Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
ہاسپٹل سے نکل کر وہ میر لاج آیا تھا۔ جہاں کے درو دیوار اور کونے کونے میں اس کی یادیں بکھری پڑیں تھیں۔
میر ہادی کے لئے بہت مشکل فیصلہ، بہت ہی مشکل وقت تھا یہ۔
سب سے پہلے حویلی فون کیا تھا۔ اور رانا میر ہاشم ،میر دراب، اماں سائیں اور ممتاز بیگم سے بات کی تھی۔ انھیں اچھی طرح سمجھایا تھا کہ انھیں کیا کرنا ہے۔ خود کے جانے کی وجہ بتانی ضروری نہیں سمجھی۔
اور حویلی والوں کو بھی معلوم تھا کہ وہ اپنی ہٹ کا کتنا پکا ہے۔ اگر یہ فیصلہ لیا تھا تو وہ اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی ہلنے والا نہیں تھا۔ اپنا ضروری سامان سمیٹا۔
فلائٹ اگلے دن کی تھی۔ اپنے سینے پر صبر کا پہاڑ رکھ چکا تھا۔
اگلے دن ائیر پورٹ کے لئے نکلا تو قدموں کو ان دیکھی ننھی ننھی کلکاریوں اور دبی دبی سسکیوں نے روکنا چاہا مگر دل میں خدا سے مخاطب ہوا۔
میرے خدا مجھے طارق کا حوصلہ دے دے
ضرورت آن پڑی،،،،،،،،،،،،،،،،،،کشتیاں جلانے کی
ائیر پورٹ پہنچا تو سامنے حسبِ توقع افضل کھڑا، تھا۔
چھوٹے سائیں مت جائیں، زارون بابا کیسے رہیں گے اپنے بابا کے بغیر،،
افضل نے کہا تو وہ جو اس کی ساری رات سموکنگ کرنے اور جاگنے سے آنکھیں لال انگارا ہو چکیں تھیں مزید جلنے لگیں تو اس نے آنکھوں کے اوپر سن گلاسز لگا لیں۔
ہمیشہ کی طرح چاکلیٹ براؤن تھری پیس میں، وہ اونچا لمبا سر و قد، بے تحاشا ہینڈسم اور ڈیشنگ مگر سوگوار سا وہاں موجود تمام لوگوں کا مرکز نگاہ بن رہا تھا۔
فلائٹ کی اناؤنسمنٹ ہوئی تو افضل کی جانب مڑا۔ زارون کا خیال رکھنا افضل اور اس کی ماں کا بھی، یونہی سمجھنا کہ تم ان دونوں کا نہیں میرا خیال رکھ رہے ہو،،
وہ کہتا لگیج گھسیٹتا اندر جا چکا تھا۔
پھرتے ہیں کب سے در بدر
اب اِس نگر اب اُس نگر
اک دوسرے کے ہمسفر
میں اور میری آوارگی
ہم بھی کبھی آباد تھے ،،،ایسے کہاں برباد تھے،،
بے فکر تھے آزاد تھے،،، مسرور تھے دلشاد تھے،،
کوئی چال ایسی چل گیا
ہم بجھ گئے دل جل گیا
نکلے جلا کے اپنا گھر
میں اور میری آوارگی
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
لویزا فریش ہو کر ٹاول سے بال رگڑتی واش روم سے باہر نکلی تھی۔ زارون بلکل تیار تھا۔
فون رنگ ہوا۔ نمبر دیکھ کر اس نے یس کر کے کان کو لگایا۔
نکلیں نہیں اب تک،؟ اجالا نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
ہاں نکلنے لگی ہوں،، لویزا نے فون کان اور کندھے سے لگا کر جلدی جلدی بال ڈرائیر کیے۔
میں تو کب کا ویٹ کر رہی ہوں، اور زارون سے ملنے کو بےچین ہوں یار،،
اب صبر کرو بس کچھ دیر، اور یہ اتنی جلدی کس بات کی ہے، لویزا جھلائی۔
کچھ زارون کرولنگ کرتا اس کے پاؤں میں جھول رہا تھا۔
یار زارون کا ویٹ کر رہی ہوں، تمھیں کون پوچھ رہا ہے بس جلدی پہنچو،، اس نے بول کر کھٹاک سے فون بند کر دیا۔
لویزا نے بال باندھ کر جلدی سے شال اوڑھی اور زارون کو لے کر باہر نکلی۔
زارون کی سالگرہ کے لئے اجالا نے شاپنگ کے لئے بلایا تھا۔ وہ جلدی سے باہر نکلی۔
لاؤنج میں ممتاز بیگم بیٹھی تھیں۔
امی میں جا رہی ہوں، لویزا نے کہا تو متوجہ ہوئیں۔
جاؤ بیٹا، اپنا اور چھوٹے سائیں کا خیال رکھنا، ممتاز بیگم نے زارون کو چومنا چاہا مگر وہ گندے گندے سے منہ بناتا لویزا کی شال میں چھپ گیا۔ ممتاز بیگم کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔
جاؤ جی جاؤ، نہیں روکتا تمھیں کوئی، ممتاز بیگم نے کہا تو وہ اسے لئے باہر نکلی۔
افضل جیسے تیار ہی کھڑا تھا جو تقریبا سال ہونے والا تھا اس کا اور زارون کا سایہ بن چکا تھا۔
وہ گاڑی کے قریب آئی افضل نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔ وہ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔
اور حسبِ معمول گاڑی میں زارون نے ہلچل سی مچا دی تھی۔ بے حد شرارتی، بہت ہی زیادہ نٹ کھٹ سا زارون اب سال کا ہونے والا تھا۔
گھنٹے دنوں میں بدلے، اور دن مہینوں میں، اور اب سال ہونے کو تھا۔ لویزا کو کئی دنوں بلکہ مہینوں تک یوں لگا کہ وہ گیا ہے تو خود ہی لوٹ آئے گا۔ ہر آہٹ پر چونکتی، ہر ہلکی سی بیل پر بھاگ کر فون اٹھاتی۔۔ مگر اس نے لویزا کے بلائے بغیر نہیں لوٹنا تھا نا لوٹا۔
خود کو خود ساختہ سزا کے عذاب میں ایسا جھونکا کہ اپنے بچے کا پہلی مرتبہ بیٹھنا، پہلی بار سکرول کرنا، پہلی مرتبہ مما بابا بولنا تک مس کر دیا۔
کافی تھکان بھرے سفر کے بعد وہ لاہور اجالا کے گھر پہنچی۔
اجالا نے اس کا پرتپاک استقبال کیا۔ اتنے مہینوں کے بعد وہ آج حویلی سے لاہور اس کے پاس آئی تھی۔
انھوںنے اکھٹے مگر کافی لیٹ لنچ کیا۔
زارون جلد ہی اجالا سے فرینک ہو گیا۔ کچھ دیر آرام کے بعد ان کا شاپنگ پر جانے کا پروگرام تھا۔
آخر رات کے تقریبا نو بجے وہ شاپنگ کے لئے نکلیں۔لویزا نے افضل کاکا کو بہت منع کیا کہ یہ گارڈز، کے چونچلے رہنے دیں۔ مگر ہمیشہ کی طرح ہی انھوںنے اس کی ایک نا سنی اور بقلم خود بمعہ گارڈز سمیت ان کے ساتھ آئے ۔
مال پہنچ کر وہ مختلف چیزیں دیکھنے لگیں۔
سنو لویزا میں زارون کو اپنی طرف سے اپنی پسند کے ڈریسز لے کر دوں گی۔ اسے لے جا رہی ہوں۔ تم اپنا دیکھ لو ٹائم ویسٹ نہیں ہوگا،، اجالا نے کہا تو لویزا نے اثبات میں سر ہلایا۔
سنو لویزا کافی مہینے ہو گئے جب سے تم حویلی گئیں مجھے ظفر بھائی کی کال آتی ہے کہ وہ تم سے ملنا چاہتے ہیں، شاید میر ہادی بھائی نے عالی کو بھی منع کر رکھا ہے اسی لئے ظفر بھائی کے تم تک پہنچنے کا ہر دروازہ بند کر رکھا ہے ان لوگوں نے،، مگر وہ تم سے ایک بہت ضروری بات کرنا چاہتے ہیں، تو آج میں نے انھیں ادھر ہی بلا لیا، گھر پر تو عالی ہوں گے ناں،، اجالا بول کر اطمینان سے خاموش ہو گئی۔
یہ سن کر لویزا کا رنگ اڑا۔
اففف،، اجالا یہ کیا کہا تم نے، وہ پاگل شخص کبھی بھی الاؤ نہیں کرے گا، تم،، تم کم از کم مجھ سے پوچھ تو لیتی،، لویزا نے دانت پیسے۔ اسے اچھی طرح یاد تھا۔ عالی نے جو میر ہادی کی جانب سے اسے ہدایات سنائیں تھیں ان میں سرِ فہرست یہ بھی تھا کہ وہ ظفر سے نہیں ملے گی بلکل بھی۔
اجالا زارون کو لیے کندھے اچکاتی ایک بےبی گارمنٹس شاپ پر چلی گئی۔۔
لویزا کے دل کہ دھڑکن گھبراہٹ کے مارے مزید تیز ہوئی جب بیرونی طرف سے اپنی جانب اتنے مہینوں بعد ظفر کو مہربان سی مسکراہٹ کے ساتھ فیروزی ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر پہنے آتے دیکھا۔ مگر کہیں نا کہیں اس بات کا بھی اطمینان تھا کہ وہ کون سا یہاں ہے یا اسے دیکھ رہا ہے۔
مگر ہائے رے قسمت، ایلو جان کی سادگی۔
اسلام وعلیکم لویزا کیسی ہو،،؟
وعلیکم السلام، ظفر بھائی آپ کیسے ہیں،، وہ بمشکل مسکرائی۔
میں بلکل ٹھیک، تم تو بھول ہی گئیں ہمیں، امی بہت یاد کرتی ہیں تمھیں، میری شادی میں بھی نہیں آئیں، اور اب تو امی کی بھتیجی، یعنی تم بھی پھپھو بننے والی ہو بھئی،، ظفر نے مسکرا کر اپنا کارنامہ بتایا تو لیزا کو خوشگوار حیرت ہوتی چلی گئی۔ مگر یہ خوشگوار حیرت، شدید صدمے میں بدلی تھی ۔ آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ جب ظفر کی فیروزی شرٹ پر عین دل کے مقام پر ریڈ لیزر لائٹ دکھائی دی۔ اور تبھی فون چنگھاڑ اٹھا۔
لویزا مجھے تم سے ضروری بات کہنی ہے، کہیں بیٹھ کر بات کریں، ظفر نے سنجیدگی سے کہا مگر لویزا کے پیروں تلے سے زمین کھسک چکی تھی فون پر بیرون ملک کا نمبر دیکھ کر۔
ظفر بھی اس کی اڑی اڑی رنگت دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
دوسری بیل پر کانپتے ہاتھوں سے فون یس کر کے کان کو لگایا۔
ہ،،، ہیلو،،؟ بمشکل ہی بول پائی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ بلیک تھری پیس پہنے شاندار سی بلیک کار سے نیچے اترا تھا۔ تیزی سے سو منزلہ عمارت کے اندر داخل ہوا۔ ہر جگہ اس کے گارڈز اس کے ساتھ موجود تھے۔ اور اس کے کہیں داخل ہونے سے پہلے ہی سامنے والا دروازہ کھول دیا جاتا۔
بڑے سے شیشے کے دروزے کو دھکیل کر وہ کانفرنس روم میں داخل ہوا جہاں آج، بیرون ممالک گاڑیوں کی کئی کمپنیز کی بہت خاص میٹنگ تھیں۔
میر ہادی بےدلی سے بیٹھا کمپنیز کے سی ای اوز کی اپنی کمپنیز کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے سن رہا تھا۔ تمام تر توجہ مگر اپنے فون میں آنے والے میسجز اور ویڈیوز پر تھی۔ اس وقت امریکہ میں صبح کے ساڑھے نو بجے تھے۔
دفعتاً میر ہادی کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل نمودار ہوئے تھے۔ میٹنگ گئی بھاڑ میں وہ ایک جھٹکے سے اپنی سیٹ سے اٹھ کر میٹنگ کینسل کرنے کا اشارہ کرتا اندر اپنے آفس کے پرائیویٹ کیبن میں داخل ہوتا دھاڑ کی آواز سے گلاس ڈور بند کیا تھا۔ اور اتنے مہینوں بعد وہ نمبر ڈائل کیا۔ جو کہ دوسرہ بیل پر رسیو کر لیا گیا۔
ہیلو،، کمزور سی آواز سنائی دی۔
رانا لویزا میر ہادی، اگر انھیں پیروں چل کر گاڑی میں نا بیٹھیں تو میرا شارپ شوٹر جو تمھارے ظفر بھائی کو اپنے نشانے پر رکھے ہوئے ہے بغیر سوچے سمجھے گولی چلا دے گا، وہ لیزر لائٹ تو نظر آ ہی گئی ہوگی ناں، تم کیوں چاہتی ہو میں لازمی ہی اپنے ہاتھ ایک خون میں رنگ لوں،،
مخصوص غراہٹ سی تھی جو اتنے مہینوں بعد سنائی دی تھی۔
لویزا کیا ہوا،،؟ میں نے کہا میں نے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے، تمھارا دھیان کدھر ہے آخر؟ کس کا فون ہے؟ ظفر بولے جا رہا تھا۔ جب کے وہ گہرے گہرے سانس لیتی انھیں قدموں سے پیچھے بھاگ چکی تھی۔
ظفر اپنی جگہ حیرت زدہ سا رہ گیا۔
گاڑی تک پہنچ کر اس نے اپنا ماتھا مسلا تھا۔ افضل کاکا نے نگاہیں چرائیں۔ جھٹکے سے گاڑی میں بیٹھی تھی۔ بھاگ کر آنے کی وجہ سے سانس پھول چکا تھا۔ اتنے دنوں بعد اس بے مہر ستمگر کی آواز سنائی دی بھی تو پھر سے وہی ضد، ہٹ دھرمی بے اعتباری اور اپنی منمانی کرتی سارے زخم ہرے کر گئی تھی۔
ادھر وہ سیٹ پر بیٹھ کر اب سکون سے آنکھیں موندے ان سانسوں کی آواز اب یوں سن رہا تھا جیسے ان کی نرماہٹ اور گرماہٹ اپنی روح میں اترتی محسوس کر رہا ہو۔
آئی ہیٹ یو، میر ہادی،، ایک سسکی سی سنائی دی۔
بولتی رہو، اچھا لگ رہا ہے، یہی سہی،، وہ سکون سے بولا۔
اعتبار نہیں مجھ پر یا بدکردار سمجھتے ہیں،، وہ پھنکاری۔
شٹ اپ ایلو جان،، بس ایک یہ آدمی جانے کیوں مجھے زہر لگتا ہے، جب تمھاری طرف دیکھتا ہوں دل کرتا ہے اسکی آنکھیں نکال کر چیل کووں کو کھلا دوں،، وہ پھر اطمینان سے بولا تو لویزا کو آگ لگی۔
کیوں، دنیا کو اپنے پیروں تلے روندنے کا ٹھیکا صرف آپ نے اٹھا رکھا ہے،، وہ جل کر کہتی گہرا طنز کر گئی ، سوئی سی تھی جو میر ہادی کی روح میں پھر چبھی۔
لویزا،، بے چین سا ہو کر میر ہادی نے اس ظالم لڑکی کو پکارا۔
مر گئی لویزا، میر ہادی مار کر گئے تھے آپ رانا لویزا میر ہادی کو، اپنے ہی ہاتھوں سے،، بھول گئے،، مر گئی میں آپ کے لئے ،،
بول کر فون بند کیا تھا اور پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
یہ شخص نا اسے چین سے جینے دیتا تھا نا مرنے۔
اور وہ جو لویزا کی آخری بات سن کر اپنا سانس بھی روک چکا تھا جیسے۔
اتنے دن مہینوں سے ایک ایک پل تڑپا تھا۔ بہت تکلیف میں دن گزارے تھے۔ اپنی زندگی سے دور اپنے بچے کے بغیر، ہر روز ممتاز بیگم کے روم میں وہ گھنٹوں زارون سے اور تمام گھر والوں سے ویڈیو چیٹ کرتا۔ زارون اب پہچاننے لگا تھا سب کو، اس دن رانا میر ہادی ویڈیو بند ہونے کے بعد کافی دیر تک رویا تھا جب زارون نے موبائل کو چومتے ہوئے پہلی مرتبہ اسے بابا کہا۔
یہ تو ایلو جان کی غلط فہمی ہی تھی کہ وہ اس سے بے خبر تھا۔ اس کے پل پل کا حساب رکھا ہوا تھا رانا میر ہادی نے۔اتنے عرصے میں حویلی میں لگے مختلف کیمروں کے زریعے وہ اسے دیکھ سکون حاصل کرتا رہا۔۔
اور اب تو زارون سال کا ہونے والا تھا۔ وہ پھر بھی اس سے دور تھا۔ اور اب بے چینی حد سے سوا تھی۔
اور آج یہ سب ہو گیا اور اس کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا۔ اپنا سارا غم وغصہ نکال کر اب پھر دل بوجھل ہو چکا تھا اس کی آخری بات پر۔
یہ دل ہی تھا جو سہہ گیا، وہ بات ایسی کہہ گیا
کہنے کو بھی کیا رہ گیا، اشکوں کا دریا بہہ گیا
جب کہہ کہ وہ دلبر گیا،
تیرے لئے میں مر گیا
روتے ہیں اس کو رات بھر
میں اور میری آوارگی،،،،،،
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
