Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

محفل اپنے عروج پر تھی۔
وہ رائل گرین ٹو پیس میں اپنی پھپھو کی حویلی کے دلہن کی طرح سجائے گئے احاطے میں داخل ہوا تھا۔ دو دن کے مقابلے میں اب اس کے چہرے پر قدرے سکون اور اطمینان سا تھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح مرکزِ نگاہ بنا تھا۔ ہر نگاہ اٹھی اور پلٹنا بھول گئی تھی۔ ہر لڑکی اسے دیکھ کر ایک آہ سی بھر رہی تھی ہر کوئی بختاور میر ہادی کی قسمت پر رشک کر رہا تھا، مگر وہ بے نیازی سے آگے بڑھا اور سٹیج کے قریب اماں سائیں کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
پھپھو فرحین اس سے ملنے آئیں تھیں اور اس کی ڈھیروں بلائیں لے ڈالی تھیں۔
رانا میر ہادی کی مکمل توجہ اب اپنے فون میں موجود اس دو جملہ شعر کی جانب تھا جس نے ابھی ابھی اس کا کچھ سکون پہنچایا تھا۔ وہ بار بار اس میسج کو پڑھے جا رہا تھا۔۔جیسے میسج نا ہوا کوئی نشہ ہو جس نے جسم و جاں پہ سرور سا طاری کیے رکھا تھا۔
نکاح کا پاکیزہ بندھن بندھ چکا تو ہر طرف مبارکباد کی صدا گونجی تھی۔ یہ زمرد کا نکاح تھا۔ اس کی پھپھو کا بیٹا اور ہر بات میں اس کا مقابلہ کرنے والا ۔ کیونکہ میر ہادی تو اپنا دامن سیاست سے جھاڑ چکا تھا کہ اسے سیاست سے زرا برابر بھی دلچسپی نہیں تو آگے اس کے بڑوں کی سیٹ زمرد کے سنبھالنے کا زیادہ چانس تھا۔

نکاح کے بعد محفلِ غزل اپنے عروج پر تھی۔۔ ملک کی مشہور گائیکہ اپنے سروں کا جادو چاروں اطراف بکھیر رہی تھی۔

لے آئی پھر کہاں پہ قسم ہمیں کہاں سے
یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

میر ہادی کے پاس والی چئیر پر بختاور آ کر بیٹھی تھی۔ مگر میر ہادی تو پتہ نہیں کونسے جہان کی سیر کو نکلا ہوا تھا جو وہاں موجود ہو کر بھی وہاں نہیں تھا ۔ کب سے کسی غیر مرئی نقطے کو گھورنے میں مصروف تھا۔

محفل میں آپ کی ہم کچھ اور تو نا لائے
جزبات میں سجا کہ الفاظ لے کے آئے
یاد آئیں گے بہت ہی جائیں گے جب یہاں سے
یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

بختاور نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا، میر ہادی نے تیزی سے اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالا تھا۔ اور اتنی ہی تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ کیونکہ اب اسے اپنے آپ سے وحشت سی ہو چلی تھی۔
یہ رات اس نے انگارں پر بسر کی تھی۔
صبح ہوتے ہی میر ہادی شہرِ لاہور کے لئے روانہ ہوا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

آج میر ہادی خود ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان تھا۔ اس کے پیچھے گارڈز کی گاڑی تھی۔ نگاہیں سامنے طویل سڑک پر مرکوز، تھیں ۔ دھیان کے پردے پر کچھ اور ہی چل رہا تھا۔
دل و دماغ میں ایک جنگ سی چھڑی ہوئی تھی۔
مگر اسے اپنے دل کو سمجھانا تھا۔
وہ اس کی نہیں تھی۔ اسے چلے ہی جانا تھا میر ہادی کی زندگی سے۔ دور بہت دور۔ اتنی دور کے وہ شاید ہی کبھی دوبارہ اپنی زندگی میں اسے دیکھ بھی پائے گا۔ اور صحت یاب ہونے کے بعد تو وہ جانے کتنی نفرت کرے گی اس سے۔
تو دل آنکھیں موند کر جس راہ پر اندھا دھند چل نکلا تھا وہ پاگل پن ہی تھا اس کا۔
سو اسے بے اختیار نہیں ہونا تھا۔ دل کی لگامیں کسنی تھیں ہر صورت ہر قیمت۔
وہ یہ سب سوچ رہا تھا یہ جانے بغیر کہ اس کے یہ سب ارادے ابھی کچھ دیر بعد ہی بھر بھری مٹی کا ڈھیر ثابت ہوں گے۔ جو زرا سی ہوا سے فضا میں بکھر جاتی ہے۔

گاڑی میر لاج کے ڈرائیو وے پر رکی تو وہ گاڑی سے نکلا۔ چابی افضل کو تھمائی گاڑی پارک کرنے کے لئے ۔ تیزی سے اندر آیا تھا۔
چاروں جانب دیکھا۔ کوئی نہیں تھا۔ سرد سی آہ بھری۔
مگر کچن سے سسٹر روزی نکلی تھی۔
گڈ نون سر، کیسے ہیں آپ؟ سسٹر نے وش کیا تو اس نے سر ہلاہا۔
میں ٹھیک، لیزا کدھر ہے؟ سسٹر،،
اپنے روم میں ہیں سر،، روزی کو اس کی بیقراری پر ہنسی آئی۔مگر وہ پھر کچن میں گم ہو گئی۔

قدم خود بخود اس کے کمرے کی جانب بڑھے تھے۔ رک کر ڈور ناک کیا۔ مگر دو تین مرتبہ دستک دینے کے باوجود جواب ندارد۔
آخر وہ تنگ آ کر جھجھکتے دروازہ کھول کر اندر آیا۔ کمرہ خالی منہ چڑھا رہا تھا۔ پانچ منٹ ویٹ کیا کہ شاید واش روم میں ہو۔ مگر کوئی آواز نہیں تھی۔
وہ جھجھکتے واش روم کے ڈور تک گیا۔
لیزا،، آواز دی۔ مگر اندر کوئی ہوتا تو جواب بھی آتا۔
لویزا،، ایک مرتبہ پھر پکارا۔ اب اس کا دماغ پوری طرح گھوم چکا تھا۔ اتنی سی دیر میں دل پسلیوں سے سر پٹخنے لگا تھا یہ سوچ کر کہ،

لویزا،، وہ دھاڑا اور جھٹکے سے واش روم کا دروازہ کھولا تھا۔ مگر واش روم خالی دیکھ وہ سلگ اٹھا تھا۔ تیزی سے باہر آیا ۔ اب پورا میر لاج اس نے دیکھ لیا تھا۔
افضل،،، افضل، وہ شیر کی طرح دھاڑتا سرخ چہرے اور لہو چھلکاتی آنکھیں لیے باہر آیا تھا۔
جی چھوٹے سائیں،، افضل لپک کر پاس آیا تھا۔
لویزا اندر نہیں ہے، کدھر گئی؟ وہ چلایا۔
پر چھوٹے سائیں وہ باہر تو نہیں نکلیں،، افضل نے تعجب سے کہا۔
اندر نہیں ہے وہ ، میں پوچھتا ہوں بھنگ پی کر پہرہ داری کر رہے ہو تم لوگ جو پتہ نہیں کہ کدھر گئی، ڈھونڈو اسے نہیں تو سب کو زندہ جلا دوں گا،، میر ہادی کا بس نہیں چل رہا تھا ان سب پر پٹرول ڈال کر ابھی آگ لگا دے۔
افضل نے اپنے چھوٹے سائیں کو سر تا پا غور سے دیکھا تھا اور مسکرایا۔
واٹ دا ہیل، افضل ، اس گستاخی کا مطلب؟ وہ دھاڑا تو افضل اپنی بے اختیاری پر گڑبڑایا۔
چھوٹے سائیں، میڈم اندر ہی ہیں، شاید کہیں جان بوجھ کر چھپی ہیں، مزاق کر رہی ہوں گی آپ کے ساتھ، افضل نے نیچے دیکھتے کہا کہ کہیں چھوٹے سائیں کا دھواں دھواں چہرہ دیکھ اس کی پھر ہنسی نا چھوٹ جائے۔
واٹ،، اسے آگ لگی۔ جزبز سا وہ مٹھیاں بھینچ کر اپنا غصہ کنٹرول کرنے کے چکر میں بے حال ہو رہا تھا۔
کسی بھی اتنی جرأت نہیں تھی کہ اس کے چہرے کی جانب ہی دیکھ لیتا۔
وہ بھسم کرنے والے انداز میں پھر اندر گیا۔

وہ جو گاڑی کی آواز سن کر منہ بناتی سٹڈی میں بکس ریک کے پیچھے جا چھپی تھی نہیں جانتی تھی بھوکے شیر سے الجھ رہی ہے۔
بھاری قدموں کی سٹڈی کی جانب آتی آہٹ سے وہ گھبرائی تھی مگر پھر ڈھیٹ بن گئی۔۔ وہ جو سٹڈی میں داخل ہوا تھا۔ ایک گہرا سانس کھینچا۔ ایک دلفریب خوشبو نے روح تک کو معطر کیا۔
وہ جارحانہ تیور لیے آگے بڑھا تھا۔ لویزا کی سانس خشک ہوئی تھی۔
جھٹکے سے کلائی سے کھینچ کر اسے بکس ریک کے پیچھے سے نکال کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا۔ رانا میر ہادی کے بھسم کر دینے والے تیور اور ماتھے پر پڑے بے شمار بلوں نے لویزا کو یہ اچھی طرح باور کرا دیا تھا کہ اس کا یہ بچکانہ مزاق سامنے والے کو کچھ خاص پسند نہیں آیا ہے۔
واٹ دا ہیل،، یہ کیا بے ہودہ مزاق تھا لویزا،، وہ غرایا۔
وہ میں چیک کر رہی تھی کہ آپ کو میرے ہونے نا ہونے سے کوئی فرق پڑتا ہے، وہ بڑے مزے سے کان کھجا کر بولی۔ (دل کی دھڑکنیں بری طرح منتشر ہوئیں تھیں اس کا اپنے لئے غصہ، فکر اور پریشانی دیکھ کر)
رانا میر ہادی کا دل کیا اس کا حشر بگاڑ دے۔ ایک قدم آگے بڑھ کر اس کا جبڑا ہاتھ کی گرفت میں لیا تھا۔
آئندہ بھول کر بھی یہ بےہودہ مزاق مت کرنا میرے ساتھ لویزا، برداشت نہیں کروں گا میں، میر ہادی نے اسے جھڑکا۔ مگر ادھر خاطر خواہ اثر نہیں ہوا تھا۔ اپنے چہرے سے اس کا ہاتھ پیچھے ہٹایا۔
تو آپ سیدھی طرح بتا دیں ناں جو میں پوچھ رہی تھی، معصومیت سے کہا گیا۔
واٹ، کلائی ابھی بھی میر ہادی کی گرفت میں تھی اور وہ چاہتا تھا اسے کبھی بھی ناں چھوڑے۔
یہی کہ میرے ہونے نا،،
شٹ اپ لیزا، فضول سوال نہیں، کیسی طبیعت ہے تمھاری؟ وہ کہتا اسے سٹڈی سے باہر لے کر آیا تھا۔ باہر آ کر کلائی چھوڑ دی۔
مگر وہ اس کے پیچھے ہی اس کے روم میں چلی آئی وہ جو اپنا کوٹ اتارنے والا تھا لویزا نے کندھوں سے تھام کر اسے اتارنے میں اس کی مدد کرنی چاہی۔ میر ہادی نے حیرت سے زرا سا مڑ کر اسے دیکھا۔
کیا،، ہیلپ کر رہی ہوں،، لویزا نے سکون سے کہا۔
میں اپنے کام خود کر سکتا ہوں تم بس اپنا خیال رکھا کرو، میڈیسن لی ٹائم پہ،، وہ نظریں چراتا بولا۔
میں ٹھیک ہوں، انداز میں لاپروائی تھی۔ آپ میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کیوں نہیں کرتے؟ لویزا کا انوکھا سوال، وہ چونکا۔

تمھاری جیسی آنکھوں والے ،،
اگر ساحل پر آئیں،،
تو لہریں شور مچا دیں،،
لو آج سمندر ڈوب گیا، لو آج سمندر ڈوب گیا،،،،

“وہ تمھاری آنکھوں کی وجہ سے، میر ہادی نے اس کی جانب دیکھ کر کہا جو براؤن کرتی شلوار میں براؤن سکارف لیے اب حیرت سے پھیلی بڑی بڑی کٹورا آنکھیں لیے اسے دیکھ رہی تھی۔
کیوں؟ میری آنکھوں نے کیا کیا،، وہ کمر پر ہاتھ باندھ کر لڑاکا انداز میں بولی صدمہ ہی تو لگا تھا اس کی معصوم آنکھوں کو دیئے گئے اس الزام پر،
“وہ میں ڈرتا ہوں کہیں ان سحر زدہ آنکھوں کے ساحری زدہ دام میں ناں پھنس جاؤں، وہ صوفے پر بیٹھا اپنے شو لیس کھولتا سنجیدگی سے بولا۔
لویزا کھکھلا کر ہنسی تھی۔ رانا میر ہادی نے آئیبرو اچکا کر اس کی جانب دیکھا۔ اس نے خود پر سنجیدگی طاری کرتے نفی میں سر ہلایا تھا۔
کھانا کھایا،، میر ہادی نے پوچھا۔
نہیں آپ کا ویٹ کر رہی تھی،، لویزا نے کہا تو وہ ڈریسنگ کی جانب بڑھا۔
دو منٹ، تم چلو میں فریش ہو کر آتا ہوں، وہ اپنے کپڑے لیے واش روم گیا لویزا کچن کی جانب چلی آئی۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

اجالا تھکی ہاری سی شاپنگ کر کے واپس آئی تھی۔ اور اب نڈھال سہ بیڈ پر گری تھی۔ کل نکاح تھا اور آج وہ نکاح کا جوڑا لے کر آئی تھی۔ عالی کی فرمائش پر جوڑا ریڈ کلر کا تھا۔ ریڈ کلر کی لونگ ٹیل میکسی تھی۔ جس پر نفیس اور فینسی ایبمرائیڈڈ گولڈن کلر کا کام تھا۔ ابھی سہی طرح سانس بھی نہیں لے پائی تھی کہ فوزیہ بیگم نے کہا کہ ابھی کہ ابھی جوڑا پہن کر انھیں دکھائے۔
وہ بری طرح جھنجھلائی مگر ماں کا کہنا بھی نہیں ٹال سکتی تھی۔ سو واش روم گئی اور جوڑا پہن کر باریک کامدار دوپٹہ سر پر اوڑھ کر باہر آئی، آئینہ کے سامنے آئی تو خود پہ ہی پیار آ گیا ۔ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی کسی کی والہانہ نگاہوں کا سوچ کر چہرے نے لہو چھلکایا۔
وہ سر جھٹکتی باہر آئی۔
ارے میری پرنسز بہت خوبصورت لگ رہی ہے، بس کسی کی نظر نا لگے، فوزیہ بیگم نے اس کی ہزاروں بلائیں لے ڈالیں۔
وہ روہانی سی ہو کر جلدی سے روم میں چلی آئی۔ اور ڈور لاک کر لیا۔
ابھی بیک زپ کھولنے والی تھی کہ لیزوو یاد آئی۔ جلدی سے موبائل اٹھایا۔
پکس بنا کے سینڈ کرتی ہوں، لیزا کو، بڑبڑاتے دوپٹہ سر پر جمایا اور مختلف پوز میں اپنی سیلفیز لینے لگی۔
ہوش تو تب اڑے جب ایک پوز میں وہ بلکل اس کے پیچھے اطمینان سے موبائل کی سکرین میں کھڑا دکھائی دیا۔
عالی،، ہاؤ ڈئیر یو،، وہ چلائی۔ مگر اس سے پہلے ہی قریب آ کر وہ اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ چکا تھا۔
کیا یار مرواؤ گی، مام باہر ہیں سن لیں گی، عالی نے چٹخارا بھرتے اجالا کا ڈائیلاگ بولا تو اسے صدمہ ہی تو لگا ۔ غصے سے اس کے سینے پہ مکے برسائے۔
مگر وہ اس کی دونوں کلائیوں کو جکڑ کر کمر کے پیچھے پن کر چکا تھا۔
عالی یہ کیا بدتمیزی ہے،،
اپنی ہونے والی بیوی کی نظر اتار رہا ہوں،اس کے حسن کو نہار کر،، سر گوشی میں کہتے کنپٹی پہ سلگتے لب رکھے۔ وہ جی جان سے لرزی۔۔
عالی پلیزززز،،،، وہ روہانسی ہوئی۔۔ پریشان مت کریں،، اس نے اس کے سینے میں منہ دیا۔
ہممم رائٹ،، آج نہیں کرتا، مگر کل کو چھوڑوں گا نہیں ، کل تو پرمٹ بھی مل جائے گا، پریشان کرنے کا،، وہ سکون سے کہتا اس کے ہوش اڑا گیا ۔ چھوڑا اب بھی نہیں۔
بہت ہی کوئی خراب ہیں آپ،، اجالا نے اپنی بھڑاس نکالی۔
جانتا ہوں،، عالی نے مزے سے کہا۔
چھوڑیں مجھے،، وہ مچلی۔
اچھاااااا،، اب کی بار شرافت کا مظاہرہ کرتے سچ میں اسے چھوڑ دیا۔
مگر اطمینان سے وہیں کھڑا رہا۔
عالی جائیں یہاں سے،، وہ بھنا کر بولی۔ تو عالی قہقہہ لگاتا جہاں سے آیا تھا ادھر سے ہی باہر نکل کر غائب ہو گیا۔۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رات ڈنر کے بعد وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے سٹڈی میں چلا آیا تھا۔ لویزا بری طرح جھنجھلائی۔
دوپہر کا کھانا کھا کر بھی وہ باہر نکلا اور غائب ہی ہو گیا اب بھی آیا ڈنر کیا اور سٹڈی مٹو چلا گیا۔ وہ تن فن کرتی اس کے پیچھے ہی سٹڈی میں داخل ہوئی تھی۔ سامنے ہی وہ صوفے پر اپنی گود میں لیپ ٹاپ لیے بیٹھا تھا۔۔ وہ چونکا۔
کیا ہوا لویزا خیریت ؟ مصروف سے انداز میں کہا۔
یس، خیریت میں بور ہو رہی تھی ،، آپ کے پاس تو میرے ساتھ بات کرنے کا بھی ٹائم نہیں ،، وہ جھلائی سی چئیر پر بیٹھ گئی۔

اب وہ بغیر ہینڈلز کے کرسی پر ترچھی بیٹھی اس کی بیک پر دونوں ہاتھ رکھے ہاتھوں پر چن ٹکائے میر ہادی کو فرصت سے دیکھنے میں مصروف تھی۔
وہ لیپ ٹاپ پر جھکا جزبز سا ہوا تھا۔
لیزا پلیز،، جا کر آرام کرو،،
نہیں میں شدید قسم کا بور ہو رہی، اور آپ کو کیا بول رہی آپ اپنے کام پہ کانسٹریٹ کریں،، لویزا نے دانتوں تلے لب دبایا۔ میر ہادی نے پہلو بدل کر رہ گیا مگر جانتا تھا وہ زیادہ دیر چپ نہیں بیٹھ پائے گی۔
سنئیے، لویزا کے چہرے پر سنجیدگی مگر آنکھوں میں انتہائی شرارت بھری چمک تھی۔
اونہہہہ،، وہ مصروف سا تھا۔
یہ آپ ابھی اتنے زیادہ ہوئے ہیں کہ کچھ اسپیشل ڈپلومہ حاصل کیا ہے،، لویزا نے معصومیت سے کہا۔
کس چیز میں،؟ میر ہادی کی مکمل توجہ لیپ ٹاپ کی سکرین پر تھی۔
سڑیل پن میں،، وہ آہستگی سے بولی مگر میر ہادی کی تیز سماعتوں سے یہ تین الفاظ ٹکرا ہی گئے۔
واٹ،، میر ہادی نے آئیبرو اچکا کر اس کی جانب دیکھا جو ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں بے حال ہو رہی تھی۔
واٹ ،، واٹ،؟ سارے فساد کی جڑ تو یہ وَٹ ہی ہے جو آپ کے ماتھے سے ختم نہیں ہوتے ، لویزا منہ میں بڑبڑائی مگر وہ باخوبی اس کی گوہر افشانیاں سن رہا تھا۔
یو مین کہ میں سڑیل ہوں،، میر ہادی نے کنفرم کرنا چاہا۔
نہیں، ادھر بھی سکون سے جواب دیا گیا۔ ” بس تھوڑے سے کڑوے کریلے ہیں،، کہہ کر دانتوں تلے لب دبایا۔
آں ہاں،، اور خود تو جیسے شہد ہو ناں الویرا کہیں کی ، پتہ ہے ناں، ایلوویرا کتنا کڑوا ہوتا ہے،اور تم وہی ہو کڑوی ایلویرا،، میر ہادی کہ لہجہ بھی اب غیر سنجیدہ تھا۔
ہاااااں،، ہاؤ ڈئیر یو ہادی، آپ نے مجھے ایلوویرا کیوں کہا،
جیسے تم نے مجھے کڑوا کریلا کہا، میر ہادی نے اطمینان سے کہا۔
اور آپ کو دیکھ کر مجھے ابھی ابھی ایک شعر یاد آیا، لویزا نے کہا تو میر ہادی نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔

سو گنا بڑھ جاتی ہے
خوبصورتی مسکرانے سے
پھر بھی کچھ لوگ باز نہیں آتے
بیگن سا منہ بنانے سے

لویزا کے شوشے پر میر ہادی نے اسے گھوری سے نوازا۔ مگر وہ چھوٹی سی ناک چڑھاتی اسے ٹھینگا دکھاتی اس کے سامنے سے لیپ ٹاپ اٹھا کر دوڑ لگا چکی تھی۔۔
Shhhhhiiiiiiiiiittttttttttttt,,,,,, stop Lizaa
گر جاؤ گی ڈیم اٹ، لگ جائے گی تمھیں،، رک جاؤ،
میر ہادی تلملا کر اٹھا اس کے پیچھے بھاگا تھا۔ وہ کھلکھلا کر ہنستی لاؤنج میں آئی تھی۔
لویزا کا پیر رپٹا تھا اس سے پہلے کہ وہ لیپ ٹاپ سمیت زمین پر ڈھیر ہوتی ایک مضبوط بازو نے اس کے پیٹ کے گرد چٹانی سا حصار قائم کیا تھا۔
میر ہادی نے اسے جھٹکے سے سیدھا کیا تھا۔ وہ اس کے بہت قریب اس کے بازوؤں کے حصار میں تھی مگر میر ہادی کا دماغ بلکل گھما چکی تھی ۔ اس وقت کا سوچ کر میر ہادی کے دل نے پسلیوں سے سر پٹخا تھا جب وہ گرتی اور اسے چوٹ لگ جاتی۔
ہادی نے اس کی ویسٹ سے فوراََ ہاتھ ہٹایا۔
میں نے کہا تھا ناں، رک جاؤ، گر جاؤ گی، ابھی گرتیں اور سر پر چوٹ لگ جاتی، بچی ہو جو اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی، میر ہادی نے اسے بری طرح جھڑکا۔
آ،، آپ مجھے ڈانٹ رہیں ہیں،، وہ رویانسی ہوئی۔
یس، ڈانٹ رہا ہوں، میر ہادی کا لہجہ اب بھی سخت تھا۔
لیپ ٹاپ کی وجہ سے، لویزا نے جان بوجھ کر پلکیں جھپکاتے معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑے۔
نو،، تمھاری وجہ سے، تم گر جاتی، سر پر چوٹ لگتی پھر سے، ڈیم اٹ اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تمھارے، وہ اب بھی اسے جھاڑ پلا رہا تھا۔
مجھے ڈانٹ رہے ہیں آپ بہت برے ہیں ، لویزا نے منہ بنایا۔مگر میر ہادی نے اس کا بازو پکڑا تھا گرفت میں شدت اور جنون سا تھا۔
بلکل ،،،ہوں برا، تمھارے معاملے میں، میں کس قدر برا ہوں یہ تو ابھی تمہیں بھی نہیں اندازہ ، جھٹکے سے اسے ہلکا سا اپنے قریب کیا تھا ۔ لویزا حیرت سے اسے دیکھے گئی۔
اب اگر نہیں چاہتی کہ میں اٹھا کر تمھیں بیڈ پر پٹخ کر آؤں، تو چپ چاپ جا کر سو جاؤ اور آرام کرو،، میر ہادی نے وارننگ دیتے اس کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ لیا۔
اوووووو سچ میں، میں تو ڈر گئی،، لویزا نے پاؤں جھلاتے اطمینان سے کہا جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اسے زچ کر رہی ہے۔
یہ دیکھو میری ماں،، لیڈی موگیمبو،، میرے جڑے ہاتھ، جانتا ہوں، کسی سے نہیں ڈرتی، اب جاؤ، مجھے آفس کا کام کرنے دو، میر ہادی نے ہاتھ جوڑ کر عاجزی سے کہا۔(،وڈیرا جی کی واٹ لگ چکی تھی ایلوویرا کے ہاتھوں)
وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئی تھی۔ میر ہادی اسے کھلکھلاتے ہنستے غور سے دیکھے گیا۔

اس کی نظروں کی تپش تھی کہ وہ بوکھلا کر سیدھی ہوئی۔
اوکے، رائٹ جاتی ہوں، کیا یاد کریں گے، کس سخی سے پالا پڑا ہے، انداز شاہانہ تھا وہ کندھے سے نادیده چیز جھٹکتی اپنے روم میں چلی گئی تھی۔
رانا میر ہادی اس کے جاتے قدم دیکھتا رہا۔ ایک سرد سی آہ بھری اور پھر سٹڈی کا رخ کیا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓