Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

محبتوں کی امین لڑکی
وہ پارسا وہ حسین لڑکی
دیکھو جو اس کی آنکھیں تم
لگے گی تم کو نگین لڑکی
فراق یار پر بھی ملال نہیں ہے
وہ صبر کرتی زہین لڑکی
شرمگیں لہجہ جھکی ہیں پلکیں
وہ آبگیں سی مبین لڑکی
گھائل کرے جو محبت سے اپنی
وہ وفا کا پیکر یقین لڑکی
ایک نظر جو دیکھو ولله
واجب المحبت وہ دلنشین لڑکی

صبح سات بجے کے قریب میر ہادی کی آنکھ کھلی تھی۔ زرا سا گردن جھکا کر دیکھا تو وہ اس کی بانہوں میں ٹوٹی بکھری حالت میں گہری نیند میں سو رہی تھی۔ان دونوں کے اوپر گردن تک کمفرٹر تھا۔ لویزا کا سر اس کے سینے پر تھا۔اور ایک گداز ہاتھ میر ہادی کے دل کے مقام پر رکھا ہوا تھا جو اس کی دھڑکنیں اٹھتے ساتھ ہی پھر سے منتشر کر گیا تھا۔ لبوں کو ایک دلفریب مسکان نے چھوا۔
شدید بھوک محسوس ہوئی تو شدت سے احساس ہوا کہ وہ جو اس کا ڈنر کہ لئے ویٹ کر رہی تھی رات اس کے پاگل پن میں نا اس نے خود ڈنر کیا تھا بلکہ اسے بھی دنیا بھلا دی تھی۔۔یقینا وہ بھی بھوکی تھی اور میڈیسنز بھی نہیں لیں تھیں جو ابھی اس کی صحت کے لئے ضروری تھیں۔
میر ہادی نے اس کی کمر سہلائی۔
لیزا،، میری جان اٹھو،، میر ہادی نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔ وہ کسمسائی۔ اور کروٹ بدلنے لگی جب میر ہادی کی گرفت مضبوط ہوئی ۔۔
لیزا،، اٹھو،،، یار بھوک لگی ہوگی،، کچھ کھاتے ہیں ناں،،
لویزا نے جھنجھلا کر مندی مندی سی آنکھیں کھولیں تھیں۔ اس آدمی نے اسے ساری رات نہیں سونے دیا تھا اور وہ اب بھی یہی سمجھ رہی تھی کہ وہ شرارت پر آمادہ ہے۔
“ہادی ،،میں منہ توڑ دو گی آپ کا،، وہ نیند سے بوجھل جھنجھلا کر اتنا ہی بول پائی۔
“رائٹ چوم لو،، سامنے بھی میر ہادی تھا۔
“واٹ،، لویزا جھلائی۔
“ابھی خود ہی تو بولا ہادی میں منہ چوم لوں گی آپ کا،، میر ہادی کا اطمینان قابلِ دید تھا۔ جھک کر اس کی چن پر اپنے لب رکھے۔ وہ مچلی۔
مگر میر ہادی نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ اٹھا کر بٹھا دیا۔ اور اب وہ جو بکھری سی حالت میں تھی بری طرح بوکھلائی تھی۔
ہادی پلیز،، نہیں کریں ناں،، وہ عاجز آ کر بولی تھی۔۔ اور بری طرح حواس باختہ ہو کر کمفرٹر میں سمٹی۔۔
لو،، ابھی تو کچھ نہیں کر رہا میں،، وہ شرافت سے اٹھ کر ڈریسنگ کی جانب گیا تھا۔ “مگر اب اگلی تمام وصل کی راتوں کی گارنٹی نہیں دوں گا بلکل بھی،، اب لہجے میں بے حد شرارت تھی۔۔ رانا میر ہادی جس نے کبھی اٹھ کر پانی کا گلاس تک نا پیا تھا آج ڈریسنگ میں منہ دئیے اس کے لئے ڈریس نکال رہا تھا۔
اس نے اپنی پسند سے بلیک فراک اور ٹراؤزر نکالا تھا۔
جلدی سے اٹھ کر فریش ہو جاؤ میری جان،، پھر زبردست سا بریک فاسٹ کریں گے،،
مجھے بلکل بھی بھوک نہیں ہادی،، اس نے زور دار انگڑائی لیتے کہا تو رانا میر ہادی بیڈ کے قریب آیا۔
جھوٹ مت بولو جان،، اگر اتنی نیند آ رہی تو کہتی ہو نیند کے ساتھ ساتھ ہوش بھی اڑا دوں،،؟ وہ اسے گہری نگاہوں میں رکھتے بولا تو لویزا کی نیند بھک سے اڑی تھی۔ نروٹھے پن سے اس کو گھورا جو گہری سیاہ آنکھوں میں ایک شوق کا جہان آباد کیے اسے نہارنے میں مصروف تھا۔
وہ کیوٹ اور برے برے منہ بناتی رہی ہادی اس کی الجھن سمجھ گیا اور دانتوں تلے لب دباتا روم سے باہر آ گیا۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ تازہ ہوا کا جھونکا بنی کچن میں داخل ہوئی تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ابھی فریدہ اور سسٹر روزی نہیں موجود ہیں۔ ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ میر ہادی گیلے سیاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا کچن میں آیا تھا۔ اور آ کر اس کے کندھے کہ گرد بازو حمائل کیا۔ اور موبائل نکال کر دو تین سیلفیز لیں۔
یہ کیا کر رہے ہیں ہادی،، لویزا اس جنونی کی جانب دیکھا۔
اپنی لائف میں آنے والی سب سے حسین و خوبصورت صبح کو موبائل میں کیپچر کر کے اس مومنٹ کو ہمیشہ کے لئے قید کر رہا ہوں۔ اور آج کے دن کے سارے مومنٹس اسی طرح اپنے فون میں قید کروں گا،، وجہ شام تک پتہ چل جائے گی میری جان کو،،
آج فریدہ نہیں آئی ہادی،،؟ لویزا نے گھبرا کر اس کا دھیان بٹانا چاہا۔
اسے میں نے کہا جاؤ اپنی بہن سے مل آؤ،،
اور سسٹر روزی،،؟
اسے میں نے پرمانینٹلی لیو دے دی،، کیونکہ اب اپنی کیوٹ سی وائف کا میں خود خیال رکھوں گا،، کوئی ہمیں ڈسٹرب نہیں کرے گا ،،بس پورے میر لاج میں میری میٹھی ایلوویرا اور اس کا میٹھا کریلا،، جسٹ واؤ،،
رانا میر ہادی نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے کچن کی سلیب پر بٹھایا۔ اور خود ہلکا سا جھک کر اس کے سامنے کھڑے ہو کر فون میں پھر سیلفی لی۔
آپ کا دماغ کا سکرو ڈھیلا ہو گیا ہے ہادی،، کبھی ایلویرا اور کریلا بھی میٹھا ہوا ہے،، اس نے آئبرو اچکا کر میر ہادی کو دیکھا جو اب نفاست سے ایپرن باندھ رہا تھا۔ حیرت انگیز نظارے تھے آج تو جو دیکھنے کو مل رہے تھا کیونکہ وڈیرا جی اپنی بیگم کے لئے بریک فاسٹ بنانے والے تھے۔۔
رات میں نے تو چکھا تھا ایلوویرا تو کافی میٹھی تھی، شہد سے بھی زیادہ،، اب پتہ نہیں ایلو کو یہ کریلا بھی میٹھا لگا کہ نہیں،، لہجہ بے حد شرارتی سا تھا لویزا کانوں تک سرخ ہوئی تھی خفت کے مارے پاس پڑا چمٹا اٹھا کر اسے مارنا چاہا جو کہ اس نے پھرتی سے کیچ کر لیا ۔
اب وہ ٹوسٹر میں ٹوسٹ ڈال رہا تھا۔ اور ایک سٹوو پر چائے رکھی اور آملیٹ کا سامان نکالا۔
آپ رہنے دیں میں بناتی ہوں ناشتہ،، اس نے سلیب سے اترنا چاہا۔
نو،، ہر گز نہیں، ادھر سے اتریں تو سیدھا بیڈ روم میں لے جاؤں گا اور پھر میں بریک فاسٹ کی بجائے تمھیں کھاؤں گا،،
ہادی کیا ہے آپ کو؟ وہ تلملائی۔
عشق ہے تم سے،، لہجہ اطمینان بھرا تھا۔
وہ اس شاندار بندے کی جانب دیکھے گئی۔ دل تو اس کا بھی باغی ہو چکا تھا خود کو دنیا میں بس اس ایک شخص کے حوالے سے سوچا تھا۔ رات جیسے اس نے اس کے وجود کو نہیں روح کو چھوا تھا۔ وہ بھی تو اس کی روح میں اتر چکا تھا۔ ۔اس کی نگاہوں کا ارتکاز محسوس کر کے وہ گہرا مسکرایا اور اس کی جانب دیکھ کہ آنکھ ونک کی۔
کیوں وائفی زیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں۔؟
چوری پکڑے جانے پر وہ بوکھلائی اور دوسری جانب دیکھنے لگی۔

کافی دیر کی ہنگامہ آرائی کے بعد آخر بریک فاسٹ تیار ہو ہی گیا۔ ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ لگا کر اسے سلیب سے خود اتارا۔ اور ہاتھ تھام کر ڈائننگ تک لا کر اپنی گود میں بٹھایا۔
ہادی پلیز،، وہ بوکھلائی۔ مگر وہ اس کے بازو اپنی گردن کے گرد حمائل کر کے سیلفی لے چکا۔
میں اپنے ہاتھوں سے تمھیں بریک فاسٹ کروانا چاہتا ہوں اسی لئے چپ چاپ بیٹھی رہو ایلو،،
اور اگر میرے ہاتھوں سے گرم چائے چھوٹ کر آپ کے اوپر گر گئی تو،؟ لویزا نے دانتوں تلے لب دبا کر کہا۔۔ مگر وہ ڈھیٹ تھا۔
اٹس اوکے،، مجھے کچھ نہیں ہوگا،، گر جائے،، انداز لاپرواہ سا تھا۔۔
وہ اپنے ہاتھوں سے چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر اس کے منہ میں ڈالنے لگا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

حویلی میں ایک طوفان سا اٹھا تھا۔ جیسے بھونچال آیا ہو۔۔ وہ سب میر ہادی کی پھپھو سمیت اماں سائیں کے کمرے میں بیٹھے تھے۔۔ پھپھو اور ممتاز بیگم بیٹھی رونے میں مصروف تھیں۔
میر ہادی کے نکاح کی خبر حویلی پر بجلی بن کر گری تھی۔ ناصرف نکاح کی بلکہ یہ بھی کہ وہ اپنی تمام پرسنل پراپرٹی جو کم از کم کروڑوں میں تھی اپنی منکوحہ کے نام کر چکا تھا۔۔

ہمت کیسے ہوئی اس ناخلف ناہنجار کی میر دراب، اور تم اتنے سکون سے مجھے یہ خبر سنا رہے ہو، اور اب فون بند کر کے بیٹھا ہے، میں پوچھتا ہوں کس کی شہہ پر اس نے یہ قدم اٹھایا کس کی اجازت سے،، کہاں سے اٹھا کر لایا اس دو ٹکے کی چھوکری کو،، یقیناً اس لڑکی نے پراپرٹی کے لیے یہ عشق و محبت کا ڈھونگ رچایا ہوگا۔۔ اور وہ بے وقوف کاٹھ کا الو جو اپنے آپ کو تیس مار خان سمجھتا ہے آ گیا اس لڑکی کے جھانسے میں،،
رانا میر ہاشم کا لال انگارا دھواں دھواں چہرہ اور پر جلال آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ بختاور ایک کونے میں سر جھکائے مگر سکون سے بیٹھی تھی۔

بابا سائیں دھیرج سے کام لیں، آپ کا بی پی بڑھ جائے گا،، طبیعت خراب ہو جائے گی آپ کی،، میرا دراب منمنائے۔
ہوتی ہے تو ہو جانے دو میر دراب، اور اب یہ طبیعت خراب ہی رہنی ہے جب تک تم اس چھوکری کو میر ہادی کی زندگی سے نکال نہیں باہر پھینکتے، رانا میر ہادی کو بولو شرافت سے اس کوڑے کے ڈھیر کو جہاں سے اٹھا کر لایا تھا، وہیں پھینک آئے نہیں تو اپنی جان سے جائے گی وہ لڑکی، ہمارے لئے کوئی بڑی بات نہیں اس کو اس دنیا سے غائب کرنے میں کوئی عار مانع نہیں، ایکسیڈنٹ بھی ہو جاتے ہیں، گھروں میں ڈاکوں بھی گھس کر مار جاتے ہیں، کوئی گلی میں تیزاب پھینک بھی مار سکتا ہے کسی کو،، وہ دانت پیس کر بولے۔
بابا سائیں آپ پہلے تو مجھے تو مجھے بولتے تھے کہ ایسے موقع پر آپا مت کھویا کرو، ہر مسئلے کو سکون سے سوچ سمجھ کر حل کرنے کی تلقین کرتے تھے اپ مجھے اور اب خود اپنا آپا کھو رہے ہیں آپ،،

تو کیا کروں میر دراب اس سر پھرے بیغرت انسان نے دماغ گھما ڈالا میرا، ہر بار ،ہر بات میں اپنی منمانی کرتا ہے، اور شہہ میں نے ہی اسے دے رکھی ہے،، مگر اب بس، بہت ہو چکی اس کی منمنانی،، اس لڑکی کو تو چھوڑنا پڑے گا میر ہادی کو،،
وہ اب بھی چٹخ سے رہے تھے۔
بابا سائیں میں تو کہتا ہوں ابھی صبر کریں،، نیا نیا بھوت سوار ہوا ہے خود ہی اتر جائے گا،، آپ تھوڑا صبر کریں،
ہر گز نہیں،، میر دراب،، اب میں اسے اس کے حال پر ہر گز نہیں چھوڑوں گا،، بشیر سے کہو گاڑیاں نکلوائے۔
جی بہت بہتر بابا سائیں،، میر دراب کہتے جلال سے وہاں سے اٹھے تھے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

وہ لان میں چڑیا بنی چہچہا رہی تھی۔ میر ہادی جھولے پہ بیٹھا اسے دیکھ مسکرا رہا تھا۔ جب افضل ایک باکس تھامے ان کے پاس آیا اور جیسے آیا تھا ویسے واپس بھی چلا گیا۔ وہ جو لان میں ننگے پاؤں چہل قدمی کر رہی تجسس کے مارے اس کے قریب چلی آئی۔
یہ کیا ہے ہادی،، وہ حیرت سے بال کانوں کے پیچھے اڑستی بولی۔
تمھارے لیے ہے میری جان،، اس نے باکس کھولا۔
آہہہہہہہہ،، لویزا نے اکسائیٹڈ ہو کر ایک زور دار چیخ ماری۔۔
اوووووووو سو کیوٹ،،
باکس میں جرمن شیفرڈ نسل کا ایک چھوٹا سا پپی تھا۔ پھولے پھولے بالوں والا۔ لویزا نے اسے گود میں لیا۔
ہادی یہ بہت کیوٹ ہے،،اور میرا دل کر رہا ہے میں اسے کس کر لوں،، وہ کچھ زیادہ ہی فدا ہوئی تھی۔
اے خبردار،، میری امانت میں خیانت کی،، ابھی اس کو فائر سے اڑا دوں گا،، میر ہادی نے اسے گھورا جو اب پپی کو گود میں لیے پیار سے سہلا رہی تھی۔۔ مگر پرواہ کسے تھی۔
ہادی یہ میل ہے یا فی میل،، وہ اس کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔۔
فی میل ہے،، تبھی تو تمھاری گود میں ہے، نہیں تو ابھی تک جہنم رسید کر دیتا،، ہادی نے اس کی جانب گہری نگاہ سے دیکھا۔
میں اس کا نیم میکس رکھو گی،، ہائے مائی کیوٹ لٹل میکس،، اس نے اس کا رخ اپنی جانب کرنا چاہا۔ میر ہادی اسے اتنا خوش ہوتے دیکھ گہرا مسکرایا۔
صبح سے سیلفیز لے لے کر ہلکان ہو رہے ہیں،، اب میری اور میکس کی بھی پکس بنائیں ناں ہادی،، لویزا نے کہا تو ہادی نے فون نکالا اور مختلف پوز میں اس کی پکس بنائیں،،
تبھی افضل دوبارہ وہاں آیا تھا۔
سر،، افضل نے گلا کنکھار کر اسے متوجہ کیا۔
بولو،، وہ مصروف سا تھا۔
سر آپ کا فون بند ہے،، افضل نے مبہم سا کہا۔
ہاں،، ائیر پلان موڈ پر ہے کیوں؟
سر باس بار بار فون کر رہے ہیں اور بہت ناراض ہیں،، کہتے ،،
مجھے آج فی الحال کسی سے بات نہیں کرنی افضل، میر ہادی نے افضل کی بات بیچ میں ہی کاٹی۔ جاؤ یہاں سے، بول دو، کہ میں نے کہا ہے کہ مجھے بات ہی نہیں کرنی،، وہ رکھائی سے بولا۔ افضل تو چلا گیا مگر لویزا کو شدید حیرت ہوئی تھی۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں ہادی،، آپ کی جاب چلی جائے گی پھر کیا کریں گے آپ،، اسے صدمہ لگا۔
تم بلکل فکر مت کرو، کئی آفرز ہیں میرے پاس،، تم صرف مجھ پر توجہ دو،، وہ اسے بازو سے کھینچ کر اپنے قریب کرتا بولا۔
کیوں آپ مٹی کھاتے ہیں جو آپ کی طرف توجہ دوں اور روکوں آپ کو،،
نہیں دنیا سے انوکھا ہوں ایلوویرا کھاتا ہوں،، وہ اس کے لبوں پر نگاہیں جما کر بولا تو لویزا کا جھرجھری آئی۔ فورا نگاہیں چرائیں۔

اندر جا کر تیار ہو جاؤ لیزا، شاپنگ پر چلتے ہیں، میں ویٹ کر رہا ہوں،، میر ہادی نے کہا افضل میر ہادی کے اشارہ کرنے پر قریب آیا تو لویزا نے میکس کو افضل کاکا کی گود میں تھما دیا اور خود اندر چلی گئی۔۔

میر ہادی نے افضل کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
حویلی میں حسب معمول خبر پہنچ چکی ہیں چھوٹے سائیں اس نکاح کی اور دادا سائیں اور بابا سائیں بہت برہم ہیں،، کافی ہنگامہ کیا انھوں نے ادھر،، افضل کے اپنے ہی زرائع تھے ہر بات معلوم کرنے کے مگر میر ہادی سن کر خاموش ہو گیا۔
اتنا سا ہنگامہ تو ہوگا ہی ناں افضل،، وہ لاپروائی سے بولا۔
اتنا سا نہیں ہے چھوٹے سائیں، بڑا ہنگامہ ہے وہ ادھر شہر آ رہے ہیں،، افضل نے کہا تو اس کے ماتھے پہ بل آئے۔
واٹ،، میر ہادی جھنجھلایا۔ اوکے انھیں فارم ہاؤس کا بتانا کہ میں ادھر ہوں، تاکہ وہ بھی ادھر ہی جائیں،، پر ملاقات تو میں کل ہی کروں گا ان سے،آج جو میں نے کہا اس پہ ہمارے پیچھے سے عمل ہو جانا چاہیے،، اس کا حتمی سا لہجہ افضل نے سر ہلایا اور چلا گیا۔
کچھ ہی دیر میں وہ کندھوں پر پرانے طریقے سے شال کندھوں پر ڈالے باہر آئی تو میر ہادی حیران ہوا مگر اپنی حیرت پر جلد قابو پایا۔
چلیں،، وہ قریب آ کر مسکرا کر بولی۔
چلو،، میر ہادی نے اس کا ہاتھ تھاما اور دونوں گاڑی کی جانب گئے۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

شاپنگ کے نام پہ جتنا میر ہادی نے اسے پریشان کیا تھا جتنا ناک میں دم دیا تھا اس نے آئندہ کے لئے توبہ کی تھی اس کے ساتھ شاپنگ پر آنے کے لئے ، کئی مرتبہ لویزا کو ایسا بھی لگا کہ وہ جان بوجھ کر وقت ضائع کر رہا ہے۔
ایک ایک ڈریس پہن کر دکھانے کی فرمائش، پھر اس پر تبصرے۔ جب میر ہادی نے بس آخری بول کر ایک ڈریس جو کہ رائل بلو میکسی تھی اسے تھمائی اور پہن کر دکھانے کو کہا تو لویزا نے اس کی کمر میں دو تین دھموکے ضرور رسید کیے تھے۔ جس پر سیلز گرل کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی تھی۔
وہ کب سے اتنے بڑے بزنس ٹائیکون سیاسی اثر و رسوخ والے زمیندار بندے کو اس کے آگے پیچھے گھومتے دیکھ رہی تھی۔

وہ پہن کر آئی تو رانا میر ہادی مبہوت سا اسے دیکھے گیا۔ رائل بلو میکسی جس کے گلے بازوؤں اور گھیرے پر سلور نگینے جڑے تھے اس میں وہ میک اپ سے پاک چہرے میں بھی نوخیز کلی کی طرح کھل رہی تھی۔
پرفیکٹ،، میر ہادی کی زبان سے ادا ہوا۔۔
او تھینکس گاڈ،، کچھ پسند تو آیا مہاراج کو،، نہیں تو اب داسی نے سر کھول دینا تھا مہاراج کا،، وہ اس کے قریب آ کر دانت پیس کر بولی تو میر ہادی نے سیلز گرل کا بھی لحاظ نا کیا تھا۔ کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود کے قریب کیا وہ اس کے سینے سے آ لگی تھی۔
مہاراج نہیں،، معمعولی سا غلام ہے یہ اس پرستان کی ملکہ کا، آئندہ ان لبوں نے یہ داسی واسی کہنے کی گستاخی کی تو نتیجہ بھی پبلک پلیس پر بھگتنا پڑے گا انھیں ، وہ اس کا لب سہلاتا بولا جبکہ لویزا خود کو ریلیکس کرنے کے چکر میں لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔
ہادی بہت ہی کوئی بے شرم انسان ہیں آپ،، پسینے سے ماتھا بھیگ چکا تھا لال ٹماٹر چہرہ لیے وہ غرائی۔
اب پتا چلا ہے میری جان کو،، وہ لاپروائی سے بولا۔
سیلز گرل وہان سے کھسک چکی تھی۔
چھوڑیں مجھے،،
کیوں،،؟ ہادی نے پوچھا تو لویزا نے اسے اس طرح دیکھا جیسے اس کے دماغ توازن پر شبہ ہوا ہو۔۔
چینج کرنا ہے ہادی میں نے،، وہ جھنجھلائی۔
نو، ضرورت نہیں بس شال اوڑھ لو،، میر ہادی نے اس کے سر پر شال اوڑھ وہ خاموش ہو گئی جانتی جو تھی اب اگر اس نے بول دیا ہے کہ اسے یہی ڈریس پہنے رکھنا ہے تو مطلب یہی پہنے رکھنا ہے۔
وہ مال سے نکلے تو ایک بیوٹی سیلون پہنچے تھے۔ میر ہادی نے اسے اندر بھیجا ۔ اور خود کہیں چلا گیا۔ جب لویزا تیار ہو کر باہر آئی تو سامنے ہی وہ بلو ڈنر سوٹ میں گاڑی سے ٹیک لگائے اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔
میر ہادی نے اس کے سامنے اپنا ہاتھ بڑھایا ۔ لویزا نے مسکرا کر اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تھمایا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
سوال 👈 اور سناؤ بھئی کیا چل رہا ہے، 🙃
لے Trend👈 میر ہادی اور ایلوویرا کا ہنی مون😅😜😷