Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

وہ کئی دنوں کی سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئی آج لیزا کی پھپھو کے گھر آئی تھی۔ تین دفعہ کی بیل بجنے کے بعد اندر سے آواز آئی تھی۔۔
کون،، ممتاز بیگم نے دھیمی آواز میں پوچھا ۔ آجکل ان کی خود کی طبیعت کچھ خراب ہی رہنے لگی تھی۔
میں اجالا ،، لویزا کی فرینڈ،، آنٹی، دروازہ کھولیں، اجالا نے کہا تو ممتاز بیگم نے بوجھل دل کے ساتھ دروازہ کھول دیا۔۔
السلام وعلیکم آنٹی،، کیسی ہیں آپ،، اجالا نے اندر آتے ایک اداس سی مسکان لیے ان سے پوچھا۔۔
میں ٹھیک، بیٹا کیسی ہو آپ؟ ممتاز بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ وہ تو مسکرا بھی نا سکیں۔
میں بلکل ٹھیک، ظفر بھائی ٹھیک ہیں،، وہ باتیں کرتے کرتے چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں آ گئیں تھیں۔
بس بیٹا،، ٹھیک ہی ہے،، لویزا کا بہت گہرا صدمہ لیا ہے پگلے نے،، مگر مرے ہوؤں کے ساتھ کب مرا جاتا ہے بیٹا،، بس اللہ میرے بھائی اور بھتیجی کی اگلی منزل آسان کرے اور انھیں جنت میں اعلی درجے پر فائز کرے،، بہت پہلے سے محبت کرتا تھا اپنی لیزا سے،، یہ ہمارے سامنے کچھ عرصے پہلے ہی میری سہیلی کوثر اور اس کی بیٹی کرائے پر آئے ہیں،، زمانے کی ستائی ہوئی بیوہ عورت ہے،شوہر کی پنشن سے گزر بسر کر رہی ہے، اور بچی انتہائی نیک اور سمجھدار، بچوں کو ٹیوشن اور قرآن پاک پڑھاتی ہے، اس کی آنکھوں میں پسندیدگی دیکھی ہے میں نے ظفر کے لئے،، کوثر کی اور میری خواہش پر میں نے اس سے بات کی،، مگر یہ تو بدک ہی گیا بات سن کر،، اور صاف انکار کر دیا،، ممتاز بیگم سانس لینے کو رکیں،، لو مجھے دیکھو آج کتنے بعد کوئی دکھ سکھ سننے والا ملا تو کب سے جلے دل کے پھپھولے پھوڑے جا رہی ہوں،، کچھ کھانے پینے کا تو پوچھا ہی نہیں میں نے بیٹی سے،،

اجالا صدمے سے گنگ منہ کھولے ان کی باتوں کو غور سے سنے گئی۔ اس کے سر پر سات آسمان گرے تھے ان کے منہ سے لویزا کی موت کی خبر سن کر،،
آنٹی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ،، آپ سے کس نے کہا کہ لویزا کو کچھ ہو گیا،، اجالا کا سفید پڑتا چہرہ دیکھ ممتاز بیگم کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔
میں جانتی ہوں بچی،، تمھارے لیے اس حقیقت کو قبول کرنا کتنا مشکل ہے،، تمھارے زہن میں اب تک یہی ہو گا لویزا گم ہو گئی،، یقین تو ہمیں بھی نہیں آیا تھا انسپکٹر کی بات سن کر کہ ایک ایکسیڈنٹ میں لیزا نہیں رہی ،،مگر اس کی چیزیں دیکھ یقین کرنا پڑا،، ہونی کو کون ٹال سکتا ہے بیٹا،، انھوں نے اپنے آنسو صاف کیے۔ میں تمھارے لیے کچھ لاتی ہوں۔
نن،، نہیں آنٹی میں چلتی ہوں،، پھر آؤں گی،، اجالا کو سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی تھی۔ وہاں بیٹھتی کیا خاک۔
ممتاز بیگم نے اس کی حالت کو سمجھتے اسے جانے دیا۔

وہ چھپاک سے آ کر گاڑی میں بیٹھی تھی۔ گھر چلیں انکل،، ڈرائیور کو کہا اور خود اپنا سر پکڑ لیا۔
رانا میر ہادی کس حد تک گیا تھا لویزا کو پانے کے لئے، یہ اسے آج اندازہ ہوا۔ یقینا یہ سب کیا دھرا اسی کا تھا۔ اس نے بری طرح دانت کچکچائے۔ اب بس یہی دعا کی جا سکتی تھی کہ لویزا کی یاداشت کبھی واپس نا آئے ۔ نہیں تو وہ کیا قیامت لائے گی رانا میر ہادی اس بات سے انجان ہی تھا۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

لویزا پاگلوں کی طرح ایک جنگل میں اس آواز کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔
بابا،، رک جائیں ناں پلیز،، وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی چلائی
لویزا،، واپس جاؤ،، وہ غصیلے لہجے میں کہتے پل بھر کو رکے تھے۔
نہیں بابا،، مجھے آپ کے ساتھ جانا ہے،، مجھے نہیں جانا کہیں بھی،، وہ بے تحاشا روتی پھر ان کے پیچھے لپکی۔
نہیں،، تم میرے ساتھ نہیں جا سکتیں، سمجھنے کی کوشش کرو،، ان کے لہجے میں بےبسی تھی۔۔
تو ٹھیک ہے آپ میرے ساتھ چلیں،، گھر چلیں بابا،، وہ کرلائی اور ان سے لپٹنے کی کوشش کرنے لگی۔
نہیں ،، بلکل نہیں واپس جاؤ گڑیا،، میں نے کہا واپس جاؤ،، انھوںنے اپنا ہاتھ چھڑایا اور ان سبزا زاروں میں گم ہو گئے،، مگر وہ پاگلوں کی طرح رو رو کر بھاگ کر انھیں ڈھونڈ رہی تھی۔

وہ میر لاج داخل ہوا تو فریدہ لاؤنج میں کام کر رہی تھی۔۔ وہ کہیں نہیں تھی۔
لویزا کہاں ہے،؟
اپنے کمرے میں ہیں چھوٹے سائیں،،
اوکے کھانا لگاؤ،، میں اسے لے کر آتا ہوں،،
میر ہادی کو اس وقت سے بار بار یہ بات شدت سے پریشان کر رہی تھی کہ وہ اپنے پاگل پن میں اپنی زندگی کو ناراض کر بیٹھا ہے۔۔
تبھی پہلی فرصت میں اپنے روم کی جانب گیا تھا۔ مگر وہ وہاں نہیں تھی۔ اب پھر اس کا میٹر شارٹ ہوا تھا۔ تبھی اس روم کی جانب گیا جو وہ پہلے استعمال کر رہی تھی۔
مگر اندر سے لویزا کی چیخوں اور زور زور سے رونے کی آوازوں نے اس کی جان لبوں پر آئی تھی۔
لویزا،، وہ تڑپ کر اندر بیڈ تک آیا۔ وہ پسینے میں نہائی بیڈ پر شیٹ مٹھیوں میں دبوچے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
بابا،، بابا،، وہ چلائی۔
لویزا،، میر ہادی نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود میں بھینچا تھا۔
(وہ جس کی نیند پوری نہیں ہو پائی تھی ناراض ہو کر آ کر لیٹی تو جلد ہی نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھی۔ اور اب اس خواب کی وجہ سے وہ بے تحاشا کرب و اذیت محسوس کر رہی تھی جیسے کوئی بہت اپنا اسے چھوڑ کر دور چلا گیا ہو )
ادھر اس کے لبوں سے بابا سن کر رانا میر ہادی کے پیروں تلے سے زمین تک ہل چکی تھی۔۔
لویزا میری جان،،، ہادی نے اسے جھنجھوڑ ڈالا۔ وہ نیند سے پوری طرح بیدار ہوئی تھی۔ اور خود کو اس ظالم کی بانہوں میں پا کر جیسے اور بکھری تھی۔ تبھی اس سے لپٹ کر پھر آنسو بہانے لگی مگر وہ اسے زیادہ دیر رونے دیتا تب ناں۔
اپنے سینے سے اس کا چہرہ نکال کر وہ قیمتی موتی اپنے لبوں سے چنے تھے۔
لیزا میری جان ہوا کیا ہے،، بتاؤ مجھے،، وہ اب پریشان ہو چلا تھا اس کے آنسوؤں سے۔
پپ،، پتہ نہیں ہادی،، مجھے بھی نہیں پتا،، وہ سوں سوں کرتی بولی۔ وہ شاید میرے پاپا تھے،، مجھے چھوڑ کر جا رہے تھے،،

کون،؟ لیزا کس کی بات کر رہی ہو،، میر ہادی کی سانس اٹکی۔
وہ خواب تھا،، وہ میرے پاپا تھے شاید،، پر میں ان کو بابا بول رہی تھی خواب میں ، وہ مجھ سے دور جا رہے تھے ہادی،،
بھول جاؤ لیزا، خواب سمجھ کر بھول جاؤ،، ہادی نے یہ سن کر اسے سختی سے اپنے سینے میں بھینچا تھا۔۔
ہادی مجھے ان سے ملنا ہے،، وہ ناراض ہوں گے، پر میں ان کو منا لوں گی، بولوں گی کہ دیکھیں ہادی مجھ سے کس قدر محبت کرتے ہیں، میرا کتنا خیال رکھتے ہیں، اتنا کہ جتنا آپ بھی نہیں رکھ پائے،، تو وہ مان جائیں گے ناں ہادی، پلیزا مجھے گھر لے چلیں،،
نو لیزا،، بلکل نہیں،، ہادی کی اس کی یہ باتیں سن کر اس کی کمر پر گرفت مزید سخت ہوئی تھی۔
تمھاری جان پر میں بلکل بھی کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا نو ہر گز نہیں،، بلکل نہیں،، ابھی سب کچھ بھول جاؤ، نکال دو اب دماغ سے سب ، بس مجھے یاد رکھو،،
رانا میر ہادی کا بس نہیں چل رہا تھا اس کے خوابوں کو بھی اپنے تابع کر لے۔

کافی دیر وہ اس کی کمر سہلاتا رہا۔ وہ ریلیکس ہوئی تو یاد آیا وہ جس کے سینے میں منہ دئیے دبکی بیٹھی ہے اس سے کتنی زیادہ والی ناراض ہے۔
تبھی مچل کر اس کے بازوؤں سے نکلی تھی اور اسے غصے سے گھورا۔ صبح والے حلیے میں، دوپٹے سے بے نیاز، کھلے کمر پر جھولتے بال،، اور سفید رنگت پر رونے کی وجہ سے گلابی ہوئی ناک، بھیگی پلکیں اور کپکپاتے لب،،، میر ہادی کی دل کی دنیا تہہ وبالا ہو چکی تھی۔
میں تو آپ سے ناراض ہوں،، بچوں کی طرح منہ بنا کر کہہ کر فورا کمفرٹر میں واپس منہ دے لیا تھا۔
مگر پاؤں باہر ہی تھے۔ وہ اس کے بے حد قریب چلا آیا۔
“یو نو واٹ ایلو جان،، تمھاری یہ ناراضگی تمہیں کتنی بھاری پڑ سکتی ہے،؟ اور جس انداز میں منایا میں نے شاید تمھیں وہ اس وقت پسند نا آئے،، بھاری بوجھل گھمبیرتا سے بھرا لہجہ لویزا کے رونگٹے کھڑے ہوئے۔ مگر ڈھیٹ بنی رہی۔ تبھی وہ اس کے پاؤں کی جانب جھکا تھا۔
ہادی ڈونٹ ٹچ می، میں منہ توڑ دوں گی آپ کا،، اس کے چھونے پر لویزا نے اپنا پاؤں جھٹکا۔
آئی سوئیر لیزا،، اب اگر ہلیں تو ابھی کہ ابھی حشر بگاڑ دوں گا،،پھر گلہ مت کرنا میری جان،، میر ہادی نے لاپروائی سے کہا تو وہ سانس بھی روک گئی ۔ ہادی نے اس کے پاؤں میں ایک انتہائی خوبصورت اور نفیس وائٹ گولڈ کی چھوٹی سی پائل پہنائی تھی۔ جس کے سرے پر بس ایک ہی چھوٹا سا گھنگھرو تھا۔ وہ پائل پہنا چکا۔ مگر نگاہ ابھی بھی گداز سرخ و سفید پاؤں پر ہی تھی۔
جب اس نے جھک کر عقیدت سے اس کے پاؤں پر اپنے لب رکھے ۔
لویزا وہ نرم لمس اپنے پاؤں پر محسوس کر کے تڑپ کر اٹھی تھی۔

یہ کیا ،؟ کر کیا رہے ہیں آپ؟ پاگل ہو گئے ہیں،؟ لویزا نے اس کا بازو پکڑ کر اس کا رخ اپنی جانب کیا تب محسوس ہوا اب میر ہادی کی آنکھوں میں نمی اتری ہے۔
کیا ہوا آپ کو؟ وہ جو گھٹنوں کے بل بیڈ پر بیٹھا تھا لویزا اس کے سامنے آئی تھی۔۔ اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا۔
میری صبح والی بات سے ابھی تک اپ سیٹ ہیں آپ،، اور اب بھی میں نے ڈرا دیا آپ کو،، آئم سوری، آپ ہرٹ ہوئے، میرا وہ مطلب نہیں تھا،
وہ اسے بچوں کی طرح بہلا رہی تھی اور اب میر ہادی کی آنکھوں سے بہتا پانی صاف کر رہی تھی۔ وہ جو خود اسے چپ کروا رہا تھا ۔اس کے سامنے کھل کر اپنے دل کا حال اپنے دل کا ڈر بھی بیان نہیں کر سکتا تھا اور ابھی ابھی جو اس کے خواب کی وجہ سے وہ ڈرا تھا۔ اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ بھی ہوگا۔
لویزا نے جھجھکتے مگر نرمی سے اس کی آنکھوں پر باری باری اپنے لب رکھے۔ پھر ماتھا چوما تھا۔ وہ آنکھیں بند کر کہ اس کی محبت محسوس کیے گیا۔
وہ پیچھے ہٹنے لگی تھی جب ہادی نے تڑپ کر اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حمائل کیے۔
لیزا،، اور پیار کرو مجھے،، اس کی انوکھی فرمائش پر لویزا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ “جانتی ہو ہادی کی جان، میرے ہر دکھ، ڈر، غم وغصے اور وحشت کا علاج تمھاری محبت اور پیار ہے،، وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا تو لویزا نے جھجھکتے ہوئے اس کی گالوں پر اپنے لب رکھے۔
اور ،، ہادی کو روح تک سکون مل رہا تھا۔ لویزا نے اس کی ستواں سی ناک پر اپنے لب رکھے۔ اور پیچھے ہٹنے لگی۔
اور،،،،،، مگر اس کی دسترس سے خلاصی ممکن نہیں تھی۔
ہادی وقت دیکھا ہے آپ نے،،
پیار وقت دیکھ کر نہیں آتا،، لہجہ اطمینان بھرا تھا۔
بھوک وقت دیکھ کر آتی ہے،، مجھے بھوک لگی ہے،، وہ جھنجھلائی۔
اور مجھے شدید قسم کی پیاس لگی ہے،، گرفت سخت ہوئی۔ ہادی نے اس کی چن کو چوما تھا۔
ہادی بہت بے شرم ہیں آپ،،؟ وہ مچلی۔
اب پتا چلا ہے میری جان کو،،؟ اطمینان قابلِ دید تھا۔
ہادی میں،،، بولتی بند کی گئی تھی۔ گرفت میں شدت اور جنون تھا۔ اور یہ وہی جنون تھا جس کے سامنے ہمیشہ وہ خود کو بےبس پاتی تھی۔ اور ہر دفعہ اس کی منمانیوں پر خود کو اس کے سپرد کر دیتی تھی۔
اس کی سانسوں کی خوشبو کو اپنے اندر اتارتے ہوئے وہ اپنی تمام وحشت اور ڈر اب بھلا شکا تھا۔ اس کی قربت میں ڈوب کر دنیا بھول جانا چاہتا تھا۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تو وہ نرمی سے پیچھے ہٹا۔ وہ بے حال سی ہو کر اس کے کندھے پر گری تھی۔
یس کون،، ہادی نے کھا جانے والی نگاہوں سے دروازے کی جانب دیکھا۔
چھوٹے،،، میرا مطلب ہے سر،، کھانا لگا دیا ہے،، ٹھنڈا ہو رہا ہے،، کھانا کھا لیں،، دروازے کے پیچھے سے فریدہ بول کر رفو چکر ہو چکی تھی مبادا چھوٹے سائیں باہر نکل کر سر ہی نا پھاڑ دیں۔

ہادی نے مسکرا کر اسے اپنے سامنے کیا۔ چلو ایلو جان،، ابھی تمھاری بھوک کا علاج کرتے ہیں، بعد میں میری پیاس کی باری آئے گی،، رائٹ،، ہادی نے تصدیق چاہی۔ اور نرمی سے اسے اپنی پناہوں سے نکل جانے دیا۔
جی بلکل اور بعد میں ،میں آپ کو گنے کا جوس پلاؤں گی،، جس سے آپ کی یہ پیاس تو بجھے گی،، وہ چڑ کر بولتی اب چپل پہن رہی تھی۔ میر ہادی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
نو مجھے شوگر کین نہیں ایلوویرا چاہیے، اس کے لئے کریزی ہوں میں،، لہجے میں بے حد شرارت تھی۔
ہادی کوئی حال نہیں آپ کا، اس نے سر پکڑا۔
ابھی تو فی الحال تم یہ بول سکتی ہو، ہادی کوئی بال نہیں آپ کا،، دونوں باہر آئے۔
بال میننگ،،؟ لویزا ناسمجھی سے بولی۔
بال مین بچہ،، وہ سکون سے بولا تو لویزا نے فریدہ سے چھپ کے اس کی کمر میں ایک دھموکہ ضرور رسید کیا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

بختاور کافی دنوں کے بعد اپنے میکے رہنے آئی تھی۔ فرحین نے کھلے دل سے اپنی بیٹی کا سواگت کیا تھا۔
مگر وہ دیکھ رہی تھی کہ گھر والوں کا اور خاص کر اس کی ماں کا رویہ ثمرہ سے بلکل بھی مناسب نہیں ہے۔
میر ہادی کی خود غرضی نے ان کو اور ان کے مقام کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا۔ اور یہی تو ہوتا ہے وٹہ سٹہ کا نتیجہ کہ ایک جانب کی پارٹی دکھی یو تو دوسری جانب کی کو خواہ مخواہ ہی زلیل کر دیا جاتا ہے۔
ابھی ابھی فرحین نے چھوٹی سی بات پر ثمرہ کو بری طرح جھڑک دیا تھا۔ وہ اپنے دونوں بچوں سمیت روتی ہوئی اپنے کمرے میں بند ہو چکی تھی۔
وہ تو اس کا بھائی مرجان تھا جو ثمرہ پر جان چھڑکتا تھا نہیں تو ابھی تک ثمرہ بچوں سمیت میکے بیٹھی ہوتی اور میری ہادی کی جان پر نیا وبال آ جاتا۔
جس سکون کی تلاش میں یہاں آئی تو وہ ملنا تو دور کی بات الٹا مزید پریشان ہی ہوئی تھی کچھ ابھی ابھی ایک شخص کی یہاں موجودگی کا پتہ چلا تھا تو جی بھر کر بدمزہ ہوئی تھی۔

اسے اب یہاں سے بھی بھاگنا تھا سو جلدی سے لاؤنج سے اپنے روم کی جانب بھاگی۔ روم میں آ کر سکھ کا سانس لیا تھا۔
مجھ سے بھاگ رہی ہو،، وہ سامنے ہی بڑی شانِ بے نیازی اور ڈھٹائی سے صوفے پر براجمان تھا ۔ اس کی اتنی جرات اور ہمت پر بختاور کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں تھیں۔
کیوں آپ جن ہیں جو کھا جائیں گے مجھے، کیوں ڈروں گی میں آپ سے،، ہمیشہ کی طرح وہ غرائی اور ہمیشہ کی طرح ہی اپنا غم وغصہ سامنے بیٹھے ڈھیٹ شخص پر نکالنا چاہا۔
وہ جو بغور اسے دیکھ رہا تھا اس کے اجڑے بکھرے حلیے کو دیکھ غم وغصے سے پاگل ہوا تھا۔
اپنی حالت دیکھی ہے بخت،،؟
اور آپ نے اپنی جرات دیکھی ہے افراسیاب،، وہ دانت پیس کر بولی۔ آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئی میرے کمرے میں آنے کی،،
جیسے میر ہادی کی ہمت ہوئی تمھاری زندگی سے جانے کی،، وہ یونہی تو تھا تاک تاک کر وار کرنے والا تبھی تو بختاور اس سے بھاگتی تھی۔ اب بھی اس کے کیے وار سے بختاور دھواں دھواں چہرہ لیے اس کے سامنے کھڑی بری طرح مٹھیاں بھینچ رہی تھی اور اپنے لب کاٹ رہی تھی۔
تم جانتی ہو بخت، بتیس کا ہو چلا ہوں اب تک شادی کیوں نہیں کی،،؟ اب اس کا لہجہ یوں دوستانہ تھا جیسے ہمیشہ کی طرح ہوا کرتا تھا۔ مگر وہ جانتا تھا پتھر سے سر پھوڑ رہا ہے۔۔
مجھے نہیں جاننا،، وہ پھنکاری۔
میر ہادی نے تمھیں برباد کر دیا،، چچ،، چچ،، چچ، افراسیاب نے چٹخارا بھرا ۔ کاش وہ اس کا اتنا قریبی بچپن کا دوست نا ہوتا تو وہ اس کا سر ہی پھاڑ دیتی۔
میری محبت نے مجھے برباد کیا،، وہ نڈھال سی بیڈ پر آ کر بیٹھ کر روئی تھی۔ ضبط کی طنابیں ٹوٹ چکیں تھیں۔ اور اس بندے کے سامنے رونے میں کوئی حرج تھا۔
نہیں،، تمھاری ضد نے تمھیں برباد کیا،، افراسیاب نے اطمینان سے کہا۔
تم میری محبت کو ضد کا نام کیوں دیتے ہو،، وہ چڑ کر روتی ہوئی بولی تھی۔
کیونکہ میر ہادی صرف تمھاری انا کی ضد تھا،، عشق ہوتا تو اس کے پورے خاندان کے سامنے کیے گئے انکار پر تم پیچھے ہٹ جاتیں، اب تمھیں اپنی بھابھی کی حالت پر رحم آ رہا ہے، اس وقت تو انھی کو بلیک میل کیا تھا تم نے اسے پانے کو،، نہیں،، ؟ اب وہ بھی دانت پیس کر بولا تھا۔
اس کو یہی تو بیماری تھی سچ بولنے کی ۔ جس سے بختاور بھاگتی تھی۔
جس سے محبت ہو ،اسے آزاد چھوڑ دو، لوٹ آئے تو وہ تمھارا،، افراسیاب نے اس گہری نگاہ سے دیکھتے کہا۔
اونہہہہ،، اور اس فارمولے نے تمھیں کتنا فائدہ پہنچایا افراسیاب،، وہ بھی اسے دیکھ تاک کر وار کر گئی۔
ایک دم نرا بکواس ہے یہ فارمولہ، ایویں ای دل کو بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے،، وہ پھیکی سی ہنسی ہنس کر بولا۔
وہ کبھی لوٹے گا افراسیاب،، وہ لب کاٹتی پوچھتی پھر سامنے والا کا دل اپنے پیر تلے کچل گئی۔
اور تم کبھی لوٹو گی بخت؟
وہ زندگی ہے میری،،
وہ سراب ہے تمھاری زندگی کا، وہم اور دھوکہ جس سے تم اپنی زندگی برباد کر رہی ہو،، افراسیاب نے اسے پھر سمجھانا چاہا۔
میں کیا کروں؟ وہ بے تحاشا رو دی۔
میرا جواب شاید تمہیں پسند نا آئے،، وہ اٹھ کر پانی لایا تھا۔ تبھی فرحین کمرے میں داخل ہوئیں تھیں۔ جنھیں دیکھ بختاور نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے۔ اور افراسیاب سے گلاس لے کر ایک ہی سانس میں سارا پانی پی لیا۔ ان کی رگیں پھر تن گئیں تھیں۔ وہ تو کبھی اس شادی کے حق میں تھیں ہی نہیں۔
پلیز تائی امی،، کسی کا غصہ کسی معصوم پر مت نکالیں،، وہ جو ان کا بھی لاڈلہ تھا اس نے مبہم سے الفاظ میں انھیں کہا تو فرحین خاموش سی ہو گئیں۔
کب آئے تھے امریکہ سے،، وہ جان بوجھ کر ٹاپک چینج کر گئیں۔

ارادہ تو تھا کہ اب کبھی نہیں لوٹوں ، مطلب جاب جو تھی ، مگر پھر پتہ چلا کہ ایک قریبی دوست کو ضرورت ہے کسی کی تو جاب چھوڑ کر چلا آیا،، اس نے پھر گہری نگاہوں سے اس کانچ کی گڑیا کا ستا چہرہ دیکھا۔
مطلب اب یہیں رہو گے،، میرے بچے میں بہت خوش ہوں،، فرحین نے اس کا ماتھا چوما۔
ہاں پر کچھ لوگ بلکل نہیں ہیں میرے آنے سے خوش، آئینہ لے کر گھومتا ہوں نا ہر وقت اپنے ساتھ،، شاید اسی لیے،، وہ پھر ایک طنز کا تیر برسا گیا۔
بختاور جھٹکے سے اٹھی تھی۔
کدھر؟ فرحین نے پوچھا۔
مما بھابھی کو دیکھنے جا رہی ہوں،، بچے بھی بھوکے تھے۔ وہ کہہ کر چلی گئی مگر دیر تک اپنی پیٹھ پر ان نگاہوں کی تپش محسوس ہوئی جن سے وہ بچپن سے بیر باندھ کر بیٹھی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️