No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
بلیک شاندار بی ایم ڈبلیو کے پہیے چرچرائے اور گاڑی یونی کی پارکنگ میں رکی تھی۔ میر ہادی کے خاص آدمی افضل نے تیزی سے گاڑی سے اتر کر میر ہادی کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔
رانا میر ہادی بڑے کروفر اور خراب موڈ کے ساتھ گاڑی سے اترا تھا۔۔
جانے کیوں جب سے وہ پنچائیت والا فیصلہ لیا تھا عجیب سی بے چینی سی تھی۔ مگر ہمیشہ کی طرح بے حسی سے کام چلاتے ہوئے کان لپیٹ لیے کہ وہ دل و ضمیر کی زرا کم ہی سنتا تھا۔
ڈارک چاکلیٹ ٹو پیس میں مردانہ وجاہت کا شہکار اونچا لمبا سرو قد،، سیاہ زہانت سے بھرپور مغرور آنکھیں سن گلاسز کے پیچھے چھپی ہوئیں تھیں، ماتھے پر تیوریاں لیے وہ آگے بڑھا۔
ایگریکلچر میں ماسٹرز کر رہا تھا اور اب فائنل ائیر میں تھا۔
اس کی نگاہیں اپنے بہترین اور بچپن کے دوست عالیان مرزا کو ڈھونڈتی چاروں طرف اٹھیں تھیں۔ وہ کہیں نہیں دکھا تو ابھی فون پاکٹ میں سے نکال کر نمبر ڈائل ہی کرنے والا تھا جب سامنے سے آتے کسی گداز وجود سے ٹکرایا تھا۔
افففففففف،،، ایک نسوانی باریک سی آواز بھی ساتھ سنائی دی تھی۔
جھٹپٹا کر سامنے دیکھنا تو پنک فراک میں ، پنک دوپٹے کو حجاب سٹائل لیے کندھوں پر شال گرائے وہ سرخ و سفید گلابی سی لڑکی اپنا ماتھا سہلا کر بکس سمیٹ رہی تھی۔
اس تصادم میں رانا میر ہادی کا مہنگا ترین آئی فون زمین پر گر کر چکنا چور ہو چکا تھا۔اور گری ہوئی ٹوٹی چیز اٹھانا اس کی شان کے خلاف تھا سو غصہ تو بہت آیا مگر حسبِ عادت اگنور کر کے آگے بڑھنے ہی والا تھا جب
اندھے ہیں کیا مسٹر، ؟نظر نہیں آتا آپ کو،؟
لویزا جو اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب جا رہی اچانک ہوئے اس تصادم پر اس کی نگاہوں کے آگے دنیا گھوم گئی تھی دن میں ہی چاند تارے نظر آ گئے۔ اس کے باوجود سامنے والا شخص بجائے معافی مانگنے کے یونہی بدتمیزوں کی طرح منہ اٹھا کر جانے لگا تو اس کا پارہ ہائی ہوا تھا۔ (کاش کہ وہ جان پاتی کس سے معافی کی امید لگا رہی تھی)
ایکسکیوز می، مجھ سے کچھ کہا؟
رانا میر ہادی جس کا موڈ پہلے ہی آف تھا اوپر سے اس پاگل لڑکی کی وجہ سے موبائل بھی شہید ہو چکا تھا پھنکار کر بولا۔
نہیں، آپ کے فرشتوں کو بولا، دکھنے کے ساتھ ساتھ سنائی بھی نہیں دے رہا آپ کو ،؟
اب وہ سامنے کھڑی نہایت ناگواری سے بولی تھی۔
ہوش میں تو ہو محترمہ، جانتی بھی ہو کس سے بحث کر رہی ہو؟ اوقات میں رہو،
رانا میر ہادی کا دماغ وہ پوری طرح گھما چکی تھی تبھی دانت پیس کر بولا۔
آس پاس کھڑے بیشمار سٹوڈنٹس اب اکھٹا ہونے لگا تھے اور یہ تماشا انجوائے کرنے لگے تھے۔
لویزا کا ہتک و زلت کے احساس سے چہرہ سرخ پڑا تھا۔ “مجھے اپنی اوقات پتہ ہے مسٹر، آپ اپنی فکر کریں، جو بجائے سوری بولنے کے بحث کر کے اپنی اوقات بتا رہے ہیں،
اب اس کا بھی لہجہ کڑوا ہوا تھا۔
رئیلی، جانتی ہو، اس ٹکر میں میرا فون گر کر ٹوٹ گیا ہے، جس کی قیمت تم سے تو کئی گناہ زیادہ ہو گی، تو سوری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،
رانا میر ہادی کا لہجہ سنگین حد تک ہتک آمیز تھا لویزا کا دل کیا اس بگڑے رئیس زادے کا منہ نوچ لے۔ آہانت کے احساس لویزا کا دل کیا سامنے والے بدتمیز ڈھیٹ انسان کو شوٹ کر دے۔
“شٹ اپ یو گھٹیا انسان،، سچ بات ہے دولت سے مہنگی چیزیں تو خریدی جا سکتی ہیں مگر علم نہیں، جاہل نے ہر صورت جاہل ہی رہنا ہوتا ہے، اور تم اسی کیٹگری کے ہو مسٹر جاہل،
“شٹ اپ یو پاگل لڑکی ، جانتی بھی ہو رانا میر ہادی سے الجھنا تمھیں کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے، وہ بھی دھاڑا۔
رانا میر ہادی نے اس کو اس کی قیمت بتائی تھی تو سامنے سے آئینہ بھی دیکھنے کو ملا تو میر ہادی کا چہرہ غصے و اشتعال سے لال سرخ ہوا تھا۔
مگر اس سے پہلے کچھ اور غضب ہو جاتا لویزا کی دوست اجالا بھیڑ میں سے نکل کر وہاں آئی تھی۔ لویزا کا بازو بری طرح دبوچ کر اس کو چپ رہنے کا اشارہ دیا تھا۔
معاف کرنا مسٹر میر ہادی، یہ جانتی نہیں آپ کو، یقینا یہ سب کسی مس انڈرسٹینڈنگ کا نتیجہ ہے، ایکسکیوزمی،
اجالا تم، لویزا نے دانت پیسے مگر وہ اسے گھسیٹتی بھیڑ میں سے لے کر نکلی تھی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
اجالا نے اپنے ڈیپارٹمنٹ میں اپنی کلاس میں آ کر ہی سانس لیا تھا۔
اجالا ہاؤ ڈئیر یو، غلطی اس گھٹیا چیپ انسان کی تھی، تم معافی مانگ کر کیوں آئیں، ؟
لویزا کا دل کیا اپنے بال نوچ لے اجالا کی اس حرکت پر۔
شٹ اپ لویزا اقبال، جسٹ شٹ اپ، تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے لویزا ، پوری یونی میں تمھیں جھگڑا کرنے کو ایک رانا میر ہادی ہی ملا تھا، جانتی بھی ہو کون ہے وہ؟ اس کا بیک گراؤنڈ، ہسٹری جیوگرافی، مجھے یقین ہے اگر جانتی تو اس سے الجھنے سے پہلے سو بار سوچتی، اجالا کہ لہجے میں کچھ تھا کہ وہ اچانک خاموش ہوئی تھی۔ اور سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
اجالا اسے بٹھا کر پانی لینے گئی تھی۔
کچھ دیر بعد واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی
“یہ لو پیو، اجالا نے بوتل آگے بڑھائی تو کافی سارا پانی ایک ہی سانس میں پی گئی۔ جلتے پھنکتے کلیجے کو زرا سی ٹھنڈک پہنچی۔
تنے اعصاب ڈھیلے پڑے تو اسے ریئلائز ہوا کہ وہ پوری یونی کو تماشہ دکھا کر آئی ہے۔ تو اپنا سر پکڑا۔
لویزا، بہت بڑی غلطی کر دی تم نے یار، اس سے الجھ کر، وہ رانا میر ہادی ہے، ہمارے تمھارے جیسی سینکڑوں تو روز اس کے آگے پیچھے گھومتی ہیں، اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے ہیں، دادا وزیرِ داخلہ،، باپ منسٹر آف پنجاب، اور جانے کون کون سے منسٹر پورے خاندان میں،،
اجالا اسے تفصیل بتاتی چلی گئی جبکہ وہ خالی خالی نگاہوں سے زمین کو گھورتی رہی۔
کلاس میں سٹوڈنٹس آنا شروع ہو چکے تھے۔ وہ بھی اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئیں۔
تم ٹھیک ہو ناں،، اجالا نے اس سے پوچھا تو لویزا نے آنکھوں میں آئی نمی کو لمبی گھنی پلکیں جھپکا جھپکا کر پیچھے دھکیلا۔
جانتی ہو اس گھٹیا انسان نے کیا بولا مجھے کہ اس کہ ایک فون کی قیمت مجھ سے زیادہ ہے،، چیپ زلیل، بیغیرت انسان،، لویزا نے دانت پیسے۔
جانے دو لویزا، ایک ڈراؤنا خواب سمجھ کر بول جاؤ، اور اب اگر کہیں دکھے تو پلیز راستہ بدل لینا مگر اس سے الجھنا مت،، پلیز اجالا نے اس کا ہاتھ دبا کر کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
پروفیسر کریم کلاس میں لیکچر کے لئے داخل ہوئے تو وہ دونوں ادھر متوجہ ہو گئیں۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رانا میر ہادی کا دل کیا پوری یونی کو آگ لگا دے جب عالیان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
کیا بات ہے،؟ کوئی تماشہ ہو رہا ہے یہاں، ؟ گیٹ لاسٹ فرام ہئیر،، وہ دھاڑا تو جو سٹوڈنٹس وہاں جمع ہوئے تھے گڑبڑا کر وہاں سے نکلے۔
میر ہادی کالم ڈاؤن یار،،
نو،، عالی میں اس لڑکی کو زندہ جلا دوں گا، ہاؤ ڈئیر شی، وہ غصے سے پھنکارا۔
عالیان اس کا بازو کھینچ واپس گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔ جانتا تھا رانا میر ہادی کا غصہ اتنی جلدی شانت نہیں ہونے والا تھا۔
افضل چلو یہاں سے، میر لاج چلو، عالیان نے بول کر اسے گاڑی میں دھکیلا اور خود اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔
وہ دونوں میر لاج داخل ہوئے تھے اور عالی اسے تقریباً گھسیٹتے ہوئے اندر لا کر لاؤنج کے صوفے پر بٹھایا تھا۔
رانا میر ہادی کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا جیسے۔ علی کو دیکھ کر ہی خوف آیا۔
افضل بوتل اور گلاس دو مجھے،، وہ دھاڑا اور اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود کو شانت کرنے کی کوشش کی۔
جو حکم چھوٹے سائیں،،
اس وقت پیو گے میر ہادی، پلیززز، عالی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی جو کہ بے سود تھی۔ تبھی افضل بوتل اور گلاس لیے بوتل کے جن کی طرح ہی حاضر ہوا تھا۔
میر ہادی نے افضل کو غصیلی نگاہوں سے گھورا تو اس نے فٹا فٹ گلاس میں مشروب انڈیلا ۔
جسے چھین کر میر ہادی ایک گھونٹ میں ہی اپنے اندر انڈیل چکا تھا۔ عالی نے افسوس سے سر ہلایا۔
وہ جانتی نہیں کس سے الجھی ہے، پچھتائے گی، مجھے جاہل بول رہی تھی، رانا میر ہادی کو، پاگل لڑکی اپنے انجام سے ناواقف ہے،
جانے کیوں شدید طیش و اشتعال میں تو اسے چڑھتی بھی نہیں تھی۔ آدھی بوتل پینے کے باوجود وہ لال انگارہ آنکھیں لیے بیٹھا آگ اگل رہا تھا۔
افضل مجھے اس لڑکی کی ڈیٹیلز چاہیئں ، آیک گھنٹے کے اندر اندر،، وہ پھر پھنکارا۔
جو حکم چھوٹے سرکار،،
میر ہادی کیا کرنے والے ہو تم اب، عالی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ابھی تو کچھ نہیں، مگر جاننا چاہتا ہوں کونسے ہوم منسٹر کی بیٹی جو اتنی اکڑ ہے، کہ رانا میر ہادی سے الجھنے کی ہمت ہے اس میں، اس کا لہجہ اب بھی سرسراتا ہوا سا تھا جبکہ افضل اس کا حکم سننے کے بعد پھر گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوچکا تھا۔
جانے بھی دو میر ہادی، وہ اس لئے تم سے الجھی کہ تمھیں جانتی نہیں ہوگی یقینا ، نہیں تو اتنی بڑی حماقت کبھی نہیں کرتی، عالی نے اسے شانت کرنا چاہا۔
ہمممممممم،، یہ بھی ہے، مگر پچھتائے گی ضرور مجھ سے الجھ کر،، رانا میر ہادی نے صوفے کی بیک سے ٹیک لگائی اور آنکھیں موند لیں۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ رات کا کھانا بنانے کچن میں گھسی ہوئی تھی ۔کھانے پر پھپھو اور ظفر بھائی (پھپھو کے بیٹے) آنے والے تھے سو کھانے پر زرا اہتمام کیا تھا اس نے۔
اقبال صاحب اپنے کمرے تھے ۔ جب دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ بھاگ کر دروازے تک گئی تھی۔
کون،، لویزا نے پوچھا۔
میں ہوں ممتاز بیگم،، میری گڑیا،، پھپھو کی میٹھی آواز پر اس نے دروازہ کھولا اور ان کی کھلی بانہوں میں سما گئی۔
ممتاز بیگم نے چٹا چٹ اس کا منہ چوم ڈالا۔
کیسی ہے میری بچی،، وہ مہرباں سی مسکان لیے بولیں۔
بلکل ٹھیک،، کیسے ہیں ظفر بھائی؟
وہ جو گہری نگاہوں سے اس سرخ و سفید گڑیا کو تکے جا رہا تھا اس کی بات پر گڑبڑایا۔
بلکل ٹھیک، تم سناؤ لویزا،؟
میں بھی ٹھیک، وہ باتیں کرتے لاؤنج میں پہنچ چکے تھے۔ وہ مسلسل مسکرائے جا رہی تھی۔ اور کوئی بہت پرشوق نگاہوں سے اس کی یہ مسکان دیکھ رہا تھا۔
آپ لوگ بابا کے پاس جائیں کھانا تیار ہے بس روٹی ڈالنی ہے، وہ مسکرا کر بولی۔
وہ اندر چلے گئے لویزا نے روٹی ڈال کھانا لگایا۔ جانے کیوں مگر وہ کھوئی کھوئی سی تھی۔
اندر ممتاز بیگم اپنے بھائی سے راز و نیاز میں مصروف تھی۔ “بھائی لویزا کو میری بیٹی بنا دیں، میری جھولی میں ڈال کر، ممتاز بیگم نے کہا تو وہ جو سر جھکائے بیٹھا تھا دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی۔
ممتاز میں کوئی بھی فیصلہ لویزا کی مرضی کے بغیر نہیں کروں گا، جانتا ہوں اسے کوئی اعتراض نا ہوگا، مگر میں پھر بھی اس کی مرضی جاننا چاہوں گا، اقبال صاحب نے سہولت سے کہا تو ممتاز بیگم مسکرا دیں اور سر ہلاہا۔
کھانا تیار ہے، لویزا نے اچانک دروازے سے جھانک کر کہا تو س
وہ سب کھانے کی ٹیبل تک آئے تھے۔۔
لویزا کھانے پر اپنی پلیٹ پر جھکی کھوئی کھوئی سی تھی۔ اس کی خاموشی اقبال صاحب نے بری طرح محسوس کی تھی۔
کیا بات ہے بابا کی ڈول،، آج خاموش اور سیڈ سی ہے، اقبال صاحب نے مسکرا کر پوچھا تو گڑبڑائی۔
نہیں بابا میں ٹھیک ہوں، وہ مسکرائی (آج کے ہوئے تماشے کی سوچ کو بھاڑ میں جھونکا) اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے پھر اپنے بابا اور پھپھو کی چہکتی بلبل بن گئی ۔ اقبال اور ممتاز نے جاں نثار کرنے والی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
کھانے کے بعد چائے کا دور چلا اور وہ گئے رات تک خوش گپیوں میں مصروف رہے۔
وہ کچن میں تھی جب ظفر اس کے پیچھے آیا۔
کیسا دن گزرا یونی کا پہلا دن ، وہ سینے پر ہاتھ باندھے ایک گہری نگاہ اس پر ڈال کر دوسری جانب دیکھنے لگا تھا۔
بہت اچھا ظفر بھائی، آپ بتائیں شاپ کیسی چل رہی ہے، کبھی کوئی لڑکی بھی پرفیوم لینے آئی ہے شاپ پر، شادی کب کریں گے،
لویزا کا لہجہ شرارتی سا تھا ظفر جس کی پرفیومز کی شاپ تھی مسکرایا۔
نہیں کوئی آئی تو نہیں، مگر اب تم ضرور آنا، وہ مبہم سا بول کر اسے اپنی نگاہوں کے حصار میں جکڑتا وہاں سے بمشکل نکلا۔
اس کے گہرے لہجے پر لویزا نے ناسمجھی والے انداز میں اس کی پیٹھ کو دیکھا۔
ممتاز اور ظفر واپس گئے۔ وہ کچن میں سے برتن سمیٹ کر اندر آئی جب بابا کو اپنا منتظر پایا۔
کیا بات ہے بابا، آپ سوئے نہیں،
ادھر آؤ لیزا، مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے، اقبال صاحب نے کہا تو وہ ان کے قدموں میں کارپٹ پر بیٹھ گئی.
جی بابا کہئیے کیا بات ہے،
ممتاز تمھارا ہاتھ مانگ رہی تھی ظفر کے لئے، انھوںنے ٹو دا پوائنٹ بات کی تو وہ گڑبڑا کر نگاہیں جھکا گئی۔ اور میں تمھاری مرضی معلوم کرنا چاہتا ہوں،
بابا جو آپ کی مرضی، مجھ سے مت پوچھیں، لویزا نے لاپروائی سے زمین کی جانب دیکھتے کہا تو اقبال صاحب نے مسکرا کر اپنی کانچ کی گڑیا کی جانب دیکھا۔ اس کے سر پر نرمی سے ہاتھ رکھ کر ماتھا چوما تھا۔
جیتی رہو، میں تمھیں ہمیشہ ہمیشہ خوش دیکھنا چاہوں گا۔
انھوں نے کہتے ہوئے طمانیت بھرے احساس سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔
چلو جاؤ آرام کرو، صبح جلدی اٹھنا ہے، اور یونی بھی جانا ہے، ہری اپ، وہ کہتے اٹھے تو وہ بھی تھکن سے چور اپنے روم میں آ گئی۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
رات تک لویزا اقبال کی تمام ڈیٹیلز اس کی ٹیبل پر تھیں۔ افضل نے فائل اس کے سامنے ٹیبل پر رکھی تو اس نے سنجیدہ نگاہ افضل پر ڈالی۔
“کیا ہے یہ”! رانا میر ہادی کی بات پر افضل نے الجھ کر اپنے سنکی مالک کو دیکھا جو اب بھی گھونٹ گھونٹ وہ مشروب پی رہا تھا۔
“چھوٹے سائیں، آپ نے ہی ایک لڑکی کی ڈیٹیلز مانگی تھیں وہیں ہیں، اسنے سر کو ہلکا سا خم دے کر کہا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے افضل کو جانے کو بولا۔
وہ ہاتھ باندھے کمرے سے نکلتا چلا گیا۔ میر ہادی نے ایک خونخوار نگاہ فائل پر ڈالی جیسے فائل کو نہیں اس نازک سی لڑکی کو گھور رہا ہو جو اسے ایک ہی ٹکراؤ میں زہر لگنے لگی تھی۔ اور جس سے وہ جانے کتنی نفرت محسوس کر رہا تھا۔
گلاس ٹیبل پر رکھ کر آخر فائل کھول کر دیکھی۔۔ اور ایک تمسخرانہ مسکان لیے اس کی ڈیٹیلز دیکھیں۔
لویزا اقبال،
ایک معمولی سے بھی معمولی لڑکی۔ جس کا اس سے کوئی مقابلہ نہیں تھا! ۔جو اس سے خواہ مخواہ الجھی تھی ۔
اس نے بیزاری سے فائل آتش دان میں اچھال دی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
پیج ریچ ماشاءاللہ اتنی زیادہ ہونے کے باوجود آپ لوگ اچھے سے رسپونس نہیں دیتے.. افسوس کی بات ہے. رسپونس دیا کریں.. رات تک رسپونس اچھا آیا تو سرپرائز ایپی پکی 😬😬😷😷😷😷
