویو مرر میں ایک منظر دیکھ کر وہ بری طرح چونکا تھا۔
کیونکہ آج پہلی مرتبہ لویزا کسی لڑکے کے ساتھ نظر آئی تھی بائیک پر ہی سہی۔
افضل اس کے ساتھ کون ہے یہ؟ وہ بلکل بلا ارادہ بے اختیار ہی پوچھ بیٹھا تھا۔
میر ہادی اب کیا اس کے بوائے فرینڈ میں بھی دلچسپی ہے تمھیں،، عالی نے جل کر سنجیدگی سے پوچھا تو وہ جانے کیوں مگر گڑبڑایا تھا پھر فورا سنبھلا۔
“نہیں دشمن کا دوست بھی دشمن اسی لئے دلچسپی ہے،، اس نے بودا سا جواز پیش کیا۔ عالی نے افسوس سے سر ہلایا۔
سر منگیتر ہے میڈم کا،، افضل نے بھی سنجیدگی سے کہا تو میر ہادی کے لب اووو شیپ میں سمٹے۔ رانا میر ہادی کی نگاہوں نے دور تک بائیک کا تعاقب کیا تھا۔۔
