Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

اسےبھیج تو دیا تھا روم میں مگر اب ہر چیز سے جیسے جی اچاٹ ہو چکا تھا۔ میر ہادی نے جھنجھلا کر لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا ۔ مردانہ گرے شال کندھوں پر ڈالے باہر لان میں چلا آیا۔
رات اور سوچ گہری تھی۔
اور نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

گلی میں رات بھر پھرتا ہے کوئی
گلے میں ،،،،،،،، نیند کا تعویذ ڈالے

لویزا جو کہ نائٹ ڈریس سادہ سی فیروزی ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر پہن کر بیڈ تک آ ہی رہی تھی۔ کچھ غیر معمولی سا محسوس ہوا تو ونڈو تک آئی۔ سامنے ہی کھڑکی کے اس پار وہ اتنی ٹھنڈ اور دھند میں دیوانوں کی طرح لان میں چہل قدمی میں مصروف تھا۔ ادھر اس کی بھی نگاہیں بھٹک کر کھڑکی تک اٹھی تھیں۔
آنکھوں سے آنکھوں کا تصادم ہوا تھا۔ رانا میر ہادی کی آنکھوں میں بیک وقت لپک، وحشت اور ادھورا پن چھلک رہا تھا۔ جیسے کسی بچے کو شدت سے کسی چیز کی طلب ہو اور وہ اس کی پہنچ سے کافی دور ہو۔ لویزا جانتی تھی ، اچھی طرح کہ وہ ادھورا ہے، وہ دونوں ادھورے ہیں اور ادھورے پن میں ہی زندگی گزار رہے ہیں، وہ اسے مکمل خوشیاں نہیں دے پا رہی تھی۔
لویزا نے ایک سرد سی سانس کھینچی۔ وہ نفی میں سر ہلاتا اسے اس کے ارادوں سے باز رکھنے کی ناکام سی کوشش کرتا رہا مگر وہ تیزی سے پیچھے مڑی، شال کندھوں پر اوڑھی اور باہر نکلی۔
وہ لان میں چلی آئی تھی۔ میر ہادی نے اسے غصے سے گھورا مگر وہ لاپروائی سے اس کے قریب چلی آئی۔
مجھے تو بول رہے تھے آفس کا کام کرنا ہے اور اب خود کیوں بھٹکتی آتما بنے گھوم رہیں ہیں اتنی ٹھنڈ میں،، وہ ٹھنڈ سے دانت بجاتی بولی۔۔
تم کیوں آئیں باہر،، فوراََ اندر جاؤ،، میر ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔ اور مڑ کر جھولے پر بیٹھ گیا۔
کیوں آپ ڈرتے ہیں مجھ سے ،،
نہیں اپنے آپ سے ڈرتا ہوں،، وہ دوسری جانب دیکھ کر بولا۔
وہ اس کی بات کا مطلب اچھی طرح سمجھ چکی تھی۔
اس کے پاس آ کر جھولے پر اس کے پہلو میں بیٹھی۔ اس کے ہاتھ کے نیچے سے چادر کھینچ کر چادر کا وہ سرا اپنے گرد لپیٹ لیا۔ میر ہادی سانس روک کر اس کی ایک ایک حرکت دیکھتا رہا۔ اب لویزا کا بازو میر ہادی کے بازو سے مس ہو رہا تھا۔
وہ اس کے دیکھنے کو کچھ اور ہی سمجھی۔
کیا ،،،ٹھنڈ لگ رہی ہے مجھے بہت زیادہ،، انداز لاپرواہ سا تھا۔ مگر وہ پاس بیٹھے شخص کی رگ رگ میں جزبات پوری جزئیات کے ساتھ جگا چکی تھی۔۔
سنیں ہادی،، لویزا نے ہادی سے زرا سا رخ دوسری جانب موڑ کر کہا۔ وہ لب کاٹتی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ جیسے کچھ کہنے کے لیے ہمت مجتمع کر رہی ہو۔ لویزا کا سرد ہاتھ اچانک ہی میر ہادی کے سلگتے پر حدت ہاتھ کے اوپر آیا تھا۔
ہممم،،،، میر ہادی کی سانس اس کے سینے میں الجھی ہوئی تھی۔

ڈاکٹر نے آپ کو میرے پاس بیٹھنے سے بھی منع کیا ہے،، بات کافی مبہم انداز میں کی گئی تھی مگر وہ اس میں چھپی گہرائی کو اچھی طرح جان چکا تھا۔ تبھی تڑپ کر اپنی شال سے نکلا اور شال کا دوسرا سرا بھی اس نازک سی جان کے گرد لپیٹ دیا جو اب ٹھنڈ کی شدت سے کپکپانے لگی تھی۔
لیزا فوراََ اٹھو اور اپنے روم میں جاؤ،، میر ہادی کے لہجے میں شدید قسم کی جھنجھلاہٹ تھی۔ تبھی غرا کر بولا تھا۔
لویزا بغیر بحث کیے اٹھ کر اندر چلی گئی۔
جب کہ کسی کو اذیتوں اور درد کی سلگتی بھٹی میں جھونک گئی تھی تبھی اتنی ٹھنڈ میں بھی وہ وہیں ٹہلتا اپنی جان سگریٹ میں جھونکتا رہا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

صبح بارہ بجے کے قریب اس کی آنکھ کھلی رات بے خوابی کی بدولت سر کافی بھاری ہو رہا تھا۔ آج عالی کا نکاح بھی تھا۔ وہ گھنے سیاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اٹھا تھا۔۔ فریش ہو کر ٹاول سے بال رگڑتا باہر آیا ۔۔ کچن میں جھانکا تو کوئی نہیں تھا۔ صرف میڈ کچن کا پھیلاوا سمیٹنے میں مصروف تھی۔ اور روزی باہر ڈائننگ ٹیبل کے پاس بیٹھی نیوز پیپر پڑھ رہی تھی۔
گڈ مارننگ سر،، روزی نے وش کیا۔
مارننگ، لیویزا کدھر ہے، بریک فاسٹ کر لیا؟ میڈیسن لے لی؟ وہ چئیر پر بیٹھتا بولا۔
یس سر، وہ تو کب کی کر چکیں بریک فاسٹ، اورمیڈیسن بھی لے لی، اب تو نکاح میں شرکت کے لئے تیاری کر رہی ہیں،، روزی نے کہا تو وہ بے تحاشا چونکا۔۔
مطلب کیسی تیاری؟ لہجہ خودبخود تیکھا ہوا تھا میر ہادی کا۔
ڈریس وغیرہ ریڈی کر رہی ہیں،، روزی نے کہا تو میر ہادی کا دل کیا اپنی لاعلمی اور لاپروائی پر ماتھا پیٹ لے۔
مگر میں نے تو اسے کوئی شاپنگ نہیں کروائی،
وہ سر میم اجالا نے کی ہے ان کی ساری شاپنگ،،
رانا میر ہادی کے تو تلوؤں پر لگی اور سر پر بجھی تھی۔

سب سے پہلے موبائل میں کچھ کام کر کے جلدی سے بریک فاسٹ کیا اور جوس کا گلاس ہاتھ میں پکڑے دھیمے قدموں سے چلتا اس کے روم تک آیا۔۔
(محبت غیر اختیاری شے ہے اس پر نا بس ہے نا قابو، محبت کی آگ سلگائے نہیں سلگتی بلکہ خود بخود دہکتی ہے)
ہلکی دستک دے کر اندر داخل ہوا تو وہ سامنے ہی اجالا کی دی گئی گرے کلر میکسی بیڈ پر پھیلائے، اس کے ساتھ کی میچنگ جیولری بھی بیڈ پر رکھے اب ڈریسنگ میں سر دئیے جانے کیا ڈھونڈ رہی تھی۔۔
کیا ہو رہا ہے ایلوویرا،، وہ بیڈ کے قریب کھڑے ہو کر بولا۔
وہ میں تیاری کر رہی تھی، اجالا نے کہا میں پہلے ہی آ جاؤں، تیار بھی ادھر ہی کروا دے گی وہ، مسکراتے ہوئے مصروف سا انداز پہ رانا میر ہادی جی جان سے جل کر راکھ ہوا تھا۔
یہ دیکھئے یہ سینڈل میچ کرتے ہیں ناں،، وہ الماری سے اجالا کے لائے ہوئے سینڈل نکال کر مڑی مگر میر ہادی کا دھواں دھواں چہرہ دیکھ حیران ہوئی تھی۔
تبھی دروازہ ہلکا سا ناک ہوا تھا۔
یس کم ان،، میر ہادی نے کہا تو حیران سی دیکھے گئی۔
افضل ہاتھوں میں ڈھیر سارے شاپر لیے اندر آیا اور بیڈ پر رکھ کر چلا گیا۔
یہ کیا ہے،، وہ متجسس سی آگے بڑھی۔
ڈریسز اور باقی چیزیں ہیں مسز،، آن لائن آرڈر کیے تھے، کیونکہ تم صرف میری زمہ داری ہو اسی لئے میرا لایا ڈریس پہنو گی،، اور میرے ساتھ ہی فنکشن میں جاؤ گی،، اس نے غیر معمولی سنجیدگی سے کہا تو لویزا حیران ہوئی۔۔
ارے آپ تو فضول میں ٹچی ہو رہے ہیں، اتنے پیار سے لا کر دیا ہے اجالا نے، اب اگر نا پہنا تو اسے کتنا برا لگے گا، وہ شاید سامنے کھڑے شخص کا دھواں دھواں چہرہ اگنور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
نو تم میری وائف ہو میری زمہ داری ہو تو میرا لایا ڈریس پہنو گی، اینڈ دیٹس فائنل، اس کی آواز میں اب غصہ اور تپش سی تھی۔
لویزا اس کے مقابل آ کر کھڑی ہوئی اور صلح جو انداز میں بولی۔
اوکے آج یہ پہن لیتی ہوں آئندہ صرف آپ کے لائے ڈریس پہنا کروں گی،،
نو،، مین نو،، میر ہادی نے زچ ہو کر اس ڈریس کو گھورا۔
ارے دیکھیں تو سہی کتنا اچھا ڈریس ہے کیا خرابی ہے اس میں،، وہ بھی اب اس کی ضد سے خائف ہو رہی تھی۔
ہے تو نہیں مگر ہو سکتی ہے،، لہجہ معنی خیز تھا۔
مطلب، لویزا چونکی۔
تبھی رانا میر ہادی نے ہاتھ میں تھاما جوس کا گلاس جس میں دو تین گھونٹ باقی تھے میکسی پر جوس کا چھڑکاؤ کیا تھا۔ لویزا کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
ارے یہ آپ کیا کر رہے ہیں،، لویزا نے میر ہادی کا ہاتھ پکڑا۔اور میر ہادی نے اس کے دونوں بازو مضبوطی سے تھامے تھے۔
ڈونٹ یو ڈئیر وائفی، اگر مجھ پر یا میری چیز پر کسی اور کو یا کسی اور کی چیز کو فوقیت دی تو اس کا بلکل ایسا ہی حشر کروں گا کہ دوبارہ کسی بھی چیز کے قابل نا رہے، یہ میری مسٹیک ہے مجھے تمھاری ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے، یہ شاپنگ مجھے کرنی چاہیے تھی، مگر میں کام کے سلسلے میں چلا گیا، بٹ بیٹر دین نیکسٹ ٹائم، اب جلدی سے فریش ہو کر وہ ڈریس پہنو، بیوٹیشن آتی ہی ہو گی،
میر ہادی کے لہجے میں لویزا کو خود کے لئے ایک لپک سی ایک تڑپ سی محسوس ہوئی تھی۔ وہ نرمی سے اس کے بازو چھوڑ کر روم سے چلا گیا ہاں مگر جاتے ہوئے وہ گرے میکسی اٹھا کر اس کا گولہ سا بنا کر ڈسٹ بن میں پھینکنا نہیں بھولا تھا۔
لویزا نے اس کی پیٹھ کو گھورا۔
ایک اس بندے کی سمجھ نہیں آتی تھی کبھی یوں گریز برتتا تھا جیسے راستے میں بھی کبھی نہیں ملا ہو، اور کبھی یوں مہرباں ہوتا تھا جیسے اس سے بڑھ کر کوئی اس کے لئے پاگل بھی نا ہو۔ مگر لویزا ابھی یہ کہاں جانتی تھی کہ واقعی اس سے بڑھ کر اس کے لئے کوئی پاگل بھی تو نہیں ہونے والا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رنگ تھا روشنی تھا،،،،، قامت تھا
جس پہ ہم مر مٹے قیامت تھا
خواب ،،،،تعبیر بن کے آئے تھے
کیا عجب ،،،موسمِ رفاقت تھا

وہ تیار ہو کر باہر آئی تھی۔ نیلے اور سبز رنگ بلکہ مور پنکھ میں موجود تمام رنگوں کے امتزاج کی گھٹنوں سے نیچے تک فراک پاجامہ، بڑے سے دوپٹے کے اوپر حجاب اور ہلکے میک اپ میں وہ آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی۔
وہ جو لاؤنج میں اپنا کوٹ پہن رہا تھا اس کے ہاتھ وہیں رک گئے تھے۔ میر ہادی نے بھی رائل بلو تھری پیس پہنا تھا۔ اور اب اپنی جگہ پہ سٹل سا تھا۔
وہ جھکی نگاہوں سے اس کے پیچھے اس کے قریب آئی تھی اور کوٹ تھام کر اس پہنایا تو وہ چونک کر ہوش کی دنیا میں آیا تھا اپنی بے اختیاری پر پھر گڑبڑایا۔
ایک خوشبو سی تھی جو اس کے آنے سے فضا میں رچ بس گئی تھی۔ اور اسی خوشبو کا تو وہ ایڈیکٹ ہو چلا تھا۔ اس نے ایک گہری سانس بھر کر یہ خوشبو اپنی روح میں اتاری۔
کونسا پرفیوم لگایا ہے،، میر ہادی کے سوال پر وہ چونکی۔
آپ مزاق اڑا رہے ہیں میرا، کیونکہ پرفیوم لگانا تو میں بھول ہی گئی، وہ روہانسی ہوئی اور دوبارہ روم میں جانے لگی ۔ میر ہادی نے اس کی کلائی تھامی تھی۔
مزاق بلکل نہیں تھا یہ، مجھے یہی خوشبو پسند ہے جو تمھارے وجود سے اٹھتی ہے اور فضا کو مہکا دیتی ہے، لہجہ بہکا ہوا سا تھا۔ لویزا کو اپنی کلائی جلتی محسوس ہوئی۔
چلیں، وہ بھی ہوش میں آیا۔ دونوں آ کر گاڑی میں بیٹھے تھے آج وہ خود ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
گاڑی میر لاج سے نکلی تھی۔
آپ نے بتایا نہیں میں آپ کے دئیے ڈریس میں کیسی لگ رہی ہوں،
نو نہیں بتایا،، اور بتاؤں گا بھی نہیں،، میر ہادی کی نگاہیں سامنے سڑک پر مرکوز تھیں۔
وہ اس کی بے اختیاری تو دیکھ ہی چکی تھی مزید بےبس کرنے کا ارادہ ترک کرتی باہر دیکھنے لگی، مگر باہر کون کمبخت دیکھ رہا تھا۔ وہ تو اپنے موبائل کی آف سکرین میں سے اپنے مغرور شہزادے کو دیکھ رہی تھی۔ جو سرخ و سفید رنگت کے اوپر براؤن سن گلاسز لگائے بھر پور مردانہ وجاہت کا شہکار تھا اور اب لویزا کے دل کی سلطنت کا بھی بے تاج بادشاہ ہی تھا۔
وہ کافی دیر سے اس کی یہ معصومانہ حرکت نوٹ کر کے اپنے لب بری طرح کچل رہا تھا۔
لیزا،، مت کرو میری جان، پچھتاؤ گی، میں ڈسٹریکٹ ہو رہا ہوں، میر ہادی کی جھنجھلائی آواز آئی تو چوری پکڑے جانے پر اس نے دانتوں تلے لب دبایا اور جلدی سے موبائل نیچے کر لیا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ ہال میں داخل ہوئے جہاں اجالا اور عالی کے بہت خاص رشتے دار و قریبی لوگ تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی ہمراہی میں اندر داخل ہوئے تو کئی لوگوں کا مرکز نگاہ بنے۔ میر ہادی عالی کے پاس سٹیج پر چلا گیا جبکہ وہ برائیڈل روم میں چلی آئی۔

یو دھوکے باز، چیٹر کاک دوست اب کیا لینے آئی ہو اب بھی جاؤ اپنے اس سو کالڈ شوہر کے پاس، اجالا اسے دیکھتے چلا کر بولی تو لویزا قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔
اجالا ریڈ میکسی میں دلہن بنی انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی۔
یار تم نہیں جانتی وہ میرے معاملے میں کتنے ایگریسو ہیں بس ضد پکڑ لی کہ میرے ساتھ ہی جانا ہے، لویزا نے لہو چھلکاتے چہرے کے ساتھ اجالا کو بتایا تو وہ بھونچکا ہی تو رہ گئی۔
اور یہ ڈریس،، میرے والا کہاں ہے لویزا،،، اب کی بار لویزا بری طرح گڑبڑائی تھی۔ جبکہ اجالا صدمے سے گنگ ہوئی تھی۔

وہ اجالا،، پلیز مائنڈ مت کرنا، اور اتنے اچھے موقعے پر اپنا موڈ مت خراب کرنا، یہ بھی انھوںنے ضد کی کے میں پہنوں،،
کیا مطلب کیسی ضد،، اجالا کا بس نہیں چل رہا تھا اس پاگل وڈیرے کا جا کر منہ نوچ لیتی جو خواہ مخواہ ہی لویزا پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وہ بول رہے تھے کہ میں سب سے پہلے ان کی زمہ داری ہوں تو میری ہر ضرورت کا خیال وہ رکھیں گے، اور آج کا ڈریس بھی ان کا دیا ہوا پہننا چاہیے مجھے،، لویزا نے نرمی سے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا مگر اس کا دھواں دھار غصے سے لال بھبھوکا چہرہ دیکھ افسوس ہوا کہ اس کو سچ ہی کیوں بتایا۔۔
سچ میں لویزا، تم غلام نہیں ہو اس آدمی کی، تمھاری اپنی بھی کوئی مرضی ہے کہ نہیں،، چبا چبا کر کہتی وہ اچھی خاصی طیش میں آ چکی تھی۔۔ مگر لویزا کا ا س قدر حسین اترا چہرہ دیکھ کر اس نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے غصے پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔۔
تبھی فوزیہ بیگم انھیں بلانے آ گئیں تھیں۔ سب مہمان پہنچ چکے تھے۔ بس نکاح ہونا باقی تھا۔ لویزا اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر لائی۔ سٹیج تک لا کر اس کے ہلکے لرزتے وجود کو عالی کے پہلو میں بٹھایا۔
اجالا نے ایک نگاہ غلط سٹیج کے قریب بےنیاز سے کھڑے اس شخص پر ڈالی جس کہ پہلو میں اب لویزا کھڑی ہادی کی کسی بات پر مسکرا رہی تھی۔ اجالا نے پہلو بدلہ۔
ایجاب و قبول کا مرحلے کی شروعات ہوئی اور بہت ہی جلد دو محبت کرنے والے دل ایک پاک بندھن میں بندھ گئے۔ مبارک باد کی صدا بلند ہوئی۔
اجالا اور عالی سب سے مبارک باد وصول کرنے لگے۔
تھینکس وائفی خود کو زندگی بھر کے لئے میرے نام لکھنے کے لئے،، عالی کی معنی خیز سرگوشی اجالا کی ہتھیلیاں پسینے سے تر ہو گئیں۔

فوٹوگرافر اب ان کی مختلف پوز میں تصویریں لے رہا تھا۔ اجالا نے اشارے سے لویزا کو اپنے پاس بلایا۔ مگر وہ ہادی کا ہاتھ تھامے سٹیج پر آئی تو اجالا نے خونخوار نگاہوں سے میر ہادی کو گھورا۔ مگر وہ لویزا کے پیچھے آتا بے نیازی سے کندھے اچکا گیا۔ وہ دونوں سٹیج پر آئے۔
سر سامنے کھڑے ہوں،، فوٹوگرافر نے کہا تو ہادی لویزا کو لیے سامنے کھڑا ہوا۔
میم تھوڑا کلوز ہوں سر کے،، فوٹوگرافر نے کہا تو ہادی نے لویزا کی ویسٹ پہ ہاتھ رکھا۔ اب وہ دونوں ایک کپل کی طرح پکس بنوا رہے تھے۔
“عالی اپنے دوست سے کہیں کہ میری فرینڈ سے دو فٹ کے فاصلے پر رہے ،،نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا،، اجالا نے دانت پیس کر عالی سے کہا غصے سے اس کا چہرہ لال بھبھوکا ہو چکا تھا۔ عالی نے بھی حیران نگاہوں سے رانا میر ہادی کو دیکھا تھا جیسے وہ یہ سب جان بوجھ کر اور اجالا کو تپانے کو کر رہا ہو، جیسے اجالا ہادی کی رقیب ہو۔
اب پتہ نہیں ان دونوں میں سے کون جل رہا تھا۔ میر ہادی اجالا سے یا اجالا میر ہادی سے۔

لویزا فوزیہ بیگم کے بلانے پر ان کے پاس گئی تھی۔
ہادی عالی کے پاس آیا تھا۔
آخر آپ چاہتے کیا ہیں، وہ آپ کی جاگیر کا کوئی حصہ نہیں، جس پر قبضہ جمانے کی کوشش میں ہیں آپ، آپ کی ہمت کیسے ہوئی اسے فورس کرنے کے لئے کہ وہ میرا چھوڑ کر آپ کا لایا ہوا ڈریس پہنے، کوئی رشتہ نہیں آپ کا اس سے کوئی حق نہیں،،بھول گئے تو یاد کرواؤں،،؟ یاداشت تو لگتا ہے آپ کی چلی گئی ہے،، اجالا نے چبا چبا کر کہتے اپنی ساری بھڑاس نکالی تو رانا میر ہادی کی رگیں تن گئیں تھیں۔۔ جھٹکے سے اٹھ کر کچھ بھی کہے بغیر کھانا کھائے بغیر باہر نکل آیا تھا۔
مگر یہ حقیقت ہی تو تھی۔
لیکن اگر حقیقت ہے تو اتنی تلخ کیوں ہے۔ کیوں اس کی دل وجان میں سوئیاں سی چھبی ہیں۔ کیوں روم روم سلگ اٹھا تھا۔

عالی اس کے پیچھے ہی باہر آیا تھا جو گاڑی کے پاس کھڑا اپنی کنپٹیاں سہلا رہا تھا۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
میر ہادی کیا ہے یہ سب یار،، عالی نے جھنجھلا کہا۔۔
رانا میر ہادی اس کی جانب مڑا تھا۔ گاڑی سے ٹیک لگائی پاکٹ سے سگریٹ نکال کر سلگائی تھی۔
عشق ہے،، اس نے اطمینان سے کہا۔ عالی کے سر پر ساتوں آسمان گرے تھے۔ کئی لمحے تو عالی کچھ بول ہی نہیں پایا تھا۔
رانا میر ہادی اپنے ہوش میں تو ہو،، عالی نے حیرت کی انتہا پر کھڑے ہو کر اس سے پوچھا۔
اس میں بے ہوشی، یا مدہوشی والی کونسی بات ہے،، وہ گہرے کش بھرتا سکون سے بولا۔
یہ میں نے رانا میر ہادی کے ہی منہ سے سنا لویزا اقبال کے لئے، جسے وہ اپنی سب سے بڑی دشمن کہتا تھا،، عالی نے اسے یاد دلایا کہ وہ اس کی کیا ہے اور صرف کیا ہو سکتی ہے۔
تم نے سہی سنا بلکل عالی،، اسی دشمن سے عشق ہو گیا ہے رانا میر ہادی کو،، اس کے اطمینان میں جانے کیوں رتی برابر بھی فرق نہیں آ رہا تھا۔ عالی کا دل کیا اسے جھنجھوڑ کر ہوش کی دنیا میں لائے جو شاید پی کر آیا تھا۔

مت کھیلو آگ سے میر ہادی جل جاؤ گے،، جلا بیٹھو گے اپنے دل و جاں،، باز آ جاؤ،، عالی نے اسے آنے والے وقت سے ڈرانا چاہا۔
“میں تو کب سے عشق کی بھٹی میں سلگ چکا عالی اب وہ کون سی آگ ہے جو میر ہادی کو جلا سکے،، کرب سے کہتے اس نے جیسے اپنا ہی مزاق اڑایا۔
جانے دو اسے ہادی،، ابھی بھی وقت ہے،، عالی نے اسے مشورہ دیا۔
اب تو وہ مر کر ہی میر ہادی کی دسترس سے آزاد ہو سکتی ہے عالی،، میری رگ و جاں میں بس چکی ہے وہ ،،خود سے الگ کروں گا تو مر جاؤں گا،، وہ سکون سے بولا۔
اور حویلی والے، ؟ تم شاید پی کر آئے ہو ہادی، حویلی والوں کا کیا؟ وہ اس کی اجازت دیں گے تمھیں، تم،،،

مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں ناں کسی سے ڈرتا ہوں، وہ کسی غیر مرئی نقطے کو گھورتا بولا۔ یہ سب تسلیم کر کے دل و جاں میں ایک سکون ایک سرور سا دوڑ چلا تھا۔

آنے والے وقت سے ڈرو ہادی،، جب اس کی یاداشت واپس آ گئی،، تب اسے یہ پتہ چلے گا کہ تم اس کے شوہر نہیں تھے، تم دونوں کے بیچ کوئی رشتہ نہیں تھا تم نے اسے اپنی داشتہ بنا کر اپنے پاس رکھا ہوا تھا،، تو وہ،،،
“عالی،، وہ دھاڑا اور اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی۔۔
پہلی بات وہ اتنی ہی پاکیزہ ہے جتنی میرے پاس آئی تھی اور دوسری میں اس کی وہ یادیں نوچ کر دور پھینک دوں گا جو اسے مجھ سے دور کریں گی،، میں اس کا ماضی اس سے الگ کر کے دور پھینک دوں گا۔ وہ اپنے بال مٹھی میں جکڑتا ہزیانی سا ہوا۔ میں کبھی اس کی یادداشت واپس نہیں آنے دوں گا،، کبھی نہیں کسی قیمت پر نہیں،، کسی صورت نہیں،، وہ اطمینان سے اپنا فیصلہ سنا چکا۔
عالی نے اس پاگل خبطی کو دیکھا۔۔ جو اب جانے کیا قیامت و قہر ڈھانے والا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓