Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

وہ سہج سہج چلتی ممتاز بیگم اور بخت کے ساتھ باہر آئی تھی۔۔ ایک الگ اور انوکھا ہی روپ آیا تھا اسے۔ کامدار لہنگے میں ہلکے میک اپ مگر سونے و ہیرے کے جواہرات کے ساتھ وہ آسمان سے اتری کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔
بڑے سے لاؤنج میں خواتین کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جب وہ لاؤنج میں داخل ہوئی تو لاؤنج میں جو بھنبھناہٹ ہو رہی اچانک ہی سناٹا چھا گیا تھا۔ سب اس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔
اب گاؤں کی خواتین دبے دبے الفاظ میں اس کی تعریفوں میں رطب اللسان تھیں۔
بختاور نے شاہانہ طریقہ سے تیار ہوئے گول مٹول سے زارون کو اس کی گود میں دیا تھا۔
اماں سائیں زارون کی آئیبرو میں سرمے سے کالا ٹیکا لگانا ہر گز نہیں بھولیں تھیں۔

باہر حویلی کے طویل و عریض لان میں مرودں کا انتظام کیا گیا تھا۔ دیگیں کی دیگیں پک رہی تھیں۔ میوزک سسٹم پر ابرارالحق کے گانے لگائے گئے تھے۔ تیز میوزک کی آواز حویلی کے اندر تک آ رہی تھی۔

خواتین خاص کر بڑی بوڑھی عورتیں کافی دیر باری باری اس کے پاس آتی رہیں اور اسے اپنی حثییت کے مطابق مٹھائیاں اور نیگ دیتی رہیں۔۔
کافی چہل قدمی تھی۔ بچے بھی قریب آ آ کر اسے دیکھ رہے تھے۔ وہ مسکرا کر خوش اخلاقی سے سب سے تعریفیں اور نیگ وصول کرتی رہی۔
غیر معمولی سی ہلچل ہوئی تھی۔ جب رانا میر ہاشم ، میر دراب اور میر ہادی لاؤنج میں داخل ہوئے تھے۔
رانا میر ہادی کے قدم بے ساختہ ٹھٹھک کر اپنی جگہ پر رکے تھے۔ وہ مبہوت سا اسے دیکھے گیا اور یہ بات محفل میں بیٹھے ہر شخص کے محسوس کر کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ سجی تھی۔
رانا میر ہاشم اور رانا میر دراب بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے نیگ دے کر مردان خانے چلے گئے۔
وہ جو پہلے ریلیکس سی بیٹھی تھی اب کانفیڈینس بری طرح بریک ہوا تھا۔ نگاہیں شرم و حیا کے بار سے جھک چکیں تھیں۔ پلکیں لرزنے لگیں۔۔ وہ بے شرموں کی طرح نگاہیں نہیں ہٹا رہا تھا لویزا نے دل میں دانت کچکچائے۔
بخت نے آج عرصے بعد اپنے دل میں درد اٹھتا محسوس کیا تھا۔ وہ جو دل میں اسے پانے کی ضد اور محض پسندیدگی تھی وہ تو اپنی موت آپ مر چکی تھی اب تو بس دامن میں میر ہادی کی آنکھوں میں کسی اور کے لئے ٹھاٹھیں مارتا محبت کا سمندر دیکھ خساروں اور پچھتاؤوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔
اس کے یہ تاثرات وہاں موجود گاؤں کی گھاگھ اور تجربہ کار خواتین اچھی طرح نوٹ کر چکیں تھیں۔
افضل آیا تھا اور میر ہادی کو ایمرجنسی مردان خانے میں بلا کر اپنے ساتھ لے جا چکا تھا۔
اماں سائیں اور ممتاز بیگم زارون کے صدقے واری جا رہی تھیں۔
تبھی لویزا کو اپنے قریب دبی دبی سرگوشیاں سی سنائی دیں۔

ارے دیکھو اس بخت بی بی کو کیسے چھوٹے سائیں کی خاندانی بیوی ہوتے ہوئے، سوتن کے آگے پیچھے بچھی جا رہیں ہیں، ہاں بھئی جو حویلی کا وارث پیدا کرے گی، حکومت تو اسی کی ہوگی بھئی،،، اب تو بخت بی بی کو اپنی سوتن کی غلامی کرنی ہی پڑے گی، آخر کو وارث جو پیدا کیا ہے لویزا بی بی نے،،
اتنی خوبصورت ملی کہاں چھوٹے سائیں کو کہیں کسی بازار سے تو نہیں لائے اتنی حسین اور نازک کلی،
کم تو خیر بخت بی بی بھی نہیں تھیں، مگر حویلی کے مردوں کو جانتی نہیں تم، جی بہلانے کا سامان رکھ ہی لیتے ہیں،
مگر یہ تو بیوی نہیں چھوٹے سائیں کی،،
ہاں تو جب وارث پیدا کیا تو نکاح کر لیا ہوگا چھوٹے سائیں نے،،

الفاظ تھے کے آری کی انی،جملے تھے خنجر ، جو دل و روح کو چھلنی چھلنی کر چکے تھے۔ حویلی کی چھت لویزا کے سر پر گری تھی، دل کی دھڑکن اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی لویزا کو، پورا جسم ہی پسینے سے بھیگ چکا تھا۔ چہرہ لٹھے کی طرح سفید پڑ چکا تھا۔
اتنے میں زارون بھی چیخ چلا کر رونے لگا تھا۔اماں سائیں کو یہ سوچ کر ہول اٹھنے لگے تھے کہ اسے کہیں نظر نا لگی گئی ہو۔ آخر انھوں نے ہی لویزا کی مشکل آسان کی۔

اے نسرین، بہو بیگم کو ان کے کمرے میں چھوڑ کر آؤ، آرام کریں گی، جاؤ بہو بیگم جا کے بچے کو دیکھو، بھوک لگی ہے اسے، اور اب اندر ہی آرام کرنا، ابھی کچھ دیر تک میر ہادی کو بھیجتی ہوں، پھر اکھٹے کھانا کھا لینا،،
اماں سائیں نے کہا تو وہ بمشکل اپنا مردہ وجود کو گھسیٹے اپنے روم کی جانب گئی تھی۔ کئی مرتبہ راستے میں لڑکھڑائی بھی۔
روتے ہوئے زارون کو اپنے سینے میں بھینچے رکھا۔۔
کمرے میں آ کر بیڈ پر بیٹھی۔
بیگم صاحبہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں،
نہیں، مگر تم یہ بتاؤ یہ بخت بی بی اور تمھارے چھوٹے سائیں کی شادی کب ہوئی تھی۔ لویزا نے کنفرم کرنا چاہا۔ اور دل سے دعا مانگی کہ جو اس نے سنا وہ محض غلط فہمی ہو۔ جھوٹ ہو، فریب ہو، محض لوگوں کی بکواس ہو۔
اپنی ہی محبت کے ہاتھوں یوں دھوکے پہ دھوکہ نا کھایا ہو اس نے،، نہیں تو خود پر سے ہی اعتبار اٹھ جائے۔ ایک آخری بھرم کہیں اسے بھی نا کھو دے۔
ان کی شادی تو چار سال پہلے ہوئی تھی بی بی جی اور اس دن بھی بہت بڑا جشن ہوا تھا حویلی میں بلکل ایسا ہی ،، نسرین نے اطمینان سے کہا۔
ٹھیک ہے جاؤ، مگر سنو ، میرے سر میں درد پے ۔ میں سونے لگی ہوں، بھوک بھی نہیں کوئی مجھے اور بےبی کو ڈسٹرب نا کرے۔
جی بیگم صاحبہ، نسرین کہہ کر ڈور لاک کر کے جا چکی۔ لویزا نے فوراً فون اٹھایا اور ایک کیب کروائی تھی۔
سر کے بال مٹھیوں میں جکڑے اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ اب تک وہ اس کے ساتھ جو جو کر چکا تھا وہ سب ایک طرف اور اس دھوکے کی تکلیف اور درد ایک طرف۔ سینے میں غم کا وہ طوفان اٹھا تھا کہ وہ سنبھل نہیں پا رہی تھی ٹوٹ رہی تھی۔بکھر رہی تھی۔
تبھی شاید کیب حویلی کی پچھلی جانب پہنچ چکی تھی۔ جس کی لوکیشن اسی نے سینڈ کی تھی۔ وہ چپکے سے روم سے نکلی تھی۔
پچھلے لان سے نکل کر حویلی کہ دہلیز پار کر گئی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

محفل اپنے اختتامی مراحل میں تھی۔۔
وہ مردان خانے میں بیٹھے زمینوں سے متعلق کسی اہم مسئلے پر ڈسکس کر رہے تھے۔ خاص قسم کے مشروب کا دور چل رہا تھا۔ سب پی رہے تھے سوائے میر ہادی کے۔۔ تمام قریبی رشتے دار مدعو تھے۔ حتی کے افراسیاب کی تمام فیملی کو مدعو کیا گیا تھا۔
فرحین نے اس سب کا بہت واویلا مچایا تھا مگر بختاور نے ہی انھیں خاموش کرا دیا تھا۔
زمرد وقفے وقفے سے دل میں جلن و حسد لیے میر ہادی کو خونخوار نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
وہ جو یہ سوچ کر بیٹھا تھا کہ سیاست میں تو میر ہادی کو دلچسپی ہی نہیں ہے تو اب اس کے جلسے وغیرہ اٹینڈ کرنے سے اسے رانا میر ہاشم کی سیٹ خود حاصل کرنے کہ خواب چکنا چور ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔
وہ کسی بھی طرح اسے نیچا دکھانا چاہتا تھا۔ کافی دیر سے نوٹ کر رہا تھا کہ آج میر ہادی پی نہیں رہا ہے۔ تبھی اس نے سوفٹ ڈرنک میں دوسری ڈرنک مکس کی تھی اور وہ گلاس میر ہادی تک پہنچایا۔
جو کہ میر ہادی باتوں باتوں پی بھی گیا تھا۔

میر ہادی زمرد سےہی باتوں میں مصروف تھا
جب تیزی سے افضل اندر آیا۔۔
میر ہادی سمجھ گیا کہ ضرور کوئی غیر معمولی بات ہے۔
افضل نے جھک کر میر ہادی کے کان میں کچھ کہا۔
اس کے تاثرات پل بھر میں بدلتے وہاں موجود ہر شخص نے نوٹ کیے تھے۔ وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔
زرا سا جھک کر رانا میر ہاشم کے کان میں کہا تھا۔
بس بہت ہو چکا جشن، حویلی خالی کروائیں،،
وہ کہتا تیزی سے باہر نکلا تھا۔
رانا میر ہاشم کو اندازہ ہوچکا تھا کہ ضرور کوئی مسئلہ ہوا ہے تبھی محفل برخواست ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر لان میں نکلا رخ گاڑی کی جانب تھا۔ افضل اور گارڈز اس کے پیچھے لپکے۔
کب نکلی،؟ میر ہادی بمشکل ہی بول پایا۔
کچھ دیر پہلے،، افضل نے کہا۔
کیسے پتہ چلا،،؟
آدمیوں نے کیب حویلی کی جانب آتی دیکھی تھی مجھے بتایا تو اندر جا کر معلوم کیا تو جو خاص ان کی حفاظت کے لئے کام والی رکھی اس نے حویلی سے باہر جاتے دیکھا،، افضل نے تفصیل بتائی۔
اس نے روکا کیوں نہیں،، میر ہادی نے دانت پیسے۔
آپ نے حکم دیا تھا کہ خود کو ظاہر نا ہونے دے،،، افضل نے اسے اس کا ہی آرڈر یاد کروایا تو اس نے سر جھٹکا گاڑی میں بیٹھ کر ایک جھٹکے سے گاڑی باہر نکالی تھی۔
اب ایسا کیا ہوا ہوگا جو پھر اس نے یہ قدم اٹھایا، میر ہادی طیش و اشتعال میں پاگل ہوتا سٹیئرنگ پر مکا مار چکا تھا۔
مجھے لگتا ہے کہ انھیں بختاور بیگم کا نا پتہ چل گیا ہو،، افضل نے آہستگی سے کہا وہ بے تحاشا چونکا۔
کیسے اندازہ ہوا،، میر ہادی کی رگیں تن گئیں۔
عام سی بات ہے چھوٹے سائیں، آپ حویلی والوں اور حویلی کے نوکروں کو تو روک سکتے تھے مگر گاؤں والیوں کی زبانیں نہیں،، افضل نے کہا تو میر ہادی کا دل کیا پیچھے مڑے اور حویلی کو آگ ہی لگا دے جنھوں نے یہ منہ دکھائی کا شوشا چھوڑ کر ایک مرتبہ پھر اسے اس سے کتنے میلوں دور دھکیل دیا تھا۔
مجھے یہ منہ دکھائی کا بکھیڑا کروانا ہی نہیں چاہیے تھا، شششٹ،،،،،،،، میر ہادی جیسے کانٹوں پر گھسیٹ لیا گیا تھا۔
“پریشانی کی بات ہے ان کا یوں بغیر کسی سکیورٹی کا حویلی سے نکلنا، دشمن بھی تاک میں بیٹھا ہے الیکشن کی وجہ سے، کہ کب ہم لوگوں کو نقصان پہنچائیں،، ایک دو دھمکی بھی مل چکی ہے بڑے صاحب کو اب تک تو، اور زارون بابا بھی ان کے پاس ہیں، خدا خیر کرے،، افضل کہتا چلا گیا اور میر ہادی کی جان لبوں پر آتی چلی گئی۔ ابھی وہ کچھ کہتا کہ فضا میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ گونج اٹھی تھی۔ میر ہادی نے تیزی سے گاڑی بھگائی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

لویزا زارون کو سینے میں بھینچے بیٹھی تھی۔ رات کا وقت تھا۔ اور آس پاس کے گہرے سناٹے، اندھیرے اور اکیلے پن سے اب وہ شدید خوفزدہ ہوئی تھی۔ جب فضا میں جیسے دھماکے سے ہوئے۔ اور گاڑی ہوا میں ہچکولے کھانے لگی،،
لویزا کی دلدوز چیخیں بھی گونج اٹھی تھیں۔
مگر رانا میر ہادی کی گاڑیوں نے اسے جلدی سے جا لیا تھا۔
جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔ دشمن رات کے سناٹے میں حملہ آور ہوئے تھے۔ مگر میر ہادی اور اس کے گارڈز کی جوابی فائرنگ سے وہ لوگ فرار ہو گئے تھے۔
ایک بہت بڑا خطرہ سر پر سے ٹل چکا تھا۔
لویزا کے ڈرائیور کو بازو پر گولی لگی تھی۔ میر ہادی نے اپنی گاڑی سے نکل کر جھٹکے سے لویزا کی گاڑی کا دروازہ کھولا اور اس بازو سے دبوچ کر باہر نکالا۔۔
میر ہادی مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا ، چھوڑیں مجھے،، جائیے اپنی خاندانی بیوی کے پاس،، چھوڑیں مجھے،، وہ حلق کے بل چلائی۔ اور چلاتی ہی رہی مگر میر ہادی کچھ بھی سنے بغیر اسے اپنی گاڑی میں دھکیل چکا تھا۔
ابھی کچھ ہو جاتا تو، رانا لویزا میر ہادی، بتاؤ مجھے ابھی اگر تمھیں یا بےبی کو کچھ ہو جاتا تو پھر کیا ہوتا،، وہ دھاڑا۔
میں کچھ نہیں جانتی مجھے آپ جیسے چیٹر کی شکل بھی نہیں دیکھنی،، وہ بھی چلائی۔
رائٹ،، ابھی حویلی جا کر اسے تمھارے سامنے طلاق دوں گا،، اب خوش،، میر ہادی نے سکون سے کہا تو لویزا کا چہرہ صدمے سے پیلا پڑ گیا۔
کیوں اسے کیوں دیں گے طلاق، مجھے دیجیئے ناں،،وہ تو خاندانی بیوی ہے ناں،، تو رکھئیے اسے اپنے پاس،، میں ہی جی بہلانے کا سامان ہوں ،، تو مجھے دیجیئے طلاق،،، وہ بھپری شیرنی کی طرح بے تحاشا روتی غرائی۔
شٹ اپ لویزا، جسٹ شٹ اپ،، ضبط مت آزماؤ میرا،، بلکل خاموش،، وہ بھی گارڈز کے سامنے اس بکواس پر بھنایا۔

راستے بھر بول بول کر اس کا گلا بیٹھ چکا تھا۔ مگر وہ یوں بن گیا جیسے سن ہی نہیں رہا تھا۔
حویلی پہنچ کر میر ہادی اسے پچھلی جانب سے ہی بازو پکڑ کر اندر لایا تھا۔
حویلی میں یہ خبر بجلی بن کر گری تھی کہ لویزا بخت کے بارے میں جان کر زارون کو لے کر حویلی چھوڑ کر جا رہی ہے۔
سب اس وقت لاؤنج میں بے چین سے موجود تھے۔ تمام گاؤں والوں کو رخصت کر دیا گیا تھا۔ سب کے چہروں پر ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں۔
کیونکہ قاتلانہ حملہ کے بارے میں بھی خبر مل چکی تھی۔ اسی لئے سب پریشان سے تھے۔
کہ دھاڑ کی آواز سے میر ہادی پچھلی جانب کا دروازہ کھولتا اسے تقریباً گھسیٹتا اندر لا رہا تھا۔ زارون بھی رو رو کر بے حال ہو چکا تھا۔
آتے ساتھ ہی اس نے لویزا سے زارون کو لے کر پاس کھڑی بختاور کی گود میں دیا۔
میر ہادی چھوڑو مجھے،، وہ بے تحاشا روتی چلائی۔ اس کہ گرفت میں بری طرح مچل رہی تھی۔
جبکہ رانا میر ہاشم مسکراتے اپنی مونچھوں کو اس طرح تاؤ دے رہے تھے جیسے کہ پوتا جانے کتنا قابلِ فخر کام کر رہا ہو زور زبردستی کر کے۔
ممتاز بیگم بھی اسے دیکھ کر پریشان ہوئیں۔ میر ہادی چھوڑو بہو کو، پاگل ہو گئے ہو،، چھوڑو اسے،، ممتاز بیگم نے اسے جھڑکا۔ مگر یہاں اثر کسے تھا۔
امی سائیں، بیچ میں مت بولیں، آپ اور بخت زارون کو سنبھالیں، مجھے کچھ ضروری ڈسکس کرنا ہے اپنی بیوی سے،،
وہ کہتا اسے تقریباً گھسیٹتا اپنے روم میں لے چکا تھا۔
ممتاز بیگم نے افسوس سے سر ہلایا اور رانا میر دراب اور میر ہاشم کو دیکھا جو اپنے سپوت کو اس کے اس عمل پر روکنے کی بجائے خوش ہو رہے تھے اسکے ایسا کرنے سے۔
وہ زارون کو لے کر بخت کے روم میں چلیں گئیں، صد شکر کے رات کو وہ فیڈر بھی پی لیا کرتا تھا نہیں تو میر ہادی نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ماں بیٹے کو تڑپانے کی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

رانا میر ہادی نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے بیڈ پر پھینکا تھا۔
لویزا اوندھے منہ بیڈ پر گری تھی اور اس گرنے میں اتنی شدت تھی کہ کانچ کی چوڑیاں ٹوٹ کر شیٹ پر جا بجا بکھر گئیں تھیں۔
رانا میر ہادی کے بستر پر اپنے بکھرے وجود کو اور ٹوٹی بکھری چوڑیوں کے ٹکڑوں کو دیکھ اسے شاید اپنی اوقات اچھی طرح معلوم ہو چکی تھی۔
مگر میر ہادی اسے خونخوار نگاہوں سے گھور رہا تھا جیسے کہنا چاہتا ہو،،

‏چھوڑ کے جانا ہے تو جا
پر مات ادھوری ثابت کر
مجھ سے جھگڑا کراور مجھکو
غیر ضروری ثابت کر__!!

بات بجا ہے کہ ہوتے ہیں
دو چار مسائل سب کے ہی
جانتا ہوں مجبوری کو لیکن
مجبوری ثابت کر_!!

بحث نہیں بنتی دونوں کی
پھربھی اے بہتان پرست
جتنی باتیں گھڑ رکھی ہیں
ایک تو پوری ثابت کر__!!

آ گئے ناں اپنی اوقات پر رانا میر ہادی، یا مجھے میری اوقات بتائی ہے آپ نے اپنے اس بستر پر پھینک کر،، وہ پھنکاری۔
ہاں،،، آ گیا اپنی اوقت پر تم تو پہلے دن سے رانا میر ہادی کی ضد رہی ہو ایلو جان، بھول گئی کہ یاد کرواؤں،، وہ طیش کے عالم میں بیڈ کے قریب آیا تھا۔۔لویزا کی جان لبوں پر آئی۔
خبردار میر ہادی، میرے قریب آئے یا مجھے ہاتھ لگایا،، وہ چلائی اور بیڈ سے نیچے اتر کر پھر روم سے باہر جانا چاہا۔
اونہہہہہ،، اور تمھیں ایسے کیوں لگتا ہے ایلو جان کہ اب میں تمھیں اپنی بہن بنا کر پاس رکھوں گا،، وہ دھاڑا تھا۔ اور اس کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے دیوار سے لگایا تھا۔ لویزا کی پشت میر ہادی کے سینے سے ٹکرائی تھی۔
میر ہادی چھوڑ دیں مجھے،، وہ سسکی۔
کبھی نہیں،، مر کر بھی نہیں،، حتمی فیصلہ سنایا۔ گرم سانسوں کی تپش لویزا کو اپنی پچھلی گردن پر محسوس ہوئی۔ ابھی ابھی اس کے کھونے کے ڈر نے میر ہادی کے جسم سے جیسے جان کھینچ لی تھی۔ تبھی شاید اسے چھونا چاہتا تھا محسوس کرنا چاہتا تھا کہ وہ سہی سلامت ہے اس کے قریب ہے۔
اتنا بڑا دھوکا، اتنا بڑا فریب، مجھے غاصب اور دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والی بنا دیا، میں کبھی معاف نہیں کروں گی آپ کو،، لویزا کی آہ زاری کمرے میں گونجی۔
اس سے پوچھ کر کیا تھا یہ نکاح، میر ہادی سکون سے بولا تو لویزا کا دل کیا اس کا منہ نوچ لے۔ تبھی وہ بری طرح جھٹپٹا رہی تھی۔

آج جو رانا میر ہادی کو پلائی گئی تھی وہ اور اس کی محبت سر چڑھ کر بول رہی تھی اس کے ۔ تبھی اس نے اپنے لبوں سے سرخ مخملی چولی کی ڈوری کھینچ دی تھی کے شولڈر سے وہ سرکتی چلی گئی۔ لویزا کی جان لبوں پر آئی اور پیچھے کھڑے اس شخص کے سلگتے لبوں کے لمس سے گھبرا کر کندھے پر ہاتھ رکھا۔ آنسو تواتر سے گال بگھو رہے تھے۔ وہ جھٹکے سے دیوار سے لگی اور اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔
جائیے اپنی خاندانی بیوی کے پاس میر ہادی ، مجھے میری اوقات معلوم ہو چکی ہے، لوگ بھی جی بہلانے کا سامان بول رہے ہیں مجھے، اور آپ یہ سب کر کہ یہ بات ثابت کر رہے ہیں ،، وہ بے تحاشا روتی چلائی۔
نہیں لیزا، میں یہ سب کر کہ یہ ثابت کر رہا ہوں کہ تمھاری کیا امپورٹنس ہے میری لائف میں، کہ میں اپنی سانسوں جتنا قریب چاہتا ہوں تمھیں، کسی دوسری کی جانب تو پلٹ کر دیکھوں بھی نہیں اب،،،
آپ کو ہوش بھی ہے آپ کیا کر رہے ہیں میر ہادی، اپنی ہی محبت کو پامال کر رہیں،، دور ہٹیں مجھ سے،، نیم جان سی وہ چلائی۔
نہیں، تم صرف رانا میر ہادی کی ہو ایلو جان ، حق ہے میرا تم پر، اور بس وہی حق وصول کر رہا ہوں میں، کمر کے گرد بازو حمائل کر کے خود میں بھینچتے میر ہادی نے جا بجا اس کی گردن پر اپنی محبت کے پھول بکھیرے۔ لہجہ اور آنکھیں مکمل بے خود اور مدہوش سے تھے۔
اب لویزا نے بری طرح مزاحمت کرتے اس کے کندھوں پر ناخنوں سے کھروچتے اسے دور ہٹانے کی کوشش کی۔۔ رو رو کر ہچکی بندھ چکی تھی لویزا کی ۔مگر اس بے مہر پر زرا اثر نہیں ہو رہا تھا جو مکمل مدہوش اس کے وجود پر اپنی شدتیں بکھیر رہا تھا۔
رانا میر ہادی نے اسے بانہوں میں اٹھایا۔ اس کی لاکھ مزاحمت کے باوجود وہ نرمی سے اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر حاوی ہوتا کمفرٹر اوڑھ چکا تھا۔
لویزا بے جان سی نیم جان سی تھی اور اب کوئی مزاحمت نہیں کر رہی تھی۔
پوری رات کمرے میں لویزا کی سسکیاں اور آہیں گونجتی رہیں تھیں۔
رانا میر ہادی نہیں جانتا تھا کہ اس طرح بہک کر اور جزبات کے طوفان میں بہہ کر آج اس نے جو کیا تھا۔ اگلے کئی سال اسے اس رات کا حرجانہ ادا کرتے بے خوابی کی نذر کرنے تھے ہر رات تڑپنا تھا۔ اس کے بغیر اکیلے جدائی کی سولی پر لٹک کر گزارنے تھے۔
بہت ہی زیادہ تکیلف سہنی تھی۔

صبح جب میر ہادی کی آنکھ کھلی تھی تو کئی لمحے تو خالی الزہنی کا شکار ہو گیا۔ مگر پھر جب حواس بحال ہوئے تو پتا چلا کہ وہ رات کیا کیا کر چکا ہے کیونکہ اپنے پہلو سے اب بھی درد ناک ہچکیوں اور سسکیوں کی آوازیں سنائیں دیں تو نیند بھک سے اڑی تھی۔
لیزا،، آواز شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب کر ابھری۔ ہاتھ بڑھا کر اس کا بازو تھامنا چاہا۔ جو اس نے بری طرح جھٹک دیا اور اپنا بکھرا وجود سمیٹ کر اٹھ کر واش روم میں بند ہو گئی۔

لویزا شاور کے نیچے کھڑے ہو کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ کیا یہ محبت تھی جس نے اس کے جسم و جاں اور روح تک کو روند ڈالا تھا۔ اتنی بے حس اور خود غرض محبت، کہ اس شخص کو اس پر زرا سا بھی رحم نا آیا۔ اس کی حالت پر رحم نا آیا۔ اپنے نومولود بیٹے کا زرا بھی خیال نا آیا۔
اگر محبت ایسی، بے حس، خود غرض، ظالم اور سفاک ہوتی ہے تو اسے نہیں چاہیے تھی۔ بلکل بھی نہیں۔ میر ہادی کو اس کا وارث مل گیا تھا، خاندانی بیوی پاس تھی جس کی گود میں رات وہ اپنا بیٹا بھی تھما چکا تھا۔ اور اسے جس مقصد کے لئے وہ اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ رات وہ اچھی طرح اسے اپنے ہر عمل سے سمجھا چکا تھا۔
تو نہیں چاہیے تھی اسے ایسی زندگی جس میں روز روز اس کی روح کو روندا جائے گا۔ اس زندگی سے بہتر تھا وہ اپنے بابا کے پاس ہی چلی جاتی۔
لویزا آگے بڑھی تھی۔ اور واش روم کا کیبن کھول کر اس میں سے بلیڈ نکالی ۔ ایک جھٹکے سے اپنی کلائی کاٹی تھی اس نے۔

بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ اٹھ کر بیٹھا۔ ایک اور وجہ دے دی اس کو خود سے نئے سرے سے نفرت کرنے کے لئے۔
اس میں ایسا کچھ غلط بھی نہیں تھا وہ میری ہے، صرف اور صرف میری، دماغ اس قبیح اور رزیل حرکت کی تاویلیں پیش کر رہا تھا وضاحتیں دے رہا تھا۔ مگر دل کہہ رہا تھا محبت کو پامال کیا ہے، ڈوب مرو،، اور اب سزا بھگتنے کو تیار رہو۔
تقریباً آدھا گھنٹا ہو چکا تھا اسے واش روم میں بند ہوئے۔
کچھ انہونی کا سوچ کر رانا میر ہادی کا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔ ایک ہی چھلانگ میں بیڈ سے اترا اور واش روم تک پہنچا تھا۔
لیزا،، آواز دی۔ مگر اندر سے صرف شاور چلنے کی آواز آ رہی تھی۔
اس نے آوازیں دینے میں ٹائم ویسٹ نہیں کیا تھا ۔ دو تین زور دار کندھے کی ضربوں سے ڈور کا لاک ٹوٹتا چلا گیا۔
میر ہادی اندر داخل ہوا تو دل اچھل کر حلق میں آیا تھا۔ سامنے ہی وہ فرش پر زمین بوس تھی۔ اور فرش پر خون کا دریا سا بہہ رہا تھا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️