Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
ممتاز بیگم کمرے میں داخل ہوئیں تو لویزا ہونق سی بنی بیٹھی تھی۔ بےبی نے اس کے ہاتھ پیر پھلا رکھے تھے۔ رو رو کے بےبی نے پورا روم سر پر اٹھا رکھا تھا۔میر ہادی بھی بوکھلایا ہوا تھا کچھ بےبی کے جسم کا رنگ بھی زرد زرد سا محسوس ہو رہا تھا۔
ممتاز بیگم مسکرائیں۔ اور اس کے قریب آئیں۔
کیا ہوا بیٹا،،
اففف یہ چپ ہی نہیں ہو رہا امی، رات بھر جاگ کر روتا رہا اور مجھے پریشان کرتا رہا،، لویزا نے اسے گود میں اٹھایا۔
ممتاز بیگم اس کے قریب بیٹھیں۔
پہلا بچہ تو میاں بیوی کے لئے تجربہ ہی ہوتا ہے،، ضرورت سے زیادہ کئیر کرنی پڑتی ہے، کسی چیز کا بھی علم نہیں ہوتا، لیکن ایک ماں ایسی ہستی ہوتی کہ خود بخود پتہ چل جاتی ہے ہر بات،، ممتاز بیگم نے اسے سمجھاتے بےبی کو گود میں لیا۔
اس کا کلر کیوں پیلا پڑ رہا ہے امی،، لویزا فکر مند ہوئی۔
یہ اتنی فکر کی بات نہیں ہے، صبح صادق کے وقت سورج کی پہلی شعاعیں بےبی کو لگوائیں گے تو ٹھیک ہو جائے گا،،، اور یہ رو اس لئے رہا ہے کہ اس کے پیٹ میں درد ہے،، ممتاز بیگم نے کہتے پاس پڑی دوا کے چند قطرے بےبی کے منہ میں ٹپکائے۔
آپ کی کیسے پتہ چلا امی سائیں،، میر ہادی نے تعجب سے پوچھا۔
ماں کو پتہ چل جاتا ہے، یونہی تو نہیں جنت سمٹ کر قدموں میں آ جاتی،، وہ مسکرائیں۔
ممتاز بیگم جب سے آئیں تھیں ان دونوں کے بیچ موجود ایک ان دیکھی سی سرد مہری اور دوری محسوس کر چکی تھیں۔
میر ہادی اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر باہر گیا تو ممتاز بیگم اس کی جانب متوجہ ہوئیں تھیں۔
لویزا بیٹا،،
جی،، وہ اب بےبی کو فیڈ کروا رہی تھی۔ دوا لے کر وہ پرسکون ہو چکا تھا۔
میرے بیٹے سے ناراض ہو،، وہ پوچھ بیٹھیں۔
نہیں،، ناراض ان سے ہوا جاتا ہے جن سے کوئی تعلق کوئی واسطہ ہو، اور میرا آپ کے بیٹے سے کوئی تعلق نہیں، ایک کاغذ کا تعلق ہے، وہ بھی جلد ہی میں توڑ ڈالوں گی،، اس کے لہجے میں ان دیکھی نفرت کی سی تپش تھی۔ ممتاز بیگم چونکیں۔
کیا کیا ہے اس نے،،
میرے بابا کا قاتل ہے آپ کا بیٹا، اغوا کیا مجھے، اور، وہ آہیں بھرتی انھیں سب بتاتی چلی گئی۔ ممتاز بیگم صدمے سے گنگ اسے روتے دیکھتی رہیں زبان تالو سے چپک گئی۔ ایک لفظ بھی تسلی کا اسے نہیں بول سکیں تھیں۔
مجھے زیادہ حیرت نہیں ہوئی بیٹا، رانا خاندان تو باعث فخر سمجھتا ہے یہ سب کرنا ،ظلم ،جبر ، قتل وغارت، خود پرستی،،خود غرضی، سے بھری پڑی ہے رانا خاندان کی تاریخ،،
وہ نم لہجے میں، تلخی سے مسکرائیں تو لویزا کو مزید صدمہ لگا۔
لیکن میں اس خاندان کا حصہ ہر گز نہیں بنوں گی، امی اپنے بیٹے سے کہیں مجھے طلاق چاہیے، وہ روتی چلی گئی۔ مگر ممتاز بیگم نے اسے اپنی گود میں لٹا کر کافی دیر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی رہیں تھیں۔
آپ کو پتہ ہے امی،، میری پھپھو کا نام بھی ممتاز ہے،، اسی لئے مجھے آپ میں سے ان کی خوشبو آتی تھی، تبھی میں آپ کا نام سن کر چونک چایا کرتی تھی، یہاں سے جانے کے بعد میں انھیں کے پاس جاؤں گی،، میں نے فون کیا تھا، مگر نمبر بند تھا ان کا،، میں بہت جلد ان کے پاس چلی جاؤں گی،، وہ اپنے دل کی باتیں کرتی جلد ہی نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔
ممتاز بیگم خاموشی سے وہاں سے اٹھ کر باہر آئیں تو دروازے کے قریب ہی وہ پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے لال انگارا آنکھیں زمین میں گاڑھے کھڑا تھا۔
سنا تم نے رانا میر ہادی وہ علیحدگی چاہتی ہے،، ممتاز بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔
لیکن میں نہیں چاہتا، اس کے پغیر ایک پل بھی نہیں جینا چاہتا،
زبردستی کرو گے،، وہ پھنکاریں۔
کرنی پڑے گی ،، وہ بھی ڈھیٹ تھا۔
تمھارا کوئی قصور نہیں میر ہادی، ظالم خون کا اثر ہے،،
نہیں امی سائیں ، اس بار آپ شاید غلط ہیں، عشق کا اثر ہے، جو سر چڑھ کر بولتا ہے میرے،
وہ تم سے نفرت کرتی ہے،
اس کی جگہ میں ہوتا تو مجھ سے نفرت ہی کرتا، اس کی نفرت کا جواب بھی میرے پاس محبت ہی ہے، اطمینان قابلِ دید تھا۔۔
چھوڑ دو اسے میر ہادی، ممتاز بیگم کی بات پر اس کا دل کرچی کرچی ہوا تھا۔
مجھے ایسے سنائی دیا امی سائیں جیسے آپ نے کہا ہو میر ہادی سانس لینا چھوڑ دو،،
دو دو زندگیاں برباد کر رہے ہو، ایک بختاور کی ایک اس کی اور جب اسے بختاور کا علم ہوگا تو جانتے ہو کیا ہوگا، دو دو زندگیوں سے کھیل رہے ہو تم،، آج شاید یومِ حساب تھا جو ممتاز بیگم اس کے دل کے بخیے ادھیڑنے میں مصروف تھیں۔
دونوں کو آباد کر دوں گا امی سائیں وعدہ ہے میرا آپ سے مگر فی الحال مجھے اور اسے ہمارے حال پر چھوڑ دیں، اور یہ یاد رکھیے گا رانا میر ہادی کسی صورت کسی بھی قیمت پر رانا لویزا میر ہادی کو نہیں چھوڑے گا،، وہ کہتا سٹڈی میں گم ہوا۔
ممتاز بیگم نے ایک افسوس بھری نگاہ اس پر ڈالی اور وہاں سے چلیں آئیں۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
جونئیر وڈیرا جی نے پورا میر لاج سر پر اٹھا رکھا تھا۔ آج اس کے پیدائش کے بال اتروائے گئے تھے۔
اب لویزا ممتاز بیگم کی ہدایات کے مطابق نرمی سے اس کے جسم کی مالش کر رہی تھی۔ اور کچھ دیر بعد اسے نہلایا جانا تھا۔
وہ اب بہت عمدہ انداز میں اس کی دیکھ بھال کرنے لگی تھی۔ نومولود کی دیکھ بھال بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ جو وہ بخوبی کر رہی تھی۔۔
وہ بےبی کی کئیر کر رہی تھی اور میر ہادی نے قدم قدم پر اس کے لاکھ مزاحمت کرنے اور نا نا کرنے کے باوجود اس کی کئیر کی تھی۔
اب وہ صحتیاب ہو چکی تھی۔ اپنا خیال رکھ سکتی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آج اس کے چلے کو بیسواں دن تھا۔ وہ خود بھی فریش ہوئی تھی اور اب بےبی کو نہلا کر بیڈ پر ہر چیز کا بکھیڑا ڈالے اسے کپڑے پہنا رہی تھی جب وہ فریش ہو کر گیلے بالوں میں انگلیاں پھیرتا باہر نکلا۔ ڈریسنگ کے پاس کھڑا ہو کر کوٹ پہنا اور اپنی تیاری کرنے لگا۔ براؤن تھری پیس میں ہمیشہ کی طرح شاندار شخصیت، بھرپور مردانہ وجاہت کا شہکار، مگر بھرپور توجہ صرف اور صرف اس کی جانب تھی جو کئی دن سے اس سے ناراض ہو کر منہ موڑے ہوئے تھی۔
وہ ہر بار اسے مخاطب کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر ہر بار وہ نامراد ہی رہا۔
اب بھی وہ بیڈ کے قریب آیا۔
“کچھ ضروری کام کے لیے جا رہا ہوں اپنا اور بےبی کا خیال رکھنا،، میر ہادی نے سنجیدگی سے کہا اور جھک کر بےبی کو چوما۔ خوشبوؤں کا ریلا سا سانسوں سے ٹکرایا تھا وہ بوکھلا کر جھٹکے سے پیچھے ہٹی تھی۔
میر ہادی اتنی ٹینشن میں بھی اس کے اس طرح اس کی قربت سے گھبرانے پر مبہم سا مسکرایا اور روم سے نکلتا چلا گیا۔۔
میر ہادی کو گئے ایک دو گھنٹے گزر چکے تھے۔ بےبی اب گہری نیند سو چکا تھا۔ اب وہ جو کرنا چاہتی تھی وہ با آسانی کر سکتی تھی۔ تبھی فون کر کے وکیل کو میر لاج بلایا تھا۔ مگر کیا وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے پل پل کی رپورٹ ہوتی ہے۔۔
وکیل آیا۔ وہ دوپٹہ اچھی طرح اوڑھ کر کمرے سے باہر نکلی۔ سامنے ممتاز بیگم کھڑی تھیں۔
لویزا بیٹا ایک مرتبہ سوچ لو،،
نہیں امی مجھے کچھ نہیں سوچنا،،
یہ میر خاندان کے مردوں سے واقف نہیں تم، بڑے ضدی اور سر پھرے ہوتے ہیں،،
میر خاندان کا پالا آج تک لویزا اقبال سے نہیں پڑا،،، شاید اس لئے ، میرے سائن کیے ہوئے پیپر کورٹ پہنچ جائیں، بس یہ قصہ ادھر ہی ختم ،، وہ کہتی آگے بڑھ گئی تھی۔
ڈرائنگ روم میں آئی لوئر اس کے اعزاز میں اٹھ کر کھڑا ہوا تھا۔ مگر نہیں جانتا تھا اپنی بدقسمتی کو خود ہی دعوت دے رہا ہے۔
لویزا اس کے سامنے بیٹھی۔ اپنے بیگ میں سے اس نے پیپر نکال کر اس کے سامنے رکھے۔ لویزا کے دل نے پسلیوں سے سر پٹخا۔۔
کمال شخص تھا جس نے مجھے تباہ کیا
خلاف اس کے یہ دل ہو سکا ہے اب بھی نہیں
اس کا دل کیا اس دل کا منہ نوچ لے۔۔ تبھی اپنے کان لپیٹتی خلع کے پہلے پیپر پر سائن کر دئیے تھے۔ مگر،
وہ آندھی طوفان بنا میر لاج داخل ہوا تھا۔ آفس میں مختلف کمپنیز سے ضروری میٹنگ میں مصروف تھا جب افضل کی کال آئی۔ اور اس نے سب کچھ اگنور کر کے کال اٹینڈ کی۔ مگر سامنے سے جو سننے کو ملا تھا۔ اس نے کئی دنوں کے ایک بھوکے پیاسے شیر کو جیسے جگا دیا تھا۔ تبھی وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ وہاں سے نکلا تھا۔
جھٹکے سے گاڑی سے اترا اور دم ہلاتے میکس کی جانب گیا۔ اس کی رسی کھول دی تھی۔ اور تیزی سے اندر داخل ہوا۔
لویزا جو آنے والے طوفان سے بے خبر تھی سنجیدگی سے جھک کر خلع کے ایک پیپر سائن کر دئیے جب ڈرائینگ روم میں جیسے قیامتِ صغرا برپا ہوئی تھی۔
میر ہادی کے ساتھ میکس ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تھا۔ میر ہادی نے سب سے پہلے آ کر ان پیپر پر کچھ گرا کر انھیں آگ دکھائی تھی۔
اور میکس لوئر پر جھپٹ پڑا تھا۔
گلاس ٹیبل ایک پیر کی کک رسید کیے جانے پر ہی سوکھی لکڑی کی طرح ہوا میں اچھلی تھی۔
اور دیوار سے ٹکرا کر چھناکے سے چکنا شور ہوئی۔لویزا کے منہ سے زور دار چیخ برآمد ہوئی۔
وکیل کی چیخ و پکار نے میر لاج کو ہلا کر رکھ ڈالا تھا۔ میکس نے مسکین کو بھنبھوڑ ڈالا۔
سٹاپ میکس،، چھوڑو اسے، سٹاپ دس،، لویزا چلائی تو میکس برا مناتا باہر بھاگ گیا۔
تبھی ممتاز بیگم ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں تھیں۔۔
ہادی کہا ہے یہ سب،، وہ چلائیں۔
امی سائیں آپ اپنے کمرے میں جائیں، پلیز، یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے، جائیں یہاں سے،، میر ہادی دھاڑا تو مجبوراً وہ اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گئیں تھیں۔
رانا میر ہادی ٹوٹ کر بکھرا تھا۔۔
ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ
ﺍﺳﯽ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﺋﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﺷﮑﺎﺋﺘﯿﮟ ﺳﺐ ﺑﺠﺎ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﺩﻻﺅﮞ
ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ ﮨﮯ
ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﻭﮞ ؟
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ
ﺍﺳﮯ ﺧﺒﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺷﺎﯾﺪ
ﻣﯿﮟ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ
کتے سے تو وکیل بھگت لیا اب شیر نے اس پر پنجا آزمائی کی تھی۔ تبھی اس کا گریبان میر ہادی کی گرفت میں آیا۔
جانتے ہو مجھے، کون ہوں میں؟ وہ پھنکارا۔
جج،، جی،، معا،،، معاف کر دیں،، رانا صاحب،، جج،، جانے دیں مجھے،، وہ گھگھیا گیا۔ میر ہادی نے اسے اس کے بیگ سمیت ڈرائنگ روم سے باہر پھینکا۔ گارڈز اسے گھسیٹتے لے جا چکے تھے۔
اب ڈرائنگ روم کی ہر چیز تہس نہس ہو رہی تھی اور وہ اس کا یہ جنونی اور پاگل پن والا روپ دیکھ ڈری سہمی مگر غصے سے لال بھبھوکا چہرہ لیے ایک کونے میں کھڑی تھی۔
تبھی پیر پٹختی وہاں سے جانے لگی تھی۔ جب وہ جارحانہ تیور لئے اس کی جانب بڑھا۔ بازوؤں سے پکڑ کر اسے جھٹکے سے دیوار سے پن کیا ۔ لویزا کے منہ سے ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی۔ میر ہادی نے بازو چھوڑ کر دیوار پر دائیں بائیں ہاتھ رکھے۔
آخر چاہتی کیا ہو تم؟ لال انگارا آنکھیں، سرسراتا لہجہ ، ایک مرتبہ تو لویزا کے بھی گلے میں گھٹلی سی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔
بتا چکی ہوں کیا چاہیے، مگر اپ پوچھ ہی رہے ہیں تو دوبارہ بتا دیتی ہوں طلاق چاہئے مجھے،، وہ اس کے غصے سے خائف تو تھی مگر اثر لیے بغیر بولی۔
نہیں دوں گا، کیا کرو گی، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا گیا تھا۔
کورٹ جاؤں گی،، وہ بھی پھنکاری۔
اور تمھیں لگتا ہے میں تمھیں جانے دوں گا،،
کیا کریں گے آپ مجھے روکنے کے لئے،، میں نہیں ڈرتی آپ سے،،
ہمممم گڈ،، یو نو واٹ تمھاری اس بریوری سے ہی تو عشق ہے رانا میر ہادی کو ایلو جان ، مجھ سے ڈرتی تو آج اس مقام پر نا کھڑی ہوتیں، وہ پٹڑی سے اترا۔
آپ مجھے قید کریں گے تو یہ بھول ہے آپ کی،، وہ چلائی۔
آلریڈی کر چکا ہوں، قید،، اپنے دل میں، قسم خدا کی اب نکال پانا ممکن نہیں،، بھاری لہجہ تھا
غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا وہ تو اس بات پر ہی خوش ہو رہا تھا کہ وہ اتنے دنوں بعد اس سے بات کر رہی ہے، لڑ رہی ہے، الجھ رہی ہے۔
آئی ہیٹ یو، زہر لگتے ہیں آپ مجھے،، وہ جھلائی۔
تو تم مجھے کونسا شہد لگتی ہو، ایلوویرا کی ایلوویرا ہی رہو گی ناں، لیکن یہ ایلو بڑی زور سے لگی ہے اس کمبخت دل کو، کہ دوبارہ اٹھ نہیں پایا رانا میر ہادی،، وہ بہکا سا بولا۔ جس سے وہ بری طرح جھٹپٹائی تھی۔
ہٹیں سامنے سے مجھے جانا ہے،،
نہیں ہوں گا، کیا کرو گی؟ وہ اطمینان سے بولا۔
میں منہ نوچ لوں گی آپ کا،، وہ غرائی۔
چوم لو،، ادھر بھی اثر زرا کم ہی ہوتا تھا کسی چیز کا۔
واٹ،، ہٹیں سامنے سے،، اب کی بار لویزا نے دیوار پر رکھے اس کے دائیں ہاتھ پر بری طرح اپنے ناخنوں سے سکریچ مارتے اپنا سارا غصہ نکالا تھا کہ ہاتھ بازو تک لال ٹماٹر ہو گیا اور خون کی ننھی منی بوندیں ابھر آئیں۔
مگر وہ ڈھیٹ بنا مسکراتا رہا۔
“You know it’s an honor for me,,
کیونکہ ان نشانوں نے مجھے ان سکریچز کی یاد دلا دی جو تم میری شدتوں میرے پاگل پن سے گھبرا کر، میرے وجود پر دیا کرتی تھیں، یاد ہے ناں،،
لویزا کے کان کے انتہائی قریب بھاری بوجھل لہجے کی گھمبیر سرگوشی کچھ گردن اور کان پر پر حدت سی سانسوں کی تپش، لویزا کی سانس حلق میں ہی اٹک چکی تھی۔ کانوں تک وہ لال ٹماٹر ہوئی تھی۔ گہری سانسیں بھرتی اپنی حالت پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگی۔ ۔جبکہ وہ قریب کھڑا اس کی غیر ہوتی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا۔
اول درجے کے چیپ، گھٹیا اور بے شرم انسان ہیں آپ،، وہ دانت پیستی اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پرے دھکیلتی اپنے کمرے میں چلی آئی تھی۔
پیچھے وہ اب ساری بھڑاس نکال کر پرسکون سا بالوں میں ہاتھ پھیرتا صوفے پر گرتا چلا گیا۔
مگر کمرے میں آ کر اپنی بے بسی پر دل کھول کر آنسو بہائے تھے کہ اسے برباد کرنے والے، اور اسے اس کے بابا سے دور کرنے والے سے تو کھل کر نفرت بھی نہیں کر پا رہی تھی۔
اپنا ہی دل بغاوت پر اتر رہا تھا۔ مگر اس نے اپنے دل کی ہر گز نہیں سننی تھی۔ بلکل بھی نہیں۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ممتاز بیگم بیڈ پر بیٹھی لویزا کے واش روم سے باہر آنے کا انتظار کر رہیں تھیں۔
آج وہ چلہ نہائی تھی ۔ اور حویلی کی رسموں کے مطابق چلہ نہا کر باہر واش روم کے دروازے پر ہی اس کا منہ میٹھا کر کے پہلے گود میں سات قسم کے میوے اور سات قسم کے پھل دئیے جانے تھے۔
جس کا مطلب تھا اس کی گود ہمیشہ بھری رہے پھر زارون کو اس کی گود میں دیا جانا تھا۔
حویلی سے بھی سب کافی دفع اس سے مل کر گئے تھے۔
اجالا اور عالی عمرے کے بعد وہاں سے ہی لندن اجالا کی پھپھو کے پاس چلے گئے تھے۔
اس دوران لویزا نے دوبارہ اس کے منہ لگنے کی غلطی سے بھی غلطی نہیں کی تھی۔ جہاں تک ممکن تھا اس سے گریزاں رہ کر اسے بے تحاشا تڑپایا ہی تھا۔ مگر دو چیزیں تھیں جو وہ چاہ کر بھی نہیں روک پائی تھی ایک ہادی کا لویزا کی کئیر کرنا دوسرا اسکا بےبی کے ساتھ بری طرح اٹیچ ہونا۔
لویزا باتھ لے کر باہر نکلی تو دروازے پر ہی ممتاز بیگم نے اس کا منہ میٹھا کروایا۔۔ پھر اس کی گود میں میوے اور پھل رکھے گئے۔ جو کہ اس نے پاس کھڑی فریدہ کو تھما دیے۔ پھر اس کی گود میں زارون کو دیا گیا۔
ممتاز بیگم نے اسے اپنے سینے سے لگایا اور مبارک باد دی۔
میر ہادی خاموش سا دیوار سے ٹیک لگائے یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا۔ ممتاز بیگم صدقہ وخیرات دینے باہر لان میں نکلیں تو میر ہادی آہستگی سے چلتا اس کے قریب آیا۔
میری طرف سے بھی مبارک قبول کرو، ایلو جان،، وہ اسے گہری نگاہوں سے دیکھے گیا۔ جو مکمل سرخ لباس میں چاندی کی طرح دمک رہی تھی۔ زارون کو گود میں لیے بیڈ پر بیٹھ چکی تھی۔ دوپٹے سے جھانکتے گیلے بال کمر سے چپک رہے تھے۔
مبارک باد نہیں خلع چاہیے مجھے، وہ دے دیں مہربانی ہوگی،، لہجہ چھبتا ہوا سا تھا جو میر ہادی کی آنکھوں میں کرچیاں بکھیر گیا۔
وہ تو ملنے سے رہی،، وہ دانت پیس کر بولا۔
کیوں، کافی وقت گزر چکا ہے، اب تک تو آپ جیسے امیر زادے کا دل بھر جانا چاہیے تھا،، کہ اب تک،،،، لویزا اپنی جگہ سے دو فٹ اچھلی تھی کیونکہ وہ پیچھے ڈریسنگ کا شیشہ پرفیوم کی بوتل مار کر دھماکے کے ساتھ چکنا چور کر چکا تھا۔ افسوس تو اسی بات کا تھا کہ غصے سے پاگل ہو کر بھی وہ اسے کچھ نہیں کہہ پاتا تھا جو ہر مرتبہ اس کی روح تک کو چھلنی کرتی اس کے تمام بخیے ادھیڑ دیتی تھی تبھی شدید طیش و اشتعال میں کمرے سے ہی نکل گیا۔ کچھ دیر بعد ہی اس کی گاڑی کی آواز سنائی دی۔
لویزا تلخی سے مسکرائی۔
اونہہہہہہ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے،،
کئی دنوں سے جو سوچ رکھا تھا اس پر عمل کرنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ اب تو موقع بھی تھا۔ وہ ممتاز بیگم کے منع کرنے کے باوجود چھوٹے سے بیگ میں اپنی اور بےبی کی ضرورت کی چیزیں رکھتی انھیں الله حافظ بول کر کیب کروا کر گھر سے نکل آئی تھی۔
اسے نہیں پتہ تھا اس کے اس عمل کا اتنا شدید ردعمل ہوگا۔
میر ہادی کو اطلاع مل چکی تھی۔ وہ فورا میر لاج آیا۔ لویزا کے اسے بتائے پوچھے بغیر اس اقدام نے میر ہادی کو غصے سے پاگل کر چھوڑا تھا۔ تبھی ایک حتمی فیصلہ کرتے ایک نتیجے پر پہنچتے وہ ممتاز بیگم کو لیے گھر سے نکلا تھا۔ اب یہ تو طے تھا کہ وہ اسے اتنی ڈھیل بلکل نہیں دینے والا تھا کہ وہ یوں منہ اٹھا کر کبھی بھی کہیں بھی چلی جاتی۔ تبھی افضل اور گارڈز کی فوج ساتھ لی تھی۔ تمام رستے اس کے جسم و جاں ایک ان دیکھی جلن میں سلگے جھلسے تھے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
پون گھنٹے بعد وہ اپنی پھپھو ممتاز بیگم کے گھر کے باہر گاڑی سے اتری تھی۔ جلدی سے دستک دے کر اندر داخل ہو گئی۔ ممتاز بیگم جو دستک کی آواز سن کر دروازے تک ہی آ رہیں تھیں اسے دیکھ، اس کے ہاتھوں میں معصوم نومولود دیکھ حیران رہ گئیں تھیں۔
وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئیں تھیں۔ ممتاز بیگم نے فون کر کے ظفر کو اطلاع دی تو وہ بھی چلا آیا تھا۔ تمام کہانی سن کر ظفر بھی اسے تسلی دیتا رہا اب یہ تو طے تھا کہ جب وہ لوٹ ہی آئی تھی تو اسے اب ظفر کو ہونا ہوگا۔
یہ جاگتے دن میں جاگتی آنکھوں سے پھر سے سپنے بننے لگا تھا۔
ہچکیوں کے دوران خود پر بیتنے والی تمام داستان وہ ان کے گوش گزار کر چکی تھی۔ اور اپنے بابا کو یاد کر کے وہ بے تحاشا رو دی تھی۔
پھپھو،، میں اب اس وحشی درندے کے پاس واپس نہیں جاؤں گی،، جو میرے بابا کی موت کی وجہ بنا، جس کی وجہ سے بابا نے،، بابا نے خود کشی کی،، وہ پھوٹ پھوٹ کر ان کے سینے سے لگ کر روئی۔
ممتاز بیگم حیران ہوئی اور اسے سچائی بتانے کو منہ کھولا ہی تھا جب ظفر نے نفی میں سر ہلاتے انھیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔
ماں نے ایک پرشکوہ نگاہ بیٹے پر ڈالی مگر وہ بھی خود غرضی کا مظاہرہ کرتے نگاہیں چرا گیا۔ یعنی وہ جو اس بات کا چشم دید گواہ تھا اسے کبھی حقیقت نہیں بتانے والا تھا۔ ظفر نے لویزا کے کندھے پر اسے تسلی دینے کو اپنا دایاں ہاتھ رکھا تھا۔
تبھی دھاڑ سے بیرونی دروازہ کھلا تھا اور رانا میر ہادی جنونی انداز میں طیش و اشتعال سے پاگل بنا اندر داخل ہوتا چلا گیا تھا۔ اس کے پیچھے گارڈز کی فوج اور افضل بھی اندر داخل ہوئے تھے۔
لویزا صدمے سے گنگ ڈری سہمی کھڑی تھی جب میر ہادی نے اس کی گود سے زارون کو لے افضل کو تھمایا۔
بےبی کو گاڑی میں امی سائیں کے حوالے کرو،، افضل بےبی کو لیے باہر جا چکا۔ وہ ہوش میں آئی اور افضل کی جانب لپکی۔
زارون،،، جب بیچ راستے میں میر ہادی نے اس کا بازو دبوچا تھا۔
مجھے اس آدمی کا دایاں ہاتھ چاہیے،،، میر ہادی دھاڑا۔
اندر آتے ہی اب گارڈز نے ظفر کو دھنکنا شروع کیا تھا۔ممتاز بیگم چلانے لگیں تھیں۔
ظفر،، ہادی چھوڑیں اسے ،،لویزا مچلی اور ظفر کی جانب لپکی۔
وہ چیخ چلا رہی تھی۔
میر ہادی، چھوڑو مجھے،، اے چھوڑو اسے،، دور ہٹو چھوڑ دو، جانے دو اسے،،
جب میر ہادی جھٹکے سے اس کا بازو جکڑے اسے اندر روم میں لے کر گیا تھا۔ لے جا کر اسے دیوار سے پن کیا۔
وہ اب بھی مسلسل ظفر کی چیخیں سن اور ممتاز بیگم کو بے ہوش ہوتے دیکھ چلا رہی تھی۔
اششششش،، میر ہادی نے لال انگارا آنکھیں لیے اس کے لبوں پر انگلی رکھی۔ وہ روئے گئی۔
جانتی ہو،، زندگی میں سب سے زیادہ میں نے کس سے نفرت کی ہے، باہر جو آدمی میرے ہاتھوں مرنے والا ہے اس سے،، اس وقت میرا غصہ سوا نیزے پر ہے ایلو جان، اگر نہیں چاہتی کے پہلے جو مجھ سے بائی مسٹیک ہوا تھا اب وہ میں جان بوجھ کر کروں اور ایک قاتل بنتے ہوئے کسی بے گناہ کے خون میں اپنے ہاتھ رنگ لوں تو میرا غصہ کم کرو،، اینڈ آئی سوئیر میں مزاق کے موڈ میں ہر گز نہیں ہوں۔
اس کی اس فرمائش پر لویزا نے پھٹی پھٹی بھیگی نگاہوں سے سامنے کھڑے اس سائیکو آدمی کو ملاحظہ کیا۔
گارڈز اسے مار مار کر ادھ مرا کر ہی چکے تھے۔
کم آن ایلو جان،، وہ مر رہا ہے،، میر ہادی کا سرسراتا لہجہ،،
Ohhh come on,,do it,, He will die,,
لویزا بے تحاشا روئی۔ مگر سامنے کھڑے اس بےمہر ستمگر کے بھنچے جبڑے اور تنی رگیں نارمل ہونے کا نام نہیں لے رہیں تھیں۔
ہر دفعہ وہ لویزا کو خود سے نفرت کرنے کی ایک نئی وجہ بڑی شان سے دیا کرتا تھا۔
ظفر کی چیخیں کم ہونے لگی تھیں یا واقعی وہ مرنے والا تھا۔
تبھی لویزا لرزتے کانپتے وجود کے ساتھ بے تحاشا روتے اس سنگدل کے سینے سے لگی تھی۔ اس نے بھی بے دھڑک اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے تھے۔
سٹاپ،، وہ دھاڑا گارڈز وہاں سے نکلتے چلے گئے۔
لویزا نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ جھٹکے سے اس سے دور جانا چاہا مگر وہ اس سے لپٹتا اس کی سانسیں اپنی دسترس میں لے چکا تھا۔ دونوں ہاتھ دیوار سے بری طرح پن کر دئیے۔
آج پھر اس کے لمس میں بھر پور شدت تھی کہ لویزا کو اپنی جان ہی نکلتی محسوس ہوئی۔ وہ شاید اتنے دنوں کے بعد خود کو سیراب کرتا اس کی سانسیں تک پینے کے در پہ تھا۔
تبھی لویزا بے تحاشا سہتے اس کی بانہوں میں جھول گئی تھی۔ وہ پیچھے ہٹا اور کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے بازوؤں میں بھر لیا۔
باہر نکلا ایک حقارت آمیز نگاہ اس شخص پر ڈالی۔
باہر نکل کر اسے نرمی سے گاڑی میں بٹھایا۔
میر ہادی کیا کیا تم نے،، ممتاز بیگم لویزا کو بےہوش دیکھ کر چلائیں،،
ڈرائیور حویلی چلو،، میر ہادی نے بول کر گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگائی، ہاتھ بڑھا کر اسے خود سے لگا کر سکون سے آنکھیں موند لیں۔
Continue,,,,,,,,,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
