Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

ﻭﮦ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎﻭﮞ ﮐﮯ ﻭﻇﯿﻔﻮﮞ ﺟﯿﺴﺎ
ﻣﯿﮟ ﺭﻋﺎﯾﺎ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺧﻠﯿﻔﻮﮞ ﺟﯿﺴﺎ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﺮ ﻧﻘﺶ ﮨﮯ ﺍﺯﺑﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﯾﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﺮ ﻟﻤﺲ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﮯ ﺻﺤﯿﻔﻮﮞ ﺟﯿﺴﺎ

میر ہادی اس کے سرہانے بیٹھا اسے تکے جا رہا تھا۔ آج چوتھا دن تھا انھیں ہاسپٹل آئے۔
منظر بہت مکمل تھا۔۔ وہ بےبی کو اپنی آغوش میں لیے گہری نیند میں تھی اور میر ہادی اس کے قریب بیٹھا۔ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا کہ تبھی ہاسپٹل میں ایک طوفانِ بدتمیزی سا برپا ہوا تھا۔
میر ہادی بے حد چونکا مگر پھر ایک سرد سی آہ بھری اس کے نا چاہنے کے باوجود شاید، اس کی کہیں بھی غیر حاضری سے حویلی والوں کو بےبی کی بھنک یا خبر مل گئی تھی۔ اس نے اٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھا۔۔
حسبِ معمول اس کا اندازہ درست ثابت ہوا۔ باہر گاڑیوں کی لائن لگی تھی اور میڈیا والے بھی پاگل ہو چکے تھے شاید۔
اس کے ماتھے پر بے شمار بل آئے۔ اور جبڑے بھنچ گئے۔ ابھی کچھ دیر میں تو ڈسچارج ملنے والا تھا۔ کیا ہی اچھا تھا کہ یہ تماشا گھر جا کر لگا لیا جاتا۔
لویزا کسمسائی تھی۔ اور آہستگی سے آنکھیں کھولیں۔
نگاہ کھڑکی تک گئی۔ سامنے ہی وہ دیوانہ اسی دن کے لباس میں ملگجے سلوٹ زدہ سے حلیے میں کھڑا دیوانہ وار اسے دیکھے جا رہا تھا۔ نگاہوں سے نگاہیں ٹکرائیں۔
لویزا نے نفرت بھرے انداز میں نگاہ پھیری تھی۔
میر ہادی کے دل نے پسلیوں سے سر ٹکرایا۔ ایک ہوک سی اٹھی۔ مگر ابھی اس کمال ضبط کا مظاہرہ کرنا تھا۔ اور برداشت بھی۔
لویزا نے جلدی سے اپنے پہلو میں دیکھا۔ بےبی کو اپنے قریب پا کر اسے سکون آیا۔
میر ہادی کے کانوں میں پچھلے کچھ دن پہلے کی باتیں گونجیں۔۔

سنیں ناں ہادی،، وہ اس کے پاس آئی تھی۔
ہاں سناؤ، ایلو جان، وہ مصروف سا بولا توجہ اپنے لیپ ٹاپ پر تھی۔
نو،، پہلے ادھر میری طرف دیکھیں پھر بتاؤں گی،، وہ جھنجھلا کر بولی۔
گریٹ، تم لڑکیوں کا بھی خوب ہے ہاں ، بندے نے آنکھوں سے سننا ہوتا ہے یا کانوں سے،، میری طرف دیکھیں،، میر ہادی نے اسے چھیڑتے اس کی نقل اتاری۔

ارے اس کمبخت لیپ ٹاپ کو تو بند کریں کم از کم ، وہ واقعی چڑ ہی گئی۔ اب میر ہادی نے لیپ ٹاپ بند کر کے اس کا بھرا بھرا وجود اپنی بانہوں کے حصار میں لیا تھا۔ وہ گھبرا کر خود میں سمٹی تو میر ہادی گہرا مسکرایا۔
“توجہ نا دوں تو جھنجھلاہٹ،،، دوں تو بھی مصیبت، بندہ جائے تو کہاں جائے،، میر ہادی نے کہتے سرد سی آہ بھری۔
اچھا سنیں ناں،، وہ لاپروائی سے بولی،، یو نو واٹ، میں نے بےبی کا کیا نام سوچا ہے،، اس نے اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھتے کہا۔
کیا، میر ہادی نے اس کے ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔ اور دوسرے ہاتھ سے اس ان دیکھے وجود کو محسوس کرنے کی کوشش کی، اور تبھی اس وجود نے بھی شاید ایک کک رسید کر کے اپنے ہونے کا ثبوت دیا۔
لویزا اچھلی۔
واؤ کک پڑی،، ہادی نے کہا تو وہ حیران ہوئی۔
آپ کو کیسے پتہ،، وہ پوچھ بیٹھی۔
کیونکہ یہ میری پرنسز ہے، ڈیڈ قریب آئے تو اپنے ڈیڈ کو ہیلو بولا،، میر ہادی نے اطمینان سے کہا۔
نو یہ میرا پرنس ہے، اور میں نے اس کا نام رانا زارون میر ہادی سوچا ہے، کیسا،، وہ اکسائٹڈ سی بولی۔
اور اگر پرنسز ہوئی،، میر ہادی نے اس کے گرد بازوؤں کا گھیرا تنگ کیا وہ مچلی تھی۔

وہ سوچوں کے گہرے گرداب میں پھنسا تھا جب دروازہ کھول کر تمام حویلی والے اندر داخل ہوتے دکھائی دئیے۔
حتی کے اماں سائیں اور بختاور بھی آتی دکھائی دیں۔ میر ہادی بری طرح جھنجھلایا تھا۔ کیونکہ حسبِ معمول ہاسپٹل میں غیر معمولی ہلچل سی مچ چکی تھی۔ گارڈز، میڈیا، پبلک،، میر خاندان کے چشم و چراغ کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔

مبارک ہو، مبارک ہو،، بڑا مبارک وقت ہے بھئی، مگر تمھیں کیا لگا برخوردار نہیں بتاؤ گے تو ہمیں پتا بھی نہیں چلے گا،، دادا سائیں نے آتے ہی اس پر خفیف سا طنز کیا۔
ممتاز بیگم اور اماں سائیں بیڈ کے قریب آئیں تھیں اور اسے چٹا چٹ چوم ڈالا۔
کیسی ہو بیٹی،، ممتاز بیگم نے نرمی سے اس سے پوچھا۔
ٹھیک ہوں،، لویزا کے حلق میں پھندا سا لگ گیا۔اجالا قریب آئی اور اسے سہارا دے کر اٹھا کر بٹھایا اور اس کے گرد چادر اچھی طرح لپیٹ دی۔۔
بےبی کمفرٹر کے اندر منہ کیے سو رہا تھا۔ سب اس کی ایک جھلک دیکھنے کو بیتاب تھے۔ لویزا نے نرمی سے اسے اٹھا کر ممتاز بیگم کی گود میں تھمایا۔
ماشاء اللہ،، ماشاء اللہ،، ہائے صدقے،، بلکل میرے ہادی پر گیا ہے،، اماں سائیں نے کہا تو لویزا نے اپنے لب دانتوں تلے کچلے۔ میر ہادی نے بغور اس کی یہ حرکت ملاحظہ کی۔
اماں سائیں نے دیکھتے ہی نظر اتاری،، وہ سب بےبی میں مگن ہو گئے تھے۔
میر ہادی نام کیا رکھنا ہے بےبی کا،، ممتاز بیگم نے اسے محبت بھری نگاہ سے دیکھا۔
رانا زارون میر ہادی،، میر ہادی نے بےلچک لہجے میں کہا۔ اور اسے گہری نگاہ سے دیکھا۔
میر دراب اور میر ہاشم کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔
ہاسپٹل میں جیسے خزانوں کے منہ کھول دئیے گئے تھے۔۔ میر دراب باہر میڈیا والوں کو سپیچ بھی دے کر آئے اور اپنے دادا بننے کی خوشخبری سنائی۔
اتنا شور شرابا، ہنگامہ لویزا بری طرح ڈسٹرب ہو رہی تھی۔
واقعی پورا خاندان ہی جیسے سیلفش تھا۔ کسی کا بیمار یہاں ایڈمٹ تھا، کوئی بستر مرگ پر تھا، تو کوئی اس دنیا سے رخصت ہو چکا تھا، جن کے لواحقین دکھ اور صدمے میں ہو سکتے تھے اور انھوںنے پورا ہاسپٹل سر پر اٹھا رکھا تھا۔ عجیب اندھیر نگری تھی۔
وہ اس دوران یہ نہیں دیکھ پائی تھی یا جان کر نہیں دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ بھی ماتھے پر بے شمار بل ڈالے وہاں جھلایا کھڑا تھا اور بس نہیں چل رہا تھا یہ سب تماشا بند کروا دے۔۔

تبھی سسٹر نے آ کر میر ہادی کو ڈسچارج پیپر، لویزا کی میڈیسنز، بےبی کی کئیر کی چیزیں تھمائیں تھیں۔
بھابھی سب پیک کریں، گھر چلنا ہے،، میر ہادی نے کہا لویزا نے پہلو بدلا۔
وہ سب بےبی میں گم تھے۔
اجالا مجھے کہیں نہیں جانا ہے، اور اس قاتل شخص کے ساتھ تو بلکل بھی نہیں،، وہ جبڑے بھینچ کر دانت پیس کر اجالا کے کان میں غرائی تھی۔ جو قریب ٹیبل سے چیزیں سمیٹتا میر ہادی سن چکا تھا تبھی اذیت سے آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں۔۔۔
لویزا پاگل مت بنو،، یہ دیکھ رہی ہو، پورا خاندان، پبلک، میڈیا ان کے لوگ، ایک نیا تماشا لگ جائے گا، یہ پرسنل میٹر ہے ، پرسنل پرابلم جو گھر جا کر ہی حل ہوگا، ابھی چپ چاپ گھر چلو، وہاں چل کر فیصلہ کرنا کیا کرنا ہے، ابھی چپ،، بلکل خاموش،،
اجالا تم،،
اششش چپ کرو،، اجالا نے اس کا بازو دبوچا کیونکہ ممتاز بیگم ان کی جانب متوجہ ہو چکیں تھیں۔
اماں سائیں، ممتاز بیگم بختاور اور اجالا نے بڑی کئیر سے اس کا سامان اٹھایا۔ لویزا بےبسی کے احساس سے نم آنکھیں لیے اپنے لب کاٹ رہی تھی۔ ابھی تو ایک پیشنٹ ہی تھی دوسروں پر انحصار کرنا پڑ رہا تھا۔ ابھی کرتی بھی تو کیا۔
اجالا نے اسے سہارا دے کر وہیل چیئر پر بٹھایا۔ میر ہادی کی اتنی بھی جرات نہیں ہوئی تھی وہ آگے بڑھ کر اسے سہارا ہی دے دیتا، وہ ان سب کے سامنے کوئی تماشہ نہیں چاہتا تھا۔
وارڈ بوائے مبارکی لینے کے چکر میں وہیل چئیر گاڑی تک لایا۔ میرا ہاشم نے براؤن بڑا نوٹ لویزا کے سر پہ وار کے اسے تھمایا تو وہ سر خوشی سے جیسے جھوم اٹھا۔
گارڈز آس پاس کھڑے تھے اسی لئے میڈیا والے قریب نا آسکے۔ اجالا ، لویزا اور بختاور نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔
ہادی بہو کو گاڑی میں بٹھاؤ،
میرا ہاشم نے کہا۔ لویزا کا تو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والا حساب تھا جبکہ وہ بھی اپنی جگہ سن سا ہو گیا۔ مگر یہ موقعہ کیسے جانے دیتا۔
تبھی آگے بڑھا تھا۔ مگر اس سے پہلے ہی وہ پاس کھڑی بختاور کا ہاتھ تھام آہستگی سے کھڑی ہوئی تھی۔
بختاور ہونق سی بنی کبھی لویزا کبھی ہادی کے دھواں دھواں چہرہ دیکھے گئی۔ بختاور نے اسے نرمی سے سہارا دیا اور گاڑی میں بٹھا دیا۔ ممتاز بیگم نے بےبی کو اس کی گود میں تھما دیا۔
سب گاڑی میں بیٹھے اور گاڑیاں اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئیں۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

میر لاج میں جشن کا سماں تھا۔
خزانوں کے منہ کھول دئیے گئے تھے جیسے۔ کالے بکرے صدقے کیے جا رہے تھے اور گوشت حقداروں کو بانٹا جا رہا تھا۔
بیٹھک لگی ہوئی تھی اور ملک کے مختلف وزراء و مشیر رانا میر ہاشم اور رانا میر دراب کو پوتے کی مبارک باد دینے آ رہے تھے۔ میر ہادی بھی ادھر ہی موجود تھا۔
دوسرے کمرے میں اماں سائیں، ممتاز بیگم، اور بختاور ملک کی سیاست سے منسلک خواتین سے ملاقات میں مصروف مبارک باد وصول کر رہیں تھیں۔۔
مختلف پکوان پکائے جا رہے تھے۔ کچھ پکا پکایا باہر سے منگوا کر بانٹا گیا تھا۔

اندر لویزا آرام کر رہی تھی جب بےبی کے چوں چوں کی آواز آئی۔۔ وہ تکیے کا سہارا لے کر اٹھی اور اسے گود میں اٹھایا۔
باقی سب اس کے اور بےبی کے آرام کرنے کے خیال سے باہر تھے۔ وہ رونے لگا۔ بھوکا تھا۔ لویزا اسے فیڈ کروانے کی تیاری کر رہی تھی جب آہستگی سے دروازہ کھول کر وہ اندر آیا۔ وہ آہستگی سے چلتا بیڈ کے قریب آیا تھا۔ جبکہ وہ مکمل اسے اگنور کیے اپنے کام میں مصروف تھی۔ بلکہ اس کی جانب سے نفرت سے منہ بھی موڑ چکی تھی۔

جانے کیوں مگر پاگل دل نے ہمک کر فرمائش کی کہ وہ اس سے مخاطب ہو۔
کچھ چاہئے، آئی مین کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ وہ قریب کھڑا اس سے ایسے پوچھ رہا تھا جیسے ان کے بیچ کچھ غلط ہوا ہی نا ہو بلکہ لویزا کا دل کہا اس کی اس قدر ڈھٹائی اور بے حسی پر پیچھے مڑ کر اس کا منہ نوچ لے۔
جی بلکل،، چاہیے،، لویزا نے کہا تو ہادی کا دل اچانک سکڑ کر پھیلا تھا۔
کیا؟ وہ پوچھ بیٹھا۔
طلاق،، ابھی دیں گے یا یہ تماشا ختم ہونے کے بعد،، لویزا کے سرسراتے لہجے نے میر ہادی کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا تھا۔
اور کچھ،،؟ میر ہادی نے زخمی لہجے میں پوچھا تھا۔ ابھی وہ اس کی بات کی مکمل نفی کر کے اسے چھیڑنا ہر گز نہیں چاہتا تھا۔
جبکہ اب اس نے کلام کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔
میر ہادی نے ایک سرد سی آہ بھری اور روم سے باہر نکل گیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

لیزا، میں چلتی ہوں، اتنے دنوں سے کوشش کر رہے تھے میں اور عالی، اب کہیں جا کر منظوری ہوئی ہے، کل کی فلیٹ ہے یار، ہم عمرے پر جا رہے ہیں،، اجالا نے لویزا کے سر پر بم پھوڑا۔ لویزا صدمے سے بے حال پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھے گئی جیسے کہنا چاہتی ہو کہ سب کچھ جانتے بوجھتے وہ اسے اس نازک حالت میں اس گھمنڈی شخص کے حوالے کر کے اس کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہے۔
(جبکہ وہ کہاں جانتی تھی کہ اجالا نے ایسا جان بوجھ کر ہی کیا تھا۔)
اجالا تم مجھے ایسے چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہو،، لویزا سسک پڑی۔
ائم سوری لیزا، عالی نے اچانک،، پلیز حوصلہ کرو یار،
اجالا مجھے یہاں سے جانا ہے، نہیں رہنا یہاں، خود جانے سے پہلے خدا کے لئے مجھے یہاں سے لے جاؤ،، لویزا بوکھلا ہی تو گئی تھی۔
کہاں جاؤ گی لویزا، اجالا نے سنجیدگی سے پوچھا۔ میری بات غور سے سنو، چلہ پورا کرو، تب تک ہم بھی آ جائیں گے اور یہ شور ہنگامہ بھی تھم جاۓ گا،، تو کچھ سوچیں گے رائٹ،، اس نے اس کا گال تھپتھپاتے آدھی باتیں نگاہیں چرا کر کہا۔
مگر اجالا،،
لیزا عالی ویٹ کر رہے مجھے جانا ہوگا،، وہ بولا کر فوراََ وہاں سے نکلی تھی۔
مگر باہر آ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی اور شاکی نگاہوں سے رانا میر ہادی کو گھورا جو تشکر آمیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
بھابھی آئم سوری،، وہ اتنا ہی بولا پایا۔
پتا نہیں کس کس بات کے لئے سوری بولیں گے آپ،، ہر بار اسے ایک نیا دھوکا دیتے ہیں،، اجالا دانت پیس کر بولی تو وہ نگاہیں چرا گیا۔
اجالا تن فن کرتی وہاں سے نکلی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

قریبا رات کے دس بجے کا وقت تھا رانا میر ہاشم اور رانا میر دراب واپس جانے کے تیار بیٹھے تھے۔
جب رانا میر ہاشم نے سرگوشی نما آواز میں میرا دراب سے کہا تھا۔
اگر بچہ اس سے لے کر بختاور کی گود میں ڈال دیا جائے،،
میرا ہشم کی بات پر میر دراب استہزایہ سی ہنسی ہنسے تھے۔
بھول ہے آپ کی بابا سائیں، وہ بھی آپ کا ہی پوتا ہے،، اور وہ لڑکی شاید اس کی زندگی ہے اور ضد بھی،، میر دراب نے گہرے لہجے میں کہا۔
کیا مطلب،،؟ میر ہاشم چونکے۔
مطلب یہ کہ کچی گولیاں نہیں کھیلیں آپ کے پوتے نے، ان دونوں کی علیحدگی کی صورت میں، بچے ماں کو ملیں گے،، یہ نکاح نامے میں لکھ کر دے رکھا ہے آپ کے پوتے نے،، اور اب عافیت اسی میں ہے کہ آپ اسے دل سے تسلیم کر لیں اور ایسے کسی بھی آئیڈ پر عمل کرنے سے باز رہیں،، میر دراب نے کہا تو میر ہاشم چھاؤں کی طرح بیٹھ گئے تھے جب میر ہادی کو اندر آتے دیکھا۔

ہم حویلی واپس جا رہے ہیں، ملنے آتے رہیں گے بختاور اور تمھاری دادی واپس جائیں گے اور تمھاری ماں بہو کے پاس رہیں گی،، مگر بہتر یہی ہے بہو کو حویلی لے آؤ،، کیونکہ ہم سب اب بچے کے بغیر ہر گز نہیں رہیں گے،،
میر ہاشم نے حکم صادر کیا۔ مگر سامنے بھی وہ سر پھرا تھا۔
ابھی ممکن نہیں دادا سائیں،، سفر منع ہے اس کا، چلے کے بعد دیکھا جائے گا، انداز لٹھ مار تھا۔
میر ہاشم نے اسے گھوری سے نوازا۔ مگر یہاں اثر کسے تھا۔
وہ سب اس سے مل کر بےبی کو ڈھیر سارا پیار کر کے واپس چلے گئے۔ ممتاز بیگم لویزا کے پاس رکنا چاہتی تھیں۔ کہ ابھی اتنے چھوٹے بےبی کو اتنی تکلیف میں سنبھالنا مشکل تھا مگر ان کے سر پھرے بیٹے نے ان کی ایک نہیں سنی تھی۔ اور انھیں الگ کمرے میں روانہ کر دیا۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

رات گیارہ بجے وہ روم میں داخل ہوا تھا۔ بےبی سو رہا تھا جبکہ وہ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھی بری طرح روتے ہوئے اپنے لب دانتوں تلے کچل رہی تھی۔۔
وہ جان بوجھ کر لیپ ٹاپ لے کر صوفے پر بیٹھا بزی ہونے کی ایکٹنگ کرنے لگا تھا۔ مگر تمام تر حسیات سے اس کی جانب متوجہ تھا۔۔
وہ بے چین سی تھی۔ اور بری طرح اپنے لب کاٹ رہی تھی۔
شاید،
نہیں یقیناََ اسے واش روم جانا ہوگا۔
لیزا،، واش روم جانا ہے،،؟ وہ پوچھ بیٹھا۔
مگر ادھر سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔۔ ہاں مگر وہ گھٹنوں میں سر دئیے اپنی بے بسی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
میر ہادی تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔ اور اس کے سر پر پہنچا۔
کیا ہوا ایلو جان،، بہت نرمی اور محبت سے پوچھا۔
وہ بیمار تھی، تکلیف میں تھی، اور لباس بھی سارا خراب ہو چکا تھا۔ میر ہادی سیکنڈوں میں اس کی مشکل سمجھ چکا تھا۔
جلدی سے ڈریسنگ میں سے اس کا سادہ اور آرم دہ سا سوٹ نکالا اور واش روم میں رکھا اس کی ضروت کی ہر چیز واش روم میں رکھی۔۔
اب ایک سرد سی آہ بھرتا اس کے قریب آیا تھا۔

وہ اس کے ارادے بھانپتی پیچھے کو سرکنے لگی۔۔
میر ہادی نے اپنے ہاتھ اس کی طرف بڑھائے جو کہ وہ بری طرح جھٹپٹاتی جھٹک چکی تھی۔
خبردار،، ڈونٹ ٹچ می،، ہاتھ مت لگانا مجھے،،

لیزا سمجھنے کی کوشش کرو،، وہ نرمی سے اس مخاطب ہوا تھا۔ کمال ضبط کا مظاہرہ کر رہا تھا۔
نو، نہیں،، دور رہیں مجھ سے،، ہاتھ بھی نا لگانا نہیں تو،،،
اس کے الفاظ منہ میں دم توڑ گئے تھے جب میر ہادی نے زبردستی اسے بازوؤں میں بھرا۔
وہ بری طرح جھٹپٹائی اور مسلسل مزاحمت کیے گئی۔ مگر وہ ازے واش روم میں لا چکا تھا۔ نرمی سے نیچے اتارا۔ اور اس کی جانب سے رخ موڑ لیا۔

وہ یا تو رو سکتی تھی یا جھٹپٹا سکتی تھی اور دونوں کام بخوبی کر رہی تھی۔ تبھی اب پھر رونا سٹارٹ کر چکی تھی۔۔ اس ڈھیٹ انسان کو سٹل وہیں جمے دیکھ،
باہر جائیں،، وہ چلائی۔
چینج کرو لیزا، نہیں دیکھوں گا تمھاری طرف، مگر میں باہر نہیں جاؤں گا،، اطمینان قابلِ دید تھا۔
میں نے کہا باہر جائیں،، وہ پھر غرائی۔
اوکے رائٹ، میں ڈور کے باہر کھڑا ہوں، تم لاک نہیں لگاؤ گی، چینج کر چکو تو ڈور ناک کرنا میں اندر آ جاؤں گا،، وہ صلح جو انداز میں بولا۔
لویزا نے سر جھٹکا۔ وہ باہر چلا گیا۔

کچھ دیر بعد ہی لویزا خود کو گھسیٹتی ڈور تک لائی تھی۔ اور دل میں دعا مانگنے لگی کہ اسے اتنی ہمت و صحت عطا کی جائے کہ وہ اس شخص کی محتاج تو بلکل نا رہے،
اس نے آہستگی سے ڈور کھولا ۔ سامنے ہی وہ شخص آنکھوں میں دنیا جہان کی محبت سموئے اس کے سامنے دیوار بنا کھڑا تھا۔ جب پھر آگے بڑھا۔
ہٹیں سامنے سے،، میں خود چل سکتی ہوں،، کسی بھی سہارے کی ضرورت نہیں مجھے،، وہ اسے اچھی طرح باور کرنا چاہتی تھی کہ اسے اب اس کی ضرورت نہیں۔ وہ خاموشی سے مگر لڑکھڑاتی اس کے پہلو سے نکل کر جانا چاہتی تھی جب بری طرح لڑکھڑائی۔ مگر دو مضبوط بازوؤں نے اسے وقت رہتے تھام لیا تھا۔
میر ہادی نے اس کی مزاحمت کی پرواہ کیے بغیر پھر اسے بازوؤں میں بھرا تھا۔ اور لا کر بیڈ پر لٹایا۔
لویزا نے اس سے نفرت سے منہ موڑا تھا۔ مگر اس نے جھک کر نرمی سے اس کے بالوں پر اپنے لب رکھے۔ ایک قیمتی موتی ٹوٹ کر اس ظالم لڑکی کے بالوں میں جزب ہوا تھا۔
اس سے پہلے وہ پھر واویلا مچاتی وہ دل میں اٹھتے قیامت خیز جزبوں پر لگامیں کستا پیچھے ہٹا تھا۔
لویزا نے کروٹ بدل کر آنکھیں موند لیں تھیں۔
میر ہادی بیڈ پر اپنی سائیڈ آ کر لیٹا تھا۔
جھک کر بےبی کو پیار کیا۔ مگر اس ظالم لڑکی نے بےبی کو بڑی جلدی اپنی جانب کھسکا لیا تھا۔
میر ہادی چت لیٹا آنکھوں پر بازو رکھ چکا تھا۔ نیند ،محبت،محبوب اور بےبی اس سے جیسے کوسوں دور تھے۔
مگر ضبط کے بند خود پر باندھے رکھے۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️