Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
وہ اتنے خطرناک تیور لیے باہر آیا تھا کہ ایک مرتبہ تو وہ سب دیکھ کر اسے دنگ رہ گئے تھے۔ اجالا اور عالی بھی اس کے پیچھے لاؤنج میں چلے آئے تھے۔ وہ پہلے ہی ان سے مل کر سلام دعا کر چکے تھے دونوں ۔
وہ لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔ حسب معمول ماتھے پر تیوریوں کا جال سا تھا۔
برخوردار شہر میں آ کر تمیز وغیرہ بھول جاتے ہو کیا جو سلام تک کرنا گوارا نہیں کیا،، میر دراب ہی بولے تھے اور کیسے بھی سہی بات کا آغاز کیا تھا۔ اس نے جھک کر اماں سائیں اور ممتاز بیگم سے پیار ضرور لیا تھا جنھوں نے اسے چٹا چٹ چوم ڈالا۔
لویزا چپکے سے روم سے نکل کر اس کے پیچھے آئی تھی اور پلر کے پیچھے چھپ کر ان سب کو دلچسپی سے دیکھنے لگی۔
وہ دادا سائیں کے سامنے آیا تھا۔
کیوں آئے ہیں آپ لوگ یہاں،؟ سنجیدگی سے سوال پوچھا۔ غصے میں بختاور کی جانب تو دیکھا بھی نہیں جو نم آنکھیں لیے وہاں سر جھکائے بیٹھی تھی۔
بہو کو دیکھنے آئے ہیں، اس کی خیر خیریت معلوم کرنے، اس کی عیادت کرنے،، تمھیں کوئی اعتراض،، دادا سائیں اطمینان (ڈھٹائی)سے بولے تھے۔۔ میر ہادی جز بز دھواں دھواں چہرہ لیے کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔
اور جب اسے قتل کرنے کی سازشیں رچا رہے تھے اس وقت نہیں یاد تھا کہ وہ میری بیوی ہے، میری عزت، میرے نکاح میں ہے، آپ لوگوں کی بہو ہے اور اب،، وہ دانت پیس کر بولا تھا۔ دانستہ بات ادھوری چھوڑی۔
چلو دیر عائد درست عائد، اللہ کا شکر ہے کہ الله تعالی نے اسے بچا لیا،، اور بچے کو بھی محفوظ رکھا، اور اب تم کیوں دیوار بنے کھڑے ہو ہٹو سامنے سے اور بلاؤ اسے،، میر ہاشم خائف ہوئے۔
دادا سائیں کوئی تعلق نہیں ہمارا آپ سے ،یا اس کا یا میرے بچے کا، حویلی کی جانب تو اب میں رخ بھی نہیں کروں گا، ہر تعلق توڑتا ہوں میں حویلی سے، سمجھے آپ، اور اگر آپ لوگوں نے مزید ہمیں پریشان کرنے کی کوشش کی تو میں اسے لے کر یہ ملک ہی چھوڑ دوں گا، نہیں ملنا اس نے کسی سے بھی جائیے آپ لوگ،،
شدتِ ضبط کی جب انتہا ہوئی تھی تو وہ دھاڑا۔ مگر یہ بھول گیا کہ اس میں باپ، ماں اور دادی کا کیا قصور تھا۔ اور بختاور کا کیا قصور تھا ۔ وہ تو بس اپنی محبت کی محبت کو ایک جھلک دیکھنے آئی تھی۔
ممتاز بیگم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں تھیں، بختاور نے ممتاز، بیگم کو خود سے لگایا تو میر ہادی اندر سے ہل گیا اور اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا کہ اس نے گھن کے ساتھ گہیو بھی پیس ڈالے تھے۔
چھوٹے سائیں، باؤلے ہوئے ہو کیا، ہوش میں تو ہو، ارے ہمارا کیا قصور ہے جو ہمیں سزا دینے پر تل گئے ہو، اگر یہی بات ہے تو جہاں جاؤ گے ہمیں بھی ساتھ لے کر جانا، کیونکہ جہاں تم نہیں وہاں ہمارا کیا کام،، ارے ہم بوڑھی جانوں پر تو رحم کھاؤ،، اماں سائیں نے بھی اپنی دل کی بھڑاس نکالی۔ رانا میر ہاشم نے بیگم کو بری طرح گھوری سے نوازا مگر انھیں خاطر خواہ اب پرواہ نہیں تھی۔ انھوںنے کونسا بیگم سے پوچھ کر وہ کارنامہ کیا تھا۔
میر ہادی بری طرح لب کچلتا ان کے پاس آیا جو رونے کی تیاری کر رہیں تھیں۔
ماں کو گلے سے لگایا۔ میر دراب بھی بیٹے کو شکوہ کناں نگاہوں سے گھور رہے تھے۔
کہیں نہیں جاؤ گے تم سمجھے نہیں تو مر جاؤں گی میں،، ممتاز بیگم نے اسے ایموشنلی بلیک میل کیا۔۔
اچھا کہیں نہیں جا رہا یار، خاموش ہو جاؤ اب آپ، میر ہادی نے ماں کو سینے سے لگایا۔
کہاں ہے وہ میر ہادی،، اماں سائیں نے کہا اور بے چینی سے ادھر ادھر دیکھا تو لویزا کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی فورا کمرے میں چلی گئی۔
آپ لوگ مل لیں،، اس نے صرف اماں اور امی سائیں کو دیکھ کر بولا تو باقی سب نے پہلو بدلا۔
میر ہادی باہر لے کر آؤ اسے،، اب کی بار میر دراب نے دانت پیس کر زرا سختی سے کہا کیونکہ وہ مسلسل رانا میر ہاشم کی انسلٹ کیے جا رہا تھا، تو وہ جھٹکے سے اٹھا تھا۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ خود کو اور اسے یہاں سے کہیں غائب کر دے۔
اسے کسی چیز کا کوئی علم نہیں بابا سائیں اور بختاور کا بھی،، وہ دھیمی آواز میں غرایا۔ تو بختاور نے پہلو بدلہ اور آنکھیں نم ہو گئیں۔۔
ان سب کو اب پریشانی سمجھ آئی اس کی۔
نہیں بتائیں گے تم ملواؤ ایک مرتبہ،، میر دراب نے کہا تو اس نے اجالا کی جانب اشارہ کیا۔
اجالا کمرے میں آئی تھی۔۔ وہ ہونق سی بنی صوفے پر بیٹھی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔
کیا ہوا اجالا،،
کچھ نہیں ہادی نے بلایا ہے شال اوڑھ کر باہر آؤ،، اس نے شال اوڑھی ۔ اجالا نے اس کا ہاتھ تھاما جو کنفیوز ہو رہی تھی۔ اور دونوں باہر آئیں۔ سب کی ایک مرکز پر نگاہ اٹھی اور ٹھہر سی گئی۔
سرخ فراک پاجامے میں وہ سکن کلر شال اوڑھے سرخ وسفید نازک اور ہرن جیسی معصوم آنکھوں والی لڑکی سیدھا ان کے دل میں اتری تھی۔ اس کے انگ انگ سے ممتا کا نور پھوٹ رہا تھا جیسے۔
اسلام وعلیکم،، لویزا نے جھجھکتے کہا وہ جو یک ٹک اسے دیکھ رہے تھے ہوش میں آئے۔
اجالا سب سے پہلے اسے اماں سائیں کے پاس لے کر آئی تھی۔ اور اماں اور ممتاز بیگم کے درمیان اسے بٹھا دیا۔ انھوں نے اس کا ماتھا چوما تھا۔۔ ممتاز بیگم نے اسے سب کا تعارف کروایا۔
لویزا نے میر ہادی پر ایک نگاہ ڈالی جو سڑی سی شکل بنا کر اپنے بابا کے پاس بیٹھا تھا۔ ( لویزا کو بڑی ہنسی آئی مگر ضبط کر گئی) میر دراب اور میر ہاشم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ دونوں نے منہ دکھائی کے طور پر اس کی گود میں بڑے نوٹ رکھے تھے جس پر وہاں بیٹھا ایک شخص سخت تلملایا۔
سب نے اسے اپنے بارے میں بتایا اور اب وہ سوالیہ نگاہوں سے اس پیاری سی لڑکی کو دیکھنے لگی جو پاس ہی مگر چپ چپ سی بیٹھی تھی۔ اس کی نگاہوں کا فوکس دیکھ کر سب گڑبڑائے اور اصل میں تو اب میر ہادی نے جھنجھلا کر پہلو بدلہ تھا۔ ۔
میں آپ کے شوہر کی پھپھو کی بیٹی ہوں، بہت سنا آپ کے بارے میں تو دیکھنے چلی آئی،، اور جیسا سنا ویسے ہی پایا، بے تحاشا خوبصورت ہیں آپ،،
آخر بختاور نے سادہ سے لہجے میں کہتے اپنا تعارف خود ہی کروا کر ان سب کی مشکل حل کی۔
لیزا گہرا مسکرائی۔ کچھ ہی دیر میں وہ ان سے گھل مل گئی مگر
اجالا بھابھی،، لیزا کو اندر لے کر جائیں، اسے آرام کی ضرورت ہے،، میر ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔
(اماں سائیں اور ممتاز بیگم نے نروٹھے پن سے اسے گھورا۔ اس کے معاملے میں عجیب طرح سے بے اعتبار ہو رہا تھا۔) اماں سائیں نے اپنے ہاتھ سے جڑاؤ خالص کندن کنگن نکال کر اسے پہنانا چاہے۔
ارے دادو یہ کیا،، یہ میں نہیں،، وہ گھبرائی۔
نہیں تمھارا حق ہے ان پر، کیونکہ میں نے سوچا تھا، میری ہادی کے ہونے والے بچے کی ماں کی ہی پہناؤ گی میں یہ،،
اماں نے پھر اسے چوما۔ وہ کانوں تک سرخ ہوئی تھی۔ میر ہادی نے ایک گہری نگاہ اس کے حسین سراپے پر ڈالی اور اجالا کو دوبارہ اشارہ کیا۔ اجالا آگے بڑھی اور اس کا ہاتھ تھام کر اندر لے گئی۔
میر ہادی حویلی چلو یار،، حویلی کب آؤ گے،، حویلی چلو تاکہ خاندان والوں کے سامنے اس شادی کا اعلان کیا جائے اور بچے کی پیدائش بھی حویلی میں ہی ہونی چاہیے ؟ میر دراب نے میر ہاشم کے کہے گئے الفاظ دہرائے۔
بابا سائیں بہت جلد آؤں گا، فی الحال میرا کوئی ارادہ نہیں ہے ،، اس نے لاپروائی سے بول کر انھیں ٹالا مگر حویلی جانے کا ارادہ اس کا سرے سے تھا ہی نہیں۔
اجالا اور لویزا نے انھیں چائے ناشتہ سرو کیا۔ اور وہ کچھ دیر کے بعد روانہ ہو گئے۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ سخت قسم کا موڈ آف کیے بیٹھا تھا۔ جب عالی قریب آیا۔
کیا ہوا ہادی،،
میں اس وحشت زدہ ماحول سے باہر نکلنا چاہتا ہوں یار، اسے کہیں دور لے جانا چاہتا ہوں، سب کی نگاہوں سے بہت دور،، چھپا کر رکھنا چاہتا ہوں، وہ کھوئے کھوئے لہجے میں اکتا کر بولا تو عالی مسکرایا۔
“تو ٹھیک ہے چلو ہمارے ساتھ، ہم بھی کہیں گھومنے نہیں گئے تم لوگ بھی، ہمارے ساتھ ہی چلو، ایک تو تمہیں سکون ملے گا دوسرا بھابھی کو اس حالت میں بہت اچھا لگے گا، اور تمھاری خواہش بھی پوری ہو جائے گی،
عالی نے کہا تو میر ہادی کو کچھ پل ہی لگے تھے فیصلہ کرنے میں۔
کدھر جانا ہے،،
فی الحال تو اپنے ہی ملک میں نادرن ایریاز میں چلتے ہیں، پاکستان سے بڑھ کر بھی کوئی اور خوبصورت جگہ ہوگی، مجھے نہیں لگتا،، عالی نے کہا تو وہ مسکرایا جیسے اس کی بات سے متفق ہو۔
چلو پھر تیاری کرو، میں آج ہی جانا چاہتا ہوں اور ایبٹ آباد میں اپنا فارم ہاؤس بھی ہے،، میر ہادی نے جلدی سے اٹھتے کہا تو عالی اس کی بے صبری پر مسکرایا۔
ان کے ارے ارے اور شور مچانے کے باوجود انھوںنے بہت جلدی مچائی تھی۔ اور چند ہی گھنٹوں میں تیاری کر بھی لی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ جب سے حویلی آئی تھی اپنے کمرے میں بند تکیے میں منہ دئیے آج اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور اپنے کیے گئے فیصلوں پر پچھتا رہی تھی کہ واقعی وہ ایک سراب کے پیچھے اندھا دھند بھاگ رہی تھی جس سے اس کی جھولی میں سود وزیاں کے علاوہ کچھ نہیں آنے والا تھا کیونکہ وہ اس کا نا کبھی تھا نا کبھی ہو سکتا تھا۔ آج جو میر ہادی کی نگاہوں میں اسے اس لڑکی کے لئے عشق کی ان دیکھی آگ بھڑکتی دکھائی دی تھی۔ اس میں کسی اور کی زرا سی بھی گنجائش نکلنے والی ہی نہیں تھی۔
وہ رو رو کر اہنا غم غلط کر رہی تھی۔ جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی وہ بری طرح جھلائی۔ اب کون تھا ۔ یہاں تو کوئی سکون سے رو بھی نہیں سکتا تھا جیسے۔
مگر اگلے ہی پل آنے والے نے اجازت لینے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی تھی اور دروازہ ہلکے سے دھکیل کر اندر چلا آیا۔
اپنے سامنے افراسیاب کو کھڑے دیکھ وہ تلملا کر اٹھی تھی۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو،،
مبارک ہو تمھارا شوہر باپ بننے والا ہے، منہ میٹھا کرنے آیا تھا ،، وہ ڈھٹائی سے کہتے اس کے سارے زخم ادھیڑ گیا۔
چلے جاؤ یہاں سے سیاب، آج میں تمھارے منہ نہیں لگنا چاہتی، وہ جھلائی اور دوبارہ تکیے میں منہ دے گئی۔
اس نے بے بسی سے بیڈ پر پڑا اس کا ناتواں مگر قیامت خیز وجود دیکھا اور بری طرح نگاہیں چرائیں۔ لب کچلتے اس کی جانب سے رخ ہی موڑ لیا۔
اور میں ہمیشہ صرف تمھارے ہی منہ لگنا چاہتا ہوں،، وہ بھی اطمینان سے بولا۔ تو بھنا کر اپنی جگہ سے اٹھی اس کے سامنے آئی تھی۔
کیوں آخر کیوں ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہو افراسیاب، جب جانتے ہو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ، میری طرح خالی ہاتھ رہ جاؤ گے،، وہ غرائی۔
تم بھی تو بھاگ رہی ہو ایک سراب کے پیچھے تو سوچا میں بھی بھاگ کر دیکھ لوں، اور کوئی تعلق نا سہی تو دونوں سراب سراب ہی کھیل لیتے ہیں، کوئی تعلق تو رہے گا کم از کم،،، وہ لاپروائی سے بولا تو بختاود نے اپنے سامنے کھڑے اس لمبے چوڑے وجہہ مرد کو دیکھا جسے اس نے اپنی بے وقوفی اور پاگل پن میں کھو دیا تھا۔
اگر تم میرے منہ سے یہ سننا چاہتے ہو کہ میں ہار گئی تو سنو سیاب بختاور ہار گئی، اگر یہ سننا چاہتے ہو کہ میں اپنی ضد اہنے فیصلہ پر پچھتا رہی ہوں تو سنو سیاب میں پچھتا رہی ہوں،، میں تھک گئی ہوں ٹوٹ گئی ، ہار گئی ہوں،، وہ کہتے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔
افراسیاب سے دھواں دھواں چہرے کے ساتھ اسے روتے دیکھا۔
تو لوٹ آؤ نا بختاور، دیکھو میں تو ہمیشہ سے تمھارا انتظار کر رہا ہوں،، اب بھی، سنا تم نے اب بھی مجھے بس تمھارا انتظار ہے،،
وہ اس کے دونوں کندھوں کو تھام کر بولا۔
کاش سیاب، کاش یہ اتنا آسان ہوتا، رانا میر ہاشم، رانا میر دراب مار ڈالیں گے مجھے، ان کی غیرت کبھی گوارا نہیں کرے گی کہ ان کی بہو ان کے بیٹے سے طلاق لے کر کسی اور سے شادی کرے، وہ بیٹا ہے جو مرضی کر سکتا ہے، مگر ادھر سوال بہو کا ہے، نام نہاد غیرتیں جاگ اٹھیں گی، اور لوگو بولیں گے کہ بختاور کتنی بدکردار ہے، جب ایک سے جی بھر گیا تو دوسرا پن ًمکڑ،
شٹ اپ بخت،، وہ دھاڑا۔ نہیں چاہتی کہ میرا ہاتھ اٹھ جائے تو بکواس بند کرو اپنی،، وہ غرایا تھا۔
بختاور نے اس کے سینے پر سر ٹکایا تھا اور بے تحاشا رو دی تھی۔
سچ تو سچ ہے ناں سیاب،، وہ ہچکیوں کے درمیان بولی۔
افراسیاب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔ کچھ بھی کہو بخت، ہمیشہ سے تمھارا انتظار کرتا تھا اور ہمیشہ کرتا رہوں گا، اب دیکھتے ہیں کب میرا یہ انتظار معتبر ٹھہرے گا اور کب مجھے اپنے انتظار کا پھل ملے گا،، وہ جزب سے کہتا اسے محسوس کیے گیا۔ جب وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹی تھی۔
مت کرو انتظار سیاب،، رائیگاں نا چلا جائے، میرے انتظار کی طرح،
نہیں جائے گا بخت،، مجھے میری محبت پر پورا بھروسہ ہے،، وہ کہتا رکا نہیں تھا جا چکا تھا۔
اور بختاور بھیگی پلکیں لیے اس کے قدموں کی آہٹ سنتی رہی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ڈھلتی دوپہر تک وہ ایبٹ آباد کی خوبصورت وادیوں میں داخل ہو چکے تھے۔ یہ سفر زندگی کا خوبصورت ترین سفر رہا ۔
یہ میر ہادی کا فارم ہاؤس تھا جو تھا تو چھوٹا سا مگر مگر انتہائی خوبصورت، سامنے ایک گراؤنڈ بھی تھا جہاں ٹورسٹ اپنا ٹائل سپینڈ کرتے، کھیلتے کودتے اور انجوائے کرتے تھے۔
لویزا بہت تھک چکی تھی۔ اسی لئے آتے ساتھ ہی لیٹ کر سو گئی۔ جبکہ اجالا جو راستے میں سو گئی تھی اب کافی فریش تھی اور آتے ساتھ ہی عالی کے ساتھ باہر نکل گئی تھی۔
وہ کافی دیر سے اس کے اٹھنے کا انتظار کرتا رہا مگر وہ تس سے مس نا ہوئی۔ پھر آوازیں بھی دیں مگر اثر ندارد ۔ اب وہ اس کے قریب چلایا آیا اسے میر ہادی سٹائل میں جگانے کے لئے ۔
سب سے پہلے اس کے پاؤں پر گدگدی کی تھی۔ وہ بری طرح کسمسائی۔ پھر ویسٹ پر لب رکھے۔ اس نے کروٹ بدلی۔
اب وہ مکمل اس پر قابض ہوا اس کی گردن پر جھکا تھا۔ ہلکی بئیرڈ کی جلتی سی چبھن محسوس کر اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں اور خود پر اسے جھکے دیکھ اس کے کندھوں پر مکے برسائے۔
ہادی،، یہ کیا،، پیچھے ہٹیں،، وہ غرائی۔
نہیں ہٹا تو،، بالوں کی خوشبو کو اپنی روح میں اتارتا وہ اطمینان سے بولا۔
تو میں اپنا بیلن لے آؤں گی کچن سے، وہ اس کی شرٹ دبوچتی اپنے روبرو کر کے دھمکی دیتی بولی۔
آں ہاں،، رائٹ، تم کھیلتی رہو بیلن بیلن، رانا کا ایک وار ہی نہیں جھیل پاؤ گی،، میں تو چلا، باہر گراؤنڈ میں کافی گرلز ہیں ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے، بعد میں شکوہ مت کرنا، وہ بول کر اسے آگ لگا کر باہر نکل گیا۔
وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی۔ اور بیڈ سے نیچے اتری۔
تجسس کے مارے کھڑکی تک آئی تو حیرت سے آنکھیں پھیل چکی تھیں۔ وہ جس نے باقاعدہ ابھی اپنے سیاسی کئیرئر کا آغاز بھی نہیں کیا تھا بڑے مزے سے لڑکیاں اس کے گرد شہد کی مکھیوں کی طرح چمگھٹا بنائے آٹوگراف لینے کی تگ و دو میں مری جا رہیں تھیں۔
بلیک ٹو پیس کے اوپر بلیک سن گلاسز، لگائے وہ لگ بھی تو اتنا ہینڈسم اور ڈیشنگ رہا تھا۔
یہ فارم ہاؤس آپ کا ہے سر، آپ ادھر رہنے آئے ہیں،،
آف کوار یس،، وہ سکون سے بولا۔
وہ محسوس کر چکا تھا کہ لویزا اسے دیکھ رہی ہے تبھی گہرا مسکرایا۔
واٹ اباؤٹ آ گیم گرلز،، کون کون کھیلنا چاہے گا،،،، وہ واپس مڑ کر سٹور روم سے بیٹ اور بال اٹھا لایا تھا۔
وہ تو چیخیں مار کر تالیاں بجاتی گراونڈ میں پھیل گئیں۔
ادھر وہ جل بھن کر کباب ہوئی تھی۔ وہ بھی سرخ لباس میں لال آگ کا گولہ بن چکی تھی۔
کرکٹ وہ کھیل رہے تھے اور آؤٹ لویزا کے دل و دماغ ہو رہے تھے۔ اور اب تو غم وغصے کی انتہا سے وہ دانت کچکچاتی آگے گراؤنڈ میں بڑھی تھی اور وہی وکٹ نکال کر ان لڑکیوں کی جانب لپکی۔ اس سے پہلے وہ ان لڑکیوں کے پہلو سینک دیتی جو خواہ مخواہ اس کے وڈیرا جی سے فری ہونے کی کوشش کر رہیں تھیں اب وہ چیخیں مارتے وہاں سے دور بھاگی کھکھلا کر ہنس رہیں تھیں۔
وہ تو دسترس سے باہر ہو گئی تھیں مگر وہ میر ہادی کی ضرور درگت بنا سکتی تھی۔ جو اطمینان سے اب ہاتھ باندھے اپنی لیڈی موگیمبو کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ رہا تھا۔
کہا تھا نا ایلو، نہیں جھیل پاؤ گی مت الجھو،، اب کیوں جل بھن کر کباب ہو رہی ہو،، میر ہادی نے دانتوں تلے لب دبایا۔
وہ پاس آئی اور وکٹ ہوا میں لہرائی۔
کیا؟ ،، مارو گی مجھے،، میر ہادی نے آئیبرو اچکائی۔
نو ہنی،، آپ سے کس نے کہا کہ ماروں گی میں آپ کو،، وہ کہتی ہیروئن سٹائل میں آنکھیں پٹپٹاتی اس کے کندھوں کے پیچھے وکٹ رکھ کر دونوں ہاتھوں سے وکٹ تھام کر میر ہادی کو اپنی جانب جھکایا ۔ کہ ایک مرتبہ تو میر ہادی کے بھی ہوش اڑے تھے۔
ایکچوئلی میں تو اپنے ہینڈسم سے ہبی کو ڈھیر سارا پیار کرنے والی ہوں، وہ باآواز بلند بہکی سی بولی تاکہ پیچھے کھڑی ان چوڑیلوں کو لازمی سنائی دے۔
اب اس نے اوپر ہو کر میر ہادی کے چہرے پر پیار کی مہریں ثبت کرنا شروع کی تھیں۔ میر ہادی نے مسکراتے اس کی جلن میں اپنا سکون پایا۔
وہ لڑکیاں آنکھوں پر ہاتھ رکھتی چیختی وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئیں۔
ایلو نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میدان صاف تھا۔ وہ گہرا مسکراتی، وکٹ پھینکتی ہاتھ جھاڑتی پیچھے ہٹی۔ ان کو تو بھگا دیا اب اس ایلو کی جان کو مجھ سے کون بچائے گا،، میر ہادی معنی خیز سا بولا۔
نو ہادی،، میں تو چلی،، وہ پیچھے مڑ کر بھاگنے کو تھی جب میر ہادی کے بازو اس کی کمر کے گرد حمائل ہوئے تھے۔ فوراً اسے بازوؤں میں بھرا۔ اسے اندر کی جانب جاتا دیکھ لیزا کے ہوش اڑے۔
ہادی گھومنے چلیں ،، لویزا نے اسے بچوں کی طرح بہلانا چاہا۔
نو میری جان خود ہی چھیڑا ہے اس عاشق کو اب جھیلنا بھی خود ہی پڑے گا ناں،، وہ دانتوں تلے لب دباتا اندر کی جانب بڑھا اور لویزا نے اس وقت کو کوسا جب وہ باہر آ کر اس بلا سے الجھتے خود ہی اس کے گلے پڑ گئی تھی۔
Continue,,,,,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
