Ataash ishq By Wahiba Fatima Readelle50097 Episode 38
No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
زرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست
تیرے جمال کی،،،،،،،،،،،،،، دوشیزگی نکھر آئی
لویزا کسان کی بیوی کے پاس بیٹھی رہی۔
اگلا دن بے حد روشن تھا۔ کسان اور اس کی فیملی نے چھوٹے سائیں کی بہت زیادہ آؤ بھگت کی۔ ناشتے میں اصلی گھی کے پراٹھے ساتھ مکھن کا پیڑا اور چائے ، سادگی میں بھی یہ ناشتا کمال کا اور بےحد لذیذ تھا۔
لویزا شرمائی شرمائی سی تھی۔ میر ہادی اس کا یہ روپ دیکھ اپنے دل میں اتارتا رہا۔ لویزا کو زارون کی وجہ سے حویلی واپس جانے کی جلدی تھی۔
تبھی افضل اور گارڈز کسان کے گھر کے باہر پہنچ چکے تھے۔ جیسے انھیں معلوم ہو کہ میر ہادی اور لویزا ادھر ہی ہوں۔ میر ہادی اندر سے باہر نکلا۔ اور افضل کو بری طرح گھورا۔
کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ رات میرا فون اگنور کرنے کی گستاخی کیوں کی گئی،،
افضل نے سر جھکایا ہوا تھا۔ “اماں سائیں کا حکم تھا چھوٹے سائیں،، افضل اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کی تگ ودو میں بے حال ہوا۔
میر ہادی نے اندر جا کر کسان اور ان کی فیملی سے رخصت ہونے کی اجازت چاہی۔ افضل تحفوں تحائف کا ایک انبار لایا تھا کسان کے خاندان کے لئے جو کے اماں سائیں کی جانب سے بھجوایا گیا تھا۔
ان سب سے دعا سلام کے بعد لویزا گاڑی میں آ کر بیٹھی۔ وہ خواہ مخواہ ہی رانا میر ہادی سے نگاہیں چرا رہی تھی۔ میر ہادی اس کے پہلو میں آ کر بیٹھا۔
زارون کیا کر رہا تھا افضل کاکا،، لویزا نے بےچینی سے پوچھا کچھ ایک شخص کی خود پر پڑتی گہری نگاہوں نے سکون سے بیٹھنا دوبھر کر رکھا تھا۔
وہ بلکل ٹھیک تھے، اور چھوٹی بیگم کے ساتھ تھے، بلکہ آج تو کھیلے بھی تھے زارون بابا،، افضل نے تفصیل بتائی۔
اوں ہوں،، پھر تو فارم ہاؤس چلو افضل، مجھے کچھ ضروری کام ہے، رانا میر ہادی کے شوشے پر لویزا کی سانس خشک ہو گئی۔
افضل کاکا پہلے مجھے حویلی ڈراپ،،، لویزا کے الفاظ منہ ہی دم توڑ گئے تھے جب چادر کے نیچے سے کمر رانا میر ہادی کے ہاتھ کی پرتشدد سی گرفت میں آئی تھی جس کا مطلب تھا کہ رانا لویزا میر ہادی چپ چاپ بیٹھی رہو۔ نہیں تو،
لویزا نے بری طرح اپنے لب کاٹے۔ مگر خاموش ہی بیٹھی رہی۔ اب اس جن سے کون الجھتا۔
گاڑی فارم ہاؤس کے پورچ میں جھٹکے سے رکی تھی۔ میر ہادی اس کا ہاتھ تھام کر نیچے اترا تھا۔ اسے لئے اندر کی جانب گیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
وہ ایک چھوٹے سے مگر انتہائی خوبصورت کاٹیج کے سامنے کھڑی تھی۔ وہ بے اختیاری میں ہی گاڑی سے اتر کر کب سے اس گھر کو دیکھے کا رہی تھی۔
کیا ہوا میری جان کیا دیکھ رہی ہو،؟ افراسیاب نے اس کے کے گرد بازو کا حصار قائم کرتے پوچھا۔
کچھ نہیں،، بخت چونک کر اپنے خیال سے باہر آئی تھی۔
چلیں،، سیاب نے مسکراتے پوچھا۔
جی،، اس نے شرماتے کہا۔
دونوں اندر آئے تو بختاور کے ہوش ہی اڑ گئے،، اندر تو اس نے خوابوں کا ایک جہان قائم کر رکھا تھا۔ مکمل طور پر بخت کی پسند ڈھلا وہ کاٹیج جس میں چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اس کی پسند کی تھی اور درودیوار اس کی بچپن سے لے کر اب تک کی تصویریں سے سجے تھے۔
وہ مبہوت سی پل پل سیاب کے اسے اتنا خاص فیل کرواتے بے تحاشا خوش تھی۔ پورا کاٹیج تازہ پھولوں سے سجا ہوا تھا۔
سیاب یہ سب آپ نے کب کیا،،؟ اس نے حیرت سے پوچھا۔
دوستوں سے کروایا،، وہ اس کی سادگی پر مسکرایا۔
آپ بہت اچھے ہیں سیاب،، وہ لاڈ سے اس کے بازو سے لگی۔
باتوں سے نہیں عمل سے بتاؤ کے کتنا اچھا ہوں،، اس نے دانتوں تلے لب دبایا۔
کیا مطلب،، وہ چونکی۔
سمجھاتا ہوں ابھی، وہ جو باکس پڑا ہے اسے اٹھاؤ، اس میں جو ڈریس ہے، وہ پہن کر اچھا سا تیار ہو کر باہر آؤ میں اتنا کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرتا ہوں،، وہ ہاتھ ملتا سکون سے بولتے کچن میں چلا گیا۔
بخت مسکراتی شرماتی باکس اٹھا کر اندر چلی گئی۔ پیچ کلر میکسی تھی جو سلور نگینوں سے مزید تھیں۔ بختاور اسے پہن کر دل سے تیار ہوئی آئینے میں دیکھ کر خود ہی شرماتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا گئی۔
افففففف باہر کیسے جاؤں، مر ہی ناں جاؤں،، بخت نے دانتوں تلے انگلی چبائی۔ اس کے آواز دینے پر ایک فٹ اوپر اچھلی۔
وہ کافی دیر سے ٹیبل سیٹ کر کے اس کا انتظار کر رہا تھا۔ آخر خود ہی تشویش زدہ سا ہو کر کمرے کے دروازے تک آیا۔
سوئیٹ ہارٹ، آجاؤ باہر یا میں اندر آؤں،، سیاب نے چھیڑا۔
بخت جھجھکتے شرماتے انگلیاں مروڑتے باہر آئی۔ وہ کافی دیر اسے سر تا پا دیکھتا آنکھوں کے رستے دل میں اتارتا رہا۔
کک،،، کیا دیکھ رہے ہیں سیاب،، بخت اس کی نگاہوں کی حدت کی تاب نا لاتی ہکلا ہی گئی۔
دیکھ رہا ہوں اتنی بھی بڈھی نہیں ہوئی تم،، وہ جو کوئی تعریف سے بھرپور جملہ سننے کی منتظر تھی حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں بھنا کر کمرے میں جانے لگی۔ جب اس کا ہاتھ سیاب کی گرفت میں آیا تھا۔ اس کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
کدھر میری کمسن کلی، اپنے عاشق نامدار کو چھوڑ کر،، سیاب نے انتہائی لوفرانہ انداز میں اسے کمسن کلی کہا کہ اس کے چہرے نے لہو چھلکایا۔
افراسیاب،، اس نے دانت پیس کر اس کے سینے پر مکے برسائے۔
وہ مسلسل قہقہے لگا کر ہنستے رہا۔ پھر دونوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا۔ سیاب نے اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا۔
دونوں نے خوب باتیں کیں۔ وہ جو سالوں سے ان کہی تھی۔ وہ جو ایک دوسرے سے کہنا چاہتے تھے۔ مگر کہہ نہیں پائے وہ جو دلوں کا بوجھ بن چکیں تھیں اب زبان سے ادا ہو کر خوشبو بن کر آس پاس مہک رہی تھی۔
ایک اور سرپرائز ہے میری جان کے لئے،، افراسیاب نے اس کی چھوٹی سی ناک دبائی۔
وہ کیا سیاب،، بتائیں ناں،، بخت ایکسائٹڈ ہوئی۔
بتائیں کہ دکھائیں،، سیاب نے اسے بازوؤں میں اٹھایا۔
اور اسے ایک الگ سے بنے روم میں لے کر آیا تھا۔ بخت نے روم کی سجاوٹ اور ماحول دیکھا تو تحیر سے آنکھیں پھیل گئیں۔
کمرہ مسہری کی طرح سجایا گیا تھا۔
سیاب ی،، یہ،،
یہ،، یہ،،، یہ،، ہماری گولڈن نائٹ کی تیاری،، افراسیاب نے اس کی ہکلاہٹ کی نقل اتارتے تازہ گلابوں کی لڑیاں ہٹا کر اسے بیڈ پر اتارا اور خود اس کے قریب نیم دراز ہو گیا۔
ایک منٹ نائٹ کہاں سے آ گئی، ابھی تو شام کے چار بجے ہیں ناں،، بخت نے آئبرو اچکائی۔
تو پاکستان میں تو رات کے چار بجے ہیں ناں ہم ہر کام پاکستانی وقت کے مطابق کریں گے،، سیاب نے دانتوں تلے لب دبا کر اس کے مسئلے کا حل پیش کرتے بازو سے تھام کر اسے اپنے قریب تر کیا۔۔
سیاب میرے سر میں بہت درد ہے،، بخت نے بہانہ گھڑا۔ اور دو فنگر سے اپنا ماتھا مسلنے لگی۔
اووووو،،، میلا بےبی کتنااااااااا بورنگ بہانہ بنا رہا ہے، سیاب نے اس کے گداز، گال کھینچتے اس کا بہانہ ہوا میں اڑایا۔
تو کیا ہوا؟ جیسا بندہ ویسا بہانہ،، بخت بھی لاپروائی سے بولی۔
واٹ،، تمھیں میں بورنگ لگتا ہوں،، سیاب نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سینے پر گرایا۔
اس نے شرارت سے اثبات میں سر ہلایا۔
سیاب نے ایک جھٹکے سے اسے نیچے گرایا اور خود اس پر حاوی ہوا۔
کچھ دن گزرنے دو، میری جان یہ بولا کرے گی کہ آپ تو کنگ آف رومینس ہیں،، وہ آنکھ ونک کرتا اس کی چھوٹی سی ناک چومتا بولا۔
بخت نے اس کی بہکی بہکی نگاہوں سے گھبرا کر اس کے سینے میں منہ دے لیا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
میر ہادی اسے لئے روم میں داخل ہو کر روم لاک کر چکا تھا۔ لویزا کا دل کانوں میں دھڑک ریا تھا۔ لا کر اسے بیڈ پر بٹھایا اور خود اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے پہلو کے ساتھ لگایا۔
تم جانتی ہو ایلو جان رات تم نے کیا کیا؟ اس گھمبیر سی سرگوشی نے لیزا کو دن میں ہی چاند تارے دکھا دئیے تھے۔
وہ پہلو بدل کر رہ گئی۔
مم،، میں نے کک،،، کیا کیا،،، بہت کم مواقع ایسے آتے تھے جب رانا لویزا میر ہادی کی زبان لڑکھڑاتی تھی۔ اور یہ وہی وقت تھا۔ نگاہیں جھکائے وہ کسی مجرم کی طرح اس کے حصار میں بیٹھی تھی۔
تم نے،، میر ہادی نے سوچنے کی اداکاری کی۔ تم نے ایلو جان، رات خود اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیا، جانتی ہو نا کہ تم نے ایسا کیا،، مجھے وجہ جاننی ہے تم نے ایسا کیوں کیا،، رانا میر ہادی شاید اپنے الفاظ سے ہی اس کی جان نکالنے کے در پہ تھا۔ تبھی اس سے ایسے سوال کر رہا تھا۔
ہادی حویلی چلیں،، زارون انتظار کر رہا ہوگا،، وہ اب عاجز آ چکی تھی اس بندے کی ہر بےچین حرکت سے۔
سنو ایلو جان، میں چاہتق ہوں کہ اب ہم جب حویلی واپس لوٹیں تو ہمارے دل میں ایک دوسرے کے لئے کوئی بھی کسی بھی قسم کی ناراضگی کوئی شکوہ گلہ نا ہو،، ہم اپنی زندگی کی یہ شروعات پہلے دن سی خوبصورت کریں، میں اپنے دل کی ہر بات تمھارے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں، ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ تمھارے بابا نے کسی بھی وجہ سے سوسائیڈ نہیں کی تھی وہ ایک نیچرلی ڈیتھ تھی،، وہ سانس لینے کو رکا۔
میں جانتی ہوں،، لویزا نے آہستگی سے اس کے کندھے پر سر ٹکایا۔ میر ہادی کی رگ و پے میں سکون کی لہر دوڑ گئی۔
وہ سب کچھ بہت اچانک ہوا، شاید پہلے دن سے تم میرے لئے بہت خاص رہی، شاید شروع دن سے وہ محبت تھی جسے میں کچھ اور سمجھتا رہا، میری ضد میری انا، میرے گھمنڈ نے سب خراب کر دیا، اگر یہ سب ہمارے بیچ نا آتا تو شاید میں تمھیں ایسے حاصل کرتا کہ ایک دنیا دیکھتی، میں تمھیں کبھی بھی تمھارے بابا سے الگ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ بھی ہو گیا، میں بعد میں بھی سب کچھ ٹھیک کر دینا چاہتا تھا، مگر تمھیں لے کر تمھاری صحت کو لے کر کوئی کمپرومائز نہیں کر پایا ایلو جان، یہ سب شاید ہماری قسمت میں لکھا تھا، یہ سب کچھ یقیناََ ایسے ہی ہونا تھا، ائم سوری فار ایوری تھنگ میری جان،،
میر ہادی کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ہادی، یہ سب کچھ ایسے ہی ہونا تھا، جب سے یادآئی میرا دل یہی کہتا تھا کہ میرے بابا خود کشی نہیں کر سکتے، مگر میں آپ سے ناراضگی اور خود ساختہ نفرت میں اتنی اندھی ہو گئی کہ جان بوجھ کر جیسے دل کی سننا ہی نہیں چاہتی تھی، آپ کی وجہ سے میں اپنے بابا کو آخری وقت دیکھ بھی نہیں پائی، بس اس بات کی وجہ سے میں نے اتنے سال آپ کو سزا دی، مگر یہ سب میری قسمت میں تھا، بہت دیر سے سمجھ آئی یہ بات مجھے، مجھے اپنے بابا کے آخری وقت میں ان کے ساتھ نہیں ہونا تھا اگر آپ وجہ نا ہوتے تو شاید کچھ اور ہوتی، قدرت کو یہی منظور تھا، اتنی اچانک ان کی ڈیتھ میں کیسے برداشت کرتی، شاید خود بھی ساتھ ہی مر جاتی، قدرت کو میرا اور جینا منظور تھا تبھی آپ سے وہ سب ہوا،،
وہ اس کے سینے میں منہ دئیے روئے گئی۔ دونوں گزرے ماہ وسال کے شکوے شکایت کرتے اپنا غم غلط کرتے رہے۔
جیسے بارش برسنے کے بعد تمام گرد و غبار دھل جاتا ہے۔ ہر منظر انتہائی صاف و خوبصورت ہو جاتا ہوا۔ اب بھی یہی ہوا تھا، تمام گرد وغبار دھل چکا تھا۔ دل صاف ہوں تو ہی سامنے والے کی نیت کا مثبت پہلو نظر آتا ہے۔
اب کیا ایلو جان حویلی چلنا ہے کہ پھر رات تک طوفان اور چوہوں کا دوبارہ انتظار کرنا ہے،، میر ہادی نے مسکراتے اس قدر شرارت سے کہا کہ وہ بوکھلا کر اس کے بانہوں کے حصار نکلنے کو پر تولنے لگی۔
ویسے ابھی ابھی تو ٹھیک طرح سے صلح ہوئی ہوئی ہے تو طوفان اور چوہوں کا کیا انتظار کرنا، ابھی ہی کچھ شغل میلا لگا لیا جائے،، میر ہادی نے پھر دانتوں تلے لب دباتے اسے چھیڑا تو وہ کانوں تک سرخ ہوئی۔
ہادی، مجھے آپ سے ضروری بات کرنی،،،
کوشش کی تو ہے رات کو یار اب آ جائیں گے زارون کے بہن بھائی بھی، یہ کوئی بڑا ایشو نہیں ہے نا اتنی ٹینشن کی بات ہے،، میر ہادی نے اس کی بات بیچ میں ہی اچکی۔ وہ اپنیق پرانی ٹون میں واپس آ چکا تھا اور اب لویزا سے اس کی یہ ذومعنی باتیں برداشت کرنا دوبھر ہو رہا تھا۔
پلیز میر ہادی بی سیریس،، وہ روہانسی ہوئی۔
ہاں تو میں مزاق تھوڑی کر رہا ہوں زارون کے ساتھ ساتھ مجھے بھی اب اس کے برادر اور ششٹر چاہیں،، میر ہادی نے پھر شوشا چھوڑا تو لویزا نے اس کے سینے پر مکے برسائے۔ وہ کھکھلا کر ہنس پڑا لویزا مسکرا دی۔
ہادی ڈاکٹرز نے زارون کے بارے میں کیا کہا تھا آپ کو، وہ کب ٹھیک ہوگا اور کیسے اور جو اس کی ٹریٹمنٹ چل رہی ہے اس سے وہ ٹھیک تو ہو جائے گا ناں،، لویزا نے آس بھرے لہجے میں پوچھا تو میر ہادی سنجیدہ ہو گیا۔
زارون کی تین ماہ بعد سرجری ہوگی لیزا، ڈاکٹرز نے مجھے کہا کہ وہ ویک ہے، ابھی ابتدائی سٹیج ہے پھر بھی رسک ہے، ففٹی ففٹی پرسنٹ چانس ہوں گے دونوں طرف کے ،، تو میں نے ڈاکٹرز کو سرجری کے لئے پرمیشن دے دی، ابھی جو ٹریٹمنٹ چل رہا ہے وہ اسی سرجری کا ایک حصہ ہے شاید زارون کا مینٹلی اور فزیکلی سٹرونگ اور اس سرجری کے لئے ریڈی کیا جارہا ہو،،
میر ہادی نے کرب آمیز لہجے میں تفصیل بتائی جو کہ لویزا سانس روکے سن رہی تھی۔
بات کے اختتام پر وہ ففٹی پرسنٹ چانس پر آ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ میر ہادی نے اسے تسلی دی۔
سٹرونگ بنو، ایلو جان، تم تو میری بریو شیرنی ہو، پلیز، ہمیں سٹرونگ بننا ہی پڑے گا تبھی یہ سب فیس کر پائے گے ہم،، پلیز،،،
میر ہادی نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی۔ کافی دیر اسے تسلی دیتا رہا۔
اب چلیں،، میر ہادی نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ایک نئے سفر کی شرعات کرنے نکلے تھے۔
یہ جانے بغیر کے قسمت میں ابھی کچھ اور امتحان دینے لکھے ہیں۔ ابھی ایک اور آزمائش باقی ہے جو ان کی زندگیاں ہلا کر رکھ دے گی۔ ان کی زندگی ان کے رشتے بکھر جائیں گے ٹوٹ جائے گے۔
تباہ و برباد ہو جائیں گے۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
یہ دن کسی انتہائی خوبصورت خواب کی طرح گزرے تھے۔ جیسے کوئی حسین ترین سپنا ہو۔ جس کے فسوں میں کھو کر ایسا محسوس ہو جیسے انسان خود کو جنت نظیر نظاروں میں گھومتا پائے۔
مگر یہ بھی سچ تھا کہ کوئی کھٹکا تھا، کوئی خدشہ جو دل ودماغ کو ستاتا تھا۔
کوئی انہونی ہونے کا ڈر چین نہیں لینے دیتا تھا۔
ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی بڑا غم، فکر، مصیبت اور پریشانی قریب ترین آنے کو ہے۔
تین ماہ پر لگا کر اڑ گئے تھے۔ ان دونوں نے زارون کے سنگ آئیڈیل دن گزارے تھے۔
اور آج وہ دن تھا جب زارون کی سرجری ہونی تھی۔ وہ اسے لئے لاہور کے بڑے ہاسپٹل میں آئے تھے۔ پاکستان کے بڑے بڑے قابل اور ماہر سرجن ڈاکٹرز، زارون کی سرجری کے لئے موجود تھے۔
وہ ہاسپٹل کے روم میں دونوں زارون کے پاس بیٹھے تھے۔
بابا جانی کا ہونے والا ہے،، ننھی جان خوفزدہ سی تھی۔
ان دونوں نے اپنے حوصلے بڑے بلند کر رکھے تھے کہ جو ان دنوں زارون کے سامنے رونے سے ھریز ہی کہا رکھا۔
کچھ نہیں میرا بچا بس چھوٹی سی سرجری اور پھر میرا بریو بیٹا بلکل ٹھیک،، میر ہادی نے اس کا ماتھا چوما۔ لویزا نے بھی اسے چٹا چٹ چوم ڈالا۔
اور اب راناز کا پورا خاندان، ممتاز بیگم ،ظفر، اجالا اور عالی آپریشن تھیٹر کے بڑی بےچینی سے انتظار کی سولی پر لٹکا تھا قریبا دو گھنٹے ہو چکے تھے زارون کی سرجری جاری تھی۔
میر ہادی اور لویزا کی سانس جیسے تھمی سی ہوئی تھی۔ ڈاکٹرز بھی تو آتے جاتے سہی طرح سے کچھ بتا نہیں رہے تھے کوئی تسلی بخش بات تک نا کر رہے تھے۔
لویزا کا دل بڑے برے طریقے سے دھڑک رہا تھا۔
پچھلے ایک دن سے جانے کیوں خواب میں تصور میں خود کو روتا ہوا بین کرتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ مسلسل قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے اور نماز میں بھی اسے بس قبرستان ہی دکھائی دے رہا تھا۔ اب بھی دل کی دھمک کانوں تک سنائی دے رہی تھی۔
قریب ہی رانا میر ہاشم اور میر دراب کندھے جھکائے بےبس سے کھڑے تھے۔
کہاں تھا وہ غرور، وہ طنطنہ جس کے بل بوتے پر دنیا کو اپنے پیروں تلے کچلا کرتے تھے۔ ناخدا بنے وہ اپنے آپ کو دنیا سے بالاتر سمجھنے والے اپنے سے کم حثیت والوں کو جوتوں تلے روندنے والے آج خود بےبسی کی انتہا پر کھڑے تھے کہ اپنی تمام دولت لٹا کر بھی اپنے پوتے کو صحت جیسی نعمت سے نہیں نواز سکتے تھے۔ وہ پانی کی طرح پیسہ بہا کر بھی اپنے پوتے کو نہیں بچا سکتے تھے ہاں اگر جتنی اپنے سے کم لوگوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ کر بددعائیں لیں تھیں اتنی ہی دعائیں لیں ہوتیں تو آج اتنہ مشکل میں نا ہوتے۔
پھر ایک وقت ایسا آیا جب آئی سی یو کے باہر کوریڈورز میں ڈاکٹرز اور نرسز کی بھگڈر سی مچی تھی۔
ہادی،، لویزا نے ہوائیاں اڑی رنگت کے ساتھ میر ہادی کا بازو دبوچا جو خود لٹھے کی طرح سفید چہرہ لیے وہاں جما کھڑا تھا۔ دل بری طرح دھڑک رہے تھے۔
کچھ ہی دیر بعد ایک ڈاکٹر مایوس سا چہرہ لیے باہر آیا تھا۔
ہم نے بہت کوشش کی مسٹر رانا، لیکن شاید آپ کا بےبی اتنی ہی زندگی لکھوا کر آیا تھا۔ وی آر سوری،،
ڈاکٹر میر ہادی کا کندھا تھپتھپا کر جا چکا تھا۔ وہ گھٹنوں کے بل فرش پر گرا تھا۔ لویزا ہوش و خرد سے بیگانہ فرش پر گر چکی تھی۔ کوریڈور آہوں اور سسکیوں سے گونج اٹھا تھا۔ جیسے قیامتِ صغرا برپا ہوئی ہو۔ ۔بے یقینی سی بے یقینی تھی۔ وہ ننھا فرشتہ دنیا کی تکلیفوں سے آزاد ہو کر اپنے کہے کے مطابق اللہ تعالیٰ کے پاس جا چکا تھا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
چِھٹّی نا کوئی سندیس
جانے وہ کون سا دیس
جہاں تم چلے گئے
اس دل کو لگا کر ٹھیس
جانے کو وہ کونسا دیس
جہاں تم چلے گئے
ایک آہ بھری ہوگی
ہم نے نا سنی ہوگی
جاتے جاتے تم نے
آواز تو دی ہوگی
ہر وقت یہی ہے غم
اس وقت کہاں تھے ہم
کہ جب تم چلے گئے
آج حویلی میں ایک قیامت سی برپا تھی۔۔ ہر دل غم سے نڈھال تھا ہر آنکھ اشک بار۔
کچھ لوگوں کا دل دہلا دینے والے رانا لویزا میر ہادی کے بین پوری حویلی کے درودیوار ہلا رہے تھے۔
کفن میں لپٹا وہ ننھا سا فرشتہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک مہربان سی مسکان لیے سو رہا ہے ۔ چہرے پر یوں آسودگی چھائی تھی جیسے جنت کی حوریں اسے مختلف چیزوں سے بہلا بہلا کر اپنے پاس بلا رہی ہوں۔
لویزا اس کے چہرے پر جھکی ہوئی تھی۔
زارون،، مائی لٹل پرنس،، مما بہت گندی ہے ناں،، اپنے پرنس کا خیال نہیں رکھ پائی، آئی پرامس اب بہت زیادہ والا خیال رکھے گی مما،، میرے پاس آؤ ،،،مت جاؤ ناں،، زارون،،،
زارون،،،،،،
زارون،،،،،،
میرا پیارا بچہ،، میرا شہزادہ، میرا شونا،،
ایک مرتبہ مجھے مما بولو میرے بچے ،،،،
زارون،،،،،،
مردان خانے میں ٹھنڈے فرش پر سر جھکائے نڈھال سا بیٹھا میر ہادی اس کے یہ بین سن رہا۔
آنکھیں لہو چھلکا رہی تھیں۔ ایک شوہر کے سامنے ایک باپ نے بری طرح شکست کھائی تھی۔ وقت سوکھی ریت کی طرح مٹھی سے پھسلا تھا۔ وہ اگر اتنی ہی عمر لکھوا کر لایا تھا تو اس وقت میں اس کا باپ اس کے پاس نہیں تھا۔ جب اس کے بچے کو اس کی سخت ضرورت تھی۔ وہ اسے بلاتا رہا پکارتا رہا مگر وہ لوٹ کر نہیں آیا
کیوں؟
آخر کیوں؟
اس میں کس کا قصور تھا؟
کون جرم دار تھا،؟
وہ شاید یہاں ہوتا تو ایسا نا ہوتا۔
میر ہادی کا دل کر رہا تھا اپنے وجود کو اپنی ہستی کو بھی مٹا ڈالے۔
جنت کی حوریں اس ننھے سے مہمان کو اپنے جھولے میں ڈالے لے جا چکیں تھیں۔
جنازہ اٹھا تو بین، آہیں اور سسکیاں یوں گونجیں جیسے صورہ اسرافیل پھونک دیا گیا تھا۔
اس ننھے سے پھول کا بوجھ بھی میر ہادی کو یوں محسوس ہوا جیسے اپنے کندھے پر اپنی کل کائنات اٹھا رکھی ہو۔
کاش یہ غم کی گھڑیاں بہت تیزی سے گزر جاتیں۔
مگر یہ پل تو جیسے تھم سے جاتے ہیں ۔ گھڑی کی سوئیاں رک سی جاتی ہیں ۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
آج زارون کا سوئم تھا۔ وہ نڈھال سا جھکے کندھوں کے ساتھ اپنے کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ بیڈ سے لگی گود میں زارون کی چھوٹی ریسنگ کار لیے فرش پر بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔ ملگجا سا حلیہ بکھرے بال، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے
یوں جیسے کوئی جوگن اپنا سب کچھ لٹا کر بیٹھی ہو۔ رو رو کر اب تو آنکھیں بھی خشک ہو چکیں تھیں۔ رگیں دکھنے لگیں تھیں غم سے مگر آنسو اب آ کر نا دے رہے تھے۔
وہ خاموشی سے اندر آیا۔ وارڈروب کھولا اس میں سے اپنے کپڑے نکال کر بیگ میں رکھے۔
وہ خاموشی اور غائب دماغی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
وہ بیگ لیے وہاں سے نکلنے لگا۔ تب اسے ہوش آیا۔
کدھر جا رہے ہیں آپ،،؟ شکستہ سے دھیمے لہجے میں پوچھ بیٹھی۔
ایک باپ نے ایک شوہر سے شکست کھائی تھی،، اسی شوہر کو اب سزا دینے کی باری ہے،، رانا میر ہادی کا لہجہ اتنا سرد اور روکھا تھا کہ لویزا کا دل جیسے گہرائیوں میں ڈوب کر ابھرا۔ یہ بول کر وہ رکا نہیں وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
وہ جا رہا تھا اور لویزا کی زبان جیسے تالو سے چپک چکی تھی۔وہ اسے روکنا چاہتی تھی مگر جیسے درد و غم سے پتھرا سی گئی۔ وہ چلا جاتا تو لویزا کے جینے کا تو مقصد ہی نہیں رہ جائے گا۔ کس کےسہارے کس کے آسرے پر جئے گی۔
رانا لویزا میر ہادی نے جتنی محبت اس شخص سے کی تھی اب اس کے بغیر سانس بھی لینا محال تھا
اولاد کا غم تو پہلے ہی کلیجہ چیر چکا تھا اب وہ اپنے جینے کی وجہ کو بھی پتھر سی بنی خود سے دور جاتے دیکھ رہی تھی۔۔
Continue,,,,,,,,
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
No caption today 😷😷😬😕😔😔😔😔
