Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
وہ سرشار سا میر لاج داخل ہوا تھا۔ تمام صورتحال افضل اسے بتا چکا تھا اسی لئے وہ زہنی طور پر تیار تھا۔
وہ اندر آ کر سیدھا اس کے روم کی جانب ہی آیا تھا۔ ہلکی دستک دے کر اندر داخل ہوا تو وہ بیڈ پر اوندھی لیٹی رونے کا شغل فرما رہی تھی۔۔
ہیے لیزا کیا ہوا ڈئیر،، بتاؤ مجھے پلیز،، وہ اسے قریب آیا۔ وہ بھنا کر جھٹکے سے اٹھی اس کے سامنے آئی تھی۔
ہادی،، ہمارا نکاح نامہ کہاں ہے،، مجھے چاہئے اور ابھی کہ ابھی چاہیے،، وہ پینِک ہوئی۔۔
تم جانتی تو ہو لیزا،، ایکسیڈنٹ میں،،
میں کچھ نہیں جانتی ہادی،، مجھے نکاح نامہ چاہیے،، ابھی کہ ابھی،، کورٹ سے لے کر آئیں ریکارڈز میں سے،
تمھیں کیا لگتا ہے لیزا مجھے فکر نہیں،، میں نے کوشش نہیں کی ہوگی، گیا تھا میں، دو تین چکر لگائے مگر کوئی سنتا ہی نہیں (رانا میر ہادی نے اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ بولا) کہتے ہیں آفس میں آگ لگی تھی، ہارڈ اور سوفٹ ویئر سب ریکارڈ جل کر سپوئل ہو گیا،، تو بولو اب میں کیا کروں،، میر ہادی نے اپنے لہجے میں یاسیت و مایوسی طاری کی۔۔
تو یہ نکاح دوبارہ ہوگا ہادی، وہ بھی آج ہی اور اسی وقت، میں کچھ نہیں جانتی،، وہ روئے گئی۔۔
میرے پاس بھی اس پرابلم کا یہی سیلوشن تھا لیزا، کتنے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے بولوں، بٹ بول نہیں پایا، میں نے تو ساری تیاری بھی کتنے دنوں سے کر رکھی ہے، میر ہادی نے اس کے آنسو صاف کرتے کہا “پارلر والی آتی ہو گی تم تیار ہو جاؤ میں عالی اور اجالا کو لے کر آتا ہوں،،
لویزا نے بھیگی پلکوں سے اسے دیکھتے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ لبوں پر ایک میٹھی اور فاتحانہ سے مسکان لیے واپسی کے لئے مڑا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اجالا فوزیہ بیگم کے پاس بیٹھی تھی جب میڈ نے آ کر میسج دیا کہ رانا میر ہادی آئے ہیں۔۔
انھیں ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ میں آتی ہوں،، اجالا نے اٹھتے ہوئے کہا۔ اسے حیرت ہوئی تھی کہ عالی کی بجائے وہ اس سے کیوں ملنے آیا تھا یقینا لویزا کے متعلق کوئی بات ہوگی یہ سوچتے ہی اس کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے تھے۔
فوزیہ بیگم اور اجالا ڈرائینگ روم میں داخل ہوئے تو وہ سامنے ہی صوفے پر بیٹھا تھا۔ وہ اندر داخل ہوئیں تو وہ پہلی مرتبہ ان کی تعظیم میں اٹھ کر کھڑا ہوا تھا۔ اجالا کو حیرت ہوئی فوزیہ بیگم نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔ کیونکہ وہ ہلکا سا جھکا تھا ان کے سامنے۔
بڑی بات ہے اتنے بڑے لوگ بھی یم جیسوں کے سامنے جھکتے ہیں،، مما آج یقینا بارش آئے گی،، اجالا نے اپنی حیرت پر قابو پاتے خفیف سا طنز کیا تو وہ مبہم سا مسکرایا۔
جن کا تعلق اپنی متاعِ جان سے ہو ان کے سامنے جھکنے میں کوئی عار نہیں،، وہ بھی بے دھڑک بولا تو اجالا ٹھٹھکی۔
کچھ کہنا ہے آپ کو،، وہ دونوں اس کے سامنے بیٹھ گئیں۔۔
میں لویزا سے نکاح کرنا چاہتا ہوں آج اور اسی دن ، اس نے سنجیدگی سے اجالا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تو اجالا جسے پہلے ہی اس کی ڈھٹائی پر کوئی شک نہیں تھا اب بھی عش عش کر اٹھی۔
اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی میں آپ کو اس چیز کی اجازت دوں گی،، وہ سرد وسپاٹ لہجہ میں بولی۔۔
آپ غصہ کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل و دماغ سے میری بات سنیں بھابھی،، سب سے بڑی اور مین وجہ یہ میں اس سے محبت کرتا ہوں، دوسری یہ کہ وہ بھی مجھے چاہنے لگی ہے، تیسری اب ہمیں بغیر کسی رشتے کہ ایک چھت کے نیچے نہیں رہنا چاہئے، اور سب سے بڑی اور مین وجہ لوگ اس رشتے پہ انگلی اٹھانے لگے ہیں ، آنٹی سمجھائیں انھیں، یہ ہمارا نصیب تھا، جو بھی ہوا ہمارے مقدر میں لکھا تھا، اس کی یاداشت جانے کب آئے،، آئے بھی کہ نہیں، دیکھا جائے تو اس کا میرے علاوہ اس دنیا میں کوئی نہیں تو بہتر نہیں کہ میں اس رشتے کو ایک نام اور مقام دے دوں،، میر ہادی بولے گیا۔۔
میر ہادی ٹھیک بول رہا ہے بیٹا،، اب یہی مناسب ہے کہ یہ نکاح ہو ہی جائے،، فوزیہ بیگم نے بھی کہا تو وہ خاموش ہی ہو گئی۔۔
اگر کل کو اس کی یاداشت آ گئی تو کیسے ہینڈل کریں گے اسے،، اجالا نے شکستہ سے لہجے میں کہا۔ اب واقعی یہی مناسب تھا کہ وہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ لویزا بغیر کسی رشتے کہ ایک پل بھی اس آدمی کے پاس گزارے۔۔
میں ہینڈل کر لوں گا اسے،، اس بات پر میر ہادی نے پہلو بدلہ۔
اور آپ کی پہلی بیوی،، اجالا نے اسے گھورا۔
اس کی اجازت ہے مجھے، کہیں تو بات کروا دیتا ہوں بھابھی آپ کی،، میر ہادی نے پھر اسے خاموش کیا۔
اور کیا گارنٹی ہے کہ آگے جا کر آپ کے خاندان والے کوئی پرابلم کریٹ نہیں کریں گے یا آپ اس سے اکتا کر اسے بیچ راستے میں چھوڑ نہیں دیں گے،، (اجالا نے سادہ لفظوں میں اپنے خدشات اس پر واضح کیے جیسے کہنا چاہتی ہو کہ کہیں تمھارا دل تو نہیں بھر جائے گا اس معصوم سے)
ویسے تو میری زبان ہی کافی ہے پر اگر کوئی گارنٹی چاہیے تو میں اپنی ساری پرسنل پراپرٹی لویزا کے نام کردوں گا،، میر ہادی نے اطمینان سے کہا۔
لویزا کیسے مانی، وہ تو،،، اجالا اپنی بات کے بیچ میں ہی خاموش ہوئی۔
منا ہی لیا اسے بھی،، وہ مسکرایا۔
پھر کسی نئے فریب سے،، اجالا نے پھر طنز کا تیر چلایا تو میر ہادی نے شکایتی نگاہوں سے فوزیہ بیگم کی جانب دیکھا۔
بیٹا آپ چلو ہم تیار ہو کر بس آدھے گھنٹے میں پہنچتے ہیں،، فوزیہ بیگم نے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلاتا اٹھا۔
عالی کدھر ہیں،، اجالا بھی کھڑی ہوئی تھی۔۔
وہ میر لاج ہی ہے مجھے میرا مقدمہ لڑنے اکیلا ہی بھیجا،، میر ہادی نے بھی خفیف سا طنز کیا۔ اب ان دونوں کا سالی بہنوئی کا رشتہ ہی ایسا تھا تو کوئی کیا کرتا۔
ٹھیک ہے میں آپ کے ساتھ ہی چلتی ہوں لویزا کے پاس، ادھر ہی تیار ہو جاؤں گی،، مما آپ چینج کر کے آ جانا پاپا کے ساتھ،، اجالا نے کہا تو میر ہادی کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
چلیں پھر آپ،،
میں اپنی کچھ چیزیں لے آؤں،، اجالا کہہ کر اپنے روم میں گئی تھی۔
بہت اچھا فیصلہ کیا تم نے بیٹا،، فوزیہ بیگم نے کہا تو وہ مسکرایا ۔ اب انھیں کیا بتاتا وہ تو خود اب دل کی مراد پانے جا رہا ہے۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
پورے رستے خاموشی چھائی رہی، میر لاج پہنچے تو وہ گاڑی سے اتری۔ سامنے ہی عالی کو ایک جاندار سی گھوری سے نوازا تو وہ بھی ڈھیٹ بنا ہنسنے لگا۔
وہ لاؤنج سے گزرتی سیدھا لویزا کہ روم میں داخل ہوئی تھی۔
مگر روم میں داخل ہو کر بری طرح ٹھٹھک کر رکی تھی۔ سامنے ہی وہ ٹی پنک اور ڈل گولڈن کلر برائیڈل ایمبرائڈڈ لہنگے میں آسمان سے اتری کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔ ابھی تیاری مکمل نہیں تھی پھر بھی وہ اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ اجالا بھی سٹل ہو کر رہ گئی تھی۔۔
اجالا،، لویزا نے ہی پکارا تو اسے ہوش آیا۔
لو جی،، برائڈل جی، آپ کی فرینڈ کا آپ کو دیکھ کر یہ حال ہے آپ کی ہبی جی کا تو اللہ ہی وارث ہے،، بیوٹیشن نے چھیڑا تو لویزا کانوں تک سرخ ہوئی۔
اجالا اندر چلی آئی۔ اور اس کے گالوں سے اپنے گال مس کیے۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو لیزو،، کسی کی نظر نا لگے،، وہ واری صدقے گئی۔ اور اپنا سامان بھی صوفے پر رکھا۔
پھر جلد ہی ان کی تیاری مکمل ہو گئی۔۔
بیوٹیشن گئی تو لویزا نے اجالا کو ساری تفصیل بتائی کہ اس نے یہ سٹیپ کیوں لیا۔۔ اجالا غور سے ہر بات سنتی رہی۔
تبھی دروازے پر ہلکی دستک دے کر فریدہ اندر آئی تھی اور اپنی بیگم صاحبہ کو دیکھ واری صدقے گئی۔۔
آپ کو لاؤنج میں بلا رہے ہیں بیگم صاحبہ مولوی صاحب اور سب آ گئے۔۔ فریدہ نے کہا تو اجالا نے لویزا کا ہاتھ تھاما اور دھیمے قدموں سے اسے لیے باہر کی جانب بڑھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ادھر میر ہادی بلیک ڈنر سوٹ پہنے بلکل تیار تھا۔ عالی اس کی کلائی پہ واچ باندھ رہا تھا۔
خوش ہو دلہے صاحب،، عالی نے چھیڑا۔
وہ گہرا مسکرایا،، بہت،، تمھیں اندازہ بھی نہیں اتنا خوش،، خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔ مگر آنکھوں میں ایک گہری فکر بھی ہلکورے لے رہی تھی۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی تھی۔۔افضل تھا۔
چھوٹے سائیں مولوی جی آ گئے،، افضل نے کہا۔
اور اجالا بھابھی کے ممی پاپا آئے کہ نہیں،، میر ہادی نے خود پر پرفیوم چھڑکتے پوچھا۔
جی چھوٹے سائیں وہ بھی آ گئے، لاؤنج میں بٹھایا ہے،،
ٹھیک ہے چلو،، وہ دونوں باہر آئے۔ سب سے ملکر فریدہ کو اجالا اور لویزا کو بلانے بھیجا۔
میر ہادی صوفے پر بیٹھا تھا جب وہ آج شعلہ جوالا بجلی بن کر اس کے دل پر گرتی اجالا کے ہمراہ دھیمے قدموں سے چلتی ج
باہر آئی تھی۔ میر ہادی کا دل جیسا دھڑکنا بھول گیا تھا یا وہ سانس لینا بھول گیا تھا اسے پتہ نہیں چل رہا تھا۔ اجالا نے اسے تھام کر میر ہادی کے پہلو میں بٹھایا تھا۔ وہ ایسے بے خودی اور بے اخیتاری کے عالم میں اس کی جانب دیکھے جا رہا تھا کہ ایک مرتبہ تو لویزا کی بھی روح فنا ہوئی تھی ۔۔ پھر لویزا کو ہی گلا کھنکار کر اسے ہوش کی دنیا میں واپس لانا پڑا۔
کیا لمحہ تھا۔
کیا نظارا۔
مولوی صاحب بسمہ الله کیجیے،، عالی نے کہا تو نکاح کی شروعات ہوئی۔۔
لویزا اقبال ولد اقبال احمد آپ کا نکاح رانا میر ہادی ولد رانا دراب کے ساتھ باعوض پچاس لاکھ حق مہر کے طے ہونا پایا ہے کیا یہ نکاح آپ کو قبول ہے،،
زمین پیروں تلے سے ہلی تھی مگر
جی قبول ہے،، دھیمے سے لویزا نے تین مرتبہ اقرار کر ہی لیا۔
جلد ہی ایجاب و قبول کر مرحلہ طے پا گیا۔ رانا میر ہادی فاتح عالم بنا بیٹھا تھا جیسے دنیا فتح کر لی ہو۔ محبت کو پا لینے کا احساس شاید اتنا ہی دلفریب ہوتا ہے۔۔
سب بے تحاشا خوش تھے حتی کہ آج تو اجالا بھی قدرے مطمئن اور خوش سی تھی۔
خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا۔
کھانے کے بعد چائے اور ہلکی پھلکی گفتگو کا دور چلا۔ اور پھر آہستہ آہستہ سب رخصت ہونے لگے۔
میر ہادی جو اپنے دوست کو رخصت کرنے باہر تک گیا تھا واپس لویزا کے پاس آیا جو نارمل سی اجالا کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کر رپی تھی کیونکہ اس کی دانست میں یہ سب ایک فارمیلٹی تھی کیونکہ وہ تو آلریڈی رانا میر ہادی کی تھی۔
“لیزا مجھے کچھ ضروری کام ہے رات تک آ جاؤں گا، ڈنر پہ ویٹ کرنا، میر ہادی نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
میر ہادی نے ایک گہری پرتپش نگاہ اس پر ڈالی اور باہر نکلتا چلا گیا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
ڈاکٹر عبدالحفیظ گہری نگاہ سے سامنے بیٹھے اس خبطی اور سنکی سے شخص کو دیکھ رہے تھے۔
آپ میڈیسنز کے حوالے سے کیوں اتنے فکر مند ہیں رانا صاحب اور کیوں پوچھ رہے ہیں کہ ان کو یوز کر کے آپ کی مسز کی میموری کب تک واپس آئے گی،، جو میڈیسنز وہ یوز کر رہی ہیں وہ اتنی اچھی ہیں کہ بہت جلد انشاءاللہ ان کی یاداشت واپس آنے کے چانسز ہیں،،
ڈاکٹر،، مگر اب میں یہ چاہتا ہوں کہ میری وائف کی یاداشت کبھی واپس نہیں آئے،، کیا کوئی ایسی میڈیسنز ہیں جو میں اسے یوز کرواؤں اور اس کی یاداشت واپس نا آئے،،
واٹ،، ؟ آر یو ان یور سینسز؟ ڈاکٹر عبدالحفیظ کو اپنے کیرئیر کا سب سے بڑا دھچکا لگا تھا شاید آج تبھی حیرت و صدمے سے گنگ ہوئے تھے۔
میں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ میری وائف ہے،، بلکہ میں نے آج نکاح کیا ہے اس سے،، اور پھر میر ہادی نے تمام سچائی ڈاکٹر کو بتا دی تھی۔۔ اور وہ گہری سنجیدگی لیے سب سنتے رہے۔
یہ آپ نے سہی نہیں کیا رانا صاحب،، ڈاکٹر نے افسوس سے کہا۔
میں اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو ڈاکٹر،، یہ سب کرنے کے لئے، اب آپ بتائیں ؟کیا ہے ؟اس کے لئے بہتر، اس کی یادیں واپس آ جائیں اور وہ مجھے اور خود کو برباد کر لے یا یہ کہ ہم ایسے ہی اپنی میریڈ لائف ہنسی خوشی گزاریں، میں اسے اتنی خوشیاں دوں گا کہ وہ دنیا بھول جائے گی ،باقی جو ماضی میں ہو چکا ہے وہ میں بدل نہیں سکتا مگر اس کا فیوچر ضرور خوشیوں سے بھر سکتا ہوں،، میر ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔ تو ڈاکٹر بھی سوچ میں پڑ گیا۔
رائٹ آپ ایسا کریں وہ جو میڈیسنز لے رہی ہیں انھیں ہٹا دیں، اور یہ کچھ ملٹی وٹامنز ٹیبلٹس لکھ کر دے رہا ہوں، ان کی جگہ وہ بول کر یہ دے دیں، باقی اس کے بعد ہر چیز کے رسپونسپل آپ ہوں گے۔ اگر میموری آئے یا نا آئے، ایکسکیوزمی،، ڈاکٹر نے کہا اور اٹھ کر کیبن سے باہر چلے گئے ۔
رانا میر ہادی اپنے دل کا سب سے بڑا ڈر نکال کر اب اطمینان سے وہ نسخہ ہاتھ میں تھامے باہر آیا تھا۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ رات دس بجے کے قریب گھر لوٹا تو میر لاج میں دن کی نسبت کافی سناٹا سا چھایا ہوا تھا۔ وہ لبوں پر گہری مسکان سجائے اندر داخل ہوا۔ فریدہ لاؤنج میں موجود تھی۔
لویزا کہاں ہے فریدہ،؟
چھوٹے سائیں، بیگم صاحبہ آپ کا انتظار کر رہی تھیں، پھر یہ بول کر کہ تھک گئیں ہیں کمرے میں چلی گئیں،،
سہی تم جاؤ اب، میں کروا دوں گا ڈنر اسے،،
میر ہادی نے کہا تو وہ سر ہلاتی دانت نکالتی چلی گئی۔
میر ہادی اس کے کمرے تک آیا تھا۔ روم لاکڈ تھا۔ وہ اس کی معصومیت اور لاعلمی پر مسکرایا ۔ وہ آج کی شب کو بھی گزرنے والی پچھلی شبوں سے تشبیہ دے بیٹھی تھی شاید تبھی ڈور لاک کر کہ سو گئی تھی۔
ڈوبلیکیٹ کی سے ڈور کھولا ۔ اندر آیا تو ایک اور دلکش نظارا دیکھا۔ وہ سونا نہیں چاہتی تھی شاید، مگر تھکاوت سے چور دوپٹہ اور جیولری اتار کر ڈریسنگ پر رکھے اپنی گرم شال خود پر اوڑھے صوفے پر بیٹھنے کے انداز میں ہینڈل پر سر ٹکائے گہری نیند میں تھی۔
سب سے پہلے اس نے آگے بڑھ کر پہلی ساری میڈیسنز ڈسٹ بن کی نظر کیں اور اب کی لائی میڈسنز بیڈ کے سائیڈ ڈرار میں رکھیں۔ پیچھے مڑا تو نگاہ بھٹک کر اس پری پیکر پر جم گئیں جو اس کی رگ و جاں میں بس چکی تھی۔
آج زاویہ نگاہ کچھ اور ہی تھا اسی لئے نگاہ بلا جھجھک کندن بدن کی تمام گہرائیوں میں اتر رہی تھی۔۔
وہ اپنا کوٹ اتارتا اس کے قریب آیا تھا۔ صوفے پہ چھوڑی گئی چھوٹی سی جگہ پر بیٹھا۔ چاندی کی طرح دمکتی وہ آج اسے مکمل بے خود اور مدہوش کر چکی تھی۔ تمام جزبے انگڑائیاں لے کر بیدار ہوئے تھے۔
ہاتھ بڑھا کر ہاتھ کی پشت سے گال سہلائی۔
وہ جو کافی دیر سے سو رہی تھی، اب نیند پوری ہونے پر ایک دہکتا لمس اپنے چہرے پر محسوس ہونے پر کسمسا کر آنکھیں کھولیں تھیں۔ سامنے اسے بیٹھا دیکھ وہ مسکرا کر اٹھی۔
ارے آپ آ گئے، اب تک مجھے لگا آئیں گے ہی نہیں،،
ہممم آج تو آنا ہی تھا، وہ مبہم سا مسکرا کر بولا۔ اب کیسا فیل کر رہی ہو لیزا؟
بہت اچھا،، وہ کب سے بچوں کی طرح خوش ہوئے جا رہی تھی۔
ڈنر کیا؟
نہیں آپ کا ویٹ کر رہی تھی،،
میں آج ڈاکٹر عبدالحفیظ کے پاس گیا تھا،،
کیوں؟ لویزا کو حیرت ہوئی۔۔
پوچھنے کہ اب ہم اپنی ازدواجی زندگی سہی طرح سے سٹارٹ کر سکتے ہیں کہ نہیں،، تو انھوں نے کہا بلا جھجھک،،
اس کی بے پر کی پر لویزا بوکھلا کر تیزی سے اٹھی تھی۔ مگر اتنی ہی تیزی سے میر ہادی کی گرفت میں اس کی کلائی آئی تھی۔
کدھر؟
وہ ڈریس چینج کرنے،،
نو، ابھی نہیں،، اس کی فرمائش پر لویزا نے اس کی جانب دیکھا مگر،
کلی دل کی اچانک کھل گئی
کوئی کوئی ہوئی شے مل گئی ہے
یہ کس انداز سے دیکھا ہے تونے
زمین پیروں تلے سے ہل گئی ہے
آج اس کی نگاہوں میں جو سوال اور جو طلب تھی اس نے لویزا کی جان لبوں پر لائی تھی۔ میر ہادی نے کھڑے ہو کر اچانک اسے بازوؤں میں بھرا تھا۔۔
ہادی کیا کر رہے ہیں آپ،، وہ اس کے اٹیٹیوڈ سے گھبرائی۔
خاموش رہو لویزا، بھاری بوجھل لہجے کی سرگوشی تھی جس نے اس نازک جان کی ہتھیلیاں پسینے سے بھگوئیں تھیں۔۔
وہ اسے لئے روم سے باہر آیا تھا۔۔اور اب رخ اپنے روم کی جانب تھا۔
اپنے روم میں داخل ہو کر ڈور پاؤں سے لاک کیا۔ روم میں ملگجا اندھیرا تھا مگر لویزا کی روم کی سجاوٹ اور سچوئشن دیکھ کر جیسے سانس رکی تھی۔۔ جس میں موتیے کے سفید اور گلاب کے پھولوں کی مسہری بنائی گئی تھی اور ہر طرف سینٹڈ کینڈلز تھیں۔ بے اختیار ہی لویزا کی گرفت اس کی شرٹ پر مظبوط ہوئی تھی۔۔ جب کے وہ گہری مسکان لیے اس کے چہرے کا ایک ایک اتار چڑھاؤ دیکھنے میں مصروف تھا۔
ہا،، دی،، یہ،، کک،، کیا،، آج پہلی مرتبہ رانا میر ہادی کے سامنے اس کی زبان لڑکھڑائی ہوگی۔۔
ہمارے رشتے کی حقیقت میری جان،، جو آج ہمیں تسلیم کرنی ہے، میر ہادی کی نگاہیں اب زیادہ خمار آلود اور بہکی سی ہو چلی تھیں۔
آپ تو یوں بی ہیو کر رہے ہیں ،،،،،،،جیسے پہلے تو یہ رشتہ،،،،،،، تھا ہی نہیں، جیسے آج ہی یہ قائم ہوا،، اس کی دہکتی نگاہوں سے بچنے کو اپنا لہجہ مضبوط کر کے بات کرنے کی کوشش کی مگر بری طرح ناکام ہوئی۔
کچھ ایسا ہی سمجھ لو میری جان،، وہ اسے لئے بیڈ تک آیا تھا۔۔ اور اسے بیڈ پر اتارنا چاہا۔۔
ہادی،، مم،، مجھے نہیں سونا یہاں،، اپنے روم میں جانا ہے،، وہ بیڈ پر اترنے کو تیار نا تھی تبھی شدت سے اس سے لپٹتی بولی۔۔
آج گریز ممکن نہیں میری جان،، کان میں وہ بوجھل سی سرگوشی نے لویزا کی دل کی دھڑکن تیز تر کی تھی۔ ہادی نے نرمی سے اسے بیڈ پر اتارا۔ اور بلکل اس کے سامنے بیٹھا۔
اب جیسی سامنے والی کی نگاہ تھی لویزا کا دل کیا کہیں چھپ جائے اسی لئے نگاہیں جھکا گئی تھی۔ میر ہادی نے اپنی پینٹ کی پاکٹ سے ایک مخملی ڈبیہ نکالی ۔۔کھولی تو اس میں ایک ڈائمنڈ رنگ تھی۔۔
ہاتھ دو لیزا،، میر ہادی نے اس کا ہاتھ تھاما، لویزا کو لگا اس کا ہاتھ جل جائے گا اسی لئے جیسے ہی میر ہادی نے نرمی سے اسے رنگ پہنائی اس نے ہاتھ پیچھے کھینچنا چاہا مگر ناکام ۔
میر ہادی کی گرفت مضبوط ہوئی۔
ہادی نے جھک کر عقیدت سے ہاتھ کی پشت پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی، لمس حدت بھرا تھا۔ لویزا نے جیسے سانس روکی تھی۔ جب وہ ہاتھ کی پشت سے یونہی شدت بھرے لمس بکھیرتا بازو اور پھر شولڈر تک آیا۔ لویزا نے دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں اس کی شرٹ بری طرح جکڑی۔ دل کی دھڑکن مزید بے قابو سی ہوئی جب اس ستمگر نے اپنے لب گردن پر رکھے اور گردن پر جا بجا محبت کے پرشدت سے پھول بکھیرے۔۔ ہادی نے اس کی کان کی لو کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹا تھا جب رانا لویزا میر ہادی کی بس ہوئی تھی۔ تبھی اکھڑتی سانسیں لیے مچل کر اس کی پناہوں سے نکلی تھی۔
ہادی،، سٹاپ،، پپ،، پلیز،، میں سانس نہیں لے پا رہی،، وہ بیڈ سے اتر کر ونڈو کے پاس آئی تھی۔ اور بےقابو ہوتے پسلیوں سے سر پٹختے دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔
اور اب لویزا سوچ رہی تھی کہ اگر وہ اس سے دور تھا اس سے گریزاں تھا تو بلکل بجا تھا کہ شاید وہ جانتا تھا کہ اس کی نازک جان اس کی شدت، جنون اور دیوانگی جھیل نہیں پائے گی۔ بلکل بھی نہیں ۔۔
میر ہادی اس کی ابتر ہوئی حالت دیکھ گہرا مسکرایا تھا۔ اور بیڈ سے اتر کر شرٹ کے بٹن کھول کر شرٹ اتارتا اس کی جانب آیا۔
اس کے ہر ایک بڑھتے قدم کے ساتھ لویزا کی دھڑکن تیز تر ہوئی تھی۔ اور جان تو اس وقت نکلتی محسوس ہوئی جب اس کے ہاتھ کمر کے گرد مظبوط سے حمائل ہوئے تھے۔ ہادی کے دہکتے لبوں نے پھر کندھوں سے گردن تک کا سفر طے کیا تھا۔
ہا،،،، دی،،، نن،، نو، پلیز،، میں برداشت نن، نہیں کر پا رہی،، وہ اکھڑتی سانسوں کے بیچ اتنا ہی بول پائی۔ ماتھا پسینے سے بھیگ چکا تھا۔۔
“اس نہیں کا کوئی حل نہیں،
روز کہہ دیتے ہو ،،،،،آج نہیں، مگر آج میں کہتا ہوں میری جان،، آج گریز بلکل نہیں،، بھاری ترین آواز کی اس سرگوشی نے مزید لویزا کو بے حال کیا تھا۔ ہادی نے اس کا رخ جھٹکے سے اپنی جانب موڑا تھا۔ اس کے ہاتھ اپنے کندھوں پر رکھے۔ لویزا بس ایک نگاہ ہی اس کی جانب دیکھ پائی تھی اور اس کی قاتل نگاہوں کا فوکس دیکھ کر اسی کے سینے میں منہ دینا چاہا مگر بری طرح ناکام ہوئی تھی۔ جب میر ہادی نے اپنے تشنہ لب شدت سے اس کے لبوں میں الجھائے۔۔ایک ہاتھ جوڑے میں پھنسایا اور دوسرا کمر کے گرد حمائل کر کے سہارے کے لئے اسے دیوار سے لگایا تھا۔
جھٹکے سے جوڑا کھل کر موتیے کے پھول جا بجا بکھرے اور ریشمی بال شولڈر سے نیچے تک بکھر گئے تھے۔۔
لویزا کا سارا خون نچڑ کر جیسے چہرے پر آیا تھا۔ جسم بے جان سا ہونے لگا۔ اسے اپنے نازک ہونٹوں پر جلن کا احساس ہونے لگا تھا۔ مگر آج وہ جو خود کو سیراب کر رہا تھا۔۔ لگتا نہیں تھا اس جام سے سیر ہو پا رہا ہے۔ مگر لویزا کی بے حال ہوتی حالت پر ترس کھاتے وہ نرمی سے پیچھے ہٹا تھا۔
وہ اسی کے کندھے پر گر کر گہرے گہرے سانس بھرنے لگی تھی۔ میر ہادی نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے اور اسے پھر سینے میں بھینچا۔
ہا،،،، دی،،، مم،،، میں ،،،مر،، جاؤں گی،،،پلیز۔ وہ روہانسی ہوئی۔اور تقریباً رو دینے کو تھی۔۔
نو میری جان،، جی کڑا کرو،، کہ آج ہر صورت تمھیں رانا میر ہادی کا جنون اور اس کی دیوانگی بھری شدتیں اپنی نازک جان پر جھیلنی ہیں ،، آج میں کسی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹوں گا،، محبت سے کمر سہلاتے اسے جیسے حوصلہ اور تسلی دی گئی تھی۔
“بس اتنے میں ہی جان ہوا ہو گئی میری جان،، ابھی تو میں نے اپنی محبت کی شدتیں لٹانے کی شروعات ہی کی ہے،، میر ہادی نے اس چھیڑا اور اس کا چہرہ اپنے سامنے کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے اس کے سینے میں دبکی ہوئی تھی۔
میر ہادی نے پھر اسے بازوؤں میں بھرا۔ وہ بری طرح بوکھلائی۔
ہادی،، پلیززززز،، میر ہادی کو بیڈ کی جانب جاتا دیکھ لویزا کہ پھر چودہ طبق روشن ہوئے تھے۔
مگر وہ ان سنی کرتا اسے بیڈ پر لٹا کر خود اس کے اوپر جھکا۔ لویزا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکنے کی ناکام کوشش کی مگر وہ اس کی انگلیوں میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں پھنسا کر بیڈ سے پن کر گیا۔ اور پورے چہرے پر اپنے پیار کی مہریں ثبت کرنے لگا۔
ہا،،، دی،،،
اششششششش،،، ہادی نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی تھی۔ “بولو مت میری جان صرف میری محبت محسوس کرو،، میری شدتوں کا اندازہ نہیں تھا ناں تمھیں، تبھی میرے گریز کا شکوہ کرتی تھیں،، آج میں تمھیں باور کرانا چاہتا ہوں کہ یہ دوری کتنی عذاب ناک تھی میرے لئے،، وہ کہتا پھر اس کے ہونٹوں پر جھکا تھا۔ محبت کی شدتیں بکھیرتا بیوٹی بون تک آیا۔ لویزا نے اس کی شدتوں سے گھبرا کر سختی سے آنکھیں بند کیں اور شیٹ مٹھیوں میں دبوچی ہوئی تھی۔ جیسے خود سپردگی کا عالم ہو جیسے خود کو اس کی شدتوں کے حوالے کیا ہو۔
میر ہادی نے اپنے اوپر کمفرٹر پھیلایا اور ہاتھ بڑھا کر اکلوتا جلتا سائڈ لیمپ بھی آف کر دیا۔۔ آج انہوں نے ایک دوسرے کو پا لیا تھا مکمل کر دیا تھا۔ محبت مہربان ہوئی تھی دونوں پر تو دونوں کے رشتے کو ایک مضبوط ڈور میں باندھ کر ایک انتہائی پاکیزہ رشتے کا مقام حاصل ہوا تھا۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
Extra long epi🙈🙈🤭🤭🤭🤭
