Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
حویلی میں آج پھر خوشیوں کی بارات اتری تھی۔
زارون پورے ایک سال کا ہو چکا تھا۔ فنکشن تو بس گھر گھر میں ہی تھا۔ مگر پورے گاؤں میں نذر و نیاز اور کھانا وغیر ضرور تقسیم کیا گیا تھا۔
بظاہر سب بےحد خوش تھے ہاں مگر یہ الگ بات تھی کہ یہ خوشیاں ادھوری تھیں۔ نامکمل تھیں۔
شام سات بجے کا وقت تھا۔ سب تیار تھے۔
آج موسم بھی زرا خراب سا ہی تھا۔
لویزا اپنے ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنی تیاری کو آخری ٹچ دے رہی تھی۔ پیروں تک ییلو کلر میکسی جس پر ریڈ ایمبرائڈری کا کام تھا۔ ریڈ سکارف اور اب وہ شیشے کے سامنے کھڑی نرم لبوں پر ریڈ لپ اسٹک لگا رہی تھی۔ کھڑکیوں سے ٹھنڈی یخ بستہ ہوائیں کھلی کھڑکیوں سے چھن کر کے اندر آتی جسم و جاں میں سنسنی سی پیدا کر رہے تھی اور کسی کی یاد دلاتی دل میں ہوک سی اٹھ رہی تھی۔۔ وہ کافی دیر سے غائب دماغی کے عالم میں آئینے کے سامنے کھڑی اپنا سجا سنورا روپ دیکھ رہی تھی۔ جو کہ بلکل اسے فضول اور بیکار سا لگ رہا تھا جسے سراہنے والا کوئی نہیں تھا۔ خراج بخشنے والا سمندروں پار بیٹھا تھا۔
وہ یونہی کھوئی کھوئی سی کھڑکی تک آئی۔ کچھ الفاظ کچھ جملے دماغ میں گڈمڈ سے ہوئے اور دل نے پسلیوں سے سر پٹخ پٹخ کر اسے نیم جان سا کر دیا تب ضبط ٹوٹا اور آنکھوں سے آنسو نکل کر بے مول ہوئے۔
ایسی ہی بارش تھی وہ جس میں اس کا ساتھ تھا اس کی پاگل قربت میں وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین انسان سمجھتی تھی۔ کتنا خوبصورت وقت تھا۔ آج دل کے دریچوں میں اس کی یادیں رقص کرتی پھر رہی تھیں۔ دبی دبی سی سرگوشیاں تھیں جو اس کے چاروں جانب گونج رہی تھیں۔
یو نو واٹ،، ایلو جان، ایک طوفان تو اپنے وجود پر جھیل چکی ہو مگر اب سامنے کھڑے اس طوفان کو جھیلنا ہے تمھیں،،
نو،،
یس،،
اس طوفان کو کس نے دعوت دی کے باہر آئیں،،
تم خود الجھی ہو،، اب جھیلنا تو پڑے گا میری جان،،اس عشق نے جو میرے سینے میں آگ بھڑکائی ہوئی ہے وہ میں آج تمھارے وجود میں منتقل کر دوں گا،،
جسم و جاں اس کی یاد میں سلگ اٹھے تھے۔ اور یہی جلن آنکھوں کے رستے گرم آنسو بن کر گالوں پر بہہ رہی تھی جیسے۔ دفعتاً ایک تیز بوچھاڑ نے اس کا چہرے پر نرم سا بوسا لیا تھا۔ وہ روح تک تڑپی۔
لویزا،، پیچھے سے بخت کی آواز سنائی دی تو وہ چونکی۔
اونہہہ،،، وہ یک دم ہی بخت کی جانب نہیں پلٹ پائی تھی۔
سب آ چکے ہیں،، حویلی سے امی لوگ بھی، موسم بھی بہت خراب ہو رہا ہے، زارون بھی تیار ہے، سب نے واپس بھی جانا ہے،، نیچے امی سائیں بلا رہی ہیں تمھیں،، بخت نے شرمندہ سا ہو کر اسے اپنی آنے کی وجہ بتائی۔
بخت آپی،آپ تو مجھے بددعائیں دیتی ہوں گی ناں، کتنی سیلفش اور غاصب ہوں نا میں،، آپ کو بھی آپ کے شوہر سے دور کر دیا ہے میں نے،، وہ پھر بے آواز آنسو بہا رہی تھی۔
غلط ہو تم لویزا، انسان اس چیز کے دور جانے پر افسوس کرتا ہے، جو پہلے اس کے پاس ہو، وہ تو کبھی میرا تھا ہی نہیں لویزا، اسی لئے مجھے بلکل افسوس نہیں ہوتا، ہاں تم اپنی تڑپ، تکلیف اور یادوں کا بِل میرے سر پر مت پھاڑو ناں، تمھاری تو روح تک میں بسا تھا ناں وہ اتنے قریب آیا تھا ،، اسی لئے اگر اس کی دوری جینے نہیں دے رہی تو پکار لو اسے لویزا، مجھے یقین ہے وہ تمھاری آدھی پکار پر ہی سر کے بل چلا آئے گا،،
بخت نے اطمینان سے کہا۔
چلیں آپی باہر چلتے ہیں،، وہ آنکھوں کے بھیگے کونے صاف کرتی اس کی باتیں نظر انداز کرتی تیزی سے باہر نکل گئی۔
لاونج دلہن کی طرح گلابوں اور آرٹیفیشل آرائش اور بلونز سے سجایا گیا تھا۔ جنھیں دیکھ زارون بہت خوش ہو رہا تھا۔ وہ مسلسل کلیپنگ کرتے اپنی خوشی کا اظہار کر رہا تھا۔
(یہ تمام مناظر کوئی میر لاج میں بیٹھا بوجھل دل کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔ جب بلکل بھی رہا نہیں گیا تو وہ چلا آیا تھا واپس میر لاج، کسی کو معلوم نہیں تھا سوائے افضل اور عالی کے۔ ہاں مگر اپنے وعدے کی پاسداری لازم تھی جو وہ حویلی نہیں جا پایا تھا)
لویزا اور بخت باہر آئے تو محفل میں سناٹا سا چھا گیا۔ زمرد نے سر تا پا بڑے غور سے اس پری پیکر کے وجود کو غلیظ سی نگاہوں سے گھورا۔
جب میر ہادی کی غیر موجودگی میں اس کی ہر چیز پر بظاہر اس کا تسلط تھا تو اس پری پر کیوں نہیں۔۔ زمرد اپنی غلیظ اور شیطانی سوچ پر مسکرایا تھا۔ آجکل کسی لڑکی کو خاص کر جس کا شوہر بھی اس کے پاس نا ہو ہراساں کرنا اور اپنے بس میں کرنا کونسا مشکل کام تھا۔۔
(کوئی اس کی گندی نگاہیں خونخوار نگاہوں سے جانچ رہا تھااور اچھی طرح نوٹ بھی کر چکا تھا۔ ہاں مگر دل کو یہ تسلی ضرور تھی کہ وہ اپنی حفاظت کرنا جانتی ہے رانا میر ہادی کے لئے اس کو اس کی مرضی کے بغیر مخالف سمت کی ہوا بھی نا چھو پائے تو زمرد کس کھیت کی مولی تھی)
لویزا نے زارون کو گود میں لے کر کیک کاٹا۔ سب نے کلیپنگ کی، لویزا نے سب کو کیک کا پیس کھلایا۔ تبھی زمرد اپنے موبائل میں بظاہر زارون کی پکس لینے والا تھا۔ مگر اس کی سوچ اس وقت کتنی گندی تھی یہ کوئی بھی نہیں جان سکتا تھا۔
ایک منٹ زمرد بھائی،، آئم سوری، مگر میں کسی کو بھی اپنی پکس نہیں لینے دیتی،، لویزا نے بلند اور رعب دار آواز میں کہا تھا۔ زمرد کو تو سانپ ہی سونگھ گیا۔ لویزا نے زارون کو بخت کی گود میں تھمایا۔
اب آپ لے لیں جتنی بھی پکس لینی ہے،، وہ اطمینان سے کہتی اپنے روم کی جانب گئی۔ مگر روم میں جانے کی بجائے پچھلے لان کی جانب چلی آئی۔ دم سا گھٹتا محسوس ہوا تھا۔ کون لڑکی نہیں پہچانتی ہوگی اپنے اوپر اٹھنے والی نگاہ کو کہ وہ مخلص ہے یا گندی۔ وہ کب سے نوٹ کر رہی تھی۔ اس کی غلیظ نگاہیں خود پر، ابھی اگر وہ ہوتا تو اس بندے کی آنکھیں ہی نکال لیتا۔ لوٹ پھیر کر تان پھر آ کر اسی شخص پر ٹوٹی۔۔ ہلکی ہلکی پھوار اب بھی برس رہی تھی۔۔
ساون کی بھیگی راتوں میں
جب پھول کھلے برساتوں میں
جب چھیڑیں سکھیاں باتوں میں
مینوں یاداں تیریاں آندیاں نے
دل کو پکڑ کے رہ جاتی
پوچھنا کیسے شرماتی ہوں
ساری باتیں سن لیتی ہوں
آدھی باتیں کہہ جاتی ہوں
خوشبو نہیں ملتی کلیوں میں
کوئی رنگ نہیں رنگ ریلیوں میں
گاؤں کی سونی گلیوں میں
مینو یاداں تیریاں آندیاں نے
کب تک تم پردیس رہو گے
آؤ گے نا خط لکھو گے
میں گھٹ گھٹ کر جان دے دو گی
پھر تم کس کو جان کہو گے
تم کھو گئے جنگل بیلے میں
ہر بستی میں ہر میلے میں
گاؤ گے یہی اکیلے میں
مینوں یاداں تیریاں آندیاں نے
باہر والی بارش تھم چکی تھی مگر لویزا نے جن آنسوؤں کو آنکھوں کے زریعے بہنے کی اجازت نا دی تھی اب وہ اس کے اندر دل پر گر رہے تھے۔
تبھی اپنے پیچھے آہٹ سی سنائی دی۔ وہ یک دم پیچھے مڑی تو آنکھیں چندھیا سی گئیں۔
زمرد سیکنڈ میں اس کی پک لے چکا تھا اور خباثت سے کھڑا مسکرا رہا تھا۔
یہ کیا زلیل حرکت ہے؟ لویزا نے اسے گھورا۔
کچھ نہیں خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر رہا ہوں،، اس نے ایک آنکھ ونک کی۔
اس بیغیرتی کا مطلب،، لویزا غرائی۔
زیادہ کچھ نہیں، بس دوستی کرنا چاہتا ہوں، وہ کہتے ہیں ناں کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے تو میں میر ہادی کا بڑے والا دشمن ہوں تو تم مجھے دوست بنا سکتی ہو، بلکہ اس سے کچھ زیادہ،، یقین کرو تمھاری بےوفائی سے وہ اٹھ نہیں پائے گا، مل کر اسے برباد کرتے ہیں، کیا کہتی ہو،،
زمرد نے بڑی نچلی سطح پر گرتے اپنے گھٹیا ترین ارادے بتائے۔ اور اسے ہراساں کرنے قدم قدم چلتا اس کے قریب تر آیا۔
جن پیروں سے چل کر یہاں آئے ہو اپنی منحوس شکل لے کر انھیں قدموں سے واپس چلے جاؤ نہیں تو بہت پچھتاؤ گے،، لویزا نے ہاتھ باندھ کر اطمینان سے کہا۔
اووووو میں تو ڈر گیا، کیا کرو گی، گارڈز کو بلاؤ گی، یا چلا کر گھر والوں کو، میں جن کے سامنے یہ بولوں گا کہ تم نے خود اشارہ کر کے مجھے یہاں بلایا ہے،،
تم جیسے زلیل، گھٹیا، بزدل اور مردود لوگوں کے لئے مجھ جیسی کو نا گارڈز کی ضرورت پڑتی ہے ناں کسی گھر والے کی، تمھارے لئے تو رانا لویزا میر ہادی اکیلی کافی ہے،،
لویزا کا سرسراتا لہجہ زمرد چونکا۔
کیا مطلب ؟ اس نے آئیبرو اچکایا۔
لویزا نے سب سے پہلے سیکنڈوں میں اس کے ہاتھ سے اس کا موبائل چھین کر زمین پر پٹخ کر چکنا چور کیا تھا۔
یو،، پاگل لڑکی،، زمرد لویزا کی جانب لپکا شاید اسے بے عزت کرنا چاہتا تھا۔ مگر وہ سیکنڈوں میں جھک کر اس کے پہلو سے نکلی۔ برآمدے میں پڑا چھوتا سا گملا ہی اس کے ہاتھ لگا تھا جسے وہ پل بھر میں ساتھ کر زمرد کی پشت سے اس کے سر پر پھوڑ چکی تھی۔ وہ لہو لہان سر پر ہاتھ رکھے ہکا بکا رہ گیا تھا۔ پھر تکیف کے مارے لویزا کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتا چلا گیا۔
بخت آپی، بخت آپی،، لویزا چلائی تو زمرد گھبرایا مگر اتنے میں سب گھر والے وہاں پہنچ چکے تھے۔
ارے کیا ہوا یہ زمرد کو کیا ہوا،، فرحین اپنے بیٹے کی طرف لپکیں۔
کچھ نہیں آنٹی، سنبھل کر نہیں چل رہے تھے اور منہ کے بل گر پڑے، اور گملا سر پر لگ گیا، ایک ماں کی نصیحت بچے پر زیادہ اثر کرتی ہے انھیں سمجھائیے گا کہ سنھبل کر چلا کریں،،
وہ مبہم الفاظ میں اسے تنبیہہ کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔ زمرد کا دل کیا ڈوب مرے۔
تمام مہمان رخصت ہو گئے۔ عالی اور اجالا کو لویزا نے رات رکنے کا بولا تھا۔
لویزا اپنے کمرے میں تھی۔ رات کے دس بج چکے تھے۔۔زارون سو چکا تھا جب عالی ہلکی دستک دے کر روم میں داخل ہوا۔
بھابھی،، عالی نے پکارا
جی،، وہ ہمہ تن گوش ہوئی۔
زارون کو میر لاج لے کر جانا ہے، عالی نے کہا تو بے تحاشا چونکی۔
کیوں،، کس لئے اور رات کے اس وقت،
زارون کو اس کے بابا سے ملانے لے کر جانا ہے، کیونکہ وہ صبح کی فلائیٹ سے دوبارہ واپس چلا جائے گا، میں اور اجالا ہوں گے اور ساتھ بخت بھابھی ہوں گی، ہم اپنے گھر چلے جائے گا اور صبح بخت بھابھی زارون کو لے کر واپس چلے جائیں گے،،
عالی نے سنجیدگی سے بتایا جبکہ وہ سامنے کھڑی بظاہر پتھر بنی اس لڑکی کا لمحہ با لمحہ تاریک پڑتا چہرہ بغور دیکھ رہا تھا جو اب دھواں دھواں ہو چکا تھا۔
لے جائیں، میرے بچے کا خیال رکھئیے گا، لویزا نے اپنا رخ عالی کی جانب سے موڑ لیا۔ کہ کہیں آنکھیں کسی کے سامنے ہی نا لہو چھلکاتے رونے لگ جائیں۔
بخت اور اجالا کی کمرے کے قریب آتی آوازیں سن اس نے جان بوجھ کر خود کو واش روم میں بند کیا تھا۔
زارون کی چیزوں کا چھوٹا سا بیگ بخت کے ہاتھ میں تھا۔
چلیں بخت بھابھی اٹھائیے زارون کو ہمیں جلدی نکلنا ہے، کافی وقت ہو گیا ہے ہادی بھی ویٹ کر رہا ہوگا،، عالی نے عجلت بھرے انداز میں کہا تو اجالا کو حیرت ہوئی۔
عالی مگر لویزا،،، اجالا نے کہنا چاہا مگر عالی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔
اجالا سمجھ گئی تبھی وہ تینوں زارون کو لئے روم سے نکلتے چلے گئے۔
ان کے جانے کے بعد لویزا نے کمرے کی ہر چیز تہس نہس کی تھی۔
کاش وہ سامنے ہوتا تو اپنے ناخنوں سے اس کا منہ نوچ ڈالتی۔
انا کی جنگ تھی۔ اس کی دی گئی خود کو سزا آج لویزا کو اپنی ناقدری لگ رہی تھی۔
خوب بہت خوب، اتنی اکڑ ہے کہ اپنی غلطیوں پر پچھتانے اور مجھ سے معافی مانگنے کی بجائے مجھے ہی جھکانا چاہتے ہیں،، میں ہی واپس بلاؤں تو یہ کبھی نہیں ہوگا رانا میر ہادی،، لویزا نے سکارف اور جیولری خود سے نوچ کر پھینکی اور اپنے بال مٹھی میں جکڑے۔
میرے بجائے بخت آپی کو بلایا، جان بوجھ کر جلانا چاہتے ہیں مجھے، یا تڑپانا،، مگر مجھے بلکل پرواہ نہیں آپ کی سنا آپ نے،، وہ انا کی جنگ میں انا کی ماری لڑکی ہر بات کا الٹا مطلب نکالتی رہی اور خود ہی سلگتی تڑپتی رہی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
رانا میر ہادی اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا حویلی کا ایک ایک منظر اپنے دل میں اتارتا رہا۔ ییلو فراک میں اس کی سانسوں میں بسی وہ اس کا ضبط آزماتی رہی۔
آج سب سے زیادہ ایک باپ تڑپا تھا۔ وہ اپنی یہ تڑپ نا لفظوں میں بیان کر سکتا تھا نا عمل سے اس کا اظہار کر سکتا تھا۔ ایک بچے کے لئے ماں کی ممتا کا اگر کوئی نعم البدل نہیں تھا تو دنیا میں پدرانہ شفقت کا بھی کوئی نعم البدل نہیں تھا۔ تبھی اس نے حویلی فون کر کے عالی کو زارون کو ملنے کے بلایا تھا۔
پھر زمرد سے ہوئی اپنی شیرنی کی مد بھیڑ بھی وہ مسکراتے ہوئے دیکھتا رہا۔ بڑی غلطی کی تھی زمرد نے جو رانا لویزا میر ہادی سے الجھ بیٹھا تھا۔
زمرد کا حشر وہ حسبِ معمول بڑی آسانی سے بگاڑ چکی تھی۔
اس کے بعد عالی کا اسے زارون کو لے جانے کے لئے بولنا۔ جواب میں اس کے تاثرات اور بعد کا ری ایکشن ۔ وہ سب دیکھا تھا اس نے۔ اور اس کی گوہر افشانیاں سن دل و جان میں پھر ایک درد کی لہر سی اٹھتی محسوس ہوئی۔ وہ اس سے اس قدر بدگمان تھی۔ اس نے سوچا نا تھا۔
مگر مصیبت تو یہ تھی کہ وہ اپنے کیے گئے وعدہ کا پابند ہوتے ہوئے اس کے پاس جا کر اس کی یہ بدگمانیاں بھی دور نہیں کر سکتا تھا۔
اسے یو سلگتے تڑپتے اور بکھرتے بھی نہیں دیکھ سکتا تھا تبھی ایک جھٹکے سے لیپ ٹاپ کو آف کر دیا۔
یہ تہمت فقط سگریٹ پہ ہی کیوں…
کمبخت عشق بھی تو مضرِ صحت ہے…!
پھر کافی دیر وہ اپنی جان سگریٹ میں جھونکتا رہا۔ باہر وقفے وقفے سے برستی بارش تھی اور اندر وہ مسلسل سلگ رہا تھا۔ میر لاج میں سجی درو دیوار پر اس کی تصاویر اس ظالم بے حس لڑکی کی یاد اس بارش نے اس کے تمام زخم ادھیڑ دیے تھے۔
وہ اتنا تڑپ رہا تھا کہ یوں محسوس ہوا خود پر سے اختیار کھو بیٹھے گا۔ ضبط کی طنابیں توڑتا اس کے پاس چلا جائے گا۔ مگر قسم جو کھائی تھی اب نا اس سے کوئی تکلیف پہنچائے گا نا خود کو اس پر مسلط کرے گا نا اس سے زور زبردستی کرے گا۔ وہ یونہی کھڑکی تک آیا۔ ٹھندی یخ بستہ ہواؤں نے اس کا پر سوز سا استقبال کیا ۔
آج خوب بارش برسی،
مگر افسوس،
یہ بارش اس پہلی بارش کی طرح نا تھی،
جس میں، میں نے،
اپنے محبوب کو،
من چاہی دعاؤں کی طرح پایا تھا،
یہ تو بہت اداس ہے،
میرے دل کی،
اس کی بوندیں ایسے برس رہی ہیں،
جیسے آسمان پر بیٹھا کوئی،
اپنی بے بسی پر، اور بے تحاشا اداسی پر،
آنسو بہا رہا ہو،
اور یہ آنسو، بارش کی بوندوں کی صورت،
زمین پر برس رہیں ہوں،
یہ اس بارش کا قصور نہیں ہے،
شاید جو آسماں پر بیٹھا رو رہا ہے،
وہ میری طرح اداس ہوگا،،
(بقلم واحبہ فاطمہ)
رات کافی لیٹ وہ میر لاج پہنچے تھے۔ زارون تب تک نیند پوری ہونے کے بعد جاگ چکا تھا۔ اور آج تک جو چہرہ موبائل میں دیکھتا آیا تھا اسے اپنے سامنے دیکھ حیران پریشان ہوا تھا۔ جبکہ میر ہادی اسے کافی دیر سینے سے لگا کر رویا تھا۔ میر لاج میں دوبارہ کیک کاٹا تھا ان لوگوں نے۔
رات کافی بیت چکی تھی۔ اجالا اور عالی واپس جا چکے تھے۔
بخت اپنے الگ روم میں جا چکی تھی۔
میر ہادی اور زارون کافی دہر تک کھیلتے رہے تھے۔زارون بار بار پوچھ رہا تھا۔
بابا، مما ای،،،؟
مطلب مما جی کدھر ہے۔ میر ہادی کے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی۔
آخر کافی دیر زارون کھیل کھیل کر تھک کر ہادی کے پاس ہی سو گیا۔ میر ہادی ن
بھی اسے بانہوں میں بھر کر آج کافی عرصے کے بعد سکون سے سویا تھا۔ کہ بیٹے میں سے اسے اس کی خوشبو ضرور محسوس ہوئی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
بے پرواہ تم بھول گئے
ہمیں تنہا سا چھوڑ گئے
ان بارشوں میں کوئی نہیں ہے
ہم ہیں اور بس تنہائی ہے
سونی ہیں راہیں تنہا ہیں ہم
نیند سے پہلے آ جانا
شاماں پیاں تیرے بنا تو گھر آ ڈھولنا
رو رو کہ میں دیواں صدا تو گھر آ ڈھولنا
یاد کرو گے راتوں میں تم
ہر وہ پل جب ساتھ میں تھے ہم
تم کو جب کوئی اور ملا تھا
یہ دل تب ہی ٹوٹ گیا تھا
جانو گے جب دل ٹوٹے گا کیا ہوتا ہے تڑپانا،
شاماں پیاں تیرے بنا تو گھر آ ڈھولنا،
بخت کھڑکی کے پاس کھڑی بے آواز آنسو بہا رہی تھی۔ پہلے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اپنی زندگی برباد کر لی۔ مگر اب اس میں اتنی ہمت ہر گز نہیں تھی کہ وہ اپنے لیے کوئی فیصلہ لے سکے۔ میر ہادی نے تو سال پہلے جانے سے پہلے اسے فون کیا تھا اور یہ بولا تھا کہ جب بھی اس بے نام رشتے سے آزاد ہونے کا دل کرے ہلکا سا وہ اسے بس ہلکا سا اشارہ دے دے۔ وہ ادھر ہی اس رشتے کو ختم کر دے گا ۔ کل اختیار بختاور کو دیا تھا۔
مگر اب اس میں اتنا حوصلہ کہاں بچا تھا کہ اس رشتے سے آزاد ہو کر اپنے ہی منہ سے کسی اور سے رشتے کے جوڑنے کا تقاضا کرتی۔ وہ تو رسموں رواجوں اور سماج کی ان دیکھی زنجیروں میں بری طرح جکڑی گئی تھی۔
اس کی ضد نے اسے بے حد کمزور بنا دیا تھا۔
پچھلی بارش یاد آئی۔ جب اس کے سینے سے لگی اپنی بے قدری پر بے تحاشا آنسو بہائے تھے۔
اور اب پھر بالکونی میں ہلکی بارش میں بیٹھ کر منہ میں دوپٹہ ٹھونس کر اتنا روئی کے دوپٹے کا سہارا نا ہوتا تو اس کی دلدوز چیخیں پورے میر لاج کو ہلا کر رکھ دیتیں ۔
اور آج وہ اپنی بے بسی پر رو رہی تھی کہ میر ہادی کے نکاح میں ہونے کے باوجود وہ اس دیوانے کے بارے میں سوچ رہی تھی جو اس کی وجہ سے اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے رائیگاں کر رہا تھا۔
اندر سے فون رنگ ہونے کی آواز سنی تو بمشکل اپنی آہوں سسکیوں پر قابو پاتی اٹھی اور اندر جا کر فون چیک کیا۔ مگر فون پر بلنک کرتا نمبر دیکھ کر دل مزید ڈوب کر ابھرا تھا۔
کانپتے ہاتھوں سے فون یس کر کے کان کو لگایا۔ مگر کچھ بول نا پائی۔
مت روؤ بخت، یہ تمھارے آنسو ابھی بے مول ہیں، جب میں مر جاؤں تو میری لاش پر جی بھر کر ماتم کرنا، لتب شاید تمھارے یہ آنسو رائگاں نا جائیں،،
سامنے والے نے بہت بری طرح اس کا ہر زخم ادھیڑا تھا یا وہ مرحم رکھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر مرحم نے نمک کا کام کر دیا تھا جس وہ پہلو بدل کر رہ گئی تھی۔
سیاب،،ایسے مت کہو، میں گھٹ گھٹ کر مر جاؤں گی،، وہ پھر رو دی۔بے اختیاری میں بول تو بیٹھی تھی مگر فوراََ فون بند کر کے آف کر دیا۔
اسے اس کے سامنے تو ہر گز کمزور نہیں ہونا تھا۔
رات بہت بوجھل اور بھیگی بھیگی سی تھی۔ان میں سے شاید کوئی بھی ڈھنگ سے نا سو پایا تھا۔
صبح میر ہادی کے جگانے پر ہی اس کی آنکھ کھلی تھی۔ برائے نام ہی ناشتہ کر پائے تھے وہ۔
پہلے میر ہادی نے بخت اور زارون کو افضل کے ساتھ حویلی روانہ کیا تھا۔ پھر خود بوجھل دل کے ساتھ اپنی فلائیٹ کے لئے نکلا۔
Continue ,,,,,,,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
