Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

گاڑی میر لاج کے ڈرائیو وے پر آ کر رکی تھی۔اور رات آٹھ بجے کا وقت تھا۔ میر ہادی فورا گاڑی سے نکل کر باہر آیا اور آ کر لویزا کی جانب کا دروازہ کھول کر اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ وہ مسکرا کر کندھوں پر شال درست کرتی باہر آئی۔ اور میر ہادی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تھمایا۔
لاؤنج کے دروازے تک پہنچ کر میر ہادی رکا تھا۔ اور لویزا کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا تھا۔
یہ کیا ہادی،،
سرپرائز ہے میری جان،، وہ یونہی اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے اندر بڑھا تھا۔ اندر پہنچ کر آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا تو لویزا کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔
میر لاج کے لاؤنج کو تازہ گلابوں سے سجایا گیا تھا اور درودیوار پر آج کی تمام مومنٹس کی جو خوبصورت سیلفیز لی گئیں تھیں وہ آویزاں تھیں۔ جن میں لویزا کہیں اس کی گود میں بیٹھی کھلکھلا رہی تھی، ایک جگہ وہ اس کا ڈریس کندھے سے درست کر رہا تھا ، ایک میں اس کے سر پر دوپٹہ اوڑھا رہا تھا، کہیں لان میں پھولوں کے قریب بیٹھی تھی، کہیں میکس کو گود میں لے کر بیٹھی تھی، اور کچن والی تمام پکس دیواروں پر سجی ان لمحوں کو زندہ اور جاوداں کر رہیں تھیں۔
ٹیبل پر چاکلیٹ کیک اور گفٹس کا ڈھیر رکھا ہوا تھا۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو مائی لائف ،، سب سے پہلے میر ہادی نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔ پھر ایک جانب سے اجالا اور عالی نکل کر اس کے سامنے آئے۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو،،
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو،،
ہیپی برتھ ڈے ڈئیر لیزا،، ہیپی برتھ ڈے ٹو یو،،
لویزا سر خوشی میں اجالا سے لپٹی تھی۔۔
“دیٹس ناٹ فئیر وائفی،، یہ سب میں نے کیا تو اس جادو کی جپھی کا اصل حقدار کون تھا،، میر ہادی ان کے سامنے بھی باز نا آیا تو لویزا کے چہرے نے لہو چھلکایا تھا۔ اجالا اور عالی اس کی جیلسی پر قہقہہ لگا کر ہنس پڑے تھے جبکہ لویزا چھپنے کو جگہ ڈھونڈنے لگی۔
پلیز، ہادی،، وہ روہانسی ہوئی۔
اوکے رائٹ آؤ کیک کاٹو،، ہادی نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھاما۔
وہ ٹیبل تک آئی۔ اور ہادی کے ہمراہ کیک کاٹا۔ اور سب سے پہلا پیس ہادی کو کھلایا اور ہادی نے لویزا کو کھلایا۔ پھر لویزا نے اجالا اور عالی کو کیک کھلایا۔
اجالا نے لویزا کی نظر اتاری ۔ کہ وہ اس قدر خوش دکھائی دے رہی تھی کہ اجالا بار بار اپنی نگاہیں چرا رہی تھی کہ مبادا اس کو اس کی نظر ہی نا لگ جائے۔ میر ہادی کی سنگت اور قربت نے اسے اور نکھار دیا تھا۔ میر ہادی کے ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل میں لویزا کے لئے بے پناہ محبت ہی چھلک رہی تھی۔۔ وہ اس کے پہلو میں بیٹھی کوئل کی طرح چہچہا رہی تھی۔۔
بے تحاشا خوشگوار ماحول میں ڈنر کیا گیا۔ لان میں باربی کیو کا انتظام کیا گیا تھا۔ اجالا بار بار اسے میر ہادی کا نام لے کر چھیڑتی اور وہ اسے عالی کا ۔ کیونکہ دونوں کی حرکتیں ہی ایسی تھیں ہر منٹ کے بعد کوئی نا کوئی ذومعنی شوشا چھوڑ کر انھیں خود میں سمٹنے پر مجبور کر دیتے اور خود قہقہہ لگا کر انجوائے کرتے۔
کھانے کے بعد کافی کا دور چلا ۔ اور لویزا نے اپنے گفٹس کھول کر دیکھے۔ کافی پی چکے تو میر ہادی نے ریموٹ سے وہاں سیٹ کیا میوزک سسٹم آن کیا تھا۔ وہ کافی دیر کپل ڈانس اور ہلا گلا کرتے رہے۔ لویزا اور اجالا ان دونوں کی حرکتوں پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتی رہیں۔
ساڑھے گیارہ بج چکے تھے ۔ فوزیہ بیگم کا فون آیا تو اجالا اور عالی کو واپس جانا پڑا۔

انھیں باہر تک رخصت کر کے وہ واپس آئے تھے۔ لویزا روم میں جانے لگی تب ہادی نے اس کی کلائی اپنی گرفت میں لی تھی۔۔
کدھر،، ہادی نے پوچھا۔
ہادی روم میں جا رہی ہوں، چینج کرنا ہے، وہ روہانسی ہوئی۔
نو میری جان ابھی نہیں،، ہادی نے جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔ وہ اس کے سینے سے آ لگی۔
ابھی ہی تو مجھے ایسا فیل ہوا کہ کباب میں سے ہڈی نکلی ہے،، وہ شرارت بھری مسکان لیے گویا ہوا تو لویزا نے اسے زور دار گھوری سے نواز مگر وہ ریمورٹ اٹھا کر اب اپنی پسند کا سونگ لگا چکا تھا۔ جو اس وقت اس کے جزبات کی بھرپور طریقے سے ترجمانی کر رہا تھا۔ ہلکے ہلکے سروں پر اس نے لویزا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے قریب تر کیا۔ اور ہلکے ہلکے اس کے ساتھ موو کرنے لگا۔ ۔

ہاسے تیرے نال وے جند تویوں جان وے
تیرے پیچھے روندیاں آکھیاں نادان وے
روح کرلاوے نا تو کھیڈیں ایسی چال وے
زندگی حسین اے جے تو میرے نال وے
جینا تیرے نال مرنا وی تیرے نال وے

سدھرا نو توڑی نا وے
موڑی نا وے مُکھ میتھو
اکھیاں نو رونا بڑا پینڑاں
کِنی واری کِنی واری کیہا وے میں
تیرے بِنا کلے نیّو رہنا
مَن جا تو کری نا شُدایاں جیا حال وے
زندگی حسین اے جو تو میرے نال وے
جینا تیرے نال مرنا وی تیرے نال وے

گانے کا ایک ایک لفظ نے میر ہادی کے دل کی ترجمانی کی تھی وہ اس کی آنکھوں میں دیکھے گیا۔ اس کی آنکھوں میں لویزا کو جو اپنے لئے تڑپ، جنون، ایک آگ، لپک اور دیوانگی دکھائی دے رہی تھی اس نے لویزا کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا کی تھی۔ وہ زیادہ دیر اس ظالم کی نگاہوں میں دیکھ ہی نا پائی تھی تبھی نرمی سے اس کے سینے پر اپنا سر رکھا تھا۔

ہارڈ کنڈاں کیویں چھڈاں تویوں آ کے دسدے
روندے میرے نین ناہیوں،، چین نال تو ہس وے
تیرے نا وے جِند کرساں بن مرساں
تو کی جانے بارشاں دے وانگوں برساں
زندگی حسین اے جے تو میرے نال وے
جینا تیرے نال مرنا وی تیرے نال وے

لویزا کو محسوس ہوا اس کے کندھے پر کچھ گرم سیال سا گرا ہے۔
میر ہادی موم بن کر پگھل رہا تھا یا واقعی گانے کے مطابق بارش بن کر برس رہا تھا۔ اسے اندازہ نا ہوا۔ اس نے ہادی کے سینے سے سر نکال کر دیکھنا چاہا مگر ہادی نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔ نہیں جانتی تھی لویزا نا جان سکتی تھی اسے کھونے کا ڈر میر ہادی کو چین نہیں لینے دیتا تھا۔۔ اس کی کمر پر میر ہادی کی گرفت کی شدت میں اضافہ ہوا تھا۔ لویزا مچلی۔ مگر اس گرفت سے نکل نا پائی۔

پیار سچا کہہ کے نا تو کر جاوی چَھل وے
تیرے تو بغیر میرا کوئی نا
اکھیاں نو رونے دےکے کیتھے وسنا
کالیاں راتا نوں وے میں سوئی نا
شالا وکی سندھو وِگڑے نا تیرا وال وے
ہاسے تیرے نال وے جند تویو جان وے
تیرے پیچھے روندیاں اکھیاں نادان وے
روح کرلاوے نا توں کھیڈیں ایسی چال وے
زندگی حیسن اے جے تو میرے نال وے
جینا تیرے نال مرنا وی تیرے نال وے

اب کی بار میر ہادی نے اس کا چہرہ چن سے تھام کر اوپر اٹھایا تھا۔ میر ہادی کی نگاہوں کی حدت و تپش تھی کہ وہ سر تا پا لرز رہی تھی۔ ہادی نے اس کی کمر کو سہارا دے کر اس کے پاؤں اپنے پاؤں پر رکھے تھے۔ نگاہوں کا فوکس اس کے کانپتے لرزتے پنک لپ اسٹک لگے گداز لب تھے۔ جنھیں دیکھ ہمیشہ وہ خود کو تپتے صحراؤں میں کھڑا پاتا تھا۔ تبھی اب مچل کر اس کی سانسوں کو اپنی بےچین دسترس میں لیا تھا۔
لویزا مچلی، کیونکہ آج اس ظالم کے چھونے میں جانے کیوں ایک شدت اور پاگل پن سا تھا جو وہ بلکل برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔
لویزا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس کی پاگل گرفت سے خود کو چھڑانا چاہا مگر وہ اس کے ہاتھ تھام کر انھیں اپنے کندھوں پر رکھ چکا تھا۔
اسی پوزیشن میں میر ہادی نے اسے بانہوں میں بھرا تھا۔ اور روم میں لا کر بیڈ پر لٹایا۔ لویزا نے اس کی شدتوں سے گھبرا کر مسلسل سختی سے آنکھیں بھینچ رکھیں تھیں۔ ہادی کی گرفت نرم پڑی تو لویزا نے مچل کر اس کی طرف سے دوسری جانب رخ پھیرا تھا۔ اور گہرے گہرے سانس بھر کر اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسیں بحال کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہی سانس ایک مرتبہ پھر حلق میں ہی اٹکی تھی جب پچھلی گردن پر دوبارہ وہ شدت بھرا لمس محسوس ہوا۔ اور کندھے سے میکسی سرکتی محسوس ہوئی۔
لویزا نے جھٹکے سے مڑ کر اسی دشمن جاں کے سینے میں ہی پناہ تلاشنی چاہی تھی۔ میر ہادی لویزا کی ان شدتوں سے بچنے کی اس معصومانہ سی کوشش پر کھل کر مسکرایا تھا تبھی اس نے مکمل مدہوش سا ہو کر اس پر مکمل قابض ہو کر اسے اپنی دسترس میں لیا تھا۔ کہ وہ چاہ کر بھی اس کی پناہوں کے شکنجے سے نکل نہیں سکتی تھی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

میر ہادی گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا کچن میں داخل ہوا تو وہ بلکل سادے سے سکن ٹاپ اور ٹراؤزر میں انہماک سے ناشتہ بنا رہی تھی۔
خوشبوؤں کا ریلہ کچن میں داخل ہوا تو وہ متوجہ ہوئی تب تک وہ اس کے بلکل قریب آ چکا تھا۔
کیا بن رہا ہے وائفی،، میر ہادی نے اس کے کندھے سے جھک کر چولھے پہ دیکھا جہاں وہ ڈھیر سارے بل ڈال کر پراٹھا بنانے میں مصروف تھی۔ مگر اسکی خوشبو اور اب اتنی قربت سے کانپی ضرور تھی۔
پپ،، پراٹھا بنا رہی ہوں،، آپ کے لئے،، اس کی زبان لڑکھڑائی۔
جلدی بناؤ جان کہیں جانا ہے مجھے،، وہ شرافت کا مظاہرہ کرتے ڈائننگ ٹیبل کے پاس آ کر بیٹھ گیا کہ وہ گھبراہٹ میں اپنا ہاتھ وات نا جلا بیٹھتی۔
کہاں جانا ہے آپ نے،،؟ وہ اس کے دور جانے کے خیال سے بھی گھبرائی تھی۔ وہ مسکرایا۔
کام ہے ضروری،، مبہم سا جواب تھا۔
کب آئیں گے،، خالص بیویوں والا سوال اور انداز تھا۔
کب آؤں،،؟ الٹا سوال پوچھا تو وہ نروس ہو کر انگلیاں چٹخانے لگی۔۔
وہ اس کی جانب سے رخ موڑ گئی تھی۔ “جلدی،، آہستگی سے بول کر دانتوں تلے لب دبایا۔
واٹ،، سنائی نہیں دیا ایلو کیا بولا،، میر ہادی نے جان بوجھ کر اسے چھیڑا۔
خبردار، کڑوے کریلے آپ نے مجھے ایلوویرا بولا،، وہ ٹاپک چینج کرنے کو غرائی۔
بولا تو کیا کرے گی میری جان،، وہ مصروف سا لاپروائی سے کہتا موبائل میں بابا اور دادا سائیں کے سینکڑوں مس کالز دیکھنے لگا جو وہ کل سے کر کر کے پاگل ہو رہے تھے۔۔
تو میں آپ سے دور چلی جاؤں گی،، وہ بولتی چولھے کی جانب مڑی تھی۔
مگر نہیں جانتی تھی کہ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دے بیٹھی ہے، بات تھی کہ پگھلا ہوا سیسہ جو وہ سامنے والے کے کانوں میں انڈیل چکی تھی۔ وہ تو پہلے ہی اس معاملے میں جلتے توے پر بیٹھا تھا جیسے،،
جھٹکے سے اٹھ کر اس کا رخ اپنی جانب موڑا تھا لویزا کے ہاتھ میں جو گرم چائے کا کپ تھا چھناکے سے فرش پر گر کر ٹوٹا تھا چھینٹے میر ہادی پر بھی پڑے تھے مگر یہاں پرواہ کسے تھی۔ بری طرح اس کمر سے تھام کر خود کے قریب کھینچا تھا وہ بری طرح سہمی تھی۔
ہادی،، یہ کیا،، ؟ کیا کیا آپ نے،، ؟ ابھی ساری چائے آپ پر گرتی،،

غور سے سنو رانا لویزا میر ہادی،، آج تو یہ بات منہ سے نکالی ہے، تم نے کہی اور میں نے سن لی،، آئندہ اگر یہ بات زبان پر لائی تو آئی سوئیر،، جان لے لوں گا میں تمھاری بھی اور ساتھ اپنی بھی،،
لال انگارا آنکھیں لئے وہ غرا کر بولا تو لویزا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں تھیں۔ جبکہ کمر پر اس کی اتنی سخت گرفت سے اسے تکلیف پہنچ رہی تھی۔
ہادی میں مزاق کر رہی تھی،، وہ مسکین سی شکل بنا کر بولی۔
مزاق وہ ہوتا ہے جس پر کسی کو ہنسی آئے اور مجھے اس بےہودہ بات پر بلکل ہنسی نہیں آئی لیزا،، وہ اب بھی اتنے ہی غصے سے بولا تو لویزا روہانسی ہوئی۔
ہادی، یو ہرٹنگ می،، لویزا نے اس کی توجہ اس کی اتنی سخت گرفت پر دلائی تو میر ہادی نے نرمی سے اسے چھوڑ دیا مگر رگیں ہنوز تنی ہوئی تھیں اور جبڑے یونہی بھنچے ہوئے تھے۔

میں یونہی تو نہیں کہتی کڑوے کریلے کہیں کے،، اس میں اتنا غصہ کرنے والی کونسی بات ہے آپ کیوں اتنی معمولی،،
واٹ لیزا ،،،،؟واٹ،،؟ تمھارے لیے یہ معمولی سی بات ہے رئیلی ؟ میں تو سن کے ہی مرنے والا ہو گیا،؟ تمھیں نہیں پڑے گا فرق میرے دور جانے سے تو دعا کرو جا رہا ہوں تو مر جاؤں اور لوٹ کے ہی نا،،
ہادی،، لویزا چلائی،، اور اس کے منہ پر بے اختیار ہی ہاتھ رکھا تھا۔ میں نے ایسے بولا آپ کو،، بہت برے ہیں،، بہت زیادہ،، آئی ہیٹ یو،، وہ اس کے سینے پر مکے برساتی منہ پر ہاتھ رکھتی روتی ہوئی اپنے کمرے میں بند ہو چکی تھی۔
کہاں کا ناشتہ کونسا ناشتہ۔
میر ہادی نے اپنی کنپٹیاں سہلائیں اور گہری سرد سی آہ بھری۔ ابھی تو وہ جانے اپنے پاگل پن میں کیا کیا گل کھلانے والا تھا۔ یہ تو شاید شروعات تھی۔ وہ تو اپنے اندر اٹھتے خلفشار سے تنگ آ کر اتنا ری ایکٹ کر گیا تھا۔ مگر اسے ناراض کر بیٹھا تھا جو اسی کی فرمائش پر اتنے دل سے اس کے لئے پراٹھا بنا رہی تھی۔
اس نے حسرت بھری نگاہ پراٹھے پر ڈالی اور بری طرح لب کاٹتا باہر نکلتا چلا گیا۔
ابھی تو جو سر پر دو دھاری تلوار لٹکی تھی ان سے جا کر نمٹنا تھا ۔ اپنی ایلو سے تو بعد میں ہی نمٹے گا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ فارم ہاؤس کے لاؤنج میں داخل ہوا تو دادا سائیں اور بابا سائیں کو اپنا منتظر پایا تھا۔ بابا سائیں تو سنجیدگی لیے بیٹھے تھے مگر دادا سائیں اچھے خاصے تپے بیٹھے تھے۔
برخوردار مل گئی ہے فرصت اس چھوکری کے پلو سے نکلنے کی تو،،
دادا سائیں سب سے پہلے تو اس کے لئے اپنا طرز تخاطب زرا درست کر کے بات کریں تو ہی میں یہاں بیٹھ کر بات کروں گا نہیں تو،، وہ سنجیدگی سے کہتا وہاں ان کے سامنے بیٹھتا کاٹ دار لہجے میں دانستہ بات ادھوری چھوڑ کر بولا۔
دادا سائیں کا تو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والا حساب تھا۔
تو پھر مجھے یہ بتاؤ جرأت کیسے کی تم نے یہ حرکت کرنے کی چھوٹے سائیں،،
بس ہو ہی گئی جرات دادا سائیں اب آپ آگے بولیں کہ مجھے کیا بولنے آئے ہیں،، رانا میر ہادی کے اطمینان پر ان کا عش عش کر اٹھنے کا دل کیا۔
اتنے بے وقوف لگتے تو نہیں میر ہادی جتنے بن گئے ہو، یہ دماغ جو ہمارے سامنے اتنا چلتا ہے اس کے آگے کیا گھاس چرنے چلا گیا تھا،،
کیا مطلب آپ کا،، کھل کر بات کریں،، اس نے چن پر مٹھی بنا کر رکھتے کہا۔
مطلب کے کاٹھ کے الو ہو، اس نے تمہیں دولت کے لئے پھانسا اور تم،،
نو،، یہ اعتراض رد کرتا ہوں میں آپ کا ،،کیونکہ اسے معلوم ہی نہیں کہ میں کتنا دولت مند ہوں ، اسے میں نے یہ بتایا کہ میں ایک بڑی کمپنی میں جاب کرتا ہوں، اور میں نے جو پراپرٹی اس کے نام کی اسے اس چیز کا بھی بلکل علم نہیں،، اگلا اعتراض؟
ہادی کے سکون نے اب دادا سائیں کو آگ لگائی تھی۔
اور بیغیرت، ناخلف بختاور کے بارے میں کیا خیال ہے،، وہ دانت پیس کر سرخ چہرے کے ساتھ بولے تھے۔۔
اس سے پوچھ کر ہی کیا ہے یہ نکاح،، وہ سکون سے بولا تو دادا سائیں بھونچکا سے اسے دیکھے گئے۔
میر ہادی، بختاور تمھاری خاندانی بیوی ہے یار،، اب کی بار میر دراب نے اسے سمجھانا چاہا تھا “اور تم جانتے ہو خاندان سے باہر ہم رشتہ نہیں کرتے، تمھارے اس نکاح کو کبھی قبول نہیں کریں گے، اور نا اسے تمھاری بیوی تسلیم کریں گے ہم،
تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، کوئی مانے نا مانے میں ، وہ میری بیوی ہے تو اس کے لئے میں ہی کافی ہوں،اور میرے لئے وہ ، میر ہادی نے ایک بار پھر ان کی بات بیچ میں اچکی۔
تمہیں اسے چھوڑنا ہوگا میر ہادی،، دادا سائیں نے اپنا حتمی فیصلہ سنایا۔
نا چھوڑا تو،، لہجہ چیلجنگ تھا۔
تو تم اچھی طرح جانتے ہو میر ہادی کے راناز اپنی راہ کا کانٹا کس طرح نکالتے ہیں،، دادا سائیں غصے سے سرخ ہو رہے تھے۔

اگر اسے ایک کھروچ بھی آئی ناں دادا سائیں تو میں آپ لوگوں کے سامنے خود کو زندہ جلا لوں گا، پھر بختاور کو بنا لیجئے گا آپ ، اپنی نسل کی امین،، وہ بھی اب غرا کر بولا تھا۔ دو حرفی بات تھی جو وہ سنا کر جھٹکے سے اٹھا تھا ۔ جانتا جو تھا صرف ایک یہی بات ہے جو دادا سائیں کی کتنی بڑی کمزوری ہے وہ خود ان کی کتنی بڑی کمزوری ہے تو اس نے اسے ہی اپنا ہتھیار بنایا تھا۔ مگر اس کے جانے کے بعد دادا سائیں کا بی پی ضرور بڑھ گیا تھا۔

ڈاکٹر نے آکر انھیں میڈیسن دیں تھیں۔
میں نے کہا بھی تھا بابا سائیں،، ابھی تھوڑا صبر کر لیں،، نیا نیا شوق ہے پورا ہو لینے دیں،، دیکھا نہیں کیسے لڑنے مرنے کو تیار ہے اس کے لئے ابھی جزباتی ہو رہا ہے بعد میں دیکھیں گے، یہ اونٹ کس کروٹ بٹھانا ہے،، ابھی آپ اپنی صحت پر توجہ دیں، الیکشن بھی سر پر ہیں یہ معاملہ نہیں چھیڑ سکتے ابھی ہم،، میر دراب نے انھیں سمجھایا تو وہ گہری سوچ لیے اثبات میں سر ہلا گئے۔
وہ خاموش تھے۔
مگر یہ خاموشی کسی طوفان کے آنے سے پہلے کی خاموشی لگ رہی تھی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓